Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    سرخ سیارے پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا تفصیلی نقشہ تیار

    یورپی خلائی ایجنسی سرخ سیارے مریخ پر پانی کے ممکنہ ذخائر کا ایک تفصیلی نقشہ بنایا ہے جو مستقبل کے مشن کے لیے خلانوردوں کی آبی ضروریات پوری کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کے مطابق اس اہم کام سے ہم نہ صرف پانی سے لبالب بھرے مریخی ماضی کو سمجھ سکیں گے بلکہ انسانی مشن بھیجنےکےموزوں مقامات کا اندازہ لگانےمیں بھی مدد مل سکےگی پانی کا یہ تفصیلی نقشہ یورپی خلائی ایجنسی کےمارس ایکس ایکسپریس، ناسا کے مارس ریکونیسنس آربیٹر اور دیگر مشنز کی تحقیقات سے بنایا گیا ہے-

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    بنیادی طور پر یہ ایک ایسا نقشہ ہے جن میں ایسی معدنیات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں پانی کسی بھی حالت میں موجود ہوسکتا ہے۔ یہاں کے خدوخال ماضی میں بہنے والے پانی نے تراشے ہیں اور گارے کے علاوہ نمکیات بھی موجود ہوسکتے ہیں۔

    جب پانی پتھروں اور چٹانوں پر بہتا ہے تو مختلف قسم کی چکنی مٹی یا گارے وجود میں آتے ہیں۔ اگر پانی کی مقدار کم ہو تو اسمیکٹائٹ اور ورمی کیولائٹ بنتا ہےاور پتھر اپنےخواص برقرار رکھتا ہے جب پانی زیادہ ہو تو وہ چٹانوں پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے اور بسا اوقات المونیئم سے بھرپور معدن مثلاًکاؤلن وجود میں آتی ہے۔

    ماہرین نے دس سال میں مریخ پر لگ بھگ ایک ہزار ایسے مقامت دریافت کیے ہیں جبکہ لاکھوں مقامات ایسے ہیں جہاں ہم سیارے کا قدیم ماضی دیکھ سکتے ہیں۔ پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پانی نے سیارہ مریخ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ لیکن آیا مریخ پر پانی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب اب بھی معلوم کرنا باقی ہے اور نیا مریخی نقشہ اس میں بہت مددگار ثابت ہوگا۔

    پھر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مختلف اقسام کی چکنی مٹی، گارے اور ان پر موجود نمکیات ہماری توقعات سے زائد ہیں۔ اس سے خود مریخ کی معدن کا نقشہ بنانے میں مدد ملے گی۔

    اس تحقیق میں موجود سینئیر محقق جان کارٹر کے مطابق "اس کام نے اب یہ ثابت کر دیا ہے کہ جب آپ قدیم خطوں کا تفصیل سے مطالعہ کر رہے ہیں، تو ان معدنیات کو نہ دیکھنا دراصل ایک عجیب بات ہے،-

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    سرخ سیارے کی تاریخ کے بارے میں ہماری سمجھ کے لیے یہ ایک مثالی تبدیلی ہے۔ آبی معدنیات کی چھوٹی تعداد سے جو ہم پہلے جانتے تھے کہ موجود ہیں، یہ ممکن تھا کہ پانی اپنی حد اور مدت میں محدود ہو۔ اب اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی نے کرہ ارض کے چاروں طرف ارضیات کی تشکیل میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔

    اب، بڑا سوال یہ ہے کہ آیا پانی مستقل تھا یا مختصر، زیادہ شدید اقساط تک محدود تھا۔ اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی جواب فراہم نہیں کیا گیا ہے، نئے نتائج یقینی طور پر محققین کو جواب حاصل کرنے کا ایک بہتر ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔

    جان کارٹر کہتے ہیں کہ میرے خیال میں ہم نے اجتماعی طور پر مریخ کو زیادہ آسان بنا دیا ہے وہ بتاتے ہیں کہ سیاروں کے سائنس دانوں نے یہ سوچنے کا رجحان رکھا ہے کہ مریخ پر صرف چند قسم کے مٹی کے معدنیات اس کے گیلے دور میں پیدا ہوئے تھے، پھر جیسے جیسے پانی آہستہ آہستہ خشک ہوتا گیا، پورے سیارے میں نمکیات پیدا ہوتے گئے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    یہ نیا نقشہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ پہلے کی سوچ سے زیادہ پیچیدہ ہے۔ اگرچہ مریخ کے بہت سے نمکیات شاید مٹی کے مقابلے میں بعد میں بنتے ہیں، نقشہ بہت سی مستثنیات کو ظاہر کرتا ہے جہاں نمکیات اور مٹی کا گہرا اختلاط ہوتا ہے، اور کچھ نمکیات جو کچھ مٹی سے پرانے تصور کیے جاتے ہیں۔

    ماہرین نے اس دریافت پر کئی تحقیقی مقالات لکھے ہیں جس کی تیاری میں یورپی خلائی ایجنسی، جاپانی خلائی ایجنسی، اور انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس اینڈ ایئروناٹیکل سائنس کے ماہرین شامل ہیں اس تحقیق سے مستقبل کے مریخی منصوبوں اور مریخ نوردوں کو مناسب جگہ اتارنے میں بہت آسانی حاصل ہوسکے گی۔

    وہ کہتے ہیں کہ بہت سارے پانی سے بغیر پانی تک ارتقاء اتنا واضح نہیں ہے جتنا ہم نے سوچا تھا، پانی صرف راتوں رات نہیں رکا۔ ہم ارضیاتی سیاق و سباق کا ایک بہت بڑا تنوع دیکھتے ہیں، تاکہ کوئی بھی عمل یا سادہ ٹائم لائن مریخ کی معدنیات کے ارتقاء کی وضاحت نہ کر سکے۔ یہ ہمارے مطالعے کا پہلا نتیجہ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ اگر آپ زمین پر زندگی کے عمل کو خارج کرتے ہیں تو، مریخ ارضیاتی ترتیبات میں معدنیات کے تنوع کو ظاہر کرتا ہے جیسا کہ زمین کرتی ہے۔

    جان کارٹر نے مزید کہا کہ دوسرے الفاظ میں، ہم جتنا قریب سے دیکھتے ہیں، مریخ کا ماضی اتنا ہی پیچیدہ ہوتا جاتا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

  • سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    سائنسدانوں کا ایک صدی قبل معدوم ہوئےتسمانین ٹائیگر کودوبارہ وجود میں لانے کا اعلان

    امریکی سائنسدانوں نے تسمانین ٹائیگر کو معدوم ہونے کے تقریباً 100 سال بعد دوبارہ وجود میں لانے کے منصوبے کا انکشاف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تسمانین ٹائیگرکا سائنسی نام تھائلاسائن ہے، اس کی نسل 1930ء کی دہائی میں معدوم ہونے سے قبل لاکھوں سال سے کرہ ارض پر موجود تھی اس کی نسل کو تقریباً ایک صدی قبل معدوم ہونے کے بعد بہت نقصان پہنچا تھا۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

    سائنسدانوں کے مطابق تھائلاسائن ماضی میں آسٹریلیا اور نیو گنی کی سرزمین پر بڑی تعداد میں موجود تھے لیکن 3000 سال قبل یہ اس علاقےسے معدوم ہوگئے۔ باقی ماندہ تعداد تسمانیہ کے جزیرے تک محدود رہ گئی جنہیں شکار کر کے 20 ویں صدی کی ابتدا میں ختم کردیا گیا۔

    طویل عرصے سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ان کے معدوم ہونے میں انسانوں اور کتوں کا بڑا حصہ ہے اس نسل کا آخری جانور ہوبرٹ کے چڑیا گھر میں 1936ء میں مرا تھا تاہم اب امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں قائم ایک اسٹارٹ اپ کولوسل بائیو سائنسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسٹیم سیل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اس جانور کو دوبارہ وجود میں لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

    سعودی عرب میں سمندری چھپکلی کی 80 ملین سال پرانی باقیات دریافت

    کولوسل بائیوسائنسز نے دعویٰ کیا ہے کہ تھائلاسائن کے واپس آنے سے نہ صرف دنیا کو ایک مشہور جانور واپس ملے گا بلکہ اس میں تسمانیہ اور آسٹریلیا کی ماحولیات میں توازن قائم کرنے کی صلاحیت بھی ہوگی-

    کولوسل بائیو سائنسزنے میلبورن یونیورسٹی کے ساتھ مل کر معدوم ہونے والی نسلوں کو واپس لانے کے ایک پرجوش منصوبے پر کام کیا ہے۔

    یونیورسٹی کی تھائلاسائن انٹیگریٹڈ جینیاتی بحالی ریسرچ لیب کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو پاسک نے کہا کہ ‘یہ مرسوپیئل ریسرچ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے اور ہمیں اس خواب کو حقیقت بنانے کے لیےکولوسل کے ساتھ مل کر کام کرنے پر فخر محسوس ہوتا ہےاس پروجیکٹ سے حاصل ہونے والی ٹیکنالوجی اور اہم سیکھنے سے مرسوپیل کے تحفظ کی کوششوں کی اگلی نسل پر بھی اثر پڑے گا۔

    مزید برآں، تسمانیہ کے زمین کی تزئین میں تھائلاسائن کو دوبارہ پھیلانا حملہ آورجانوروں کی وجہ سے اس قدرتی رہائش گاہ کی تباہی کو نمایاں طور پر روک سکتا ہے۔

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

  • محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

    محققین نے سمندر میں ڈولفن کے خوفناک راز پتا لگا لئے

    امریکی بحریہ کی جانب سے ڈولفنز پر لگائے گئے کیمروں کے نتیجے میں متعدد راز سامنے آئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی بحریہ کی جانب سے زیرِ سمندر بارودی سرنگوں کی نشاندہی اور امریکی جوہری ذخیرے کی حفاظت کے لیے ڈولفنز کو باقاعدہ تربیت دی جاتی ہے اور پھر اِن انسان دوست مچھلیوں کو کھلے سمندر، سان ڈیاگو بے میں چھوڑ دیا جاتا ہےڈولفن کا مطالعہ کیا جا رہا ہے کیونکہ محققین شکار کے دوران ان کے مواصلاتی طریقوں کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔

    اِن ڈولفنز کی نقل و حرکت اور تہہ کے اندر کےراز جاننےکےلیے اِن پر باقاعدہ کیمرے لگا کر چھوڑا جاتا ہے ریکارڈنگ کا سامان ان ڈولفنز کی پیٹھ پر ایسے نصب کیا جاتا ہے کہ ناصرف سمندری تہہ نظر آ سکےبلکہ اِن مچھلیوں کے چہروں کے تاثرات بھی ریکارڈ کیے جا سکیں۔

    محققین کی ایک ٹیم نے امریکی بحریہ کی ڈولفنز کےساتھ کیمرے منسلک کیےاورسمندری مخلوق کی مچھلیوں کاپیچھا کرتے ہوئے، سمندری سانپوں کو کھا جانے اور یہاں تک کہ ‘سائیڈ آئی’ کی شکل دینے کی شاذ و نادر ہی دیکھی جانے والی فوٹیج حاصل کی۔

    ڈولفن مچھلیاں خونخوار نہیں ہوتیں اور نہ ہی جنگلی حیات کی طرح شکارکرتی ہیں جبکہ اِن مچھلیوں پر نصب کیےگئے کیمروں سے حاصل ہونے والی نئی ویڈیوز میں ڈولفنز کو زہریلے سانپوں کا شکار کرتے ہوئےبھی دیکھا گیا ہےایک ڈولفن نےآٹھ انتہائی زہریلے، پیلے پیٹ والے سمندری سانپ (Hydrophis platurus) کھائے۔

    ویڈیو میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ڈولفن 200 سے زائد مچھلیوں کی اقسام کا شکار کرتی ہے جبکہ خود کو بدبودار شکار سے بچانے کے لیے پانی سے باہر چھلانگ بھی لگا دیتی ہے، یہ سمندر کی سطح پر الٹا بھی تیرتی ہیں تاکہ اپنی آنکھوں سے سمندر کے اندر کا واضح نظارہ دیکھ سکیں۔
    https://www.youtube.com/watch?v=EQ8YJgWotsg
    ڈولفن ایک دوسرے کو بلانے اور ڈھونڈنے کے لیے اپنے بینائی اور آواز دونوں کا استعمال کرتی ہیں اِن ویڈیوز سے ڈولفن کے شکار کرنے اور اِنہیں کھانے کی عادات سے متعلق بھی انکشافات سامنے ہیں ڈولفنز اپنے شکار کو براہِ راست نگلنے کے بجائے پہلے اِنہیں اپنے منہ کے ایک طرف رکھ کر خوب چوستی ہیں اور پھر اپنے طاقتور گلے کے پٹھوں کی مدد سے اِنہیں نگل لیتی ہیں۔

  • ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار

    امریکی خلائی ادارہ ناسا انسانوں کو ایک بار پھر چاند پر بھیجنے کے لیے تیار ہے اور اس کے لیے نیا طاقتور راکٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے نئے اسپیس لانچ سسٹم (ایس ایل ایس) نامی نیا میگا راکٹ کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ پیڈ پر پہنچایا جارہا ہے یہ راکٹ وہاں سے 29 اگست کو چاند کے مشن پر بھیجا جائے گا۔

    چاند پر پہلا قدم رکھنے والے خلاءبازوں کے قدموں کے نشان 53 سال بعد بھی موجود


    پہلے مشن میں انسانوں کو نہیں بھیجا جائے گا مگر مستقبل کے مشنز میں انسانوں کو 5 دہائیوں کے بعد چاند پر بھیجا جائے گا۔


    یہ نیا راکٹ لگ بھگ 100 میٹر لمبا ہے جسے 16 اگست کی شب (مقامی وقت کے مطابق) لانچ پیڈ کی جانب بھیجا گیا جس کو منزل پر پہنچنے کے لیے 11 گھنٹے کا وقت لگے گا۔

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

    اس راکٹ سے آرٹیمس 1 نامی مشن کو بھیجا جائے گا تاکہ مستقبل کے انسانی مشنز کے لیے سسٹم کی آزمائش ہوسکے آرٹیمس 1 کے بغیر انسانوں کے اولین مشن میں ناسا کے اورین اسپیس کرافٹ اور یورپین ایجنسی کے سروس موڈیول کو چاند پر بھیجا جائے گا اس مشن میں اون بھرا کھلونا بھی خلاباز کے طور پر سوار ہوگا۔


    ناسا کو توقع ہے کہ اس مشن کی کامیابی کے بعد آرٹیمس 2 مشن کو 2024 تک بھیجا جاسکے گا جس میں خلابازوں کو چاند پر پہنچایا جائے گا اس کے بعد 2025 میں آرٹیمس 3 مشن کو بھیجا جائے گا ان مشنز کی کامیابی کے بعد ناسا کی جانب سے 2030 کی دہائی میں انسانوں کو مریخ پر بھیجا جائے گا۔


    واضح رہے کہ قبل ازیں یورپین اسپیس ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ شوان دی شیپ (برطانیہ کا ایک معروف ٹی وی کردار) نئے اسپیس لانچ سسٹم کی پہلی پرواز کا حصہ ہوگی، جس سے آرٹیمس پروگرام کا آغاز ہوگا اسی پروگرام کے تحت آئندہ چند برسوں میں چاند پر انسانوں کی واپسی ہوگی۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

  • محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    محققین عطیہ کیے گئے گردے کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیاب

    برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کے ماہرین نے ایسے 3 گردوں کا بلڈ گروپ بدلنے میں کامیابی حاصل کی جو انتقال کرجانے والے افراد نے عطیہ کیے تھے۔

    باغی ٹی وی : ماہرین کو توقع ہے کہ اس پیشرفت سے گردوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے سپلائی میں اضافہ ہوسکے گا، بالخصوص ایسے افراد کے لیے جن کے لیے عطیہ کیے گئے گردوں کے میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔

    گردوں کو صحتمند رکھنے والی چند غذائیں

    تحقیق میں شامل پروفیسر مائیک نکلسن اور پی ایچ ڈی۔ طالبہ سیرینا میک ملن نے اس مقصد کے لیے normothermic perfusion machine نامی ڈیوائس کو انسانی گردوں سے منسلک کیا تاکہ اس عضو میں آکسیجن ملے خون کی گردش یقینی ہونے سے اسے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھ جاسکے۔

    بعد ازاں خون کو ایک انزائمے کے ساتھ خارج کردیا گیا، یہ انزائمے ایک مالیکیولر قینچی کی طرح کام کرتے ہوئے بلڈ گروپ کا تعین کرنے والے عناصر کو ختم کرکے اسے سب سے عام قسم O ٹائپ میں بدل دیتا ہے۔

    A بلڈ گروپ والے شخص کا گردہ B بلڈ گروپ والے شخص میں ٹرانسپلانٹ نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی دوسرے طریقے سے۔ لیکن خون کی قسم کو یونیورسل O میں تبدیل کرنے سے مزید ٹرانسپلانٹ ہونے کا موقع ملے گا کیونکہ O کسی بھی بلڈ گروپ والے لوگوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    میک ملن نے کہا کہ "ہمارے اعتماد میں واقعی اضافہ ہوا جب انزائمے کے استعمال سے گردوں میں خون کے گروپ کا تعین کرنے والے اینٹی جینز بہت تیزی سے ختم ہوگئے اس کے بعد ہم جانتے تھے کہ یہ عمل ممکن ہے اور پھر ہم نے انسانی گردوں پر اس کی آزمائش کی۔

    ملن نے کہا کہ اس مقصد کے لیے B بلڈ گروپ والے انسانی گردوں میں مشین کا استعمال کرتے ہوئےبی گردوں میں انزائمے کو شامل کیا گیا ہم نے دیکھا کہ چند گھنٹوں میں وہ O قسم میں تبدیل ہو گیا-

    گُردوں کے امراض جدید تحقیق کی روشنی میں

    یہ دریافت نسلی اقلیتی گروہوں کے لوگوں کےلیے خاص طور پراثر انداز ہوسکتی ہے جو اکثر کاکیشین مریضوں کے مقابلے میں ٹرانسپلانٹ کے لیے ایک سال طویل انتظار کرتے ہیں۔

    اقلیتی برادریوں کے لوگوں کے پاس B قسم کا خون ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور ان آبادیوں کی طرف سے عطیہ کرنے کی موجودہ شرح کم ہونے کے باعث گردے کافی نہیں ہوتے کہ عطیہ کئے جا سکیں 2020/21 میں، اعضاء کےکل عطیات کاصرف 9فیصد سیاہ فام اور اقلیتی نسلی عطیہ دہندگان سے آیا جب کہ سیاہ اور اقلیتی نسلی مریض گردے کی پیوند کاری کی انتظار کی فہرست میں 33 فیصد ہیں۔

    اب کیمبرج ٹیم کی جانب سے یہ دیکھا جائے گا کہO گروپ میں منتقل کیے جانے والے گردے کسی مریض کے جسم میں کیسے کام کرتے ہیں-

    پرفیوژن مشین انہیں لوگوں میں ٹیسٹ کرنے سے پہلے ایسا کرنے کی اجازت دیتی ہے، کیونکہ وہ گردے لے سکتے ہیں جو O قسم میں تبدیل ہو چکے ہیں، مختلف خون کی اقسام کو متعارف کرانے کے لیے مشین کا استعمال کر سکتے ہیں اور یہ مانیٹر کر سکتے ہیں کہ گردہ کس طرح کا رد عمل ظاہر کر سکتا ہے، جس میں ٹرانسپلانٹ کے عمل کو نقل کیا جا سکتا ہے۔

    خون میں کولیسٹرول۔لیول کیسے کم کر سکتے ہیں?

    ٹرانسپلانٹ سرجری کے پروفیسر نکلسن نے کہا کہ عطیہ کیے گئے گردے کی پیوند کاری کی جانے والی سب سے بڑی پابندیوں میں سے ایک یہ حقیقت ہے کہ آپ کے خون کے گروپ کے مطابق ہونا ضروری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے خلیوں پر اینٹی جینز اور مارکر موجود ہیں جو A یا B ہو سکتے ہیں۔ آپ کا جسم قدرتی طور پر ان کے خلاف اینٹی باڈیز تیار کرتا ہے جو آپ کے پاس نہیں ہیں۔

    "بلڈ گروپ کی درجہ بندی کا تعین نسلی بنیادوں پر بھی کیا جاتا ہے اور نسلی اقلیتی گروہوں میں بی قسم کے نایاب ہونے کا امکان زیادہ ہوتا ہےخون کے گروپ کو یونیورسل O قسم میں کامیابی کے ساتھ منتقل کرنے کے بعد، ہمیں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہمارے طریقے طبی ترتیب میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اور بالآخر ٹرانسپلانٹیشن تک لے جایا جاتا ہے۔

    کڈنی ریسرچ یو کے میں ریسرچ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر آئسلنگ میک موہن نے کہا،مائیک اور سرینا جو تحقیق کر رہے ہیں وہ ممکنہ طور پر گیم چینج کرنے والی ہے۔ ٹیم نے اتنے کم وقت میں جو پیشرفت کی ہے اسے دیکھنا ناقابل یقین حد تک متاثر کن ہے۔ ، اور ہم اگلے اقدامات دیکھنے کے لیے پرجوش ہیں۔

    مٹر میں چھپے صحت کے راز

    میک موہن نے کہا کہ ایک تنظیم کے طور پر، ہم اس تحقیق کو فنڈ دینے کے لیے پرعزم ہیں جو علاج کو تبدیل کرتی ہے اور صحت کی ناہمواریوں سے نمٹتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اقلیتی نسلی گروہوں کےلوگ ٹرانسپلانٹ کے لیے زیادہ انتظار کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے خون کی قسم کے دستیاب اعضاء کے ساتھ میچ ہونے کا امکان کم ہوتا ہے۔ یہ تحقیق اقلیتی نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والے 1,000 سے زیادہ لوگوں کے لیے امید کی کرن پیش کرتی ہے جو گردے کے انتظار میں ہیں ۔

    خون کی دوسری اقسام کو دوبارہ متعارف کرانے کی جانچ کرنے کے بعد، کیمبرج ٹیم یہ دیکھے گی کہ طبی ترتیب میں اس نقطہ نظر کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اتنے کم وقت میں بہت ترقی کر کے وہ مستقبل کے لیے پر امید ہیں۔

    مائیک اور سرینا کے کام پر مکمل دستاویز آئندہ مہینوں میں برٹش جرنل آف سرجری میں شائع ہوں گے فی الوقت یہ تحقیق کسی جریدے میں شائع نہیں کی گئی-

    کیا موٹے لوگ زمین کے لئے خطرہ ہیں?

  • واٹس ایپ کی  ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    واٹس ایپ کی ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے فیچر کی آزمائش

    کیلیفورنیا: دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ صارفین کے لیے ڈیلیٹ میسجز کے حوالے سے نیا فیچر متعارف کرانے جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ویب بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اینڈرائیڈ کے لیے جاری کی جانے والی واٹس ایپ بِیٹا اپ ڈیٹس میں زیرِ تکمیل ایک ایسا فیچر پیش کیا ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنے غلطی سے ڈیلیٹ کیے گئے میسجز دوبارہ حاصل کر سکیں گے۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان


    بعض اوقات صارفین کو میسج سب کے لیے ڈیلیٹ کرنا ہوتا ہے لیکن غلطی سے صرف اپنے لیے ڈیلیٹ کردیتے ہی جو اپنا پیغام غلطی سے ڈیلیٹ کرنے کے بعد واپس حاصل کرسکتےہیں یہ فیچر چند ایسے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو بیٹا ٹیسٹرز ہیں، اس فیچر پر فی الحال تجربہ کیا جارہا ہے اور اسی وجہ سے اب تک دیگر صارفین کی رسائی ممکن نہیں-

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    اب اس فیچر کے تحت اگر آپ نے مذکورہ میسج ڈیلیٹ فار می کردیا تو اچانک آپ کی اسکرین پر ایک نوٹیفکیشن موصول ہوگا جس میں آپ چند سیکنڈوں کی مہلت پر ’اَن ڈُو‘ کا ٹیب استعمال کرتے ہوئے میسج واپس لا سکیں گے اور آپ اسے ‘ڈیلیٹ فار ایوری ون ‘ کر سکیں گے۔

    اس فیچر کے حصول کیلئے پلے اسٹور میں جاکر واٹس ایپ بیٹا ورژن اپ ڈیٹ کریں، اگر اپ ڈیٹ کے باوجود یہ فیچر آپ کے واٹس ایپ پر نہ آئے تو پریشان نہ ہوں واٹس ایپ کے مطابق یہ فیچر آنے والے چند ہفتوں میں عالمی سطح پر متعارف کرادیا جائے گا۔

    ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

  • زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ سوچنا دماغ میں زہریلے کیمیکلز کی نشوونما کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : دماغ میں کیمیائی عدم توازن اس وقت ہوتا ہے جب دماغ میں یا تو ضرورت سے زیادہ یا ناکافی کیمیائی میسنجر ہوتے ہیں، جنہیں نیورو ٹرانسمیٹر کہتے ہیں نیورو ٹرانسمیٹر قدرتی کیمیکل ہیں جو آپ کے اعصابی خلیوں کے درمیان رابطے کو آسان بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ مثالوں میں نورپائنفرین اور سیرٹونن شامل ہیں۔

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ دماغی صحت کی حالتیں، جیسے ڈپریشن اور اضطراب، دماغ میں کیمیائی عدم توازن کا نتیجہ ہے۔ مفروضے کو بعض اوقات کیمیائی عدم توازن کا نظریہ یا کیمیائی عدم توازن نظریہ کہا جاتا ہے۔

    تاہم، یہ جاننا ضروری ہے کہ کیمیائی عدم توازن تھیوری پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ دماغ میں نیوران کے درمیان بات چیت ڈپریشن کے بنیادی عمل میں ایک کردار ادا کر سکتی ہے تاہم، زیادہ تحقیق بتاتی ہے کہ نیورو ٹرانسمیٹر کا عدم توازن ڈپریشن کا سبب نہیں بنتا۔

    امریکی جریدے کرنٹ بائیولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جب دماغ زیادہ دیر تک متحرک رہتا ہے تو ایسی شکل ڈھال لیتا ہے کہ اسے زیادہ محنت کی ضرورت پیش نہیں آتی، جس سے گلوٹامیٹ نامی کیمیکل کی گردش متاثر ہوتی ہے، انسان تھکاوٹ محسوس کرتا ہے اور کام کرنے کی تحریک کھو سکتا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق میں ڈاکٹر میتھیاس پیسیگلیون نے مختلف نظریات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھکاوٹ دماغ کی طرف سے پیدا کیا گیا وہم ہے جو کسی بھی شخص کو کام کرنے سے روک کر اطمینان بخش سرگرمیوں کی طرف مائل کرتا ہے۔

    ایک اور نظریے کے مطابق جس طرح سخت مشقت جسمانی تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے ایسے ہی ضرورت سے زیادہ سوچنا شدید ذہنی تھکن کا باعث بنتا ہے، جس سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے۔

    گلوٹامیٹ ایک نیورو ٹرانسمیٹر ہے جو دماغ میں حوصلہ افزا افعال کو متحرک رکھتا ہے دماغ کے بھرپور طریقے سے کام کرنے کے لیے جسم میں گلوٹامیٹ ہونا ضروری ہے لیکن یہ صحیح وقت اور صحیح ارتکاز میں ہونا چاہیے۔

    اگر جسم میں نیورو ٹرانسمیٹر کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو یہ نیورو ٹرانسمیٹر پارکنسنز، الزائمر اور ہنٹنگٹن جیسی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

  • امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    امریکا میں برفانی دور کے انسانی قدموں کے نشانات دریافت

    امریکی ریاست یوٹاہ کی ایئر فورس بیس کے قریب ایک جگہ سے 12 ہزار سال پُرانے انسانی قدموں کے نشانات دریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کورنیل ٹری رِنگ لیبارٹری کے محقق تھامس اربن اور ان کے ساتھی ماہرِ آثارِ قدیمہ ڈیرون ڈیوک نے ان نقوش کی نشاندہی چلتی گاڑی میں کی تھامس اربن نے حال ہی میں نیو میکسیکو کے وائٹ سینڈز نیشنل پارک میں قدیم انسانوں کے قدموں کے نقوش کا مطالعہ کیا ہے۔

    تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جب میں نے چلتی گاڑی سے ان نقوش کی نشاندہی کی تب مجھے یہ علم نہیں تھا کہ یہ انسانوں کے پیروں کے نشان ہیں تاہم، مجھے یہ علم تھا کہ یہ پیروں کے نشانات ہیں کیوںکہ یہ یکساں فاصلے پر متبادل ترتیب کے ساتھ تھے۔

    ایئر فورس کے بیان کے مطابق محققین کی ٹیم کے مدد سے اربن نے گراؤنڈ پینیٹریٹنگ ریڈار سے پرنٹ ریکارڈ کرنے کے لیے تکنیک کا تعین کیا جس کے بعد مشاہدہ کیے گئے نشانات سے زیادہ نشانات سامنے آئے۔

    بیان میں تھامس اربن کا کہنا تھا کہ جس طرح وائٹ سینڈز میں نمی کی موجودگی میں نشانات دِکھتے تھے، یہاں بھی ہم نے ریڈار کی مدد سے کئی ناقابلِ دید نقوش کی نشاندہی کی سب ملا کر ٹیم نے بچوں سے لے کر بڑوں تک 88 نقوشِ پا دریافت کیے سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق قدموں کے یہ نشانات 12 ہزار سال پرانے ہیں۔

    ڈیوک نے کہا کہ وہ زمین پر صرف رنگین دھبوں کی طرح نظر آنے اور. چھوٹے پاپ اپس، ان کے ارد گرد یا ان پر گندگی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے درمیان مختلف ہوتے ہیں لیکن وہ قدموں کے نشانات کی طرح نظر آتے ہیں ۔

    اس دریافت کے بعد کچھ دنوں تک بہت محتاط کھدائی کی گئی تھی جس میں ڈیوک کبھی کبھی اپنے پیٹ پر پڑا رہتا تھا اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے تھے وہ اتنا ہی پرانا تھا جتنا کہ ظاہر ہوتا ہے۔

    ڈیوک نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے جو کچھ پایا وہ لوگوں کے ننگے پاؤں تھے جنہوں نے اتھلے پانی میں قدم رکھا تھا جہاں مٹی کی ایک ذیلی تہہ تھی جس لمحے انہوں نے اپنا پاؤں باہر نکالا، اس میں ریت بھر گئی اور اسے بالکل محفوظ کر لیا۔

    نیواڈا میں مقیم فار ویسٹرن اینتھروپولوجیکل ریسرچ گروپ کے ڈیوک، شوشون کے ذریعہ بنائے گئے کیمپ فائر کے شواہد کی تلاش میں اس علاقے میں تھے، جن کی اولاد اب بھی مغربی ریاستہائے متحدہ میں رہتی ہے۔

    ڈیوک نے کہا کہ وہ اس علاقے کو ایک "کھوئے ہوئے نخلستان” کے طور پر کہتے ہیں کیونکہ بہت زیادہ دلدل کا علاقہ "آج کے بنجرگراؤنڈ سے” بہت مختلف نظر آتا۔

    انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آج ہمیں عظیم سالٹ لیک اور صحرائی مغرب میں پانی کی کمی کے ساتھ چیلنجوں کا سامنا ہے، یہ علاقہ ماضی کی ایک قریبی مثال کے طور پر کام کرتا ہے کہ چیزیں کس طرح اچانک تبدیل ہو سکتی ہیں۔

    تھامس اربن نے کہا کہ یہ شمالی امریکہ کے رہائشی مقامی لوگ ہیں؛ یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ رہتے تھے، اور یہ وہ جگہ ہے جہاں وہ آج بھی رہتے ہیں،میرے لئے ذاتی طور پر، قدموں کے نشانات تلاش کرنا ایک پیشہ ور اعلیٰ مقام رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ایک بار جب میں نے… محسوس کیا کہ میں انسانی قدموں کے نشان کھود رہا ہوں، مجھے انگلیاں نظر آ رہی ہیں، میں چیز کو بے عیب حالت میں دیکھ رہا ہو. میں اس سے ایک طرح سے حیران رہ گیا،

  • ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

    ٹک ٹاک میں نئے فیچر کا اضافہ

    سان فرانسسکو: ٹیکسٹ ٹو امیج اے آئی سسٹمز اس وقت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ٹک ٹاک میں بھی اس ٹیکنالوجی کا اضافہ کیا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی بدولت ٹیکسٹ کو اس سے وابستہ تصاویر میں بنانے والی تصاویر اور امیج سازی کا تصور عام ہو رہا ہے ٹیکسٹ ٹو امیج اے آئی سسٹم میں لوگ اپنی پسند کی تصویر محض لکھ کرتیارکرسکتے ہیں، بس انہیں مطلوبہ تصویر کے لیے درست ٹیکسٹ تحریر کرنا ہوتا ہے جو اے آئی سسٹم فوٹو میں تبدیل کر دیتا ہے۔

    مختصر ویڈیو شئیرنگ کے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم نے حال ہی اے آئی گرین اسکرین کے نام سے ایک نیا فیچر متعارف کرایا ہے جس کے ذریعے محض لکھ کر ایک تصویر بنانا ممکن ہے۔

    ’اے آئی گرین اسکرین‘ نامی یہ فلٹر بہت سے ممالک میں دستیاب ہے۔ ٹک ٹاک نے اسے ایک افیکٹ کا نام دیا ہے۔ اپنے نام کی طرح اگرچہ بننے والی تصویر اتنی اچھی تو نہیں ہوتی لیکن ٹک ٹاکر اسے بیک گراؤنڈ کی صورت میں شامل کرسکتے ہیں۔ چاہے وہ آڈیو ہو یا ویڈیو ہو، اسے دونوں طرح سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    ٹک ٹاک کا یہ اے آئی سسٹم دیگر کمپنیوں کے تیار کردہ اس طرح کے سسٹمز کے مقابلے میں بہت سادہ ہے اور زیادہ پیچیدہ تصاویر تیار نہیں کرسکتا اب بھی یہ گوگل کے ’امیجن‘ متن سے تصویر کاڑھنے والے سافٹ ویئر سے بہت پیچھے ہیں اسی طرح اوپن اے آئی اور ڈیل ای ٹو بھی اس سے آگے ہیں بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ یہ ایبسٹریکٹ آرٹ کے نمونے بناتا ہےاور تصاویر ڈولتی دکھائی دیتی ہیں اس طرح ٹک ٹاک دیکھنے والے گمان کرتا ہے کہ شاید وہ خوابوں کی تصاویر کی طرح کوئی تصویر دیکھ رہا ہے۔

    اس کے مقابلے میں دیگر ماڈل پر اگر آپ خلانورد لکھیں تو یا پانی میں پھول کی خواہش کریں تو وہ حقیقت سے قریب تر تصاویر بناتا ہے لیکن ٹک ٹاک فلٹر میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل تجزیہ نگاروں نے اسے خاص پسند نہیں کیا ہے لیکن ٹک ٹاک کا جنریٹر بہت تیزی سے تصاویر بناتا ہے جس کا اعتراف ماہرین نے بھی کیا ہے۔

    دیگر ماہرین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی نے اسے خود سادہ رکھا ہے کیونکہ جدید ماڈلز کے لیےزیادہ کمپیوٹنگ پاور کی ضرورت ہوتی ہے اور لاگت بھی بڑھ جاتی ہے اسی طرح حقیقی نظر آنے والی تصاویر کا غلط استعمال بھی ہوسکتا ہے-

    ٹک ٹاک کے اے گرین اسکرین فیچر سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی کتنی تیزی سے مین اسٹریم کا حصہ بن رہی ہے جس کو ابھی 2 سال بھی مکمل نہیں ہوئے مگر اب وہ ٹک ٹاک کے ذریعے کروڑوں افراد تک پہنچ گئی ہے۔

  • ماہرین فلکیات نے نیپچون  جیسا سیارہ دریافت کر لیا

    ماہرین فلکیات نے نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا

    برکلے: ماہرینِ فلکیات نے زمین سے تقریباً 873 نوری سال کے فاصلے پر موجود وولنس نامی ایک جھرمٹ میں نیپچون جیسا سیارہ دریافت کر لیا۔

    باغی ٹی وی : آسٹروفزیکل جرنل لیٹر میں شائع کی گئی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں کی جانے والی تحقیق میں معلوم ہوا کہ HD 56414b نامی یہ سیارہ ایک گرم اے-ٹائپ ستارے کے گِرد گردش کرتا ہے۔ سائنس دانوں کو عموماً ایسے روشن ستاروں کے گرد مشتری سے چھوٹے سیارے نہیں ملتے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    ناسا کے ٹرانزِٹنگ ایگزوپلینٹ سروے سیٹلائٹ کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیے جانے والے اس سیارے کا ریڈیس زمین کے مقابلے میں 3.7 زیادہ ہے اور اس کو گرم نیپچون سیاروں کی درجہ بندی میں ڈالا گیا ہے۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ایک سائنس دان کا کہنا تھا کہ یہ سیارہ اتنے بڑے ستاروں کے گرد موجود چند چھوٹے سیاروں میں سے ایک ہے جو سائنس دانوں کے علم میں ہیں۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    ماہرین فلکیات کےمطابق اے-ٹائپ ستارے وہ ستارےہوتےہیں جن کی زندگی چند لاکھ سالوں پرمحیط ہوتی ہےنیا دریافت ہونےوالا یہ ایگزوپلینٹ اپنے ستارے کے گرد 29 دنوں میں ایک چکر مکمل کرتا ہےاس ستارے اوراس کےگرد گھومنے والے سیارے کے درمیان فاصلہ زمین اور سورج کے درمیان فاصلے کا ایک چوتھائی ہے۔

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری