Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    اردن کے‌صحرا میں 9000 سال قدیم مزاردریافت

    اردن کی الحسین بن طلال یونیورسٹی اور فرانسیسی انسٹی ٹیوٹ برائے مشرقِ قریب کے ماہرینِ آثارِقدیمہ پر مشتمل ایک ٹیم نے اردن کے مشرقی صحرا میں قریباً 9000 سال قدیم مزاردریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کےمطابق یہ روایتی کمپلیکس پتھرکےدور کی جگہ کےنزدیک قدیم بڑے ڈھانچوں کےساتھ پایا گیا ہےانھیں’’صحرائی پتنگیں‘‘یا بڑے پیمانے پر’شکاری جال‘ کہا جاتا ہےان کے بارے میں خیال کیاجاتا ہے کہ انھیں جنگلی غزالوں کاشکارکرنےکےلیےاستعمال کیا جاتا تھا اور پھر انھیں یہیں ذبح کیا جاتا تھا اس طرح کے جال پتھرکی دو یا دو سے زیادہ لمبی دیواروں پر مشتمل ہوتے ہیں اورگھیرے دارہوتے ہیں یہ مشرقِ اوسط کے صحراؤں میں بکھرے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    اس منصوبہ کے شریک ڈائریکٹراردنی ماہرآثارقدیمہ وائل ابوعزیزہ نے کہا کہ یہ جگہ منفرد ہے، پہلی وجہ اس کی یہ ہے کہ یہ محفوظ حالت میں ہے یہ 9000 سال پرانی ہے اور سب کچھ قریب قریب اپنی اصل حالت میں برقرار تھا مزار کے اندردو تراشیدہ ایستادہ پتھر تھے ان پر انسانی شکلیں تھیں، ایک کے ساتھ ’’صحرائی پتنگ‘‘کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ ایک مذبح، چولھا، سمندری گولے اورغزال کے جال کا چھوٹا نمونہ بھی تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

    محققین نے ایک بیان میں کہا کہ نو دریافت مزار اب تک پتھر کے زمانے کی نامعلوم آبادیوں کی علامت ہے اور یہ فنکارانہ اظہار کے ساتھ ساتھ روحانی ثقافت پرپوری نئی روشنی ڈالتا ہے اس جگہ میں شکاری جالوں کی موجودگی سے پتاچلتا ہے کہ یہاں کے باشندے خصوصی شکاری تھے اور یہ جال اس دورافتادہ علاقے میں ان کی ثقافتی، معاشی اور یہاں تک کہ علامتی زندگی کا مرکزتھے۔

    وادی سوات میں بدھ مت کی قدیم ترین عبادت گاہ دریافت

  • گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے

    گرین لینڈ کی برفانی پرتوں کے نیچے تیزی سے پگھلاؤ،سمندروں کی سطح میں اضافہ کا سبب بن سکتا ہے

    برطانیہ:سائنسدانوں کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گرین لینڈ کی برفانی پرتیں نیچے سے تیزی سے پگھل رہی ہیں-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق گرین لینڈ کی برفیلی چادروں کا مجموعی رقبہ 50 ہزار مربع کلومیٹر ہے لیکن ان کی گہرائی معلوم کرنا اب بھی ممکن نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس کی ماڈلنگ اور نقشہ سازی نہیں کی گئی تھی۔

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    اب جامعہ کیمبرج کے پال کرسٹوفرسن اور ان کے ساتھیوں نے گرین لینڈ کی برف کی جڑوں کا پگھلاؤ معلوم کرنے کا ایک طریقہ وضع کیا ہے یہ دنیا میں برف پرمشتمل دنیا کی دوسری سب سے بڑی برفانی شیٹ بھی ہے سائنسدانوں نے چد ملی میٹر کھدائی کرکے لیزر کی بدولت اس کی گہرائی اور کیفیت معلوم کی ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    پال کرسٹوفرسن نے معلوم کیا کہ ایک ایک عمودی رخنے کے بالکل نیچے جو پانی بہہ رہا ہے وہ پرانے تخمینے سے بھی 100 گنا زائد نکلا اور اس کی رفتار براہِ راست دھوپ والی برف سے زیادہ تھی اس کی دو وجوہ ہیں یعنی اول اوپر کا پانی نیچے جمع ہوکر گرم ہوکر مزید برف پگھلا رہا ہے اور دوم ثقلی قوت سے بھی برف گھل رہی ہے۔

    عالمی تپش اور کلائمٹ چینج:برطانوی پھول ایک ماہ پہلے کھلنے لگے

    اس طرح معلوم ہوا کہ آئس لینڈ کی برفانی شیٹ نیچے سے پگھل رہی ہے ماہرین کے مطابق آئس لینڈ کی برف پگھلنے سے عالمی سمندروں کی سطح میں اضافہ ہوسکتا ہے اور اس کا پگھلاؤ ہی سب سے اہم کردار ادا کررہا ہے اسی ماڈل کے تحت جہاں جہاں آئس لینڈ جیسی برفانی پرت ہیں وہاں بھی برف پگھلنے کی رفتار اتنی ہی تیز ہوسکتی ہے اوروہاں پانی جمع ہونے سے پوری آئس شیٹ کا پگھلاؤ تیزی سے بڑھے گا-

    دنیا میں درختوں کی 9000 سے زائد انواع آج تک نامعلوم ہیں، ماہرین

  • جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    جاپان نے ہائبرِڈ اور ریچارجیبل ٹرین متعارف کرادی

    ٹوکیو: جاپان نے فیول سیل (کیمیائی انرجی کو بجلی میں بدلنے والے سیل) اور ریچارجیبل بیٹریز کی حامل ٹرین متعارف کرادی ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان ٹائمز کے مطابق ’Hybari‘ نامی ٹرین جے آر ایسٹ، ہٹاچی لمیٹڈ اور ٹویوٹا موٹر کارپوریشن نے مل کر تیار کی ہے۔ جے آر ایسٹ نے اس ہائبرِڈ ٹیکنالوجی کو عمومی استعمال کیلئے 2030 تک لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس دوران کمپنی ٹرین کی ٹیسٹنگ جے آر سورومی اور نامبو کے ریلوے لائن پر کرے گی۔

    ٹرمپ کی آوازدبانے والوں کوشکست:ٹرمپ ٹروتھ سوشل ایپ کو پہلے 48 گھنٹوں میں نصف ملین…

    ٹرین میں اسٹوریج ٹینک سے ہائی پریشر ہائیڈروجن کو ٹویوٹا موٹر کارپوریشن کے تیار کردہ فیول سیل سسٹم میں پمپ کیا جاتا ہے جو ہوا میں آکسیجن سے کیمیائی رد عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرتا ہے اس کے بعد بجلی ان بیٹریوں کو بھیجی جاتی ہے جنہیں ٹرینوں کے انجنوں کے ذریعے لوکوموشن چلانے کے لیے ٹیپ کیا جا سکتا ہے۔

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    ٹیسٹ ٹرین کے لیے ترقیاتی لاگت، جو ہائیڈروجن کے فی چارج تقریباً 140 کلومیٹر تک سفر کر سکتی ہے، کل تقریباً 4 بلین ڈالر ہے جے آر ایسٹ گروپ کے پاس مالی سال 2050 میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کو مؤثر طریقے سے صفر تک کم کرنے کا ہدف ہے اور امید ہے کہ HYBARI ٹیکنالوجی کے ساتھ اس کے ٹرین فلیٹ کی اوور ہال اس مقصد کو حاصل کرنے میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔

    دنیا کے سب سے خوبصورت اور جدید ’میوزیم آف دی فیوچر‘ کا افتتاح

    ہم موجودہ ڈیزل ٹرینوں کو فیول سیل ہائبرڈ ٹرینوں سے تبدیل کرنے پر غور کر رہے ہیں،” JR East کے ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کے سربراہ شوچی اویزومی نے کہا۔ Oizumi نے کہا کہ ٹیسٹ رن میں JR East کو آپریشنل اخراجات اور دیگر عوامل کا مطالعہ کرنے کی امید ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ ممکنہ طور پر ہائبرڈ ٹرینوں کو کن لائنوں پر متعارف کرایا جائے گا۔

    عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

  • عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

    عالمی سب میرین میں خرابی،ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس متاثر

    عالمی سب میرین میں خرابی کے باعث پا کستان میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہو گئی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق عالمی سب میرین کیبل میں پاکستانی سمندری حدود سے 400 کلو میٹر کے فاصلے پر کیبل میں فالٹ پایا گیا ہے ترجمان پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پیر کی شام 6 بجے سے ٹرانس ورلڈ سب میرین کیبل سسٹم میں خرابی کی اطلاعات ہیں فالٹ کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ سروس متاثر ہوئی-

    ترجمان پی ٹی اے کے مطابق ٹرانس ورلڈ کیبل کے صارفین کو انٹرنیٹ سروس میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور کنورشیم انٹرنیٹ سروسز میں خلل کو کم سے کم کرنے کے لیے ایس ایم ڈبلیو 5 کیبل سے وقتی طور پر بینڈ وتھ کا انتظام کیا جارہا ہے۔

