Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی کے نام کا اعلان کر دیا

    سابق امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی بنانے کا اعلان کیا تھا تاہم اب انہوں نے اس کمپنی کے نام کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبرساں ادارے میل آن لائن کے مطابق ڈونلڈٹرمپ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنانے جا رہے ہیں اس کا نام ’ٹروتھ سوشل‘ (Truth Social)ہو گا ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی یہ نئی سوشل میڈیا کمپنی اس شعبے میں ٹوئٹر اور فیس بک جیسی بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری ختم کر دے گی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کا پاکستان کو 60 کروڑ ڈالر دینے کا اعلان

    رپورٹ کے مطابق ٹروتھ سوشل کا آغاز ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ(ٹی ایم ٹی جی)کے پلیٹ فارم سے کیا جا رہا ہے کمپنی کی طرف سے جاری ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ ان کا مشن بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے جو اپنی اجارہ داری کا فائدہ اٹھا کر امریکہ میں مخالف آوازوں کو دبا رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے نئی سوشل ایپلی کیشن شروع کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ایسی دنیامیں رہ رہے ہیں جہاں طالبان کے بڑی تعداد میں ٹوئٹر اکاﺅنٹ موجود ہیں لیکن آپ کے پسندیدہ امریکی صدر کو خاموش رکھا گیا ہے۔

    فیٹف کا تین روزہ اجلاس کا اعلامیہ جاری، پاکستان کا نام گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ برقرار

    ڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ جلد ہی میں ٹروتھ سوشل پر اپنا پہلا سچ شیئر کروں گا۔ ٹی ایم ٹی جی کی بنیاد اس مشن کے ساتھ رکھی گئی ہے کہ سب کی آواز کو جگہ دی جائے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ اس کمپنی کے ذریعے میں بڑی ٹیک کمپنیوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہو سکوں گا۔

    دوسری طرف تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ نئی سوشل میڈیا کمپنی قائم کرکے دراصل 2024ءمیں ہونے والے امریکی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں-

    مہنگائی کے خلاف پی ڈی ایم کل ملک بھر میں احتجاج کرے گی

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ دوم:

    بلاگنگ بھی آن لائن پیسے کمانے کا ایک بہترین طریقہ ہے۔  ورڈپریس یا بلاگر کی
    مدد سے ایک ویب سائیٹ یا بلاگ بنائیں، اس پرعمدہ اور مفید مواد شائع کریں، پھر
    Monetization کے ذریعہ جیسا کہ گوگل ایڈسینس، پیسے کمانے کا آغاز کریں۔ اس کے
    لیےضروری ہے کہ آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہو۔

    یوٹیوب اس وقت گوگل کے بعد سب سے زیادہ وزٹ کی جانے والی ویب سائیٹ ہے اور
    یوٹیوب پر ایک لمحے میں سالوں کے برابرویڈیوز دیکھی اور اپلوڈ کی جارہی ہیں۔ آپ
     YouTube پر جائیں اور اپنا چینل بنا لیں۔ اور جب آپ کا چینل مونیٹایز ہونا
    شروعہوجائے تو ایڈسینس کے ذریعے پیسے کما سکتے ہیں۔ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں
     یوٹیوب چینل موجود ہیں۔ اگر آپ کیمرے کےسامنے آنے سے گھبراتے ہیں تو آپ
    ٹیوٹوریل ویڈیو بھی بنا سکتے ہیں۔

    اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں تو آپ ایک عدد ویب سائٹ بنا کر آن لائن کاروبار
     کا بھی آغاز کر سکتے ہیں۔ آپ جو چیزیں دکان پربیچ رہے ہیں ان کو آن لائن بھی
    بیچ سکتے ہیں۔ shopify پر آپ اپنا آن لائن سٹور کھول سکتے ہیں۔

    اگر آپ کے پاس آن لائن کاروبار میں بیچنے کے لیے سرمایہ محدود ہے تو آپ ڈراپ
    شپنگ بھی کر سکتے ہیں۔ اس میں آپ اپنی ویبسائٹ پر دوسری سائٹس سے لے کر تصویریں
     لگاتے ہیں اور آرڈر ملنے پر اسی ویب سائٹ سے وہ پراڈکٹ لے لیتے ہیں۔ ڈراپشپنگ
    کے لیے علی بابا سب سے مشہور سائٹ ہے۔

    آپ ایک ایسی ویب سائٹ بھی بنا سکتے ہیں۔ جس پر مختلف کورسز بیچے جاسکتے ہیں۔ اس
     وقت یوٹیوب اور ورڈپریس پر بہت سےلوگ آن لائن کورسز کروا کر خوب پیسے کما رہے
    ہیں۔

    ہماری نوجوان نسل سارا دن سوشل میڈیا پر اپنا وقت برباد کرتی رہتی ہے۔ اگر وہ
    اپنے وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اچھے طریقےسے استعمال کریں تو سوشل میڈیا کے
    ذریعے بھی پیسے کمائے جا سکتے ہیں۔ فیس بک پر اپنا پیج بنا کر اس پر بہترین
    مواد شائع کریں۔جب آپ کے فالوورز کی تعداد بڑھ جائے گی تو آپ کو اشتہارات بھی
    ملنا شروع ہو جائیں گے۔

    فیس بک پر بہت سے ایسے فری لانسنگ گروپ ہیں جہاں مختلف لوگ وقتا فوقتا مختلف
    جابز کے لیے پوسٹ لگاتے رہتے ہیں۔آپ گرافک ڈیزائنر ہیں یا ٹائپنگ کے ماہر یا
    لکھنا جانتے ہیں، اپنی مہارت کے مطابق پوسٹ پر اپلائی کر کے پیسے کما سکتے ہیں۔

    ٹویٹر کے ذریعے بھی آپ اپنے کاروبار کی تشہیر کر سکتے ہیں۔ صارفین کو نئی
    پراڈکٹس اور آفر سےمتعلق ٹویٹ کر کے اپنے کاروبار کووسعت دے سکتے ہیں۔

