Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں،ماہرین

    دماغی ماہرین کی جانب سے کی گئی نئی تحقیق کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے۔

    باغی ٹی وی : ’نیچر ریویوز نیورو سائنس‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع کئے گئے آئرلینڈ کے ڈاکٹر ٹوماس ریان اور کینیڈا کے ڈاکٹر پال فرینکلینڈ کے نئے نظریے کے مطابق بھولنا دراصل کچھ نیا سیکھنے ہی کی ایک صورت ہے دونوں دماغی ماہرین نے انسانی یادداشت اور سیکھنے کے عمل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    تحقیق میں دونوں ماہرین ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارا دماغ یہ بھی سیکھتا ہے کہ مختلف حالات کے تحت کون کونسی معلومات اہم ہیں اور کونسی نظرانداز کرنے کے قابل ہیں بدلتے حالات کے ساتھ ساتھ ’ضروری‘ یا ’اہم‘ معلومات کی نوعیت بھی بدلتی رہتی ہے اور ہمارا دماغ ایسی پرانی معلومات پر توجہ نہیں دیتا جو موجودہ حالات سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔

    تحقیق میں بتایا گیا کہ نیوروسائنس میں کسی خاص علم یا مہارت سے متعلق یادداشت محفوظ کرنے والے دماغی خلیوں کے مجموعے ’اینگرامز‘ (engrams) کہلاتے ہیں جب ہم اس بارے میں کوئی بات یا واقعہ یاد کرتے ہیں تو اس سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا ہوتی ہے اور یوں وہ یادداشت ہمارے ذہن میں تازہ ہوجاتی ہے۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

    ڈاکٹر ریان اور ڈاکٹر پال کا کہنا ہے کہ تاہم، ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھولنے کی تمام شکلوں میں سرکٹ کو دوبارہ تیار کرنا شامل ہے جو اینگرام سیلز کو قابل رسائی حالت (جہاں انہیں قدرتی یاد کرنے کے اشارے کے ذریعے دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے) سے ناقابل رسائی حالت میں تبدیل کرتا ہے (جہاں وہ نہیں کر سکتے)۔ بہت سے معاملات میں، بھولنے کی شرح ماحولیاتی حالات کے مطابق وضع کی جاتی ہے اور اس لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ بھول جانا نیوروپلاسٹیٹی کی ایک شکل ہے جو اینگرام سیل کی رسائی کو اس انداز میں تبدیل کرتی ہے جو توقعات اور ماحول کے درمیان مماثلت کے لیے حساس ہے۔ مزید برآں، ہم یہ قیاس کرتے ہیں کہ بھولنے سے وابستہ بیماری کی حالتیں بھولنے کے قدرتی طریقہ کار کو ہائی جیک کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں اینگرام سیل کی رسائی کم ہو جاتی ہے اور یادداشت کی کمی ہوتی ہے۔

    لکھنے کی بجائے صرف سوچ کر ٹویٹ کرنے کا کامیاب تجربہ

    دونوں ماہرین کا کہنا ہے کہ بھولنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یاد ہمارے ذہن سے غائب ہوجائے، بلکہ ہم ضرورت پڑنے پر اس یاد سے متعلق اینگرامز میں سرگرمی پیدا نہیں کر پاتے بظاہر یہ ایک خرابی ہے درحقیقت اس کا بہت فائدہ ہے کیونکہ جیسے جیسے ہمارے سیکھنے کا عمل آگے بڑھتا ہے، ویسے ویسے پرانی باتوں کا زیادہ تعداد میں یاد رہ جانا ہمارے اکتساب کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے-

    خواجہ سراؤں پر تشدد کی رپورٹنگ کیلئے موبائل ایپ تیار

    لہذا، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پرانی باتیں بھول کر ہم نئی چیزیں اور مہارتیں سیکھنے کا عمل بہتر بناتے ہیں یعنی صحت مند انسانی دماغ باقاعدہ طور پر یہ بھی سیکھتا ہے کہ ’بھلایا‘ کیسے جائے، تاکہ وہ بدلتے ہوئے ماحول اور حالات سے بہتر طور پر ہم آہنگ کرنے کےلیے تیار کرتا رہے اس دوران دماغ کے خلیے تو ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں مگر اِن میں سرگرمی/ تحریک میں تبدیلی آجاتی ہے جسے ہم ’بھول جانا‘ قرار دیتے ہیں۔