    نہوں نے بتایا کہ کنورشیم کی طرف سمندر میں خراب ہونیوالی انٹر نیٹ کیبل کی لوکیشن کا پتہ چلانے کے لیے کوششیں جاری ہیں تاکہ جلد سے جلد فالٹ کو دور کرکے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بحال ہوسکے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی پاکستان میں سب میرین کیبل ایس ایم ڈبلیو 4 میں خرابی ہوئی تھی انٹرنیٹ کیبل میں بحرہند میں ایک مقام پر خرابی پیدا ہوئی تھی انٹرنیٹ کیبل کی خرابی کے باعث صارفین کو انٹرنیٹ اسپیڈ میں کمی کا سامنا رہا تھا پی ٹی اے کی جانب سے انٹرنیٹ اسپیڈ کو بہتر رکھنے کے لیے سسٹم میں اضافی ایڈہاک بینڈ وتھ شامل کی گئی تھی۔

  • پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    پاکستانی سائنسدان کے تیارہ کردہ سولر سیل نے دو عالمی ریکارڈ اپنے نام کر لئے

    پاکستانی نوجوان سائنسدان کی سربراہی میں ایک ٹیم کے تیارکردہ سولر سیل نے توانائی کی افادیت کے دو نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔

    باغی ٹی وی :نجی خبررساں ادارے کے مطابق فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے یاسر صدیقی اس وقت جنوبی کوریا کی جامعہ سائنس و ٹیکنالوجی میں کوریا انسٹی ٹیوٹ آف انرجی ریسرچ (کے آئی ای آر) سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے بطور مرکزی سائنسداں، ایک بالکل نئے سولر سیل کی ڈیزائننگ اور تیاری کا مرکزی کام کیا ہے جسے کاپر انڈیئم سلفو سیلینائیڈ (سی آئی ایس ایس ای) کا نام دیا گیا ہے جس سے دھوپ سے بجلی کی وافر مقدار بنانے میں مدد ملے گی تو دوسری جانب ماحول دوست طریقے سے عالمی تپش (گلوبل وارمنگ) بھی کم کرنا ممکن ہوگا۔

    مونال ریسٹورنٹ کو سیل کرنے کےخلاف اپیل کل سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم

    یاسر صدیقی نے نجی خبررساں ادارے "ایکسپریس” سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس سولر سیل کو خاص محلول شامل کرکے مستحکم بنایا گیا ہے اور سیل کا پورا نام کچھ طویل ہے جسے ’سلوشن پروسیسڈ کاپرانڈیئم سلفو سیلینائڈ (سی آئی ایس ایس ای) لوبینڈ گیپ کا نام دیا گیا ہے۔ اگرچہ اس نے اسی حالت میں بھی باکفایت بجلی کا ایک ریکارڈ بنایا ہے لیکن جب اس کے اوپر پروسکائٹ کی پتلی تہہ سینڈوچ کی طرح لگائی گئی تو اس نے بھی ایک نیا ریکارڈ بنایا۔

    فوٹو بشکریہ: ایکسپریس

    انہوں نے بتایا کہ کسی سیمی کنڈکٹر سے الیکٹران آزاد کرانے کے لیے جو توانائی درکار ہوتی ہے اسے بینڈ گیپ کہا جاتا ہے، یعنی کسی سیمی کنڈکٹر کا بینڈ گیپ جتنا کم ہوگا اس سے الیکٹران کا بہاؤ اتنا ہی زیادہ ہوگا اور اتنی ہی بجلی بنے گی۔

    اسٹیو واہ کی بیٹنگ صلاحیتوں سے متاثر اظہر علی پاکستان اور آسٹریلیا کے مقابلوں کی…

    سورج زمین پر حرارت اور توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے نظری طور پر مکمل دھوپ ایک مربع میٹر پر 1360 واٹ کے بقدر توانائی بناسکتی ہیں لیکن شمسی سیل سے اس کی بڑی مقدارٹکرا کر لوٹ جاتی ہے، گزرجاتی ہے یا پھر بجلی میں ڈھل جاتی ہے یوں ہم سورج کی حرارت اور توانائی کی کچھ فیصد مقدار ہی بجلی میں بدل پاتے ہیں اسے عام طور پر سولر سیل کی کفایت یا ایفیشنسی کہا جاتا ہے۔

    تاہم ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا کہ تیار کیا گیا شمسی سیل سینڈوج یا ٹینڈم قسم سے وابستہ ہے اور اس میدان میں سب سے مؤثر ایجاد بھی ہے انقلابی سیل کی تیاری میں تین سال کی محنت شامل ہے ان میں صرف سی آئی ایس ایس سیل کی افادیت 14.4 فیصد ہے جبکہ اسے پروسکائٹ معدن کے ساتھ جوڑا گیا تو اس پروسکائٹ، سی آئی ایس ایس ای سیل نے 23.03 ایفی شنسی کو چھوا جو محلول عمل سے تیار perovskite/CISSe سولر سیل کا نیا ریکارڈ بھی ہے۔

    پی ٹی اے کا فوری کرپٹو کرنسی ویب سائٹس کو بلاک نہ کرنے کا فیصلہ

    انہوں نے بتایا کہ اسی قسم کے سولر سیل کا پرانا ریکارڈ چینی، امریکی اور آسٹریلوی ماہرین نے بنایا تھا جس کی افادیت 13.5 فیصد تھی ۔ لیکن اس سیل کو بنانے کے لیے ایک خاص بند ماحول درکار ہوتا ہے جسے ’گلووباکس‘ کہتے ہیں اور اس کے اندر نائٹروجن گیس بھری ہوتی ہے نائٹروجن کی وسیع مقدار اور اس کے انتظامات پورے عمل کو بہت مہنگا بناتے ہیں یاسر صدیقی کے مطابق انہوں نے ایک جادوئی جزو کا اضافہ کیا جسے سی آئی ایس ایس ای سولر سیل کو استحکام بخشا اور وہ ایک مالیکیولر روشنائی تھی۔

    ڈاکٹر یاسر صدیقی کے مطابق روایتی سیلیکون سے بنے سولر سیل تمام موسموں میں بھی 20 سے 30 سال تک کارآمد رہتے ہیں اور کسی بھی اچھے سیل میں یہ خواص ہونا ضروری ہیں۔ کے آئی ای آر کا نیا سولر سیل بھی پائیدار قرار پایا ہے میری تجربہ گاہ میں گزشتہ ایک برس سے یہ نیا سولر سیل موجود ہے اور اب تک اس کی افادیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے-

    پاکستان میں کورونا مثبت کیسز کی شرح 5.40 فیصد پر پہنچ گئی

    ڈاکٹر یاسر کا کہنا تھا کہ دونوں ایجادات ’کے آئی ای آرمیں واقع فوٹووولٹائک ٹیسٹ لیبارٹری‘ سے باقاعدہ سرٹفکیٹ حاصل کرچکی ہیں۔ یہ تجربہ گاہ ISO/IEC17025 سرٹیفائڈ ٹیسٹ سینٹر بھی ہے جسے کوریا لیبارٹری ایکریڈیٹیشن اسکیم (کولاس) کی جانب سے مجازادارے کا درجہ بھی دیا گیا ہے۔

    کولاس نے انٹرنیشنل لیبارٹری ایکریڈیشن کوآپریشن میوچل ریکگنیشن ارینجمنٹ کے معاہدے پر بھی دستخط کئے ہیں۔ ایجاد کی پیٹنٹ جلد ہی فائل کی جائے گی۔ اختراعاتی سولر سیل کی جامع تفصیلات رائل سوسائٹی برائے کیمیا کے جرنل ’انرجی اینڈ اینوائرمنیٹل سائنس‘ میں شائع ہوئی ہے جس کا 38.532 امپیکٹ فیکٹر اسے دنیا کا ممتاز سائنسی جریدہ بناتا ہے یہ گزشتہ چند برسوں میں کے آئی ای آر سے شائع شدہ سب سے اہم اوربلند اثر والی تحقیق بھی ہے-

    چوتھا چیئرمین واپڈا گولف ٹورنامنٹ ،گورنر پنجاب نے کئے انعامات تقسیم

  • بھارت میں مزید 54 چینی ایپس پرپابندی

    بھارت میں مزید 54 چینی ایپس پرپابندی

    بھارت نے چین کی مزید 54 ایپس کو قومی سلامتی کا خطرہ قرار دے کر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، چین کے ساتھ سرحدی کشیدگی کے آغاز سے اب تک بھارت 300 چینی اپیس پر پابندی عائد کر چکا ہے۔

    باغی ٹی وی :"عالمی خبررساں ادارے الجزیرہ” کے مطابق بھارت کی الیکٹرانکس اور آئی ٹی کی وزارت نے تازہ ترین پابندیوں میں چین کی بڑی ٹیک فرموں جیسے ‘علی بابا’، ‘سویٹ سیلفی ایچ ڈی’، ‘بیوٹی کیمرا’، ‘سیلفی کیمرہ’، ‘گیرینا فری فائر’، ‘الیومیناتے’، ‘ویوا ویڈیو ایڈیٹر’، ‘ٹینسینٹ ایکس ریور’، ‘اونمائیوجی ایرینا’، ‘ایپ لاک’ اور ‘ڈوئل اسپیس لائٹ’ سمیت درجنوں مقبول و معروف ایپس شامل ہیں جو کہ 2020 میں بھارت کی جانب سے پہلے ہی پابندی عائد کردہ ایپس کے دوبارہ برانڈڈ ورژن ہیں۔

    چینی ایپس پر پابندی کے باوجود بھارت چینی کمپنیوں سے چندہ لیتا رہا

    بھارتی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور الیکٹرانک کی وزارت کا کہنا ہے کہ یہ ایپس صارفین کا حساس ڈیٹا جمع کرتی ہیں۔ اور اس ڈیٹا کو دشمن ملک میں واقع سرورز پر منتقل کر کے غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

    ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان میں سے کچھ ایپس فائن لوکیشن (جی پی ایس) تک رسائی حاصل کر کے، کیمرہ/مائیک کے ذریعے جاسوسی اور نگرانی کی سرگرمیاں بھی انجام دے سکتی ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ یہ ایپس مبینہ طور پر ملک کی خود مختاری اور سالمیت کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر ریاست کی سلامتی اور بھارتی دفاع کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔

    گزشتہ سال بھارت نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ سمیت 59 ایپلیکیشنز (ایپس) پر مستقل طور پر پابندی عائد کر دی تھی-

    امریکا میں شئیرایٹ اور علی پے سمیت 8 چینی کمپنیوں پر پابندی عائد

    بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے کمپنیوں سے تفصیلات طلب کی تھیں کہ وہ صارفین کی کیا کیا تفصیلات جمع کرتے ہیں اور انہیں کن مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    وزارت داخلہ کے ترجمان نے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    تازہ ترین اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان طویل عرصے سے ہندوستان اور چین ہمالیہ کے ساتھ 3,488 کلومیٹر (2,170 میل) پر جاری تنازع حل نہیں ہوا، 2020 میں ہونے والی خونریز جھڑپ م میں دونوں اطراف کے فوجی ہلاک ہو گئے-

    ہندو انتہا پسندی کے خلاف روشن خیال فورس تیار کی جائے،کمل ہاسن

    چین کے ساتھ لداخ کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے دوران انڈین حکومت نے اس فیصلے کو ایمرجینسی حل اور قومی سلامتی کے لیے ضروری قدم بتایا تھا دونوں ممالک کی افواج کے درمیان پر تشدد جھڑپ میں 15 جون کو 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے اور چین سے سرمایہ کاری کے لیے ہندوستان میں سخت قوانین بنائے گئے، جن میں ایپس پر پابندی بھی شامل ہے۔

    دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، ہندوستان کے آرمی چیف نے حال ہی میں پچھلے مہینے کی طرح چینی جارحیت کے خطرے کا حوالہ دیا۔

    بھارت میں 87 سالہ خاتون کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

  • ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    ترکی: ’بسم اللہ‘ کی خطاطی سے مزین 19 کروڑ سال پرانا سنگ مرمر پتھردریافت

    استنبول: تُرک صوبے انطالیہ میں سنگِ مرمر کی کان میں کھدائی کے دوران پتھر کے ایک ٹکڑے پر ’بسم اللہ‘ جیسی عبارت دریافت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : سرکاری خبر رساں ایجنسی ’انادولو‘ کے مطابق، ماربل کا یہ ٹکڑا 19 کروڑ 50 سال قدیم ہے جس پر نشانات ایسی قدرتی ترتیب اختیار کر گئے ہیں کہ جیسے کسی نے اس پر ’بسم اللہ‘ لکھ دیا ہو-

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    رپورٹ کے مطابق نگِ مرمر کا یہ ٹکڑا چند روز پہلے تاسکیگی قصبے کے قریب سنگِ مرمر کی کان میں کھدائی کرتے دوران مزدوروں نے پہلی بار دریافت کیا تھا جس میں انہیں واضح طور پر ’بسم اللہ‘ کی عبارت دکھائی دی۔

    پتھر کا یہ ٹکڑا فوری طور پر سلیمان دیمیرل یونیورسٹی بھجوا دیا گیا تاکہ اس کا مزید معائنہ کیا جاسکے یونیورسٹی کے ماہرین نے بھی تصدیق کی کہ سنگِ مرمر کے اس ٹکڑے میں کسی قسم کی جعلسازی نہیں بلکہ اس پر دکھائی دینے والی ’بسم اللہ‘ کی عبارت مکمل قدرتی طور پر نمودار ہوئی ہے۔

    مصر سے ابوالہول جیسے 3,400 سال پرانےدو مجسمے دریافت

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ماربل کا یہ ٹکڑا آج سے 15 کروڑ 90 لاکھ سال پہلے وجود میں آیا تھا اور ’بسم اللہ‘ جیسا نقش بھی اسی دوران پتھر میں بن گیا تھا۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب یہ پتھر اور اس سے ملحقہ چٹانیں وجود میں آرہی تھیں تو انطالیہ کا یہ علاقہ سمندر کی تہہ میں تھا، جبکہ وہ ڈائنوسار کا زمانہ تھا۔

