Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    "سافٹ بلاک” ٹوئٹر کا صارفین کے لئے نیا پرائیویسی فیچر

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹرنے اپنے صارفین کے لیے پرائیوسی فیچر متعارف کرایا ہے-

    باغی ٹی وی : ٹوئٹر انتظامیہ کے مطابق صارفین اپنے کسی فولور سے تنگ ہیں تو وہ بڑے آرام سے اسے اپنے فولورز کی لسٹ سے ہٹا سکیں گے جس کا نوٹیفکیشن بھی اس شخص کو موصول نہیں ہوگا جبکہ لسٹ سے نکالے گئے افراد اپنی ٹائم لائن میں آپ کی ٹوئٹس نہیں دیکھ سکیں گے مگر ان کے پاس ڈائریکٹ میسج کا آپشن ضرور ہوگا۔

    واٹس ایپ،فیسبک، انسٹاگرام ڈاؤن: ٹوئٹر خوش، معروف کمپنیوں کے دلچسپ ٹوئٹس

    کمپنی کے مطابق لسٹ سے ہٹانے والے صارفین کو آگاہ نہیں کیا جائے گا جبکہ وہ دوبارہ اس صورت میں فالو کرسکیں گے اگر آپ نے انہیں بلاک نہیں کیا ہوگا اس فیچر کی آزمائش ایک ماہ سے جاری تھی اور اب اسے متعارف کرایا گیا ہے اس فیچر کو سافٹ بلاک کا نام دیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/TwitterSafety/status/1447630725746987013?s=20
    اس سے پہلے صارفین کے پاس ان فولو کا آپشن نہیں تھا بلکہ انہیں اس کے لیے اس مخصوص شخص کو بلاک کرنا پڑتا تھا۔

    ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    اس فیچر کو استعمال کرنے کا طریقہ:

    اس فیچر کے استعمال کے لیے صارفین کو اپنی پروفائل میں فولورز میں جانا ہوگا اور وہاں تھری ڈاٹ آئیکن پر کلک کرنا ہوگا اور وہاں فالوور کو ہٹانے والے آپشن کا انتخاب کرنا ہوگا فیچر کے تحت ان فولو کرنے والوں کو نوٹیفیکشن نہیں بھیجا جائے گا جس سے اسے یہ پتہ چل سکے کہ وہ لسٹ سے نکالا جا چکا ہے لیکن اگر اسے یہ معلوم ہو جاتا ہے تو وہ دوبارہ فولو کر سکتا ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

  • سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا انٹر ایکٹیوسائنس سینٹر

    کراچی: سائنس کی تعلیم دینے کے لیے ملک کا پہلا سائنس سینٹر داؤد فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیا گیا ہے جسے دی میگنفی سائنس سینٹر کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی ٹی وی "ہم نیوز” کے مطابق تین منزلوں پر مشتمل اس سینٹر کو مختلف سائنسی موضوعات کے لیے وقف کیا گیا ہے جن میں انسانی جسم، آواز، روشنی، فریب نظر، نقل و حمل اور قابل تجدید توانائی سمیت قوت و حرکت جیسے سائنسی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔

    اس سینٹر میں طلبا و طالبات انتہائی دلچسپ طریقے سے نہ صرف انسانی اعضا کے بارے میں جان سکتے ہیں بلکہ عملی طور پر تجربات کرکے بھی دیکھ سکتے ہیں سینٹر کا ہدف سائنسی تصورات اور اصولوں کو بہتر انداز میں سمجھا کر سائنس کو مقبول بنانا اور سینٹر آنے والوں میں تنقیدی سوچ اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت بڑھانا ہے۔

    اس میں تمر یعنی میگروز کے جنگلات کے ماحولیاتی نظام کو بھی سینٹر کا حصہ بنایا گیا ہے صرف یہی نہیں بلکہ مختلف کھیلوں کی سرگرمیاں بھی سینٹر کا حصہ ہیں جن سے صرف بچے ہی محظوظ نہیں ہوں گے بلکہ بڑے بھی اپنا اچھا وقت گزار سکیں گے۔

    میگنفی سائنس سینٹر میں کراچی محلہ بھی بنایا گیا ہے اس محلے میں انتہائی دلچسپی کا پہلو پوشیدہ ہے کھیل کھیل میں کراچی کا عکس دیکھنے کو بھی مل جاتا ہے۔

    طلبہ کو ابتدائی طبی امداد کے حوالے سے آگہی دینے کے لیے ایک ایمبولنس کا ماڈل بھی یہاں رکھا گیا ہے۔ انسانی دل بھی ڈسپلے کیا گیا ہے جس میں برقی آلات کی مدد سے جان ڈالی گئی ہے اس وجہ سے وہاں آنے والوں کو دل دھڑکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔

    ریلوے روڈ پر قائم یہ عمارت رلی برادرز کی تھی جسے 1888 میں قائم کیا گیا تھا۔ برطانوی راج میں یہاں ویئر ہاؤس موجود تھا داؤد فاؤنڈیشن نے 1969 میں یہ عمارت خریدی جسے 1974 میں ایشین کوآپریشن بینک کو منتقل کردیا گیا لیکن داؤد فاؤنڈیشن نے 1976 میں عمارت دوبارہ خرید لی۔

    داؤد فاؤنڈیشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سبرینا داؤد نے یقین ظاہر کیا ہے کہ میگنفی سائنس سینٹر ملک میں سائنس کی تعلیم کو سب تک پہنچانے، اسے بہتر بنانے اور نئی نسل میں سائنس کی جستجو بڑھانے میں معاون و مددگارثابت ہوگا۔

    سائنس سینٹر کی تقریب رونمائی سے قبل ہی اس کے دروازے عوام کے لیے کھول دیے گئے ہیں۔ ابتدائی طور پر سائنس سینٹر میں داخلے کی فیس 8 سو روپے مقرر کی گئی ہے۔

  • انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

    انسٹاگرام میں نئے فیچر کی آزمائش

    معرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک کی ویڈیو اورتصاویر شئیرنگ ایپ انسٹاگرام میں ایک نئے فیچر کی آزمائش کی جا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انسٹاگرام ڈاون ہونے کے بعد صارفین کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،اس لیےیہ فیچر کسی بھی تکنیکی خرابی یا بندش کی صورت میں صارفین کو بروقت مطلع کر سکے گا جس کا اعلان انسٹاگرام کی جانب سے خود کیا گیا۔

    انسٹاگرام کی جانب سے اعلان میں بتایا گیا ہے کہ ایپلیکیشن کی سروس میں خرابی کی بروقت اطلاع دینے کے لئے ایک نیا فیچر آزمایا جارہا ہے یہ فیچر ابتدائی طور پر امریکا میں آزمایا جارہا ہے اور اس کو کچھ ماہ تک جاری رکھا جائے گا۔

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    یاد رہے اس نئے فیچر کو حالیہ دنوں میں دو بار انسٹاگرام کی سروس بند ہونے کے بعد متعارف کرایا جا رہا ہے 4 اکتوبر کو فیس بک میں پیدا ہونے والی تکنیکی خرابی کی وجہ سے انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی سروسزبھی چھ گھنٹے بند رہی تھی۔

    جس کے باعث ساڑھے 3 ارب صارفین ان ویب سائٹس کو استعمال نہیں کر سکے تھے جبکہ کمپنیز کو اربوں کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا تھا۔

    دوسری جانب پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ اسپیڈ مکمل بحال نہ ہوسکی صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا ہے پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والے فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام استعمال کرنے والوں کو کئی روز مسائل کا سامنا ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک کمی آ گئی تھی ٹیلی کام ذرائع کے مطابق 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں دوروز سے انٹر نیٹ کی اسپیڈ کم ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

  • 1500سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی فیکٹری

    1500سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی فیکٹری

    شراب کے بارے میں عام خیال یہ ہے کہ یہ انسانی تہذیب و تمدن کے ابتدائی دور سے موجود ہے تاہم اسرائیل میں 1500 سال پرانی دنیا کی سب سے بڑی شراب کی ایک فیکٹری دریافت ہوئی ہے-

    باغی ٹی وی : اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیل کی نوادرات اتھارٹی کا کہنا ہے کہ شراب کی مذکورہ فیکٹری بازنطینی دور سے اب تک دریافت ہونے والی سب سے بڑی وائنری ہے-

    آثار قدیمہ کے ماہرین نے اسرائیلی لینڈ اتھارٹی کی جانب سے یونے شہر کو ارد گرد کے علاقے میں وسعت دینے کے اقدام کے طور پر 75 ہزار مربع فٹ جگہ کی کھدائی میں دو سال کا وقت لیا۔

    ریسرچ کے مطابق پانی کے ناقص معیار کی وجہ سے 520 عیسوی کے لگ بھگ بازنطینی دور میں بالغوں اور بچوں کے لیے شراب پینا عام تھا۔

    ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر جون سیلگ مین کے مطابق اس مشن کے دوران انہیں دوسری صنعتوں کی باقیات بھی ملی ہیں، جن میں شیشے اور دھات کی فیکٹریاں موجود ہیں پلانٹ میں کئی ہزار ٹکڑے اور مٹی کے جار بھی موجود ہیں جبکہ ان باقیات میں گھر اور دوسری عمارتیں بھی شامل ہیں جو بازنطینی اور اسلامی کے درمیان عبوری دور کی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق یونے میں دریافت کی گئی فیکٹری ہر سال 20 لاکھ لیٹر تک شراب پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جبکہ برطانیہ مجموعی طور پر سالانہ 8 ملین لیٹر سے کم شراب پیدا کرتا ہے-

    اس سے قبل 2017 میں سائنس دانوں کو مشرقی یورپ کے ملک جارجیا سے انہیں 8 ہزار سال قبل کے مٹی کے مرتبان اور ان میں انگور بنائے جانے کے نشانات ملے جن کے بارے میں محققین کی رائے تھی کہ یہ انگور سے شراب بنانے کے قدیم ترین شواہد ہو سکتے ہیں۔

    یہ آثار جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی کے جنوبی علاقوں میں دو مقامات پر ملےتھے ان مرتبانوں میں شراب کی باقیات بھی ملیں جبکہ بعض مرتبانوں پر انگور کے خوشے اور رقص کرتے ہوئے ایک شخص کی تصویر بھی پائی گئی تھی۔

    جارجیا میں ملنے والی ان چیزوں کے بارے میں پروسیڈنگز آف دا نیشنل اکیڈمی آف سائنسز ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی-

    اس سے قبل شراب کے قدیم ترین شواہد ایران سے ملے تھے اور وہاں ملنے والے شراب کے ظروف کی عمر سات ہزار سال بتائی گئی تھی۔

    سنہ 2011 میں آرمینیا کے غاروں میں چھ ہزار سال پرانی شراب کے آثار ملے تھے بغیر انگور کے تیار کی جانے والی دنیا کی قدیم ترین شراب کی باقیات چین سے ملے ہیں اور ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چاول، شہد اور پھلوں سے تیار کی گئی تھی۔

  • سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

    سائنسدانوں نے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا لیا

    مریخ کا ماحول کیسا ہو گا معلوم کرنے کے لئے زمین پر ہی مریخ کا ماحول بنا کر وہاں رہنے اور کام کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس مقصد کے لیے اسرائیل کے صحرائی علاقے نگیف میں مریخ سیارے کا متوقع ماحول تیار کیا گیا ہے۔یہ تجربہ امریکا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریا اور اسرائیل کے ماہرین مل کر کر رہے ہیں اس مقصد کے لیے خصوصی طور پر روور گاڑی بھی تیار کی گئی ہے جو ہر طرح کی سطح پر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

    سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرے والی گاڑی بالکل ویسی ہی بنائی گئی ہے جیسی اس سے قبل مریخ مشن پر بھیجی گئی تھی 2035 کے مریخ مشن میں انسانوں کے ہمراہ تھری ڈی پرنٹر بھی بھیجا جائے گا جبکہ ایک تجربہ گاہ کو اسپیس سینٹر کی صورت میں تیار کیا گیا ہے-

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

    تیار کئے ئے مذکورہ اسپیس سینٹر کے ماحول میں 6 ماہرین جن میں 5 مرد اور 1 خاتون اہلکار خلائی سوٹ پہنے 4 ہفتے گزاریں گے اور مختلف سائنسی تجربات کئے جائیں گے یہ تجربہ آسٹرین اسپیس فورم کے تحت کیا جا رہا ہے-

    رپورٹ کے مطابق مریخ کی سطح پر اب تک کوئی انسان لینڈ نہیں کر سکا تاہم ایسی امید کی جا رہی ہے کہ 2035 تک پہلا انسانی مشن مریخ کی سطح پر اتر کر تجربات کا آغاز کرے گا۔

    آسٹرین سائنس فورم کے مطابق خلابازوں اور خلائی انجنیئرز کی ایک ٹیم آسٹریا میں کنٹرول روم سے حالات پر مکمل نظر رکھے گی 6 خلابازوں کی آئسولیشن 31 اکتوبر کو ختم ہو گی۔

    4 ہفتے کے دوران یہ خلاباز تازہ خوراک استعمال کر پائیں گے نا ہی عام زندگی میں حاصل سہولتوں سے فائدہ اٹھائیں گے تجربہ گاہ سے باہر آنے کی صورت میں خلائی سوٹ پہننا بھی لازم ہو گا صرف جسمانی ہی نہیں دماغی اور جذباتی صحت پر بھی اکیلے پن اور مشکل ترین حالات کے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    اس سے قبل سا ئنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائسندانوں کا کہنا تھا کہ اب وہ نظام شمسی سے آگے ہیسیان کی دنیا میں پہنچ چکے ہیں جن میں زندگی کے آثار ہو سکتے ہیں جن کا پتہ دو سے تین سال کے اندر لگایا جا سکتا ہے۔

    یونیورسٹی آف کیمبرج کے ماہرین فلکیات نے امکان کا اظہار کیا ہے کہ زمین سے دو گنا بڑا ’منی نیچیون‘ نامی سیارہ رہائش کے قابل ہو سکتا ہے ہائسیان نامی خلائی نظام میں ایسے سیارے موجود ہیں جن میں سمندر ہیں اور ان کے اندرونی حصوں میں ہائیڈروجن بھی موجود ہے جو انسانی زندگی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    ہائسن ہمارے نظامی شمسی سے دور ایک ایسا نظام ہے جہاں دنیا کے موافق سیارے موجود ہیں ان میں پتھریلی چٹانے اور وسیع میدان ہے سائنسدانوں نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ سیارے انسانی رہائش کے قابل ہیں یہ سیارے توانائی حاصل کرنے کے لیےسورج جیسے بڑے ستاروں کے گرد گھومتے ہیں۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ سروس متاثر، بحال ہونے میں کتنا وقت لگے گا؟

    پاکستان بھر میں دوسرے روز بھی انٹر نیٹ اسپیڈ مکمل بحال نہ ہوسکی صارفین کو شدید پریشانی کا سامنا-

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ایشیا اور یورپ میں ڈبل اے ای ون کیبل میں 18گھنٹے بعدبھی فالٹ دورنہ کیاجاسکا ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس کی فراہمی دوسرے روز بھی متاثر ہے۔

    متحدہ عرب امارات کے قریب انٹرنیٹ کیبل خراب ہونے سے انٹرنیٹ کی رفتار سست ہے، ڈیٹا ٹریفک کو کم صلاحیت والی کیبلز میں منتقل کیا جانے لگا۔

    پی ٹی سی ایل حکام کا کہنا ہے کہ فالٹ دور کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں،یو اے ای میں ہمارے پارٹنرزفالٹ دورکررہے ہیں۔

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    ترجمان پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے مطابق فالٹ والی کیبلز کی نشاندہی کرلی گئی ہے، جلد فالٹ دور کردیا جائے گا۔

    تاہم ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا کہ انٹرنیٹ سروسز کب تک بحال ہوں گی۔ اتھارٹی کے مطابق زیر آب کیبلز میں خرابی کو دور کرنے کے لیے کام جاری ہے تاہم اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

    پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کیلئے بری خبرہے کہ، فیس بک، یوٹیوب، انسٹاگرام استعمال کرنے والوں کو کئی روز مسائل کا سامنا ہو گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کے باعث انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک کمی آ گئی تھی۔

    موبائل چارجنگ پر لگاتے ہوئے خاتون کے کپڑوں کو آگ لگ گئی،حالت تشویشناک

    ٹیلی کام ذرائع کے مطابق 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں دوروز سے انٹر نیٹ کی اسپیڈ کم ہونے کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    خود کو وزیراعظم ہاؤس کا سکیشن آفیسر ظاہر کرکے لوگوں کو لوٹنے والا جعلساز گرفتار

  • انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    انٹرنیٹ کی رفتار اچانک سست ہونے کی وجہ سامنے آ گئی

    اسلام آباد: انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک آنے والی کمی آگئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق انٹرنیٹ کی رفتار میں اچانک آنے والی کمی کی بنیادی وجہ 25 ہزارکلومیٹر طویل ایشیا یورپ ڈبل اے ای ون کیبل میں خرابی کا آنا ہے۔

    ٹیلی کام کے ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ 40 ٹیرا بائیٹ کا اہم ترین کیبل فجیرا کے قریب خراب ہوگیا جس کے باعث پاکستان میں انٹرنیٹ اسپیڈ سست ہو گئی ہے۔

    اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ ڈیٹا ٹریفک کی دیگر کم گنجائش والے کیبلز پر منتقلی کی جارہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 40 ٹیرابائیٹ کیبل کی مرمت میں کئی دن بھی لگ سکتے ہیں-

  • امریکی بحریہ کا انجینئیر جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار

    امریکی بحریہ کا انجینئیر جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار

    ورجینیا: امریکی بحریہ کے انجینیئر کو جوہری معلومات فروخت کرنے پر اہلیہ سمیت گرفتار کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : امریکی میڈیا کے مطابق امریکا میں جوہری آبدوزوں سے متعلق اہم اور خفیہ معلومات چوری کرکے بھاری داموں فروخت کرنے والے نیوکلیئر انجینیئر کو اہلیہ سمیت گرفتار کرکے جرم عائد کردی گئی۔

    امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ریاست ورجینیا میں کارروائی کرتے ہوئے جوہری معلومات کی غیر قانونی فروخت اور جاسوسی کے الزام میں امریکی بحریہ کے نیوکلیئر انجینیئر 42 سالہ جوناتھن  ٹوبے اور اہلیہ 45 سالہ ڈیانا کو ہفتے کے روز گرفتار کیا تھا تاہم اب فرد جرم بھی عائد کردی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ میں بطور نیوکلیئر انجینئر فرائض انجام دینے والے جوناتھن اپنی اہلیہ کے ہمراہ جوہری آبدوزوں سے متعلق معلومات کو بھاری داموں میں فروخت کرنے کی اطلاع پر ملزمان کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کے لیے ایف بی آئی ایجنٹ کو خریدار کے روپ میں بھیجا گیا تھا۔

    امریکی وزارت انصاف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ایف بی آئی کے انڈر کور ایجنٹ کو غیرملکی حکومت کا اہلکار سمجھ کر جوہری آبدوزوں کی جاسوسی کرکے اہم اور خفیہ معلومات ایک لاکھ ڈالر میں فروخت کیں جوڑے پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے اور انہیں منگل کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

    تاہم وزارت انصاف کے بیان میں یہ نہیں بتایا کہ ملزم جوڑا ایف بی آئی اے کے انڈر کور ایجنٹ کو کس ملک کا اہلکار سمجھ کر جوہری معلومات فروخت کرتے رہے۔

    ادھر” دی گارجئین” نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ایک امریکی نیوی نیوکلیئر انجینئر پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ فوجی رازوں تک رسائی رکھتا ہے ، اس پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ امریکی ایٹمی طاقت سے چلنے والی آبدوزوں کے ڈیزائن کے بارے میں معلومات کسی ایسے شخص کو منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جسے وہ غیر ملکی حکومت کا نمائندہ سمجھتا تھا-لیکن جو ایف بی آئی کا خفیہ ایجنٹ نکلا۔

    جاسوسی سے متعلق الزامات کی تفصیل سے متعلق ایک مجرمانہ شکایت میں ، امریکی محکمہ انصاف (ڈی او جے) نے کہا کہ جوناتھن ٹوبے نے تقریبا ایک سال تک ایک ایسے رابطے کو معلومات فروخت کیں جن کے خیال میں وہ غیر ملکی طاقت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ عدالتی دستاویزات میں اس ملک کا نام نہیں تھا۔

    ڈی او جے کے مطابق ، 42 سالہ ٹوبے کو ہفتہ کے روز مغربی ورجینیا میں اپنی 45 سالہ بیوی ڈیانا ٹوبے کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا ، جب اس نے ریاست میں پہلے سے ترتیب دی گئی "ڈیڈ ڈراپ” پر ہٹنے والا میموری کارڈ رکھا تھا۔ ٹوبے اناپولیس ، میری لینڈ سے ہیں۔

    یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ آیا ٹوبے کے پاس کوئی وکیل ہے جو ان کی طرف سے بات کر سکتا ہے۔ بحریہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم اپریل 2020 میں شروع ہوئی جب جوناتھن ٹوبے نے بحریہ کے دستاویزات کا ایک پیکیج ایک غیر ملکی حکومت کو بھیجا اور کہا کہ وہ آپریشن کے دستور ، کارکردگی کی رپورٹ اور دیگر حساس معلومات فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس نے اس ڈیل کو آگے بڑھانے کے لیے ہدایات بھی فراہم کیں ، جس میں کہا گیا تھا: "میں آپ کی زبان میں اس ناقص ترجمے کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ براہ کرم یہ خط اپنی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کو بھیجیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ معلومات آپ کی قوم کے لیے بہت اہم ہوں گی۔ یہ دھوکہ نہیں ہے۔

    پچھلے دسمبر میں بیرونی ملک میں ایف بی آئی کے دفتر نے پیکیج حاصل کیا ، جس میں پٹسبرگ کا واپسی پتہ تھا اس کی وجہ سے ایک مہینے طویل خفیہ آپریشن ہوا جس میں ایک ایجنٹ نے غیر ملکی حکومت کے نمائندے کے طور پر پیش کرتے ہوئے ٹوبے کی پیش کردہ معلومات کے لیے ہزاروں ڈالر کرپٹو کرنسی کی ادائیگی کی پیشکش کی۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جون میں خفیہ ایجنٹ نے 10 ہزار ڈالر کرپٹوکرنسی میں بھیجے تھے ، اسے نیک نیتی اور اعتماد کی علامت قرار دیا۔

    اگلے ہفتے ، ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے دیکھا کہ ٹوبے مغربی ورجینیا میں ایک متفقہ مقام پر تبادلے کے لیے پہنچے ، ڈیانا ٹوبے ڈیڈ ڈراپ آپریشن کے دوران اپنے شوہر کی تلاش میں نظر آئیں۔

    شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آئی نے پلاسٹک میں لپٹا ہوا ایک نیلے رنگ کا ایس ڈی کارڈ برآمد کیا اور مونگ پھلی کے مکھن کے سینڈوچ پر روٹی کے دو ٹکڑوں کے درمیان رکھا۔

    محکمہ انصاف نے کہا کہ ایف بی آئی نے ٹوبے کو 20 ہزار ڈالر کی ادائیگی کی اور ایس ڈی کارڈ کا مواد بحریہ کے موضوع کے ماہر کو فراہم کیا ، جس نے طے کیا کہ ریکارڈ میں ورجینیا کلاس آبدوز ری ایکٹرز کے ڈیزائن عناصر اور کارکردگی کی خصوصیات شامل ہیں۔

    شکایت کے مطابق وہ آبدوزیں جدید اور ایٹمی طاقت سے چلنے والی ’کروز میزائل فاسٹ اٹیک آبدوزیں‘ ہیں۔

    ایس ڈی کارڈ میں ایک ٹائپ شدہ پیغام بھی شامل تھا جس میں کہا گیا تھا ، "مجھے امید ہے کہ آپ کے ماہرین فراہم کردہ نمونے سے بہت خوش ہوں گے اور میں اپنے اعتماد کو بڑھانے کے لیے چھوٹے تبادلے کی اہمیت کو سمجھتا ہوں۔”

    ایف بی آئی نے اگلے کئی مہینوں میں اسی طرح کا ڈیڈ ڈراپ ایکسچینج کیا ، بشمول اگست میں ورجینیا میں جس میں ٹوبے کو 70،000 ڈالر ادا کیے گئے تھے اور ایک چیونگم پیکج میں ایس ڈی کارڈ چھپایا گیا تھا۔

    شکایت میں ایٹمی توانائی ایکٹ کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے ، جو ایٹمی ہتھیاروں یا جوہری مواد سے متعلق معلومات کے انکشاف کو محدود کرتا ہے۔

    توقع کی جاتی ہے کہ ٹوبے منگل کے روز مغربی ورجینیا کے مارٹن برگ میں اپنی ابتدائی عدالت میں پیش ہوں گے۔

    ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ جوناتھن ٹوبے نے 2012 سے امریکی حکومت کے لیے کام کیا ہے ، جو ایک انتہائی خفیہ سیکیورٹی کلیئرنس رکھتا ہے اور بحری ایٹمی پروپیلن میں مہارت رکھتا ہے۔ انہیں پٹسبرگ کے علاقے میں ایک لیبارٹری بھی تفویض کی گئی ہے جس کے بارے میں حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے لیے جوہری توانائی پر کام کرتا ہے۔

  • سوشل میڈیا اور اسکا  استعمال: تحریر نعمان سرور 

    سوشل میڈیا اور اسکا  استعمال: تحریر نعمان سرور 

    آج کے ڈیجیٹل دور میں ہر گھر میں انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے ہر دوسرا بندہ سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ  اٹھا کر دیکھ لیں آج تک میڈیا کو ایسی آزادی نہیں ملی جو موجودہ دور میں ہے۔ ہر شخص سمجتا ہے کہ وہ آزاد ہے اپنی بات دنیا کے سامنے رکھ سکتا ہے۔”آزادی رائے” کے نام پر جس کا جو دل چاہتا ہے وہ کہتا ہے۔

    بزرگوں اور استادوں سے سنتے آئے ہیں کہ الفاظ ہماری شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ آپ کے بولنے سے آپ کی شخصیت تربیت اور اخلاق کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ بات سولہ آنے سچ ہے۔

    سوشل میڈیا کا استعمال چھوٹا ہو یا بڑا خواتین ہو یا مرد ہر کوئی کر رہا ہوتا ہے یہ ایک ایسی لت کہہ لیں پڑ جاۓ تو اس سے پیچھا چھڑانا بہت مشکل ہے۔ اسکے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ اگر آپ اسکا درست استعمال کرتے ہیں تو یہ آپ کی سوچ میں وسعت پیدا کرتا ہے آپ کی شخصیت کو مزید اُبھارتا ہے-

    مگر بد قسمتی سے ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ٹیکنالوجی کا مثبت کم ہاں مگر منفی استعمال زور و شور سے کیا جاتا ہے دیکھا جاۓ تو اس منفی استعمال سے ہمارا مذہبی، معاشرتی اخلاقی اور خاندانی نظام  کھوکھلا ہو کر رہ گیا ہے رہی سہی کسر ہمارے میڈیا نے پوری کر دی ہے.

    سوشل میڈیا پر مجھے  بہت حیرت ہوتی ہے چھوٹے بچوں کو دانشور بنے دیکھ کر جس عمر میں ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے ہمارے بچے موبائل ہاتھ میں لے فلسفہ جھاڑ رہے ہوتے ہیں لوگوں کی کردار کشی ٹرولنگ کرنے میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دیتے ہیں اس کام میں اگر میں کہوں کہ بس ہمارے لڑکے شامل ہیں تو غلط ہو گا لڑکیاں بھی پیچھے نہیں ہمارا معاشرہ دن بدن اخلاقی پستی کی طرف جا رہا ہے اور ہماری نوجوان نسل وہ تو اخلاقیات سے عاری ہوتی جا رہی ہے ۔ یہ ہم سب کے لئے  انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔

    اظہار رائے کے لئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انتہائی موثر ذریعہ ہے ایک عام آدمی اپنی بات دنیا کے ہر کونے میں باآسانی پہنچا سکتا ہے مگر آج ہمارے بچوں کے پاس شاہد دلیل کی شدید کمی ہے اسی لئے گالم گلوج کو ترجیح دیتے ہیں  تاکہ اکثریت کو اپنی بات کے لیے قائل کر سکیں۔

    سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ سیٹ ہے ہر سیاسی جماعت نے  نوجوانوں کو اپنے فائدے کے لئے رکھا ہوا ہے اور  منافقت کا  یہ عالم ہے کہ ہر شخص اپنی سیاسی جماعت کی برائی کو پس پشت ڈال کر دوسری جماعتوں کی خرابیوں کو ڈسکس کرتا رہتا ہے یا یہ کہہ لیں آجکل کا  نوجوان نام نہاد حکمرانوں کی شخصیت پرستی میں اتنا مگن ہو گیا ہے کہ یہ تک بھول چکا ہے کہ اللّٰہ نے اسے بھی ایک شخصیت دی ہے جس میں ایک سوچنے والا دماغ ہے جو تفکر و تدبر اور عقل و شعور کی صلاحیت رکھتا ہے۔ان مسلط شخصیات نے نوجوانوں کی تنظیمی طاقت سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے اُنہیں ایک دوسرے کے مقابلے لا کھڑا کیا ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا انکا مشن بنا دیا ہے ان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میڈیا سیل کے تابع کر کے نوجوان کی اپنی شخصیت تباہ کر دی ہے حقیقت تو یہ ہے کہ اس ملک کا نوجوان ان لٹیروں اور مافیاز سے کہیں زیادہ عزت والا ہے۔

    ہر چیز کے نقصانات  کے ساتھ اسکے فائدے بھی ہوتے ہیں اگر ہمیں اس بات کا شعور ہو جاۓ تو معاشرے میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کسی ایشو کو موثر انداز میں سوشل میڈیا پر اٹھایا جاۓ تو انتظامیہ اس پر ضرور نوٹس لیتی ہے اس پر ایکشن لیا جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے سوشل میڈیا کا درست سمت میں استعمال کیا جائے اس میں کوئی شک نہیں یہ بہت بڑی طاقت ہے. مگر اس کا چیک اینڈ بیلنس ہونا بھی بے حد ضروری ہے اسکا استعمال کریں بھر پور کریں مگر اپنے بچوں کو مانیٹر کریں اسے اچھے مقاصد کے لیے استعمال کریں. لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں اور مشکلات میں ان کا ساتھ دیں اور اس بات کا خیال رکھیں کے آپ کا وقت سوشل میڈیا پر وطن عزیز کے دفاع میں ہو آجکل ہمارے ملک کے خلاف کئی ممالک محاذ کھول چکے ہیں ایسے میں ہماری زمہ داری بحثیت شہری اور بڑھ جاتی ہے کے ہم اپنے وطن کا دفاع کریں اور اس کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ بنیں سچے پاکستانی بنیں اور ایک ایسے معاشرے کو تشکیل دیں جو سب کے لئے راحت اور سکون میسر کرے یقین جانیں یہ صدقہ جاریہ ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔

    ٹوئٹر اکاونٹ @Nomysahir

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    ٹویٹر اکاؤنٹ کی تصدیق کیسے کروائیں، تحریر:ام سلمیٰ

    اگر آپ ٹوئٹر استعمال کرتے ہیں اور بہت ہی فعل رہتے ہیں تو یقیناً آپ نے سنا ہوگا ایک بار پھر ٹوئٹر نے ایک اور وقفے کے بعد اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کا عمل دوبارہ کھول دیا۔
    اس خبر سے بہت سے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیوں بہت سے لوگ جو بہت زیادہ فعل رہتے ہیں سوشل میڈیا پے خاص طور پر ٹوئٹر پر انکے لیے یہ خبر بہت بڑی خوش خبری تھی.اب سب سے پہلے جاننا یہ ہے کے ٹوئٹر جن کٹیگری میں تصدیق کے لیے آپ کی درخواست قبول کر سکتا ہے کیا آپ اس میں فٹ ہوتے ہیں؟

    کیوں کے اگر آپ ان کٹیگریز میں پورے نہں اُتر رہے تو یہ خبر آپ کے لیے نہں اور اگر آپ درج ذیل کٹیگری میں پورے اُتر رہے ہیں تو آپ کو اسکا پورا طریقے کار جاننے کی ضرورت ہے.سب سے پہلے آپ ٹوئٹر کی تصدیق کے عمل کی کٹیگری دیکھیں.

    ٹویٹر نے اپنے اکاؤنٹ کی تصدیق کے عمل کو دوبارہ شروع کیا ہے ، کمپنی نے اپنے ٹویٹر تصدیق شدہ اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے کہا ، جہاں وہ سسٹم کی حیثیت کے بارے میں اپ ڈیٹس شائع کرتی ہے اب نئے سرے سے تصدیق شدہ پروگرام شروع کرنے کے بعد سے ، ٹوئٹر نے چند اور کٹیگریز کو شامل کیا ہے اس عمل کو دوبارہ شروع کرنے پر کچھ مسائل بھی ائے ٹوئٹر کو جس کی وجہ سے اسے ایک سے زیادہ بار تصدیقیں بند کرنا پڑی ہیں۔ ان وقفوں کا اعلان 2 سے 3 بار کیا گیا تاکہ اس تصدیق کے عمل کو مزید شفاف کیا جائے.اور ٹوئٹر کی کمپنی نے کہا کہ اسے درخواست اور جائزہ لینے کے عمل دونوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔

    ٹویٹر برسوں سے اکاؤنٹ کی تصدیق کے عمل کی شفاف کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ ہر کوئی مطلوبہ بلیو بیج چاہتا تھا جو پہلے عوامی شخصیات اور اعلی عوامی مفادات کے دوسرے اکاؤنٹس کو دیا گیا تھا جنہوں نے تصدیق کی ہے کہ وہ وہی ہیں جو وہ کہتے ہیں کہ وہ ہیں – جیسے سرکاری افسر ، صحافی ، مشہور شخص ، برانڈ یا کاروبار ، یا کوئی اور قابل ذکر نام۔

    لیکن جب کہ اصل نظام کا مقصد صرف اکاؤنٹ کی صداقت کو بتانا تھا ، بہت سے لوگوں نے ٹویٹر کی توثیق کرنے والے بیج ہولڈرز کو کسی نہ کسی درجے کی اعلی حیثیت کے طور پر دیکھا۔ یہ مسئلہ اس وقت سر پر آیا جب 2017 میں ٹویٹر نے دریافت کیا کہ جیسن کیلر سے تعلق رکھنے والے اکاؤنٹ کی تصدیق کی گئی ہے ، اس شخص نے جس نے ورجینیا کے شارلٹس ویل میں سفید فام بالادست ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد ، ٹویٹر نے سرکاری طور پر تصدیق روک دی ، لیکن کچھ لوگوں کی خاموشی سے تصدیق جاری رکھی جن میں عوامی عہدے کے لیے امیدوار ، منتخب عوامی عہدیدار ، صحافی اور دیگر شامل ہیں۔

    آخر کار ، کمپنی نے مئی 2021 میں سسٹم کو دوبارہ شروع کیا ، یہ کہتے ہوئے کہ اسے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے تاکہ اس کو مزید شفاف بنایا جائے اور اب اس کے لیے ایک الگ ٹیم ہوگی جو اس پورے عمل کو دیکھے گی۔ اس کے لیے نئے قوانین بھی جاری کیے جن میں واضح طور پر لکھا گیا کہ کون تصدیق کی درخواست کر سکتا ہے اور کون نہیں۔ لیکن تصدیق کی مانگ اتنی زیادہ تھی کہ ٹوئٹر کو اس کے لانچ ہونے کے صرف 8 دن بعد تصدیق کو عارضی طور پر روکنا پڑا تاکہ ٹیم درخواستوں کی تعداد کو پکڑ سکے۔

    اِس تصدیق کے عمل میں آپ کے لیے آسان کٹیگری ہوسکتی ہے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کی اور فری لانس کی کیٹیگری بھی آپ اس کی تفصیلات چیک کریں اگر آپ فری لانس کوئی کام کر رہے ہیں جیسے بلاگر ہیں آپ میک اپ کے فیشن کے اور اگر آپ لکھتے ہیں فری لانس تو آپ کے لیے آسانی ہے کے آپ اس کیٹیگری میں تصدیق کے عمل کے لیے کوشش کر سکتے ہیں اگر آپ لکھاری ہیں اور کسی ادارے کے ساتھ جُڑے ہیں تو آپ آسانی سے تصدیق کے عمل کے کے درخواست دے سکتے ہیں اور اگر آپ نئے لکھاری ہیں اور ابھی سیکھنے کے مرا حل میں ہیں تو آپ کو پاکستان میں کچھ ویب سائٹ مدد کر سکتی ہیں آپ کے تحریروں کو شائع کرنے میں اس وقت کچھ ویب سائٹ جو کے میں یہاں آپکو آپکی تحریر جو شائع کرنے میں مدد کر سکتی ہیں ان میں سرے فہرست باغی ٹی وی ہے اور اسی طرح اردو گلوبلی اور ایشیا نیوز اور بھی کئی اس طرح کی ویبسائٹ نے لکھاریوں کی مدد کر رہی ہیں لکھنے کے عمل کو صرف اپنے کے تصدیق کے عمل میں استعمال کے علاوہ بھی اگر آپ شروع کرتے ہیں تو آپ معاشرے کی اصلاح کے لیے لکھ سکتے ہیں اور دوسرا یہ کے ایک سبب ہوسکتا ہے کسی مسئلہ کو اجاگر کرنے کےلئے سوشل میڈیا پے تفصیل کے ساتھ تو آپ اپنے شوق کو مکمل کرنے کے لئے تصدیق کے عمل میں شامل ہونے کے لئے بھی اس کو شروع کر سکتے ہیں.اُمید کرتی ہوں کافی اچھی معلومات میں نے آپ سے شیئر کی ہیں آپ کے لیے انتہائی فائدے مند ہوسکتی ہیں اگر آپ اپنا اکائونٹ ٹوئٹر سے تصدیق کروانا چاہتے ہیں.
    تحریر
    ام سلمیٰ
    @aworrior888