Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • چیٹ جی پی ٹی نقل مارنے والوں کا سہولت کار  بن گیا

    چیٹ جی پی ٹی نقل مارنے والوں کا سہولت کار بن گیا

    امریکی یونیورسٹی کے محققوں کی تحقیق سے بڑا انکشاف، دنیا بھر میں محقق اور طلبہ و طالبات اپنے مقالہ جات اور امتحانی پیپروں کی تیاری میں chatgpt اور مصنوعی ذہانت کے دیگر سافٹ وئیرز سے بہت زیادہ مدد لینے لگے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں بڑا انکشاف ہوا ہے بتایا گیا کہ پروف ریڈنگ تک تو معاملہ ٹھیک تھا مگر اب مقالوں کا بیشتر حصہ اے آئی تیار کرنے لگی۔اس ابھرتے چلن کا اہم ترین منفی روپ یہ کہ نیٹ پر موجود جھوٹا، پست ، غیر معیاری، جعلی اور شر انگیز مواد بھی مقالات اور امتحانی تیاری کا حصہ بننے لگا۔اس لیے سائنس وٹیکنالوجی کی دنیا میں سامنے آتے تحقیقی مقالوں میں غیر مستند مواد کثیر تعداد میں شامل ہو چکا۔سائنس دانوں نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کر دیا کہ chatgpt وغیرہ کی مدد سے تیارکردہ مقالہ جات مستند اور ٹھوس نہیں کہلائے جا سکتے۔

    یہ عیاں ہے کہ chatgpt اور دیگر اے آئی پروگرام دنیا میں نقل مارنے والوں کے لیے سہولت کار بن چکے۔ان کی وجہ سے محققوں اور طلبہ وطالبات میں محنت و تحقیق کرنے کے بجائے نقل کرنے کا چلن بڑھے گا۔ان کی ذہنی وجسمانی صلاحیتیں کند ہوں گی اور کاہلی و تن آسانی غالب آئے گی۔ یہ بنی انسان کے مستقبل کے لیے اچھی خبر نہیں۔

    لاہور میں سرعام شہری پر تشدد کرنے والے ملزمان گرفتار

    پیوٹن کا روس یوکرین جنگ بندی پر اتفاق

    ٹرمپ ٹاور کے لابی ایریا پر مظاہرین کا قبضہ، محمود خلیل کی رہائی کا مطالبہ

    لاہور کی سڑک پر نقاب پوش گن مینوں کا شہری پر تشدد، ویڈیو وائرل

    سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں پر لاگو پی ٹی آئی دور کا قانون تبدیل

  • پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام

    پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام

    پاکستانی ایٹمی قوت کے بانی: ڈاکٹر عبدالسلام
    تحریر: ریحانہ صبغتہ اللہ
    ڈاکٹر عبدالسلام 29 جنوری 1926ء کو موضع سنتوک داس، ضلع ساہیوال میں پیدا ہوئے۔
    ابتدائی تعلیم جھنگ سے حاصل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم ایس سی میں ٹاپ کیا اور کیمبرج یونیورسٹی سے اسکالرشپ پر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے، جہاں انہوں نے نظری طبیعیات میں پی ایچ ڈی کی۔
    1951ء میں ڈاکٹر عبدالسلام وطن واپس آئے اور گورنمنٹ کالج لاہور اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دینے لگے۔ 1954ء میں وہ انگلستان چلے گئے اور وہاں بھی تدریس سے منسلک رہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور متعدد ملکی و غیر ملکی کالج و یونیورسٹیز میں تدریس کا سلسلہ جاری رہا، جن میں امپیریل کالج لندن، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور، سینٹ جونز کالج، بین الاقوامی مرکز برائے نظریاتی طبیعیات، جامعہ شکاگو، جامعہ کیمبرج، جامعہ کولمبیا، جامعہ کراچی، یونیورسٹی آف ہیوسٹن، اور جامعہ پنجاب شامل ہیں۔

    1964ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے اٹلی کے شہر ٹریسٹ میں انٹرنیشنل سینٹر برائے طبیعیات کی بنیاد رکھی۔
    ڈاکٹر عبدالسلام نے علم طبیعیات کے میدان میں ایک نظریہ پیش کیا جو اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ اسے نصاب میں شامل کیا گیا۔ ان کا نظریہ الیکٹرو ویک تھیوری کہلاتا ہے، جسے بعد میں "ڈاکٹر عبدالسلام-وینبرگ تھیوری” کہا گیا۔ اس نظریے کی جدید شکل کو آج سٹینڈرڈ ماڈل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ سٹیون وینبرگ، جو ایک امریکی سائنس دان تھے، نے 1979ء میں اس نظریے پر ڈاکٹر عبدالسلام اور شیلڈن لی گلاشو کے ساتھ نوبل انعام برائے طبیعیات حاصل کیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نوبل انعام حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی تھے۔
    1970ء سے 1986ء تک وہ پاکستان کی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سائنسی مشیر رہے۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کے سائنسی ڈھانچے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان میں نظریاتی اور ذراتی طبیعیات کے متعدد ترقیاتی منصوبوں میں حصہ لیا۔ ان میں ایک اہم کام بنیادی ذرات کی دریافت تھی جو اس وقت تک دیکھے نہیں گئے تھے۔ یہ ذرات پندرہ سال بعد یورپی ادارہ برائے ایٹمی تحقیق میں دریافت کیے گئے۔
    ڈاکٹر عبدالسلام سپارکو
    (Space and Upper Atmosphere Research Commission)
    کے بانی ڈائریکٹر اور نظریاتی گروپ کے قیام کے ذمہ دار تھے، اسی لیے انہیں اس پروگرام کا "سائنسی باپ” کہا جاتا ہے۔

    ڈاکٹر عبدالسلام کی مزید کامیابیوں میں ڈاکٹر عبدالسلام ماڈل، مقناطیسی فوٹون، ویکٹر میسن، گرینڈ یونیفائیڈ تھیوری، سپر سمیٹری پر کام، اور سب سے اہم الیکٹرو ویک تھیوری شامل ہیں، جس پر انہیں نوبل انعام دیا گیا۔ انہوں نے کوانٹم فیلڈ تھیوری اور امپیریل کالج لندن میں ریاضی کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور اپنے شاگرد ریاض الدین کے ساتھ مل کر نیوٹرینوز، نیوٹرون، ستاروں، اور بلیک ہولز کے جدید نظریات پر شراکتیں کیں۔

    ڈاکٹر عبدالسلام کا دعویٰ تھا کہ کائنات میں موجود چار بنیادی قوتوں میں سے دو، یعنی ویک فورس (کمزور نیوکلیائی طاقت) اور الیکٹرو میگنٹزم (برقی مقناطیسیت)، بنیادی طور پر ایک ہی قوت کی دو شکلیں ہیں۔ انہوں نے ان دونوں قوتوں کو متحد کیا اور اسے "الیکٹرو ویک فورس” کا نام دیا۔

    ڈاکٹر عبدالسلام نے نظری طبیعیات کے میدان میں 300 سے زائد مقالات تحریر کیے، جن میں سے چند کتابی مجموعوں کی صورت میں شائع ہوئے۔ وہ تیسری دنیا کے ممالک میں سائنس کی ترقی کے لیے وکالت کرتے رہے۔

    ڈاکٹر عبدالسلام مختصر علالت کے بعد 21 نومبر 1996ء کو لندن میں انتقال کر گئے۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔
    21 نومبر 2024ء کو ڈاکٹر عبدالسلام کو ہم سے بچھڑے 28 برس بیت گئے، لیکن وہ اپنے کام اور نام کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہیں گے، ان شاء اللہ۔

  • روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    روس نےکینسر ویکسین بنالی، شہریوں کو مفت دینےکا اعلان

    باغی ٹی وی (ویب ڈیسک)روس نے کینسر کی ویکسین تیار کرلی ہے اور اسے مفت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ روسی وزارت صحت کے مطابق یہ ویکسین کینسر ہونے سے روک نہیں سکتی لیکن اس کے علاج میں مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

    یہ ویکسین mRNA ٹیکنالوجی پر مبنی ہے اور 2025 کے اوائل میں لانچ کی جائے گی۔ روسی حکومت اس کی ایک ڈوز پر 2 ہزار 869 ڈالر خرچ کرے گی لیکن اسے روس کے کینسر مریضوں میں بلا معاوضہ تقسیم کیا جائے گا۔

    ویکسین ہر مریض کو اس کے کینسر کی نوعیت کے مطابق دی جائے گی۔ تاہم، تاحال یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ویکسین کس قسم کے کینسر کے لیے زیادہ مؤثر ہے اور کس حد تک علاج میں معاون ہوگی۔

    روسی وزارت صحت کے ریڈیولوجی میڈیکل ریسرچ سینٹر کے سربراہ آندرے کپرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں روس میں کینسر کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2022 میں 6 لاکھ 35 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ کیے گئے، جن میں بڑی آنت، چھاتی اور پھیپھڑوں کا کینسر سب سے عام ہیں۔

    یہ ویکسین جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتی ہے اور ٹیومر سے متاثرہ حصوں کو کینسر سے لڑنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ روسی عوام کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے جو ان کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

  • وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این ، ایک ایسا ٹول ہے جو انٹرنیٹ پر پرائیویسی اور سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کنکشن کو انکرپٹ کرتا ہے اور اصل آئی پی ایڈریس کو چھپاتا ہے تاکہ آن لائن سرگرمیوں کا پتہ نہ چل سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب دہشت گردوں نے بھی وی پی این کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تو وہیں بھارت میں ایئر لائن کو دھمکیاں دینے والے بھی وی پی این کا ہی استعمال کر رہے ہیں تا کہ ان ملزمان تک نہ پہنچا جا سکے،

    پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پابندی لگی ،کچھ ماہ سے ایکس بغیر وی پی این کے نہیں چل رہی، اب وی پی این کے حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اعلامیہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی ہے، آنے والے دنوں میں غیر قانونی وی پی این بند ہو جائیں گے اور یوں ایکس تک رسائی ممکن نہیں ہو گی،

    پاکستان میں غیر اخلاقی، فحش ویب سائٹس پی ٹی اے نے بلاک کر رکھی ہیں، بہت سے افراد وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے بھی کرتے ہیں۔ جب ایک وی پی این کے ذریعے کنکشن کرتے ہیں تو ویب سائٹس اصل مقام اور شناخت نہیں جان پاتیں، اور بغیر کسی رکاوٹ کے فحش مواد دیکھا جاتا ہے، وزارت مذہبی امور نے بھی اس ضمن میں پی ٹی اے کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ فحش مواد تک پاکستانیوں کی رسائی روکی جائے،

    وی پی این ایک انکرپٹڈ کنکشن فراہم کرتا ہے، لیکن اگر وی پی این کا فراہم کنندہ قابل اعتبار نہیں ہے یا اس کی سروس میں کمی ہے، تو ڈیٹا کی حفاظت میں کمی آ سکتی ہے۔ کچھ وی پی این سروسز ڈیٹا کو لاگ کر سکتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ آن لائن سرگرمیاں ٹریک کی جا سکتی ہیں، خصوصاً جب فحش مواد جیسے حساس مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔غیر محفوظ وی پی این سروسز کے ذریعے انٹرنیٹ پر گھومنامالویئر اور وائرس کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بعض اوقات وی پی این فراہم کنندہ ڈیوائس پر مالویئر انسٹال کر سکتا ہے یا غیر محفوظ سرور کے ذریعے ڈیٹا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اگرچہ وی پی این پرائیویسی کو بڑھاتا ہے، لیکن فحش مواد تک رسائی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اس کا استعمال قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ کئی ممالک میں فحش مواد کی پابندیاں سخت ہیں، اور وی پی این کا استعمال ایسی مواد کو دیکھنے کے لیے قانون کے تحت مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔

    وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے ایک اور مسئلہ پیدا کرتا ہے، اخلاقی اور معاشرتی اثرات، فحش مواد کو آن لائن دیکھنا کچھ افراد کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فحش مواد کی زیادہ مقدار افراد کے ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اور یہ بھی ایک نشے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔وی پی این کے ذریعے فحش مواد تک رسائی اس قسم کے مواد کو دیکھنے کی آزادی دیتی ہے، لیکن ذہنی اور جسمانی صحت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فحش مواد کا زیادہ استعمال نفسیاتی مسائل، جیسے کہ جنسی تشویشات، تعلقات میں مشکلات، اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ فحش مواد کا بار بار دیکھنا انٹرنیٹ کی لت میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو روزمرہ زندگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

    اگر وی پی این کا استعمال کرتے ہیں، تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ منتخب کردہ وی پی این سروس کا فراہم کنندہ قابل اعتماد ہو اور اس کی سیکیورٹی پالیسیز مضبوط ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کو محفوظ رکھیں، وی پی این کے استعمال سے پہلے ان تمام خطرات اور اخلاقی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔اگر انٹرنیٹ کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو وی پی این کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے۔

  • مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    مستقبل کی پیش گوئی ممکن ہے، سائنس کا دعویٰ

    اٹھارہویں صدی عیسوی کے ریزبائیرین وزیر اور شوقیہ ریاضی دان کی بظاہر سادہ سی مساوات آج بھی موسم سے مستقبل تک بیشتر معاملات میں پیش گوئی کے حوالے سے ہماری معاونت کر رہی ہے۔

    باغی ٹی وی: ایوارڈ یافتہ سائنس رائٹر ٹام شِورز کی کتاب ’ایوری تھنگ اِز پرڈیکٹیبل‘ ہمیں اس سادہ مساوات کے بارے میں حیرت انگیز باتیں بتاتی ہے یہ کتاب رواں سال رائل سوسائٹی تریویدی سائنس بک پرائز کے لیے بھی تجویز کی گئی ہے اس کتاب میں اچھی طرح سمجھایا گیا ہے کہ کس طور مستقبل کے بارے میں پیش گوئی ممکن ہے۔

    ہم فطرت کے بارے میں بہت سے معاملات کی پیش گوئی حساب کتاب کی بنیاد پر کرسکتے ہیں مثلاً یہ کہ سورج کتنے بجے طلوع ہوگا، سورج یا چاند کو گرہن کب لگے گا بالکل اِسی طور ہم دستیاب معلومات کی بنیاد پر کسی بھی واقعے کی قابلِ رشک حد تک درست پیش گوئی کرسکتے ہیں۔

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم ووٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان

    ہم دستیاب اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ صدی کے وسط تک دنیا کی آبادی بڑھتی رہے گی اور یہ کہ کب گرنا شروع کرے گی ہم عالمی درجہ حرارت کے بارے میں بھی پیش گوئی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں ہم مستقبل میں جھانک سکتے ہیں مستقبل میں بہت کچھ ایسا ہے جو ہم پورے یقین کے ساتھ نہیں بتاسکتے تاہم کچھ نہ کچھ ایسا بھی ہے جس کے بارے میں پورے یقین کے ساتھ درست پیش گوئی کی جاسکتی ہے۔

    امریکا کا بھارتی وزیر خارجہ اور پاکستانی رہنماؤں کی ملاقات پر ردعمل

    کائنات کے دور افتادہ حصوں کے بارے میں ہزاروں سال کی پیش گوئی کی جاسکتی ہے موسم کے بارے میں چند دن بعد کی بات بھی پوری درستی کے ساتھ نہیں کی جاسکتی، بہت سی باتیں ایسی ہیں جو ہم کسی بھی سطح کی بصیرت کے بجائے دستیاب معلومات یا ماضی کے تجربے کی بنیاد پر کہہ رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے ماحول میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے اُس پر اچھی طرح نظر دوڑا کر ہم بہت حد تک درست پیش گوئی کرسکتی ہے۔

    ہم اس حقیقت کو کبھی نظر انداز نہیں کرسکتے کہ جتنا بھی علم ہے وہ اعداد اور علامات میں پوشیدہ ہے جدید دنیا میں ریاضی کا ایک اصول (بیز تھیوریم) میڈیکل ٹیسٹنگ سے مصنوعی ذہانت تک ہر معاملے میں راہ نمائی کر رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات،پولنگ جاری

  • فوبوس اور ڈیموس،مریخ کے دو چھوٹے چاند

    فوبوس اور ڈیموس،مریخ کے دو چھوٹے چاند

    مریخ کے دو چھوٹے چاند ہیں، فوبوس اور ڈیموس

    جن کا نام یونانی افسانہ خوف اور گھبراہٹ کے اعداد و شمار کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس کا وجود 1610 میں لگایا گیا تھا اور اسے 1877 میں دریافت کیا گیا تھا۔ یہ تصویر 2009 میں لی گئی تھی۔ ان دونوں پینلز میں چھوٹے چاند ڈیموس کے تفصیلی سطحی نظارے دکھائے گئے ہیں۔ یہ تصاویر 2009 میں مارس ریکونیسنس آربیٹر خلائی جہاز پر سوار HiRISE کیمرے کے ذریعے لی گئی تھیں، جو ناسا کے طویل عرصے سے چلنے والا بین سیارہ انٹرنیٹ سیٹلائٹ ہے۔ ڈیموس نظام شمسی کے سب سے چھوٹے معلوم چاندوں میں سے ایک ہے، جس کی پیمائش صرف 15 کلومیٹر ہے۔

    دونوں کو امریکی ماہر فلکیات آسف ہال نے اگست 1877 میں دریافت کیا تھا اور ان کا نام یونانی افسانوی جڑواں کرداروں فوبوس (خوف اور گھبراہٹ) اور ڈیموس (دہشت اور خوف) کے نام پر رکھا گیا ہے جو اپنے والد آریس کے ساتھ تھے ( رومن افسانوں میں مریخ ، اس لیے سیارے کا نام) جنگ میں۔زمین کے چاند کے مقابلے میں ، فوبوس اور ڈیموس چھوٹے ہیں۔ فوبوس کا قطر 22.2 کلومیٹر (13.8 میل) ہے اور اس کا حجم 1.08 × 10 ہے۔16 کلوگرام، جب کہ ڈیموس 12.6 کلومیٹر (7.8 میل) کی پیمائش کرتا ہے، جس کا حجم 1.5 × 1015 کلو فوبوس 9,377 کلومیٹر (5,827 میل) کے نیم بڑے محور اور 7.66 گھنٹے کے مداری دورانیےکے ساتھ، مریخ کے قریب گردش کرتا ہےجب کہ ڈیموس 23,460 کلومیٹر (14,580 میل) کے نیم بڑے محور کے ساتھ اور 30.35 گھنٹے کی مداری مدت کے ساتھ زیادہ دور کا چکر لگاتا ہے

    مریخ کے چاندوں کی موجودگی کے بارے میں قیاس آرائیاں اس وقت شروع ہو گئی تھیں جب مشتری کے چاند دریافت ہوئے تھے۔ جوناتھن سوئفٹ کے طنزیہ تصنیف گلیور ٹریولز (1726) میں حصہ 3، باب 3 (” لاپوٹا کا سفر ") میں دو چاندوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں لاپوٹا کے ماہرین فلکیات کو بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ 10 اور 21.5 گھنٹے کے وقفوں کے ساتھ 3 اور 5 مریخ کے قطر کے فاصلے پر مریخ کے دو سیٹلائٹس دریافت کیے ہیں۔ فوبوس اور ڈیموس کا اصل مداری فاصلہ 1.4 اور 3.5 مریخ کا قطر ہے، اور ان کے متعلقہ مداری دورانیے 7.66 اور 30.35 گھنٹے ہیں۔ 20 ویں صدی میں، ابتدائی سوویت مریخ اور زہرہ کے خلائی جہاز کے ایک خلائی جہاز ڈیزائنر وی جی پرمینوف نے قیاس کیا کہ سوئفٹ نے ایسے ریکارڈز کو دریافت کیا اور ان کی وضاحت کی جو مریخ نے زمین پر چھوڑے تھے۔ تاہم ، زیادہ تر ماہرین فلکیات کا نظریہ یہ ہے کہ سوئفٹ اس وقت کی ایک عام دلیل کو استعمال کر رہا تھا، کہ جیسا کہ اندرونی سیارے زہرہ اور عطارد کے پاس کوئی سیارچہ نہیں تھا، زمین میں ایک اور مشتری کے پاس چار تھے ، کہ مشابہت کے لحاظ سے مریخ کے دو ہونا ضروری ہیں۔ مزید برآں، چونکہ وہ ابھی تک دریافت نہیں ہوئے تھے، اس لیے یہ استدلال کیا گیا کہ وہ چھوٹے اور مریخ کے قریب ہونے چاہئیں۔ اس سے سوئفٹ اپنے مداری فاصلوں اور انقلاب کے ادوار کا تقریباً درست اندازہ لگا سکے گا۔ اس کے علاوہ، سوئفٹ کو اس کے دوست، ریاضی دان جان آربوتھنوٹ کے حساب سے اس کی مدد کی جا سکتی تھی ۔

    اگر مریخ کی سطح سے اس کے خط استوا کے قریب دیکھا جائے تو ایک مکمل فوبوس زمین پر ایک مکمل چاند جتنا بڑا نظر آئے گا۔ اس کا کونیی قطر 8′ (بڑھتے ہوئے) اور 12′ (اوور ہیڈ) کے درمیان ہے۔ اس کے قریبی مدار کی وجہ سے، جب مبصر مریخ کے خط استوا سے مزید دور ہوتا ہے تو یہ چھوٹا نظر آئے گا جب تک کہ یہ مکمل طور پر افق سے نیچے نہ ڈوب جائے کیونکہ مبصر قطبوں کے قریب جاتا ہے۔ اس طرح فوبوس مریخ کے قطبی برف کے ڈھکنوں سے نظر نہیں آتا۔ مریخ پر ایک مبصر کے لیے ڈیموس زیادہ روشن ستارے یا سیارے کی طرح نظر آئے گا اس کا زاویہ قطر تقریباً 2′ ہے۔ سورج کا کونیی قطر جیسا کہ مریخ سے دیکھا گیا ہے، اس کے برعکس، تقریباً 21′ ہے۔ اس طرح مریخ پر کوئی مکمل سورج گرہن نہیں ہوتا ہے کیونکہ چاند سورج کو مکمل طور پر ڈھانپنے کے لیے بہت چھوٹے ہیں۔ دوسری طرف، فوبوس کے مکمل چاند گرہن تقریباً ہر رات ہوتے ہیں۔فوبوس اور ڈیموس کی حرکتیں زمین کے چاند سے بہت مختلف نظر آئیں گی۔ تیز فوبوس مغرب میں طلوع ہوتا ہے، مشرق میں غروب ہوتا ہے، اور صرف گیارہ گھنٹوں میں دوبارہ طلوع ہوتا ہے، جب کہ ڈیموس، صرف مطابقت پذیر مدار سے باہر ہونے کی وجہ سے ، مشرق میں توقع کے مطابق لیکن بہت آہستہ آہستہ طلوع ہوتا ہے۔ اس کے 30 گھنٹے کے مدار کے باوجود، اسے مغرب میں طے ہونے میں 2.7 دن لگتے ہیں کیونکہ یہ مریخ کی گردش کے پیچھے پڑ جاتا ہے۔

    دونوں چاند سمندری طور پر بند ہیں ، ہمیشہ مریخ کی طرف ایک ہی چہرہ پیش کرتے ہیں۔ چونکہ فوبوس مریخ کے گرد سیارے کے خود گردش کرنے سے زیادہ تیزی سے چکر لگاتا ہے، اس لیے سمندری قوتیں آہستہ آہستہ لیکن مسلسل اس کے مداری رداس کو کم کر رہی ہیں۔ مستقبل میں کسی وقت، جب یہ روشے کی حد میں آجائے گا ، فوبوس ان سمندری قوتوں سے ٹوٹ جائے گا اور یا تو مریخ سے ٹکرا جائے گا یا ایک انگوٹھی بن جائے گا۔ مریخ کی سطح پر گڑھوں کی کئی تاریں، جو خط استوا سے زیادہ پرانی ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید دوسرے چھوٹے چاند بھی رہے ہوں گے جو فوبوس کی متوقع قسمت کا شکار ہوئے ہوں،

  • ناک کی سائنسی اہمیت

    ناک کی سائنسی اہمیت

                                                       ناک کی سائنسی اہمیت
    انتخاب:ملک ظفراقبال اوکاڑہ

    دنیا کا بہترین ایئر فلٹر انسانی ناک ہے، آپ کے نتھنوں پر دسیوں ہزار بال ہیں جو جراثیم، وائرس، دھول کو روکتے ہیں۔آپ کی ناک اور دماع کے مابین ایک براہ راست تعلق ہےآپ اپنی ناک سے بو نہیں سونگھتے، یہ دراصل دماغ ہے جو کام کرتا ہے۔ آپ کی ناک میں موجود 10 ملین سے زیادہ ولفیکٹری اعصاب بو کو پکڑ کے دماغ میں بھیجتے ہیں۔ جہاں اس کے بعد بو کی شناخت کی جاتی ہے۔

    آپ کی ناک آپ کے سانس لینے والی ہوا پر عملدرآمد کرتی ہے، اسے آپ کے پھیپھڑوں اور گلے کے لیے تیار کرتی ہے جو خشک ہوا کو اچھی طرح سے برداشت نہیں کرتے۔

    ناک کا فریم ورک ہڈی اور کارٹلیج پر مشتمل ہوتا ہے۔ ناک کی دو چھوٹی ہڈیاں اور میکسیلے کی توسیع ناک کا پل بناتی ہے، جو کہ ہڈیوں کا حصہ ہے۔ فریم ورک کا باقی حصہ کارٹلیج ہے اور لچکدار حصہ ہے۔ کنیکٹیو ٹشو اور جلد اس فریم ورک کو ڈھانپتے ہیں۔

    آپ کی ناک اور سینوس کے درمیان شراکت آپ کے جسم اور آپ کے پھیپھڑوں میں نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتی ہے۔ وہ آپ کی مدافعتی فعالیت میں بھی بہت بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔

    سینوس آپ کے گال کی ہڈیوں اور پیشانی کے پیچھے چھوٹے، ہوا سے بھری جگہیں ہیں۔ آپ کے سینوس سے پیدا ہونے والا بلغم عام طور پر چھوٹے چینلز کے ذریعے آپ کی ناک میں جاتا ہے۔ سائنوسائٹس میں، یہ چینلز بلاک ہو جاتے ہیں کیونکہ سائنوس کی پرتیں سوج جاتی ہیں۔

    سینوس کا کام آپ کے پھیپھڑوں تک پہنچنے سے پہلے سانس لینے والی ہوا کو گرم اور مرطوب کرنا ھے۔ گرم، نم ہوا میں سانس لینا آپ کی صحت کے لیے بہترین ہے۔

    آپ کی ناک آپ کے ذائقے کی حس پر اٹر انداز ہوتی ہے۔ جیسا کہ جب آپ کو flue ہو تو آپ کو چیزوں کا ذائقہ بدلا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ناک بالواسطہ آپ کی آواز پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ نزلہ یا زکام میں آواز کا تبدیل ہوجانا اسکی ایک چھوٹی سی مثال ہے

    جرنل آف کرینیو فیشل سرجری میں حالیہ سروے نے انسانی ناک کی 14 شکلوں کی نشاندہی کی ہے۔انسانی ناک 10,000 سے زیادہ خوشبوؤں کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔آپ کی چھینک کا انداز جینیاتی ہوسکتا ہے۔آپ کو نیند میں چھینک نہیں آتی کیونکہ چھینک کو متحرک کرنے والے اعصاب بھی سوتے ہیں۔

    یہ حیرت انگیز ہے کہ جب چھینک آتی ہے تو یہ 100 میل فی گھنٹہ کی ناقابل یقین رفتار سے باہر نکلتی ہے،ایک چھینک میں تقریبات 40،000 چھوٹے چھوٹے نمودار ذرات ہوتے ہیں۔چھینک کی رفتار اور طاقت کی وجہ سے، آپ کی ناک سے نکلنے والے جراثیم 200 فٹ تک زمین پر گرتے ہیں۔ لہذا، دوسروں کی خاطر، چھینکتے ہوے چہرے کو ڈھانپیں۔

    روشنی ، خاص طور پر جو سورج سے آتی ہے، چھینک کو متحرک کر سکتی ہے۔ اس لئے کہا جاتاہےکہ چھینکتے ہوے روشنیوں کو دیکھیں۔

    روہرچ کہتے ہیں کہ آپ کی ناک کی مجموعی شکل 10 سال کی عمر تک بنتی ہے، اور آپ کی ناک خواتین میں تقریباً 15 سے 17 سال کی عمر تک اور مردوں میں 17 سے 19 سال کی عمر تک آہستہ آہستہ بڑھتی رہتی ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ، کشش ثقل کی نہ ختم ہونے والی ٹگ اور آپ کی جلد میں پروٹین کولیجن اور ایلسٹن کے بتدریج ٹوٹ جانے کی وجہ سے ناک لمبی اور گرتی جاتی ہے،

    جب آپ کسی مہکتی ہوئی چیز کے قریب جاتے ہیں تو خوشبو کے مالیکیول آپ کی ناک میں داخل ہوتے ہیں اور آپ کے ناک کی چھت پر موجود اولفیکٹری سینسرز کے اوپر لہراتے ہیں، جہاں وہ انگلی جیسے رسیپٹرز کو فعال کرتے ہیں جو کیمیکل منتقل کرتے ہیں۔ آپ کے دماغ میں ایک مرکزی پروسیسر موجود ہوتا ہے جسے اولفیٹری بلب کہتے ہیں، جو خوشبو کی پہچان کرتا ہے۔ یہ ولفیکٹری صلاحیت "جس طرح ہم دنیا کا تجربہ کرتے ہیں اس میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

    واشنگٹن یونیورسٹی کے مطابق انسانوں میں لگ بھگ 12 ملین ولفیٹری ریسیپٹر سیل ہوتے ہیں، یہ تعداد عمر کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ھے کہ بوڑھے لوگوں کو بو کا احساس کم ہوتا جاتا ہے۔

    ہر روز آپ کی ناک 34 اونس یا ایک لیٹر بلغم پیدا کرتی ہے۔ خوش قسمتی سے، یہ آپ کی ناک سے بہت زیادہ نہیں نکلتا ہے۔ درحقیقت، اس کا زیادہ تر حصہ آپ کے گلے میں جاتا ہے۔ اور وہاں رطوبت پیدا کرتا ہے۔ ایستھما کے مرض میں جب سانس کی نالیوں میں خشکی بڑھ جاتی ہے تو یہ رطوبت سانس کی نالیوں کو گیلا کرنے کے لئے مددگارہوتی ہے۔

    بلغم میں ایسے کیمیکل ہوتے ہیں جو آپ کو صحت مند رکھتے ہیں۔

    یہ حیران کن ہے کہ 24 گھنٹے کی مدت میں، 20,000 لیٹر ہوا آپ کی ناک سے گزرتی ہے۔ یہ 5,283 گیلن کے برابر ہے اچھی بات یہ ہے کہ یہ سروس بالکل مفت ہے۔

    اعصابی مطالعات کے مطابق انسان ایک کھرب مختلف خوشبوؤں کو پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ خوشبو یا بدبو کے مالیکیول ہماری ناک میں 12 ملین ریسیپٹرز سے منسلک ہوتے ہیں تاکہ ہمیں سونگھنے کا ایک ناقابل یقین احساس ہو۔خواتین میں سونگھنے کے لیے دماغ کا حصہ مردوں کے مقابلے میں 50% تک بڑا ہوتا ہے۔¹

    سونگھنے کی حس پانچ حواس میں سے واحد حس ہے جو دماغ کے اس حصے سے براہ راست جڑی ہوئی ہے جہاں یادیں بنتی ہیں، اور جذبات پیدا ہوتےہیں۔

    آپ کی اندرونی ناک خوردبینی بالوں کی طرح کے ڈھانچے سے ڈھکی ہوئی ہے، جسے سیلیا کہتے ہیں۔ سیلیا ہر پانچ سے آٹھ منٹ میں ناک کے پچھلے حصے تک بلغم پہنچاتے ہیں۔ناک میں موجود یہ سیلیا موت کے 20 گھنٹے بعد تک حرکت کرتے ہیں۔ محققین کا خیال ہے کہ اس سے موت کے وقت کی پیمائش کی جا سکتی ہے۔

  • گوگل کا جی بورڈ متعارف کرانے کا عندیہ

    گوگل کا جی بورڈ متعارف کرانے کا عندیہ

    گوگل کا جی بورڈ نامی ایک پروف ریڈر متعارف کرانے کا عندیہ دیا ہے جو ہجے اور گرامر کو چیک کرنے کیساتھ تصحیح بھی تجویز کرے گا، جبکہ اکثر انسان کو کسی ایسے شخص کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کے لیے مناسب موضوعات کے ساتھ بات چیت کرنا مشکل لگتا ہے اگروہ واقف معلوم ہوتوپھرایک نئے موضوع میں دلچسپی ہو سکتی ہے جس پر گوگل اینڈرائیڈ پر اپنے جی بورڈ کی بورڈ ایپ کے لیے کام کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ جی بورڈ پر سب سے زیادہ مقبول کی بورڈ ایپس میں سے ایک ہےاور یہ بہت سی خصوصیات پیش کرتا ہے جو ٹائپنگ کو تیز اور آسان بناتا ہے جبکہ ان خصوصیات میں سے ایک پروف ریڈنگ ہےجو آپ کے ہجے اور گرامر کو چیک کرتا ہے اور تصحیح تجویز کرتا ہے۔ یہ فی الحال ترقی کے مراحل میں ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ گوگل گفتگو شروع کرنے والوں کی حمایت کے ساتھ اپنے دائرہ کار کو مزید بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے جیسا کہ GappsMod Flags ٹیلی گرام چینل میں AssembleDebug میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    تاہم گوگل کے نئے فیچر تک رسائی کے لیےآپ کو صرف جی بورڈ میں پروف ریڈ بٹن پر ٹیپ کرنے کی ضرورت ہے جب میسج فیلڈ خالی ہو۔ آپ کو ان عنوانات کی فہرست نظر آئے گی جن کے ذریعے آپ اسکرول کر سکتے ہیں اور ان میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ یہ عام موضوع کا احاطہ کرتے ہیں جیسے سفر، موسیقی، خبریں، کھیل، فلمیں، کھانا، کافی، سیاست، تعلیم، دستکاری، سائنس ، اور بہت کچھ ہےپھر جی بورڈ ایک متن تیار کرے گا جسے آپ گفتگو شروع کرنے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار
    خیال رہے کہ جیسے اگر آپ سفر کو بطور موضوع منتخب کرتے ہیں تو Gboard کچھ ایسا پوچھ سکتا ہے کہ آپ آگے کہاں جانا چاہیں گے؟ یا آپ کےسفر کا بہترین تجربہ کیا تھا؟ اس کے بعد آپ متن کو اپنے پیغام میں کاپی اور پیسٹ کر کے بھیج سکتے ہیں۔

  • آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    آن لائن نیوز ایکٹ؛ میٹا نے کینیڈین صارفین کی خبروں تک رسائی ختم کردی

    میٹا نے کینیڈا میں صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے جبکہ عالمی ادارے کے مطابق اس بارے میں میٹا نے پہلے آگاہ کیا تھا کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جبکہ رواں سال جون میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا نے کینیڈا کے صارفین کی فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    میٹا کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کمپنیوں کے حوالے سے بنائے گئے نئے ’ آن لائن ایکٹ ’ کے نفاذ سے قبل کینیڈا کے صارفین کیلئے فیس بک اور انسٹاگرام پر خبروں تک رسائی ختم کردی جائے گی۔ اور وہ اس سے محروم ہوجائیں گے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    جبکہ خیال رہے کہ کینیڈا کی پارلیمنٹ سے منظور کیے جانے والا آن لائن نیوز ایکٹ گوگل پیرنٹ الفابیٹ اور میٹا جیسے پلیٹ فارمز کو کینیڈا کے نیوز پبلشرز کے ساتھ ان کے مواد کے لیے تجارتی معاہدوں پر بات چیت کرنے پر مجبور کرے گا۔

    کینیڈا میں میٹا کی پبلک پالیسی کی سربراہ ریچل کرن نے کہا ہے کہ نیوز آؤٹ لیٹس رضاکارانہ طور پر فیس بک اور انسٹاگرام پر مواد شیئر کرتے ہیں تاکہ اپنے سامعین کو بڑھا سکیں اور ان کی نچلی لائن میں مدد کریں، اس کے برعکس ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پلیٹ فارم استعمال کرنے والے لوگ ہمارے پاس خبروں کے لیے نہیں آتے ہیں۔

  • واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے نیا فیچر متعارف کرا دیا

    واٹس ایپ نے آڈیو کی طرح اب 60 سکینڈ تک ویڈیو میسج بھیجنے کا فیچر بھی متعارف کرا دیا ہے جس میں اگر آپ چیٹ کرتے ہوئے اچانک 60 سیکنڈ کی ویڈیو بھیجنا چاہتے تو وہ ظاہر ہوجائے گی اور خاموشی سے چلنے لگے گی اور جیسے ہی آپ ٹچ کریں گے اس کی آواز بھی کھل جائے گی۔

    مذکورہ عمل کو عین وائس ریکارڈنگ کی طرح آسان اور عام انداز میں بنایا گیا ہے اور وائس میسج آئیکون دبا کر رکھئے اور اس سے قبل فون پر ایپ کو ویڈیو موڈ میں لے جائیں تو ویڈیو ریکارڈ ہونے لگے گی۔ لہذا یوں وائس کی طرح اسے بھی لاک کیا جاسکتا ہے تاکہ ہاتھوں کو استعمال نہ کرنا پڑے اور یوں ہینڈزفری ویڈیو میسج ریکارڈ کئے جاسکتے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے

    خیال رہے کہ پرائیویٹ میسجنگ اور کالنگ کی مدد سے آپ اپنی شخصیت کا اظہار کر سکتے ہیں، بلا تکلف باتیں کر سکتے ہیں اور اپنے لیے اہم لوگوں سے قریب ہونے کا احساس محسوس کر سکتے ہیں خواہ وہ کہیں بھی رہتے ہوں۔ لہذا اب واٹس ایپ دن بدن نئی چیزیں لا رہا ہے کہ تاکہ وہ اپنے صارفین کو