    مصرمیں مٹی کی تختیوں پر لکھی گئی صدیوں پرانی ’ڈائریاں‘ دریافت

  • "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    "ناسا” کی مہنگی ترین جیمز ویب دوربین نے ستاروں کی پہلی تصویر کھینچ لی

    امریکی خلائی تحقیقی ادارے ’ناسا‘ نے جیمس ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ (JWST) کی ستاروں کی کھینچی ہوئی پہلی آزمائشی تصویر جاری کردی ہے۔

    باغی ٹی وی : ناسا کی جانب سے جاری کی جانے والی یہ تصویر شمالی آسمان کے مشہور جھرمٹ ’دُبّ اکبر‘ (بڑے ریچھ) کے ستاروں کی ہے جن میں سے اہم ستارہ ’ایچ ڈی 84406‘ ہے جو ہماری زمین سے 258 نوری سال دور ہے۔ (یعنی اس ستارے کی روشنی ہم تک پہنچنے میں 258 سال لگ جاتے ہیں۔)

    فوٹو:ناسا
    واضح رہے کہ دس ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی، دنیا کی مہنگی ترین خلائی دوربین ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا اصل مشن ابھی شروع نہیں ہوا ہے بلکہ آزمائشی مرحلے میں اس کے 18 آئینوں کی سیدھ انتہائی احتیاط سے درست کی جارہی۔

    بین الاقوامی خلائی اسٹیشن 2031 میں سمندر برد کر دیا جائے گا ،ناسا

    اس بارے میں ناسا نے تصویر کے ساتھ ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ تصویر کھینچنے کا آغاز 2 فروری سے ہوا جبکہ اسے مکمل ہونے میں 25 گھنٹے لگ گئے۔

    فوٹو بشکریہ: ناسا
    ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ نے دُبّ اکبر (Ursa Major) کے مطلوبہ علاقے میں 156 مقامات کا مشاہدہ کیا اور تصویریں کھینچیں۔ یہ علاقہ زمین سے دکھائی دینے والے پورے چاند جتنا ہے اس دوران خلائی دوربین کے دس نیئر انفراریڈ کیمروں کی مدد سے اس علاقے کی 1,560 تصویریں کھینچی گئیں جنہیں بعد ازاں آپس میں جوڑ کر 2 ارب پکسل والی ایک بڑی تصویر تیار کی گئی۔

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا…

    فی الحال ’جے ڈبلیو ایس ٹی‘ کا ہر آئینہ جداگانہ طور پر کام کررہا ہے لیکن آئندہ چند ماہ میں یہ تمام آئینے ایک دوسرے کے ساتھ اس انداز سے ترتیب میں لائے جائیں گے کہ وہ ایک بہت بڑے آئینے کی طرح کام کرنے لگیں گے۔

    اس دوران ہر مرحلے میں جہاں آئینوں کی ’سیدھ‘ درست کی جائے گی، وہیں آزمائشی تصویریں زمینی مرکز تک نشر کرکے اس دوربین کے مواصلاتی نظام کو بھی جانچا جاتا رہے گا۔

    واضح رہے کہ مذکورہ دوربین کو انسانی تاریخ کی سب سے پیچیدہ، جدید اور حساس ترین خلائی دوربین کا اعزاز حاصل ہے جو ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار بھی ہے اسے گزشتہ برس دسمبر میں آریان فائیو راکٹ سے خلائی مرکز فرنچ گیانا سے روانہ کیا گیا اس موقع پر ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی سمیت دیگر اداروں کے ماہرین مضطرب رہے کیونکہ معمولی غلطی بھی دس ارب ڈالر کی خطیر رقم سے تیار اس خلائی دوربین کا پورا مشن ناکارہ بناسکتی تھی۔

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا


    جیمز ویب دوربین اپنی پیش رو ’’ہبل خلائی دوربین‘‘ سے کئی گنا زائد طاقتور اور مؤثر ہے کیونکہ اس میں حساس ترین آئینے لگائے گئے ہیں۔ اس دوربین کا مرکزی آئینہ 18 آئینوں کو آپس میں جوڑ کر بنایا گیا ہے جس کی مجموعی چوڑائی تقریباً 6.5 میٹر ہے۔ یہی دوربین کے دل و دماغ ہیں جو ہماری بصارت کو وسعت دیں گے۔

    جیمز ویب دوربین پر کام کرنے والے ایک اور انجینئر کا کہنا تھا کہ 144 میکینزم ایسے ہیں جو یکجا ہوکر کام کریں گے تو یہ مشکل مرحلہ کامیاب ہوگا ماہرین نے جیمزویب کھلنے کا پورا عمل ایک کاغذی کھیل (اوریگامی) سے تعبیر کیا ہے جس میں معمولی بد احتیاطی اسے تباہ کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پورے نظام کو سادہ اور آسان بنایا گیا ہے تاکہ ناکامی کے خطرات کو کم کیا جاسکے۔

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے…


    ناسا کے مطابق اس منصوبے میں حساس نوعیت کی سیکڑوں پیچیدگیاں ہیں جو شاید ہی کسی خلائی دوربین نے اس سے پہلے دیکھی ہوں گی۔ اسی لیے پورے مشن اور کمانڈ سسٹم کو نازک قرار دیا گیا تھا جیمزویب خلائی دوربین بیضوی مدار میں سورج کے گرد چکر لگائے گی جبکہ زمین سے اس کا اوسط فاصلہ تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر رہے گا۔ خلاء کے انتہائی تاریک ماحول میں زیریں سرخ (انفراریڈ) شعاعوں کے ذریعے یہ کائنات کے ان دور دراز مقامات کو بھی دیکھ سکے گی جو اس سے پہلے کسی دوربین نے نہیں دیکھے۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    یہ مقامات ہم سے تقریباً 13 ارب 70 کروڑ سال دور ہیں، یعنی ان سے آنے والی روشنی بھی اتنی ہی قدیم ہے یعںی خود کائنات۔سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کائنات کے اوّلین ستارے بھی آج سے 13 ارب 70 کروڑ پہلے وجود میں آئے ہوں گے لیکن اب تک کسی بھی دوربین سے انہیں دیکھا نہیں جاسکا۔ جیمس ویب خلائی دوربین ایسے ستاروں کو بھی دیکھ سکے گی۔

    دوسری جانب اس سے خلا کی وسعتوں میں دوردراز زمین نما سیاروں کی کھوج میں بھی آسانی ہوگی۔ خلاصہ یہ کہ جیمز ویب ہمیں کائنات کا اولین نظارہ کراسکے گی اور ہم جان سکیں گے کہ اس وقت ستاروں، سیاروں اور کہکشاؤں کی صورت کیا تھی۔21 فٹ کا دوربینی آئینہ دور دراز کائنات کی روشنی کو جمع کرسکے گا اور ہمیں قدیم کائنات کا نظارہ کرائے گا۔ خلا کا ماحول زمین آلودگی اور بادلوں وغیرہ سے پاک ہوتا ہے اور اسی لیے یہ دوربین ہمیں کائنات کا ان دیکھا نظارہ کراسکے گی۔


    خیال رہے کہ واضح رہے کہ انسانی تاریخ میں کسی دوربین میں لگائے گئے یہ سب سے بڑے آئینے بھی ہیں۔ 14 ممالک کے سائنسداں، انجینیئر اور سافٹ ویئر ڈیزائنر نے اس منصوبے پر 2004ء میں کام شروع کیا تھا لیکن بار بار یہ منصوبہ تکنیکی خامیوں، ٹیکنالوجی کی کمی اور وبا کی وجہ سے تعطل کا شکار رہا۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    جیمز ویب ناسا کے دوسرے ایڈمنسٹریٹر تھے۔ انہوں نے ناسا کے قمری مشین میں نہ صرف اہم کردار ادا کیا بلکہ اس کے لیے بنیادی خدمات بھی انجام دیں جیمزویب کی حکمتِ عملی ایک عرصے تک ناسا کی ترقی کی ضامن رہی اور 27 مارچ 1992ء میں وہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • پاکستانی انجینئر نے آٹزم کے شکار بچوں کیلئے روبوٹ تیار کرلیا

    پاکستانی انجینئر نے آٹزم کے شکار بچوں کیلئے روبوٹ تیار کرلیا

    کراچی کے نوجوان انجینئر نے آٹزم کا شکار بچوں کے لیے ایک روبوٹ تیار کرلیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نجی خبررساں ادارے سے گفتگو میں روبوٹ کے تخلیق کار محمد علی عباس نے کہا کہ ورلڈ بینک کے اندازے کے مطابق پاکستان میں 10لاکھ بچے آٹزم کا شکار ہیں اور ایسے بچوں کے ذہنی اورجسمانی مسائل کے حل کے لیے تربیت یافتہ ماہرین اور عملے کی کمی ہے جس کی وجہ سے ان بچوں کے ساتھ ان کے والدین بھی مشکلات کا شکار ہیں اس روبوٹ کو PEEKOکا نام دیا گیا ہے جو اردو اورانگریزی زبانوں میں آٹزم کا شکار بچوں کی بات چیت کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے اور ان کے ساتھ ایک تعلق قائم کرلیتا ہے-

    جی میل پلیٹ فارم پر جلد ہی اہم تبدیلیاں متوقع

    محمد علی عباس نے بتایا کہ روبوٹ میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے سیکھنے کی صلاحیت ہے جسے وہ آٹزم کے مریضوں کی بات چیت کرنے کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتا ہےاس روبوٹ کے ابتدائی نتائج بہت حوصلہ افزا ملے ہیں-