    اسکے علاوہ آن لائن فارم بھرنا، ویڈیو ایڈیٹنگ، سکرپٹ رائٹنگ،  White board
    animation ، ایڈ پوسٹنگ،  ڈیٹا انٹری غرض آن لائنپیسے کمانے کے بیش بہا طریقے
    ہیں۔ اگر آپ ان میں سے کسی بھی کام میں مہارت نہیں رکھتے تو پریشانی کی کوئی
    بات نہیں۔انٹرنیٹ پر بہت سے لوگ مفت یا معمولی رقم کے عوض یہ تمام کورسز کروا
    رہے ہیں۔ آپ آج سے ہی اپنی دلچسپی کا کوئی بھی ہنرسیکھنے کا آغاز کریں۔ ایسے
    بہت سے پلیٹ فارم موجود ہیں جہاں سے لاکھوں افراد سیکھ کر نہ صرف برسر روزگار
    ہو گئے ہیں بلکہ اپنیذاتی کمپنیاں بنا کر دوسرے لوگوں کو بھی روزگار فراہم کر
    رہے ہیں۔

    ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کسی بھی کام کا آغاز کرنے سے پہلے اس میں
    مہارت حاصل کرنا ضروری ہے۔ ورنہ آپ وقتیطور پر کچھ کام حاصل کرنے میں تو کامیاب
     ہو جائیں گے، لیکن طویل مدت تک آپ بغیر مہارت کے پیسے نہیں کما سکیں گے۔
    انٹرنیٹ پر پیسے کمانا بھی کہیں نوکری کرنے کی طرح ہے۔ جس طرح نوکری میں ابتدا
    میں آپ کو کم معاوضے کے عوض کام کرنا پڑتاہے لیکن اگر آپ کے اندر صلاحیت ہو تو
    آپ پر ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح انٹرنیٹ پر بھی ابتدا میں
    کامحاصل کرنے اور خود کو منوانے کے لیے بہت تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ ایک وقت تھا
    کہ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ انٹرنیٹ کے ذریعےپیسے کمانے کا لالچ دے کر لوگ
    دوسروں سے پیسے بٹورتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ  جیسے دوسرے کاموں میں دھوکے کا
    امکان ہوتاہے اسی طرح یہاں  بھی مختلف قسم کے دھوکے باز موجود ہیں۔ لیکن وقت
    اور تجربے سے انسان سیکھ جاتا ہے کہ ایسے دھوکےبازوں اور فراڈ لوگوں سے کیسے
    بچا جا سکتا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ فری لانسنگ کی دنیا میں پاکستان پانچویں
     نمبر پر ہے۔ہماری نوجوان نسل تیزی سے ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اب ہماری ذمہ
    داری ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف پیسے کمائیں بلکہبہترین کارکردگی دکھا کر دنیا
    بھر میں پاکستان کا نام بھی روشن کریں۔

    ختم شد

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political

    Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    انٹرنیٹ کا مفید استعمال: عمران افضل راجہ

    حصہ اول:

    گھر سے باہر ہوں یا خاندان کی کسی محفل میں ہر کوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے
    پریشان نظر آتا ہے۔ ٹیلیویژن دیکھو تو بجلی، گیس،اشیائے خورد و نوش اور پٹرول
    کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں سن سن کر پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ ایسے
    میں یہ باتسمجھ سے باہر ہے کہ محدود آمدنی میں کس طرح گزارا کیا جائے؟ خاص طور
    پر اعلی تعلیم کے خواہش مند طلبا کے لیے اپنی تعلیم کےاخراجات برداشت کرنا نا
    ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ لیکن ان تمام مسائل کا کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا ہو گا۔
    جس طرح پڑھتے ہوئے اپنےسوالات کا جواب حاصل کرنا ہو،  یا سفر کے دوران راستہ
    معلوم کرنا ہو، اپنوں سے رابطہ کرنا ہو یا دنیا بھر کی معلومات حاصل کرنیہو،
    ایک بٹن دبا کر انٹرنیٹ کے ذریعے ان تمام مسائل کا حل نکل آتا ہے۔ اسی طرح
    مہنگائی اور بیروزگاری کا حل بھی انٹرنیٹمیں موجود ہے۔

    اگرچہ اولین طور پر انٹرنیٹ عسکری مقاصد کے لیے ایجاد کیا گیا، اور پھر سائنس
    دانوں کے مابین رابطے کے لیے اس کا استعمالوسیع پیمانے پر شروع ہو گیا۔ تین
    دہائی قبل جب اس کا استعمال عام ہونا شروع ہوا تو زیادہ تر لوگ اس کو معلومات
    حاصل کرنےاور دنیا بھر میں رابطہ قائم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس وقت
    کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ دنیا کو عالمی گاؤں میںتبدیل کرنے والی یہ
    ٹیکنالوجی ایک عالمی منڈی بھی بن جائے گی۔ اور دنیا بھر کے لاکھوں کروڑوں لوگوں
     کا ایسا ذریعہ آمدن بنجائے گا جس سے لوگ ہر روز لاکھوں ڈالر کما سکیں گے۔ یہ
    مبالغہ آرائی نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے انٹرنیٹ نے دنیا کو عالمی گاؤںبنا کر نہ
    صرف لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک مارکیٹ بنا
    دیا ہے۔ آپ نے پالتو بلی خریدنی ہو یااپنی گاڑی بیچنی ہو انٹرنیٹ کے ذریعے یہ
    تمام کام ممکن ہیں۔ آپ اپنے بیڈ روم میں بیٹھ کر دنیا کی کسی بھی بڑی کمپنی میں
     ملازمت کرکے پیسے کما سکتے ہیں۔

    اگر انٹرنیٹ کو مثبت طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس پر پیسے کمانے کے اتنے
    طریقے ہیں جن کا شمار کرنا مشکل ہے۔ موجودہدور میں بھی اگر کوئی بے روزگاری کا
    رونا روتے نظر آتا ہے تو اس کی وجہ  کم علمی یا ذاتی کوتاہی ہو سکتی ہے۔ ورنہ
    انٹرنیٹ پر پیسےکمانے کے ان گنت طریقے اور مواقع موجود ہیں۔  کرونا کے بعد پوری
     دنیا میں جس قدر بے روزگاری اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہےایسے میں ضروری ہے کہ
     مختلف طریقوں سے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔ چنانچہ انٹرنیٹ کے ذریعے پیسے
     کمانا ایک بہترین طریقہہے جس میں آپ بغیر سرمائے یا بہت محدود سرمائے سے نہ
    صرف اپنی  آمدنی میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ اگر آپ کے اندر جستجو اورمستقل
    مزاجی ہے تو آپ لاکھوں روپے ماہانہ بھی کما سکتے ہیں۔

    اگر آپ اچھے لکھاری ہیں، گرافک ڈیزائنر ہیں یا ویب ڈویلپمنٹ جانتے ہیں، سرچ
    انجن آپٹیمائزیشن یا سوشل میڈیا مارکیٹنگ کا کام کرسکتے ہیں یا ویڈیو ایڈیٹنگ
    میں مہارت رکھتے ہیں تو فری لانسنگ بہترین ذریعہ معاش ہے۔ اس وقت پوری دنیا
    بشمول پاکستان میں بےشمار افراد فری لانسنگ کے ذریعے کمائی کر رہے ہیں۔

    فری لانسنگ کے آغاز میں آپ مختلف فری لانسنگ ویب سائٹس جیسے  فری لانسر،
    فائیور، پی پی ایچ ،اپ ورک وغیرہ  پر اپنا اکاؤنٹبنائیں۔ ان ویب سائیٹس پرمختلف
     اقسام کے پراجیکٹ شائع ہوتے رہتے ہیں، ان پر اپلائی کریں جب کام مل جائے تو
    خوب محنتاور دلجمعی سے کام کریں۔ آپ پر آہستہ آہستہ ترقی کے دروازے کھلنا شروع
    ہو جائیں گے۔

    اگر آپ کو انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے یا پھر آپ کے پاس کاروبار کرنے کے لیے
    ابتدائی سرمایہ موجود ہے اور ساتھ ہی ساتھمارکیٹنگ سے بھی دلچسپی ہے تو ایفی لی
     ایٹ مارکیٹنگ ایک بہترین آن لائن کاروبار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کاروباری ماڈل
    میں آپنےدوسروں کی  Physical یا Digital پراڈکسٹس بکوانے میں ان کی مدد کرنا
    ہوتی ہے۔ ہر پراڈکٹ جو آپ کے توسط سے بِکتی ہے اسپر آپ کو کمیشن دیا جاتا ہے۔
     Physical پراڈکٹس کے لیے Amazon بہترین ہے،  ڈیجیٹل پراڈکٹس کے لیے آپ اپنی
    ویب سائیٹکے موضوع کو مدِنظر رکھتے ہوئے ای بک، کورس، سروس کچھ بھی بیچ سکتے
    ہیں۔اس وقت پاکستان میں بے شمار افراد اس بزنسماڈل کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔

    جاری ہے ۔۔۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • سوشل میڈیا کی مدد سے عوام کے مسائل کے حل   تحریر : رانا عابد حسین

    سوشل میڈیا کی مدد سے عوام کے مسائل کے حل تحریر : رانا عابد حسین

    آج کل کے دور میں سوشل میڈیا ایک بہت عام سی چیز ہو گئی ہے پہلے لوگ فیس بک اور ٹیوٹر صرف اس لئے استعمال کرتے تھے کہ وہ اپنے دوستوں سے بات کر سکیں لیکن آج کے دور میں لوگ سوشل میڈیا اس لئے استعمال کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے مسئلوں کا حل حکومت سے کروا سکے پاکستان تحریک انصاف حکومت سے پہلے ایسے اقدامات نہیں کیے جاتے تھے سوشل میڈیا پر لوگوں کے مسائل حل نہیں کئے جاتے تھے لیکن اب جب سے پاکستان تحریک انصاف حکومت آئی ہے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان ڈیجیٹل میڈیا بنایا اور ہر منسٹری کیلئے فوکل پرسن بنائے گئے تاکہ فوکل پرسن سوشل میڈیا پر رہتے ہوئے عوام کے مسائل کو حل کروا سکیں تاکہ عوام کو پتہ لگے کہ ان کی حکومت ان کے درمیان ہی ہے پہلے جو کام ایک سال میں ہوا کرتا تھا عدل و انصاف بہت عرصے بعد ملتا تھا آج صرف ٹیوٹر پر جا کر پوسٹ کرنے سے اور حکومتی اداروں کو ٹیگ کرنے سے آپکا مسئلہ چند گھنٹوں میں حل ہو جاتا ہے یہ ساری کی ساری محنت پنجاب حکومت کے فوکل پرسنز کو جاتی ہے اور اس کا سارا کا سارا کریڈٹ کو حکومت پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کو جاتا ہے کیونکہ اگر وہ سوشل میڈیا کو اہمیت نہ دیتے تو آج پاکستان اتنا تبدیل نہ ہوتا آج کے دور میں رہتے ہوئے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف حکومت میں ہوتے ہوئے کتنا اچھا کام کر رہی ہے اور کتنے اچھے طریقے سے سوشل میڈیا کو ہینڈل کر رہی ہے اتنی اچھی کارکردگی شوشل میڈیا پر پہلے آج تک کسی حکومت کی نہیں رہی۔ وہ بے شک پاکستان کے وزیر اعظم کے فوکل پرسن ارسلان خالد ہو یا سی ایم پنجاب کے فوکل پرسن ہوں اظہر مشوانی ہوں یا وزیر بلدیات کے فوکل پرسن وقاص امجد ہو یا وہ بے شک سپورٹس کے فوکل پرسن زبیر خالد ہو یا فوکل پرسن چائلڈ پروٹیکشن ارسلان نعیم ہو یا ہیومن رائٹس کے فوکل پرسن فیصل کھوکھر ہوں سب اتنی تیزی کے ساتھ ایکشن لیتے ہیں مسائل چند گھنٹوں میں حل ہو جاتے ہیں پہلے یہی مسائل نواز شریف صاحب خود جا کر یا شہباز شریف صاحب خود جاکر حل کرواتے تھے لیکن آج یہ ہی کام سوشل میڈیا پر بیٹھتے ہوئے فوکل پرسنز کر رہے ہوتے ہیں آپ اس سے اس بات کا اندازہ لگا سکتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کتنے اچھے طریقے سے لوگوں کے مسائل سن رہی ہے اور ان کو بغیر کسی سفارش کے جلد از جلد حل کروانے کی بھی کوشش کر رہی ہے اور اس میں میں اپنی عوام اپنے نوجوانوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ بھی سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کریں اور دوسروں کی اس پلیٹ فارم سے مدد بھی کریں تاکہ حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر وہ بھی ایک اچھی قوم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ جب ہم سب ایک ضرورت مند کی سوشل میڈیا پر مدد کریں گے اور اس کی آواز حکومت تک پہنچانے میں اس کی مدد کریں گے تو مجھے یقین ہے کل کو جب آپ کو خود کے لیے اپنی آواز پہنچانے کی ضرورت ہوگی تو سب لوگ آپ کی مدد کے لیے پہنچیں گے جن کی مدد کے لیے آ پہنچے تھے اور ایسے آپ کی آواز پہنچے گی منٹوں میں آپ کے مسائل حل ہوں گے جب حکومت آپ کو اتنے طریقہ سے ڈیل کر رہی ہے اور آپ کے مسائل حل کر رہی ہے تو کچھ آپ کا بھی فرض بنتا ہے کہ آپ حکومت کے لیے اور اس قوم کے لئے کچھ نہ کچھ کریں تاکہ ہم ایک عظیم قوم بن سکیں اور اس میں میں تمام فوکل پرسنز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو دن رات اس قوم کے لئے بلا تفریق کام کر رہے ہیں اور بغیر کسی لالچ کے مسائل حل کروانے کی کوشش کر رہے ہیں بے شک یہی وہ لوگ ہیں جو ہماری قوم کا اثاثہ ہے
    @AbidRana876

  • کیا ڈیجٹل ورلڈ کے احمق…کیا ان کے فرینڈ لسٹ                        تحریر ؛۔ محمد جواد خان

    موجودہ صدی میں کئے گئے انسانی جرائم کے مجرموں کی چارج شیٹ تیار کی جائے تو امریکی صدور کے نام سرفہرست رہیں گے. حضرت قبلہ بش دوم کے صرف ہاتھ کیا پورا جسم انسانی خون سے سرخ ہے. گزشتہ صدی سے افغانستان و عراق، صومالیہ، فلسطین، پاکستان کی حالات زار دنیا کے نظر میں ہیں اور مزید تشریح تحصیل حاصل.

    قبلہ بش صاحب دوم کے بعد قبلہ بارک حسین اوباما صاحب سریر آراء سلطنت ہوئے. کاخ سپید(White House) میں ان کے تمام اٹھ سال مسلمان دنیا پر ان کے مسلط کردہ جنگ میں گزر گئے. قبلہ بارک حسین اوباما شاید پہلے امریکی  صدر ہیں جو جنگ میں ائے اور… جیسے شام، یمن و لیبیا میں… بدترین جنگ و خانہ جنگیاں صدقہ جاریہ کے طور پر چھوڑ گئے.

     

      قبلہ بش دوم صاحب نے اپنے دور حکومت میں 150 ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی. ان تمام 150 ڈرون سٹرائکس میں 296 جنگجو combatants مارے گئے اور 195 معصوم اور نہتے سویلین شہید ہوگئے. بات ختم.

       قبلہ حضرت بارک حسین اوباما نے افغانستان میں موجود ارمی کی تعداد ایک لاکھ پر لے جاکر وہاں غیر ملکی فوجی وجود میں سب سے زیادہ اضافہ کیا. اور 2001 کی جنگ کو 2014 تک طول دے کر افغان جنگ کو امریکی تاریخ کا سب سے طویل المدت جنگ بنا کر ریکارڈ قائم کی!

       ٹیریرزم، دہشت اور وحشت، بربریت، بے رحمی و خونریزی میں داعش نے انسانی تاریخ کے حافظے سے چنگیز خان و اٹیلا دی ھنز بھلا دئے. اسلامی دنیا پر یہ مسلط شدہ لعنت خالص قبلہ بارک حسین اوباما صاحب کی تن تنہا ایجاد ہے… جسطرح طالبان اس کے پیشرؤوں کے ایجاد ہیں… . اوبامہ ایڈمنسٹریشن نے شام، لبنان اور یمن کا جو حشر کیا اس پر تاریخ روتی رہے گی…. امید ہی نہیں کی جاسکتی کہ ہمارے زندگیوں میں شام و لیبیا پھر سے وہی پرامن شام و لیبیا بن جائیں گے. انسانی تاریخ میں سب سے بڑی پناہ گزینی کا بحران، حلب بمباری، لیبیا بمباری اور ان کے نتیجے میں معصوم شہریوں جوانوں، بوڑھوں، عورتوں، شیرخوار بچوں کی بہائی گئ خون عہد اوبامہ کی تاریخی تذکرے میں بولڈ فانٹ میں قلمبند ہوں گے.

      اوپر عرض کیا قبلہ بش دوم نے 150 ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی………… قبلہ بارک حسین اوباما نے یہ تعداد بڑھا کر 500 ڈرون سٹرائکس کی اجازت دی… بلکہ احکامات جاری کئے… اور پاکستان و افغانستان کے علاوہ لیبیا، شام اور یمن تک ڈرون حملوں کا حلقہ وسیع کیا جن میں 3040 جنگجو مارے گئے…. معصوم شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اس کی دو گنا ہے! افغانستان میں ایک حملے میں 287 شہری شہید ہوئے!

      

      امن کیلئے ان کوششوں……. کے بدلے… سر کے بل کھڑے… ناروے کے عالمی نوبل پرائز کمیٹی نے سال 2009 کو قبلہ بارک حسین اوباما کو نوبل انعام برائے امن Nobel Prize for Peace سے نوازا…. ذہنیت کی بات ہے اپ لبرل و پشتون نیشلسٹ نہیں اور نوبل کو تمغہ خداوندی نہیں سمجھتے تو "امن” کی بجائے خونریزی یا دھشتگردی لکھیں، "کوششوں” کی جگہ "جرائم”.

    الوہی نوبل کمیٹی  Divine Nobel Committee اور نوبل پرائز پر شک کریں تو پاکستانی لبرلز دھڑا دھڑ پوسٹ لگاتے ہیں "ایسے لوگ انفرینڈ کریں جو نوبل پرائز کو نہیں مانتے!” جیسے ان کی فرینڈ لسٹ خود نوبل پرائز کمیٹی کی سلیکشن لسٹ ہو!

         وینزویلا کے ھیوگو شاویز کیا مرد قلندر تھے. ایک بار اقوام متحدہ میں نوم چومسکی کی کتاب ہاتھ میں اٹھائے کسی کو ھدف تنقید و ملامت بنا رہے تھے… سامعین میں کسی نے کہا مسٹر پریذیڈنٹ، اپ برا بھلا کہہ رہے ہیں مگر فلاں کا نام  تو سالانہ ایوارڈ کیلئے نوبل کمیٹی کے ہاں زیرغور ہیں. مرد قلندر نے فوراً جواب دیا:

      "ہاں مجھے پتہ ہے نوبل انعام سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کلرک کے چیٹ پر دی جاتی ہے!”

     

         سو حرف مدعا یہ کہ لبرلز…. اور بعض پشتون نیشلسٹ حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ اپ کے روشن چہروں، اپ کی بیٹی ملالہ یا آپ کے عبدالسلام کو نوبل انعام ملے آپ کو مبارک ہو… ہم آپ کی خوشی پر واقعی خوش ہیں… مگر نوبل پرائز کو فکری ایمان و  دیانت کی لٹمس ٹیسٹ litmus test  نہ بنائیں. ہم بھی قوم کی بیٹی اور قوم کے سائنس دانوں اور ان کی نوبلیت و قابلیت  کی اصلیت اور  حقیقت جانتے ہیں. جتنا  آپ کو اپ کی پسند و ناپسند  کے اظہار اور ھیرو سازی کے  حقوق حاصل ہیں … اتنا ھم خاکساروں کو  خاموش رہنے یا دو حرف اختلاف کا بھی حق ہے. جو لبرل یا پشتون گھمنڈی پوسٹ لگاتے ہیں کہ جو "ملالہ اور عبدالسلام پر ایمان بالغیب نہیں لاتے وہ انفرینڈ ہوجائیں” جس پھر عمر  بھر میں ایک ہی لائک صاحب پوسٹ کی اپنی ہوتی ہے… ان کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ پہلے نوبل کی تلفظ اور اور سپلنگ درست کریں اور پھر اپنی نوبل فرینڈلسٹ خوب سنبھال کے رکھیں. ہمیں فرینڈ ریکویسٹ بھیجنے کی بٹن ہی نہیں معلوم. اور  اپ جیسے ڈیجٹل دور کے بھانڈوں، مسخروں کا فرینڈ لسٹ میں موجود ہونا تو ڈیجیٹل کرائم کی ارتکاب اور ڈیجٹل حماقت Digital stupidity کی شرمناک غلطی کرنے  سے کم نہیں سمجھتے!

    Twitter Handle : @Jawad_Yusufzai

  • نوجوان نسل اور سمارٹ فونز ۔     تحریر اویس چغتائی

    نوجوان نسل اور سمارٹ فونز ۔     تحریر اویس چغتائی

    ہماری نوجوان نسل  بہت سارے مسائل کا شکار ہے ، جسکی بہت ساری وجوہات بھی ہیں__ آج کے دور میں ہر طرف افراتفری، انتشار ، فتنہ فساد ، فرقہ واریت ، بے راہ روی، بے حسی ،درندگی ، بے حیائ پھیل رہی ہے، اور نت نئی ساری نئی بیماریاں جنم لے رہی ہیں، جس بہت بڑی وجہ موبائل فونز کا بے جا استعمال ہے ، 

    موبائل فونز یا سمارٹ فونز  نے بہت زیادہ فوائد بھی دئیے ہیں__، آج سیکنڈز میں انفارمیشنز شیئر کی جاتی ہیں  ،اس نے  ایک ملک سے دوسرے ملک تک کا فاصلہ ختم کر دیا ہے، آج گھر بیٹھے بیٹھے آپ دوسرے ملک میں موجود اپنے رشتے داروں اور دوستوں سے رابطے میں رہتے ہیں ، ہر خبر سے باخبر رہتے ہیں_ گھر بیٹھے انٹرنیٹ پر آنلائن جابز کی جاتی ہیں،_ تعلیم کے حصول کے لیے ہر طرح کی سہولت اب چھوٹے سے سمارٹ فون میں موجود ہے ، جس نے بہت سارے کام آسان کر دے ہیں ، اب ہر طرح کا  کام گھر بیٹھے موبائل فون پر کیا جاتا ہے،  نیز اس نے ہر طرح کے فوائد فراہم کیے ہیں ، لیکن اسکے غلط استعمال نے بہت سے مسائل بھی پیدا کر دیے ہیں جو کے۔ ہماری نئی نسل کو تباہی اور بربادی کا سبب بن رہے ہیں __ 

      موبائل فون اور بے حد سوشل میڈیا ایپس نے نوجوان نسل کو اپنی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا ہے، 

    جہاں نوجوانوں کے ہاتھ میں قلم اور کتاب ہوا کرتی تھی، وہاں آج بچے بچے کے ہاتھ میں موبائل فون ہوتے ہیں ،پہلے جہاں بچے  دوستوں کے ساتھ اچھی گفتگو کرتے ہوئے گھر جیا کرتے تھے ، آج کانوں میں ہینڈ فری ڈال کر گانے سنتے بجاتے  گھر جاتے ہیں،   

    پہلے وقتوں میں لوگ ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ گھنٹوں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے تھے ، گھر گھر لگتا تھا، جہاں عزت احترام ، مروت ، اصول و ضوابط  ہوا کرتے تھے ،سب اک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے تھے ، احساس رکھتے تھے ، 

    لیکن آج کے دور میں موبائل فونز نے جہان ایک ملک سے دوسرے ملک تک کا فاصلہ مٹا دیا ہے ،وہی ایک ہی گھر کے اندر موجود لوگوں کو ایک دوسرے سے میلوں دور کر دیا ہے ، گھر میں موجود ہر شخص ہر وقت اپنے میں فون میں مصروف رہتا ہے، کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوتی ، ۔۔ دن رات موبائل فون کے ایسے  عادی بن گئے ہیں کہ چلتے پھرتے، اُٹھتے بیٹھتے ، کھانا کھاتے وقت بھی موبائل فون ہاتھ میں لئے رکتھے ہیں،۔۔۔ رات گئے سحر ہونے تک فون استعمال کرتے ہیں، اور دن سارا سوئے رہتے ہیں، یعنی آوے کا آوا ہی بگڑ کر رہ گیا ہے ۔۔۔

    موبائل فون کو انسان کی سہولت کے لیے بنایا گیا تھا لیکن ہم نے اسکا بے جا اور غلط استعمال انسان کا اپنا کیا دھرا ہے ، یہ انسان کے اپنے ہاتھ میں کی وہ اسکو کس طرح استعمال کرتا ہے__ لیکن جیسے جیسے نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جاتی ہے ، نئی ایپس ، سوشل میڈیا ایپس کی بھرمار ہو رہی ہے ، جو انسانوں کو مزید اپنے اندر جھکڑںے میں کامیاب ہو رہی  ہیں،۔۔ 

    سوشل میڈیا ایپس کے ذریعے جہاں لوگ آنلائن کئی لوگوں کے ساتھ  مصروف رہتے ہیں وہیں پاس بیٹھے افراد انکو نظر بھی نہیں آتے __، انسان اتنا کھو گیا ہے موبائل اور سوشل میڈیا پر کے اسکے سامنے ہونے والے کئی واقعات بھی اسے سوشل میڈیا جے ذریعے ہی پتا لگتے ہیں ، یا پھر وہ خود ان واقعات کی روک تھام کے بجائے ویاں تماشائی بن کر بس سوشل میڈیا پر ڈال کر وائرل ہونے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں، انکو یہ اندازا بھی نہیں ہوتا کہ وہ کس قسم کے جرائم اور بے حیائی کے واقعات کو فرغ دے رہے ہوتے ہیں ، 

    سوشل میڈیا یا کوئی بھی موبائل ایپ اس وقت سب سے زیادہ بے حیائی کے کام کو فرغ دے رہی ہیں، مثلاً فیس بک ؛ فیس بک پر جہاں اسلامی اچھی اخلاقی پوسٹس ویڈیوز شئیر کی جاتی ہیں لیکن اس سے کئی زیادہ فحاش ، کونٹنٹ شئیر کیا جاتا ہے ، جس سے نوجوان میں بے حیائی اور برائی جنم لیتی ہے،۔۔۔ ایسی بے حیائی یا غیر اخلاقی چیزیں دیکھ دیکھ کر ہم اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ اب ہمیں وہ برائی نہیں لگتی ،_ نت نئے ٹرینڈز چلتے ہیں ، فیس بک ، ٹوئیٹر ، انسٹاگرام، یوٹیوب ہر جگہ بس وائرل ہونے کے لیے ہو غلط غیر اخلاقی مواد شیئر کیا جاتا ہے،۔۔ جن کو اب غلط بھی نہیں سمجھا جاتا، افسوس کے ساتھ ہم سب اسکا حصہ بنتے جارہے ہیں۔۔۔

    ہمیں موبائل فون اور سوشل میڈیا نے اتنا جکڑ لیا ہے کی اس سے باہر آنا اب ناممکن ہو گیا ہے،۔۔ یہ سب اب آکسیجن کی طرح ضروری بن گیا ہے، اور کا سب سے زیادہ شکار ہماری نوجوان نسل ہو رہی ہے۔۔ وہ نوجواننوجوان ملک سمبھالنا تھا ، سائنس دان ، دانشور ، فلاسفرز بننا تھا ، وہ صرف و صرف تباہی و بربادی کی طرف جا رہے ہیں، اپنی روایات ، اقدار، کلچر کو فروغ دینے کے بجائے مغربی کلچر کو پرموٹ کیا جاتا ہے ، 

    موبائل فون اور سوشل میڈیا  نے جہان نوجوانوں کو وقت برباد کرنے اور اپنوں سے دور کرنے ، بے حیائی اور غلاظت میں ڈبونے میں کو کسر نہیں چھوڑی وہیں، بہت ساری بیماریوں سے دوچار کر دیا ہے، _ ڈیپریشن، سٹرس ، جسم اور پٹھوں کی کمزوری ، دلوں کی بیماریوں میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے ،  لوگ نے فیزیکل ایکسرسائز ، چلنا پھرنا بند کر دیا ہے ،  یہاں تک کے شاپنگ تک آنلائن شروع کر دی گئی ہے ،۔ خواتین گھر بیٹھے آنلائن کھانا آرڈر کرتی ہیں۔۔ جس نے ہر انسان ، مرد عورتوں کو نکارا کر دیا ہے۔۔۔_  خود کشی کی شرح   بھی خوفناک حد تک بڑھ گئی ہے ، 

    میں موبائل فون کے استعمال کی خلاف ہر گز نہیں ہوں ، لیکن موجودہ صورت حال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکی  ،۔۔ الغرض یہ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے، موبائل فون کی ایجاد یا نئی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا  ہر گز غلط نہیں ہے ، اسکے فوائد نہایت قابلِ قدر ہیں ، لیکن اسکا غلط استعمال اور اسکے نقصانات انتہائی بربادی کی طرف لے جا رہے ہیں، خاص کر مسلمان معاشرہ بہت متاثر ہو رہا ہے، سب سے پہلے والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کو بالغ ہونے تک موبائل فون سے دور رکھیں ،اور انکی تعلیم پر خاص توجہ دیں ، اور انکی اسلام کے مطابق تربیت کریں ، اور ہم نوجوان پر لازم ہے کہ برائی سے بچیں، بے حیائی کی روک تھام کریں،۔۔۔ اور معاشرے کو غیر اخلاقی ، چیزوں سے محفوظ رکھیں  ، اور اسلامی تعلیمات پر خود بھی عمل کریں اور دوسروں کر تلقین کریں ، ۔۔۔ کیونکہ یہ آپکے اپنے ہاتھ میں ہے آپ اسکا استعمال کیسے کرتے ہیں ، ۔۔۔۔آپ سارا الزام سوشل میڈیا اور موبائل فون پر نہیں ڈال سکتے ،۔۔ یہ آپکے اختیار میں اپ سکا استعمال کیسے کرتے ہیں ، اور حکومت کا بھی فرض ہے وہ غیر اخلاقی و قانونی مود پو پابندی لگائیں ،۔۔

     معاشرے کا اعلیٰ  اخلاق کو برقرار رکھنے کے لیے ہر شخص کو کردار ادا کرنا ہوگا__ 

  • ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا مستقبل اور ماضی میں جانا تحریر اصغر علی                                    

    ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا مستقبل اور ماضی میں جانا تحریر اصغر علی                                    

                   

    ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آج کی دنیا  میں جب سائنس اتنی ترقی کر چکی ہے ممکن ہے یا نہیں اسی موضوع پر آج کا کالم ہے
    انسان کی خواہشات لامحدود ہیں سائنس میں آج اتنی ترقی کرنے کے بعد انسان وہ سب کچھ کرنے کی خواہش رکھتا ہے جو آج سے سو سال پہلے کا انسان سوچ بھی نہیں سکتا تھا لیکن آج بھی سائنس کی بے انتہا ترقی کے باوجود بہت سی ایسی چیزیں ہیں جس میں انسان بے بس نظر آتا ہے اور بہت سے ایسے سوالات انسان کے سامنے آتے ہیں کہ جن کے جوابات ابھی تک اسے نہیں مل پائے انہی سوالوں میں سے ایک سوال ٹائم ٹریولرز یا وقت میں سفر کرنا ہے جس کا مطلب آپ اپنے مستقبل سے ماضی میں یا ماضی سے مستقبل میں جا سکیں یہ سب جانتے ہیں کہ گیا وقت کبھی ہاتھ میں واپس نہیں آتا ٹائم ٹریول یا وقت میں سفر کرنا آخر ہے کیا اس کی اسان مثال لی جائے ہم سب وقت میں آگے کی طرف سفر کر رہے ہیں اور ہر سال ہماری سالگرہ منائی جاتی ہے اور ہماری زندگی میں ایک سال مزید شامل ہو جاتا ہے لیکن ہم سب کی کی رفتار ایک جیسی ہوتی ہے ہم ایک سیکنڈ میں ایک سیکنڈ ہی گزارتے ہیں کیا ایسا ممکن ہے کہ ہم وقت میں تیزی سے سفر کرتے ہوئے آگے نکل جائیں یا وقت سے پیچھے رہ جائیں اس پر کافی سائنسدانوں نے اپنی تھیوریز پیش کی  ہیں کچھ کا خیال ہے یہ ممکن ہے اور کچھ کا خیال ہے یہ محض ایک کہانی ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں سب سے مشہور تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو سمجھا جاتا ہے دنیا میں سب سے زیادہ تیز رفتار روشنی کی ہوتی ہے اور کوئی بھی روشنی کی رفتار سے تیز سفر نہیں کر سکتا ایک اور مثال میں اگر اس کو سمجھیں تو وہ کچھ اس طرح ہے کہ اگر ہم ایک ٹرین کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں اور ہمیں سامنے والا انسان جو ہمارے سامنے بیٹھا ہے وہ اور جتنے بھی لوگ اس ڈبے میں یا اس کیبن میں بیٹھے ہوئے ہیں ہمیں وہ ساکن نظر آئیں گے کیونکہ وہ ہمارے لئے ساکن ہے اس کے برعکس اگر کوئی باہر سے ٹرین کو دیکھتا ہے تو اس کو وہ سب انسان حرکت کرتے ہوئے نظر آئیں گے جو ٹرین میں بیٹھے ہوئے ہیں اس لیے ہر انسان کا وقت اس کے اپنے حساب سے گزرتا ہے ہے ایک تو یہ تھیوری ہے آئن سٹائن کی اور اس کا ایک اور پہلو کچھ اس طرح ہے  فرض کریں کوئی بھی شخص ایک سپیس شپ میں روشنی کی رفتار سے سفر کر رہا ہے ہے تو کچھ سالوں بعد تھیوری آف ریلیٹیویٹی یا آئنسٹائن کے مطابق وہ اپنے ہم  عمر جڑواں بھائی جو زمین پر ہے اس سے چھوٹا رہ جائے گا کیوں کہ روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کی وجہ سے اس کا وقت آہستہ گزر رہا ہے اس کو ٹائم ڈائیلیشن کہتے ہیں یا آپ کو ایک بات اور بتاتے چلیں کہ مشہور سائنسدان آئنسٹائن کے مطابق وقت چو تھی ڈائمنشن ہیں جبکہ باقی تین ڈائمینشن میں لمبائی چوڑائی اور اونچائی شامل ہیں یہ تینوں ٹائم نشنز ہمیں لوکیشن بتاتی ہے اور چوتھی ڈائمنشن ہمیں ڈائریکشن بتاتی ہے اور یہ صرف آگے کی طرف جاتی ہے یعنی وقت ہمیشہ آگے کی طرف سفر کرتا ہے کبھی واپس پیچھے کی طرف نہیں آتا وقت میں سفر کرنے کا ایک طریقہ وارم ہول یعنی ہم ایک ایک ہول سے داخل ہوں اور اس کا دوسرا سرا آج سے سو سال سال پیچھے یا سو سال آگے ہوگا لیکن یہ سب چیزیں میں اور اور فلموں میں دکھائی جاتی ہے کیونکہ حقیقت میں اس طرح کے ہول نہ آج تک دریافت ہوئے ہیں اور نہ ہی کسی کو ان کے بارے میں کچھ پتہ ہے تو ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں جتنی بھی باتیں ہیں وہ محض کہانیاں اور افسانے ہیں ہیں کسی بھی سائنسدان نے آج تک کیا کسی بھی انسان نے آج تک وقت پر سفر نہیں کیا یعنی ٹائم ٹریول نہیں کیا اور یہاں پر ٹائم ٹریول کے بارے میں کافی سارے لوگوں نے کافی اعتراضات بھی کئے ہیں جن میں سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ اگر کوئی انسان ٹائم ٹریول کرکے اپنے ماضی میں جاتا ہے تو کیا وہ اپنی ماضی میں کی ہوئی غلطیوں کو سدھار سکتا ہے  یہ ایسا ہی ہے کہ کوئی شخص اپنے ماضی میں جائیں اور اپنے دادا یا پر دادا کو قتل کردے اب دادا یا پر دادا ہی نہیں رہے تو اس شخص کا پیدا ہونا کیسے ممکن ہے ٹائم ٹریول کے بارے میں بہت سارے لوگوں نے اپنے بہت ساری جھوٹی کہانیاں انٹرنیٹ پر ڈالی ہوئی ہیں جس میں  ایک کہانی ہے کہ ایک انسان نے سن دو ہزار سے سن دوہزار 36 میں گیا اور  واپس آیا کچھ دنوں تک وہ لوگوں کے میسجز اور پیغامات کا جواب دیتا رہا اور بعد میں وہ غائب ہو گیا غرض ٹائم ٹریول کے بارے میں آج تک جتنی بھی تحقیقات ہوئی ہیں ان میں آج تک کوئی بھی اتھنٹک نہیں ہے لوگ ٹائم ٹریولنگ کے بارے میں سب سے زیادہ اتھنٹک تھیوری آئن سٹائن کی تھیوری کو ہی سمجھتے ہیں            

    Asghar Ali is digital media journalist, Columnist and Writer who writes for baaghitv.com.
    for more info visit his twitter 

            account @ali_ajkpti

  • واٹس ایپ کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

    واٹس ایپ کا اہم فیچر ختم کرنے کا فیصلہ

    دنیا بھر میں پیغام رسانی کی معروف ایپ وٹس ایپ آئے روز نئے فیچرز متعارف کراتا رہتا ہے لیکن اس بار کمپنی کی جانب سے فیچر ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق وٹس ایپ انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ گوگل ڈرائیومیں لامحدود اسٹوریج کے آپشن کو ختم کر کے صارفین کو صرف 200 ایم بی کا آپشن دیا جائے اور وہ صرف اتنے ہی مسیج محفوظ رکھ سکیں گے۔

    گوگل ڈرائیو میں پیغامات کو محفوظ رکھنا نہ صرف آسان بلکہ موثر ترین طریقہ تصور کیا جاتا ہے خیال کیا رہا ہے کہ وٹس ایپ آنے والی اپ ڈیٹس کے اندر اس آپشن کو متعارف کرائے گا جویقینی طور پر صارفین کے لیے ایک اچھی خبر نہیں ہو گی۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    واضح رہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس اور اپلیکیشنز ہر چند ماہ بعد صارفین کی سہولت کے پیش نظر تبدیلیاں کرتی رہتی ہیں، اس مقصد کے لئے وہ مختلف قسم کے سرویز کراتی ہیں اور اپنے یوزر / صارفین سے آراء طلب کرتی ہیں کہ وہ کس قسم کے اپشن میں مزید بہتری چاہتے ہیں.

    سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    گزشتہ ماہ خبریں تھیں کہ سماجی رابطوں کی اپلیکیشن ‘واٹس ایپ’ کی نئی آنے والے اپ ڈیٹ میں کچھ نئی تبدیلیوں کا امکان متوقع ہے جن میں سب سے بڑی تبدیلی، واٹس ایپ پہ ساتھی سے اپنا last seen چھپانا ہے، جبکہ وہ آپکی contact list میں بھی موجود ہو. واٹس ایپ کی موجودہ اپ ڈیٹ تک ایسا کوئی فیچر یا آپشن متعارف نہیں کرایا گیا تھا کہ آپ ایسے شخص سے اپنا last seen چھپا سکتے ہوں جو آپ کی contact list میں موجود ہو. آپ کو ایسا کرنے کے لئے یا تو اس کا نمبر ڈیلیٹ کرنا پڑتا تھا یا پھر دوسرا آپشن بلاک کی صورت میں دستیاب تھا. مگر اب آپ اپنے موبائل میں محفوظ کردہ نمبرز سے بھی اپنا last seen چھپا سکتے ہیں.

    "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    واٹس ایپ کا یہ فیچر کافی لوگوں کے لئے مددگار ثابت ہو سکتا ہے. بالخصوص ان لوگوں کے لئے جن کو بہت سارے لوگوں کے نمبر اپنے پاس save محفوظ رکھنے ہوتے ہیں.

    انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

  • فیس بُک نے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو خوشخبری سنا دی

    فیس بُک نے صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو خوشخبری سنا دی

    سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے لئے نئی پالیساں جاری کرنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق فیس بک نے صحافیوں اورسماجی کارکنوں کو عوامی شخصیت قرار دیتے ہوئے ان کو ہراسانی سے بچانے کے لیے پالیسیاں مزید سخت کردیں ہیں-

    اس ضمن میں فیس بک کے گلوبل سیفٹی چیف اینٹی گونے ڈیوس نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو ہراسانی اور دھمکیوں سے بچانے کے لیے پالیسیاں سخت کی گئی ہیں جس کے تحت اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ بھی کیا جاسکے گا۔

    فیس بُک کمائی کیلئے پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے سابق مینجر کے تہلکہ خیز انکشاف

    عوامی اعداد و شمار کے قوانین میں اپنی تبدیلیوں کے علاوہ فیس بک نے نوجوان صارفین کو ایپ سے بریک لینے اور نقصان دہ مواد سے دور کرنے کیلئے نئے فیچر متعارف کروانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

    فیس بک انتظامیہ کے مطابق عوامی شخصیت قرار دیئے گئے ریاست مخالفین کو نشانہ بنانے والے نیٹ ورکس کو بھی اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس سے محروم کیا جائے گا-

    جبکہ اس کے برعکس قبل ازیں فیس بک کی ایک سابقہ ملازمہ نے انکشاف کیا تھا کہ ہمیشہ عوامی بھلائی کے بجائے کمپنی کے مفادات کو اہمیت و اولیت دیتا ہے اور کمائی کی خاطر سوشل ویب سائٹ کا الگورتھم ہی اس انداز کا بنایا گیا ہے کہ وہ پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    سروسز متاثر ہونے کے بعد فیس بُک کواسٹاک مارکیٹ میں 50 ارب ڈالر کا نقصان

    یس بک کی سابق ملازمہ فرانسس ہافن نے امریکی ٹی وی چینل ’سی بی ایس‘ کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک کو صارفین کی ذہنی صحت یا فلاح و بہبود سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف اپنی کمائی کو اہمیت دیتا ہے-

    فرانسس ہافن کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فیس بک، تشدد اور نفرت انگیز مواد سمیت غلط معلومات پر مبنی پوسٹس کو ہذف کرتا ہے یا انہیں ہٹا دیتا ہے، تاہم ایسا نہیں ہے فیس بک صرف 5 فیصد تک نفرت انگیز جب کہ ایک فیصد سے بھی کم پرتشدد مواد کو ہٹاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ وہ رواں سال کے آغاز تک فیس بک کی ٹیم کا حصہ تھیں، بعد ازاں وہ ان سے الگ ہوگئیں اور ماضی میں وہ گوگل اور پنٹریسٹ جیسی ویب سائٹس کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں۔

    فیس بک انسٹاگرام اور واٹس ایپ 7 گھنٹوں بعد ، مارک زکر برگ کا کتنا نقصان ہوا؟

    انہوں نے گوگل اور پنٹریسٹ سے فیس بک کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک ان سے زیادہ خطرناک اور پرتشدد مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فیس بک کا الگورتھم اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ مبہم اور غلط معلومات کو فروغ دیتا ہے، تاکہ لوگ کافی دیر تک ویب سائٹ پر چیزوں کو سرچ کرکے حقائق جاننے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسے عمل سے اس کی کمائی بڑھتی ہے۔

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

  • سب میرین کیبل کی مرمت مکمل ، انٹر نیٹ ٹریفک مکمل طور پر بحال

    سب میرین کیبل کی مرمت مکمل ، انٹر نیٹ ٹریفک مکمل طور پر بحال

    اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے انٹرنیٹ صارفین کو خوشخبری سنادی کہا کہ سب میرین کیبل میں خرابی کو مکمل طور پر دور کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :پی ٹی اے کا کہناہےکہ فجیرہ کے مقام پر خراب ہونے والی 40 ٹیرا بائیٹ کی کیبل کی مرمت مکمل کرلی گئی ہے جس کے بعد انٹرنیٹ ٹریفک مکمل طور پر بحال ہوچکا ہے۔


    اس سےقبل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی کی وجہ بننے والی سب میرین کیبل میں خرابی کو دورکردیا گیا ہے۔

    پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ کیبل کی خرابی دور کیے جانے کے بعد انٹرنیٹ سروس مکمل بحال کرنے کے لیے مزید کام کیا جارہا ہے۔


    واضح رہےکہ گزشتہ روز فجیرہ کے مقام پر زیر آب 40 ٹیرا بائیٹ کی ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی سے پاکستان میں انٹرنیٹ کی رفتار سست ہوگئی تھی اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں دوروز سے انٹر نیٹ کی اسپیڈ کم ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی