Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    واٹس ایپ کی پیغامات کے ازخود غائب ہونے والے فیچر میں تبدیلی

    سان فرانسسكو: میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے نئے فیچر متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کے دنیا بھر میں دو ارب سے زائد صارفین ہیں جنہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے کمپنی کی جانب سے آئے روز نت نئے فیچرز یا سہولیات پیش کی جاتی ہیں۔

    واٹس ایپ پر نظر رکھنے والے ادارے ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے خود بہ خود غائب ہونے والے فیچر کو مزید کارآمد بنانے کے لیے اس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے پر کام شروع کردیا ہے۔

    واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    صارف جب غائب ہونے والے پیغامات کے آپشن کو فعال کرتا ہے تو اُس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے شخص کے پڑھنے کے بعد پیغا ما ت غائب ہو جائیں لیکن بعض اوقات ایسا پیغام بھیجا جاتا ہے جو اہم ہو اور مستقبل کے لیے کارآمد ہوتا ہے ڈس اپیئر فیچر کے بعد صارف کو یہ شکایت تھی کہ اُن کے دوستوں کی جانب سے بھیجے جانے والے اہم پیغامات بھی غائب ہوجاتے ہیں، جس پر اب کمپنی نے کام شروع کردیا ہے۔

    اس مقصد کے لیے واٹس ایپ اس فیچر میں ایک ایسی سہولت کی آزمائش کر رہا ہے جس کی مدد سے صارفین غائب ہونے والے میسجز میں سے اہم پیغامات دیکھ بعد میں بھی سکیں گے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ فیچر ابتدائی مراحل میں ہے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا واٹس ایپ کی جانب سے مستقل طور پر اس کا انتخاب کب کیا جائے گا۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    علاوہ ازیں واٹس ایپ نے 2018 میں وائرل افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے دنیا بھر میں اپنے تمام صارفین پر پیغامات آگے 20 افراد تک فارورڈ کرنے کی پابندی عائد کی تھی، جسے 2019 میں مزید کم کرکے 5 کردیا گیا تھا اس سے پہلے میسجنگ ایپلیکشن میں صارفین جتنے مرضی افراد اور گروپس کو پیغامات بیک وقت فارورڈ کرسکتے تھے اب میٹا کی زیرملکیت میسجنگ ایپ نے میسجز فارورڈ کرنے کے حوالے سے مزید پابندیوں کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے۔

    واٹس ایپ کی اپ ڈیٹس پر نظر رکھنے والے سائٹ ویب بیٹا انفو کے مطابق اب کمپنی کی جانب سے گروپ چیٹس میں فارورڈ میسجز کے حوالے سے پابندیوں کا عائد کیا جارہا ہے واٹس ایپ کے اینڈرائیڈ بیٹا ورژن میں فارورڈ میسجز کی نئی حد کو متعارف کرایا گیا ہے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    ابھی صارفین واٹس ایپ گروپس یا کسی انفرادی صارف کو میسج فارورڈ کرتے ہیں تو 5 بار کے بعد اس پر فارورڈڈ مینی ٹائمز کا لیبل آجاتا ہے مگر اب واٹس ایپ کی جانب سے جب کسی میسج پر فارورڈڈ کا لیبل لگادے تو اس پیغام کو ایک وقت میں ایک گروپ چیٹ سے زیادہ میں فارورڈ نہیں کیا جاسکے گا۔

    اگر آپ کو ایک سے زیادہ گروپس میں میسج فارورڈ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ عمل کئی بار (جتنے گروپس کو بھیجنا چاہتے ہیں) کرنا ہوگا یعنی ان کو ایک، ایک کرکے بھیجنا ہوگا اس پابندی کا اطلاق ان میسجز پر بھی ہوگا جن کو صرف ایک بار فارورڈ کیا گیا ہوگا یعنی یہ سابقہ حد سے مختلف ہے اور متعدد صارفین کے لیے واٹس ایپ کا تجربہ متاثر ہوگا مگر اس تبدیلی کا مقصد صارفین کے لیے محفوظ ماحول کو فراہم کرنا ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ جعلی خبریں آسانی سے مت پھیلیں۔

    خیال رہے کہ واٹس ایپ کی جانب سے فارورڈ میسج لیبل دنیا بھر میں متعارف کرایا گیا تھا تاکہ لوگوں کو معلوم ہوسکے کہ یہ ان کے دوست نے خود لکھ کر نہیں بھیجا اور وہ اس کی صداقت جانچ کر آگے پھیلانے کا فیصلہ کریں۔

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

  • چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    چاند کے پتھروں کی آخری کھیپ کو 50 برس بعد کھول دیا گیا

    واشنگٹن: امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے 50 سال قبل چاند سے زمین پر لائے گئے پتھروں کے آخری مجموعے کو آج قریباً 50 برس بعد کھول دیا گیا ہے پتھروں کو زمین پر لانے کے بعد فوراً ایک مکمل طور پر مہربند نلکیوں نما پیکنگ میں رکھا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی : ناسا کے مطابق 73001 نامی یہ زیر تحقیق نمونہ خلانوردوں، یوجین سرنن اور ہیریسن شمٹ نے دسمبر 1972 میں اپالو 17 مشن کے دوران جمع کیا تھا، جو اس پروگرام کا آخری نمونہ تھا۔

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    اس کی قیادت اپالو نیکسٹ جنریشن سیمپل اینالیسس پروگرام (ANGSA) کر رہی ہے، جو ایک سائنس ٹیم ہے جس کا مقصد چاند کے جنوبی قطب پر آنے والے آرٹیمس مشن سے پہلے نمونے اور چاند کی سطح کے بارے میں مزید جاننا ہے۔

    ناسا کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے اپولو مشنز کے ذریعے زمین پر کُل 2,196 چٹانوں کے نمونے لائے گئے ہیں جس میں سے ایک نمونے کو اب کھولنا شروع کیا گیا ہے، جو آج سے 50 سال قبل اکٹھا کیا گیا ہے، یہ پتھر 35 سیںٹی میٹر لمبی اور 4 سینٹی میٹر چوڑی ٹیوب میں رکھا گیا تھا یہ پتھر چاند کی مشہور وادی ٹارس لیٹرو سے اٹھایا گیا تھا۔

    آثار، معدومیات اور چاند کے پتھروں کی تحقیق میں یہ چلن عام ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تحقیق سے گزارا جاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی میں جدت کی بدولت عشروں قبل حقائق کےمقابلے میں قدرے تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس پتھر کے مطالعے میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں۔

    ماہرین کی جانب سےامکان ظاہرکیا جارہا ہے کہ 73001 نامی جس نمونے کو کھولا جارہا ہے اس میں طیران پذیر مادے ار گیس یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور پانی وغیرہ ہوسکتے ہیں۔

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واشنگٹن میں ناسا کے سائنس مشن ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ایڈمنسٹریٹر تھامس زربوچن نے کہا کہ اپالو لینڈنگ سائٹس پر چاند کے نمونوں کی ارضیاتی تاریخ اور ارتقاء کو سمجھنے سے ہمیں ان نمونوں کی تیاری میں مدد ملے گی جن کا سامنا آرٹیمس کے دوران ہو سکتا ہے آرٹیمس کا مقصد قطب جنوبی کے قریب سے ٹھنڈے اور مہر بند نمونے واپس لانا ہے۔ ان نمونوں کو جمع کرنے اور منتقل کرنے، ان کا تجزیہ کرنے، اور سائنسدانوں کی آئندہ نسلوں کے لیے انہیں زمین پر ذخیرہ کرنے کے لیے درکار آلات کو سمجھنے کا یہ ایک دلچسپ سیکھنے کا موقع ہے۔

    جب اپالو کے خلابازوں نے تقریباً 50 سال پہلے یہ نمونے واپس کیے تو NASA کے پاس ان میں سے کچھ کو نہ کھولے اور قدیم رکھنے کی دور اندیشی تھی۔

    ناسا ہیڈ کوارٹر میں پلینٹری سائنس ڈویژن کی ڈائریکٹر لوری گلیز نے کہاایجنسی جانتی تھی کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کرے گی اور سائنس دانوں کو مستقبل میں نئے سوالات کو حل کرنے کے لیے مواد کا نئے طریقوں سے مطالعہ کرنے کی اجازت دے گی،اے این جی ایس اے کا اقدام ان خاص طور پر ذخیرہ شدہ اور سیل شدہ نمونوں کی جانچ کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ آرتیمس چاند پر ناسا کا اگلا مشن ہے جبکہ ایجنسی 2025 تک چاند پر انسان بردار سواریاں بھیجنا چاہتی ہیں اس ضمن میں آرتیمس اول نامی خلائی جہاز اسی سال روانہ کیا جائے گا دیرینہ مطالبے کے بعد اب کانگریس نے اس منصوبے کے لیے رقم بھی جاری کردی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

  • خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی جذب کر لیتے ہیں،تحقیق

    نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی کے ارضی تجزیاتی مرکز سے وابستہ طالبہ کیٹی مک کوئلن نے انکشاف کیا ہے کہ خشک سالی میں پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں-

    باغی ٹی وی : انہوں نے امریکا میں بلیو رج ماؤنٹین کے پہاڑی سلسلے پر لگے جنگلات اور درختوں پر غور کیا گیا تو معلوم ہوا کہ خشک موسم زیادہ دیر برقرار رہیں تو پیاسے درخت اطراف کے ندی نالوں کا پانی چرانے لگتے ہیں درخت جتنی بلندی پر ہوں گے وہ اتنا ہی پانی استعمال کریں گے-

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب…

    ان کی تحقیق سے ثابت ہے کہ پہاڑی علاقے کے لوگوں کو یہ جاننا ہوگا کہ اگر پہاڑوں پر جنگلات ہیں اور آبادی بلندی سے آنے والے پانی استعمال کرتی ہے تو خشک سالی میں اس پانی کی کمی ہوسکتی ہے یہاں تک کہ پانی کا کال پڑسکتا ہے۔

    اس ضمن میں گریٹ اسموکی ماؤنٹین پارک پر تحقیق کی گئی ہےجو اوک رج پہاڑی سلسلے کا ہی حصہ ہے اس ضمن میں 1984 سے 2020 تک سیٹلائٹ تصاویر اور ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا یہ تصاویر تھرمل انفراریڈ پر مبنی تھیں۔ اس ضمن میں لگ بھگ 15000 مربع میل جنگلات کا ڈیٹا پڑھا گیا تھا جو کئی امریکی ریاستوں پر محیط ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    پہاڑیوں پر واقع جنگلات انتہائی صاف اور صحت بخش پانی بناتے ہیں جو کسی معدنی مائع سے کم نہیں ہوتا اس طرح یہ قیمتی پانی ہوتا ہے۔ ڈیٹا کےمطابق جب بھی خشک سالی آئی درختوں نے پانی زیادہ استعمال کیا اور یوں پانی کا بہاؤ شدید متاثر ہوا کیونکہ یہ پانی ہزاروں لاکھوں درختوں سے گزرتا ہے اور ہر درخت اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرتا ہے۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ اس کیفیت کو سمجھ کر ہم پہاڑی جنگلات کے دامن میں موجود آبادیوں، جانداروں اور کھیتوں میں پانی پہنچنے یا اس کی قلت کی پیشگوئی کرسکتے ہیں یہ پیشگوئی بالخصوص خشک سالی کے دوران بہت معاون ثابت ہوسکتی ہے۔

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    یوٹیوب کا مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ

    سان فرانسسكو:یوٹیوب نے مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی : اگرچہ یوٹیوب نے اس کا باضابطہ اعلان تو نہیں کیا لیکن چند مؤقر ذرائع کا کہنا ہے کہ یوٹیوب نے مشہور پوڈکاسٹر کو خطیر رقم دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وہ آواز پر مبنی پوڈکاسٹ کی ویڈیو اور ڈاکیومینٹری بناسکیں۔

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور

    رپورٹس کے مطابق یہ رقم 50 یزار ڈالر سے تین لاکھ ڈالر تک ہوسکتی ہے جو انفرادی یا کسی نیٹ ورک کو دی جارہی ہےاسے فلم اور ویڈیو بنانے کے لیے ہی خرچ کرنے کی اجازت ہوگی جس میں کیمرے اور ویڈیو ایڈیٹنگ کی سہولیات بھی شامل ہیں لیکن اس سے واضح ہے کہ یہ پیشکش مشہور اور بڑے پوڈکاسٹر کو کی جائے گی۔

    اگرچہ یوٹیوب ویڈیو پلیٹ فارم ہے لیکن اس پر کئی مشہور آڈیو پوڈ کاسٹ بھی جاری ہیں ان میں ایچ تھریاور فل سینڈ پوڈکاسٹ بھی شامل ہیں۔ یوٹیوب نے اکتوبر سے ہی اس پر کام شروع کردیا تھا۔

    سب سے پہلے کینیڈا کے صارفین کو ایپ کھولے بغیر آڈیو سننےکی سہولت فراہم کی گئی اس کے بعد کائی چوک کو بھرتی کیا گیا تو پوڈکاسٹنگ کا ماہر ہے اور اسے یوٹیوب پر لایا گیا۔ دوسری جانب اسپاٹیفائی نے آڈیو سے ویڈیو تک کا سفر شروع کیا۔

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    دی ورج نامی مشہور ویب سائٹ نے یوٹیوب سے اس کا مؤقف جاننے کے لیے بارہا رابطہ کیا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں مل سکا ہے۔

    قبل ازیں یوٹیوب کی سی ای او سوسن ووچسکی نے ایک خط میں کہا تھا کہ ہم نے یوٹیوب ایکوسسٹم میں ہمیشہ کوشش کی ہے کہ تخلیق کار ابھرتی ٹیکنالوجی سے مالی فوائد حاصل کریں جن میں این ایف ٹی جیسی چیزیں بھی شامل ہیں اس لیے ویڈیو بنانے والوں اور مداحوں کے لیے ان تجربات کو جاری رکھا جائے گا-

    نٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    اسی خط میں گیمنگ اور شاپنگ کے لیے بھی یوٹیوب کا دائرہ وسیع کرنے کا کہا گیا تھا لیکن خط میں زور دے کر کہا گیا تھا کہ وہ ’ویب تھری‘ سے متاثر ہیں جن میں کرپٹو، ڈی سینٹرلائزڈ آٹونومس آرگنائزیشن (ڈے اے او) اور این ایف ٹی شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ تخلیق کار پہلے ہی اپنی مشہور ہوجانے والی ویڈیو کو بطور این ایف ٹی فروخت کررہے ہیں ان میں سے ایک ویڈیو گزشتہ برس این ایف ٹی کے طور پر فروخت ہوئی تھی۔ اس ویڈیو کا نام ’چارلی بٹ می‘ تھا جس میں ایک چھوٹے بچی اپنے بھائی کی انگلی پر کاٹ رہی ہے یہ ویڈیو 7 لاکھ 61 ہزار ڈالر میں فروخت ہوئی پھر ڈیوڈ آفٹر ڈینٹسٹ نامی ایک ویڈیو این ایف ٹی کے طور پر 11 ہزار ڈالر میں بکی تھی-

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

  • واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    واٹس ایپ کا گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کیلئےنئی تبدیلی پر کام

    سان فرانسسكو: واٹس ایپ نے کمیونٹی کو دیگر گروپس سے منفرد اور علیحدہ رکھنے پر کام شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے اپنے دنیا بھر میں موجود 2 ارب سے زائد صارفین کے لیے آئے روز نئے فیچرز متعارف کرائے جاتے ہیں، جن کا مقصد صارفین کو سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ٹیکنالوجی کی دنیا میں سرفہرست رہنا ہے واٹس ایپ نے اب گروپس سے تنگ صارفین کی آسانی کے لیے ایک نئی تبدیلی پر کام شروع کیا ہے۔

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

    ڈبلیو اے بیٹا انفو کی رپورٹ کے مطابق واٹس ایپ نے کمیونٹی کو دیگر گروپس اور نمبروں سے علیحدہ رکھنے کے لیے ایپ میں ایک نیا ٹیب شامل کیا ہے، جس پر کلک کرنے کے بعد تمام گروپس نظر آجائیں گے۔

    غیرمصدقہ اطلاع کے مطابق صارف جب مستقبل میں واٹس ایپ کھولے گا تو بائیں جانب کمیونٹی گروپ کا نشان نظر آئے گا، جس پر کلک کرنے کے بعد تمام گروپس نظر آجائیں گے۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    قبل ازیں واٹس ایپ نے گروپ چیٹ کے حوالے سے ایک بہترین فیچر کو آزمائشی طور پر متعارف کرا یا تھا نئے فیچر کا نام ‘کمیونیٹیز’ ہے جس کے ذریعے مختلف گروپس کو ایک ساتھ آپریٹ کرنے کی سہولت ہوگی۔

    صارفین کمیونیٹیز فیچر میں ایک سے زائد گروپس کو ایڈ کرسکیں گے جس کے بعد ممکنہ طور پر ایڈمن یا گروپ میں پیغامات بھیجنے کی رسائی رکھنے والے ممبرز بہ یک وقت تمام گروپس میں میسج کرسکیں گے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

  • سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدہ

    سعودی عرب اور چین کے درمیان مملکت میں ڈرون فیکٹری بنانے کا معاہدے پر دستخط کئے گئے ہیں-

    باغی ٹی وی : "العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق ہفتے کے روز ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی (ACES) نے سعودی عرب میں مقامی طور پر ڈرون پے لوڈ سسٹم تیار کرنے کے لیے ایک عالمی سائنسی کی منتقلی کمپنی کے ساتھ ایک اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

    سعودی عرب نے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی

    یہ ایڈوانسڈ کمیونیکیشنز اینڈ الیکٹرانکس سسٹمز کمپنی کی جانب سے مملکت میں بغیر پائلٹ کے طیاروں کے لیے ایریل سلوشنز کے نام سے ایک نئی کمپنی کے قیام کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔

    نئے معاہدے پر چائنا الیکٹرانکس ٹیکنالوجی گروپ (CETC) کے ساتھ دستخط کیے گئے جو کہ دوہری استعمال کے الیکٹرانکس میں مہارت رکھنے والی سرکاری چینی دفاعی کمپنی ہے۔ یہ دُنیا کی سب سے بڑی دفاعی کمپنیوں میں سے ایک ہے اور یہ چینی کمپنی کو ایک تحقیقی اور ترقیاتی مرکز کے قیام میں مدد کرے گی۔

    ماسکو ائیرپورٹ پر امریکی خاتون ایتھیلیٹ بھنگ سمیت "پھڑی”گئی

    مختلف قسم کے UAV پے لوڈ سسٹم کے لیے مینوفیکچرنگ ٹیم بشمول کمیونیکیشن یونٹس، فلائٹ کنٹرول یونٹس، کیمرہ سسٹم، ریڈار سسٹم، اور وائرلیس ڈٹیکشن سسٹم، تحقیق اور ترقی میں اہم کردار ادا کررہی ہے-

    معاہدہ اور کمپنی کی حکمت عملی ویژن 2030 کے مقاصد کے مطابق ہے کیونکہ سعودی عرب کا مقصد فوجی صنعتوں کے شعبے کو مقامی بنانا، اسے سعودی معیشت کا ایک اہم معاون بنانا، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مقامی سرمایہ کاروں کی مدد، اس میں ملازمت کے مواقع فراہم کرنا ہے امید افزا شعبہ اور قومی معیشت میں اس شعبے کی شراکت کو زیادہ سے زیادہ کرنا۔

  • شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    شمالی کوریا کا 2 ماہ میں نوواں میزائل تجربہ

    پیانگ یانگ: شمالی کوریا صرف 2 ماہ میں اب تک 9 میزائل تجربات کر لئے ہیں-

    باغی ٹی وی : شمالی کوریا نے اپنے سخت ترین حریف جنوبی کوریا میں انتخابات کے قریب آتے ہی میزائل تجربات میں ضافہ کردیا ہے۔ اس سلسلے میں گزشتہ روز رواں برس کا نواں میزائل تجربہ کیا ہے۔

    شمالی کوریا کی ہائپرسونک میزائل تجربہ کرنے کی تصدیق،کم جونگ نے تجربے کا مشاہدہ کیا

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق جنوبی کوریا اور جاپان نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کی مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں ماہ مزید ایسے تجربات ہوسکتے ہے۔

    امریکا اور جنوبی کوریا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں پر ہونے والے مذاکرات کی معطلی کے بعد سے شمالی کوریا نے میزائل تجربات تیز تر کردیئے ہیں اس سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے آخری تجربہ 27 فروری کو کیا گیا تھا –

    جبکہ 30 جنوری کو ہواسونگ 12 نامی درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا گیا تھا مذکورہ تجربہ سال2017 کے بعد سے سب سے بڑا ہتھیار کا تجربہ تھا، ہواسونگ-12 نے تقریباً 2,000 کلومیٹر (1,200 میل) کی بلندی اور 800 کلومیٹر (500 میل) کی حد تک پرواز کی۔

    شمالی کوریا کا 6 روز میں بیلسٹک میزائل کا دوسرا تجربہ

    جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں ایک اور ’نامعلوم میزائل‘ فائر کیا ہے۔ شمالی کوریا رواں برس اب تک نو بار مختلف طرح کے ہتھیاروں کا تجربہ کر چکا ہے۔

    جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف نے ہفتے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی کوریا نے جزیرہ نما کوریا کے مشرق میں سمندر کی طرف ایک نامعلوم قسم کا میزائل فائر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل کا تجربہ تھا۔

    اس بیان کے بعد ہی جاپان کے کوسٹ گارڈز نے بھی کہا تھا کہ ممکن ہے کہ شمالی کوریا نے سمندر میں میزائل فائر کیا ہو۔ جاپان کے وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا کہ مشتبہ طور پر یہ ایک بیلیسٹک میزائل ہو سکتا ہے۔

    سلامتی کونسل نے اس میزائل لانچ کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی جوہری اور میزائل سے متعلق تمام تنصیبات کی سختی سے نگرانی کرے گا۔

    شمالی کوریا نے ایک اور میزائل کا تجربہ کرلیا

    جنوبی کوریا کی فوج نے بتایا ہے کہ تازہ ترین میزائل سونان کے قریب ایک مقام سے لانچ کیا گیا۔ سونان شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ کا ایک شمال مغربی ضلع ہے اور شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی میزبانی کرتا ہے۔

    شمالی کوریا ماضی میں بھی کئی بار اپنے نئے ہتھیاروں کے تجربے کے لیے اسی ہوائی اڈے کا استعمال کرتا رہا ہے 27 فروری کو بھی اس نے اپنے جاسوس سیٹلائیٹ سسٹم کا تجربہ بھی یہیں سے کیا تھا۔

    جاپان کے وزیر دفاع نوبو کیشی کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ میزائل نے زیادہ سے زیادہ 550 کلومیٹر کی بلندی پر 300 کلومیٹر مشرق کی جانب پرواز کی۔ جاپانی وزیر دفاع کے مطابق پرواز کے بعد میزائل جزیرہ نما کوریا اور جاپان کے درمیان سمندر میں گرا۔

    واشنگٹن میں واقع ولسن سینٹر کے ایک فیلو جین لی کا کہنا ہے کہ اس وقت چونکہ تمام تر عالمی توجہ یوکرین پر مرکوز ہے، اس لیے ہمارے لیے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کا یہ وقت بڑا عجیب سا ہےلیکن شمالی کوریا کے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ان کے لیے یہ بالکل مناسب بات ہے، جہاں سائنسدانوں کی توجہ نئے ہتھیار تیار کرنے پر مرکوز ہے، تاکہ وہ اپریل کے وسط میں ہونے والی ایک بڑی فوجی پریڈ میں ان کی نمائش کر سکیں۔

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    شمالی کوریا نے بظاہر میزائل کا یہ تجربہ جنوبی کوریا کے صدارتی انتخابات سے محض چار دن پہلے کیا ہے۔ اس برس یہ اس کی جانب سے اب تک کا ہتھیاروں کا نوواں تجربہ ہے شمالی کوریا نے جنوری میں یہ دھمکی بھی دی تھی کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے اور جوہری ہتھیاروں کے تجربات پر جو خود سے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے، اسے بھی ترک کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    علاوہ ازیں شمالی کوریا مستقبل قریب میں جاسوسی سٹیلائٹ بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے جب کہ جوہری ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والی بیلسٹک میزائل کی تیاری کی بحالی کا بھی ارادہ رکھتا ہے۔

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا میں صدارتی الیکشن ہورہے ہیں جس کی ابتدائی ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور اس موقع پر شمالی کوریا کے میزائل تجربات سے خطے میں تناؤ میں اضافہ ہوگیا۔

    یو کرین کی اپیل پرایلون مسک کی جانب سے مدد

  • فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    فرعون کا شاہی خنجر شہاب ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا، ماہرین

    قاہرہ : جاپان اور مصر کے ماہرین نے فرعون توتنخ آمون کے مقبرے سے ملنے والے ایک شاہی خنجر کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ اسے شہابِ ثاقب سے حاصل کردہ لوہے سے تیار کیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی:’میٹیورائٹس اینڈ پلینٹری سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع مقالے کے مطابق اس خنجر کا دستہ سونے سے بنا ہے جس میں موتی جڑے ہیں جبکہ اس کا پھل لوہے کا ہے جس پر سیاہی مائل داغ دھبے پڑ چکے ہیں-

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    آئرن ایج وہ وقت تھا جب لوگوں نے آئرن پروسیسنگ ٹیکنالوجی حاصل کی تھی اور عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 1200 قبل مسیح کے بعد شروع ہوا تھا لوہے کے شہابیوں سے بنے کچھ پراگیتہاسک لوہے کے نمونے کانسی کے زمانے کے ہیں۔

    قدیم مصر کے بادشاہ توتنخمین (1361-1352 قبل مسیح) کے مقبرے میں ایک اچھی طرح سے محفوظ شدہ میٹیوریٹک لوہے کا خنجر ملا تھا۔ پھر بھی، اس کی تیاری کا طریقہ اور اصلیت غیر واضح ہے یہاں، ہم قاہرہ کے مصری میوزیم میں کیے گئے توتنخمین لوہے کے خنجر کے غیر تباہ کن دو جہتی کیمیائی تجزیوں کی اطلاع دیتے ہیں۔

    توتنخ آمون، جسے اکثر ’توتن خامن‘ بھی کہا جاتا ہے، اٹھارواں اور آخری فرعون تھا جو آج سے 3,300 سال پہلے مصر پر حکمران تھا اس کا عظیم الشان مقبرہ 1925 میں دریافت ہوا تھا جس میں سے ہزاروں قدیم اشیاء برآمد ہوئیں، جن پر آج تک تحقیق جاری ہے توتنخ آمون کا شاہی خنجر بھی ان ہی میں سے ایک ہے۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوچکا تھا کہ یہ خنجر اصل میں شادی کا تحفہ تھا جو توتنخ آمون کے دادا ایمن ہوتپ سوم کو سلطنت ’میتانی‘ کے بادشاہ نے دیا تھا جو نسل در نسل ہوتے ہوئے بالآخر توتنخ آمون تک پہنچا تھا۔

    فروری 2020 میں قاہرہ عجائب گھر اور جاپان کے ’چیبا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ کے ماہرین نے اس خنجر کے بارے میں مزید باتیں جا ننے کےلیے جدید ایکسرے آلات استعمال کئے اس سے پہلے 2016 میں اس خنجر کے پھل پر لگے دھبوں میں نکل اور کوبالٹ دھاتوں کی معمولی مقداریں دریافت ہوچکی تھیں جدید ایکسرے آلات سے 2020 میں نئے مشاہدات سے ان ہی دھبوں میں سلفر، کلورین، کیلشیم اور زِنک بھی معمولی مقدار میں دریافت ہوئے۔

    فرعون کا زمانہ وہ تھا کہ جب فولاد سازی کو بہت خاص ہنرسمجھا جاتا تھاجبکہ لوہے/ فولاد سے بنے خنجروں اور تلواروں کو شاہی تحائف کا درجہ حاصل تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    نئی تحقیق سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ اس خنجر کو تقریباً 950 ڈگری سینٹی گریڈ پر کسی بھٹی میں ڈھالا گیا تھا، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا کہ اس میں معمولی مقداروالےمادّے (ٹریس مٹیریلز) ٹھیک اسی ترتیب میں ہیں کہ جیسی’فولادی شہاب ثاقب‘ میں ہوتی ہے اس قسم کےشہابیوں میں دوسرے مادوں کی نسبت لوہے کی مقدار خاصی زیادہ ہوتی، جس کی وجہ سے انہیں لوہے والے یعنی ’فولادی شہابِ ثاقب‘ بھی کہا جاتا ہے جاپان میں ایسا ہی ایک شہابِ ثاقب کچھ سال پہلے دریافت ہوچکا ہے۔

    توتنخ آمون کے شاہی خنجر اور اس شہابیے میں ٹریس مٹیریلز کی ترکیب بالکل یکساں ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خنجر کی تیاری کےلیے جس جگہ سے بھی کھدائی کرکے کچدھات نکالی گئی تھی، وہاں شاید لاکھوں کروڑوں سال پہلے کوئی فولادی شہابِ ثاقب ٹکرا چکا تھا۔

    عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ لوہے کا زمانہ تقریباً 1200 قبلِ مسیح میں شروع ہوا تھا لیکن اس خنجر میں لوہے کے استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ شاید لوہے کے زمانے کا آغاز 1400 قبلِ مسیح کے آس پاس ہوچکا تھا۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

  • مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    مریخ پر پراسرار پودا،ماہرین نے خبردار کر دیا

    کیلیفورنیا: امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’’ناسا‘‘ نے چند روز قبل جاری کی جس میں ایک چھوٹا سا پودا دکھائی دے رہا ہے جو بظاہر مٹی سے بنا ہے-

    باغی ٹی وی : اس تصویر کو مریخ پر موجود ’’کیوریوسٹی روور‘‘ نے اپنے طاقتور کیمرے کی مدد سے کھینچا ہے ناسا نے کیوریوسٹی نامی یہ خودکار گاڑی یعنی روور 2012 میں مریخ پر اتاری تھی اور تب سے آج تک یہ مریخ کے مختلف مقامات کی سیر کرتے ہوئے وہاں کی ہزاروں تصویریں کھینچ کر زمین پر بھیج چکی ہے-

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی


    ناسا کے مطابق یہ تازہ ترین تصویر اس روور نے جمعہ 25 فروری 2022 کے روز بھیجی تھی جسے ایک ہی مقام کی مختلف زاویوں سے لی گئی آٹھ تصویروں کو یکجا کرکے تیار کیا گیا ہے۔

    کیوریوسٹی روور کے روبوٹ بازو پر نصب ’’مارس ہینڈ لینس امیجر‘‘ (MAHLI) نے پوزیشن بدل بدل کر اس جگہ کی چند تصویریں کھینچیں جنہیں اس کے خودکار امیج پروسیسر کی مدد سے وہیں پر یکجا کرکے حتمی تصویر میں تبدیل کیا گیا۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا


    ماہرین نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس تصویر کو مریخ پر زندگی کا ثبوت ہر گز نہ سمجھا جائے بلکہ وہاں جاری مختلف قدرتی عوامل کے نتیجے میں (جن کا زندگی سے کوئی تعلق نہیں) مریخ کی مٹی اور چھوٹے چھوٹے پتھروں نے آپس میں مل کر ایسی شکل اختیار کرلی ہے۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    قبل ازیں امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کی تھی ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی تھی جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

  • ایران کا مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا ایک اورتجربہ ناکام

    ایران کا مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا ایک اورتجربہ ناکام

    تہران: ایران کی جانب سے مدار میں مصنوعی سیارے بھیجنے کا ایک اور راکٹ تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق”Maxar Technologies” کمپنی کی جانب سے جاری سیٹلائٹ تصاویر میں اتوار کے روز ایران کے دیہی علاقے سمان میں واقع امام خمینی خلائی بندرگاہ کے نزدیک راکٹ لانچنگ پیڈ پر آگ کے شعلوں کی علامات سامنے آئیں۔

    علاوہ ازیں راکٹ کے تباہ شدہ پل بھی واضح ہو رہے ہی۔ عام طور پر کامیاب تجربات کے نتیجے میں راکٹوں کے پل تباہ نہیں ہوتے اس لیے کہ پلوں کو راکٹ کی روانگی سے قبل اتار لیا جاتا ہے –

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    واضح رہے کہ "Planet Labs PBC” سے علیحدہ کی گئی تصاویر سے غالب گمان ہوتا ہے کہ راکٹ بھیجنے کی ناکام کوشش جمعے کے روز کے بعد کسی وقت کی گئی۔

    خیال رہے کہ گذشتہ دہائی کے دوران میں ایران کے خلائی پروگرام کے سلسلے میں راکٹ بھیجنے کی مسلسل پانچ ناکام کوششیں واقع ہوئیں۔ فروری 2019ء میں اسی نوعیت کی ایک ناکام کوشش میں تین محققین ہلاک ہو گئے تھے۔

    ایرانی پاسداران انقلاب نے اپریل 2020ء میں مدار میں سیٹلائٹ بھیجنے کا کامیاب تجربہ کر کے اپنے خفیہ خلائی پروگرام کا انکشاف کیا تھا امریکا کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے سیٹلائٹ بھیجنا اقوام متحدہ کے زیر انتظام سلامتی کونسل کی قرار داد کو کھلا چیلنج ہے۔

    شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

    سابق صدر حسن روحانی نے مذاکرات کے دوران میں مغرب کے متنفر ہونے کے اندیشے کے سبب ملک میں خلائی پروگرام کی پیش رفت روک دی تھی تاہم موجود سخت گیر صدر ابراہیم رئیسی نے اپنی توجہ اس پروگرام کو سرگرم کرنے پر مرکوز کر رکھی ہے۔

    دوسری جانب ایران نے یوکرین پر روسی حملے کا ذمے دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پر بھروسہ کرکے سیکیورٹی حاصل نہیں ہوسکتی ایرانی حکومت کے ترجمان علی بہادری کا کہنا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

    دوسری جانب ایرانی صدر ابراہیم ریئسی نے روسی صدر ولادی میر پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرق میں نیٹو فورسز کا دائرہ پھیلنا باعث تشویش ہے اور اسی وجہ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ایرانی صدر نے نیٹو کے توسیع پسندی کو خود مختار ممالک کی سیکیورٹی اور نقص امن کےلیے سنگین خطرہ قرار دیا ایران نے مغربی ممالک کو بحران زدہ یوکرین سے عبرت حاصل کرنے کا کہہ دیا ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ مشرقی ممالک میں بدامنی اور عدم استحکام مغربی مفادات کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے