Baaghi TV

Category: بین الاقوامی

  • ٹرمپ کا ایران معاہدہ اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف ہے؟

    ٹرمپ کا ایران معاہدہ اوباما کے جوہری معاہدے سے کس طرح مختلف ہے؟

    امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے جوہری معاہدے سے بہتر قرار دیا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرحلے پر یہ فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آیا نیا معاہدہ واقعی 2015 کے جوہری معاہدے سے زیادہ مؤثر ثابت ہوگا یا نہیں۔

    فرانس میں الیکٹرانک طور پر دستخط کیے گئے 14 نکاتی فریم ورک کے مطابق ایران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے اور حاصل نہ کرنے کا عہد کیا ہے، جبکہ امریکا نے پابندیوں کے خاتمے، 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو فنڈ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی پر اتفاق کیا ہے۔نئے معاہدے اور اوباما دور کے جوہری معاہدے میں سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ 2015 کے JCPOA میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی اور واضح شرائط شامل تھیں۔ اس معاہدے کے تحت ایران کو 15 سال تک صرف 3.67 فیصد تک یورینیئم افزودہ کرنے کی اجازت دی گئی تھی، جو توانائی کے مقاصد کے لیے کافی سمجھی جاتی تھی، جبکہ ہتھیار بنانے کے لیے درکار 90 فیصد افزودگی سے بہت کم تھی۔

    اس کے برعکس موجودہ مفاہمتی یادداشت میں جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی شرائط شامل نہیں کی گئیں اور اس معاملے کو آئندہ 60 روزہ مذاکراتی مرحلے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کو یورینیئم افزودہ کرنے کی کتنی اجازت ہوگی یا سرے سے اجازت دی بھی جائے گی یا نہیں۔

    معاہدے کے تحت امریکا نے ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے اور علاقائی شراکت داروں کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے اقتصادی و تعمیر نو پروگرام پر کام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اوباما دور کے معاہدے میں پابندیوں میں نرمی ایران کی جانب سے جوہری شرائط پر عمل درآمد سے مشروط تھی، جبکہ نئے معاہدے میں پابندیوں کے خاتمے کا حتمی شیڈول آئندہ مذاکرات کے بعد طے کیا جائے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 300 ارب ڈالر کا مجوزہ فنڈ ایران کی معیشت کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے اور اسے بین الاقوامی اقتصادی تنہائی سے نکالنے میں مدد دے سکتا ہے۔ معاہدے میں ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق ان اثاثوں کا بڑا حصہ امریکا کے بجائے چین اور عراق جیسے ممالک میں موجود ہے، جس کے باعث ان کی واپسی مکمل طور پر واشنگٹن کے اختیار میں نہیں۔

    نئے معاہدے کا ایک اہم پہلو آبنائے ہرمز سے متعلق ہے، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ترین راستہ سمجھا جاتا ہے۔ جنگ کے دوران اس راستے کی بندش سے عالمی توانائی منڈیوں میں شدید بحران پیدا ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا جبکہ ایران اور عمان مستقبل میں آبنائے ہرمز کے انتظامی امور پر مذاکرات کریں گے۔

    علاقائی سلامتی کے حوالے سے بھی معاہدے میں کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔ جس طرح اوباما دور کے معاہدے میں حماس،حزب اللہ اور حوثی گروہوں کا براہ راست ذکر نہیں تھا، اسی طرح نئے معاہدے میں بھی ان گروہوں سے متعلق کوئی واضح شرط شامل نہیں کی گئی۔ البتہ لبنان سمیت مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے کا ذکر ضرور موجود ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ مفاہمتی یادداشت فی الحال ایک ابتدائی فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں کئی اہم نکات ابھی طے ہونا باقی ہیں۔ ان کے نزدیک موجودہ مرحلے پر یہ معاہدہ اوباما دور کے JCPOA سے زیادہ جامع یا مؤثر دکھائی نہیں دیتا، تاہم آئندہ 60 روز کے مذاکرات میں اگر تفصیلی شرائط طے پا جاتی ہیں تو اس کی نوعیت اور اثرات میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

  • مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا

    مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا

    جی سیون سمٹ میں مودی کی شرکت بھارت کیلئے بدنامی کا سبب بن گئی

    خود کو عالمی رہنما کے طور پر پیش کرنے والے مودی کو امریکی صدر سے ملاقات مہنگی پڑ گئی ،بھارت میں طویل ترین مدت تک اقتدار میں رہنے والا مودی امریکی صدر سے گفتگو کے دوران بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا،ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے ایک لفظ نہ بول پانے والے مودی کو امریکی صدر نے قاتل کا لقب دے دیا،ٹیلی پرامپٹر کے سہارے تقریریں کرنے والا مودی ہاتھ میں پرچی لیکر بھی ٹرمپ کے سامنے اعتماد سے دو لفظ نہ بول سکا،سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کاکروچ جنتا پارٹی نے طنزیہ ٹوئٹ میں کہا کہ؛کیا ملاقات میں مودی بغیر ٹیلی پرومپٹر کے ایک لفظ بھی نہیں بول سکتا؟

  • نیویارک،ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ سے خوف و ہراس، بھگدڑ میں ایک شخص زخمی

    نیویارک،ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ سے خوف و ہراس، بھگدڑ میں ایک شخص زخمی

    نیویارک کے مصروف ترین علاقے ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ کے واقعے کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا، جبکہ بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہو گیا۔

    پولیس کے مطابق واقعہ دوپہر 3 بج کر 40 منٹ پر پیش آیا، جس کے بعد علاقے میں موجود سیاحوں اور شہریوں میں شدید خوف پھیل گیا اور لوگ جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث 17 سالہ مشتبہ نوجوان کو پولیس نے فوری تعاقب کے بعد حراست میں لے لیا، جبکہ زخمی شخص کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    فائرنگ کا یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب باسکٹ بال ٹیم نیویارک نِکس کی کامیابی کے حوالے سے شہر بھر میں تقریبات جاری تھیں۔ سیکیورٹی کے پیش نظر تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکار مختلف مقامات پر تعینات تھے۔واضح رہے کہ 16 جون کو بھی نیویارک نِکس کی تاریخی کامیابی کے بعد ٹائمز اسکوائر میں فائرنگ کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 17 سالہ لڑکا زخمی ہو گیا تھا۔پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں جبکہ علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔

  • امریکا کا ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    امریکا کا ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان

    امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ خطے میں بحری نگرانی جاری رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

    امریکی فوج کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے امریکی بحری جہاز خطے میں موجود رہیں گے، تاہم ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں پر عائد ناکہ بندی ختم کر دی گئی ہے۔دوسری جانب ایرانی سپریم سکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے اقدامات کو اسلام آباد معاہدے کے تحت انجام دینے کا اعلان کیا ہے۔ کونسل کے مطابق یہ اقدامات بحری راستوں کی بحالی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیے جائیں گے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کرے گی۔ اتھارٹی کی جانب سے مقرر کردہ راستوں اور اوقات کار کی پابندی تمام بحری جہازوں کے لیے لازمی ہوگی تاکہ سمندری نقل و حمل کو محفوظ اور منظم بنایا جا سکے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق ناکہ بندی کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی سے عالمی تجارتی اور توانائی کی منڈیوں میں استحکام آنے کی توقع ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی اہم ترین تیل بردار شاہراہوں میں شمار ہوتی ہے۔

  • 
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، سعودی عرب کے تین سپر ٹینکرز گزر گئے

    
آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، سعودی عرب کے تین سپر ٹینکرز گزر گئے

    ‎ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی کے واضح آثار سامنے آنے لگے ہیں۔ معاہدے پر دستخط کے چند گھنٹوں بعد سعودی عرب کے پرچم بردار تین سپر ٹینکرز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر گئے، جسے عالمی توانائی کی منڈی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎شپنگ ڈیٹا کے مطابق یہ تینوں سپر ٹینکرز مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ بیرل خام تیل لے کر خلیج سے عالمی منڈیوں کی جانب روانہ ہوئے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران یہ سعودی بندرگاہوں سے آبنائے ہرمز کے راستے خام تیل کی سب سے بڑی ترسیل قرار دی جا رہی ہے۔
    ‎توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کی بحالی سے عالمی منڈی میں خام تیل کی سپلائی بہتر ہوگی، جس سے قیمتوں پر دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ خلیجی ممالک کے لیے بھی یہ پیش رفت نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل اسی اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے ہوتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی اور بحری راستوں کے محفوظ ہونے سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت معمول پر آنے کی توقع ہے، جس سے توانائی کی عالمی سپلائی چین مزید مستحکم ہو سکتی ہے۔
    ‎اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں امن برقرار رہا اور بحری آمدورفت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی تو نہ صرف خام تیل کی دستیابی میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات بھی روشن ہوں گے۔

  • ایران کے ساتھ 60 روزہ معاہدے پر عملدرآمد شروع، آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کی یقین دہانی: جے ڈی وینس

    ایران کے ساتھ 60 روزہ معاہدے پر عملدرآمد شروع، آبنائے ہرمز کھلا رکھنے کی یقین دہانی: جے ڈی وینس

    ‎واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے تحت 60 روزہ عملدرآمد کا مرحلہ آج سے شروع ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران خطے میں دہشت گردی کی مالی معاونت نہ کرے اور معاہدے کی تمام شرائط پر عمل درآمد جاری رہے۔
    ‎میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی بڑی فوجی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں اور امریکا نے ایران کی متعدد بیلسٹک میزائل تنصیبات کو تباہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اب ایران اپنی معیشت کی بحالی پر توجہ دینا چاہتا ہے اور اگر اس کا طرزِ عمل مثبت رہا تو اس کا فائدہ خود ایران کو ہوگا۔
    ‎انہوں نے کہا کہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں معمول پر آنا شروع ہو گئی ہیں اور گزشتہ ایک ہی رات میں 12 ملین بیرل سے زائد خام تیل اس اہم بحری گزرگاہ سے منتقل کیا گیا۔ ان کے بقول ایران نے اب تک کسی تجارتی جہاز کو نشانہ نہیں بنایا اور وہ مفاہمتی یادداشت میں شامل آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کی شق پر عمل کر رہا ہے۔
    ‎امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ حتمی معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ایران کے پاس ایسے میزائل نہ ہوں جو عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنا چاہے تو اس کے لیے اسے بھاری مالی وسائل درکار ہوں گے۔
    ‎جے ڈی وینس نے واضح کیا کہ پابندیوں میں نرمی محدود نوعیت کی ہوگی اور امریکا ایران کے مالی لین دین اور معاہدے پر عملدرآمد کا مسلسل جائزہ لیتا رہے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی انتظامیہ کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی بعض پابندیاں عارضی طور پر معطل کر سکتی ہے، تاہم ایران کو براہ راست کوئی مالی رقم فراہم نہیں کی جائے گی۔

  • 
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    
آبنائے ہرمز کھلنے سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان

    ‎لندن: صنعتی ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد جمعہ کو آبنائے ہرمز دوبارہ مکمل طور پر کھول دی جاتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوگا، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
    ‎خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی سے خلیجی ممالک کا وہ خام تیل بھی عالمی منڈی تک پہنچ سکے گا جو حالیہ کشیدگی کے باعث ٹینکروں میں رکا ہوا تھا۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اضافی سپلائی کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنے کا امکان ہے۔
    ‎توانائی تجزیاتی ادارے کپلر (Kpler) کے مطابق آبنائے ہرمز کھلنے سے تقریباً 9 کروڑ 30 لاکھ بیرل غیر ایرانی خام تیل عالمی منڈی میں آ سکتا ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر خلیج میں رکا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اگر امریکا ایرانی خام تیل پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی کرتا ہے تو ایران کا تقریباً 7 کروڑ 20 لاکھ بیرل خام تیل بھی عالمی منڈی میں شامل ہو سکتا ہے، جس سے سپلائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک نے متحدہ عرب امارات اور عمان کے ساحل کے قریب جہاز سے جہاز منتقلی (Ship-to-Ship Transfers) کے ذریعے برآمدات جاری رکھیں، جس کے باعث مشرق وسطیٰ کے خام تیل کی اسپاٹ قیمتوں پر پہلے ہی دباؤ دیکھنے میں آیا۔
    ‎ماہرین کا کہنا ہے کہ ایشیائی ریفائنریوں نے جون سے اگست تک کے لیے بڑی مقدار میں خام تیل کی خریداری پہلے ہی مکمل کر لی ہے، جبکہ ریفائننگ مارجن میں کمزوری کے باعث مستقبل میں نئی خریداری کی رفتار نسبتاً محدود رہ سکتی ہے۔
    ‎اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے اور ایران سے متعلق پابندیوں میں مزید نرمی آتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈی میں استحکام پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

  • 
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    
انگلینڈ میں شدید گرمی، یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کا ایمبر ہیلتھ الرٹ جاری

    ‎لندن: یوکے ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے پیش نظر ایمبر ہیٹ ہیلتھ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث صحت کے نظام اور سماجی خدمات پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ بزرگ افراد اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا شہریوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایمبر ہیلتھ الرٹ کا اطلاق لندن، ساؤتھ ایسٹ، ساؤتھ ویسٹ اور ایسٹ آف انگلینڈ میں منگل کی شام 8 بجے تک برقرار رہے گا۔ اس دوران متعلقہ اداروں کو ممکنہ طبی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎دوسری جانب ویسٹ مڈلینڈز اور ایسٹ مڈلینڈز کے لیے اسی مدت تک یلو ہیٹ ہیلتھ وارننگ جاری کی گئی ہے، جہاں گرمی کی شدت نسبتاً کم ہونے کے باوجود حساس افراد کو احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
    ‎ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ شدید گرمی خصوصاً عمر رسیدہ افراد، دل، سانس اور دیگر دائمی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی پئیں، ٹھنڈی جگہوں پر رہیں اور ضرورت پڑنے پر فوری طبی امداد حاصل کریں۔
    ‎موسمی پیشگوئی کے مطابق لندن میں پیر کے روز درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ منگل کو 32 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔
    ‎برطانوی حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور اپنے بزرگ عزیزوں، تنہا رہنے والے افراد اور صحت کے مسائل سے دوچار لوگوں کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ شدید گرمی کے منفی اثرات سے محفوظ رہا جا سکے۔

  • 
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    
اسرائیل جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنے پر قائم

    ‎تل ابیب: اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے مؤقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کسی قسم کی پسپائی اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے قریبی ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی تعیناتی کے معاملے پر امریکا کے ساتھ سخت اور تفصیلی مذاکرات جاری ہیں۔
    ‎سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی فوجی موجودگی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے اور اس معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی برقرار رکھنا ناگزیر ہے، جبکہ اس حوالے سے امریکا کے ساتھ مختلف سفارتی اور سیکیورٹی امور پر مسلسل رابطے جاری ہیں۔
    ‎دوسری جانب اس معاملے پر خطے کی صورتحال پر عالمی برادری بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ جنوبی لبنان میں فوجی موجودگی کا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام سے جڑا ایک اہم معاملہ تصور کیا جاتا ہے۔
    ‎تاحال امریکا یا لبنان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ مذاکرات کے نتائج پر علاقائی اور بین الاقوامی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔

  • 
لبنان کو امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری درکار ہے، صدر جوزف عون

    
لبنان کو امداد نہیں بلکہ سرمایہ کاری درکار ہے، صدر جوزف عون

    ‎بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ ملک کو صرف انسانی امداد کی نہیں بلکہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ معیشت کو مستحکم کیا جا سکے اور عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہو۔
    ‎صدر جوزف عون نے یہ بات قطر، فرانس اور برطانیہ کے وزارتی وفود سے ملاقات کے بعد جاری اپنے بیان میں کہی۔ انہوں نے زور دیا کہ لبنان کا استحکام نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ کے امن اور سلامتی کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ لبنان میں امن و امان کا قیام پورے خطے کے مفاد میں ہے، اس لیے بین الاقوامی برادری کو ملک کی اقتصادی بحالی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق مضبوط اور مستحکم لبنان خطے میں دیرپا امن کے لیے ناگزیر ہے۔
    ‎صدر عون نے قطر، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے لبنان کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے نہ صرف انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کی بلکہ لبنانی فوج اور سیکیورٹی اداروں کی معاونت بھی جاری رکھی، جس سے ملکی استحکام میں مدد ملی ہے۔
    ‎انہوں نے واضح کیا کہ لبنان اب صرف امدادی پیکجوں کا خواہاں نہیں بلکہ ایسی سرمایہ کاری چاہتا ہے جو روزگار کے مواقع پیدا کرے، معیشت کو مضبوط بنائے اور پائیدار ترقی کی بنیاد رکھے۔
    ‎جوزف عون کا کہنا تھا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ ایک طرف عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جائے اور دوسری جانب لبنانی عوام کا اپنے ریاستی اداروں پر اعتماد بھی مضبوط کیا جائے، تاکہ ملک معاشی اور سیاسی استحکام کی جانب بڑھ سکے۔