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    غرض کہ نیا سیکھتے دوران ہمارا دماغ مختلف اینگرامز کو تحریک دینا اور مختلف یادوں کو تازہ کرنا سیکھتا ہے وہ یادیں جو اس کے کام کی ہوتی ہیں غیر متعلقہ یادوں کو وہ نظرانداز کردیتا ہے، تاہم یہ کہنا غلط ہے کہ ہم انہیں بھول جاتے ہیں وہ یادیں ہمارے ذہن میں ہوتی ہیں لیکن بے حس و حرکت رہتی ہیں۔

  • سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبرے دریافت

    ریاض: آسٹریلوی ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے سعودی عرب میں ہزاروں میل رقبے پر پھیلے ہوئے 4500 سال قبل بنائے گئے مقبروں کی باقیات دریافت کی ہیں۔

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’ہیلوسین‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ مقبرے 4,500 سال قدیم ہیں اور مدینہ منورہ کے شمال میں خیبر سے لے کر ’شرواق‘ سے بھی آگے تک، کسی زنجیر کی کڑیوں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں یہ تیسری صدی قبل مسیح کے وسط سے آخر تک کے دوران تعمیر کیے گئے تھے-

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    اس تحقیق کی سربراہی یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا، پرتھ کے ڈاکٹر میتھیو ڈٓالٹن کررہے تھےاس تحقیق کےلیے مصنوعی سیارچوں اور ہیلی کاپٹروں سے لی گئی تصاویر کے علاوہ زمینی سروے بھی کیے گئے مجموعی طور پر اس دوران 18,000 مقبروں کا مشاہدہ کیا گیا جبکہ ان میں سے 80 مقبروں کی کھدائی بھی کی گئی۔

    قدیم مقبروں کی یہ باقیات نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ ہیں بلکہ ایک خاص ترتیب میں بھی تعمیر کی گئی ہیں بعض مقبروں میں صرف ایک جبکہ بعض میں زیادہ افراد کو دفنایا گیا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی طور پر اہم شخصیات کے علاوہ عام لوگوں کو بھی مقبروں میں اجتماعی طور پر دفن کیا جاتا تھا۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ان مقبروں کی ترتیب اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے کیونکہ بعض مقامات پر کم تعداد میں مقبرے ہیں جبکہ کچھ اور جگہوں پر مقبروں کی تعداد زیادہ بھی ہے اور وہ جسامت میں بھی قدرے بڑے ہیں اسی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل نخلستانوں اور بڑے کنووں والے علاقوں کے گرد زیادہ مقبرے بنائے گئے تھے جبکہ کم آبی وسائل (چھوٹے نخلستانوں اور کنووں) والے مقامات کے آس پاس مقبرے کم تھے۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت


    اس کے علاوہ، ہزاروں میل پر پھیلے ہوئے ان مقبروں میں زنجیر کی کڑیوں جیسی ترتیب ان آبی ذخائر سے بھی قریب ہے جو قدیم جزیرہ نما عرب میں ایک تسلسل سے واقع تھے اور وہاں رہنے والوں کےلیے خصوصی اہمیت بھی رکھتے تھے ان سے کچھ ہی فاصلے پر وہ راستے بھی تھے جنہیں مقامی لوگ ایک سے دوسرے علاقے تک سفر میں استعمال کیا کرتے تھے۔

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ان علاقوں سے ملنے والی قدیم انسانی ہڈیوں اور جانوروں کی باقیات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے مقامات کے آس پاس چراگاہیں بھی رہی ہوں گی جہاں مقامی لوگ اپنے مال مویشی چرانے کےلیے جاتے ہوں گے۔

    یہ مقبرے آج پتھروں کے ڈھیر میں تبدیل ہوچکے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں سال قبل یہ مقبرے گنبد جیسی شکلوں میں تعمیر کیے گئے ہوں گے ڈاکٹر ڈالٹن نے کہا کہ قدیم سعودی عرب کے باشندے ہمارے سابقہ اندازوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مہذب اور سماج دوست تھے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آخر یہ مقبرے مذہبی رسوم و رواج کا حصہ تھے یا پھر انہیں علامتی طور پر اتنی زیادہ تعداد میں تعمیر کیا گیا تھا۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    چاند کی چڑھتی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں،تحقیق

    فلوریڈا: امریکی ماہرین کی ایک ٹیم نے دریافت کیا ہے چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک کے حملے بڑھ جاتے ہیں-

    باغی ٹی وی : ریسرچ جرنل ’فرنٹیئرز اِن میرین سائنس‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں ماہرین نے لکھا کہ چڑھتی تاریخوں میں جب آسمان پر چاند زیادہ روشن اور بڑا ہوتا ہے، دنیا بھر میں شارک کے حملے بھی بڑھ جاتے ہیں لیکن ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس بارے میں وہ بھی اب تک کچھ نہیں جان سکے ہیں۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    لیوزیانا اسٹیٹ یونیورسٹی اور فلوریڈا یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس مشترکہ تحقیق کےلیے ’انٹرنیشنل شارک اٹیک فائلز‘ (ISAF) نامی عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعداد و شمار استعمال کیے جو 1958 سے باقاعدہ طور پر مرتب کیے جارہے ہیں ان اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 1958 سے 2016 کے دوران شارک مچھلیوں نے دنیا بھر میں 2,785 مرتبہ بغیر کسی وجہ کے انسانوں پر حملے کیے ہیں۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    ماہرین نے ان حملوں کے مقامات، مقامی وقت اور آسمان میں چاند کی کیفیت جیسی تفصیلات جمع کرنے کے بعد ان کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا کہ چڑھتے چاند کی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے ’بے وجہ‘ حملے واضح طور پر زیادہ تھے اس کے برعکس گھٹتے چاند کی تاریخوں میں ان حملوں کی تعداد بہت دیکھی گئی یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ شارک مچھلیاں رات کے وقت چاند کی روشنی سے متاثر ہو کر لوگوں پر بلا وجہ حملے کرتی ہیں۔

    ایک نئی قسم کا طوفان”فضائی جھیل” دریافت

    البتہ جس بات نے سائنسدانوں کو چکرا دیا، وہ یہ تھی کہ چاند کی بڑھتی تاریخوں میں شارک مچھلیوں کے زیادہ حملے دن کی روشنی میں ہوئے تھے کہ جب آسمان پر چاند ضرور موجود تھا لیکن سورج کے مقابلے میں اس کی روشنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

    کیا شارک مچھلیوں پر چاند کی کششِ ثقل اثر انداز ہوتی ہے جو انہیں لوگوں پر حملے کرنے کےلیے مجبور کرتی ہے؟ سائنسدانوں کے مطابق، اس بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا فی الحال ان کے پاس اتنے زیادہ اعداد و شمار نہیں کہ وہ شارک کے زیادہ حملوں کو چڑھتے چاند کا نتیجہ قرار دے سکیں۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

  • مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    مائیکروسافٹ نے ’کینڈی کرش‘ بنانے والی کمپنی خرید لی

    کیلیفورنیا: مائیکروسافٹ نے کینڈی کرش سمیت کئی مشہور گیمز بنانے والی کمپنی ’ایکٹیویژن بلیزارڈ‘ 68.7 ارب ڈالر (12,157 ارب پاکستانی روپے) کی خطیر رقم میں خرید لی ہے۔

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے مائیکروسافٹ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کی گئی جس میں مائیکروسافٹ ایکس باکس اور ایکٹیویژن بلیزارڈ کے لوگوز ایک ساتھ دکھائے گئے ہیں متعلقہ پریس ریلیز میں مائیکروسافٹ کارپوریشن کی جانب سے یہ ارادہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کو خرید لے گی۔


    البتہ گیمنگ کی جدید دنیا سے واقفیت رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعلان خریداری کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی کیا گیا ہے ورنہ اس میں اتنے واضح طور پر رقم کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    اس خریداری کے ساتھ ہی نہ صرف ایکٹیویژن بلیزارڈ کے گیمز سیمت تمام مصنوعات اور اثاثہ جات مائیکروسافٹ کی ملکیت ہوجائیں گے بلکہ مائیکروسافٹ کو ایکس باکس اور روایتی آن لائن گیمنگ سے آگے بڑھ کر موبائل گیمنگ کی دنیا میں تیزی سے آگے بڑھنے کا موقع بھی ملے گا۔

    مائیکروسافٹ کی پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی مہارت استعمال کرتے ہوئے، آنے والے برسوں میں ’میٹاورس‘ کےلیے بھی نئے گیمز تیار کیے جائیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ مائیکروسافٹ Tencent اور Sony کے پیچھے، آمدنی کے لحاظ سے دنیا کی تیسری سب سے بڑی گیمنگ کمپنی بن جائے گی۔ منصوبہ بند حصول میں میجر لیگ گیمنگ کے ذریعے عالمی ای اسپورٹس سرگرمیوں کے علاوہ ایکٹیویژن، بلیزارڈ اور کنگ اسٹوڈیوز جیسے "وار کرافٹ،” "ڈیابلو،” "اوور واچ،” "کال آف ڈیوٹی” اور "کینڈی کرش” کی مشہور فرنچائزز شامل ہیں۔ کمپنی کے تقریباً 10,000 ملازمین کے ساتھ دنیا بھر میں اسٹوڈیوز ہیں۔

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    مائیکروسافٹ کے چیئرمین اور سی ای او ستیہ ناڈیلا نے کہا کہ”آج تمام پلیٹ فارمز پر گیمنگ تفریح ​​کا سب سے متحرک اور دلچسپ زمرہ ہے اور میٹاورس پلیٹ فارمز کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔” "ہم گیمنگ کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کے لیے عالمی معیار کے مواد، کمیونٹی اور کلاؤڈ میں گہری سرمایہ کاری کر رہے ہیں جو کھلاڑیوں اور تخلیق کاروں کو پہلے رکھتا ہے اور گیمنگ کو محفوظ، جامع اور سب کے لیے قابل رسائی بناتا ہے۔”

    مائیکروسافٹ گیمنگ کے سی ای او فل اسپینسر نے کہا، "ہر جگہ کھلاڑی ایکٹیویژن بلیزارڈ گیمز کو پسند کرتے ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ تخلیقی ٹیموں کے سامنے ان کا بہترین کام ہے۔” "ہم مل کر ایک ایسا مستقبل بنائیں گے جہاں لوگ اپنی مرضی کے کھیل کھیل سکیں، عملی طور پر کہیں بھی وہ چاہیں۔”

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    واضح رہے کہ ایکٹیویژن بلیزارڈ کی ذیلی کمپنی ’کنگ اسٹوڈیو‘ کا تیار کردہ ’کینڈی کرش‘ اب تک تقریباً تین ارب سے زیادہ مرتبہ ڈاؤن لوڈ کیا جاچکا ہے اور یہ دنیا کے مشہور ترین گیمز میں شمار ہوتا ہے جسے اسمارٹ فون کے علاوہ فیس بُک میں بھی براہِ راست کھیلا جاسکتا ہے۔

  • دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دنیا کے سب سے بڑے اور نایاب ہیرے کی نمائش

    دبئی: دنیا کا سب سے بڑا اور انتہائی نایاب سیاہ ہیرا "دی اینگما” دبئی میں نمائش کے لیے پیش کردیا گیا جس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ خلا سے زمین پر آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : مشہور برطانوی نیلام گھر ’سودبیز‘ نے دبئی میں 555.55 قیراط کا ایک سیاہ ہیرا پیش کیا ہے ہیرے کو دبئی اور امریکہ میں نمائش کے بعد لندن لے جایا جائے گا، جہاں 3 سے 9 فروری کے دوران سیاہ ہیرے کی آن لائن نیلامی کی جائے گی۔

    انڈونیشیا کا دارالحکومت جکارتا سے منتقل کرنے کا بل منظور

    ہیرے کو کرپٹو کرنسی کے ذریعے خریدا جا سکے گا۔ہیرے کو گنیز ورلڈ ریکارڈز نے دنیا کا سب سے بڑا ہیرا قرار دے رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق سیاہ ہیرا

    یہ ہیرا جسامت میں خاصا بڑا ہے اور اس کے 55 پہلو ہیں جو اسے اور بھی زیادہ منفرد بناتے ہیں اس ہیرے کو ’’اینگما‘‘ (معما) کا نام دیا گیا ہے جبکہ اسے دنیا کے نایاب ترین ہیروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    کوئی نہیں جانتا کہ یہ ہیرا کہاں سے آیا ہے لیکن ایک مفروضے کے مطابق، یہ تین ارب اسی کروڑ سال قبل زمین پر سیارچہ ٹکرانے سے وجود میں آیا تھا اور زمین سے ٹکرانے والے کسی شہابِ ثاقب کا حصہ رہا ہوگا جو کسی طرح سے محفوظ رہ گیا۔

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    بتاتے چلیں کہ سیاہ ہیروں کو ’کاربونیڈو‘ بھی کہا جاتا ہے جو اب تک صرف برازیل اور وسطی افریقہ ہی سے ملے ہیں۔

    سودبیز دبئی میں ہیروں کی ماہر سوفی اسٹیونز کا کہنا ہے کہ پانچ (5) کی تکرار اس ہیرے کےلیے بہت خاص ہے کیونکہ ایک طرف تو یہ 555.55 قیراط وزنی ہے تو دوسری جانب اس کے 55 پہلو بھی ہیں شاید اسی بناء پر سودبیز کو امید ہے کہ یہ کم از کم 50 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تقریباً 120 کروڑ پاکستانی روپے) میں نیلام ہوگا۔

    سوفی کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرقی مذاہب میں پانچ (5) کا ہندسہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے لہذا یہ ہیرا ان کے ابتدائی اندازوں سے کہیں زیادہ مالیت میں بھی نیلام ہوسکتا ہے۔

    عرب اتحاد نے حوثی باغیوں کے 8 ڈرونزتباہ کردئیے

    واضح رہے کہ یہ ہیرا اس سے قبل کبھی مارکیٹ میں دیکھا گیا اور نہ ہی کبھی عوامی نمائشی کے لیے رکھا گیا ہے ہیرے کی شکل مشرق وسطیٰ کے ہتھیلی نما خمسہ سے ملتی جلتی ہے جو ’نظر بد‘ سے محفوظ رکھنے والی علامت کے طور پر مشہور ہے خمسہ کا تعلق پانچویں ہندسے سے ہے اور یہ ہیرا نہ صرف 555 اعشاریہ 55 کا سائز رکھتا ہے بلکہ اس کے ٹھیک 55 پہلو بھی ہیں۔

    بھارتی وزیراعظم کی طرح عالمی سطح پر بھارت کو کوئی بدنام نہیں کر سکتا،مودی کی ایسی…

  • ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    ایمپائراسٹیٹ بلڈنگ سے ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ زمین کے قریب سے گزرے گا

    امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایمپائر اسٹیٹ بلڈنگ سے بھی ڈھائی گنا لمبا ایسٹرائڈ اگلے دو دن میں ہماری زمین کے بہت قریب سے گزرے گا-

    باغی ٹی وی : ماہرین نے اس خلائی پتھر کو 7482 یا ’1994 پی سی1‘ کا تکنیکی نام دیا ہے کیونکہ یہ پہلی بار 1994 میں دریافت کیا گیا تھا 3,451 فٹ قطر والا یہ شہابیہ (پاکستانی وقت کے مطابق) 19 جنوری 2022 کی علی الصبح 3 بج کر 51 منٹ پر زمین سے 19 لاکھ 30 ہزار کلومیٹر دوری پر ہوگا، جو زمین سے اس کا کم ترین فاصلہ بھی ہوگا۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے کی وجہ سے زمین کو اس شہابیے سے کوئی خطرہ بھی نہیں ہوگا اس شہابیے کی رفتار 76,192 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اور یہ جتنی تیزی سے زمین کے قریب پہنچے گا، اتنی ہی رفتار کے ساتھ زمین سے دور بھی ہوتا چلا جائےگا یہ ایک الگ مدارمیں گردش کررہا ہے اور ہماری زمین کے حساب سے ایک سال سات مہینوں میں سورج کے گرد اپنا ایک چکر مکمل کرتا ہے جبکہ 7482 کی براہِ راست نشریات ’’انورس‘‘ نامی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکیں گی۔

    خلائی مخلوق سے ملاقات: "ناسا” نے مذہبی پیشواؤں کی خدمات حاصل کر لیں

    واضح رہے کہ یہ زمین کے ’’قریب‘‘ سے گزرنے والا سب سے بڑا شہابیہ نہیں بلکہ یہ اعزاز اب تک ’’ایسٹرائیڈ 3122 فلورینس‘‘ کے پاس ہے جس کی چوڑائی 8.85 کلومیٹر معلوم کی گئی ہے اور جو ستمبر 2057 میں زمین سے صرف چند لاکھ کلومیٹر دُوری سے گزرے گا۔

    نظام شمسی کا نیا چھوٹا سیارہ "فار فار آؤٹ” دریافت

  • انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    انسٹا گرام کا اپنی اسٹوریز کا نیا فیچر متعارف کروانے پر کام شروع

    میٹا کی زیر ملکیت کمپنی ویڈیو اور تصاویر شیئرنگ ایپ انسٹا گرام نے نئے فیچر پر کام شروع کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انسٹا گرام اپنی اسٹوریز کو ایپ میں عمودی اسکرولنگ کے لیے از سر نو ڈیزائن کر رہی ہے اس وقت انسٹا گرام اسٹوریز کو دیکھنے کے لیفٹ سوئپ کرنا پرتا ہے اور ایک اسٹوری سے دوسری پر جانے کے لیے بائیں طرف اور مختلف پوسٹ دیکھنے کے لیے دائیں طرف ٹیپ کرنا پڑتا ہے تاہم کمپنی اب ایک نئے فیچر کی آزمائش کرنے جا رہی ہے جس کی مدد سے صارفین اسٹوریز میں عمودی اسکرولنگ کر سکیں گے۔

    صارفین کی فرمائش پر واٹس ایپ نے وائس میسجز کے نئے فیچر پر کام شروع کر دیا

    رپورٹ کے مطابق ترکی اور برازیل میں انسٹا گرام کے کچھ صارفین کو انسٹا گرام پر اسٹوریز کی عمودی اسکرولنگ کرنے والے فیچر کی اپ ڈیٹس مل چکی ہیں۔

    ماہرین نے کہا ہے کہ انسٹا گرام کی جانب سے اس فیچر کو متعارف کرانے کا مقصد ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا مقابلہ کرنے کی کوشش دکھائی دیتا ہے کیوںکہ اس میں پہلے سے ہی عمودی اسکرولنگ کا فیچر موجود ہے اس فیچر کی بدولت انسٹا گرام میں اسٹیٹک کانٹینٹ کی نسبت اسٹوریز میں ویڈیوز پر زیادہ فوکس ہوجائے گا۔

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ہی انسٹا گرام نے اسٹوریز میں ویڈیوز کا دورانیہ 15 سیکنڈ سے بڑھا کر 60 سیکنڈ کرنے کی آزمائش کی تھی۔ جس کی مدد سے صارفین ایک منٹ کی ویڈیو کو چار حصوں میں تقسیم کرنے کے بجائے ایک ہی حصے میں اپ لوڈ کرنے کے اہل ہوسکیں گے۔

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

  • کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    کمپیوٹرکی تخلیق ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرموسیقار بننے کے لئے تیار

    جنوبی کوریا کی سوشل میڈیا انفلوئنسر ’ریح کیم‘ اب موسیقیار بھی بنے گی-

    باغی ٹی وی : ریح کیم کو مشہورِ زمانہ کمپنی ’ایل جی الیکٹرونکس‘ نے جنوبی کوریا کے ایک مقامی سافٹ ویئر ہاؤس سے تخلیق کروایا ہے اور یہ پچھلے ایک سال سے انسٹاگرام کے ذریعے اس کمپنی کی مختلف مصنوعات اور خدمات کی تشہیر کر رہی ہے۔

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    انسٹاگرام پر اس خوبصورت سوشل میڈیا اسٹار کے 15,000سے زیادہ فالوورز ہیں لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں بلکہ اسے کمپیوٹر پر تخلیق کیا گیا ہےاسی بناء پر یہ ’ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز‘ میں شمار ہوتی ہے۔

    چاند کی سطح پر پانی کے شواہد دریافت

    گزشتہ برس امریکی شہر لاس ویگاس میں منعقدہ عالمی نمائش ’سی ای ایس 2021‘ کے موقع پر ریح کیم نے ایک خصوصی خطاب بھی کیا تھا جسے سننےوالوں بہت پسند بھی کیا تھاحال ہی میں ایل جی الیکٹرونکس نے سیول کی ایک تفریحی کمپنی ’مسٹک اسٹوری‘ سے معاہدہ کیا ہے جس کے تحت ریح کیم کو نئی دھنیں تخلیق کرنے کے قابل بھی بنایا جائے گا۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘

    واضح رہے کہ جنوبی کوریا سمیت مختلف ممالک میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا رجحان بڑھتا جارہا ہے کیونکہ مشہور شخصیات کی خدمات حاصل کرنے کے مقابلے میں یہ بہت کم خرچ رہتے ہیں یہ کمپنی کی کسی بھی تشہیری مہم میں اعتراض کیے بغیر کام کرلیتے ہیںامریکی مارکیٹ ریسرچ کمپنی’انسائیڈر انٹیلی جنس‘ کے مطابق 2019 میں ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی عالمی مارکیٹ کا حجم 8 ارب ڈالر تھا جو 2021 کے اختتام تک بڑھ کر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گیا 2020 میں عالمی وبا سے ورچوئل سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور امید ہے کہ آنے والے برسوں میں بھی یہ رجحان برقرار رہے گا۔

    امریکا: میڈیکل سائنس کی دنیا میں پاکستانی ڈاکٹر کا شاندار کارنامہ،انسان میں خنزیر…

  • 4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    4,500 سال پہلے گھوڑوں کی بجائے جنگی گدھوں سے کام لیا جاتا تھا

    ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ایک عالمی ٹیم نے دریافت کیا ہے کہ تقریباً 4,500 سال پہلے تیسری صدی قبل مسیح کے اواخر میں میسوپوٹیمیا موجودہ جنوبی عراق اور شمالی شام میں جنگی مقاصد کےلیے پالتو گدھوں اور جنگلی خچروں کے ملاپ سے پیدا کئے گئے جانور استعمال ہوتے تھے جنہیں ’جنگی گدھے‘ کہا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : آن لائن ریسرچ جرنل ، کے تازہ شمارے کے مطابق شاید یہ اوّلین مخلوط نسل کے جانور تھے جنہیں انسان نے تیار کیا تھا ان کے بھی 500 سال بعد جنگوں میں گھوڑوں کا استعمال شروع ہوا تھا۔

    ڈائنو سار سے بھی قدیم اور دیوقامت سمندری جانور کےفوسلز دریافت

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والی قدیم تختیوں پر بنی علامتی تصاویر، جانوروں کے ڈھانچوں اور دوسری دستاویزات پر تحقیق سے معلوم ہوا کہ انہیں ’کُنگا‘ (Kunga) کہا جاتا تھا اور یہ جنگ میں رتھوں کو کھینچنے میں استعمال کیے جاتے تھے آثارِ قدیمہ کے دوسرے شواہد سے یہ بھی پتا چلا کہ ’کُنگا‘ بہت طاقتور تھے اور تیزی سے دوڑنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

    انڈے سے نکلنے کو تیار ڈائنو سار کا فوسل دریافت

    البتہ، جب ماہرین نے ’کنگا‘ کی ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو پریشان ہوگئے کیونکہ یہ جانور جسامت میں قدیم گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے تھے لیکن گھوڑوں سے چھوٹے تھے اگر یہ گھوڑا، گدھا یا جنگلی خچر نہیں تھا تو پھر ’کُنگا‘ آخر کونسا جانور تھا؟یہ الجھن پچھلے کئی سال سے یونہی چلی آرہی تھی جسےامریکا، فرانس، جرمنی اور چین سے تعلق رکھنے والے ماہرین ایک ٹیم نے جینیاتی تجزیئے سے حل کرلیا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت

    تحقیق کی غرض سے انہوں نے آخری شامی خچر کےٹشوز جین کے نمونے حاصل کیے صرف 3 فٹ اونچائی والا یہ خچر آسٹریا کے ایک چڑیا گھر میں رکھاتھا اور 1927 میں یہ مرچکا تھا لیکن اس کا مُردہ جسم پوری احتیاط سے محفوظ کرکے آسٹریا ہی میں رکھ لیا گیا تھا۔

    میسوپوٹیمیا کی قدیم دستاویزات میں ’کُنگا‘ کو بہت قیمتی اور ’انعام میں دیا جانے والا‘ جانور بھی قرار دیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی پیدائش بہت مشکل کام ہوا کرتی تھی اس کےلیے نر جنگلی خچر پکڑے جاتے تھے جن کا ملاپ گدھی سے کروا کر ’کُنگا‘ پیدا کیے جاتے

    اٹلی میں ایک ہی مقام سے 11 ڈائنوسار کا پورا ریوڑ دریافت

    اس کے علاوہ انہوں نے جنوب مشرقی ترکی میں گوئبیکلی تیپ نامی علاقے سے ملنے والے، گیارہ ہزار سال قدیم جنگلی خچر کا جین بھی علیحدہ کیا جو خاصی مکمل حالت میں تھا دونوں جانوروں کے جینوم کا موازنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ جنگلی خچروں کا ارتقاء بہت تیزی سے ہوا اور اس کا جسم چھوٹا ہوتا چلا گیا تاہم جب میسوپوٹیمیا کے ’کُنگا‘ سے ان کا موازنہ کیا گیا تو واضح طور پر معلوم ہوا کہ ’کُنگا‘ اِن دونوں کے ساتھ ساتھ گدھے سے بھی مشابہت رکھتے تھے۔

    رسیوں میں جکڑی سینکڑوں سال پرانی ممی دریافت

    اس تجزیئے کی روشنی میں ماہرین نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ’کُنگا‘ دراصل جنگلی خچروں اور میسوپوٹیمیا کے مقامی گدھوں کے ملاپ سے تیار کیے جاتے تھے وہ جسامت میں عام گدھوں اور جنگلی خچروں سے بڑے ہونے کے علاوہ طاقتور اور تیز رفتار بھی تھے لیکن مخلوط (ہائبرڈ) ہونے کی وجہ سے وہ اپنی نسل آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔

    زیبرا کی اصل رنگت کیا ہوتی ہے سفید یا سیاہ؟

    میسوپوٹیمیا سے ملنے والے ’کُنگا‘ کے ڈھانچوں میں دانتوں اور ہڈیوں پر کچھ مخصوص نشانات ظاہر کرتے ہیں ان کے پورے جسموں پر زرہ بکتر جیسے خول چڑھائے جاتے تھے جبکہ طاقت اور تیز رفتاری کی غرض سے انہیں مخصوص غذائیں کھلائی جاتی تھیں ان تمام خصوصیات کی بناء پر ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے انہیں ’جنگی گدھے‘ کا نام دے دیا ہے-

    ہیرے کے اندر سے زمین کی ہزاروں کلومیٹر گہرائی میں بننے والا مادہ دریافت

  • اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز

    سائنس فکشن جیسی اڑن کار کی دبئی میں کامیاب آزمائشی پرواز کی گئی،اس کار کو دیکھ کر آپ کچھ بھی کہیں لیکن یہ بیٹ مین کی گاڑی لگتی ہے اور اپنے جدید ترین ڈیزائن کی بنیاد پر رن وے کے بغیر سیدھا اوپر اٹھنے والے کار ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کےمطابق برطانوی کمپنی بیل ویدر نےاسے بنایا ہےاوراس کی نصف جسامت (ہاف اسکیل) ماڈل نے ٹیسٹ فلائٹ میں متوقع نتائج دکھائے ہیں جس کی ویڈیو دیکھ کرآپ خود حیرت میں ڈوب جائیں گے۔ اسے وولر ای وی ٹی او ایل کا نام دیا گیا ہے ماہرین اسے ہائپرکار قرار دے رہے ہیں۔

    ابوظہبی سے دبئی کا سفر تیز رفتار ٹرین سے صرف 50 منٹ میں

    ماحول دوست، برق رفتار اور بے آواز وولر کارمکمل طور پر برقی توانائی سے چلتی اور پرواز کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کا اولین نمونہ نومبر 2021 میں تیارہوچکا تھا۔ بس کمپنی بہترموقع کی تلاش میں تھی اور اب اسے دبئی میں اڑا کر اس کی پہلی ویڈیو جاری کی گئی ہے-

    رولز رائس کادنیا کا تیز ترین الیکٹرک طیارہ تیار کرنے کا دعویٰ

    آٹوموبائل تجزیہ کار ماہرین نے اس کی ڈیزائننگ، افادیت اور کارکردگی کو متاثرکن اور امید افزا قرار دیا ہے ویڈیو میں اسے اوپراٹھتے دیکھا جاسکتا ہے لیکن یہ ہوا میں سیدھی رہنے کی بجائے ادھر ادھر ڈولتی دکھائی دیتی ہے اس خامی کو شاید اگلے مراحل میں دور کیا جائے گا۔

    روس اور امریکا مشترکہ خلائی مشن پرکام کرنے کے لیے تیار

    تکنیکی طور پر وولر ملٹی کاپٹر سواری ہے جس کے پنکھے اس کے ڈیزائن کے اندر چھپائے گئے ہیں۔ لیکن اس میں اضافی پروپلشن کا معلوم نہیں ہوسکا ہے تاہم ڈیزائن سے دو دونشستی اڑن کار ہے۔ لیکن کمپنی کے مطاق اگلے ڈیزائن میں چار سے پانچ افراد بیٹھ سکیں گے۔ ایک مرتبہ چارج ہونے کے بعد یہ ڈیڑھ گھنٹے تک پرواز کرسکے گی نظری طور پر یہ 135 (215 کلومیٹر) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے لگ بھگ 3000 فٹ کی بلندی پر جاسکتی ہے۔

    کمپنی نے اس کی کوئی قیمت تو نہیں بتائی تاہم تجارتی تیاری 2028 میں شروع ہوجائے گی۔

    کسان کے بغیر ہل چلانے والا خودکار ٹریکٹر’ڈیئر 8 آر‘