امریکی کمپنی ٹیسلا اور نجی خلائی کمپنی اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے 9 فیصد سے زائد حصص خرید لیے۔
باغی ٹی وی : ” سی بی ایس نیوز” کے مطابق ایلون مسک ٹویٹر پر آزادانہ طور پر بات چیت کرنے کی صلاحیت کے بارے میں سوالات اٹھاتے رہے ہیں، انہوں نے گزشتہ ماہ آزادانہ اظہار رائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے بارے میں ٹویٹ کیا تھا۔
انہوں نے ٹویٹ میں کہا تھا کہ "آزادی تقریر ایک فعال جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔ کیا آپ کو یقین ہے کہ ٹوئٹر اس اصول پر سختی سے عمل پیرا ہے؟”
ایک اور ٹویٹ میں، مسک نے کہا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے لیے "سنجیدہ سوچ” دے رہے ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی،ایلون مسک نے ایک وفاقی جج سے کہا کہ وہ سیکیورٹیز ریگولیٹرز کی جانب سے پیشی کو کالعدم قرار دے اور 2018 کے عدالتی معاہدے کو ختم کرے جس میں مسک کو ٹوئٹر پر اپنی پوسٹس کو پہلے سے منظور کروانا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک نے 14 مارچ کو ٹوئٹر کے حصص خریدے جن کی تعداد 7 کروڑ 34 لاکھ سے زائد ہے اور ان کی مالیت تقریباً 3 ارب ڈالرز ہے۔
امریکی سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن نے بھی ٹیسلا بانی کی جانب سے ٹوئٹر کے شیئرز خریدے جانے کی تصدیق کی ہے۔
ایلون مسک نے ٹوئٹر کے 9.2 فیصد حصص خریدے ہیں اور وہ ٹوئٹر کے سب سے زیادہ حصص رکھنے والے شیئر ہولڈر بن گئے ہیں جبکہ ٹوئٹر کے شریک بانی جیک ڈور سی 2.25 فیصد حصص کے مالک ہیں۔
ایلون مسک کی جانب سے ٹوئٹرز کے حصص خریدنے کی خبر سامنے آنے کے بعد پیر کو ٹوئٹر کے شیئرز کی قیمت میں 25 فیصد اضافہ ہوا ، ٹوئٹر کا اسٹاک پری مارکیٹ ٹریڈنگ میں 26 فیصد بڑھ کر 49.50 ڈالر تک پہنچ گیا پچھلے سال کے مقابلے حصص میں 38 فیصد کمی آئی ہے۔
جیک ڈورسی نے گزشتہ سال نومبر میں سی ای او کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔ ٹویٹر میں مسک کا حصہ ڈورسی کے سائز سے چار گنا زیادہ ہے، جس نے کمپنی کی مشترکہ بنیاد رکھی اور مسک کے آنے تک سب سے بڑا انفرادی شیئر ہولڈر تھا۔
"مسک کی اصل سرمایہ کاری اس کی دولت کا ایک بہت ہی چھوٹا فیصد ہے، اور ایک مکمل خریداری کو مسترد نہیں کیا جانا چاہئے بلو مبر گ بلینیئر انڈیکس کے مطابق، مسک دنیا کا امیر ترین شخص ہے، جس کی دولت 273 بلین ڈالر ہے۔
بیلجیئم:مرکری کو’’سیال چاندی‘‘بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ عام درجہ حرارت پر مائع حالت میں ہوتا ہے تھرمامیٹر سے لے کر دندان سازی، برقی آلات کاسمیٹکس تک، سینکڑوں مصنوعات و آلات میں مرکری کا استعمال کیا جاتا ہےلیکن ہر شعبے میں پارے کے استعمال کی محفوظ حدود متعین ہیں جن کے حوالے سے عالمی قوانین بھی موجود ہیں۔
باغی ٹی وی : ایک عالمی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی کریموں اور دیگر مصنوعات کی بڑی تعداد میں پارے (مرکری) کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ ہے۔
کاسمیٹک مصنوعات میں پارے کی ’’محفوظ مقدار‘‘ ایک حصہ فی دس لاکھ (1 پی پی ایم) یا اس سے کم قرار دی جاتی ہے لیکن 17 ممالک میں کی گئی تازہ تحقیق سے پتا چلا ہے کہ رنگ گورا کرنے والی 48 فیصد مصنوعات میں پارے کی مقدار اس محفوظ حد سے کہیں زیادہ ہے۔
تحقیق کیلئے ماہرین نے ایمیزون، ای بے اور علی ایکسپریس سمیت 40 ای کامرس پلیٹ فارمز سے رنگ گورا کرنے والی 271 مصنوعات خرید کر ان کا الگ الگ تجزیہ کیا گیا۔
جس سے معلوم ہوا کہ ان میں سے 129 مصنوعات میں پارے کی مقدار 1 پی پی ایم کی محفوظ حد سے کہیں زیادہ تھی رپورٹ میں ایک اور تشویشناک انکشاف یہ بھی کیا گیا ہے کہ زیادہ مرکری والی 43 فیصد مصنوعات یا تو پاکستان میں تیار شدہ ہیں یا پھر ان کی پیکنگ پاکستان میں کی گئی ہے ان میں رنگ گورا کرنے والی کچھ مشہور پاکستانی کریموں اور دوسری متعلقہ مصنوعات کے نام بھی شامل ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ یہ مصنوعات ایمیزون اور ای بے سمیت، دنیا کے تقریباً تمام بڑے ای کامرس پلیٹ فارمز پر دستیاب ہیں جو امریکا سے آسٹریلیا تک 100 سے زیادہ ممالک میں بلا روک ٹوک خریدی جارہی ہیں-
یہ تحقیقی رپورٹ پارے کی آلودگی کے خاتمے پر کام کرنے والے عالمی ادارے ’’زیرو مرکری ورکنگ گروپ‘‘ نے مختلف ملکوں میں غیرسرکاری تنظیموں کے تعاون و اشتراک سے شائع کی ہے۔
لندن: ایک طویل تحقیق کے بعد کئی اداروں کی جانب سے بنائی گئی مچھر دانی پردوسالہ آزمائش کے بعد ماہرین نے اسے بہت امید افزا قرار دیا ہے۔
باغی ٹی وی : طبی جریدے لینسٹ میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق روایتی مچھردانیوں میں دوا لگی ہوتی ہے جو مچھروں کے اعصابی نظام کو متاثر کرتی ہے جبکہ مذکورہ مچھر دانی کی جالی میں مچھر پھنس کر بے بس ہوجاتے ہیں اوراور اڑنے کے قابل نہیں رہتے وہیں مرجاتے ہیں۔
لندن اسکول ہر ہائجن اینڈ ٹراپیکل میڈیسن، نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار میڈیکل ریسرچ، کلیمنجارو میڈیکل یونیورسٹی کالج تنزانیہ اور کینیڈا کی جامعہ اوٹاوہ نے تنزانیہ میں دو برس تک اس مچھردانی کی آزمائش کی گئی ہے۔ مطالعے میں کل 39000 گھرانوں میں اسے لگایا گیا اور 6 ماہ سے 14 برس تک کے 4500 بچوں کا مطالعہ کیا گیا۔ مچھر دانی میں دو طرح کی مچھر مار ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ لگائی گئی تھیں۔ دونوں ادویہ لانگ لاسٹنگ انسیکٹی سائڈل نیٹ (ایل ایل آئی این)نامی مچھر دانی میں لگائی گئی تھی اس کے بہترین نتائج برآمد ہوئے اور روایتی طریقوں کے مقابلے میں ملیریا کے واقعات میں 44 فیصد کمی ہوئی جبکہ ملیریا پھیلانے والے مچھروں کو جکڑنے میں 85 فیصد کامیابی ملی۔
ملیریا اور مچھروں کے امراض سے اموات میں افریقہ سب سے بڑا ملک ہے۔ لیکن یہاں مچھردانی کو ہی ان سے بچاؤ کا کامیاب ذریعہ قرار دیا جاتا ہے اس کے باوجود بھی سالانہ 6 لاکھ سے زائد بچے ملیریا کا لقمہ بن کر مرجاتے ہیں دوسالہ تحقیق میں 72 ایسے گاؤں منتخب کئے گئے جہاں ملیریا کی وبا ہولناک ہوچکی تھی کیونکہ مچھر روایتی ادویہ سے مزاحمت پیدا کرچکے تھے بارشوں کے موسم کے بعد دو سے تین اقسام کی مچھردانیاں آزمائی گئیں جن میں نئی دوا والی مچھر دانی بھی شامل تھی۔
اب جن بچوں کے بستروں پر کلورفیناپائر ایل ایل آئی این والی مچھردانیوں پر رکھا گیا تو ان میں ملیریا کے واقعات 37 فیصد کم دیکھے گئے۔ پہلے 12 ماہ میں روایتی پائرتھروئڈ ادویہ والی مچھردانی سے ملیریا کے مرض میں 27 فیصد کمی ہوئی لیکن مچھروں نے خود کو بدلا اور دوا کی تاثیر بھی کم ہوگئی اور مچھردانی میں سوراخ بھی بننے لگے۔ جب ان دونوں ادویہ یعنی کلورفیناپائر اور پائرتھروئڈ کو استعمال کیا گیا تو بہترین نتائج سامنے آئے کیونکہ مچھر پرواز کے قابل نہ رہے تھے اور خون چوسنے والے مادائیں بھی نسل آگے نہ بڑھاسکیں جبکہ کلورفیناپائر ایل ایل این کی تیاری بہت کم خرچ ہے اور انسانی استعمال کے لیے یکسر مفید بھی ہے۔
دنیا بھر میں سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر کی سروسز متاثر ہونے سے صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے۔
باغی ٹی وی : ڈیلی میل کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی سروس دنیا بھر میں متاثر ہونے کی وجہ سےکروڑوں صارفین پریشان ہوگئے جبکہ ٹوئٹر ایپلی کیشن کریش ہونے کی بھی رپورٹس سامنے آئیں تاہم ابھی تک بندش سے متعلق وجوہات سامنے نہیں آسکیں جبکہ ٹوئٹر انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف نہیں دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 4,100 سے زیادہ رپورٹس ڈاؤن ڈیٹیکٹر پر لاگ ان کی گئیں متاثرہ صارفین میں 56 فیصد کے مطابق ویب سائٹ استعمال کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے،37 فیصد صارفین نے بتایا کہ ایپلی کیشن میں خرابی کا سامنا ہے جبکہ 7 فیصد کے مطابق ٹوئٹر فیڈ میں خرابی دیکھی جارہی ہے۔
ڈیلی میل کے مطابق تقریباً دو گھنٹوں بعد کچھ مایوس صارفین نے ٹوئٹر تک رسائی حاصل کرنے میں کامیابی کے بعد بندش پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ناراضی کا اظہار کیا تاہم پاکستان میں ٹوئٹر کی سروس متاثر ہونے کی کوئی خاص شکایات سامنے نہیں آئیں۔
یاد رہے اس سے قبل گزشتہ ماہ فروری میں بھی ٹوئٹر کے سافٹ ویئر میں خرابی کے باعث دنیا بھی میں ہزاروں صافین کو دشواری پیش آئی تھی۔
دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیسلا کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو ایلون مسک ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکررہے ہیں۔
باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ایلون مسک سے ایک سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹر صارف نے پوچھا کہ کیا وہ ایک اوپن الگورتھم کا حامل آزادی اظہار کو تقویت دینے والا سوشل میڈیا پلیٹ فارم قائم کریں گے جہاں پروپیگنڈہ کم سے کم ہو۔
So you want a platform like Twitter but filled with people yelling the n-word, sharing detailed rape fantasies, and posting pictures of their toilets before they're flushed?
جس کے جواب میں ایلون مسک کا کہنا تھا کہ وہ ایک نیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے غورکررہے ہیں انہوں نے ٹویٹ میں سوال کیا ہے کہ کیا ایک نئے پلیٹ فارم کی ضرورت ہے؟
ایلون مسک کے اس ٹویٹ سے ایک دن قبل انہوں نے ٹوئٹر پر ایک پول میں صارفین سے یہ پوچھا تھا کہ کیا ٹوئٹر آزادیٔ اظہار کے اصولوں کی پاسداری کر رہا ہے؟ جس کے جواب میں 70 فیصد افراد کا جواب نفی میں تھا۔
Given that Twitter serves as the de facto public town square, failing to adhere to free speech principles fundamentally undermines democracy.
ایک صارف نے کہا کہ میری درخواست باقی ہے مسٹر مسک، براہ کرم ٹویٹر خریدیں اور اسے ایک آزاد تقریر کا پلیٹ فارم بنائیں جہاں صارف اپنا الگورتھم منتخب کر سکے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی پالیسیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ٹوئٹر آزادی اظہار کے اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے میں ناکامی کی وجہ سے جمہوری قدروں کا ساتھ نہیں دے رہا۔
سلیکان ویلی: ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے-
باغی ٹی وی : سائبر سیکیورٹی کے یوٹیوب چینل ’’انفینیٹ لاگنز‘‘ نے اپنی تازہ ویڈیو میں انکشاف کیا ہے کہ ہیکرز نے انٹرنیٹ صارفین کے یوزر نیمز اور پاس ورڈز چوری کرنے کےلیے ’’فشنگ‘‘ (phishing) کا ایک نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہےیہ ویڈیو سائبر سیکیورٹی ماہرین کےلیے ہے جس میں ’’مسٹر ڈاکس‘‘ (mr.d0x) نامی ایک وائٹ ہیٹ ہیکر کے حوالے سے ’’بِٹ بی‘‘ (BitB) طریقے کی تفصیل بیان کی گئی ہے
انفینیٹ لاگنز، مسٹر ڈاکس اور آرس ٹیکنیکا پراس بارے میں شائع ہونےوالی ایک خبر کےمطابق اس طریقے کو ’’براؤزر اِن دی براؤزر‘‘ (BitB) کہا جاتا ہے یہ نیا طریقہ اس قدر شاطرانہ ہے کہ ایک سمجھدار اور ہوشیار رہنے والا انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا سکتا ہے ’’بِٹ بی‘‘ کا انحصار ’’تھرڈ پارٹی لاگ اِن‘‘ پر ہے جو آج دنیا کی لاکھوں ویب سائٹس استعمال کررہی ہیں۔
تھرڈ پارٹی لاگ اِن میں آپ کو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن ہونے کےلیے علیحدہ اکاؤنٹ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ آپ اپنے موجودہ گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ کی تصدیق کرواتے ہوئے اس ویب سائٹ پر لاگ اِن ہوسکتے ہیں۔
اس مقصد کےلیے ’’او آتھ‘‘ (OAuth) نامی اوپن پروٹوکول استعمال کیا جاتا ہے جو کسی ویب سائٹ پر لاگ اِن کےلیے گوگل، فیس بُک یا ایپل اکاؤنٹ وغیرہ کی خودکار، فوری اور محفوظ تصدیق کی سہولت فراہم کرتا ہے (کچھ ایسا ہی ہوتا ہے جب کوئی خریدار ادائیگی کا طریقہ منتخب کرتا ہے جیسے پے پال۔)
’’بِٹ بی‘‘ طریقے کے تحت ہائپر ٹیکسٹ مارک اپ لینگویج (HTML) میں کاسکیڈنگ اسٹائل شیٹ (CSS) نامی تکنیک سے استفادہ کرتے ہوئے، تھرڈ پارٹی لاگ اِن کےلیے ایک ایسی پاپ ونڈو بنائی جاتی ہے جو دیکھنے میں بالکل اصل تصدیقی (آتھورائزیشن) ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے اس ونڈو کی ایڈریس بار میں یو آر ایل بھی بالکل اصل دکھائی دیتا ہے جیسے کہ accounts.google.com وغیرہ ونڈو کی ترتیب اور طرز عمل اصل چیز سے یکساں نظر آتے ہیں۔
ہینڈل mr.d0x استعمال کرنے والے ایک محقق نے پچھلے ہفتے تکنیک کی وضاحت کی۔ اس کا تصور کے ثبوت کا استحصال ایک ویب صفحہ سے شروع ہوتا ہے جس میں کینوا کی بڑی محنت سے درست جعل سازی ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کوئی وزیٹر ایپل، گوگل، یا فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے لاگ ان کرنے کا انتخاب کرتا ہے، جعلی کینوا صفحہ ایک نیا صفحہ کھولتا ہے جو واقف نظر آنے والے OAuth صفحہ کی طرح نظر آتا ہے۔
یہ نیا صفحہ بھی ایک دھوکہ ہے اس میں وہ تمام گرافکس شامل ہیں جو ایک شخص لاگ ان کرنے کے لیے گوگل کا استعمال کرتے وقت دیکھنے کی توقع کرے گا۔ اس صفحہ میں گوگل کا جائز پتہ بھی ہے جو ایڈریس بار میں ظاہر ہوتا ہے۔ نئی ونڈو براؤزر ونڈو کی طرح برتاؤ کرتی ہے اگر حقیقی Google OAuth سیشن سے منسلک ہو۔
اگر کوئی ممکنہ شکار جعلی Canva.com صفحہ کھولتا ہے اور گوگل کے ساتھ لاگ ان کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو "یہ ایک نئی براؤزر ونڈو کھولے گا اور URL accounts.google.com پر جائے گا،” mr.d0x نے ایک پیغام میں لکھا کہ جعلی کینوا سائٹ "کوئی نئی براؤزر ونڈو نہیں کھولتی ہے۔ اس سے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی نئی براؤزر ونڈو کھولی گئی ہو لیکن یہ صرف HTML/CSS ہے۔ اب وہ جعلی ونڈو URL کو accounts.google.com پر سیٹ کرتی ہے، لیکن یہ ایک وہم ہے۔”
ایک اچھا خاصا سمجھدار انٹرنیٹ صارف بھی اس سے دھوکا کھا جاتا ہے اور اس تھرڈ پارٹی لاگ اِن ونڈو میں اپنا یوزر نیم اور پاس ورڈ لکھ کر اینٹر کردیتا ہے… اور اس طرح وہ لاعلمی میں اپنی اہم ترین معلومات کسی نامعلوم ہیکر کو فراہم کردیتا ہے۔
ایک ساتھی سیکیورٹی محقق نے اس مظاہرے سے کافی متاثر ہو کر ایک YouTube ویڈیو بنائی جس میں زیادہ واضح طور پر دکھا یا گیا ہے کہ تکنیک کیسی ہے یہ بھی واضح کیا کہ تکنیک کیسے کام کرتی ہے اور اس پر عمل کرنا کتنا آسان ہے۔
آرس ٹیکنیکا کی متعلقہ پوسٹ میں سیکیورٹی ایڈیٹر ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ کو پہچاننے اور اس سے بچنے کےلیے کچھ مشورے بھی دیئے ہیں۔
وہ لکھتے ہیں کہ ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ میں نمودار ہونے والی لاگ اِن ونڈو علیحدہ نہیں ہوتی بلکہ یہ ’’براؤزر کے اندر براؤزر‘‘ ونڈو ہوتی ہے جو بظاہر ایک الگ اور اصلی لاگ اِن ونڈو کی طرح دکھائی دیتی ہے یہ لاگ اِن ونڈو اصلی ہے یا نقلی؟ اگر وہ دائیں بائیں حرکت دینے پر اپنی جگہ سے ہل رہی ہے تو وہ جعلی لاگ اِن ونڈو ہے کیونکہ اسے ’سی ایس ایس‘ کی مدد سے ظاہری طور پر ایسی شکل دی گئی ہے۔
ڈین گڈن نے ’’بِٹ بی‘‘ فشنگ پہچاننے کا جو دوسرا طریقہ بتایا ہے، وہ کچھ مشکل ہے۔
اس میں آپ کو لاگ اِن ونڈو پر رائٹ کلک کرکے inspect سلیکٹ کرنا ہوگا، جس کے بعد نمودار ہونے والی انسپکشن ونڈو میں لکھی عبارت (ٹیکسٹ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا، جہاں اِن پُٹ کیے گئے یوزر نیم اور پاس ورڈ محفوظ کرنے کےلیے کسی نامعلوم ویب سائٹ کا ایڈریس درج ہوگا اس طرح آپ کو خود ہی اس جعلی لاگ اِن ونڈو کی حقیقت کا پتا چل جائے گا۔
ان کے علاوہ، آپ چاہیں تو آزمائش کی غرض سے اس لاگ اِن ونڈو میں غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ اینٹر کیجیے۔ اگر یہ اصلی ہوگی تو غلط یوزر نیم اور پاس ورڈ کا پیغام دے گی، لیکن جعلی لاگ اِن ونڈو انہیں ’’درست‘‘ کے طور پر قبول کرلے گی۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک فشنگ کے بیشتر حملوں کو پہچاننا بہت آسان ہوا کرتا تھا لیکن ’’بِٹ بی‘‘ طریقہ بہت پیچیدہ ہے جس سے بچنے کےلیے صارفین کو تصدیق کے متبادل طریقوں سے بھی باخبر رہنا ہوگا؛ اور اکثر صارفین سہل پسندی میں ایسا نہیں کرتے۔
مسٹر ڈاکس کے مطابق، فشنگ کا نیا طریقہ اگرچہ کچھ ہفتے پہلے ہمارے علم میں آیا ہے لیکن ہیکرز اسے غالباً 2020 سے استعمال کررہے ہیں-
میسجنگ ایپ ٹیلی گرام نے دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑ دیا لیکن ایسا پوری دنیا میں نہیں بلکہ صرف روس میں ہوا ہے۔
باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیلی گرام ، واٹس ایپ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے روس کی مقبول ترین میسجنگ ایپلی کیشن بن گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون نے پیر کے روز اعلان کیا کہ 24 فروری کو یوکرین میں جنگ شروع ہونے کے بعد روس میں ٹیلی گرام کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
روس کی موبائل فون آپریٹر کمپنی میگافون کی طرف سے جاری اعدادو شمار کے مطابق روس یوکرین تنازع میں شدت آنے کے بعد لاکھوں صارفین نے واٹس ایپ کی بجائے ٹیلی گرام استعمال کرنا شروع کر دیا۔
میگافون کے مطابق مارچ کے پہلے دو ہفتوں میں مجموعی میسجنگ ٹریفک میں ٹیلی گرام کا حصہ 43 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد ہو گیا ہے جبکہ واٹس ایپ کا حصہ اسی عرصے میں 48 فیصد سے کم ہو کر 32 فیصد رہ گیا۔
اس سے قبل واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹاگرام کی ملکیتی کمپنی میٹا نے اعلان کیا تھا کہ وہ یوکرین میں جنگ کی حمایت کرنے والے روسی شہریوں اور جنگ میں حصہ لینے والے روسی فوجیوں کے خلاف پرتشدد میسجزکی اجازت دے گی۔
روس انسٹاگرام اور فیس بک کو شدت پسند قرار دیتے ہوئے ان پر پابندی عائد کر چکا ہے روس کا موقف ہے کہ یوکرین سے جنگ کے معاملے پر امریکی ٹیکنالوجی کمپنی میٹا روس مخالف مہم چلانے میں کردار ادا کر رہی ہے۔
سسلی کے مغربی ساحل پر واقع فونیشین جزیرے کا شہر موتیا طویل عرصے سے آثار قدیمہ کی تحقیق کا مرکز رہا ہے 1920 میں کھدائی کے دورن ایک مصنوعی جھیل دریافت ہوئی تھی جس کے بارے تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ یہ دراصل ایک ’مقدس تالاب‘ تھا جسے ڈھائی ہزار سال پہلے ستاروں کی سمتیں اور سیدھ مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔
باغی ٹی وی :کیمبرج یونیورسٹی پریس سے شائع ہونے والے ریسرچ جرنل ’’اینٹیکیٹی‘‘ (Antiquity) کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق یہ مصنوعی جھیل (جو نئی تحقیق سے ایک مقدس تالاب ثابت ہوئی ہے) مغربی سسلی کے سان پینتالیو جزیرے پر ’موتیا‘ (Motya) نامی قدیم شہر کا حصہ تھی۔
ساتویں صدی قبل مسیح تک، یہ بستی وسطی اور مغربی بحیرہ روم میں ایک وسیع تبادلے کے نیٹ ورک کے ساتھ ایک اہم بندرگاہی شہر کی شکل اختیار کر چکی تھی۔ نتیجے کے طور پر، موتیا جلد ہی شمالی افریقہ کے ساحل پر آبنائے سسلی کے مخالف سمت میں بڑھتی ہوئی طاقت کارتھیج کے ساتھ تصادم میں آگیا۔ چھٹی صدی قبل مسیح کے وسط کی طرف، جنرل مالکو کی قیادت میں کارتھیجین افواج نے موتیا کو تباہ کر دیا، لیکن شہر کو تیزی سے بحال کر دیا گیا-
اس وقت شہر کے اندر دیگر یادگار تعمیرات میں دو بڑے مذہبی علاقے شامل تھے، ایک شمال میں اور دوسرا جنوب میں۔ شہر کی دیوار اور دو مذہبی مرکبات کلیدی تعمیر نو کی نمائندگی کرتے ہیں جو بتاتے ہیں کہ شہر نے کارتھیج کے وسطی بحیرہ روم کے ہم منصب کے طور پر اپنی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔
موتیا آج سے 2,500 سال پہلے کی فونیقی سلطنت کا اہم شہر تھا جو بندرگاہ کا درجہ بھی رکھتا تھادریافت کے تقریباً 100 سال بعد تک سمجھا جاتا رہا کہ یہ ایک مصنوعی جھیل تھی جسے کشتیوں اور چھوٹے جہازوں کی آمد و رفت کےلیے موتیا شہر کی بندرگاہ سے منسلک کیا۔
دس سال تک جاری رہنے والی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ خیال غلط تھا اور یہ کوئی مصنوعی جھیل بھی نہیں تھی بلکہ اس کے برعکس یہ ایک بڑا اور مقدس تالاب تھا جس میں ’بآل‘ (Ba’al) کہلانے والے ایک دیوتا کا مجسمہ بھی نصب تھا یہ مجسمہ اس تالاب کے بیچوں بیچ ایک چوکور پتھر پر تعمیر کیا گیا تھا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ مجسمہ ٹوٹ پھوٹ کر ختم ہوگیا لیکن اس کے پیروں کے نشانات آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
یہ تالاب موجودہ زمانے میں اولمپکس کے تالاب سے بھی بڑا تھا جسے ایک قریبی چشمے سے پانی فراہم ہوتا تھاتالاب سے نکلنے والی بڑی نالیاں، جنہیں پہلے نہریں سمجھا گیا تھا، نکاسی کےلیے استعمال ہوتی تھیں اور استعمال شدہ پانی کو سمندر تک پہنچاتی تھیں البتہ، ان سب باتوں سے بڑھ کر یہ معلوم ہوا کہ اس تالاب کو بطورِ خاص ستاروں کی سمتیں اور ترتیب مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔
سال کی کچھ خاص راتوں میں ستاروں کا ایک جھرمٹ اس تالاب کے تقریباً اوپر (بآل دیوتا کے سر پر) آجاتا تھا جس کا عکس اس کے شفاف پانی میں دیکھا جاسکتا تھا ان تمام دریافتوں کے باوجود، ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ آیا ایسے مواقع پر یہاں مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں یا نہیں۔
بالفرض اگر ستاروں کے سیدھ میں آنے پر یہاں کچھ خاص مذہبی رسومات ادا کی جاتی تھیں تو ان کی نوعیت کیا تھی؟ یہ جاننے کےلیے اس علاقے میں مزید کھدائی اور تحقیق کی ضرورت ہے یہ اور اس جیسی دیگر تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں ستاروں کی سمتوں اور مقامات کی خصوصی اہمیت تھی، جسے ہم نے ابھی دریافت کرنا شروع ہی کیا ہے۔
واضح رہے کہ یہی بات اہرامِ مصر کےلیے بھی کہی جاتی ہے کہ انہیں ستاروں کی سیدھ میں تعمیر کیا گیا تھا البتہ یورپ میں ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔
انسٹاگرام اورفیس بک (میٹا) نے ٹک ٹاک پر اکاؤنٹ بنالیا-
باغی ٹی وی : فیس بک کے بانی مارک زکربرگ اس وقت چینی سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک کو اپنی سروسز کے لیے سب سے بڑا خطرہ خیال کرتے ہیں ان خیالات کا اظہار بھی وہ کئی بار کرچکے ہیں تاہم اب میٹااور انسٹاگرام بھی ٹک ٹاک کا حصہ بن گئے ہیں-
عالمی خبررسان ادارے کے مطابق ٹک ٹاک پر فیس بک کا اکاؤنٹ ویریفائیڈ ہے جس کے اب تک 23 ہزار سے زیادہ فالورز ہوچکے ہیں اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے حالانکہ اس پر کوئی پوسٹ بھی نہیں کی گئی۔
فیس بک کے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر ڈسکرپشن میں لکھا ہے کہ ‘ہمارا ماننا ہے کہ لوگ تنہا کی بجائے اکٹھے زیادہ کام کرسکتے ہیں اس کے ساتھ گوگل پلے اسٹور پر فیس بک ایپ کا لنک دیا گیا ہے۔
ٹیک کرنچ کے مطابق میٹا کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ یہ ٹک ٹاک اکاؤنٹ اصلی ہے ترجمان نے کہا کہ برانڈز متعدد چینلز کا فائدہ اٹھاتے ہیں تاکہ لوگوں تک رسائی حاصل کرسکیں جو ان کی پراڈکٹس اور سروسز استعمال کرتے ہیں، پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک یا دیگر پر ہمارے برانڈ کی موجودگی کا مقصد بھی یہی ہے۔
ایسا ممکن ہے کہ فیس بک ٹک ٹاک یا اس کے اشتہاری پلیٹ فارم کو استعمال کرکے نوجوانوں تک رسائی حاصل کرسکے جو دنیا کے مقبول ترین سوشل نیٹ ورک سے دور ہورہے ہیں 2021 کی آخری سہ ماہی میں پہلی بار فیس بک کو روزانہ اس سروس کو استعمال کرنے والے صارفین کی کمی کا سامنا ہوا تھا۔
واضح رہے کہ فیس بک اکثرٹک ٹاک ایپ کو اپنا اہم ترین حریف قرار دیتی ہے 2021 کے آخر میں رپورٹ جاری کرتے ہوئے مارک زکربرگ نے کہا تھا کہ لوگوں کے پاس متعدد انتخاب ہیں کہ وہ اپنا وقت کیسے گزاریں اور ٹک ٹاک جیسی ایپس بہت تیزی سے پھیل رہی ہیں ٹک ٹاک پہلے ہی ایک حریف کے طور پر بہت بڑی ہوچکی ہے اور اس کی توسیع بڑے پیمانے پر بہت تیزی سے ہورہی ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کی جیمز ویب خلائی دوربین نے ستارے پر فوکس کر کے تصویر حاصل کر لی۔
باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق یہ تصاویر دس لاکھ میل یعنی 16 لاکھ کلومیٹر کی دوری سے بھیجی گئی ہیں، جن میں دور کہکشاں کا ایک روشن ستارہ سورج کی طرح چمکتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے آزمائشی طور پر ایک ستارے کو فوکس کیا تھا اور تصویر کا معیار اُن کی امیدوں سے بھی کہیں زیادہ ہےتاہم ناسا کا کہنا ہے کہ دوربین کو مکمل طور پر فعال اور قابلِ استعمال قرار دینے سے پہلے اب بھی بہت کام باقی ہے۔
ناسا کی خلائی دوربین نے جس ستارے کی تصویر زمین پر بھیجی ہے، وہ اس سے ایک سو گنا زیادہ واضح اور روشن ہے جتنا کہ زمین سے ایک انسانی آنکھ اسے دیکھ سکتی ہے جس ستارے کی تصویر بھیجی گئی ہے وہ زمین سے دو ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔
ناسا نے یہ دور بین دسمبر کے آخر میں ایک راکٹ کے ذریعے خلا میں روانہ کی تھی، جسے دس لاکھ میل کی دوری پر ایک ایسے مقام پر نصب کیا جانا تھا جہاں سے ان کہکشاؤں کے بارے میں تصویری معلومات حاصل کی جا سکیں، جن کے متعلق زمین سےجاننا ممکن نہیں ہے تحقیق کا مقصد کائنات کی تخلیق کے راز سے پردہ اٹھانا ہے اور یہ جاننا ہے کہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی۔ وہ کتنی وسیع ہے اور اس کی انتہا کیا ہے۔
قبل ازیں گزشتہ ماہ ناسا نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی کھینچی گئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی جن میں جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)
واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔
جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔
جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