Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو بڑی طاقتیں نہ کرسکیں، ساؤتھ ایشین وائسز

    پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو بڑی طاقتیں نہ کرسکیں، ساؤتھ ایشین وائسز

    ساؤتھ ایشین وائسز نے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکا، ایران کو مذاکرات کی میز پر لا کر وہ سفارتی کردار اداکیا جو بڑی طاقتیں ادا نہ کرسکیں۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان کا ثالثی کردار اہم رہا امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے، جہاں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے براہِ راست مذاکرات کیے پاکستان نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سفارتی رابطوں اور اپنی جغرافیائی اہمیت کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی اور دیرپا امن کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے، تجزیے کے مطابق پاکستان نے ایسے وقت میں دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لایا جب تنازع ‘انتہائی خطرناک‘ مرحلے میں داخل ہوچکا تھا، جنگ کے دوران ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ملک کو اس وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے جب مذاکرات فوری طور پر دیرپا امن میں تبدیل نہ ہوں، تاہم تنازعات کے حل کی پیچیدگی کو مدنظر رکھتے ہوئے ثالث کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔

    تجزیے میں تنازعات کے حل کے ماہر ولیم زارٹمین کے تصور ‘دوطرفہ تکلیف دہ تعطل’ کا حوالہ دیا گیا ہے، ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق جب دونوں فریقین یہ سمجھنے لگیں کہ وہ اضافی نقصان اٹھائے بغیر تنازع حل نہیں کر سکتے، تو یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب تیسرے فریق کی ثالثی کے لیے حالات سازگار ہوتے ہیں، پاکستان نے عین اسی وقت مداخلت کی جب امریکا اور ایران دونوں اس تعطل کی کیفیت تک پہنچ چکے تھے۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے تجزیے کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی اور 1979 کے انقلاب کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی تلخ چلے آ رہے ہیں،مئی 2025 کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی سنگین صورتحال اور جنگ کے بادلوں کے درمیان پاکستان نے اپنی جغرافیائی اہمیت، رسائی اور بھرپور سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے فریقین کے درمیان رابطہ قائم کیا،اسلام آباد میں ہونے والے ان تاریخی اور طویل مذاکرات کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے اعلیٰ ترین سطح کے نمائندے 20 گھنٹے سے زیادہ عرصے تک مذاکرات کی میز پر بیٹھے، جسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا گیا۔

    ساؤتھ ایشین وائسز کے مطابق پاکستان نے اس وقت فریقین کے درمیان ثالثی کا کٹھن فریضہ سر انجام دیا جب وہ شدید ترین کشیدگی اور باہمی نقصان کے مرحلے میں داخل ہو چکے تھے، پاکستان نے چین، فرانس، جرمنی، بھارت اور برطانیہ جیسی بڑی عالمی طاقتوں کے برعکس اپنی منفرد جغرافیائی پوزیشن اور دونوں اطراف کے ساتھ اعتماد کا بھرپور فائدہ اٹھایا،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے کی جانے والی بروقت سفارتی کوششوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو جنگ روکنے اور بات چیت کی طرف لانے پر مجبور کیا، جو کہ 1971 میں ہنری کسنجر کے خفیہ دورۂ چین کے بعد پاکستان کا دوسرا بڑا سفارتی کارنامہ ہے۔

    تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مئی 2025 کے تنازع کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی، جس میں اسلام آباد نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا اور ٹرمپ نے جون 2025 میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، جہاں اسرائیل، ایران جنگ پر بھی مشاورت کی گئی، پاکستان کی اہمیت صرف اس کی سفارتی کوششوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی پوزیشن بھی اسے ایک منفرد ثالث بناتی ہے،پاکستان ایران کے ساتھ تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، جبکہ امریکا کے ساتھ اس کے دیرینہ سفارتی تعلقات ہیں اسی طرح چین کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات بھی اسے خطے کے اہم ممالک کے درمیان رابطے کے لیے موزوں بناتے ہیں۔

    تجزیے میں بھارت، اسرائیل، امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم، ولیم زارٹمین اور دیگر بعض حلقوں کی جانب سے اس عمل پر تحفظات کا اظہار کیا گیا، لیکن تجزیے نے واضح کیا کہ تنازعات کے حل کا عمل وقت اور مناسب حالات کا متقاضی ہوتا ہے جسے ‘میوچل ہرٹنگ سٹیلمیٹ’ یعنی باہمی نقصان کے اصول کے تحت ہی سمجھا جا سکتا ہے امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں سے ایران کی قیادت، فوجی صلاحیت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، تاہم ایران نے بھی خطے میں جوابی کارروائیاں کرتے ہوئے اسرائیل اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔

    ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے نتیجے میں تیل، گیس اور دیگر اہم اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ یوں تنازع کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہ رہے بلکہ پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے اسی صورتحال میں پاکستان نے سفارتی رابطے کے ذریعے جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی،تجزیے میں پاکستان کے موجودہ کردار کو 1971 کی ایک اہم سفارتی پیش رفت سے بھی جوڑا گیا ہے، جب پاکستان نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کے چین کے خفیہ دورے میں سہولت فراہم کی تھی،یہ دورہ واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں ایک اہم ابتدائی قدم ثابت ہوا تھا۔

    تجزیے کے مطابق 1971 میں پاکستان نے 2 ایسی حکومتوں کے درمیان رابطے کا قابل اعتماد ذریعہ فراہم کیا جن کے درمیان براہ راست سفارتی تعلقات موجود نہیں تھے، جبکہ 2026 میں اس کی جغرافیائی پوزیشن اور امریکا و ایران دونوں کے ساتھ روابط نے اسے دوبارہ ایک اہم ثالثی کردار ادا کرنے کا موقع دیا، امریکا اور ایران نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کے ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے اور بعد میں دونوں جانب سے یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ مفاہمت کی شرائط معطل ہوچکی ہیں۔

    تاہم اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقوں نے مذاکراتی عمل کو مکمل طور پر ترک نہیں کیا۔ تجزیے میں اسی نکتے کو پاکستان کے ثالثی کردار کے خلاف ناکامی کے دعوے کو کمزور کرنے والی بنیادی وجہ قرار دیا گیا ہے اگر فریقین ایک دوسرے پر الزام تراشی کے باوجود مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کرتے تو اس کا مطلب ہے کہ سفارتی عمل ابھی ختم نہیں ہوا۔

    تجزیے میں قطر کی مثال بھی پیش کی گئی ہے، جس نے اسرائیل اور حماس کے درمیان مختلف مواقع پر ثالثی کی، ثالثی کرنے والے ملک کو اس وقت دونوں جانب سے تنقید کا سامنا ہوسکتا ہے جب مذاکرات مطلوبہ رفتار سے آگے نہ بڑھیں مسئلہ اکثر ثالث نہیں بلکہ تنازع کی بنیادی پیچیدگیاں ہوتی ہیں،امریکا اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے موجود عدم اعتماد اور دونوں ممالک کے اسٹریٹجک مفادات کسی ایک مذاکراتی دور سے ختم نہیں ہوسکتے۔

    تجزیے میں تجویز دی گئی ہے کہ مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو ایک وسیع تر کثیرالفریقی عمل میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، جس میں عمان، قطر اور عراق جیسے ممالک بھی شامل ہوں،اس نقطہ نظر کے مطابق تیسرے فریقوں کی موجودگی اعتماد سازی میں مدد دے سکتی ہے اور دونوں ممالک کو براہ راست تصادم کے بجائے مسلسل مشاورت اور مسئلہ حل کرنے کے عمل میں رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

    تجزیے میں امریکا اور ایران کے درمیان ماضی کے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2013 میں عمان میں ہونے والی خفیہ ملاقاتوں نے بعد میں 2015 کے جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے ماحول بنانے میں کردار ادا کیا تھا امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں سب سے بڑا چیلنج صرف جنگ بندی کرانا نہیں بلکہ دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد بحال کرنا ہے۔ مسلسل کشیدگی نے ایک دوسرے کے ارادوں پر شکوک کو گہرا کردیا ہے، جس کے باعث دیرپا جنگ بندی کا عمل مشکل ہوگیا ہےاس صورتحال میں پاکستان کے لیے سب سے اہم کام یہ ہوسکتا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھے۔ تجزیے کے مطابق ثالث کا کام فریقین کو امن پر مجبور کرنا نہیں بلکہ وہ وقت آنے پر مذاکرات کی میز موجود رکھنا ہے جب دونوں فریق دوبارہ بات چیت کے لیے آمادہ ہوں۔

    تجزیے کے مطابق پاکستان کے ثالثی کردار پر امریکا اور خطے کے بعض دیگر ممالک کے حلقوں سے تنقید سامنے آنا اس نوعیت کی سفارت کاری کا معمول ہے جنگ بندی کے بعد دوبارہ کشیدگی پیدا ہونے کو محض ثالثی کی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جب تک امریکا اور ایران اپنے بنیادی اختلافات، باہمی عدم اعتماد اور علاقائی مفادات کے تنازعات حل نہیں کرتے، اس وقت تک کسی بھی جنگ بندی کے کمزور پڑنے کا امکان موجود رہے گا،پاکستان نے کم از کم دونوں فریقوں کو ایک ایسے وقت میں مذاکرات کی میز تک پہنچایا جب براہ راست رابطے کے امکانات انتہائی محدود تھے اسی لیے تجزیے کے مطابق اگر مستقبل میں کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو اسلام آباد کا کردار ختم ہونے کے بجائے مزید اہم ہوسکتا ہے۔

  • آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے، عباس عراقچی

    آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے، عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات کا مقصد آبنائے ہرمز کی دوبارہ بحالی نہیں ہےآبنائے ہرمز کی مکمل بحالی امریکا کی جانب سے ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی خلاف ورزیوں کے ازالے سے مشروط ہے۔

    ایرانی خبر ایجنسی مہر نیوز کے مطابق عباس عراقچی نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ جاری مذاکرات میں پیش رفت کو آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیےعمان مذاکرات کا مقصد فی الحال عارضی بحری راستے قائم کرنا ہے تاکہ آبنائے ہرمز سے محدود آمدورفت ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی پیچیدگیوں کے باوجود ان عارضی راستوں کے تعین کا عمل جاری ہے، جو اب آخری مراحل میں ہے۔

    ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کی جانب سے فراہم کیے گئے نقشوں کی بنیاد پر ان عارضی راستوں کا تعین کیا جا رہا ہے اور اس حوالے سے جلد نتائج سامنے آنے کی توقع ہے تاہم ان اقدامات کو آبنائے ہرمز کی عمومی یا مکمل بحالی نہیں کہا جا سکتا ہے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کے لیے دیگر شرائط بھی پوری ہونا ضروری ہیں، جن میں خاص طور پر امریکا کی جانب سے معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ شامل ہے۔

    انہوں نے اسلام آباد میمورنڈم کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ امریکی افواج بارہا انتباہ کے باوجود متبادل بحری راستے زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہی ہیں،ایران نہ تو معاہدے کی خلاف ورزی برداشت کرے گا اور نہ ہی کسی فریق کو آبنائے ہرمز پر اس کے اختیار اور کنٹرول کو چیلنج کرنے کی اجازت دے گا۔

    اس سے قبل ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ ہے اور اس کے لیے ایران کے پاس اپنا قانونی اور دفاعی طریقہ کار موجود ہے انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین بحری گزرگاہ کو کھولنے کا فیصلہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل سے الگ ہے۔

    پاسداران انقلاب کے ترجمان نے آبنائے ہرمز کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کو محض ایک بحری گزرگاہ یا آبی راستہ نہیں بلکہ ایران کے اہم جغرافیائی اثاثے اور طاقت کے طور پر دیکھتا ہے، جسے ایران کی دفاعی اور خودمختاری سے متعلق پالیسیوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مکمل طور پر ان شرائط سے مشروط ہے جو ایران نے باضابطہ طور پر طے کرکے امریکا تک پہنچائی ہیں۔

  • غزہ امن منصوبہ: حماس کا دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے آمادگی کا اعلان

    غزہ امن منصوبہ: حماس کا دوسرے مرحلے پر عملدرآمد کے لیے آمادگی کا اعلان

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ وہ امریکا کے حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہے اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم اسرائیل کا اصرار ہے کہ وہ معاہدے کے تازہ ترین حصے پر رضامند نہیں ہوا۔

    حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ منصوبے کے تازہ ترین مرحلے پر قائم ہے، جس کے تحت حماس جنگ سے تباہ حال غزہ میں قائم ہونے والی فلسطینی انتظامی کمیٹی کے حوالے اپنے ہتھیار کرے گی۔

    حماس کے ایک عہدیدار نے’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں نے ثالثوں کو اپنی اس آمادگی سے آگاہ کردیا ہے کہ وہ معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنے اور دوسرے مرحلے کی جانب بڑھنے کے لیے تیار ہیں، تاہم اس کے لیے اسرائیل کی منظوری اور اسرائیل کی جانب سے معاہدے پر عملدرآمد شروع کرنا ضروری ہے۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر حماس کے عہدیدار نے کہاکہ حماس امریکی انتظامیہ پر زور دے رہی ہے کہ وہ اسرائیل پر دباؤ ڈالے تاکہ اسے معاہدے کی پاسداری اور دوسرے مرحلے کی جانب پیشرفت پر مجبور کیا جاسکے۔

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو، جو غزہ معاہدے کے حوالے سے اپنی دائیں بازو کی حمایت رکھنے والے حلقوں کی شدید مخالفت کا سامنا کر رہے ہیں، نے منگل کو کہا تھا کہ اسرائیل نے ’بورڈ آف پیس‘ کی جانب سے پیش کیے گئے مسودے پر رضامندی ظاہر نہیں کی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے اس پیشرفت کو اہم کامیابی قرار دیا تھا کہ حماس نے منصوبے کے تحت غیر مسلح ہونے پر رضامندی ظاہر کردی ہے’بورڈ آف پیس‘ کا کہنا تھا کہ اس کے بدلے میں اسرائیل غزہ کے بیشتر علاقوں سے مرحلہ وار انخلا کرے گا۔

    نیتن یاہو نے پیر کو ’بورڈ آف پیس‘ کے غزہ کے لیے اعلیٰ نمائندے نکولے ملادینوف سے ملاقات کی، جنہوں نے بعد میں اپنے مؤقف میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے کے بعد ہی غزہ سے انخلا کرے گا،اسرائیلی فوج نے بھی فلسطینی گروپ کے خلاف حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، تاہم غزہ میں اسرائیلی حملے جاری رہنے کے باوجود حالیہ دنوں میں ان کی شدت میں کمی دکھائی دے رہی ہے۔

    ہفتے کے روز خان یونس کے ناصر اسپتال نے اطلاع دی کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 3 افراد زخمی ہوئےفلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک اسرائیل نے 1257 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جب دونوں فریقوں نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اسی عرصے کے دوران اپنے 5 اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔

  • آبنائے ہرمز تب کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے،پاسدارانِ انقلاب

    آبنائے ہرمز تب کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے،پاسدارانِ انقلاب

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز اسی صورت مکمل طور پر کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرلے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہاہےکہ،آبنائے ہرمز کا کھلنا عمان کے ساتھ جاری مذاکرات سے براہِ راست منسلک نہیں اور کسی بیرونی فریق کو ان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے،ایران کے لیے آبنائے ہرمز صرف ایک تجارتی گزرگاہ نہیں بلکہ ملک کی جغرافیائی اور تزویراتی طاقت کا اہم ذریعہ ہے،انھوں نے زور دیا کہ اگر دشمن ممالک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا چاہتی ہے تو ایران کی تمام شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔

    یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے لیے ایک عارضی انتظام پر اتفاق کے امکانات بڑھ گئے ہیں،ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ دونوں ممالک ایک نئے بحری انتظام کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم اس کے مکمل نفاذ کے لیے مزید معاملات طے ہونا باقی ہیں۔

    قبل ازیں امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ ایران، امریکا اور عمان کئی ہفتوں سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری سمجھوتے پر کام کر رہے ہیں یہ مجوزہ انتظام تقریباً 60 روز کے لیے ہو سکتا ہے جس میں بعد ازاں توسیع کی گنجائش بھی رکھی جا سکتی ہے نامہ نگار باراک راویڈ نے ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تہران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کی منظوری کے منتظر ہیں۔

  • لیونل میسی کے والد  انتقال کر گئے

    لیونل میسی کے والد انتقال کر گئے

    ارجنٹائن کے معروف فٹبالر لیونل میسی کے والد جارج میسی طویل علالت کے بعد 68 برس کی عمر میں ارجنٹائن کے شہر روزاریو میں انتقال کرگئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق خاندانی ذرائع نے ان کے انتقال کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جارج میسی اپنی زندگی کے آخری چند ماہ روزاریو کے ایک طبی مرکز اور اپنے گھر کے درمیان گزارتے رہے جہاں ان کی اہلیہ اور بچوں نے ان کی دیکھ بھال کی۔

    جارج میسی اپنے بیٹے لیونل کے فٹبال کیریئر میں ہمیشہ اہم کردار ادا کرتے رہے انہوں نے بارسلونا میں لیونل کے ابتدائی دنوں سے ہی ان کا ساتھ دیا اور کئی برس تک ان کے نمائندے کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں۔

    حالیہ ورلڈ کپ کے دوران الجزائر کے خلاف میچ میں ہیٹ ٹرک کے بعد میسی جذباتی ہوکر رو پڑے تھے، بعد ازاں پریس کانفرنس میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان کے آنسوؤں کی وجہ فٹبال سے متعلق نہیں بلکہ ذاتی زندگی میں گزرنے والے مشکل حالات تھے،بعد میں میسی کے خاندان نے جارج میسی کی صحت سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ طبی علاج کرا رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ چند ماہ قبل لیونل میسی کے والد کے انتقال کی جھوٹی خبر نشر کرنے پر معروف ٹی وی پریزینٹر فلورینسیا پینا نے معافی مانگنے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

  • ایران نے جنگ میں تباہ ہونے والے مبینہ امریکی لڑاکا طیارے نمائش کے لیے پیش کردیئے

    ایران نے جنگ میں تباہ ہونے والے مبینہ امریکی لڑاکا طیارے نمائش کے لیے پیش کردیئے

    ایران نے جنگ کے دوران تباہ کیے گئے امریکی لڑاکا طیاروں کی باقیات پہلی بار نمائش کے لیے پیش کردی ہیں۔

    جاری کی گئی تصاویر اور ویڈیو میں امریکی ایف-15 لڑاکا طیارے (ای اسٹرائیک ایگل) کی مبینہ باقیات بھی دکھائی گئی ہیں نمائش میں طیارے کی ایجکشن سیٹ، کونوپی اور دُم سمیت دیگر حصے رکھے گئے ہیں،ایرانی حکام کی جانب سے طیارے کی باقیات کو عوام کے سامنے پیش کرنے کی ویڈیو اور تصاویر بھی جاری کی گئی ہیں، جن میں نمائش کے مقام پر جنگی طیارے کے مختلف حصے واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

    ایوی ایشنسٹ کی رپورٹ کے مطابق نمائش میں موجود ملبے سے اب تصدیق کی جا سکتی ہے کہ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل کا طیارہ ایئر فریم نمبر 00-3000 تھا، جسے ڈوڈ 44 کے نام سے شناخت کیا گیا ہے۔ طیارے کی باقیات ایران میں زیرِ زمین بنائے گئے کمروں میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔

    نمائش میں ایف-15 ای کے علاوہ امریکی ایم کیو- 1 پریڈیٹر اور ایم کیو 9 ریپر ڈرونز کا ملبہ بھی شامل ہے امریکی فضائیہ کے کئی ایم کیو 9 ریپر ڈرونز آپریشن ایپک فیوری کے دوران ضائع ہوئے، جس سے امریکی ڈرون بیڑے پر دباؤ بڑھنے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

    امریکی فضائیہ کے سربراہ نے ماضی میں ایم کیو 9 کو ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کا ’سب سے قیمتی‘ اثاثہ قرار دیا تھا، تاہم اس ڈرون کی کم رفتار اور محدود دفاعی صلاحیتیں اسے فضائی دفاعی نظام کے لیے نسبتاً آسان ہدف بنا سکتی ہیں،نمائش میں موجود ملبے میں ایف-پندرہ ای اسٹرائیک ایگل کی کینوپی اور پائلٹ کو ہنگامی حالت میں طیارے سے باہر نکالنے والی اے سی ای ایس دوم ایجکشن سیٹ بھی شامل ہے۔ دستیاب تصاویر میں ایجکشن سیٹ طیارے کے دیگر حصوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ محفوظ حالت میں نظر آتی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ڈوڈ چوالیس کو اپریل کے آغاز میں ایران کے اوپر مار گرایا گیا تھا طیارے کا تعلق برطانیہ میں قائم امریکی فضائیہ کے 48ویں فائٹر ونگ سے تھا اس ونگ نے آپریشن ایپک فیوری کے لیے اپنے نصف سے زیادہ فعال جنگی طیارے، جن میں ایف-15 ای اور ایف-35 اے بھی شامل تھے، خطے میں بھیجے تھے۔

    نمائش میں مبینہ طور پر اس ریسکیو مشن سے متعلق بعض امریکی سی-130 طیاروں کا ملبہ بھی شامل ہے جو DUDE 44 کے ویپن سسٹمز آفیسر کو واپس لانے کے لیے کیے گئے آپریشن کے دوران تباہ ہوئے تھے تاہم جاری کی گئی تصاویر میں ان طیاروں کی باقیات کی فوری طور پر واضح شناخت نہیں ہو سکی، یہ طیارے اس وقت امریکی اہلکاروں نے خود تباہ کیے جب وہ عارضی لینڈنگ کے مقام پر پھنس گئے تھے،اس کارروائی میں ایم ایچ-6 اور اے ایچ-6 لٹل برڈ ہیلی کاپٹر بھی شامل تھے۔

    ایرانی نمائش میں اسرائیلی ساختہ ہرمیز ڈرونز کی باقیات بھی رکھی گئی ہیں ان میں ہرمیز 900 کا ایک ڈرون، سیریل نمبر 923، بھی شامل ہے جو کافی حد تک مکمل حالت میں دکھائی دیتا ہے رپورٹ کے مطابق یہ ڈرون مارچ میں مار گرایا گیا تھا اور اس پر موجود ہتھیار بھی باقیات کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں۔

  • پینٹاگون نے ‘یو ایف او’ کی نئی  فائلیں جاری کردیں

    پینٹاگون نے ‘یو ایف او’ کی نئی فائلیں جاری کردیں

    امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے نامعلوم پروازوں سے متعلق 41 نئی دستاویزات جاری کردیں ہیں، جن میں 25 نامعلوم اشیا کے مشاہدات شامل ہیں۔

    امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی نئی غیر اعلانیہ دستاویزات میں مشرق وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر تیزی سے حرکت کرتی ہوئی پراسرار گول شے کی مختصر ویڈیو بھی شامل ہے حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی اس شے کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور کیس کو غیر حل شدہ قرار دیا گیا ہے۔

    پینٹاگون کے چیف ترجمان شان پارنیل نے جمعہ کو ان دستاویزات کے اجرا کا اعلان کیا یہ رواں سال نامعلوم پروازوں یا ’یو اے پی‘ سے متعلق خفیہ ریکارڈز کی جاری کی جانے والی پانچویں کھیپ ہے دستاویزات پینٹاگون، ایف بی آئی، سی آئی اے، محکمہ خارجہ اور امریکی صدر کے ایگزیکٹو آفس سے متعلق ریکارڈز پر مشتمل ہیں، جن میں 1950 سے 2026 تک کے واقعات شامل ہیں۔

    جاری کردہ ریکارڈز میں جنوری 1947 کی ایک انٹیلیجنس رپورٹ میں فن لینڈ اور ڈنمارک میں نظر آنے والے ’گھوسٹ راکٹس‘ کا ذکر کیا گیا تھا، جنہیں اس وقت سوویت راکٹ تجربات سے جوڑا گیا تھا 1948 کی ایک یادداشت میں بھی ایک نامعلوم ’پرواز کرنے والی شے‘ دیکھے جانے کی تصدیق کی گئی، تاہم اس کی کوئی واضح وضاحت پیش نہیں کی گئی۔

    1963 میں برازیل سے بھیجا گیا ایک ٹیلی گرام خاص توجہ کا مرکز ہے، جس میں ایک دھاتی غبارے نما شے کے حادثے اور اس کے اندر ایک ہلاک شخص کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم صرف 6 روز بعد بھیجی گئی ایک اور رپورٹ میں پہلے واقعے کو من گھڑت قرار دے دیا گیا تھا،حالیہ ریکارڈز میں 2021 کا ایک واقعہ بھی شامل ہے، جس میں خلیج عمان میں فوجی اہلکاروں نے ایک لائیو فائر مشق کے دوران 25 نامعلوم اشیا کو حرکت کرتے دیکھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اشیا تقریباً 1300 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار سے سفر کر رہی تھیں۔

    ایف بی آئی نے 2023 اور 2011 میں بھی کولوراڈو اسپرنگز میں دیکھے جانے والی 2 مثلث نما اشیا کی ڈیجیٹل تصاویر تیار کی تھیں، تاہم یہ دونوں مشاہدات تصویروں کے بجائے عینی شاہدین کے بیانات پر مبنی تھے۔

    دستاویزات میں مشرق وسطیٰ کے ایک رہائشی علاقے کے اوپر تیزی سے حرکت کرتی ہوئی پراسرار گول شے کی مختصر ویڈیو بھی شامل ہے حکام کے مطابق ویڈیو میں نظر آنے والی اس شے کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی اور کیس کو غیر حل شدہ قرار دیا گیا ہے۔

    امریکی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے (ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا) یعنی پُراسرار گولے سے متعلق ریکارڈ کے نئے مجموعے میں یہ ویڈیو سامنے آئی ہے ویڈیو میں ایک گنجان آباد علاقے کے اوپر ایک گول یا کرہ نما شے کو تیزی سے حرکت کرتے دیکھا جاسکتا ہے ماہرین نے دستیاب معلومات اور ویڈیو کا جائزہ لیا، تاہم وہ اس بات کا تعین نہیں کرسکے کہ یہ شے ڈرون، غبارہ، طیارہ یا کسی اور معلوم فضائی ذریعے سے تعلق رکھتی تھی۔

    حکام کے مطابق اس شے میں بعض غیر معمولی خصوصیات دیکھی گئیں، جن کی دستیاب معلومات کی بنیاد پر مکمل وضاحت نہیں کی جاسکی اسی وجہ سے اس واقعے کو غیر حل شدہ کیسز کی فہرست میں رکھا گیا ہے۔

    تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی واقعے کو غیر حل شدہ قرار دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے خلائی مخلوق یا کسی غیر زمینی سرگرمی کا ثبوت سمجھا جائے حکام کے مطابق غیر حل شدہ کا مطلب غیر زمینی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واقعے کی حتمی شناخت کے لیے ضروری معلومات دستیاب نہیں تھیں۔

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان آئیڈینٹیفائڈ اینومولس فینومینا سے متعلق مزید ریکارڈ بھی عوام کے لیے جاری کیے جاسکتے ہیں اور ان دستاویزات کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید فائلیں سامنے آئیں گی۔

    گزشتہ چند برسوں کے دوران یو ایف اوز اور نامعلوم فضائی اشیا کے بارے میں دنیا بھر میں دلچسپی میں اضافہ ہوا ہے مختلف حکومتوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ ایسے واقعات سے متعلق معلومات زیادہ شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائی جائیں۔

  • ہری مرچوں سے پھیلنے والی بیماری سے امریکا کی 27 ریاستیں متاثر

    ہری مرچوں سے پھیلنے والی بیماری سے امریکا کی 27 ریاستیں متاثر

    امریکا میں میکسیکو سے درآمد کی گئی ہیلاپینو ہری مرچوں کی ایک مخصوص کھیپ سلمونیلا کی وبا کا سبب بن گئی، جس سے 27 ریاستوں میں 345 افراد بیمار ہوئے ہیں۔

    حکام کے مطابق متاثرہ افراد میں سے 36 کو اسپتال منتقل کرنا پڑا، تاہم اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ مشتبہ مرچوں کی واپسی شروع کردی گئی ہے اور صارفین کو انہیں استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے سلمونیلا کی وبا کا تعلق میکسیکو کی ریاست سینالوا سے امریکا درآمد کی گئی ہیلاپینو مرچوں کی ایک مخصوص کھیپ سے سامنے آیا ہے۔

    یہ مرچیں کوسٹ سٹرس ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے مختلف مقامات پر تقسیم کی گئی تھیں۔ وبا کی نشاندہی کے بعد کمپنی نے مشتبہ کھیپ کی واپسی کا عمل شروع کردیا ہے، جبکہ صارفین کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسی مرچیں استعمال نہ کریں جن کا تعلق متاثرہ کھیپ سے ہو،حکام نے اس وبا کے نتیجے میں اب تک 345 افراد کے بیمار ہونے کی تصدیق کی ہے، جبکہ 36 متاثرین کو طبی امداد کے لیے اسپتال داخل کرایا گیا۔ تاہم واقعے سے متعلق کسی ہلاکت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔

    سلمونیلا کی علامات کیا ہیں؟

    سلمونیلا ایک جراثیمی انفیکشن ہے جو آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوسکتا ہے اس کی عام علامات میں اسہال، پیٹ میں مروڑ یا درد، بخار، متلی اور بعض صورتوں میں الٹی شامل ہیں،زیادہ تر صحت مند افراد مناسب نگہداشت کے ساتھ اس انفیکشن سے صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم کم عمر بچوں، بزرگ افراد اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والوں میں بیماری زیادہ سنگین شکل اختیار کرسکتی ہےایسے افراد میں پانی کی شدید کمی سمیت دیگر پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، اس لیے شدید یا مسلسل علامات کی صورت میں طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔

  • دفاعی معاہدہ،سعودی عرب میں تاریخی عمارتیں تینوں ممالک کے پرچموں کے رنگوں سے جگمگا اٹھیں

    دفاعی معاہدہ،سعودی عرب میں تاریخی عمارتیں تینوں ممالک کے پرچموں کے رنگوں سے جگمگا اٹھیں

    سعودی عرب میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کی خوشی میں جمعہ کی شب اہم عمارتوں، ٹاورز اور معروف مقامات کو سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے قومی پرچموں کے رنگوں سے روشن کیا گیا۔

    سعودی عرب کے مختلف شہروں میں ہونے والی خوبصورت روشنیوں نے تینوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات، اسلامی اخوت اور یکجہتی کی عکاسی کی۔ عمارتوں پر نمایاں تینوں ممالک کے پرچموں کے رنگ امن، سلامتی اور استحکام کے مشترکہ عزم کی علامت بن گئے۔مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت دفاعی تعاون اور اجتماعی سلامتی کے شعبوں میں شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔تینوں ممالک اس تعاون کے ذریعے خطے میں امن و استحکام کے فروغ اور ایک محفوظ و خوشحال مستقبل کے مشترکہ وژن کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں۔

  • ایران میں دورانِ جنگ تباہ امریکی و اسرائیلی طیارے نمائش کیلئے پیش

    ایران میں دورانِ جنگ تباہ امریکی و اسرائیلی طیارے نمائش کیلئے پیش

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جنگ کے دوران تباہ ہونے والے امریکی اور اسرائیلی طیاروں اور ڈرونز کے مبینہ ملبے کو نمائش کے لیے پیش کردیا ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق نمائش میں پہلی مرتبہ امریکی ایف 15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے کی باقیات بھی دکھائی گئی ہیں۔ نمائش میں طیارے کی ایجیکشن سیٹ، کینوپی اور دم سمیت دیگر حصے شامل ہیں۔ تازہ جاری ہونے والی تصاویر میں ملبے کو زیرِ زمین مقام پر نمائش کے لیے رکھا گیا دکھایا گیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف ہے کہ یہ ملبہ ان امریکی اور اسرائیلی طیاروں اور ڈرونز کا ہے جنہیں جنگ کے دوران ایرانی کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا۔

    ایران اس سے قبل بھی امریکی ایف 35 اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کو تباہ کرنے کے دعوے کرچکا ہے، تاہم امریکی حکام نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے۔ 30 جولائی کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اردن کے الازرق ایئربیس پر حملے کے دوران تین امریکی ایف 35 طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جسے امریکی فوج نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی طیاروں کو نقصان نہیں پہنچا۔تازہ نمائش کو ایران کی جانب سے جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی فضائی طاقت کو پہنچنے والے مبینہ نقصانات کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ نمائش میں امریکی ایف 15 ای کے علاوہ مختلف ڈرونز کا ملبہ بھی شامل ہے۔