Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    ہبل خلائی دوربین نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا دُمدار ستارہ دریافت کر لیا

    کیلیفورنیا: ماہرین نے انسانی تاریخ میں اب تک سب سے بڑا ’دُمدار ستارہ‘ دریافت کر لیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق دریافت کیا گیا کومٹ لگ بھگ دس لاکھ برس سے ہمارے سورج کے گرد چکر کاٹ رہا ہےاس پراسرار شے کو ہمارے نظامِ شمسی کا سب سے بڑا جرمِ فلکی قراردیا گیا ہے اس کی دریافت کی تفصیلات ” دی آسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز” میں شائع کی گئیں-

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    ہبل خلائی دوربین سے دیکھے جانے والےاس دمدار ستارے کو C/2014 UN271 کا نام دیا ہے اور اس کا نیوکلیئس اب تک ہماری معمولات کے تحت سب سے وسیع ہے 140 کلومیٹر طویل مرکزہ عام کومٹ سے 50 گنا بڑا ہے 22,000 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے یہ گردش کر رہا ہے خود اس کے مطالعے سے دمدار ستارے کی ہیئت اور ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا لاس اینجلس کے ماہرِ فلکیات ڈیوڈ جیووٹ نے کہا کہ دمدار ستارہ محض ایک نمونہ ہے اور شاید ایسے سینکڑوں ہزاروں دمدار ستارے موجود ہیں لیکن اتنے مدھم ہیں کہ ہم انہیں اچھی طرح دیکھ نہیں سکتے۔ پہلے پہل اس کی روشنی سے قیاس کیا گیا کہ یہ غیرمعمولی طور پر بہت بڑا دمدار ستارہ اور اب اس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    سائنسدانوں نے واضح تصاویر اور کمپیوٹر ماڈلنگ سے دمدار ستارے کے مرکزے کا اندازہ لگایا ہے اس کا مدار بھی سب سے طویل اور لمبا ہے جبکہ طویل دم برف اور گیسوں سے بنی ہے اگرچہ C/2014 UN271 کا باضابطہ اعلان گزشتہ برس کیا گیا لیکن یہ ڈارک انرجی سروے کے ڈیٹا میں سال 2014 اور 2018 میں دو مرتبہ سامنے آیا لیکن ایک اور مطالعے میں اس کا شائبہ 2010 میں بھی ملا تھا جب یہ سورج سے تین ارب میل دور تھا اور اس کے بعد سے زمینی اور خلائی دوربینوں کے ذریعے اس کا مطالعہ کیا جاتا رہا ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا مدار بہت ہی بیضوی اور طویل ہے اوریہ 30 لاکھ سال میں ایک چکر مکمل کرتا ہے جبکہ دس لاکھ برس سے یہ سورج کی جانب آرہا ہے 2031 میں یہ سورج سے قریب ترین مقام پر ہوگا لیکن وہ بھی ایک ارب کلومیٹر ہی ہوگا-

    اس کا مدار سورج سے دو ارب میل دور ہے اور اس کا درجہ حرارت منفی 348 ڈگری فارن ہائیٹ ہے سردی کے درجہ حرارت کےباوجود، یہ اپنی سطح سے کاربن مونو آکسائیڈ کو بہانے کے لیے کافی گرم ہے، جس سے اس کے مرکز کے گرد دھول اور گیس کا بادل پیدا ہوتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق C/2014 UN271 کا ظہور بھی مشور اوورٹ بادل سے ہوا ہے یہ سرد اور برفیلے اجسام کا ایک بہت وسیع علاقہ ہے جہاں سے دمدار ستارے آتے ہیں اور ہمارے نظامِ شمسی کی اطراف سےگزرتے رہتے ہیں۔ اوورٹ کلاؤڈ بہت دور واقع ہے اور نظامِ شمسی سے ماورا ہے بعض ماہرینِ فلکیات اوورٹ کلاؤڈ کو مفروضہ بھی قرار دیتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    ماہرین کے مطابق جب جب اس جگہ سے کوئی برفیلا اجسام باہر نکلتا ہے تو ہمارے سورج کی بے پناہ ثقلی قوت کی بنا پر یہ کھنچا چلا آتا ہے اور جیسے جیسے سورج کے گرد پہنچتا ہے اس کی پگھلی ہوئی برف لمبی دم کی طرح ہوتی جاتی ہے جب اس پر روشنی پڑتی ہے تو ہمیں لمبی برفیلی دم محسوس ہوتی ہے اور یوں ہم اسے کومٹ یا دمدار ستارہ کہتے ہیں۔

    خیال ہے کہ اس کو دیکھ کر خود اوورٹ کلاؤڈ کی تشکیل کو سمجھا جاسکتا ہے۔ اب تک ہم جانتےہیں کہ اوورٹ کلاؤڈ اندرونی نظامِ شمسی میں بہت عرصے پہلے بنے تھے۔ پھر بڑے گیسی سیارے مثلاً زحل اور مشتری وجود میں آئے اور اورٹ بادل وہاں سے ہٹ کر دور ہوتے گئے-

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    الٹراساؤنڈ سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج کیا جا سکتا ہے،تحقیق

    کیلیفورنیا: امریکی سائنسدانوں کی جانب سے حال ہی میں کی گئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ الٹراساؤنڈ سے ذیابیطس کا علاج بھی کیا جاسکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’’نیچر بایومیڈیکل انجینئرنگ‘‘ کے شمارے میں شائع کی گئی تحقیق کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے جگر میں موجود کچھ مخصوص اعصاب پر الٹراساؤنڈ لہریں وقفے وقفے سے مرکوز کرکے ٹائپ 2 ذیابیطس کے علاج میں کامیابی حاصل کی ہے تاہم یہ تجربات ابھی جانوروں پر کیے گئے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق مختلف امریکی تحقیقی اداروں اور جامعات کے ماہرین کی اس مشترکہ تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ جگر میں کچھ خاص اعصاب پر صرف تین منٹ تک الٹراساؤنڈ لہریں مرکوز کرنے پر جانوروں کے خون میں انسولین اور شکر کی مقدار نمایاں طور پر کم ہوگئی یہ تجربات چوہوں، چوہیاؤں اور سؤروں پر انجام دیئے گئے۔

    تحقیق کے مطابق جگر کے ایک حصے ’’پورٹا ہیپاٹس‘‘ میں اعصاب کا گچھا موجود ہوتا ہے جسے ’’ہیپاٹوپورٹل نرو پلیکسس‘‘ کہا جاتا ہے یہ اعصاب، جسم میں گلوکوز اور غذائی اجزاء کی تازہ ترین صورتِ حال کے بارے میں دماغ کو آگاہ رکھتے ہیں۔

    فیس بک کی "ایک ارب کھانے” کی مہم، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کا پیغام

    اس سے قبل تحقیقات سے معلوم ہوا تھا کہ اعصاب کے اس گچھے میں سرگرمی کی کمی بیشی سے خون میں بھی گلوکوز اور انسولین، دونوں کی مقداروں میں اتار چڑھاؤ رونما ہوتے ہیں البتہ اعصاب کا یہ گچھا اتنا مختصر ہے کہ اس میں سرگرمیوں کو باہر سے کنٹرول کرنا بے حد مشکل ثابت ہوتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ انہیں تحریک دینے اور خون میں گلوکوز/ انسولین کی مقدار کم کرنے کےلیے مرکوز الٹراساؤنڈ کی یہ تکنیک چند سال پہلے ایک نئے امکان کے طور پر ہمارے سامنے آئی تھی حالیہ تجربات میں اس تکنیک کو جانوروں پر آزما کر اس کے مؤثر ہونے کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے۔

    کامیاب ابتدائی تجربات کے بعد اب ماہرین اسی تکنیک کو انسانوں پر آزمانے کےلیے اجازت کے منتظر ہیں۔

    بازاروں میں فروخت ہونیوالی چاکلیٹ میں منشیات کی ملاوٹ کا انکشاف

  • زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    زندہ انسانوں کے پھیپھڑوں میں ’پلاسٹک‘ کی موجودگی کا انکشاف

    حال ہی میں سائنسدانوں نے انسانی خون میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پہلی بار دریافت کیا تھا اور اب مائیکرو پلاسٹک آلودگی پھیپھڑوں کی گہرائی میں پہلی بار دریافت ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : برطانوی اخبار دی گارجئین کے مطابق سائنسی جریدے ’سائنس آف ٹوٹل انوائرنمنٹ‘ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پہلی بار زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں گہرائی میں مائیکرو پلاسٹک آلودگی پائی گئی ہے، اس سلسلے میں جتنے نمونے تجزیے کے لیے لیے گئے تھے، تقریباً تمام نمونوں میں یہ ذرات پائے گئے ہوا گزرنے کے راستے انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے پہلے اس کو ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

    مائیکرو پلاسٹک اس سے پہلے انسانی کیڈور پوسٹ مارٹم کے نمونوں میں پائے گئے، لیکن یہ پہلی تحقیق ہے جس میں یہ زندہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں دکھائی دیئے ہیں۔

    یونیورسٹی آف ہل اور ہل یارک میڈیکل سکول کے محققین نے جن 13 مریضوں کے نمونوں کی جانچ پڑتال کی، لگ بھگ ان سب میں پلاسٹک کے ننھے ذرات کو پھیپھڑوں کی گہرائی میں دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات کی آلودگی اب دنیا بھر میں اس حد تک پھیل چکی ہے کہ انسانوں کے لیے اس سے بچنا ممکن نہیں رہا اور صحت کے حوالے سے خدشات بڑٖھ رہے ہیں۔

    اس تحقیق کے دوران سرجری کے عمل سے گزرنے والے 13 مریضوں کے پھیپھڑوں کے ٹشوز کی جانچ پڑتال کی گئی اور 11 میں پلاسٹک ذرات کو دریافت کیا گیا۔

    سائنسدانوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے فضائی آلودگی، مائیکرو پلاسٹک اور انسانی صحت کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے جو ہمیں معلوم ہوئی ہیں ان اقسام کی خصوصیات اور مائیکرو پلاسٹک کی سطح اب صحت پر اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری میں تجربات کے لیے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘

    مائیکرو پلاسٹک کی اقسام اور سطحوں کی کردار سازی اب صحت کے اثرات کا تعین کرنے کے مقصد سے لیبارٹری ایکسپوزر تجربات کے لئے حقیقت پسندانہ حالات سے آگاہ کر سکتی ہے۔

    ایسٹ یارکشائر کے کیسل ہل ہسپتال کے سرجنوں نے پھیپھڑوں کے زندہ ٹشو فراہم کیے۔ یہ ٹشو مریضوں پر کیے گئے سرجیکل طریقہ کار سے حاصل کیے گئے تھے جو ابھی تک زندہ تھے، یہ ان کی معمول کی طبی دیکھ بھال کا حصہ تھا۔ اس کے بعد یہ انہیں دیکھنے کے لیے فلٹر کیا گیا کہ ان میں کیا ہے۔.

    جن مائیکرو پلاسٹک کا پتہ چلا ان میں سے 12 اقسام ایسی تھیں جو عام طور پر پیکیجنگ، بوتلوں، کپڑے، رسی اور بہت سے مینوفیکچرنگ کے عمل میں پائی جاتی ہیں خواتین کے مقابلے میں مرد مریضوں میں مائیکرو پلاسٹک کی تعداد کافی زیادہ تھی۔

    تحقیق میں شامل ایک محقق لورا ساڈوفسکی کا کہنا تھا کہ ہمیں پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں سب سے زیادہ ذرات یا اس سائز کے ذرات ملنے کی توقع نہیں تھی۔

    تحقیق سے پتہ چلا کہ پھیپھڑوں کے اوپری حصے میں 11 مائیکرو پلاسٹک، وسطی حصے میں 7 اور پھیپھڑوں کے نچلے حصے میں 21 مائیکرو پلاسٹک پائے گئے جو ایک غیر متوقع دریافت تھی۔

    انہوں نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کیونکہ پھیپھڑوں کے نچلے حصوں میں ہوا گزرنے راستے چھوٹے ہوتے ہیں اور ہمیں توقع تھی کہ پھیپھڑوں کے اندر اتنی گہرائی میں جانے سے پہلے اتنے بڑے ذرات فلٹر ہوجائیں گے یا پھپھڑوں پھنس جائیں گے۔

    مارچ میں محققین نے انسانی خون میں پہلی بار پلاسٹک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا تھا ان نتائج سے ثابت ہوا تھا کہ یہ ذرات خون کے ذریعے جسم میں سفر کرسکتے ہیں اور اعضا میں اکٹھے ہوسکتے ہیں ان ذرات سے صحت پر مرتب ہونے والے اثرات کے بارے میں تو ابھی معلوم نہیں مگر لیبارٹری تجربات میں ان ذرات سے انسانی خلیات کو نقصان پہنچنا ثابت ہوچکا ہے اسی طرح فضائی آلودگی کے ذرات کے بارے میں پہلے ہی علم ہے کہ وہ جسم میں داخل ہوکر ہر سال لاکھوں اموات کا باعث بنتے ہیں۔

    اس سے قبل لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے دوران اس طرح کے نتائج سامنے آئے تھے۔

    2021 میں برازیل میں ہونے والی ایسی ایک تحقیق میں 20 میں سے 13 لاشوں کے نمونوں میں پلاسک کے ننھے ذرات کو دریافت کیا گیا۔1998 میں امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق میں بھی 100 نمونوں میں پلاسٹک اور کاٹن ذرات کو دریافت کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل اکتوبر 2020 میں آئرلینڈ کے ٹرینیٹی کالج کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ننھے بچے فیڈنگ بوتلوں کے ذریعے پلاسٹک کے لاکھوں کروڑوں ننھے ذرات نگل لیتے ہیں تحقیق میں زور دیا گیا کہ اس حوالے سے مزید جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے کہ پلاسٹک کے ان ننھے ذرات سے انسانوں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    ایک اور حالیہ تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پلاسٹک کے ننھے ذرات خون کے سرخ خلیات کی اوپری جھلی سے منسلک ہوکر ممکنہ طور پر آکسیجن کی فراہمی کی صلاحیت کو محدود کرسکتے ہیں۔

  • پی ٹی اے کا ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کی بحالی کے لئے یوٹیوب سے اپیل

    پی ٹی اے کا ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کی بحالی کے لئے یوٹیوب سے اپیل

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے یوٹیوب سے مرحوم ڈاکٹراسرار احمد کی فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے یوٹیوب چینل کو بلاک کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی اے نے یوٹیوب سے کہا کہ ایک ممتاز مسلم اسکالر ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل کی یکطرفہ بندش آن لائن اظہار رائے کی من مانی حدود کے بارے میں سوالات اٹھاتی ہے۔

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    پی ٹی اے نے کہا کہ مذکورہ چینل پر ڈاکٹراسرار احمد کی ویڈیوز نشر کی جاتی تھیں جن میں قرآن پاک میں پیش کردہ سماجی و اقتصادی تصورات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جاتی تھی ان ویڈیوز کا مقصد صرف ناظرین کو آگہی فراہم کرنا تھا۔

    دوسری جانب ڈاکٹر اسرار احمد کے یو ٹیوب چینل کی بحالی کے لئے 2500 ہزار ووٹوں پر آن لائن پٹیشن شروع کی گئی ہے جس میں اب تک 13 ہزار سے زائد لوگوں نے سائن کئے ہیں اورچینل کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    واضح رہے کہ یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کو بند کرنے کا فیصلہ یہودی اخبار’’ جیوش کرونیکل‘‘ میں ان کے خلاف مختلف رپورٹس شائع ہونے کے بعد کیا تھا جن کے مطابق اس چینل پر نشر کی جانے والی ویڈیوز میں ان سے متعلق نفرت انگیز مواد موجود ہوتا تھا۔

    ڈاکٹر اسرار کے چینل کے تقریباً 30 لاکھ سبسکرائبرز تھے اور ان کے لیکچرز کو مغربی ممالک میں رہنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی جانب سے سراہا جاتا رہا ہے۔

    عوام ملک کی خودمختاری اورجمہوریت کےمضبوط ترین محافظ ہوتے ہیں ،عمران خان

    ڈاکٹر اسرار احمد کے بیٹے کی جانب سے چلائے جانے والے اس چینل پر مرحوم مذہبی اسکالر کی پرانی تقاریر کی ریکارڈنگ نشر کی جاتی تھی یہ ویڈیوز قرآنی آیات کی روشنی میں دنیا کے خاتمے اور تاریخ میں یہودیوں کے کردار کے بارے میں ان کے خیالات پر مشتمل تھیں۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یوٹیوب پر ڈاکٹر اسرار احمد آفیشل یوٹیوب چینل کو بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کی بدترین شکل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لاکھوں سبسکرائبرز اور کروڑوں صارفین کا حامل عالمی شہرت یافتہ چینل ہے جو اسلام دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا اسلاموفوبیا کے اس شرمناک فعل کے جواب میں تنظیم اسلامی نے متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

    رمضان المبارک کا احترام :بلوچستان میں ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن نے ہڑتال ختم کر دی

    ڈاکٹر اسرار احمد کے ایک شاگرد نے یوٹیوب کے اس اقدام کو مغرب کی جانب سے آزادی اظہار کی خلاف ورزی قرار دیا انجینیئر محمد علی مرزا نے اپنے یوٹیوب چینل پر نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں کہا کہ یہ اقدام مغرب کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے انہوں نے دوسرے فریق کو سنے بغیر محض یہودی گروپس کی شکایات کے مطابق عمل کیا-

    یوٹیوب کو درج کی گئی شکایات میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد کی تبلیغ مسلمانوں کے ذریعہ مغرب میں یہودیوں کے خلاف تشدد کو ہوا دے سکتی ہے۔

    لاہورمیں پولیس مقابلہ : 2 ڈاکو ہلاک ، ڈولفن اہلکار اور ایک راہگیر زخمی

  • ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

    ایلون مسک ٹوئٹر بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل

    امریکی کمپنی ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہوگئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کے ٹوئٹر کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہونے کی تصدیق ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو پراگ اگروال نے کی۔ انہوں نے ٹوئٹ میں ایلون مسک کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد کمپنی کو یقین ہوگیا کہ وہ ان کے لیے فائدہ مند ہیں، اس لیے انہیں بورڈ آف ڈائریکٹر کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے


    جس پر ایلون مسک نے جواب دیتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ٹوئٹر میں نمایاں بہتری لانے کے لیے پیراگ اور ٹوئٹر بورڈ کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہوں!


    ایلون مسک ٹویٹر پر آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں گزشتہ ہفتے ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکررہے ہیں۔

    لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی

    ایلون مسک نے ٹوئٹر پر ایک پول میں صارفین سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ٹوئٹر آزادیٔ اظہار کے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے؟‘۔ جس کے جواب میں 70 فیصد افراد کا جواب نفی میں تھا۔

    واضح رہے کہ ایلون مسک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر آزادی اظہار کے اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے میں ناکامی کی وجہ سے جمہوری قدروں کا ساتھ نہیں دے رہا۔

    ایلون مسک نے 14 مارچ کو ٹوئٹر کے حصص خریدے جن کی تعداد 7 کروڑ 34 لاکھ سے زائد ہے اور ان کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالرز ہے امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ٹیسلا بانی کی جانب سے ٹوئٹر کے شیئرز خریدے جانے کی تصدیق کی تھی ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 9.2 فیصد حصص خریدے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ حصص رکھنے والے شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈور سی 2.25 فیصد حصص کے مالک ہیں-

    القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی نئی ویڈیوجاری،اللہ اکبرکا نعرہ لگانے والی بھارتی لڑکی مسکان کی تعریف

  • بھارت نے 4 پاکستانی اور18مقامی یوٹیوب نیوز چینلزپر پابندی عائد کر دی

    بھارت نے 4 پاکستانی اور18مقامی یوٹیوب نیوز چینلزپر پابندی عائد کر دی

    نئی دہلی: بھارت نے چار پاکستانی اور 18 مقامی یو ٹیوب چینلز پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ تین ٹوئٹر، ایک فیس بک اکاؤنٹ اور ایک نیوز ویب سائٹ کو بلاک کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی بی) نے منگل کو 22 یوٹیوب چینلز کو بلاک کر دیا ہے ان میں 4 پاکستان میں قائم یوٹیوب نیوز چینلز ہیں ان میں دنیا میرے آگے، غلام نبی مدنی، حق ٹی وی، حقیت ٹی وی 2.0 شامل ہیں مذکورہ چینلز پر بھارت کےمتعلق جعلی و جھوٹی خبریں چلانے و پھیلانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں دسمبر 2021 سے لے کر اب تک مجموعی طور پر 78 یوٹیوب چینلز اور متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کیا جاچکا ہے-

    بھارتی وزارت آئی ٹی کے مطابق بلاک کیے جانے والے یوٹیوب چینلز ملک کی سلامتی اور بھارت کے بین الاقوامی تعلقات جیسے حساس امور کے متعلق جھوٹی جعلی و جھوٹی خبریں پھیلانے میں ملوث تھے۔

    دوسری جانب پہلی بار آئی ٹی رولز2021 کے تحت 18 ہندوستانی یوٹیوب نیوز چینلز کو بلاک کیا گیا ہے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…

    بھارت میں بلاک کیے گئے 18 یوٹیوب چینلز میں اے آر پی نیوز، اے او پی نیوز،ایل ڈی سی نیوز، سرکاری بابو، ایس ایس زون ہندی، اسمارٹ نیوز، نیوز 23 ہندی ،آن لائن خبر، ڈی پی نیوز، پی کے بی نیوز،کسان تک، بورانہ نیوز، سرکاری نیوز اپڈیٹ، بھارت موسم، آر جے زون 6، اکزام رپورٹ، ڈیجی گروکل، دن کی خبریں

    اس کے علاوہ انسٹاگرام اکاؤنٹ، دو ویب سائٹس اور ایک فیس بک اکاؤنٹ بلاک کر دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی آئی ٹی قوانین کے تحت کی گئی ہے۔

    اعداد و شمار کے تحت دلچسپ بات یہ ہے کہ جن چینلز کو بلاک کیا گیا ہے انہیں 260 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا و سنا جا چکا ہے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

  • یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کا چینل بند کر دیا

    اسلام آباد:دنیا کی سب سے بڑی ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ یوٹیوب نے یہود مخالف لیکچرز کو بنیاد بناکر پاکستان کے معروف اسکالر مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کا یوٹیوب چینل بند کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈاکٹر اسرار احمد کے یوٹیوب چینل پر سبسکرائبرز کی تعداد تقریباً 3 ملین (30 لاکھ ) کے قریب تھی اور پوری دنیا سے لاکھوں لوگ ان کے لیکچرز سے مستفید ہوتے اور انھیں سراہتے تھے۔

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا فرمان جاری

    یوٹیوب نے ڈاکٹر اسرار احمد کے چینل کو بند کرنے کا فیصلہ یہودی اخبار’’ جیوش کرونیکل‘‘ میں ان کے خلاف مختلف رپورٹس شائع ہونے کے بعد کیا۔

    رپورٹس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ٹیکساس میں یہودی عبادت خانے کو یرغمال بنانے والا پاکستانی نژاد برطانوی ملک فیصل اکرام ڈاکٹر اسرار کے لیکچرز سے متاثر تھا۔

    یوٹیوب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسرار کے دو چینلز کو نفرت انگیز اور تشدد سے متعلق پالیسیوں کی خلاف ورزی پر بند کیا گیا ہے۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی قائم کردہ تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یوٹیوب پر ڈاکٹر اسرار احمد آفیشل یوٹیوب چینل کو بند کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسلاموفوبیا کی بدترین شکل قرار دیا کہا کہ یہ لاکھوں سبسکرائبرز اور کروڑوں صارفین کا حامل عالمی شہرت یافتہ چینل ہے جو اسلام دشمن قوتوں کی آنکھ میں کھٹکتا تھا-

    امیر شجاع الدین شیخ کا کہنا ہے کہ اسلاموفوبیا کے اس شرمناک فعل کے جواب میں تنظیم اسلامی نے متعلقہ پلیٹ فارمز کے ذریعے بھرپور قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    واضح رہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد ایک پاکستانی معروف اسلامی محقق تھے، جو پاکستان، بھارت، مشرق وسطیٰ اور امریکا میں اپنا دائرہ اثر رکھتے تھے۔ وہ تنظیم اسلامی کے بانی تھے، جو پاکستان میں نظام خلافت کے قیام کی خواہاں ہے۔

    گوگل پر جاری وکیپیڈیا کے مطابق ڈاکٹراسرار 26 اپریل، 1932ء کو موجودہ بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع حصار میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد آپ لاہور منتقل ہو گئے اور گورنمنٹ کالج سے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1954ء میں انہوں سے کنگ ایڈورڈ کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد 1965ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے کی سند بھی حاصل کی۔ آپ نے 1971ء تک میڈیکل پریکٹس کی۔

    دوران تعلیم آپ اسلامی جمیت طلبہ سے وابستہ رہے اور فعال کردار ادا کرتے ہوئے ناظم اعلی مقرر ہوئے۔ تعلیم سے فراغت کے بعد آپ نے جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی تاہم جماعت کی انتخابی سیاست اور فکری اختلافات کے باعث آپ نے اس سے علحیدگی اختیار کرلی اور اسلامی تحقیق کا سلسلہ شروع کر دیا اور 1975ء میں تنظیم اسلامی کی بنیاد رکھی جس کے وہ بانی قائد مقرر ہوئے۔

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    1981ء میں آپ جنرل ضیا الحق کی مجلس شوریٰ کے بھی رکن رہے حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے اسی سال ستارہ امتیاز سے نوازا آپ مروجہ انتخابی سیاست کے مخالف تھے اور خلافت راشدہ کے طرز عمل پر یقین رکھتے تھے آپ اسلامی ممالک میں مغربی خصوصاً امریکی فوجی مداخلت کے سخت ناقد تھے۔

    تنظیم اسلامی کی تشکیل کے بعد آپ نے اپنی تمام توانائیاں تحقیق و اشاعت اسلام کے لیے وقف کردی تھیں۔ آپ نے 100 سے زائد کتب تحریر کیں جن میں سے کئی کا دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ ہوچکا ہے۔ آپ نے ‍قرآن کریم کی تفسیر اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کئی جامع کتابیں تصنیف کیں۔

    مشہور بھارتی مسلم اسکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ان کے قریبی تعلقات تھے اسی ضمن میں انہوں نے بھارت کے کئی دورے بھی کیےعالمی سطح پر آپ نے مفسر قران کی حیثیت سے زبردست شہرت حاصل کی بلا مبالغہ ان کے سیکڑوں آڈیو، ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جن کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اسلام کا صحیح تشخص ابھارنے میں وہ اہم ترین کردار ادا کیا جو تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

    سری لنکا: احتجاج روکنے کیلئے فیس بک، یو ٹیوب ، ٹوئٹر ، انسٹاگرام اور واٹس ایپ…

    ڈاکٹر اسرار احمد نے کبھی بھی تشدد کی تبلیغ نہیں کی، وہ ہمیشہ اپنے سننے اور پڑھنے والوں کو دینی و دنیاوی تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی ترغیب دیتے تھے انھیں نہ صرف تاریخ پر مکمل عبور حاصل تھا بلکہ وہ حالات حاضرہ پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور اپنی بصیرت سے آنے والے وقت کا درست نقشہ پیش کرتے تھے۔

    انھوں نے اپنے ویڈیو لیکچرز میں یہود کی مکمل تاریخ، ان کی چالبازیاں اور ان کے مستقبل کے ممکنہ عزائم بڑی تفصیل سے بیان کر رکھے ہیں۔

    ڈاکٹر اسرار کے چینل کے ایک پارٹنر آصف حمید کے مطابق ڈاکٹر اسرار کی یہ تقاریر اب کی تو نہیں ہیں، وہ کئی سال پرانی ہیں۔ وہ قرآن و احادیث کی روشنی میں بات کرتے تھے۔ قرآن میں جو یہودیوں کا ذکر ہے اس کا حوالہ دیتے تھے۔ انھوں نے کبھی کسی کو بھڑکانے کی بات نہیں کی۔ ہمارے احتجاج بھی پرامن ہی ہوتے ہیں۔ تنظیم اسلامی قانون کو ہاتھ میں لینے کے ہر اقدام کی مذمت کرتی ہے۔

    ڈاکٹر اسرار احمد کی تصانیف میں لفوظات ڈاکٹر اسرار احمد، اصلاح معاشرہ کا قرانی تصور، نبی اکرم سے ہماری تعلق کی بنیادیں
    توبہ کی عظمت اور تاثیر، حقیقت و اقسام شرک، قرآن کے ہم پر پانچ حقوق، اسلام اور پاکستان، علامہ اقبال اور ہم، استحکام پاکستان، مسلمان امتوں کا ماضی, حال اور مستقبل، پاکستانی کی سیاست کا پہلا عوامی و ہنگامی دور شامل ہیں-

    ڈاکٹر اسرار احمد کافی عرصے سے دل کے عارضے اور کمر کی تکلیف میں مبتلا تھے 14 اپریل، 2010ء کو 78 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کو گارڈن ٹاؤن کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کے پسماندگان میں ان کی بیوہ، چار بیٹے اور پانچ بیٹیاں شامل ہیں۔

    امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹائمز اسکوائر پر نمازِ تراویح ادا ئیگی

  • چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش

    لاس اینجلس: زمین پر لائی گئی، چاند کی مٹی کا سب سے پہلا نمونہ نیلامی کےلیے پیش کردیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق چاند کی مٹی کا یہ نمونہ نیل آرمسٹرانگ نے 20 جولائی 1969 کے روز اس وقت جمع کیا تھا کہ جب اس نے چاند پر پہلا قدم رکھا۔ اس لحاظ سے یہ چاند کی مٹی کا تاریخی نمونہ بھی ہے۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے کھربوں میل دور ستارے کی تصویر لے لی

    ’’بونہیمز‘‘ (Bonhams) نامی بین الاقوامی نیلام گھر کا دعویٰ ہے کہ یہ چاند کی مٹی کا وہ واحد نمونہ بھی ہے جسے قانونی طور پر نیلام کیا جاسکتا ہے کیونکہ چاند کی مٹی کے وہ تمام نمونے جو امریکی خلاء نورد آج تک زمین پر لائے گئے ہیں، انہیں امریکی ریاست اور عوام کی ملکیت قرار دیا جاتا ہے یعنی ان کی نجی طور پر خرید و فروخت یا نیلامی نہیں کی جاسکتی۔

    البتہ یہ نمونہ اس لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ 1969 میں زمین پر لائے جانے کے کچھ سال بعد یہ غائب ہوگیا اور کچھ نامعلوم ہاتھوں سے ہوتا ہوا میکس ایری نامی ایک شخص تک پہنچ گیا وہ ایک نجی خلائی عجائب گھر کا شریک بانی بھی تھا لیکن 2002 میں اسے چوری شدہ نوادرات خریدنے اور بیچنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا اور اس کے پاس موجود تمام اشیاء سرکاری تحویل میں لے لی گئیں۔

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    2015 میں جب یہ چیزیں سرکاری طور پر نیلام کی گئیں تو ان میں چاند کی مٹی کا نمونہ بھی شامل تھا جسے اس کی موجودہ مالکن نینسی لی کارسن نے صرف 995 ڈالر میں وہاں سے خرید لیا اس کے اصلی یا جعلی ہونے کی تصدیق کےلیے نینسی نے یہ نمونہ ’’ناسا‘‘ کو بھجوا دیا، اور ناسا نے یہ کہہ کر اس نمونے کو واپس کرنے سے انکار کردیا کہ یہ ’’امریکی عوام کی ملکیت‘‘ ہے۔

    اس پر نینسی نے ناسا کے خلاف عدالت میں مقدمہ کردیا عدالت نے فیصلہ سنایا کہ نینسی نے یہ نمونہ مکمل طور پر قانونی طریقے سے، اور ’’نیک نیتی کے ساتھ‘‘ خریدا ہے، لہٰذا یہ ان ہی کی ذاتی ملکیت قرار دیا جاتا ہے اپنی اسی غیرمعمولی خاصیت کے باعث، چاند کی مٹی کا یہ نمونہ بہت مہنگے داموں نیلام ہونے کی توقع ہے۔

    بونہیمز کے مطابق، مٹی کے اس نمونے کی نیلامی 13 اپریل 2022 کے روز، امریکی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوگی جبکہ بولی کا آغاز 8 لاکھ ڈالر سے کیا جائے گا۔

    ڈھائی ہزار سال قبل ستاروں کی سیدھ میں بنایا گیا مقدس تالاب

  • ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 3 ارب ڈالرز مالیت کے شیئرز خرید لئے

    امریکی کمپنی ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے 9 فیصد سے زائد حصص خرید لیے۔

    باغی ٹی وی : ” سی بی ایس نیوز” کے مطابق ایلون مسک ٹویٹر پر آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں، انہوں نے گزشتہ ماہ آزادانہ اظہار رائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا۔

    انہوں نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ "آزادی تقریر ایک فعال جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ٹوئٹر اس اصول پر سختی سے عمل پیرا ہے؟”

    ایک اور ٹویٹ میں، مسک نے کہا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے لیے "سنجیدہ سوچ” دے رہے ہیں۔

    ایلون مسک کا نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے پر غور

    گزشتہ ماہ بھی،ایلون مسک نے ایک وفاقی جج سے کہا کہ وہ سیکیورٹیز ریگولیٹرز کی جانب سے پیشی کو کالعدم قرار دے اور 2018 کے عدالتی معاہدے کو ختم کرے جس میں مسک کو ٹوئٹر پر اپنی پوسٹس کو پہلے سے منظور کروانا تھا۔

    رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے 14 مارچ کو ٹوئٹر کے حصص خریدے جن کی تعداد 7 کروڑ 34 لاکھ سے زائد ہے اور ان کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالرز ہے۔

    امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ٹیسلا بانی کی جانب سے ٹوئٹر کے شیئرز خریدے جانے کی تصدیق کی ہے۔

    ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 9.2 فیصد حصص خریدے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ حصص رکھنے والے شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈور سی 2.25 فیصد حصص کے مالک ہیں۔

    ہیکرز نے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا

    ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹرز کے حصص خریدنے کی خبر سامنے آنے کے بعد پیر کو ٹوئٹر کے شیئرز کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ، ٹوئٹر کا اسٹاک پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 26 فیصد بڑھ کر 49.50 ڈالر تک پہنچ گیا پچھلے سال کے مقابلے حصص میں 38 فیصد کمی آئی ہے۔

    جیک ڈورسی نے گزشتہ سال نومبر میں سی ای او کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ٹویٹر میں مسک کا حصہ ڈورسی کے سائز سے چار گنا زیادہ ہے، جس نے کمپنی کی مشترکہ بنیاد رکھی اور مسک کے آنے تک سب سے بڑا انفرادی شیئر ہولڈر تھا۔

    "مسک کی اصل سرمایہ کاری اس کی دولت کا ایک بہت ہی چھوٹا فیصد ہے، اور ایک مکمل خریداری کو مسترد نہیں کیا جانا چاہئے بلو مبر گ بلینیئر انڈیکس کے مطابق، مسک دنیا کا امیر ترین شخص ہے، جس کی دولت 273 بلین ڈالر ہے۔

    روس میں ٹیلی گرام نے مقبولیت میں واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا

  • رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی  مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    رنگ گورا کرنے والی کریموں میں مرکری کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے، عالمی تحقیق

    بیلجیئم:مرکری کو’’سیال چاندی‘‘بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام درجہ حرارت پر مائع حالت میں ہوتا ہے تھرمامیٹر سے لے کر دندان سازی، برقی آلات کاسمیٹکس تک، سینکڑوں مصنوعات و آلات میں مرکری کا استعمال کیا جاتا ہےلیکن ہر شعبے میں پارے کے استعمال کی محفوظ حدود متعین ہیں جن کے حوالے سے عالمی قوانین بھی موجود ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک عالمی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریموں اور دیگر مصنوعات کی بڑی تعداد میں پارے (مرکری) کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

    رنگ گورا کرنے والی 59 میں سے 57 کریموں میں کینسر پیدا کرنے والے عناصر شامل ہوتے…

    کاسمیٹک مصنوعات میں پارے کی ’’محفوظ مقدار‘‘ ایک حصہ فی دس لاکھ (1 پی پی ایم) یا اس سے کم قرار دی جاتی ہے لیکن 17 ممالک میں کی گئی تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی 48 فیصد مصنوعات میں پارے کی مقدار اس محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے۔

    تحقیق کیلئے ماہرین نے ایمیزون، ای بے اور علی ایکسپریس سمیت 40 ای کامرس پلیٹ فارمز سے رنگ گورا کرنے والی 271 مصنوعات خرید کر ان کا الگ الگ تجزیہ کیا گیا۔

    جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 129 مصنوعات میں پارے کی مقدار 1 پی پی ایم کی محفوظ حد سے کہیں زیادہ تھی رپورٹ میں ایک اور تشویشناک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ زیادہ مرکری والی 43 فیصد مصنوعات یا تو پاکستان میں تیار شدہ ہیں یا پھر ان کی پیکنگ پاکستان میں کی گئی ہے ان میں رنگ گورا کرنے والی کچھ مشہور پاکستانی کریموں اور دوسری متعلقہ مصنوعات کے نام بھی شامل ہیں۔

    آمنہ الیاس رنگ گورا کرنے والی کریموں کی تشہیر کرنے والی اداکاراؤں پر برہم

    حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مصنوعات ایمیزون اور ای بے سمیت، دنیا کے تقریباً تمام بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں جو امریکا سے آسٹریلیا تک 100 سے زیادہ ممالک میں بلا روک ٹوک خریدی جارہی ہیں-

    یہ تحقیقی رپورٹ پارے کی آلودگی کے خاتمے پر کام کرنے والے عالمی ادارے ’’زیرو مرکری ورکنگ گروپ‘‘ نے مختلف ملکوں میں غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون و اشتراک سے شائع کی ہے۔

    آمنہ الیاس کا گہری رنگت کے حوالے سے ایک اہم پیغام