Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • اسرائیلی ڈرون حملہ، بیروت سے جنوبی لبنان جانے والی شاہراہ پر 8 افراد شہید

    اسرائیلی ڈرون حملہ، بیروت سے جنوبی لبنان جانے والی شاہراہ پر 8 افراد شہید

    ‎عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی ڈرونز نے بیروت کو جنوبی لبنان سے ملانے والی اہم شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد شہید ہو گئے۔ حملے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ امدادی ٹیموں نے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ کر کارروائیاں شروع کر دیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق حملہ ایک مصروف شاہراہ پر کیا گیا جہاں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔ ابتدائی اطلاعات میں شہداء کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آ سکی، تاہم مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
    ‎لبنان کے سرکاری میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی فضائی حملوں میں مجموعی طور پر کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔
    ‎لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں کے باعث جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے جبکہ شہری آبادی شدید خوف میں مبتلا ہے۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں سے انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
    ‎دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے حملوں کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث لبنان اور اسرائیل کے درمیان صورتحال مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جنگی صورتحال پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کا اعلان، امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی دھمکی

    ایران کا آبنائے ہرمز پر سخت کنٹرول کا اعلان، امریکی ہتھیاروں کی ترسیل روکنے کی دھمکی

    ‎ایرانی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے ذریعے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے لیے ہتھیاروں کی ترسیل کی اجازت نہیں دے گا۔ ایرانی حکام کے اس بیان نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
    ‎ایرانی فوج کے بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو ایرانی مسلح افواج کی نگرانی میں سفر کرنا ہوگا تاکہ “محفوظ آمدورفت” کو یقینی بنایا جا سکے۔
    ‎انہوں نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز اس وقت ایرانی افواج کے “اسٹریٹجک کنٹرول” میں ہے۔ ان کے مطابق اس اہم آبی گزرگاہ کے مغربی حصے کی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ جبکہ مشرقی حصے کی نگرانی ایرانی بحریہ کر رہی ہے۔
    ‎بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے کہا کہ ایران خطے میں کسی بھی ایسی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گا جو اس کی قومی سلامتی یا علاقائی استحکام کے خلاف ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجی اڈوں کے لیے اسلحہ یا فوجی سامان لے جانے والے جہازوں پر خصوصی نظر رکھی جائے گی۔
    ‎ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور ایران، امریکا و اسرائیل کے درمیان تنازع کے باعث اس اہم بحری راستے کی سکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے “اسٹریٹجک کنٹرول” کے دعوے اور امریکی فوجی سامان کی ترسیل روکنے کی وارننگ خطے میں مزید تناؤ پیدا کر سکتی ہے، جبکہ عالمی طاقتیں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  • بھارت کے سابق آرمی چیف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور

    بھارت کے سابق آرمی چیف کا پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر زور

    بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) منوج مکند نروانے نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے رہنما دتاتریہ ہوسابالے کے اس موقف کی تائید کی ہے جس میں پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی بات کی گئی تھی۔ سابق آرمی چیف نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان دوستی اور روابط کی بحالی ہی بہتر دو طرفہ تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔
    جنرل نروانے کا کہنا تھا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے مابین تناؤ کم کرنے اور تعلقات کو پٹری پر لانے کے لیے بات چیت کا راستہ اختیار کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق، عوامی سطح پر میل جول اور مثبت تعلقات کے ذریعے ہی دونوں حکومتوں کے درمیان موجود سرد مہری کو ختم کیا جا سکتا ہے اور خطے میں پائیدار امن کے امکانات کو روشن کیا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل آر ایس ایس کے اہم رہنما نے بھی پاکستان کے ساتھ مکالمے کے حق میں بیان دیا تھا، جسے اب بھارتی عسکری قیادت کے سابق سربراہ کی حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے۔

  • جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز سکیورٹی مشن میں شمولیت پر غور کرنے لگا

    جنوبی کوریا بھی آبنائے ہرمز سکیورٹی مشن میں شمولیت پر غور کرنے لگا

    ‎جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت یقینی بنانے کے لیے عالمی کوششوں میں مرحلہ وار تعاون پر غور کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی بحری راستوں کی سکیورٹی اہم مسئلہ بن چکی ہے۔
    ‎جنوبی کوریا کے وزیر دفاع آن گیو بیک نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دو روز قبل امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ سے ملاقات میں سیول کا مؤقف پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا ایک ذمے دار عالمی رکن کے طور پر مختلف تعاون کے طریقوں کا جائزہ لے رہا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ ممکنہ تعاون میں سیاسی حمایت، فوجی اہلکاروں کی محدود تعیناتی، انٹیلی جنس اور معلومات کا تبادلہ، اور فوجی سازوسامان کی فراہمی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس مرحلے پر فوجی شرکت میں بڑے پیمانے پر اضافے سے متعلق کوئی تفصیلی بات چیت نہیں ہوئی۔
    ‎دوسری جانب جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر وی سنگ لاک نے کہا کہ سیول امریکا کی قیادت میں قائم “میری ٹائم فریڈم کنسٹرکٹ” میں شمولیت کے امکان کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔ اس اتحاد کا مقصد آبنائے ہرمز اور دیگر اہم بحری راستوں میں تجارتی جہازوں کی محفوظ نقل و حرکت کو یقینی بنانا ہے۔
    ‎اس سے قبل فرانس، برطانیہ اور آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز میں سکیورٹی مشن میں شامل ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ عالمی طاقتوں کی بڑھتی دلچسپی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال بین الاقوامی تجارت اور توانائی سپلائی کے لیے کتنی اہم ہو چکی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق دنیا کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی کی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

  • چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا، خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے قریب لنگر انداز

    چینی آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا، خلیج عمان میں امریکی ناکہ بندی کے قریب لنگر انداز

    ‎عراقی خام تیل لے جانے والا ایک چینی آئل ٹینکر کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج عمان پہنچ گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے باعث اس اہم آبی گزرگاہ پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔
    ‎الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل سے لدا چینی جہاز “یوآن ہوا ہو” اس وقت خلیج عمان کے قریب لنگر انداز ہے۔ اطلاعات کے مطابق جس مقام پر جہاز موجود ہے وہاں امریکی بحریہ نے ایرانی جہازوں کی نگرانی اور ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگی صورتحال شروع ہونے کے بعد یہ تیسرا چینی آئل ٹینکر ہے جس کے آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
    ‎خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صورتحال سے آگاہ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے خطے میں تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے عراق اور پاکستان کے ساتھ مخصوص معاہدوں پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ دیگر ممالک بھی اسی نوعیت کے معاہدوں کے امکانات تلاش کر رہے ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کا اثر عالمی تیل منڈی اور معیشت پر فوری طور پر پڑتا ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چینی آئل ٹینکر کی محفوظ گزرگاہ اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود عالمی طاقتیں توانائی کی ترسیل جاری رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم امریکی بحری ناکہ بندی اور ایرانی کنٹرول کے باعث صورتحال اب بھی انتہائی حساس ہے۔

  • امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران

    امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ایران

    ‎ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی دھمکی آمیز پالیسی، اشتعال انگیز بیان بازی اور بے ایمانی خطے میں امن قائم ہونے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
    ‎ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ناروے کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی اصل وجہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی معاہدوں کی بار بار خلاف ورزیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے میں استحکام اور امن چاہتا ہے، تاہم مسلسل دباؤ اور دھمکیوں سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔
    ‎عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اس اہم اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق نئے ضوابط تیار کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران عالمی بحری قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے خطے میں جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتا ہے۔
    ‎دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج ہر ممکن صورتحال اور کسی بھی منظرنامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اگر دنیا واقعی “بربریت اور تسلط” کو مسترد کرتی ہے تو اسے ایران کے حق میں آواز بلند کرنی چاہیے۔
    ‎ایرانی حکام کے حالیہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
    ‎سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے امریکا پر تنقید اور دفاعی تیاریوں کے اعلانات خطے میں مزید تناؤ کا اشارہ دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو صورتحال عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی طاقتیں خطے میں بڑھتی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دے رہی ہیں تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔

  • آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز کے دفاعی مشن میں شامل، برطانیہ اور فرانس قیادت کریں گے

    آسٹریلیا بھی آبنائے ہرمز کے دفاعی مشن میں شامل، برطانیہ اور فرانس قیادت کریں گے

    ‎آسٹریلیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں قائم کیے جانے والے کثیرالملکی دفاعی مشن میں شامل ہوگا۔ اس اعلان کے بعد خطے میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی بحری سلامتی کے معاملات مزید اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق آسٹریلوی وزیر دفاع رچرڈ مارلز نے 40 ممالک کے اجلاس کے بعد بتایا کہ آسٹریلیا اس مشن کے لیے اپنا جدید E-7A ویجٹیل نگرانی طیارہ فراہم کرے گا۔ یہ طیارہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں متحدہ عرب امارات کو مبینہ ایرانی ڈرون حملوں سے بچانے کے لیے تعینات ہے۔
    ‎رچرڈ مارلز نے کہا کہ آسٹریلیا ایک “آزاد، دفاعی اور کثیرالملکی فوجی مشن” کی حمایت کرے گا جس کی قیادت برطانیہ اور فرانس کریں گے۔ ان کے مطابق اس مشن کا مقصد عالمی بحری تجارت کے اہم راستے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔
    ‎اس سے قبل برطانیہ بھی اعلان کر چکا ہے کہ وہ اس مشن کے لیے جدید خودکار مائن ہنٹنگ آلات، جنگی طیارے اور جنگی بحری جہاز روانہ کرے گا۔ برطانوی وزیر دفاع جان ہیلی نے ورچوئل اجلاس کے دوران کہا کہ یہ مشن مناسب حالات میں فعال کیا جائے گا اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔
    ‎برطانیہ نے اس دفاعی مشن کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ بھی مختص کی ہے۔ یہ رقم جدید مائن ہنٹنگ ڈرونز اور کاؤنٹر ڈرون سسٹمز کی خریداری پر خرچ کی جائے گی۔
    ‎رپورٹس کے مطابق رائل نیوی کا جدید “Beehive” سسٹم بھی اس مشن کا حصہ ہوگا، جو تیز رفتار “Kraken” ڈرون کشتیوں کے ذریعے سمندری خطرات کی نگرانی اور ان کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
    ‎اس کے علاوہ برطانیہ ٹائفون جنگی طیارے بھی آبنائے ہرمز میں فضائی نگرانی کے لیے تعینات کرے گا جبکہ خصوصی مائن کلیئرنس ماہرین بھی مشن میں شامل ہوں گے۔ رائل نیوی کا جنگی جہاز HMS Dragon پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے انتہائی اہم گزرگاہ ہے اور اس کے تحفظ کے لیے عالمی طاقتوں کی بڑھتی سرگرمیاں خطے کی کشیدہ صورتحال کو ظاہر کرتی ہیں۔

  • دنیا کی سب سے مہنگی مرغی، قیمت سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    دنیا کی سب سے مہنگی مرغی، قیمت سن کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

    ‎اگر کوئی آپ سے کہے کہ ایک مرغی کی قیمت لاکھوں روپے ہے اور اس کا ایک انڈا بھی ہزاروں میں فروخت ہوتا ہے تو شاید یقین کرنا مشکل ہو، مگر دنیا میں واقعی ایک ایسی نایاب مرغی موجود ہے جس کی قیمت سن کر لوگ حیران رہ جاتے ہیں۔
    ‎دنیا کی سب سے مہنگی مرغی “ایام سلیمانی” کہلاتی ہے، جو انڈونیشیا کی ایک انتہائی نایاب نسل ہے۔ اس مرغی کی سب سے حیران کن بات اس کا مکمل کالا رنگ ہے۔ اس کے صرف پر ہی نہیں بلکہ گوشت، جلد، چونچ، ہڈیاں اور حتیٰ کہ اندرونی اعضا بھی کالے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے اسے “مرغیوں کی لیمبورگینی” بھی کہا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس مرغی کے مکمل کالے رنگ کی وجہ ایک جینیاتی کیفیت ہے جسے “فائبرومیلا نوسس” کہا جاتا ہے۔ اس خاص جینیاتی تبدیلی کی وجہ سے اس کے جسم میں میلانین کی مقدار عام مرغیوں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کا پورا جسم سیاہ دکھائی دیتا ہے۔
    ‎ایام سلیمانی نہ صرف اپنی منفرد شکل بلکہ غذائیت کے باعث بھی خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے گوشت میں عام برائلر چکن کے مقابلے میں زیادہ پروٹین اور کم چکنائی پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہوتی ہے، اسی لیے کئی لوگ اسے “سپر فوڈ” قرار دیتے ہیں۔
    ‎بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک اعلیٰ نسل کی ایام سلیمانی مرغی کی قیمت 5 ہزار سے 6 ہزار امریکی ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 14 سے 17 لاکھ روپے بنتی ہے۔ حیران کن طور پر اس کا ایک انڈا بھی 4 سے 5 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت ہوتا ہے۔
    ‎انڈونیشیا میں اس مرغی کو صرف ایک نایاب پرندہ ہی نہیں بلکہ روحانی اور مقدس حیثیت بھی دی جاتی ہے۔ بعض علاقوں میں اسے مذہبی اور روایتی رسومات میں استعمال کیا جاتا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس نسل کی مرغی کی افزائش انتہائی مشکل ہے اور یہ کم تعداد میں انڈے دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کی قیمت آسمان کو چھوتی ہے اور دنیا بھر میں اسے شاہانہ شوق سمجھا جاتا ہے۔

  • بھارت میں تربوز کھانے کے بعد 12 سالہ بچے کی ہلاکت، تشویش میں اضافہ

    بھارت میں تربوز کھانے کے بعد 12 سالہ بچے کی ہلاکت، تشویش میں اضافہ

    ‎بھارت میں تربوز کھانے کے بعد ایک اور افسوسناک واقعے نے عوام میں تشویش بڑھا دی ہے۔ ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع جنجگیر چامپا کے گاؤں دھورکوٹ میں 12 سالہ بچے کی ہلاکت کے بعد فوڈ سیفٹی اور خوراک کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والے بچے کی شناخت اکھلیش دھیور کے نام سے ہوئی ہے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام چاروں بچوں نے تربوز کھایا تھا، جس کے بعد رات کو چکن بھی کھایا گیا۔ تاہم چند گھنٹوں بعد بچوں کی طبیعت اچانک خراب ہونا شروع ہو گئی۔
    ‎اہلِ خانہ کے مطابق اکھلیش کو شدید پیٹ درد، مسلسل قے اور متعدد بار اسہال کی شکایت ہوئی۔ ابتدا میں گھر والے بچے کا علاج گھر پر ہی کرتے رہے، لیکن رات بھر طبیعت خراب رہنے کے بعد اگلی صبح اس کی حالت مزید بگڑ گئی۔
    ‎گھر والوں نے فوری طور پر ایمبولینس طلب کی تاکہ بچے کو اسپتال منتقل کیا جا سکے، مگر افسوسناک طور پر اکھلیش راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
    ‎دیگر تین بچوں بھوپیندر دھیور، ہیمیش دھیور اور شری دھیور کو فوری طور پر جنجگیر کے ضلعی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں علاج کے لیے داخل کر لیا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق تینوں بچوں کی حالت اب خطرے سے باہر اور مستحکم بتائی جا رہی ہے۔
    ‎ضلعی اسپتال میں تعینات ڈاکٹر اقبال حسین نے تصدیق کی کہ اکھلیش کو اسپتال لایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
    ‎یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو ہفتے قبل ممبئی میں بھی تربوز کھانے کے بعد ایک ہی خاندان کے چار افراد کی ہلاکت کی خبر سامنے آئی تھی، جس کے بعد عوام میں خوف اور تشویش بڑھ گئی ہے۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے موسم میں خراب یا کیمیکل ملے پھل صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو احتیاط سے پھل خریدنے اور صاف ستھرے ماحول میں محفوظ خوراک استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  • ‎ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر چین پہنچ گئے، شاندار استقبال

    ‎ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر چین پہنچ گئے، شاندار استقبال

    ‎امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تین روزہ سرکاری دورے پر چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچ گئے جہاں ان کا پرتپاک اور شاندار استقبال کیا گیا۔ اس دورے کو امریکا اور چین کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور معاشی معاملات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
    ‎تفصیلات کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دورہ چین کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں تجارتی جنگ، عالمی معیشت، سرمایہ کاری، خطے کی صورتحال اور دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف اہم امور زیر بحث آئیں گے۔
    ‎سیاسی مبصرین کے مطابق امریکا اور چین کے تعلقات حالیہ برسوں میں کئی نشیب و فراز سے گزرے ہیں، جبکہ تجارتی محصولات اور اقتصادی پالیسیوں کے باعث دونوں عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ اس تناظر میں ٹرمپ کا دورہ انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
    ‎صدر ٹرمپ اس سے قبل 2017 میں بھی چین کا دورہ کر چکے ہیں، جہاں ان کی چینی قیادت کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ موجودہ دورے کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق چینی حکام نے امریکی صدر کے استقبال کے لیے خصوصی انتظامات کیے، جبکہ بیجنگ میں سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔ عالمی میڈیا کی نظریں اس دورے پر مرکوز ہیں کیونکہ اس کے نتائج عالمی معیشت اور بین الاقوامی سیاست پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