Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • دہائیوں تک بغیر کھائے پئے خلا میں زندہ رہنے والا واحد جانور

    دہائیوں تک بغیر کھائے پئے خلا میں زندہ رہنے والا واحد جانور

    ٹارڈی گریڈ (tardigrade) نامی خُردبینی مخلوق جسے عرفِ عام میں پانی کا بھالو، water bear بھی کہا جاتا ہے دہائیوں تک بغیر کھائے پیے زندہ رہ سکتا ہے-

    باغی ٹی وی : ٹارڈی گریڈ یہ چھوٹا سا خوردبینی جاندار ہے جو انسانی آنکھ سے بمشکل نظر آتا ہے ٹارڈی گریڈ تقریباً 50 کروڑ برسوں سے اس زمین پر بستے آرہے ہیں ان کی 1 ہزار سے زائد اقسام اب تک پائی جاچکی ہیں جس میں سے کچھ میٹھے پانی کی، کچھ سمندر کی اور کچھ خشکی پہ رہنے والی ہیں-

    انٹارکٹیکا میں تین لاکھ سے زائد آسمانی پتھر موجود ہوسکتے ہیں

    صرف یہی نہیں بلکہ ایک اور خاصیت جو انہیں باقی مخلوقات سے جدا کرتی ہے وہ ہے ان کا تابکاری شعاعوں سے محفوظ ہونا۔ بالفاظ دیگر ان پر کسی بھی قسم کی تابکاری کا اثر نہیں ہوتا۔ اس جانور میں انتہائی درجہ حرارتوں میں رہنے کا ہنر بھی ہے۔منفی درجہ حرارت کی اگر بات کی جائے تو یہ مخلوق منفی 272 کے قریب درجہ حرارت سے لے کر سو ڈگری کے کھولتے ہوے پانی میں زندہ رہ سکتا ہے سمندر کی تہ میں انتہائی شدید دباؤ میں زندہ رہتا ہے ، خلا میں زندہ رہ سکتا ہے اور پانی اور خوراک کے بغیر دس برس تک زندہ رہ سکتا ہے . ان تمام حالات میں کوئی اور نوع نہیں پنپ سکتی یہ صلاحیت ان میں کیسے پیدا ہوتی ہے؟

    چاند پر دکھائی دینے والی ’پراسرار جھونپڑی‘ کی حقیت سامنے آ گئی

    اس میں کوئی حیرت نہیں کہ کرہ ارض پر ٹارڈی گریڈ سب سے طویل عرصہ تک پنپنے والی نوع ہے ، ان کو زمین پر پانچ سو ملین سے زیادہ برس ہو چکے ہیں
    جب خطرناک ماحولیاتی تبدیلی سے اس کا سامنا ہوتا ہے جیسے پانی کی عدم فراہمی تو یہ ٹارڈی گریڈ ایک عمل سے گزرتا ہے جسے cryptobiosis کہا جاتا ہے۔ اس عمل کے ذریعے اس پر ظاہری موت طاری ہوتی ہے اس کا نظام تحول (metabolism) 0.01 فیصد ہوجاتا ہے اور جسم میں پانی کی سطح 1 فیصد رہ جاتی ہے یہ مخلوق جسم میں پانی کو اپنے خلیوں میں محفوظ کردیتی ہے۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    یہ سائنسدانوں کو ملنے والا اب تک کا واحد جانور ہے جو خلا میں بغیر آکسیجن کے زندہ رہ سکتا ہے۔2007 میں دنیا کے مدار سے باہر بھیجے گئے فوٹون-ایم3 نامی مشن پر ٹارڈی گریڈز کو بھیجا گیا تھا اور براہ راست خلا سے ان کی نمائش کی گئی تھی ماہرین نے پایا کہ کشش ثقل اور آکسیجن کی عدم فراہمی کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑا اور حتیٰ کہ کچھ ٹارڈی گریڈز نے اس مشن کے دوران انڈے بھی دیئے۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

  • پاکستان میں صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے والی بھارتی ایپ کا انکشاف

    پاکستان میں صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے والی بھارتی ایپ کا انکشاف

    اسلام آباد: بھارت کی جانب سے اینڈرائیڈ موبائل فون صارفین کا ڈیٹا چوری کرنے کے لیے ‘ڈیشا’ نامی آف لائن میپس موبائل ایپ متعارف کرانے کا انکشاف ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق حکومت نے پاکستان میں صارفین کو بھارتی موبائل فون کے استعمال سے اجتناب کرنے سے متعلق ایڈوائزری جاری کردی ہے اورحفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ صرف گوگل پلے اسٹور سے ہی موبائل ایپ ڈاون لوڈ کرنے کی ہدایت کی ہے ایڈوائزری میں یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی نامعلوم سرور استعمال نہ کریں اور نہ ہی لنک کھولیں۔

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    اس کے علاوہ، نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن سیکیورٹی بورڈ (NTISB) کی طرف سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی ہے جو تمام وزارتوں اور ڈویژنوں اور ان کے ذیلی اداروں اور ملحقہ اداروں کو بھی بھیج دی گئی ہے اس میں کہا گیا کہ حال ہی میں مشاہدے میں آیا ہے کہ آف لائن روڈ نیوی گیشن کے لیے بھارتی اوریجن کی تھرڈ پارٹی اینڈرائیڈ نیوی گیشن ایپلیکیشن ڈیشا استعمال کی جارہی ہے۔

    مودی حکومت نے پاکستان کے 35 یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی

    ایڈوئزری میں کہا گیا کہ یہ موبائل ایپ گوگل پلے اسٹور پر موجود نہیں ہے اور یہ موبائل فون ایپ تھرڈ پارٹی سرور سے ڈاون لوڈ کی جاسکتی ہے، موبائل ایپ کے استعمال بارےصارفین کا فیڈ بیک کافی مثبت ہے لیکن مستقبل میں اس موبائل فون ایپ کے بڑے پیمانے پر استعمال کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا ہے۔

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

    ایڈوائزری میں کہا گیا کہ بھارتی اوریجن کی یہ موبائل فون ایپ ڈیشا صارفین سے پیشگی اجازت لیے بغیر ازخود ہوسٹ سسٹم، ڈیٹا اسٹور، ایس ایم ایس ریڈ تک رسائی حاصل کرلیتی ہےاس موبائل فون ایپ میں اضافی خاصیت یہ ہے کہ صارفین کی درست لوکیشن بھارتی گرڈ سسٹم میں ڈسپلے ہوجاتی ہے جسے زوم بھی کیا جاسکتا ہے۔

    ایمیزون نے جھوٹی تعریف کرنے والی ٹوئٹر فوج ختم کر دی

  • 2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

    2020 میں ہونے والے ایک غیرمعمولی آسمانی واقعے کو ایک نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا

    واشنگٹن: 2020 میں آسمانی بجلی کا 768 کلومیٹر طویل کڑاکا جسے تین امریکی ریاستوں میں دیکھا گیا تھا اس کو نیا عالمی ریکارڈ قرار دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : رپورٹس کے مطابق 2020 میں دو ریکارڈ توڑ بجلی کی چمکیں رونما ہوئیں: ایک 768 کلومیٹر کی لمبائی کے ساتھ اب تک کی سب سے طویل ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ دوسری 17 سیکنڈ کے دورانیے کے ساتھ اب تک کی سب سے طویل ترین فلیش ہے۔

    ایک فلش جنوبی امریکہ میں اپریل 2020 میں ہوا تھا اور اس کی لمبائی تقریباً 768 کلومیٹر تھی یا لندن سے جرمنی کے ہیمبرگ تک کا فاصلہ تھا اس حوالے سے لی گئی تصویر میں ایک ’’میگا فلیش‘‘ یعنی آسمانی بجلی کے طویل ترین کوندے کو ٹیکساس، لیوزیانا اور مسی سپی تک میں دیکھا گیا –

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    اس کو خلا سے ماپا گیا ہے اور اس کی تصدیق ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) نے کی ہے اب عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے اسے آسمانی بجلی کے طویل ترین کوندے کا ایک نیا ریکارڈ قرار دیا ہے-

    اس سے قبل 31 اکتوبر 2018 میں برازیل میں آسمانی بجلی کا 709 کلومیٹر طویل کوندا ریکارڈ کیا گیا تھا جسے اب امریکی مظہر نے پیچھے چھوڑ کر نیاریکارڈ قائم کیا ہے عام طور پر گرج چمک والی بارشوں میں ہم آسمان پر لپکتے بجلی کے کوندے دیکھتے ہیں۔ ایک کوندا 10 سے 15 کلومیٹر طویل ہوسکتا ہے اور وہ ایک سیکنڈ تک برقرار رہتا ہے۔

    تاہم ماہرین نے اسے آب و ہوا میں تبدیلیوں یعنی کلائمیٹ چینج قرار نہیں دیا سائنسدانوں کے مطابق بجلی کا شرارہ شدید طوفان کی وجہ سے رونما ہوا جس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی-

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    ڈبلیو ایم او سے وابستہ سائنسدانوں نے موسمیاتی شدت کی رپورٹ امریکن میٹرولوجیل سوسائٹی کے بلیٹن میں اس قدرتی ریکارڈ کی تفصیلات شائع کروائی ہے۔ اسی رپورٹ میں طویل ترین وقت تک برقرار رہنے والی آسمانی بجلی کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں 18 جون 2020 کو یوراگوئے اور ارجنٹینا کی سرحد پر آسمانی بجلی کا کڑاکا 17 سیکنڈ تک برقرار رہا جو ایک اور ریکارڈ ہے۔

    ایریزونا اسٹیٹ یونیورسٹی میں رینڈل سروینی کہتے ہیں، "اب ہمارے پاس واضح ثبوت ہے کہ بجلی گرنے کے واحد واقعات 17 سیکنڈ تک جاری رہ سکتے ہیں۔” "یہ سائنس دانوں کے لیے اہم ہے کیونکہ یہ بجلی کی حرکیات کے بارے میں ہماری سمجھ کو بہتر بناتا ہے: کس طرح، کہاں اور اہم بات یہ ہے کہ بجلی اسی طرح کیوں گرتی ہے۔”

    جسٹس عمرعطا بندیال نے بطورچیف جسٹس آف پاکستان حلف اٹھا لیا

  • سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب  ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب کا ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6.4 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان

    سعودی عرب نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں 6 ارب 40 کروڑ ڈالرکی سرمایہ کاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق سعودی مواصلات اورانفارمیشن ٹیکنالوجی کے وزیر عبدالله بن عامرالسواحہ نے بین الاقوامی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم لیپ کے موقع پر کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے میں مدد دے گی سعودی ٹیلی کام کمپنی، آبدوزوں کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی، جبکہ سرمایہ کاری میں ای ڈبلیو ٹی پی عربیہ کیپیٹل کا 2 ارب ڈالر کا فنڈ بھی شامل ہے۔

    کیاسعودی عرب کے قومی پرچم سے کلمہ طیبہ ختم کیا جارہا ہے؟اگرایسے ہی ہے تو پھرکیوں…

    انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل کی بڑی کمپنی آرامکو اپنے فنڈ خوش حالی 7وینچرزکے ذریعے دنیا بھر کے کاروباری افراد کو تبدیلی لانے والے اسٹارٹ اپ کی تعمیر میں مدد دے گی اور اس مقصد کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جبکہ سعودی ٹیلی کام کمپنی (ایس ٹی سی) سب میرین (آبدوزوں) کی تاروں اور ڈیٹا مراکز کے بنیادی ڈھانچے میں ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرے گی۔

    انہوں نے اگلے آٹھ سال میں ایک لاکھ سے ڈھائی لاکھ تک ملازمتیں پیش کرنے کا اعلان بھی کیا انہوں نے مزید بتایا کہ اس وقت مملکت میں ٹیکنالوجیز اور ڈیجیٹل مارکیٹ کا حجم 40 ارب ڈالرہے اور یہ خطے میں اب تک کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ہمیں خطے میں خاص طور پر ای کامرس، گیمنگ، ڈیجیٹل مواد اورکلاؤڈ کمپیوٹنگ میں جو ترقی دیکھنے میں آئی ہے،اس پر بہت فخر ہے۔

    روئٹرز کو دیئے گئے انٹرویوں میں وزیر ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ آرامکو پرسپرٹی7 کے اقدام میں سبزٹیکنالوجیز پر توجہ مرکوزکی جائے گی جبکہ لاجسٹک کمپنی جے ٹی ایکسپریس گروپ کا مشترکہ منصوبہ خطے کے لیے ایک اسمارٹ مرکزتعمیرکرے گا جس سے کارکردگی میں 100 فی صد تک بہتری آئے گی بحیرہ احمر کے ساحل پرتعمیر ہونے والے مستقبل کے میگاشہرنیوم کے مکینوں اورزائرین کی خدمات کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا آغاز کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک اور پلیٹ فارم بھی ہے جس سے صارفین کو اپنے ذاتی ڈیٹا کا کنٹرول سنبھالنے میں مدد ملے گی۔

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    سعودی حکومت کویہ بھی توقع ہے کہ 1.4 ارب ڈالرانٹرپرینیورشپ میں خرچ کیے جائیں گے اورڈیجیٹل مواد کی معاونت کے لیے فنڈزمختص کیے جائیں گے جن میں گیراج کے نام سے ایک اقدام بھی شامل ہے دارالحکومت الریاض میں گیراج کے نام سے مختص مقام پرنئی ٹیکنالوجیز میں مہارت رکھنے والے نئے کاروباریوں کی میزبانی کرے گا ان تمام اعدادوشمار کی تیسرے فریق (تھرڈپارٹی) نے توثیق کی ہے،ہم ہوا میں کوئی تیر چلا رہے ہیں اور نہ ظاہری نمودونمائش کا کوئی کاروبار کرتے ہیں بلکہ ہم عزم کے ساتھ عملی اقدامات کرتے ہیں‘‘۔

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    واضح رہے کہ اس وقت دولت مندخلیجی ممالک غیرتیل کی آمدن کو فروغ دینے اور خام تیل پر انحصار کم کرنے کے اقدامات کررہے ہیں کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی مہم چلانے والوں اور تیل کی قیمتوں میں اتارچڑھاؤ نے حکومتی مالیات پر دباؤ ڈالا ہے۔

    سعودی عرب پہلے ہی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی قیادت میں وژن 2030 کے نام سے معروف اقتصادی اصلاحات کے وسیع ترمنصوبے میں سیکڑوں ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کررہا ہے۔اس کے تحت سعودی معیشت کو متنوع بنانے اورتیل کی آمدن پرانحصار کم کرنے کے لیے مختلف منصوبے شروع کیے گئے ہیں

    سلمان خان کے لیے سعودی عرب کا "پرسنالٹی آف دی ایئر” ایوارڈ

    دوسری جانب شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی نے "نورہ ہیلتھ” پروگرام متعارف کرایا ہے۔ یہ علاقے کے ممالک میں صحت کے لیے پہلا جامعاتی پروگرام ہے جس کو عالمی ادارہ صحت کی منظوری حاصل ہے۔

    سعودی عرب میں شہزادی نورہ بنت عبدالرحمن یونیورسٹی میں اکیڈمک سپورٹ اور طلبہ کی خدمات کی سکریٹری ڈاکٹر ریم الوہیبی نے تعلیمی اداروں میں صحت کے شعبے کو مضبوط بنانے کے حوالے سے منعقد ہونے والی پہلی بین الاقوامی کانفرنس میں کہا کہ "نورہ ہیلتھ” پروگرام ان کی یونیورسٹی کی حکمت عملیوں اور صحت کے حوالے سے سعودی ویژن 2030 کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ یہ پروگرام نفسیاتی ، سماجی اور عضوی جامع صحت کے مفہوم کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس کا مقصد جامعہ کے اندر کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا اور ایک محفوظ صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔

  • بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    بھارت کا امسال ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان

    بھارت نے 2023 تک اپنی ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق اس مالی سال میں ریزرو بینک آف انڈیا کی طرف سے بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک نیا ڈیجیٹل روپیہ بھی متعارف کرایا جائے گا بھارتی وزیر خزانہ نرملا سیتا رامن نے ملکی بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ڈیجیٹل روپے کا تعارف “بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجیز” پر مبنی ہوگا۔

    تھر میں تین ارب ٹن کوئلے کے ذخائر برآمد

    نرملا سیتارامن نے ملک کا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’مرکزی بینک کی ڈیجیٹل کرنسی کا تعارف ڈیجیٹل معیشت کو ایک بڑا فروغ دے گا، اور ڈیجیٹل کرنسی زیادہ موثر اور سستی کرنسی مینجمنٹ سسٹم کا باعث بنے گی۔

    آر بی آئی اس سال بلاک چین اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل کرنسی جاری کرے گا۔ اس سے معیشت کو بڑا فروغ ملے گا۔ کریپٹو کرنسی سے ہونے والی آمدنی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کے ٹیکس میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ایسی کسی بھی جائیداد کی منتقلی پر 30فیصد ٹیکس لگے گا۔ کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ کارپوریٹ ٹیکس 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔

    تھائی ایئرویز کا پاکستان کیلئے فلائٹ بحالی کا اعلان،شیڈول جاری

    ریزرو بینک آف انڈیا یکم اپریل سے شروع ہونے والے مالی سال 2022-2023 میں ڈیجیٹل روپیہ متعارف کرائے گا۔ تاہم سیتارامن نے اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں کہ ڈیجیٹل روپیہ کیسے کام کرے گا یا یہ کیسا نظر آئے گا۔

    بھارت اگر اپنے منصوبوں پر قائم رہتا ہے تو وہ مرکزی بینک ڈیجیٹل کرنسی (CBDC) متعارف کرانے والی دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں سے ایک ہو گا۔

    یاد رہے چین 2014 سے اپنے یوآن کے ڈیجیٹل ورژن پر کام کر رہا ہے اور جب عالمی سطح پر CBDCs شروع کرنے کی بات آتی ہے تو وہ سب سے آگے ہے۔

    ریاست مدینہ میں کرکٹ، وزیراعظم عمران خان کے نام کھلا خط

    وزیر خزانہ سیتا رمن نے کہا کہ ہم اومی کرون لہر کے درمیان ہیں، ہماری ویکسینیشن مہم کی رفتار نے بہت مدد کی ہے مجھے یقین ہے کہ ‘سبکا پریاس’، ہم مضبوط ترقی کے ساتھ جاری رکھیں گے وبائی مرض نے ہر عمر کے لوگوں میں ذہنی صحت کے مسائل کو بڑھا دیا ہےمعیاری ذہنی صحت سے متعلق مشاورت اور دیکھ بھال کی خدمات تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے، ایک نیشنل ٹیلی مینٹل ہیلتھ پروگرام شروع کیا جائے گا۔

    حکومت کا پانچ فروری کوعام تعطیل کا اعلان

  • الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں؟ تحریر: عفیفہ راؤ

    ٹیکنالوجی کے اتنی ترقی کر لینے کے باوجود اس دور میں بننے والی کار، موبائل فون اور بلب کی کوالٹی پرانے وقتوں کی نسبت اتنی بری کیوں ہے؟ آج کل کی کاروں میں لگژری فیچرز تو بہت آ گئے ہیں موبائل فونزمیں بھی بہترین کمیرے لگائے جا رہے ہیں ان کے کلرز اور Shapeبھی بہت اسٹائلش ہو گئی ہیں اسی طرح بلب میں بھی بہت فینسی فینسی ڈیزائن مارکیٹ میں موجود ہیں۔ لیکن ان سب کے باوجود ان الیکٹرانکس اشیاء کی لائف پہلے سے بہت کم کیوں ہوکر رہ گئی ہے؟ اور پراڈکٹ بنانے والی کمپنیاں کیسے دن دگنی اور رات چوگنی ترقیاں کررہی ہیں؟ امریکہ میں ایک Livermore Fire Station, number sixہے جس کی خاص بات یہ ہے کہ وہاں دنیا کا واحد اور سب سے پرانا ایسا بلب سے جو پچھلے ایک سو اکیس سالوں سے مسلسل روشن ہے۔ اور اس سے بھی زیادہ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ یہ کسی Light switchکے ساتھ Connectedنہیں ہے۔ البتہ اس کے ساتھ Back up battery and generatorضرور Attachہیں۔ لیکن یہاں اصل سوال یہ ہے کہ یہ اتنے سالوں سے کیسے کام کر رہا ہے یہ آج تک کبھی خراب یا فیوز کیوں نہیں ہوا؟حالانکہ یہ بلب ہاتھ سے دیسی طریقے سے بنایا گیا تھا کیونکہ اس وقت کمرشل بنیادوں پر بلب کی تیاری بالکل اپنے ابتدائی مراحل میں تھی۔ لیکن پھر بھی یہ کئی ملین گھنٹوں سے روشن ہے اور ابھی تک کام کررہا ہے جبکہ آج کے دور میں ہم کسی بلب یا لائٹ کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔

    کچھ وقت پہلے مجھے کسی نے یہ سٹوری بتائی تھی کہ کئی سالوں پہلے ایک ایسا بلب ایجاد کیا گیا تھا جو ہمیشہ کام کر سکتا ہو اور کبھی خراب یا فیوز نہ ہو۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ بلب کبھی مارکیٹ تک نہیں پہنچ سکا کیونکہ اس کا کوئی بزنس ماڈل نہیں بن سکتا تھا۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نہیں اس بلب کو تو بیچنا سب سے زیادہ آسان ہوتا کیونکہ اسے ہر ایک انسان یہ سوچ کرلازمی خریدتا کہ ایک بار اگر خرید لیا تو بار بار کے خرچے سے بچ جائیں گے۔ لیکن یہی اس بزنس ماڈل کا
    Negative pointتھا ایک بار سیل کے بعد اس پراڈکٹ کا کوئی Repeat customerنہیں بننا تھا اس لئے اس کی سیل ایک حد سے آگے کبھی نہ بڑھ سکتی تھی۔اور یہ کوئی مفروضہ نہیں ہے بلکہ حقیقت میں یہ تجربہ بھی ہو چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب
    longlasting light bulbبنا کر بیچے جاتے تھے۔ لیکن جب کچھ عرصے بعد ان کی سالانہ سیل کا Analysis کیا گیا تو پتہ چلا کہ 1923میں OSRAMکے بلب کی سیل 63 millionتھی جو کہ اگلے ہی سال کم ہو کر 28 million ہو گئی تھی۔ یعنی یہ بلب ان کمپنیوں کے لئے ایک فائدہ مند پراڈکٹ کی جگہ نقصان دہ پرڈاکٹ ثابت ہوئی۔جس کے بعد 1924میںGeneva, Switzerlandمیں کرسمس کے موقع پر ان بلب بنانے والی کمپنیوں کی ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔ جس میں Philips
    International general electricsTokyo electricOSRAM GermanyاورUKکی Associated electircکے ٹاپ ایگزیکٹیو شامل تھے۔ اس میٹنگ میں انہوں نے مل کر ایک Phoebus cartelبنایا۔Phoebus کا مطلب ہے The greek god of light.اور یہ عہد لیا گیا کہ یہ تمام کمپنیاں مل کر کام کریں گی۔ اور دنیا میں لائٹ بلب کی سپلائی کو کنٹرول کرنے کے لئے بھی ایک دوسرے کی مدد کریں گی۔اسی میٹنگ میں یہ بھی ڈسکس کیا گیا کہ یہ لائٹ بلب جو لمبے عرصے تک کام کرتے ہیں اگر ان کی قیمت بڑھا بھی دی جائے تو کمپنیاں وہ منافع نہیں کما سکتیں جو کہ Repeat customersسے کمایا جا سکتا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ انBulbsکےLife spanکو کم کیا جائے۔ تاکہ ایک بلب خراب ہوگا تو کسٹمر پر لازم ہو جائے گا کہ وہ اس کی جگہ نیا بلب خریدے۔ اس لئے وہ بلب جو کہ 2500 hoursسے زیادہ دیر تک روشن رہ سکتے تھے ان کی جگہ وہ بلب بنانے شروع کئے گئے جو صرف 1000 hoursتک کام کرتے اور اس کے بعد ناکارہ ہو جاتے۔

    اب اگلا مرحلہ یہ تھا کہ یہ کمپنیاں ایک دوسرے پر کیسے نظر رکھیں کہ کوئی دوسرا ایسا بلب بنا کر مارکیٹ میں نہ بیچے جو کہ 1000 hoursسے زیادہ چل سکے کیونکہ یہ کسٹمرز کو تو یہی کہہ کر اپنی پراڈکٹ بیچتے ہیں کہ ہم آپ کو سب سے بہتر پراڈکٹ دے رہے ہیں۔ اس کے لئے یہ پریکٹس شروع کی گئی کہ ہر ایک کمپنی دوسرے کمپنی کو اپنی Sample productsبھیجتی جن کو ایک سٹینڈ پر لگا کر چیک کیا جاتا اور اگر کسی بھی کمپنی کا بلب ایک ہزار گھنٹے سے زیادہ کام کرتا تو اس کو جرمانہ کیا جاتا۔اگر کسی کمپنی کا بلب تین ہزار گھنٹوں سے زیادہ کام کرتا تو ایک ہزار بلب کی سیل پر کمپنی کو 200 swiss francجرمانہ کیا جاتا۔ جس کی وجہ سے وہ انجینئرز جو پہلے بلب کے Life span and durability
    کو بڑھانے کے لئے کام کر رہے تھے انہی کو مجبور کیا گیا کہ وہ اس معیار کو گرانے کا کام کریں اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے جس کی وجہ سے یہ Cartelبننے کے چار سال بعد ہی ان بلب کمپنیوں کی سیل میں پچیس فیصد تک اضافہ ہو گیا۔ ایک طرف تو Repeat customers کی وجہ سے سیل میں اضافہ ہوا اور دوسری طرف معیار گرانے کی وجہ سے پراڈکٹ کی Costبھی کم ہو گئی لیکن ان کمپنیوں نے بلب کی قیمت وہی رہنے دی جو کہ پہلے تھی اس لئے کچھ ہی عرصے میں انہوں نے اچھا خاصا منافع کما لیا۔ اور یہ کوئی کہی سنی بات نہیں ہے بلکہ اس کے ثبوت موجود ہیں کہ کارٹل میں موجود یہ کمپنیاں مل کر اپنی پراڈکٹ کو کسٹمر کے لئے بہتر بنانے کی بجائے صرف اس بات کو یقینی بناتیں تھیں کہ وہ اپنی سیل اور پرافٹ کو کیسے بڑھا سکتی ہیں۔اور جس بلب کی مثال میں نے آپ کو شروع میں دی اس کے بھی اتنا طویل عرصے تک کام کرنے کی وجہ یہ ہی ہے کہ یہ بلب اس کارٹل کے وجود میں آنے سے پہلے کا بنا ہوا ہے اور اس کے علاوہ اس بلب کا Filamentبھی 4 or 5 wattتک Low power کا ہے۔ اسے فائر اسٹیشن میں نائٹ بلب کے طور پر استعمال کرنے کے لئے بنا کر لگایا گیا تھا جو کہ آج بھی چل رہا ہے۔

    اب میں آپ کو بتاوں کہ ایک وقت آیا جب اس کارٹل کا پردہ فاش ہوا اور ان کمپنیوں کی آپس میں کچھ لڑائیاں ہوئیں کچھ نئی کمپنیاں مارکیٹ میں آئیں جنہوں نے اس کا حصہ بننے سے انکار کیا۔ جس کے بعد1955میں آ کر یہ کارٹل ختم ہو گیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ کارٹل اپنی پراڈکٹ کی سیل بڑھانے کے لئے جو طریقے استعمال کرتا تھا وہ آج تک چل رہے ہیں۔اس پر وہ مثال فٹ آتی ہے کہ چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔۔۔یعنی کارٹل ختم ہونے کے بعد بھی اب کمپنیاں خود سے ہی صرف ایسی پراڈکٹ بناتی ہیں جو کچھ عرصے بعد خود ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ اسے Planned Obsolescenceکہا جاتا ہے۔ اگر آپ کو یاد ہو تو 2003میں Casey neistatکی ایک ویڈیو بہت زیادہ وائرل ہوئی تھی جس کا ٹائٹل تھا iPod’s Dirty secretجس میں اس نے بتایا تھا کہ کیسے اس کا اٹھارہ ماہ پہلے خریدا گیا Ipodجب کام کرنا چھوڑ گیا اور اس نے ایپل کمپنی کو فون کیا تو آگے سے یہ جواب ملا کہ کیونکہ آپ کے ipodکو ایک سال سے زیادہ ہو گیا ہے تو اب اگر آپ اسے ٹھیک کروانا چاہتے ہیں تو آپ کو اسے ڈاک کے ذریعے ہمیں بھیجنا ہوگا جس کا خرچہ تقریبا دو سو پچپن ڈالر سے زیادہ بنتا ہے جبکہ آپ اس سے کم قیمت میں نیا Ipodخرید سکتے ہیں۔ اس ویڈیو کو کئی ملین لوگوں نے دیکھا اور ایپل کمپنی نے Law suitسے بچنے کے لئےOut of the court settlementبھی کی لیکن ان کی PlannedObsolescence
    نہ رکی۔ 2017میں جب کمپنی کی طرف سے ios updateکیا گیا تو وہ لوگ جن کے پاس پرانے آئی فون تھے ان کی رفارمنس سپیڈ بہت Slowہو گئی لوگوں کو ایپس ڈاون لوڈ کرنے میں مشکلات آنے لگیں اور یہاں تک کہ فونز خود سے شٹ ڈاون ہونے لگے۔ ایپل نے اس کو بیٹری کا ایشو بتایا لیکن آپ سب جانتے ہیں کہ ایپل میں بیٹری Replaceنہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے وہ فونز ناکارہ ہو گئے۔ ایپل اب تک کئی ملین ڈالرز Law suits settlementsمیں لوگوں کو ادا کر چکا ہے لیکن اس کی پراڈکٹ میں کوئی چینج نہیں آیا۔ کیونکہ Planned Obsolescenceکے فارمولے کی وجہ سے کمپنی جو منافع کما رہی ہے وہ اس جرمانے سے کہیں زیادہ ہے۔لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی کہ کچھ لوگوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ Planned Obsolescenceاتنی بھی بری چیز نہیں ہے بلکہ اس کے کچھ فائدے بھی ہیں۔1930کی دہائی میں جب امریکہ میں Great depressionآیا اور ¼آبادی بے روزگار ہو گئی تھی۔ اس وقت Real estate broker Bernard Londonنے Planned Obsolescenceکے تحت ایک آئیڈیا دیا تاکہ لوگوں کو روزگار دیا جا سکے اور امریکہ کو ڈپریشن سے نکالا جا سکے۔اس نے امریکی گورنمنٹ کو خط لکھا کہ ایسے کپڑے جوتے اور مشینیں بنائی جائیں جو ایک محدود وقت تک استعمال ہوں اور اس کے بعد وہ ناکارہ ہو جائیں تاکہ لوگ نئی چیزیں خریدیں اور کمپنیاں چلتی رہیں اور لوگوں کو بھی روزگار کو مسئلہ نہ ہو۔
    اسی موضوع پر ایک فلم بھی بنی تھیI kid you not جس کو آسکر ایوارڈ میں Best screen playکے لئے بھی نامزد کیا گیا تھا۔جس میں ایک سائنسدان ایک ایسا سفید کپڑا بناتا ہے جو کبھی گندا نہیں ہو سکتا اس پر سلوٹیں نہیں پڑ سکتیں۔ اور وہ سالوں تک استعمال کیاجانے کے باوجود پرانا نہیں ہو سکتا۔لیکن وہ کپڑا کمپنی مالکان کے لئے اس وجہ سے پریشانی کا باعث تھا کہ اس کے Repeat customers نہیں ہوں گے اور ورکرز اس لئے پریشان تھے کہ اس سے وہ ورکر جو واشنگ کرکے، کپڑوں کو سلائی اور پریس کرکے اپنی آمدن کماتے ہیں ان کا روزگار ختم ہو جائے گا۔ اس طرح فیکٹری مالکان اور ورکر دونوں ہی اس سائنسدان کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ تاکہ اس سائنسدان اور اس کی ایجاد کو ختم کیا جا سکے۔لیکن جو بھی ہو Planned Obsolescenceپھر بھی Consumersکے لئے پریشانی کی ایک بڑی وجہ تھی جس کی وجہ سے یورپی یونین اور امریکہ کی پچیس ریاستوں کو یہ قانون بنانا پڑا کہ لوگ اپنی مشینوں کو مرمت کروا سکتے ہیں تاکہ ان کو زیادہ سے زیادہ وقت تک استعمال کیا جا سکے۔ اس قانون کے تحت کمپنیوں پر یہ لازم کیا گیا کہ وہ اپنی پراڈکٹ اس طرح بنائیں کہ ان کو مرمت کرنے میں مشکل نہ ہو۔ اور ان کے Spare partsبھی مارکیٹ میں دستیاب ہوں۔لیکن اس قانون سے بھی کام بن نہیں سکا Planned Obsolescenceکے لئےکمپنیوں نے کسٹمر کی Psychology سے کھیلنا شروع کیا۔

    لائٹ بلب کی طرح ایک وقت تھا کہ فورڈ کمپنی بہت مضبوط کاریں بناتیں تھیں جو سالہا سال چلتیں اور ان کو بدلنے کی ضرورت بھی محسوس نہ ہوتی۔ ایک وقت آیا جب امریکہ میں ہر ایک کے پاس یہ کاریں تھیں جس کی وجہ سے کمپنی کی سیل بہت کم ہو گئی تو انھوں نے Planned Obsolescenceکا یہ فارمولا لگایا کہ ان کاروں کو مختلف رنگوں میں بنانا شروع کیا اور ہر سال ایک نئے رنگ کی کار مارکیٹ میں لانچ کی جاتی اس طرح جس کسٹمر کو وہ رنگ پسند آتا وہ اسے خریدنا شروع کر دیتے۔ رنگوں کے بعد ڈیزائن میں تبدیلیاں شروع کی گئیں۔یہ وہی کام ہے جو اس وقت موبائل فونز والی کمپنیاں کر رہی ہیں کہ ہر سال صرف کلر اور Shapeمیں تھوڑی بہت تبدیلی کرکے ایک نیا ماڈل پیش کر دیا جاتا ہے اور وہ لوگ جو کہ فیشن اور برانڈ Consciousہیں اور جن کے لئے افورڈ کرنا بھی مشکل نہیں ہے تو وہ ضرورت نہ ہونے کے باوجود نیا ماڈل خریدتے ہیں اور کمپنی کی سیل بڑھاتے ہیں۔ہر کچھ عرصے بعدTrendsکوRecycleکیا جاتا ہے۔ انھیں نئے فیشن کا نام دے کر لوگوں کو Attractکیا جاتا ہے اور پیسہ بنایا جاتا ہے اور یہ ہے وہ بزنس ماڈل جس کو یہ کمپنیاں Adoptکرکے اپنا قد بڑے سے بڑا کرتی جاتی ہیں۔

  • 7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا اسپیس ایکس کا راکٹ چاند سے ٹکرائے گا

    واشنگٹن: 7 سال قبل خلا میں بھیجا گیا راکٹ 4 مارچ کو چاند سے ٹکرائے گا۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی نجی خلائی ادارے اسپیس ایکس کا راکٹ فالکن نائن جو سال 2015 میں موسمیاتی سیٹلائٹ کو لانچ کرنے کی غرض سے خلا میں بھیجا گیا تھا، وہ اب 4 مارچ کو چاند سے ٹکرائے گا فالکن نائن نامی راکٹ کار بنانے والی کمپنی ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کی خلائی تجرباتی کمپنی اسپیس ایکس کی ملکیت ہے جو انسانوں کو دوسرے سیاروں تک لے جانے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    اسپیس ایکس کی ٹیم کے رکن اور ماہر فلکیات جوناتھن میکڈوول نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہو گا کیونکہ مشن کی تکمیل کے بعد فالکن نائن راکٹ میں اتنا ایندھن نہیں بچا کہ وہ واپس زمین پر پہنچ سکے یہ 4 ٹن وزنی دھات کا ایک ٹینک ہے جو 5 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چٹان سے ٹکرائے گا جس سے ایک چھوٹا سا مصنوعی گڑھا بھی بن جائے گا 2015 سے زمین، چاند اور سورج کی مختلف کشش ثقل اس راکٹ کو کئی سمتوں میں اپنی طرف کھینچ چکی ہیں جس کی وجہ سے اس کا راستہ گڈمڈ ہو گیا۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    پروفیسر جوناتھن کا کہنا تھا ابھی تک تو خلا میں پھیلے ہوئے کوڑے کرکٹ سے کوئی خطرہ نہیں لیکن مستقبل میں ہوسکتا ہے۔ اگر چاند پر بستیاں قائم ہوتی ہیں تو ہمیں خلائی کوڑے کرکٹ کے بارے میں معلومات کی ضرورت ہو گی ابھی خلا میں کچرے کی مقدار زیادہ نہیں ہے لیکن یہ مستقبل میں مسئلہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

  • چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے گا

    چین کا "راکٹ طیارہ” جو مسافروں کو1 گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک پہنچا دے گا

    بیجنگ:چینی کمپنی ایسے راکٹ پر کام کر رہی ہے جو ایک گھنٹے میں بیجنگ سے مسافروں کو نیویارک پہنچا دے گا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق چین کی ایک کمپنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک ایسے ’پروں والے راکٹ‘ پر کام کررہی ہے جو مسافروں کو لے کر صرف ایک گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک تک پہنچ جائے گا یعنی یہ راکٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مسافر بردار ہوائی جہاز بھی ہوگا۔

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    اسے چینی کمپنی ’اسپیس ٹرانسپورٹیشن‘ نے تیار کیا ہے، جس کا کہنا ہے کہ یہ راکٹ نما ہوائی جہاز (یا طیارہ نما راکٹ) مستقبل میں مسافروں کو دور دراز مقامات تک بہت کم وقت میں پہنچانے کے علاوہ مصنوعی سیارچوں اور دیگر سامان کو خلائی مدار میں چھوڑنے کا کام بھی کرسکے گا-

    اسے ایک بڑے طیارے کے نچلے حصے میں رکھ کر خاصی بلندی تک پہنچایا جائے گا جہاں یہ اس سے الگ ہوگا اور اپنا راکٹ انجن اسٹارٹ کرکے برق رفتاری سے منزلِ مقصود کی طرف پرواز کرنے لگے گا اس طرح یہ 7000 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتے ہوئے، اپنے مسافروں کو صرف ایک گھنٹے میں بیجنگ سے نیویارک تک پہنچا دے گا۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    اپے سفر کا بیشتر حصہ یہ خلا میں رہتے ہوئے طے کرے گا، اور اس طرح ضرورت پڑنے پر یہ خلائی سیاحت میں بھی کام آسکے گا۔ مطلوبہ مقام پر پہنچ کر یہ کسی راکٹ کی طرح بالکل عموداً زمین پر اترے گا ’اسپیس ٹرانسپورٹیشن‘ کی جانب سے اب تک اس منصوبے کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں البتہ اس کی ویب سائٹ پر ایک اینی میشن سے مستقبل کا ایک منظرنامہ ضرور دکھایا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اس وقت خلائی سفر اور خلا میں مختلف ساز و سامان پہنچانا بہت مہنگا سودا ہے۔ یہ اخراجات کم کرنے کےلیے پچھلے کئی عشروں سے مختلف ملکوں میں ’فضائی خلائی جہاز‘ اور دوبارہ استعمال کے قابل خلائی راکٹوں جیسے درجنوں منصوبوں پر کام ہورہا ہے مگر اب تک ان میں سے کوئی ایک منصوبہ بھی قابلِ ذکر کامیابی حاصل نہیں کرسکا ہے۔

    امریکی جاسوس ڈرونز آبدوز کامنصوبہ دوسرے اور نئے مرحلے میں داخل

  • گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    گلوبل وارمنگ میں 2 ڈگری اضافہ ہواتوگرمیاں 3 ہفتے طویل ہوجائیں گی، ماہرین کی وارننگ

    کوریا کے ماہرین نے گرمیوں کا موسم 3 ہفتے طویل ہونے کا انکشاف کیا ہے-

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ’اینوائرونمنٹل ریسرچ لیٹرز‘ کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کےمطابق، کوریا کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ جتنا اضافہ ہوگیا تو دوسرے کئی مسائل کے ساتھ ساتھ گرمیوں کا موسم بھی 3 ہفتے طویل ہوجائے گا –

    پوہانگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ماحولیات کے پروفیسر، ڈاکٹر سونگ کی مِن اور ان کے شاگرد، بو جونگ پارک نے مختلف ماحولیاتی ماڈلز اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارے میں دستیاب معلومات استعمال کرتے ہوئے ایک کمپیوٹر سمیولیشن تیار کی ہے۔

    ہمالیائی گلیشیئر غیرمعمولی تیزی سے پگھل رہے،رقبہ 8,400 مربع کلومیٹر کم ہو گیا

    اس سمیولیشن سے معلوم ہوا ہے کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں صنعتی انقلاب سے پہلے کے اوسط سے صرف 2 ڈگری سینٹی گریڈ جتنا اضافہ ہوگیا تو گرمیوں کے موسم کا دورانیہ 3 ہفتے (21 دن) تک بڑھ جائے گاجس کے نتیجے میں اوربھی کئی مسائل پیدا ہوں گے جن کے بارے میں فی الحال ہم سوچ بھی نہیں سکتے فی الحال ساری دنیا میں گرمیوں کا موسم 91 دن کا ہوتا ہے جو عالمی تپش میں 2 ڈگری اضافے کے بعد 112 دن تک پھیل جائے گاگرمیوں کی طوالت کا سب سے زیادہ اثر خطِ استوا (ایکویٹر) کے قریب اور بحیرہ روم سے متصل علاقوں پر سب سے زیادہ ہوگا جو مشرقی ایشیا سے لے کر وسطی امریکا تک پھیلے ہوئے ہیں۔

    چاند کی آکسیجن انسانوں کے لئے ایک سال تک کافی ہو گی آسٹریلوی سائنسدان

    ماہرین مسلسل خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہ اضافہ 1.5 ڈگری یا اس سے زیادہ ہوگیا تو گلیشیرز کے پگھلنے، سطح سمندر بلند ہونے، غیرمعمولی بارشوں اور طویل خشک سالی سمیت کئی مسائل ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے اس سب کے باوجود انسان اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور زمین کے ماحول پر رحم کھانے کو بالکل بھی تیار نہیں۔ اسی بناء پر خدشہ ہے کہ 1.5 ڈگری کا اضافہ ہمارے سابقہ اندازوں سے بہت پہلے ہوجائے گا اور پھر یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے 2 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچے گا۔

    بھارت میں تتلی کی ایک نئی نسل دریافت

    گرمیوں کا دورانیہ بڑھنے کے علاوہ، عالمی تپش میں 2 ڈگری اضافے سے جہاں سمندروں کی سطح بلند ہوگی وہیں دنیا کی 50 فیصد آبادی کو شدید آبی قلت کا سامنا بھی ہوگا تاہم ماہرین نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ہم اس اضافے کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم رکھنے میں کامیاب ہوگئے تو گرمیوں کے دورانیے میں اضافے کو 12 سے 13 دن تک محدود کیا جاسکے گا البتہ، بہتر یہی ہے کہ درجہ حرارت بالکل نہ بڑھنے دیا جائے تاکہ ماحولیاتی مسائل مزید سنگین نہ ہوں۔

    چٹکی بجانا انسانی جسم کا تیز ترین عمل تحقیق

  • واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

    واٹس ایپ نےتین شاندار فیچرز پر کام شروع کردیا

    سان فرانسسكو: دنیا بھرمیں معروف ایپ ’واٹس ایپ‘ نے تین نئے فیچرز پر کام شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ اپنے صارفین کی آسانی کے لئے آور ایپ کو بہتر بنانے کے لئے اکثر و بیشتر نت نئئ فیچر متعارف کراتی ہے اب پھر کمپنی نے واٹس ایپ نے تین فیچر پر کام شروع کر دیا ہے-

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    واٹس ایپ کی اپڈیٹ اور فیچرز پر نظر رکھنے والے ادارے ’ڈبلیو اے بیٹا انفو‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی اپنے صارفین کی سہولت کے لیے نئے آپشنز یا فیچرز کی آزمائش کررہی ہے، جو پہلے مرحلے میں بیٹا ورژن والے صارفین استعمال کرسکیں گے۔

    خاص نمبروں پر ’لاسٹ سین‘ بند کرنے کا آپشن: واٹس ایپ میں ’لاسٹ سین‘ کا آپشن استعمال کرنے سے واٹس ایپ کانٹیکٹ میں موجود تمام لوگوں کو یہ نہیں پتا چلتا کہ وہ کب ’آف لائن‘ ہوئے یا آخری بار کب آن لائن تھے، لیکن اب ایسے فیچر پر کام ہورہا ہے جس کے تحت آپ اپنی مرضی کے خاص نمبروں کے لیے اس آپشن کو کھول سکیں گے۔

    واٹس ایپ نے گروپس ایڈمنز کے لئے نیا فیچرمتعارف کرانے کا فیصلہ

    واٹس ایپ پیغامات پر ایموجیز کا ری ایکشن:جس طرح فیس بک پوسٹ یا کسی کمنٹ پر ایموجیز کا ری ایکشن ہوتا ہے اسی طرح اب واٹس ایپ صارفین کو بھی یہ سہولت فراہم کی جارہی ہے جس کے تحت وہ پیغامات پر ردعمل دے سکیں گے۔

    واٹس ایپ پر انسٹاگرام ’ریلز‘: صارفین مستقبل میں واٹس ایپ پر براہ راست انسٹاگرام کے ’ریلز‘ دیکھ سکیں گے۔

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    واضح رہے کہ گزشتہ روز ویب سائٹ ‘ڈبلیو اے بیٹا انفو’ نے بتایا تھا کہ واٹس ایپ گروپس میں ایڈمن کو کسی بھی ممبر کا چیٹ ڈیلیٹ کرنے کا اختیار بہت جلد فراہم کردیا جائے گا فیچر اپ ڈیٹ اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے لئے واٹس ایپ بیٹا کے لئے بہت جلد دستیاب ہوجائے گی کہا گیا تھا کہ اگر آپ گروپ ایڈمن ہیں تو آپ اینڈرائیڈ کے لیے واٹس ایپ بیٹا کی مستقبل کی اپ ڈیٹ میں اپنے گروپ میں موجود ہر شخص کے لیے کوئی بھی پیغام ڈیلیٹ کر سکیں گے پیغام رسانی کی اس ایپ میں ممکنہ نئے فیچر کا مقصد گروپ ایڈمن کے اختیارات میں اضافہ کرنا ہے تاکہ اس فیچر کی مدد سے گروپس ایڈمن چیٹ کو معتدل انداز میں چلا سکیں گے اور غیر مناسب پیغامات کو فوری حدف کر دیں گے-

    یوٹیوب کا بھی تخلیق کاروں کے لیے این ایف ٹی پر غور