    انہوں نے بتایا کہ روبوٹ کو 2 لاکھ روپے میں مارکیٹ میں فروخت کیلیے پیش کیا جائے گا، روبوٹ کی خصوصیات کو مزید بہتر بنایا جارہا ہے تاکہ پاکستان میں آٹزم کے شکار بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ عالمی سطح پر بھی اسپیشل بچوں کے لیے فراہم کیا جاسکے۔

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    روبوٹ کو حال ہی میں قومی سطح پر ’’نیشنل آئیڈیاز بینک‘‘ کے تحت ہونے والے تخلیقی آئیڈیاز کے مقابلوں میں ہیلتھ کیئر سیکٹر کا بہترین تخلیقی آئیڈیا قرار دیا گیا اور صدر پاکستان عارف علوی نے تخلیقی آئیڈیا متعارف کرانے والے نوجوان انجینئر محمد علی عباس کوہیلتھ کٹیگری کے آئیڈیاز کے مقابلے میں اول پوزیشن کی سند کےساتھ 75ہزار روپے کے نقد انعام سےبھی نوازا محمد علی عباس عثمان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سےفارغ التحصیل ہیں اور اب اپنی ٹیکنالوجی کمپنی انوینٹرز کے نام سے اسٹارٹ کمپنی قائم کی ہے۔

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

  • جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    جاپانی ساحل کے نیچے آتشیں چٹان دریافت ،جو بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہے

    ٹوکیو: جنوبی جاپان کے ساحل کے نیچے ایک آتشیں چٹان دریافت ہوئی ہے جسے ’کومانو پلوٹون‘ کا نام دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے خدشہ ظاہرکیا ہے کہ یہ چٹان ایک طرح سے مقناطیس یا برقی سلاخ کا کردار ادا کرتے ہوئے بہت طاقتور زلزلوں کی وجہ بن سکتی ہےاس کےمفصل تھری ڈی نقشے سے معلوم ہوا ہے کہ ٹیکٹانوک پلیٹوں کی توانائی اس چٹان کی اطراف پہنچتی ہے اور دھیرے دھیرے جمع ہورہی ہے۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    2006 میں سائنسدانوں نے کومانو پلوٹان پر توجہ کی تھی جو پگھلے ہوئے ارضی مادے سے بنی ایک چٹان ہے پلوٹون اس چٹان کو کہتے ہیں جو زیرزمین دیگر پتھروں کو ہٹا کر ایک ابھار کی صورت میں باہر پھوٹتی ہے اور دھیرے دھیرے سرد ہوکر سخت ہوجاتی ہے-

    ماہرین نے تحقیق کے دوران معلوم کیا کہ نانکائی سبڈکشن زون میں ایک ارضیاتی پلیٹ دوسری پلیٹ میں دھنس رہی ہے جسے سبڈکشن کا عمل کہا جاتا ہے اس سے پلیٹوں پر توانائی جمع ہوتی رہتی ہے اور زلزلوں کی وجہ بنتی ہے پھر معلوم ہوا کہ ایک مقام پر پلوٹون چٹان موجود ہے ماہرین نے اس کے بعد مزید 20 سال کا ڈیٹا جمع کیا اور چٹان کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی مزید نقشہ سازی کی۔

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    بحری ارضی سائنس و ٹیکنالوجی ایجنسی کے سینیئر سائنسداں سیوشی کوڈیرا کا کہنا ہے کہ اس اہم تحقیق سے جاپان میں رونما ہونے والے ممکنہ زلزلوں کی پیشگوئی میں سہولت ہوگی تو دوسری جانب آتشیں چٹان اور ٹیکٹونک پلیٹوں کے درمیان ربط جاننے میں بھی مدد ملے گی ہم درست طور پر نہیں کہہ سکتے کہ مستقبل میں کہاں اور کس وقت بڑے زلزلے رونما ہوں گے لیکن ڈیٹا اور ماڈلنگ سے اس کا درست اندازہ ضرور لگایا جاسکتا ہے-

    ماہرین کا کہنا ہے کہ زلزلہ معمولی ہو یا بڑا اس کے اثرات اپنے مقام سے تالاب میں دائروں کی طرح پھیلتےہیں، تباہی مچاتے ہیں اور دوبارہ لوٹ آتے ہیں ماہرین نے اس پورے عمل کی نقشہ سازی کی ہے جو نہایت محنت طلب کام ہے اسی مقام سے 1944 اور 1946 کے ہولناک زلزلے بھی پھوٹے تھے اور اب معلوم ہوا ہے کہ اس میں پلوٹون کا کردار بہت اہم تھا۔

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق