Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کر لیں

    تحقیق میں ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ رگوں کا مخصوص نظام اگر غیر فعال ہو جائے تو ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس اور اس سے ملحقہ بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ذیابیطس کا مرض دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے، اگر مرض قابو میں نہ رہے تو ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف اور سنگین پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    موسم گرما میں ذیابطیس کے مریضوں کیلئے بہترین غذا

    جریدے سرکولیشن ریسرچ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق امریکی محققین نے ذیابیطس کی وجوہات دریافت کی ہیں جن کے مطابق رگوں کا نظام غیر فعال ہونے سے ایسی میٹابولک تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جو ذیابیطس کا باعث بنتی ہیں بعدازاں ذیابیطس کے مریضوں کو اس کے سبب دیگر مختلف سنگین بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    ماہرِ میڈیسین پروفیسر تھامس جے بیٹسن نے بتایا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ سفید چربی اور ورم خون کی شریانوں کو غیر فعال کرنے کا باعث بنتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریض قلب، بینائی اور گردوں کے امراض کا سامنا کرتے ہیں تاہم حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درحقیقت خون کی رگیں اور شریانیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کرتی ہیں جس کا ہمیں پہلے علم نہیں تھا۔

    ذیابیطس کو خون کی شریانوں پر منفی اثرات کے ساتھ ساتھ جسم میں براؤن فیٹ کے ذخیرے میں کمی سے بھی جوڑا جاتا ہے جو جسمانی درجہ حرارت اور جسمانی وزن کو کنٹرول کرنے اور توانائی کی فراہمی کا کام کرتا ہے۔

    پھلوں اور سبزیوں کےاستعمال سے ذیابیطس اور موٹاپے پرقابوپایا جا سکتا ہے ،تحقیق

    اس تحقیق کے دوران ذیابیطس سے متاثرہ چوہوں پر مختلف تجربات کیے گئے جن سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ان میں انسولین کی حساسیت اس وقت بڑھی جب خون کی شریانوں کا وزن کم ہوا اس کے نتیجے میں ان چوہوں میں براؤن فیٹ کی مقدار بڑھ گئی اور خون کی شریانوں کو پہنچنے والا نقصان کم ہو گیا۔

    ماہرین نے یہ بھی دریافت کیا ہے کہ انسانی جسم میں انسولین خون کی شریانوں کو خلیات بھیجنے میں مدد فراہم کرتی ہے، اس کی مدد سے نائٹرک آکسائیڈ بننے کا عمل شروع ہو جاتا ہے جس سے براؤن فیٹ کے خلیات بنتے ہیں اس کے مقابلے میں انسولین کی مزاحمت پر یہ عمل الٹا ہو جاتا ہے اور نائٹرک آکسائیڈ کی کمی کے باعث دل کی شریانوں کے امراض کا خطرہ بڑھتا ہے۔

    محققین نے کہا ہے کہ پہلے سمجھا جاتا تھا کہ ذیابیطس سے دل کی شریانوں کے مسائل کا خطرہ بڑھتا ہے مگر نتائج سے یہ عمل الٹا محسوس ہوتا ہے مزید تحقیق سے ذیابیطس کے نئے طریقہ علاج کو دریافت کرنے میں مدد مل سکے گی۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

  • نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے،تحقیق

    حال ہی میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نان اسٹک فرائی پین کا استعمال جگر کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی شہر لاس اینجلس میں یہ تحقیق یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے محققین نے کی ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی کیمیکلز گھریلو سامان اور کچن کے کچھ برتنوں میں عام ہوتے ہیں، جس کے استعمال سے کسی شخص میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے –

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    سینٹر آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل نان اسٹک کچن کے برتنوں، نل کے پانی، واٹر پروف لباس، صفائی ستھرائی کی مصنوعات اور شیمپو میں موجود ہوتے ہیں کچن کے سامان اور کھانے کی پیکجنگ پر عام طور پر پائے جانے والے کیمیکلز کینسر کے خطرے کو چار گنا بڑھا سکتے ہیں۔

    تحقیق کے دوران محققین نے 50 لوگوں کے ڈیٹا کا مطالعہ کیا جن میں جگر کا کینسر ظاہر ہوا جبکہ دیگر 50 افراد میں نہیں ہوا، کینسر کے مریضوں کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور ان لوگوں کے ساتھ موازنہ کیا گیا جنہیں کبھی بیماری نہیں ہوئی تھی، ان لوگوں کے خون میں کئی قسم کے کیمیکل پائے گئے جنہیں کینسر ہو گیا۔

    محققین کو یہ بات بھی پتہ چلی کہ جب یہ کیمیکلز جگر میں داخل ہوتے ہیں تو میٹابولزم کو تبدیل کرتے ہیں اور فیٹی جگر کی بیماری کا باعث بنتے ہیں جو لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں ان میں جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    برسات کا پانی کینسر سمیت دیگر امراض کا سبب بن سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ایسے کیمیکلز کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگوں میں (non-viral hepatocellular carcinoma) ہونے کا امکان 4.5 گنا زیادہ ہو جاتا ہے جو ایک عام جگر کا کینسر ہے۔

    یو ایس سی ٹیم نے پایا کہ PFOS جگر میں گلوکوز میٹابولزم، بائل ایسڈ میٹابولزم اور امینو ایسڈ کو تبدیل کرتا ہے حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں ایسے معاملات میں اضافہ ہوا ہے، جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کے کئی حصوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح سے منسلک ہے زیادہ تر سنگین تخمینے 2030 تک تقریباً تین میں سے ایک امریکی کو اس حالت میں مبتلا ہونے کا پتہ چلتا ہے۔

    ای پی اے نے جون میں ان کیمیکلز کے خلاف سخت کارروائی کی تھی۔ اس نے گھریلو سامان میں ہمیشہ کے لیے کیمیکلز کی قابل قبول سطح کو تیزی سے کم کرنے کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    نئی رہنمائی کے مطابق، EPA اب پی ایف او اے کے 0.004 حصے فی ٹریلین (ppt) اور PFOS کے 0.02 ppt سے زیادہ پینے کے پانی کی سفارش نہیں کرتا ہے پچھلی رہنمائی میں پی پی ٹی کی زیادہ سے زیادہ تجویز کردہ رقم 70 تھی، جو امریکہ کی اعلیٰ ماحولیاتی ایجنسی کی طرف سے ایک بڑی تبدیلی ہے۔

    EPA کے ایڈمنسٹریٹر مائیکل ریگن نے ایک بیان میں کہا کہ ‘PFAS آلودگی کے فرنٹ لائنز پرموجود لوگ بہت طویل عرصے سے برداشت کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ EPA ان کیمیکلز کو ماحول میں داخل ہونے سے روکنے اور متعلقہ خاندانوں کو اس وسیع چیلنج سے بچانے میں مدد کے لیے حکومت کے ایک مکمل طریقہ کار کے حصے کے طور پر جارحانہ کارروائی کر رہا ہے۔’

    ماہرین طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ کیمیکل بہت سی گھریلو مصنوعات پر موجود تھے، لیکن ان کی اجازت اس وقت تک تھی جب تک کہ وہ قابل قبول سطح سے نیچے تھےEPA اب کہتا ہے کہ پچھلی قابل قبول سطحیں بہت زیادہ تھیں، اور ان میں نمایاں کمی آئی-

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

  • دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت

    سائنسدانوں نے ایک ایسا پرندہ دریافت ہوا ہے جس کے زہریلے ہونے کی سائنسی تصدیق ہوچکی ہے۔

    باغی ٹی وی : پاپوا نیوگنی اور انڈونیشیا جزائر پر عام پائے جانے والے پرندے کا پورا نام ’ہوڈڈ پیٹوہوئی‘ ہے جو واحد زہریلا پرندہ قرار پایا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ 1990 میں اس کا زہریلا پن سامنے آیا تھا۔

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    پرندوں کے ایک ماہر، جیک ڈمبیشر بحرالکاہل کے جزائر میں تحقیق پر تھے کہ انہوں نے کچھ پرندوں کو پکڑنے کے لیے جال لگایا تو اس میں پیٹوہوئی بھی گرفت میں آگیا پرندے نے ان کی انگلی پر کاٹ لیا جیک نے اپنی زخمی انگلی کو سکون دینے کے لیے منہ میں ڈالی تو ان کی زبان اور ہونٹ کی حس ختم ہوگئی اور انگلی بھی سن ہوگئی یہ کیفیت کئی گھںٹے تک جاری رہی۔

    جیک کو خیال آیا کہ یہ سب پرندے کی وجہ سے ہوا ہے اور انہوں نے پرندے کا ایک پر توڑ کر منہ میں رکھا تو درد اور سُن ہونے کا عمل لوٹ آیا جیک کو خیال آیا کہ شاید انہوں نے پرندوں کی دنیا کا واحد زہریلا پرندہ دریافت کرلیا ہے-

    بعد ازاں سائنسدانوں نے اس پر تحقیق کی تو سب نے پرندے کو چھونے پر تکلیف اور جلن کا احساس کیا۔ مقامی افراد سے پوچھا گیا تو انہوں نے اسے ’کچرا پرندہ‘ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس کا گوشت بھی بدبو بھرا ہوتا ہے۔

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    اس کے بعد سائنسی تجزیہ کیا گیا تو پیٹوہوئی کے پروں سے زہر دریافت ہوا اس میں بیٹراکوٹوکسن (بی ٹی ایکس) نامی نیوروٹاکسن دریافت ہوا جو اعصاب میں سوڈیم آئن کے بہاؤ کو روکتا ہے یہاں تک کہ بی ٹی ایکس دل کی دھڑکن روک کر موت کی وجہ بن سکتا ہےاس کے بعد پیٹوہوئی کی جلد میں بھی زہر کی ہلکی مقدار دریافت ہوئی لیکن اس کا خود پرندے پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔

    یہ پرندے ایک طرح کے زہریلے بھنورے کھاتے ہیں اور وہیں سے زہر ان تک پہنچتا ہے۔ لیکن اس پرندے کو زہر سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اب تک یہ معلوم نہ ہوسکا تاہم خیال ہے کہ اس طرح پرندہ کیڑے مکوڑوں اور جووں سے دور رہتا ہے۔

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

  • کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    کائناتی تتلی : آپس میں ٹکراتی دو کہکشاؤں کی خوبصورت تصویر جاری

    ہوائی کے شہر موناکیہ میں نصب جیمنی نارتھ دوربین نے ایسی دو کہکشاؤں کی تصویر جاری کی ہے جو ایک دوسرے سے جڑنے کے عمل سے گزر رہی ہیں اور ایک کائناتی تتلی کا گمان دیتی ہیں۔

    باغی ٹی وی :ہوائی میں جیمنی نارتھ دوربین کے ماہرین فلکیات نے ایک شاندار تصویر جاری کی ہے جس میں دو سرپل کہکشائیں آپس میں ٹکرانے اور ضم ہونے کے عمل میں دکھاتی ہیں تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دو کہکشائیں آپس میں جڑی ہوئی ہیں –

    آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    آپس میں ٹکرانے والی کہکشائیں NGC 4568 اور NGC 4567 جنہیں تتلی کہکشائیں بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی دوہری شکل کی وجہ سے ان کے تعامل کا سبب بنتا ہے کنیا کے جھرمٹ میں زمین سے 60 ملین نوری سال کے فاصلے پر واقع ہیں اور ارد گرد ایک بالکل نئی بیضوی کہکشاں بنائیں گی۔ 500 ملین سال، NOIRLab کے ایک بیان کے مطابق، جو Gemini North telescope کو چلاتا ہے۔

    نئی تصویر سائنسدانوں کو ایک ‘چپکے سے پیش نظارہ’ دیتی ہے کہ تقریبا 5 بلین سالوں میں کیا ہوگا جب ہماری کہکشاں، آکاشگنگا، اپنے قریبی بڑے پڑوسی، اینڈرومیڈا کہکشاں سے ٹکرائے گی۔ یہ تصادم ہر کہکشاں کو ایک بڑا میک اوور دے گا، اور ساتھ ہی ممکنہ طور پر سورج اور نظام شمسی کو نتیجے میں آنے والی کہکشاں کے ایک مختلف خطے میں اڑائے گا۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 10 لاکھ سالوں میں یہ آپس میں ضم ہوجائیں گی یہ دونوں کہکشائیں 50 کروڑ سال میں اپنے کائناتی نظام کو مکمل کرکے ایک ہی کہکشاں کی شکل اختیار کر لیں گی۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق کہکشاں کی اس جوڑی کا دوسرا نام تتلی کہکشائیں بھی رکھا گیا ہے، سائنس دانوں کے مطابق کشش ثقل کی وجہ سے ان دونوں کہکشاوں نے ابھی آپس میں ٹکرانا شروع کردیا ہے۔

    اس ابتدائی مرحلے میں دونوں کہکشاؤں کا مرکز اس وقت 20,000 نوری سال کے فاصلے پرہے اور ہر کہکشاں نے اپنی پن وہیل کی شکل برقرار رکھی ہوئی ہے-

    جیمز ویب کی تین ارب نوری سال دورموجود اختتامی مراحل سے گزرتے ستارے کی نشاندہی

  • آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    آج رواں سال کے آخری سُپر مون کا نظارہ کیا جا سکے گا

    11 اگست 2022 جمعرات کو اس سال کا بڑا چاند ’سپرمون‘ آخری بار دیکھا جا سکے گا۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں فلکیاتی انجمن کے سربراہ انجینیئر ماجد ابو زاہرہ نےکہا ہے کہ رواں سال کے آخری سُپر مون کا ظاہری حجم تقریبا 8 اوراوسط روشنی 16 فیصد زیادہ ہوگی-

    امسال ریکارڈ کیا گیا جولائی اب تک کا گرم ترین مہینہ تھا،اقوام متحدہ

    سپرمون آج بروز جمعرات 11 اگست کو سورج غروب ہوتے ہی جنوب مشرق کے افق پر چمکتا ہوا نظر آئے گا بظاہر زحل سیارے سے دائیں جانب واقع ہو گا اس کا رخ آدھی رات کے بعد جنوب کی طرف ہوگا اور آسمان پر انتہائی بلندی تک پہنچا ہوا ہوگا بعد ازاں جمعے کی صبح 12 اگست کو مکہ مکرمہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بجکر 35 منٹ پر مکمل ہو جائے گا اس وقت سورج کی طرف سے یہ 180 ڈگری کے زاویے پر ہوگا۔

    یورپ میں شدید گرمی: جرمنی ،فرانس اور برطانیہ میں الرٹس جاری

    انہوں نے بتایا کہ آنے والی راتوں کے دوران چاند ہر روز تقریبا ایک گھنٹے تاخیر سے نمودار ہوگا اور کچھ روز بعد صرف صبح سویرے اسے دیکھا جا سکے گا۔ جمعرات کو بڑا چاند اس سال چوتھی اور آخری بار نظر آئے گا۔

    واضح رہے کہ ’سپر مون‘ مکمل چاند کو کہتے ہیں۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب چاند کے مرکز اور زمین کے مرکز کے درمیان 362146 کلو میٹر کا فاصلہ ہوتا ہے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

  • اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند ہے،تحقیق

    ٹیوبِنگن: ماہرین نے ایک تحقیق میں اپنے خیالات میں کھو جانا مسائل کے حل کے لیے فائدہ مند قرار دیا ہے-

    باغی ٹی وی : ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کسی کا اپنے خیالوں میں کھونا یا ذہن کا ادھر اُدھر بھٹکنا ایک ایسی سرگرمی ہے جس کو کم اہمیت دی جاتی ہے لیکن یہ ایسی چیز ہے جس کو جتنا کیا جائے اتنا فائدہ مند ہے۔

    جنوبی جرمنی میں قائم یونیورسٹی آف ٹیوبِنگن کے محققین یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ انسان عام طور پر اپنے سوچنے کی صلاحیت کو استعمال کرنے سے جھجھکتا کیوں ہے۔

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    250 افراد کے گروپ کا مطالعہ کرنے والے نفسیات دانوں نے بےمقصد سوچ بچار کےعمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ جتنی تحقیق کے شرکاء نےسوچی تھی یہ سرگرمی اس سے زیادہ اطمینان بخش تھی۔

    محققین کا کہنا تھا کہ ان کی تحقیق میں تجربوں کے تسلسل سے یہ بات سامنے آئی کہ اگر لوگوں کو ان کے اذہان بھٹکانے کا موقع دیا جائے تو وہ اس سے خوب لطف اندوز ہوتے ہیں البتہ کچھ لوگ اس فعل کو محنت طلب سرگرمی سمجھتے ہیں۔

    ماہرین نے یہ بھی بتایا کہ اپنے خیالات میں کھو جانے کا عمل مسائل کو حل کرنے، تخلیقی صلاحیت بڑھانے، تصور کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور اپنی اہمیت کے خیال سے آشنا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ ان فوائد کے باوجود اکثر افراد اپنے خیال میں کھونے یا کھڑکی کے باہر کسی چیز کو بےمقصد تکنے کے بجائے اپنی توجہ میں خلل دیئے جانے کو پسند کرتے ہیں اسمارٹ فون اس کی واضح مثال ہے جو اس آزادنہ سوچنے کی عادت کو ختم کر رہا ہے۔

    ناسا نے زمین سے 50 کروڑ نوری سال کے فاصلے پرکہکشاں کی رنگین تصاویر جاری کر دیں

    تحقیق میں شامل ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے خیالات تخلیقی صلاحیتوں کو جنم دیں، تو آپ تھوڑا مختلف انداز اختیار کرنا چاہیں گے اور اس کے بجائے ان خیالات پر توجہ مرکوز کریں گے جو آپ کو متجسس اور دلچسپ معلوم ہوں۔ وہ اس مشق کو "ذہن حیرت انگیز” کہتے ہیں انہوں نے کہا کہ کسی کتاب یا مضمون میں پیش کردہ خیالات کے بارے میں سوچیں جو آپ پڑھ رہے ہیں یا ایک پوڈ کاسٹ جسے آپ نے سنا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر اوران کے ساتھیوں نے پایا کہ لوگ مسائل کےحل کی کوشش سے وقفہ لینےاور دن میں خواب دیکھتے ہوئےایک غیر ضروری کام کرنے کے بعد ان کے مزید تخلیقی حل تلاش کرتے ہیں جب وہ اس وقفے کے دوران دوسری چیزیں کرتےتھے یا تو خاموشی سے بیٹھتے تھے یا کسی مختلف مشکل کام پر توجہ مرکوز کرتے تھے یا جب انہوں نے بالکل بھی وقفہ نہیں لیا تھا، تو مسئلہ حل کرنا زیادہ مشکل تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ’’ذہن کو حیرت میں ڈالنا‘‘ ناول کے ساتھ آنے کا ایک موقع ہوسکتا ہے، مختلف نقطہ نظر جن کے بارے میں آپ نے پہلے سوچا بھی نہیں تھا اگر آپ کا دماغ خراب جگہوں پر جاتا ہے تو ذہن سازی کی کوشش کریں۔

    فٹبال کے حجم کی نئی غیر معمولی جیلی فش دریافت

    اونٹاریو میں کوئنز یونیورسٹی کےماہر نفسیات جوناتھن سمال ووڈ نے کہا، تاہم، کچھ مسائل دن میں خواب دیکھنے کے ذریعے حل نہیں ہوتے ہیں اور آپ کو یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ دن میں خواب دیکھنا آپ کو ان کی طرف واپس لاتا ہے اور آپ پر دباؤ ڈالتا ہے۔

    ڈاکٹر سکولر نے کہا کہ اس صورت حال میں، ذہن سازی کی مشق کرنا ایک ذہنی حالت جس میں آپ موجودہ لمحے پر توجہ مرکوز کرتے ہیں مسلسل چہچہاہٹ پر لگام ڈالنے میں مدد کر سکتی ہے،” ڈاکٹر سکولر نے کہا۔ جیسے ہی آپ نے محسوس کیا کہ آپ کے خیالات تناؤ یا افسردہ ہو گئے ہیں، توقف کریں اور اپنی توجہ کو موجودہ لمحے کی طرف موڑنے کی کوشش کریں اپنی سانسوں اور ان احساسات کے بارے میں سوچیں جو آپ محسوس کرتے ہیں اس کےبعد، اپنے دن کے خوابوں کو زیادہ مثبت سمت میں ڈھالنا،ایک خوشگوار یادداشت کے بارے میں سوچیں، کہیں، یا ایک ٹی وی شو جو آپ کو تفریح فراہم کرے-

    ناسا ایک بار پھر چاند پرمشن روانہ کیلئے تیار

  • واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    واٹس ایپ کا 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان

    میٹا کی زیرملکیت دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپلیکیشن واٹس ایپ نے 3 نئے پرائیویسی فیچرز کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ میں ان فیچرز کا اعلان سی ای او مارک زکربرگ نے ایک فیس بک پوسٹ میں کیا انہوں نے بتایا کہ واٹس ایپ میں پرائیویسی کے نئے فیچرز آ رہے ہیںزکربرگ کا کہنا تھا کہ ہم صارفین کے پیغامات کی حفاظت اور گفتگو کو نجی رکھنے کے لیے نئے طریقےمتعارف کراتے رہیں گے۔

    میٹا کی ذیلی کمپنی واٹس ایپ کے مطابق ان تین نئے پرائیویسی آلات کو پیغامات بھیجتے وقت بطور اضافی حفاظتی جہتوں کے متعارف کرایا جارہا ہے۔

    زکربرگ کا کہنا تھا کہ نئے پرائیویسی فیچر جو واٹس ایپ میں متعارف کرائے جارہے ہیں ان میں گروپ سے بغیر کسی کے علم میں آئے خارج ہونا،اس چیز کو کنٹرول کرنا کہ کون آپ کو آن لائن دیکھ سکتا ہے کون نہیں اور صرف ایک بار کھلنے والے میسجز کے اسکرین شاٹ نہ لے سکنا شامل ہیں۔

    فیس بک کا لائیو شاپنگ فیچر کو ختم کرنے کا اعلان

    واٹس ایپ اپنے صارفین کے لیے اسٹیلتھ موڈ کا فیچر اس ماہ متعارف کرائے گا جس کےبعد صارفین اپنے منتخب شدہ لوگوں کے سامنے ہی آن لائن ظاہر ہوں گے۔

    مارک زکر برگ نے کہا کہ ہم آپ کے پیغامات کی حفاظت کے لیے نئے طریقے بناتے رہیں گے اور انہیں آمنے سامنے گفتگو کی طرح نجی اور محفوظ رکھیں گے۔

    واٹس ایپ کی جانب سے بھی ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ان فیچرز کی تفصیلات بتائی گئیں۔

    ایک فیچر واٹس ایپ گروپس کو خاموشی سے چھوڑ دینے کا ہے ایسا کرنے پر گروپ ایڈمن کو تو ایک الرٹ سے علم ہوجائے گا مگر باقی اراکین کو اس کا علم نہیں ہوگا یہ فیچر واٹس ایپس کے بڑے گروپس میں زیادہ کارآمد ہوگا جن کے میسجز کی بھرمار سے لوگ پریشان ہوجاتے ہیں۔

    اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    دوسرا فیچر بھی صارفین کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوگا کیونکہ اس سے آپ دیگر کو یہ جاننے سے روک سکتے ہیں کہ آپ آن لائن ہوگئے ہیں اس حوالے سے آپ کو 4 آپشن ایوری ون، مائی کانٹیکٹس، نو باڈی اور My contacts except دستیاب ہوں گے۔

    ابھی جب آپ واٹس ایپ پر آن لائن ہوتے ہیں تو اس کا علم ان سب کو ہوجاتا ہے جو آپ کی پروفائل کو دیکھ سکتے ہیں یہ دونوں فیچرز اسی مہینے کسی وقت صارفین کو دستیاب ہوں گے۔

    تیسرے فیچر میں ایسے میسج کو بھیجا جاتا ہے جو ایک بار دیکھنے کے بعد غائب ہوجاتا ہے، مگر ان میسجز کا اسکرین شاٹ لیا جاسکتا ہے تو اب نئے فیچر سے اسکرین شاٹ کو بلاک کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

  • فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    فرانسیسی سائنسدان نےساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی

    فرانسیسی سائنسدان ایٹین کلین نے ساسیج کے ٹکڑے کو ستارہ قرار دینے پر معافی مانگ لی۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ دنوں فرانسیسی سائنسدان نے ایک تصویر ٹوئٹ کی اور دعویٰ کیا کہ یہ کائنات کے رازوں کو جاننے کے لیے خلا میں بھیجے جانے والی جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے ذریعے لی گئی ایک ستارے کی تصویر ہے۔

    روسی ہائپر سونک ماہرغداری کے شبہ میں گرفتار


    فرانسیسی سائنسدان نے تصویر کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ سورج کے قریب ترین ستارے پراکسیما سینٹوری(Proxima Centauri) کی تصویر ہے جو زمین سے 4.2 نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے،روز بروز ایک نئی دنیا آشکار ہوتی ہے-

    سائنسدان کی جانب سے کی گئی اس ٹوئٹ کو ہزاروں صارفین نے ری ٹوئٹ کیا اور تبصرے کیے-

    ایران جوہری معاہدہ: ویانا میں ایک نئے دور کا آغاز، کچھ رکاوٹوں پر پیشرفت ہو رہی…

    بعد ازاں ایٹین کلین نے ٹوئٹس کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ بظاہر ستارے جیسے دکھنے والی یہ تصویر درحقیقت ایک سیاہ پس منظر میں کافی قریب سے لی گئی ساسیج کے ٹکڑے کی تصویر ہے۔


    انہوں نے کہا کہ یہ ایک مذاق تھا جس پر میں معذرت خواہ ہوں لیکن میرا ساسیج کی تصویر شیئر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ ایسی تصاویر سے محتاط رہیں جو بظاہر خود بولتی ہیں ضروری نہیں جو چیز کسی اتھارٹی کی جانب سے شیئر کی جائے وہ ہمیشہ صحیح ہو ، ایسی تصاویر کو اپنی عقل و شعور سے پرکھنا سیکھیں۔

    واضح رہے کہ ایٹین کلین فرانس کے اٹامک انرجی کمیشن میں ریسرچ ڈائریکٹر اور ریڈیو شو پروڈیوسر بھی ہیں۔

    امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟

  • مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کا مشن خلا میں روانہ

    مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کا مشن خلا میں روانہ

    دنیاکی امیرترین شخصیات میں سے ایک جیف بیزوس کی ملکیتی کمپنی بلیواوریجن نے جمعرات کو چھے افراد پر مشتمل ایک مشن کوخلا میں بھیجا ہے-

    باغی ٹی وی : مشن "این-22” نے امریکی ریاست ٹیکساس کے مغربی صحرا میں بلیواوریجن کے اڈے سے مقامی وقت کےمطابق صبح 8 بج کر 58 منٹ (1358 جی ایم ٹی) کے قریب نیو شیپرڈ ذیلی مدار راکٹ دھماکے کے ساتھ اڑان بھری ہے مشن کا دورانیہ، لانچ سے لینڈنگ تک: 10 منٹ اور 20 سیکنڈ تھا-

    مصری خاتون سمیت چھے افراد پر مشتمل جیف بیزوس کی بلیواوریجن کے مشن نے نیو شیپرڈ ذیلی مدار راکٹ دھماکے کے ساتھ خلا میں اڑان بھری

    خود مختار اوردوبارہ قابل استعمال خلائی گاڑی نے اپنے عملہ کے کیپسول کو کرمان لائن کے اوپربھیجا ہے یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ خلائی سرحد ہے اوریہ سطح سمندر سے 62 میل (100 کلومیٹر) اوپر ہے۔

    امریکا نے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیوں مؤخر کیا؟

    عملہ کے ایک رکن کولائیواسٹریم پر یہ کہتے ہوئے سناجا سکتا تھا کہ میں تیررہا ہوں! پھر کیپسول اپنے بلند ترین مقام پر پہنچ گیا اور مسافروں نے چند منٹ تک بے وزنی کا تجربہ کیا۔

    نیو شیپرڈ بوسٹر، اپنی آٹھویں فلائٹ مکمل کرتے ہوئے،مسافروں نے اڑان بھرنے کے قریباً 11 منٹ بعد مشن مکمل کرلیا۔

    راکٹ اور کیپسول دونوں الگ الگ بیس پر واپس آئےکیپسول کے سوار بہت بڑے پیراشوٹ کا استعمال کرتے ہوئے زمین پراترے اور انہوں نے اڑان بھرنے کے قریباً 11 منٹ بعد مشن مکمل کرلیا۔

    اس کے عملہ میں مصری انجینئرسارہ صبری اور پرتگالی کاروباری شخصیت ماریو فیریرا شامل تھے۔ وہ زمین سے خلامیں جانے والے دونوں ممالک کے اولین افراد ہیں جبکہ یوٹیوب اسپورٹس اور کامیڈی چینل ڈوڈے پرفیکٹ کے پانچ شریک بانیوں میں سے ایک کوبی کاٹن بھی شامل تھےاس چینل کے پانچ کروڑ ستر لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔

    سکول میں حجاب پر پابندی ،اقوام متحدہ کی فرانس پر تنقید

    بلیواوریجن کی ایک خاتون ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ عملہ کے تمام چھ افراد نے اس خلائی سفر کے لیے رقوم ادا کی تھیں۔البتہ سارہ صبری کی نشست کوغیرمنافع بخش تنظیم خلا برائے انسانیت (اسپیس فارہیومینٹی) کی مالی سرپرستی حاصل تھی۔تاہم بلیواوریجن نے اپنے ٹکٹ کی قیمت کا انکشاف نہیں کیا ہے۔

    اس کی ماضی کی پروازوں میں مشہورشخصیات بہ طور مہمان سوار ہوچکی ہیں اور انھوں نے مفت پرواز کا لطف اٹھایا تھا۔ان میں اسٹار ٹریک کے لیجنڈ ولیم شاٹنر بھی شامل ہیں-

    سائرہ صابری نے اپنی پرواز کو سپانسر کرنے والی تنظیم اسپیس فار ہیومینٹی کو بتایا کہ جب ہم بڑے خواب دیکھنے کی ہمت کرتے ہیں، ہم ناممکن سمجھی جانے والی چیزوں کو حاصل کرتے ہیں، ہم حدود کو توڑتے ہیں، تاریخ لکھتے ہیں اور مستقبل کے لیے نئے چیلنجز کا تعین کرتے ہیں ۔

    سائرہ نے مزید کہا کہ میں ناقابل یقین حد تک پرجوش ہوں کہ اسپیس فار ہیومینٹی نے مجھے یہ موقع پیش کیا ہے اور مجھے پہلی بار خلا میں مصر کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہے میرے آباؤ اجداد نے ہمیشہ بڑے خواب دیکھے ہیں اور ناممکن کو حاصل کیا ہے، اور میں اسے واپس لانے کی امید کرتی ہوں۔ ابھی شروعات ہے۔

    ایران جوہری معاہدہ: ایرانی ،یورپی اور امریکی نمائندے ویانا پہنچ گئے

  • جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    جزائر فرسان میں 1400 قبل مسیح کے نایاب نوادرات اور نمونے دریافت

    سعودی عرب: ماہرین نے جزائر فرسان میں آثار قدیمہ کی نئی دریافتوں کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : خبررساں ادارے ” العربیہ” کے مطابق جمعرات کو سعودی محکمہ ورثہ جات نے جازان شہرسے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جزائر فرسان میں آثار قدیمہ کی نئی دریافتیں کی ہیں-

    یہ نوادرات پیرس ون یونیورسٹی کے تعاون سے ایک مشترکہ سعودی اور فرانسیسی سائنسی ٹیم کے تحقیق اور کھدائی کے کام کے دوران ملیں یہ نوادرات سعودی عرب میں ورثے کے تحفظ کے ادارے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کا تسلسل ہے۔

    کھدائی کے نتیجے میں دوسری اور تیسری صدی عیسوی کے متعدد فن تعمیراتی مظاہر،نایاب نوادرات اور نمونے دریافت ہوئے ان نوادرات میں تانبے کے کھوٹ سے بنی تہہ شدہ رومن شیلڈ اور ایک اور قسم کی "لوریکا اسکوماٹا” شامل ہے جو پہلی سے تیسری صدی عیسوی تک رومن دور میں سب سے زیادہ استعمال ہوتی تھی یہ اب تک کی سب سے نایاب ٹکڑوں کی نمائندگی کرتی ہے۔

    ان دریافتوں سے پتہ چلتا ہے کہ جن مقامات سے یہ ملی ہیں وہاں پر 1400 قبل مسیح انسانی آبادی اور تہذیب موجود تھی۔

    العربیہ نے سعودی پریس ایجنسی "ایس پی اے” کے حوالے سے بتایا کہ مشرقی رومن سلطنت "جینوس” کی تاریخ میں ایک مشہور رومن شخصیت کے ایک سُلیمانی نوشتہ کی دریافت کے علاوہ ایک چھوٹے مجسمے کا سربھی ملا۔

    ایک سعودی فرانسیسی ٹیم نے 2005ء میں جزیرہ فرسان پر تحقیقی کام کے لیے کھدائی کا دورہ کیا تھا جس نے 2011 میں جزیرے پر سروے کا کام شروع کرنے کے لیے آثار قدیمہ کی اہمیت کے حامل مقامات کی نشاندہی کی تھی۔ 2011-2020 کی مدت کے دوران کی گئی پچھلی دریافتوں کے نتیجے میں بہت سی تعمیراتی اور آثار قدیمہ کی دریافتیں ہوئیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ مقامات تقریباً 1400 قبل مسیح کے ہیں۔

    فرسان جزائر کے مقامات پر ہونے والے ان کاموں نے بہت سی آثار قدیمہ کی دریافتوں کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کیا، اور اہم مقامات کا انکشاف کیا، جو مملکت کے جنوب میں واقع تاریخی بندرگاہوں کے تہذیبی اور بحیرہ احمر کی تجارت کو کنٹرول کرنے میں ان کی اہمیت اور قدیم میری ٹائم کمرشل ٹرانسپورٹ لائنز کے حوالے سے ماضی میں اہم رہ چکے ہیں۔

    آثار قدیمہ کی یہ دریافتیں جزائر فراسان کی ثقافتی گہرائی، اور مملکت کی اہمیت اور مختلف تہذیبوں کے مرکز کے طور پر اس کے تزویراتی محل وقوع کی بھی تصدیق کرتی ہیں۔

    قبل ازیں آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی تھیں یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی تھی –

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