Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    اسنیپ چیٹ نے اپنا ویب ورژن جاری کردیا

    سوشل میڈیا ایپلیکیشن اسنیپ چیٹ نے بالآخر اپنا ویب ورژن جاری کردیا ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسنیپ چیٹ نے فی الحال یہ سہولت امریکا، برطانیہ، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے لیے متعارف کروائی ہے جس کے تحت صارفین اب اپنے لیپ ٹاپ پر بھی دوستوں کو پیغامات بھیج سکیں گے، ساتھ ہی تصاویر اور ویڈیو کالز بھی کرسکیں گے۔

    ٹک ٹاک گوگل سرچ انجن کیلئے بھی خطرہ بن گیا

    اس کے علاوہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسنیپ چیٹ ارادہ رکھتا ہے کہ اس ورژن کو پوری دنیا میں متعارف کروانے سے قبل اسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، فرانس اور جرمنی میں بھی لانچ کروایا جائے جلد ہی یہ فیچر پاکستان اور بھارت کے لیے بھی متعارف کرادیا جائے گا۔

    اسنیپ چیٹ کے ویب ورژن کے ذریعے آپ ناصرف پیغامات اور تصاویر بھیج سکیں گے بلکہ ویڈیو کالز بھی کرسکیں گے، اس کے علاوہ آپ کو ڈیسک ٹاپ پر وہ تمام فیچرز میسر ہوں گے جو آپ موبائل پر استعمال کرتے ہیں۔

    فِچ ریٹنگز نے پاکستان کے آؤٹ لک کو مستحکم سے منفی کر دیا

    ایپ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ تمام پروڈکٹس کی طرح ہماری ٹیم نے ویب کے لیے اسنیپ چیٹ پرائیویسی مدنظر رکھتے ہوئے ڈیزائن کی ہے, ہم نے یہ ایک منفرد پرائیویسی اسکرین کے ساتھ لانچ کیا ہے جو کچھ اور کام کرنے پر اسنیپ چیٹ کی وِنڈو کو چُھپا دے گی-

    ویب ورژن کیسے لاگ اِن کریں؟

    اسنیپ چیٹ کے ویب ورژن تک رسائی کے لیے سب سے پہلے ڈیسک ٹاپ پر web.snapchat.com کھولنا ہوگا، اس میں اب اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ ڈالنا ہوگا جس کے بعد موبائل پر تصدیقی پیغام موصول ہوگا ایک بار صارف لاگ ان ہوگیا تو پھر باآسانی تمام فیچر تک رسائی حاصل کرسکے گا۔

    نجومی خاتون بابا وانگا کی 2022 میں کی گئی پیشگوئیوں میں 2 پوری ہو گئیں

    واضح رہے کہ اسنیپ چیٹ نے حال ہی میں اسنیپ چیٹ+ پریمیئم ٹیئر اضافی لیکن مصنوعی فیچرز کے ساتھ جاری کیا تھا ان فیچرز میں ایپ کے نشان کے اسٹائل میں تبدیلی، یہ دیکھنا کہ کس نے اسٹوری دوبارہ دیکھی اور اپنےکسی دوست کو ’بی ایف ایف‘ بنانا اور ان کو اپنی چیٹ ہسٹری میں سب سے اوپر پِن کرنا شامل تھا۔

    سعودی عرب میں امریکی صدر کا استقبال،سرخ کارپٹ کی جگہ بنفشی کارپٹ کیوں بچھائے گئے؟

  • ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود

    ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود

    پرتھ: سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ NWA 7034 المعروف ’بلیک بیوٹی‘ نامی شہابی پتھرمیں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود ہیں-

    باغی ٹی وی : غیرملکی میڈیا کے مطابق نیچر کمیونی کیشنز میں شائع کی گئی رپورٹ کےمطابق محققین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے مریخ کے مطالعے کے لیے بھیجے گئے متعدد مشنز کی جانب سے عکس بند کی گئی مریخی سرزمین کی ہزاروں اعلیٰ ریزولوشن کی حامل تصاویر کا جائزہ لیا۔

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    تحقیق کے دوران محققین کو معلوم ہوا کہ ’بلیک بیوٹی‘ خلاء میں تب نکلا جب 50 لاکھ سے 1 کروڑ سال قبل ایک سیارچہ مریخ سے ٹکرایا اور اس کے نتیجے میں چھ میل چوڑا گڑھا پڑا تھا۔

    320 گرام وزنی ’بلیک بیوٹی‘ 2011 میں مغربی ریگستان صحارا سے دریافت ہوا اور اس کی دریافت کے بعد ایک نئے قسم کے شہابی پتھر کی درجہ بندی شروع ہوئی۔ اس پتھر میں قدیم ترین مریخی معدنیات موجود ہیں جو 4 ارب 48 کروڑ سال قبل وجود میں آئے-

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

    بلیک بیوٹی مریخ کا واحد ٹوٹی چٹان کا نمونہ ہے جو اس وقت دنیا میں موجود ہے اس میں متعدد اقسام کی چٹانوں کے ٹکرے یکجا ہیں یہ خصوصیت اسے دیگر مریخی پتھروں سے ممتاز بناتی ہے جوایک قسم کی چٹان کے ہوتے ہیں۔

    آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف کرٹِن سے تعلق رکھنے والے ماہر اور تحقیق کے مصنف ڈاکٹر اینتھونی لیگین کا کہنا تھا کہ مریخ پر بھیجے گئے ناسا کے مشن کے نمونے واپس دنیا میں لانے سے 10 سال قبل ہم پہلی بار مریخ کے ارضیاتی سیاق و سباق کو اس پتھر کے ٹکڑے کی وجہ سے جانتے ہیں۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

  • ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین تک نامناسب مواد کی رسائی روکنے کیلئے فیچرز متعارف کرادیئے

    ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین تک نامناسب مواد کی رسائی روکنے کیلئے فیچرز متعارف کرادیئے

    مقبول ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک نے کم عمر صارفین تک نامناسب مواد کی رسائی روکنے کے لیے نئے فیچرز متعارف کرائے ہیں۔

    باغی ٹی وی : کمپنی کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق ان میں سے ایک نئے فیچر سے صارفین فیصلہ کرسکتے ہیں کہ ان کے ‘فار یو’ فیڈ میں کیسا مواد نظر آنا چاہیے۔

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

    اس فیچر سے وہ مخصوص الفاظ یا ہیش ٹیگ خودکار طور پر فلٹر ہوجائیں گے جن پر مبنی مواد وہ اپنی فیڈ میں دیکھنا نہیں چاہتے کمپنی کے مطابق اس فیچر کے مختلف ورژنز کی آزمائش گزشتہ سال سے کی جارہی ہے۔

    ایک نئی تبدیلی ‘thematic maturity’ ہے جس کو کمپنی کانٹینٹ لیول فلٹر قرار دیا ہے جس کا مقصد 13 سے 17 سال کی عمر کے صارفین تک بالغ مواد کی رسائی کو بلاک کرنا ہے ہم ہمیشہ ایپ میں سیفٹی سسٹمز کو بہتر کرتے رہتے ہیں تاکہ ہمارے صارفین اپنے پسندیدہ مواد سے لطف اندوز ہوسکیں۔

    بائیڈن کا ایران کوجوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے کیلئے طاقت کا استعمال کرنےکاعندیہ

    بیان کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پلیٹ فارم پر موجود کچھ مواد دیکھنا ہر ایک کے لیے قابل اطمینان نہیں ہوتا اور کانٹینٹ لیول سے نوجوانوں تک ایسے مواد کی رسائی کو روکنا ممکن ہوسکے گا۔

    ٹک ٹاک کا کہنا تھا کہ اس کی جانب سے مزید فلٹرنگ آپشنز کی تیاری کا سلسلہ آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہے گا۔

    سری لنکا: یمرجنسی نفاذ کیخلاف مظاہرین کا پھر وزیراعظم ہاؤس کے باہر احتجاج

    کمپنی کے مطابق ٹک ٹاک کے تجربے کو منفرد بنانے کا ایک حصہ لوگوں کے لیے نئی دلچسپیاں، تخلیق کاروں اور خیالات کو دریافت کرنے کی صلاحیت ہے۔ ہم اپنے تجویز کے نظام کو حفاظت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈیزائن کرتے ہیں-

    کیونکہ کسی کی آپ کے لیے فیڈ میں مواد کسی ایسے تخلیق کار کی طرف سے آ سکتا ہے جس کی وہ پیروی نہیں کرنا پسند کرتے ہیں یا اس دلچسپی سے متعلق ہیں جس کا وہ اشتراک نہیں کر سکتے۔ مثال کے طور پر، مواد کے کچھ زمرے تجویز کے لیے نا اہل ہو سکتے ہیں، اور ناظرین ہماری "دلچسپی نہیں” خصوصیت کا استعمال کر سکتے ہیں تاکہ کسی تخلیق کار کی ویڈیوز کو خود بخود نظر انداز کر سکیں یا وہی آڈیو استعمال کریں۔

  • واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

    واٹس ایپ نے اسٹیٹس سے متعلق دلچسپ فیچر پر کام شروع کر دیا

    میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والی ایپلی کیشن واٹس ایپ بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق ایپ پر اب ’Voice Notes‘ اسٹیٹس پر لگانے کی اجازت بھی ہو گی۔

    اس سے قبل صارفین ویڈیوز اور تصاویر اسٹیٹس پر لگایا کرتے تھے لیکن اب واٹس ایپ ایسا فیچر متعارف کرانے والا ہے جس سے وائس نوٹس بھی اسٹیٹس پر لگانا ممکن ہوگا اسٹیٹس اپ ڈیٹ کے طور پر شیئر کیے گئے وائس نوٹ کو ’وائس اسٹیٹس‘ کہا جا سکتا ہے۔


    ویب بیٹا انفو نے اس فیچر کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے جس میں اسٹیٹس پر وائس نوٹ سپورٹ کی فعالیت واضح کی گئی ہے۔

    ویب بیٹا انفو کے مطابق اسٹیٹس ٹیب کے نیچے موجود نئے آئیکن کے ذریعے اسٹیٹس اپ ڈیٹ پر فوری طور پر وائس نوٹ بھیجا جا سکے گا تاہم وائس نوٹ کے اسٹیٹس پر بھی پرائیویسی ہوگی یعنی اسے صرف وہی لوگ سن سکیں گے جنہیں آپ سنانا چاہیں گے۔

    واٹس ایپ نے فی الحال یہ اعلان نہیں کیا کہ صارفین اس فیچر کو باقاعدہ طور پر کب استعمال کر سکیں گے تاہم اس فیچر پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔

  • سپین اور یونان میں سال 2022  کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    سپین اور یونان میں سال 2022 کے سب سے بڑے "سُپرمون” کے نظارے

    یونانی دارالحکومت ایتھنز کے ساحل پر سال 2022 کا سب سے بڑا ‘سپر مون’ آج طلوع ہوگیا۔

    باغی ٹی وی : چاند کو زمین سے بے حد قریب اورمعمول سے زیادہ روشن دیکھ کر سب حیران رہ گئے، حیران کردینے والے اس منظر میں چاند کو زمین سے قریب اور مختلف رنگ میں دیکھا گیا۔

    جولائی میں طلوع ہونے والے اس ‘سپر مون’ کو کسانوں کی زبان میں BUCK MOON بھی کہا جاتا ہے۔ اس سپر مون کو اسپین کے Canary Islands پر بھی دیکھا گیا ہے۔

    سپر مون اس وقت طلوع ہوتا ہے جب چاند زمین کے مدار سے بہت قریب آتا ہے جس کے باعث وہ عام چاند سے زیادہ روشن اور زیادہ بڑا دکھائی دیتا ہے۔

    سپر مون SuperMoon کیا ہے ؟؟

    چاند بیضوی مدار میں زمین کے گرد چکر لگاتا ہے اس بیضوی مدار میں وہ کبھی زمین کے قریب آجاتا ہے اور کبھی بہت دور چلا جاتا ہے ۔ جب وہ زمین کے قریب ترین مقام پر آجاتا ہے تو اس کو حضیض قمر اور انگریزی میں Perigee کہتے ہیں اور جب وہ زمین سے بعید ترین مقام پر پہنچ جاتا ہے تو اس کو اوج مدار قمر اور انگریزی میں Apogee کہتے ہیں ۔

    اسی وجہ سے بعض دفعہ ہمیں چودھویں کا چاند کافی بڑا اور بعض دفعہ کافی چھوٹا دکھائی دیتا ہے ہر قمری ماہ میں یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں وجہ ظاہر ہے کہ ایک قمری ماہ میں چاند اپنے مدار میں زمین کے قریب بھی آجاتا ہے اور دور بھی چلاجاتا ہے اس بڑے چاند کو Super Moon یا بڑا چاند کہتے ہیں ۔

  • قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    قازقستان کے ایک غار سے 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات دریافت

    قازقستان کے ایک غار سے تقریباً 48 ہزار سال قبل رہنے والے انسان کی باقیات ملی ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق،سائنسدانوں کوقازقستان کے علاقے بیدی بیک ضلع میں بورالدائی پہاڑ پر واقع توتیبولک غار میں 48 ہزار سال پہلے رہنے والے ایک شخص کے آثار ملے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر تعلیم اور ڈاکٹر آف ہسٹوریکل سائنسز زاکن تیماگن کا کہنا ہے کہ ہم قازقستان میں واقع اس غارکو جرمنی کی Tübingen یونیورسٹی کے سائنسدانوں کے ساتھ تلاش کررہے تھے ، جس میں اسپین، امریکا، رومانیہ اور قازقستان کے نمائندے بھی شامل تھے۔

    زاکن تیماگن کا کہنا ہے کہ ہم کافی عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ ہمیں پچھلے سال غار کے اندر سے تاریخی آثار اور راکھ کے باقیات ملے تھے راکھ کی بنیاد پر لیبارٹری نے ثابت کیا کہ یہاں لوگ 48 ہزار سال پہلے رہتے تھے تاہم اور معلومات حاصل کرنے کیلئے ہم ابھی بھی مزید کھدائی کر رہے ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق 2017 میں شروع ہونے والی کھدائی کے نتیجے میں محقیقن کو غار میں مختلف اشیاء، جیسے ریچھ، انسانی دانت اور ایک بنیادی پتھر ملا اس کے علاوہ ہزاروں سالوں سے زمین میں پڑی راکھ کی باقیات بھی شامل ہیں۔

    یہ علاقہ پچھلی صدی کے وسط میں دریافت ہوا تھا، لیکن کھدائی صرف 2017 میں شروع ہوئی۔ سائنسدانوں نے پہلے صرف ثقافتی تہوں میں کھدائی کی لیکن جلد ہی دیگر اوزاروں کے علاوہ پتھر کی پلیٹیں اور کھرچنے والے جیسے اہم نمونے بھی ملے۔ ان نتائج کو جانچ کے لیے جرمنی بھیجا گیا جس سے معلوم ہوا کہ یہ 48 ہزار سال پرانے ہیں۔

    جرمن ماہر آثار قدیمہ نے غاروں کی اہمیت کو نوٹ کیا کیونکہ سائنس دان اس علاقے میں پائے جانے والے لوگوں اور جانوروں کی نامیاتی باقیات کو نمونے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ اس بات کی وضاحت کی جا سکے کہ وہاں انسانی نسلیں رہتی تھیں۔

    محققین کے مطابق توتیبولک قازقستان کا پہلا غار ہے جہاں اس قسم کے آثار ملے ۔ محقیقین ان کی عمر اور مخصوص دور کا تعین کرنے کے لیے تقریباً ایک سال تک نمونوں کا مزید مطالعہ کریں گے۔

  • کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا کہ کسی اجرامِ فلکی کا قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : منتھلی نوٹس آف دی رائل آسٹرونومیکل سوسائیٹی میں شائع ہونے والی تحقیق میں سائنس دانوں نے بتایا ہے کہ اگر کوئی خلائی شے کسی سیارے کے قریب سے گزرتی ہےجو کہ کائنات میں ہونے والی ایک عام بات ہے تو یہ دیگر سیاروں کے آپس میں ٹکرانے کے لیے کافی ہے۔

    نظامِ شمسی کے قریب زمین جیسے دو چٹانی سیارے دریافت

    اگر عطارد اور مشتری کے پیری ہیلین(ایسا نقطہ جہاں سیارے سورج سے سب سے زیادہ قریب پہنچ جاتے ہیں) ایک جگہ آجائیں تو دو وقوعات کے امکانات ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ عطارد اپنے مدار سے باہر ہو جائے اور نظامِ شمسی سے باہر نکل جائے یا سیارہ زہرہ، زمین یا سورج سے اس کا تصادم ہوجائے۔

    یہ تبدیلیاں لاکھوں سالوں کے عرصے پر محیط ہوں گی لیکن محققین نے اس صورتحال کی تقریباً 3000 بار نقول بنائیں تقریباً 2000 نقول میں 26 کا اختتام سیاروں کے آپس میں تصادم سے ہوا یا عطارد،یورینس یا نیپچون مکمل طور پر نظامِ شمسی سے باہر نکل گئے۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    یونیورسٹی آف ٹورونٹو کے ڈیپارٹمنٹ آف فزیکل اینڈ اِنوائرنمنٹ سائنسز کے گریجویٹ طالب علم گیریٹ براؤن نے بتایا کہ سیاروی نظام کی ارتقاء میں ستاروں کا گزر ابھی بھی تحقیق کا ایک فعال شعبہ ہے۔ سیاروی نظام جو ستاروں کے جتھے میں بنتے ہیں، اس بات پر اتفاق ہے کہ ستاروں کا گزر ایک اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ سیاروی نظام ان ستاروں کے جتھے میں باقی رہتے ہیں ایسا سیاروی ارتقاء کے شروع کے 10 کروڑ سالوں میں ہوتا ہے۔ ستاروں کے جتھوں کے زائل ہونے کے بعد ستاروں کے قریب سے گزرنے کے واقعات میں ڈرامائی کمی آتی ہے جس سے ان کا سیاروی نظاموں کی ارتقاء میں کردار کم ہوجاتا ہے۔

    29 مئی کو نظام شمسی کے دو بڑے سیارے ایک ساتھ آسمان پر نمودار ہوں گے

  • برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    برازیل میں ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی کا نیا ریکارڈ

    برازیل میں ایمازون جنگلات کی کٹائی ریکارڈ بلندی کو چھو چکی ہے۔

    باغی ٹی وی: بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق گرین پِیس نامی ماحولیاتی ادارے کے مطابق اس سال جنوری سے جون کے درمیان برازیل میں موجود ایمازون جنگلات کا 3988 مربع کلومیٹر کا رقبہ صاف کر دیا گیا۔

    مذکورہ رقبے میں پانچ نیو یارک شہر سمائے جا سکتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کی یہ شرح برازیلی ایمازون میں کسی بھی سال کے شروع کے چھ ماہ میں سب سے زیادہ ہے۔

    جنگلات کی کٹائی ایک ایسا عمل ہے جس میں مستقبل طور پر درختوں کو کاٹ دیا جاتا ہے جو عموماً فصلیں اُگانے اور مویشیوں کو چَرانے کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ انسان کی غذا کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے۔

    جنگلات کی حفاظت کے لیے کام کرنے والوں کے مطابق جنگلات کی کٹائی کے عمل میں درختوں اور پودوں کو کاٹا یا جلایا جاتا ہے، جس سے جنگلی حیات کے ماحول کو نقصان اور حیاتیاتی تنو کو ضرر پہنچتا ہے۔

    جنگلات کی کٹائی کے متعلق یہ نیا ڈیٹا برازیل کے قومی ادارہ برائے خلائی تحقیق نے شائع کیا ہے۔

    گرین پِیس نے ایک بیان میں جاری ہونے والے ڈیٹا پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑا برساتی جنگل ایمازون، جو دنیا کے پھیپھڑوں کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، جلد ہی تباہی کی در پر لے جایا جاسکتا ہے۔

    دوسری جانب دی گارجئین کے مطابق 2022 کی پہلی ششماہی کے دوران ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی نے ایک نیا ریکارڈ بنایا، برازیل کی خلائی ایجنسی نے جمعہ کو رپورٹ کیا، اس خدشات کو گہرا کرتے ہوئے کہ سیارے کی صحت کے تحفظ میں وسیع بارشی جنگلات کے اہم کردار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔

    سیٹلائٹ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ 3,980 مربع کلومیٹر سے زیادہ کا رقبہ نیویارک شہر کے حجم سے پانچ گنا زیادہ ہے، اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں جنگلات کی کٹائی ہوئی، جو کہ کم از کم 2016 تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ایجنسی کے اعداد و شمار نے بھی آخری بار آگ کی سرگرمی کی نشاندہی کی-

    دنیا کا سب سے بڑا برساتی جنگل سیارے کے سب سے اہم "کاربن ڈوب” میں سے ایک ہے، جو ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بہت زیادہ مقدار کو جذب کرتا ہے اور اسے اپنی پودوں میں محفوظ کرتا ہے۔ فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہٹا کر، ایمیزون تمام کاربن کے اخراج کے لیے ایک طاقتور انسداد توازن کا کام کرتا ہے اور گلوبل وارمنگ کی رفتار کو سست کرتا ہے۔

    ایمیزون علاقائی موسمی نمونوں کو منظم کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے درخت اپنے تنوں، پتوں اور پھولوں کے ذریعے ایک عمل کے ذریعے فضا میں پانی خارج کرتے ہیں جسے ٹرانسپائریشن کہتے ہیں۔ چھوڑا ہوا پانی آسمان میں وسیع ندیاں اور بارش کے بادلوں کی تشکیل کر سکتا ہے، جو مقامی طور پر اور شاید میکسیکو اور امریکہ تک بارش کو متاثر کر سکتا ہے۔

    لیکن حالیہ دہائیوں میں جنگل خطرے میں آ گیا ہے کیونکہ زمین صاف کر دی گئی ہے اور بڑے پیمانے پر مویشی پالنے اور کھیتی باڑی کے لیے تبدیل کر دی گئی ہے۔ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران، ایمیزون نے اپنے جنگلات کا تقریباً 17 فیصد کھو دیا ہے۔

    کچھ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ایمیزون ایک دہائی کے اندر اپنے 20 فیصد سے 25 فیصد جنگلات کو کھو سکتا ہے، جو ماحولیاتی نظام کو ناقابل تلافی طور پر تبدیل کر سکتا ہے برساتی جنگلات کو تباہ شدہ کھلے سوانا میں تبدیل کر دیا جائے گا، جو حیاتیاتی تنوع کو خطرے میں ڈالے گا، علاقائی موسمی نمونوں کو تبدیل کرے گا اور موسمیاتی تبدیلیوں میں تیزی آئے گی۔

    ایڈووکیسی نیٹ ورک کلائمیٹ آبزرویٹری کے ایگزیکٹیو سکریٹری مارسیو آسٹرینی نے کہا کہ "ہم سائنس دانوں کی طرف سے پیش گوئی کی گئی ٹپنگ پوائنٹ رینج میں داخل ہو رہے ہیں۔” "اب ایمیزون میں جنگلات کی کٹائی کی ہر اضافی تعداد ہمیں اس ناقابل واپسی منظر نامے میں مزید گہرائی میں دھکیل د ے گی-

    گرین پیس برازیل کے ترجمان رومولو باتسٹا نے کہا کہ 2022 میں اب تک کی بڑھتی ہوئی وارداتیں تشویشناک ہیں کیونکہ جنگلات کی کٹائی نئے علاقوں سے تجاوز کر رہی ہے۔ برازیل کی ریاست ایمیزوناس میں جنگلات کی کٹائی نے 1,230 مربع کلومیٹر سے زیادہ کا رقبہ بڑھایا اور صاف کیا ہے، جو خطے کے لیے چھ سال کی بلند ترین سطح ہے۔ پارا اور ماتو گروسو کی ریاستوں نے بالترتیب 1,105 مربع کلومیٹر اور 845 مربع کلومیٹر تک کا صفایا کیا-

    "خاص طور پر اس بارے میں کہ کس طرح جنگلات کی کٹائی میں اضافہ جنوبی ایمیزون میں ایک نئے محاذ پر مرکوز ہے،” بٹسٹا نے ایک نیوز ریلیز میں کہا۔

    گزشتہ تین دہائیوں میں جنگلات کی کٹائی کی شرح میں اتار چڑھاؤ آیا ہے، بشمول 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں بلند شرحوں پر۔ اس کے جواب میں، برازیل کی حکومت نے جارحانہ انداز میں ایمیزون کے تحفظ کی کوشش کی، ماحولیاتی نافذ کرنے والے اداروں کو تقویت دی اور جنگلات کی کٹائی سے غیر قانونی طور پر تیار کردہ سامان کی برآمد کی حوصلہ شکنی کی۔ کوششیں رنگ لے آئیں۔ 2004 سے 2012 تک جنگلات کی کٹائی کی رفتار میں 80 فیصد کمی آئی۔

    لیکن برازیل کے صدر جیر بولسونارو کی قیادت میں گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں جنگلات کی کٹائی میں اضافہ ہوا ہے، جنہوں نے کان کنی اور کھیتی باڑی کو سپورٹ کرنے کے لیے پالیسیاں بنائی ہیں اور ماحولیاتی تحفظات کو بے نقاب کیا ہے۔

    بولسونارو کے تحت جنگلات کی کٹائی کی شرح گزشتہ دہائی کی اوسط سے دوگنی ہے۔ اس لیے وہ بہت پریشان کن ہیں،‘‘ آسٹرینی نے کہا۔ انہوں نے کہا کہ بولسونارو سے پہلے، 2012 سے 2018 تک ہر سال جنگلات کی کٹائی میں اوسطاً 6,500 مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوا۔ بولسونارو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد، شرحیں 13,000 مربع کلومیٹر سالانہ تک تھیں۔

    "واضح طور پر، جنگلات کی کٹائی سے لڑنا وفاقی حکومت کی ترجیح نہیں ہے،” ایمیزون انوائرنمنٹل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں سائنس کے ڈائریکٹر این ایلینکر نے کہا۔ ایسا لگتا ہے کہ ترجیح انتخابات ہیں۔

    ایک بیان میں، برازیل کی وزارتِ ماحولیات نے اپنے ریکارڈ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے اہم خطوں میں "ماحولیاتی جرائم سے لڑنے کے لیے حکومت انتہائی مضبوط رہی ہے”۔ اس نے جنگلات کی کٹائی میں حالیہ اضافے پر توجہ نہیں دی۔ بولسونارو ماضی میں جنگلات کی کٹائی کی تعداد سے متفق نہیں تھے۔ انہوں نے فروری میں کہا کہ "اس خطے کے بارے میں معلومات برازیل سے باہر انتہائی مسخ شدہ طریقے سے جاتی ہیں۔”

    برازیل میں ووٹرز نئے صدر اور نیشنل کانگریس کے انتخاب کے لیے اکتوبر میں اجلاس کریں گے۔ ایلینکر نے کہا کہ انتخابی سالوں کے دوران جنگلات کی کٹائی بدتر ہو سکتی ہے کیونکہ لوگ سزا سے ڈرتے نہیں ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران امیدوار جرمانے لگانے اور انسپکشن کو ڈھیل دینے کی طرف کم مائل ہو سکتے ہیں۔

    ایمیزون کے جنگلات کی مسلسل کٹائی بولسونارو کے 2030 تک جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کو ختم کرنے اور 2050 تک برازیل کو کاربن غیر جانبدار بنانے کے وعدے کے باوجود سامنے آئی ہے۔ آسٹرینی نے کہا کہ اگلی دہائی کے اندر جنگلات کی کٹائی کا خاتمہ ممکن ہے۔ مثال کے طور پر، پہلے سے صاف کی گئی زمین پر زرعی پیداوار کو دوگنا کیا جا سکتا ہے، اور کچھ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سی موجودہ چراگاہوں کی زمینیں حمایت سے زیادہ مویشی چرانے کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

    "ہم جانتے ہیں کہ یہ علاقے کہاں ہیں، کیا کرنے کی ضرورت ہے، جنگلات کی کٹائی کہاں ہوتی ہے اور ہم جنگلات کی کٹائی سے بچنے کے لیے پالیسیوں کو کیسے نافذ کر سکتے ہیں،” آسٹرینی نے کہا۔ لیکن وہ، الینکر اور بہت سے دوسرے لوگوں کو شک ہے کہ ایسی کارروائی موجودہ قیادت میں ہو گی۔

    "اگر ہمارے پاس بولسونارو انتظامیہ کے مزید چار سال باقی ہیں، تو یہ ایک ایسی حکومت ہوگی جو ہمیں جنگل کے خاتمے کی طرف لے جائے گی،” آسٹرینی نے کہا۔ "میں یہ کھل کر کہتا ہوں، اکتوبر کے انتخابات میں، برازیلیوں کو انتخاب کرنا ہوگا، بولسونارو یا جنگل۔ دونوں، اگلے چار سالوں تک، موجود نہیں رہیں گے۔ صرف ایک ہی زندہ رہے گا۔”

    تاہم، انتخابات تک، یونیورسٹی آف ساؤ پالو انسٹی ٹیوٹ فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز کے کارلوس نوبرے نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی کی شرح میں اضافہ جاری رہ سکتا ہے، اس بات پر منحصر ہے کہ لوگ کیسے سوچتے ہیں کہ انتخابات کیسے ہو سکتے ہیں۔ اگر وہ سوچتے ہیں کہ بولسنارو "دوبارہ منتخب نہیں ہوں گے، تو وہ واقعی زیادہ سے زیادہ زمین پر قبضے کی کوشش کر سکتے ہیں، صرف اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اگلا صدر” جنوری میں شروع ہونے والے قانون کے نفاذ کے بارے میں بہت سخت ہوگا، نوبرے نے کہا۔

  • زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    زمینی میملز کی نصف سے زائد انواع میں پلاسٹک ذرات کے آثار

    لندن: سمندری جانداروں اور انسانوں کے بعد اب زمینی چھوٹے میملز کی نصف سے زائد انواع میں اب پلاسٹک کے آثار پائے گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق برطانوی ماہرین نے مختلف مقامات پر مختلف غذائیں کھانے والے ممالیوں کا جائزہ لیا اور ان کی نصف سے زائد تعداد میں پلاسٹک کے ذرات ملے ہیں جو ان کے فضلے میں بھی خارج ہو رہے تھے۔

    تحقیق سے وابستہ پروفیسر فیونا میتھیوز نے جامعہ سسیکس کے شعبہ ماحولیات کے تحت یہ اہم مطالعہ کیا ہے جس کے مطابق جنگلی حیات کے فضلے سے معلوم ہوا ہے کہ پلاسٹک ایسے مقامات تک بھی پہنچ چکا ہے جو انسانوں سے دور ہے جنگلوں میں موجود چھوٹے ممالیے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

    برطانیہ میں سات مقامات سے چھوٹے ممالیوں کے فضلے کے کل 261 نمونے لیے گئے اور انفراریڈ مائیکرو اسکوپی سے ان کا جائزہ لیا گیا اس طرح سات میں سے چار انواع میں پالیمر طرز کا پلاسٹک موجود تھا ان میں یورپی خارپشت، کئی اقسام کے چوہے اور دیگر جاندار شامل تھے۔

    دوسرے مطالعے میں شہری علاقوں کے پاس رہنے والے جانوروں میں مائیکروپلاسٹک کی غیرمعمولی مقدار دیکھی گئی خواہ وہ سبزہ خور، ہمہ خور تھے یا صرف گوشت خور ممالیے تھے۔

    ماہرین نے اس رحجان پر تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ یورپی خارپشت کی تعداد برطانیہ میں تیزی سے کم ہورہی ہے تاہم پلاسٹک سے جانوروں میں کمی کے تعلق پر مزید تحقیق اور ثبوت جمع کرنا باقی ہیں جاندار پلاسٹک کھارہے ہیں اور پرندے پلاسٹک سے اپنے گھونسلے بنارہے ہیں۔

  • سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری فعال

    سوئٹزرلینڈ میں 4 لاکھ برقی گاڑیوں کی بیٹری کے برابر بجلی ذخیرہ کرنے والی آبی بیٹری کو فعال کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : دو ارب یورو کا یہ منصوبہ سوئس پہاڑی علاقے کی سطح زمین سے 600 میٹر گہرائی میں بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے پر 14 سالوں سے کام جاری تھا۔

    ایک ہفتہ قبل جرائم کی پیش گوئی کرنیوالے مصنوعی ذہانت کے الگورتھم کا کامیاب تجربہ

    ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ نینٹ ڈی ڈرانس کی جانب سے جاری کی جانےو الی ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ نئی قابلِ تجدید توانائیوں کے ذرائع کے استعمال میں اضافہ ہوا جن کی پیداوار ناہموار ہوتی ہے، اس اتار چڑھاؤ کے لیے اِزالے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور کھپت میں توازن مستقل طور قائم کیا جاسکے۔

    اس بیٹری کی 2 کروڑ کلو واٹ آور کی گنجائش اس بات کو ممکن بنائے گی کہ قابلِ تجدید ذرائع سے بننے والی اضافی توانائی کو مستقبل کے لیے ذخیرہ کیا جاسکے۔ لہذا یہ برقی گرڈ کے استحکام اور روایتی ایندھن پر انحصار کو کم کرنے میں مدد دے گی۔

    اپنے موبائل کو سائبر حملوں سے کیسے بچا سکتے ہیں؟

    یہ ہائیڈرو بیٹری اضافی توانائی کو استعمال کرتے ہوئے دو مختلف بلندیوں پر بنے دو مختلف ذخائر تک پانی پمپ کر کے کام کرتی ہے۔جب اضافہ بجلی بنتی ہے تو6 پمپ ٹربائنس نچلے حوض سے اوپر موجود حوض میں پانی بھیجتے ہیں ڈھائی کروڑ مکعب میٹر کی گنجائش رکھنے والی اس آبی بیٹری کی توانائی کا اخراج اتنا ہے کہ 9 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔

    واٹس ایپ نے ڈیسک ٹاپ ورژن کی بہتری کیلئے کام شروع کر دیا