Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • فاسٹ فوڈز اور ٹریفک حادثات وقوانین کی خلاف ورزی کے درمیان حیران کن تعلق کا انکشاف

    فاسٹ فوڈز اور ٹریفک حادثات وقوانین کی خلاف ورزی کے درمیان حیران کن تعلق کا انکشاف

    لندن: سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں فاسٹ فوڈز اور ٹریفک حادثات اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے درمیان حیران کن تعلق کا انکشاف کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایسٹونیا کی ٹارٹو یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس تحقیق میں ہزاروں لوگوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، جس میں معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ برگر، پیزا اور شوگری مشروبات کے عادی ہوتے ہیں ان میں خطرات مول لینے والے جینز پائے جاتے ہیں-

    ناشتے میں کی جانے والی چند غلطیاں جو نقصان کا باعث بنتی ہیں

    تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے لوگ نہ صرف زیادہ ٹریفک حادثات کا سبب بنتے ہیں بلکہ ٹریفک قوانین کی بھی زیادہ خلاف ورزیاں کرتے ہیں۔

    تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ تونس توکو کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ گاڑی چلاتے ہوئے دوسروں کے لیے مصائب کھڑے کرتے ہیں اور بہت ناگوار گزرنے والے روئیے کے حامل ہوتے ہیں ان کا یہ رویہ صرف گاڑی چلاتے ہوئے ہی نہیں ہوتا بلکہ زندگی کے دیگر معاملات میں بھی یہ لوگ لاپروا اور خطرات مول لینے والے ہوتے ہیں۔

    ایسی غذائیں جو عمر سے پہلے بوڑھا کرتی ہیں

    ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ فاسٹ فوڈز پسند کرتے ہیں ان میں یہ رجحان طبعی طور پر پایا جاتا ہے۔ اس روئیے کے حامل لوگ فاسٹ فوڈز کو زیادہ پسند کیوں کرتے ہیں؟ اس کی وجہ جاننے کے لیے ہمیں مزید تحقیق کی ضرورت ہو گی۔

    روزمرہ زندگی میں کھائی جانے والی غذائیں جو دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہیں

  • فیس بُک کمائی کیلئے پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے     سابق مینجر کے تہلکہ خیز انکشاف

    فیس بُک کمائی کیلئے پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے سابق مینجر کے تہلکہ خیز انکشاف

    فیس بک کی ایک سابقہ ملازمہ نے انکشاف کیا ہے کہ ہمیشہ عوامی بھلائی کے بجائے کمپنی کے مفادات کو اہمیت و اولیت دیتا ہے اور کمائی کی خاطر سوشل ویب سائٹ کا الگورتھم ہی اس انداز کا بنایا گیا ہے کہ وہ پرتشدد اور نفرت انگیز مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    باغی ٹی وی : خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق فیس بک کی سابق ملازمہ فرانسس ہافن نے امریکی ٹی وی چینل ’سی بی ایس‘ کے ٹاک شو میں بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیس بک کو صارفین کی ذہنی صحت یا فلاح و بہبود سے کوئی غرض نہیں، وہ صرف اپنی کمائی کو اہمیت دیتا ہے۔

    سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    فرانسس ہافن کے مطابق بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فیس بک، تشدد اور نفرت انگیز مواد سمیت غلط معلومات پر مبنی پوسٹس کو ہذف کرتا ہے یا انہیں ہٹا دیتا ہے، تاہم ایسا نہیں ہے فیس بک صرف 5 فیصد تک نفرت انگیز جب کہ ایک فیصد سے بھی کم پرتشدد مواد کو ہٹاتا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وہ رواں سال کے آغاز تک فیس بک کی ٹیم کا حصہ تھیں، بعد ازاں وہ ان سے الگ ہوگئیں اور ماضی میں وہ گوگل اور پنٹریسٹ جیسی ویب سائٹس کے ساتھ بھی کام کر چکی ہیں۔

    انہوں نے گوگل اور پنٹریسٹ سے فیس بک کا موازنہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فیس بک ان سے زیادہ خطرناک اور پرتشدد مواد کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ فیس بک کا الگورتھم اس طرح کا بنایا گیا ہے کہ وہ مبہم اور غلط معلومات کو فروغ دیتا ہے، تاکہ لوگ کافی دیر تک ویب سائٹ پر چیزوں کو سرچ کرکے حقائق جاننے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسے عمل سے اس کی کمائی بڑھتی ہے۔

    ‏سوشل میڈیا: یہ ادھوری اور مصنوعی دنیا تحریر جواد خان یوسفزئی

    خبر رساں ادارے "سی این این” کے مطابق 37 سالہ پروڈکٹ منیجر فرانسس ہافن نے اس سے قبل اپنی شناخت ظاہر نہ کرتے ہوئے ادارے کے خلاف امریکہ کے متعلقہ اداروں کے پاس شکایات رجسٹرڈ کرائی تھیں۔

    فرانسس ہافن نے درج کرائی جانے والی شکایات میں دعویٰ کیا تھا کہ فیس بک کی اپنی تحقیقات بتاتی ہیں کہ وہ نفرت انگیز اور غلط معلومات کے پھیلاؤ کا ذریعہ بنتاہے فرانسس رواں ہفتے امریکی کانگریس میں بھی گواہی دیں گی ان کو امید ہے کہ آگے آنے کی وجہ سے حکومت فیس بک کی سرگرمیوں کے لیے لازمی قواعد و ضوابط وضع کرے گی۔

    فیس بک فائلز لیک کرنے والی سابق مینجر فرانسس ہافن نے دوران انٹرویو کہا کہ فیس بک کی جانب سے متعدد مرتبہ کہا گیا کہ وہ منافع کا انتخاب کرتی ہے فیس بک نے قبل از وقت غلط معلومات اور ہنگامہ آرائی کو روکنے کے لیے بنائے گئے حفاظتی انتظامات کو بند کر دیا تھا جس کے بعد جو بائیڈن نے گزشتہ سال ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے دی تھی۔

    فیس بک کی سابقہ پروڈکٹ منیجر کا کہنا تھا کہ 6 جنوری کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے کو معاونت ملی تھی۔

    امریکی انتخابات کے بعد ان کی سابقہ کمپنی نے شہری سالمیت پر بنایا گیا یونٹ تحلیل کر دیا تھا۔ وہ اسی یونٹ میں کام کرتی تھیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسی وقت انہیں یہ احساس ہو گیا تھا کہ فیس بک اس مقصد کے لیے درکار سرمایہ فراہم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

    امریکی میڈیا کے مطابق فرانسس ہیگن کا انٹرویو نشر ہونے کے بعد فیس بک کے ملازم نے تمام ترالزامات کو گمراہ کن اور بے بنیاد بھی قرار دیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق فیس بک کی اندرونی تحقیقات کے ہزاروں صفحات کو کاپی کرنے کے بعد فرانسس نے انہیں وال اسٹریٹ جرنل میں لیک کیا جنہیں فیس بک فائلز کا نام دیا گیا ہے۔

    آج کے نوجوانوں کا سوشل میڈیا کا استعمال تحریر: تیمور خان 

    فرانسس کے حوالے سے ٹیکنالوجی ویب سائٹ ’دی ورج‘ نے بتایا کہ وہ ماضی میں فیس بک کی پروڈکٹ منیجر رہی ہیں۔

    انہوں نے مذکورہ انکشافات حال ہی میں فیس بک کی جانب سے اندرونی طور پر اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسا کہ انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے حوالے سے کی جانے والی تحقیقات کے پس منظر میں کیے۔

    فیس بک کی اندرونی طور پر کی جانے والی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ انسٹاگرام نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔

    مذکورہ تحقیق فیس بک کے زیر انتظام اندرونی طور پر 3 سال تک جاری رہی تھی جس میں دریافت کیا گیا تھا کہ انسٹاگرام نوجوان صارفین بالخصوص لڑکیوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

    فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

    اس تحقیق کے نتائج 2019 میں کمپنی کو پیش کیے گئے تھے جن میں دریافت کیا گیا کہ انسٹاگرام استعمال کرنے والی ہر 3 میں سے ایک نوجوان لڑکی کو باڈی امیج ایشو کا سامنا ہوتا ہے۔

    مذکورہ تحقیق کے مطابق نوجوانوں نے یہ بھی بتایا کہ انسٹاگرام کے استعمال سے ان میں ذہنی بے چینی اور ڈپریشن بھی بڑھ جاتا ہے۔

    اسی حوالے سے ہی کی گئی ایک اور تحقیق کے مطابق انسٹاگرام پر معروف شوبز شخصیات جیسا کہ کم کارڈیشین، بلی آئلش، کنڈیل جینر، جسٹن بیبر، ڈانسر چارلی ڈی امیلیو، آریانا گرانڈے اور کاڈیشین خاندان کے دیگر ارکان کو فالو کرنے والے افراد منفی رجحانات کا شکار ہوجاتے ہیں اور وہ خود سے متعلق بھی غلط سوچنے لگتے ہیں۔

    نتائج میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ معروف شخصیات کو فالو کرنے یا ان کا مواد دیکھنے والے صارفین میں کس طرح کے منفی رجحانات پیدا ہوتے ہیں یا وہ خود کو کس اور کیوں دوسروں کے مقابلہ برا محسوس کرتے ہیں؟-

    تاہم نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباًس تمام معروف شوبز و ٹی وی شخصیات کو فالو کرنے والے صارفین کی سوچ منفی ہوجاتی یا ان کے دماغ میں برے خیالات آنے لگتے ہیں۔

    دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

  • سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    سروس میں بندش پر واٹس کا وضاحتی بیان جاری

    واٹس ایپ نے بندش سے متعلق وضاحتی بیان جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ لوگوں کی واٹس ایپ کے استعمال میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ ہم تمام معاملات کو معمول پر لانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔


    واٹس ایپ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے صارفین کو جلد اس بارے میں اپ ڈیٹ کریں گے۔

    واضح رہے کہ دنیا بھر میں واٹس ایپ سمیت فیس بک اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر ہیں لوگوں کو مذکورہ ایپس کے استعمال مشکلات کا سامنا ہے۔ڈاؤن ڈیکٹر کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے لوگوں نے سوشل میڈیا ایپس کی بندش کی شکایات درج کرائی ہیں۔

    دنیا بھر میں فیس بک کمپنی کی سروسز متاثر ہوئیں تو اکثر پاکستانیوں نے سمجھا کہ شاید پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ کنکشن میں مسئلہ آگیا ہے۔

    فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہوئیں تو پہلے تو بعض صارفین کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے۔ پی ٹی سی ایل کے صارفین نے اپنے راؤٹرز ری سٹارٹ کرنا شروع کردیے لیکن جب معلوم کہ اس بار قصور پی ٹی سی ایل کا نہیں بلکہ فیس بک کا ہے تو ٹوئٹر پر میمز کا طوفان برپا ہو گیا۔

  • دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز متاثر،صارفین کو مشکلات کا سامنا

    دنیا بھر میں فیس بک کمپنی کی سروسز متاثر ہوئیں تو اکثر پاکستانیوں نے سمجھا کہ شاید پی ٹی سی ایل کے انٹرنیٹ کنکشن میں مسئلہ آگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک۔ واٹس ایپ اور انسٹاگرام ڈاؤن ہو گئی ذرائع کے مطابق صارفین کو تینوں ایپس اور ویب سائٹس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    ڈاؤن ڈیکٹر کے مطابق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے لوگوں نے سوشل میڈیا ایپس کی بندش کی شکایات درج کرائی ہیں۔

    دوسری جانب دنیا بھر میں فیس بک ، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ٹوئٹر کا رخ کیا ہے جہاں ان تینوں کے ناموں کے علاوہ پی ٹی سی ایل بھی ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ہے۔

    فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی سروسز ڈاؤن ہوئیں تو پہلے تو بعض صارفین کو سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا ہوا ہے پی ٹی سی ایل کے صارفین نے اپنے راؤٹرز ری سٹارٹ کرنا شروع کردیئے لیکن جب انہیں معلوم ہوا کہ اس بار قصور پی ٹی سی ایل کا نہیں بلکہ فیس بک کا ہے تو ٹوئٹر پر میمز کا ایک طوفان برپا ہو گیا-
    https://twitter.com/_munazahmed/status/1445071796319842306?s=20
    https://twitter.com/itishammad/status/1445067710916874250?s=20


    https://twitter.com/awaisahmar/status/1445071318727081986?s=20


    https://twitter.com/MulukFhm/status/1445074497833512966?s=20

  • آج کے نوجوانوں کا سوشل میڈیا کا استعمال   تحریر: تیمور خان 

    آج کے نوجوانوں کا سوشل میڈیا کا استعمال تحریر: تیمور خان 

     انسان اپنی تمام ضروریات کو خود پورا نہیں کر سکتا۔  اسے اپنی خواہشات ، اپنی ضروریات اور اپنا موضوع دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے۔  ترسیل کے اس عمل کو "مواصلات” کہا جاتا ہے۔

     سوشل میڈیا کا مقصد لوگوں کے درمیان مختلف ذرائع سے رابطہ قائم کرنا ہے۔  جس کے مزاج ، خیالات ، ثقافت اور آج کے معاشرے کے حالات زندگی پر بہت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔  اس کا بہاؤ بہت وسیع اور لامحدود ہے۔  معاشرے میں ہر ایک کو سوشل میڈیا کے ذریعے اظہار رائے اور اظہار رائے کی آزادی کے زیادہ سے زیادہ مواقع مل رہے ہیں۔  آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔  یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا آزاد نہ ہو وہاں صحت مند جمہوریت کی تعمیر ممکن نہیں۔  سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر کسی مہذب معاشرے کا تصور کرنا ناممکن ہے۔  اگر ٹیکنالوجی کو ضرورت کے مطابق مثبت انداز میں استعمال کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں کسی نعمت سے کم نہیں۔  موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ٹول کے طور پر ابھرا ہے جس نے معاشرے پر دیرپا تاثر چھوڑا ہے۔  سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔  12 سے 35 سال کی عمر کے لوگوں کے سوشل میڈیا کے استعمال میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔  وہ نوجوان جنہوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو استعمال کرنا سیکھا ہے وہ بڑے مالی اور سماجی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔  سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و خواتین نے لاکھوں روپے کمائے اور روزگار کا ذریعہ تلاش کیا۔  ہر گزرتے دن کے ساتھ ، فری لانسرز اور سوشل میڈیا پر اثر انداز کرنے والے اس کے معاشی فوائد کو تلاش کر رہے ہیں۔

     پچھلے کئی سالوں سے ، پاکستان سوشل میڈیا کے بے مثال استعمال کا مشاہدہ کر رہا ہے ، اور نوجوان تیزی سے استعمال کر رہے ہیں اور اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔  یہ بات قابل ذکر ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ انتہا پسندانہ رویوں کا آسانی سے شکار ہو جاتا ہے اور تعمیری سرگرمیوں سے ہٹ جاتا ہے۔  آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز ، یعنی سوشل میڈیا کے گمنام استعمال کرنے والے یا اپنی اصلی شناخت چھپانے والے ، جن کا مقصد جھوٹ یا طنز کی آمیزش کی آڑ میں الجھن پھیلانا ہے ، بہت سرگرم ہیں۔  ہم سب اس سنگین صورتحال سے واقف ہیں ، لیکن عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی موجود نہیں ہے۔  شاید اس سلسلے میں سب سے مناسب تجویز یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔  تاکہ وہ اپنے بچوں اور طلباء کی تربیت کرتے ہوئے اس اہم اور  بڑی حد تک نظر انداز کیے گئے مسئلے پر مناسب توجہ دے سکیں۔  اس سلسلے میں ، والدین کی پہلی اور اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے  عمر میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون تک رسائی دیں، یا تو وہ بلوغت کے دور سے گزریں مطلب اچھے برے چیز کی تمیز پر سمجھ سکیں  رسائی سے پہلے اور دوران مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی بہت اہم ہے۔

     اگر ہم سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر ایک نظر ڈالیں تو اس نے نوجوانوں کو خطرناک حد تک گمراہ کیا ہے۔  نوجوان فحاشی اور عریانی کے جال میں چھلانگ لگاتے ہوئے اپنے مستقبل کو داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔  اس کے ساتھ ساتھ دشمن نوجوانوں کے ذہنوں میں اپنی برائی پھیلا رہے ہیں۔  ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جسے آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ تو عرض اور تحریر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے بچوں پر گہری نظر رکھنی چاہئے خوصوص بلخصوص نوجوانوں کو چاہئیے کہ وہ سوشل میڈیا کو اپنے صحیح ضرورت دینی اور دنیاوی تعلیم کے لئے استعمال کریں تاکہ وہ اس سے مستفید ہو سکیں، اور آج ہمیں سوشل میڈیا پر ان ویبسائٹ اور اکاوئنٹس کا بائکاٹ کرنا چاہیے جو معاشرے میں فحاشی پھیلانے کا ایک ذریعہ ہے، اللہ تبارک وتعالی ہمیں نیک کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

    @ImTaimurKhan

  • ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی :11 ہزار سال پرانے تھری ڈی مجسمے دریافت

    ترکی میں کھدائی کے دوران 11ہزار سال پرانے انسانی اجسام اور سروں کے نقش ونگار ملے ہیں جن میں سے بعض تھری ڈی مجمسے ہیں۔

    با غی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے اس دور کے انسانوں کی فنکارانہ صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کھدائی کی جگہ سے 250 سے زائد پتھروں پر نقش و نگاری کے نمونے ملے ہیں۔پتھروں پر جانوروں کے اجسام کی نقوش بنائے گئے ہیں ساتھ ہی انسانی مجسمے بھی ملے ہیں۔

    یہ دریافت ترکی کے جنوب مشرقی صوبے کے علاقےکرہانٹائپ میں کی گئی ہے اس علاقے کو ‘ٹا ٹیپیلر’ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جس کا مطلب پتھر کی پہاڑی ہے ، جو 124 میل (200 کلومیٹر) کے رقبے پر محیط ہے۔

    میکسیکو کے ہد ہد سمیت جانوروں کی 23 اقسام دنیا سے ناپید

    یہ علاقہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ والی جگہ گوبکلی ٹیپے کےساتھ ہے گوبکلی ٹیپے 10 ویں صدی قبل مسیح سے متعلق میگالیتھک ڈھانچے کا گھر ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دنیا کا قدیم ترین مندر ہے۔

    اس جگہ پر کھدائی کا کام سب سے پہلے 2019 میں شروع ہوا اور اس کے نتیجے میں 75 فٹ قطر والی عمارت کی دریافت بھی ہوئی عمارت میں ایک بڑا بیڈروک بھی تراشا گیا ہے اور اس کی گہرائی 18 فٹ تک ہے ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت سے لوگوں کی مدد سے بنایا گیا تھا۔

    کھدائی کے سربراہ پروفیسر نیکمی کرول نے بتایا ہے کہ ملنے والی نوادرات قدیم گوبکلی ٹیپے سائٹ سے دریافت ہونے والی چیزوں سے ملتی جلتی ہیں جو اسٹون ہینج سے 6000 سال قبل تاریخی لوگوں نے تعمیر کی تھیں۔

    18 ہزار سال قبل انسان مرغیاں نہیں بلکہ خطرناک پرندہ پالتے تھے

    کرول نے کہا کہ ان میں انسانوں کے سروں سمیت کئی تھری ڈی مجسمے اور انسانی نقش ہیں ایک خاص طور پر متاثر کن مجسمے میں ایک انسان کو دکھایا گیا ہے کہ وہ تیندوے کو اپنی پیٹھ پر اٹھا رہا ہے جبکہ حملہ آور پوزیشن میں جانوروں کی نقش و نگار بھی پائی گئی ہیں-

    ماہرین کے مطابق مجسموں اور پتھروں پر موجود نقش و نگار سے پتہ چلتا ہے اس دور میں انسان کی فنکارانہ صلاحیتیں مضبوط تھیں۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    اس سے قبل سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے تھے منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

    ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

  • ‏سوشل میڈیا: یہ ادھوری اور مصنوعی دنیا  تحریر جواد خان یوسفزئی

    ‏سوشل میڈیا: یہ ادھوری اور مصنوعی دنیا تحریر جواد خان یوسفزئی

     

    ٹوئیٹر : Jawad_Yusufzai@

    سوشل میڈیا اور خاص کر فیس بوک کی دنیا وسیع بھی ہے اور محدود بھی۔ وسیع یوں کہ ہر آدمی کو اس کے مزاج اور ضرورت کے مطابق مواد مل جاتا ہے۔ محدود یوں کہ جب اس مصنوعی دنیا میں چند لمحے جی کر حقیقی دنیا میں قدم رکھتے ہو تو احساس ہوتا ہے

    خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا 

    یہ مصنوعی دنیا ہے اور آنکھوں کو خیرہ کرتی اس دنیا سے جتنا دور رہیں، اتنا ہی اچھا ہے۔ حقیقت کے پرندے کا شکار، اس دنیا سے دور کھلی فضاؤں میں ہی ممکن ہے۔ یہ حقیقت اپنے بارے میں بھی ہو سکتی ہے، دوسروں کے باب میں بھی اور سب سے بڑھ کر اس دنیا کے تلخ حقائق بھی ہوسکتے ہیں۔ 

    میرے خیال میں سوشل میڈیا کا یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے کہ یہ انسان کو حقیقی دنیا کے بجائے مصنوعی دنیا میں لا کھڑا کرتا ہے۔ جو لوگ اپنا لائف کرئیر بنا چکے ہیں، ان کے لیے تو کسی حد تک ٹھیک ہے۔ مگر طالب علم اور خاص کر وہ لوگ جو یونیورسٹیوں سے نکل چکے ہیں اور غم روزگار اور غم دوراں کے دوراہے پر کھڑے ہیں، ان کے لیے یہ زہر قاتل سے بڑھ کر کوئی شے ہے۔ جب گھر سے ملنے والی جیب خرچ کا اے ٹی ایم کارڈ، جہانگیر ترین کی صورت اختیار کر گیا ہو، خود اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے کے بجائے خان صاحب کی طرح فلسفہ جھاڑ رہے ہو اور عملی طور پر کچھ کرنے کے بجائے فیس بوکی دانشور بن بیٹھے ہو، تو یقین کریں آپ کا خون بالکل جائز ہے۔

    سوشل میڈیا کے فوائد بھی ہیں۔ ان سے کس کو انکار۔ اور نہ ان کی طویل فہرست پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ کیوں سب واقف ہیں۔ مگر مجھے وقت کے ساتھ احساس ہو چلا ہے کہ اس کے نقصانات فوائد سے کئ گنا زیادہ ہیں۔ سب سے بڑا نقصان تو اس کی مصنوعات ہی ہے۔ یہ سراب ہے۔ نظروں کا فریب ہے۔  ایک دن سر پہ تاج سجاتا ہے۔ دوسرے دن رسوا سر بازار کر دیتا ہے۔ "چائے والے” کی خوب صورت آنکھیں سوشل میڈیا کی برکت سے اس کو چند دن آسمانوں کی سیر کراتی ہیں۔ جب اس کو احساس ہوتا ہے کہ وہ کوئی بہت بڑی شے ہے، پھر زمین پر پٹخ دیتا ہے۔ کہ بھائی جتنا نچانا تھا نچا لیا۔ اب جاؤ اور اپنی چائے بیچو۔ "پاری ہو رہی ہے” والی حسینہ کے لیے بھی یہ چند دن کی رونقیں ساتھ لاتا ہے۔ جب لڑکی تفاخر کا سر بلند کرتی ہے تو پھر ہما کب کا اڑ چکا ہوتا ہے۔ قندیل بلوچ کو چند روز نچایا اور پھر زیر زمین پہنچا دیا۔ صندل خٹک اپنی ساری شوخیوں، چال ڈھال کے ساتھ نظروں سے اوجھل ہے۔ حریم شاہ کو ہر ماہ کوئی نئ واردات کرنی پڑتی ہے کیوں کہ سوشل میڈیا چند دن ہی کسی کی میزبانی کرتا ہے۔

    سوشل میڈیا ہم دانشوراں کے ساتھ ان مذکورہ ناموں سے بھی بڑھ کر المیے کر جاتا ہے۔ سیدھی سی بات ہے کہ فیس بوک پر لکھنے سے پیسے نہیں ملتے اور آپ لائف کرئیر کے طور پر اس کو اپنا نہیں سکتے۔ دوسری طرف فیس بوک آپ کو اس رنگ روپ میں پیش کرے گا جیسے کائینات میں آپ ہی آپ ہیں اور آپ کی ایک چال سے قیامت بپا ہو سکتی ہے۔ آپ محنت مزدوری اور کام کے بغیر روز آتے ہیں اور تھوڑا بہت پڑھ کر اس کو لوگوں کی نظر کرتے ہیں تو تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور آپ کو پر لگ جاتے ہیں۔ جب آپ "واہ واہ” اور کیا خوب لکھا\بولا سے پھولے نہیں سما رہے ہوتے اور کہتے ہیں کہ اسی سے گلشن کا کاروبار چلے گا، اچانک نیٹ پیج ختم ہوجاتا ہے، اپنا پیٹ خالی پاتے ہیں اور نکوڑی جیب کو اس سے بھی زیادہ کنگال۔ تب احساس ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر پہلے اس سوشل میڈیا نے جو سر پہ تاج سجایا تھا، اب گدا بنا کر بیٹھا دیا ہے۔ کہاں گئے وہ داد و تحسین کے برستے ڈونگرے؟ کہاں گئ وہ دانش وری کی چمکتی دکان؟

     کچھ علاج اے چارہ گراں اس پیکج، پیٹ اور جیب کا ہے بھی کہ نہیں؟ 

    سو کیون نہ کوئی کام کیا جائے؟ محنت کی جائے۔ اپنا کرئیر بنایا جائے۔ چار پیسے کمائے جائیں۔ جہاں ٹیلنٹ ہے، اس کو بروئے کار لا کر اپنا مستقبل سنوارا جائے۔ سوشل میڈیا کو سنجیدہ لیے بغیر صرف دل لگی اور سیر سپاٹے کے واسطے اختیار کیا جائے۔ اور الٹے پاؤں نکلا جائے۔ جتنی جلد یہ حقیقت سمجھ آگئ، اتنا ہی بھلا ہے۔ 

     اس کے علاؤہ چلتے چلتے عرض کرتا چلوں کہ جو لوگ سوشل میڈیا پر دیر و حرم کے جھگڑے مٹانے آتے ہیں، سمجھو کہ جان کے دھوکہ کھاتے ہیں۔ دھوکہ دیتے ہیں۔ بھائی یہ ایسے مسائل ہیں جو لاکھوں کتابوں، مناظروں، بحثوں اور فتووں سے حل نہ ہوئے۔ آپ کی فیس بوک پوسٹ اور کمنٹ سے خاک حل ہوں گے۔ اس سے بہتر تو یہ ہے کہ اپنی رائے کو، کسی پر ٹھونسے بغیر، آرام اور شائستگی سے کہہ کر پتلی گلی سے نکل جاؤ اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھو۔ سیدھے جا کر اپنا کام کرو، کام نہیں تو کوئی کتاب پڑھو، کچھ لکھنے بیٹھ جاؤ۔ اگر ایسا موڈ نہیں تو لمبی والک پہ نکل جاؤ۔ چائے کے ڈھابے کا رخ کرو۔ کسی ہم خیال دوست کو کال کرو اور گپ شپ لگاؤ۔ اگر کچھ بھی نہیں تو لمبی تان کر سو جاؤ۔ یقین کرو یہ سارے کام فیس بوک کو سنجیدہ لینے، اس پر دانشوری بگھارنے، لوگوں سے الجھنے اور بحث و تکرار میں حصہ لینے سے کہیں بہتر ہیں۔

  • دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    دنیا کی کم عمر ماہر فلکیات

    برازیل کے شہر فورٹالیزا سے تعلق رکھنے والی 8 سالہ نکول اولیویرا نے دنیا کی سب سے کم عمر ماہرِ فلکیات ہونے کا اعزاز اپنے نام کرلیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق برازیل کے شہر فورٹالیزا میں رہنے والی برازیل کی 8 سالہ نکول اولیویرا دنیا کی سب سے کم عمر ماہرِ فلکیات بن گئی نکول نے ناسا سے وابستہ پروگرام میں شامل ہوکر ایسٹرائیڈز یعنی سیارچوں کی تلاش شروع کردی ہے نکول نے اب تک 18 سیارچوں کا سراغ لگا لیا ہے۔

    ناسا کے اس پروجیکٹ کو ایسٹرائیڈ ہنٹرز کا نام دیا گیا ہے جس کا مقصد نوجوانوں کو کائنات میں دریافتوں کے لیے مدد دے کر سائنس سے متعارف کروانا ہے۔

    اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    نکول کے والدین کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کا کمرا نظام شمسی کے پوسٹرز سے بھرا ہوا ہے اور وہ اپنے فارغ وقت میں ٹیلی اسکوپ کی مدد سے آسمان کی تصاویر لیتی رہتی ہے۔

    جبکہ وہ اپنا زیادہ وقت کمپیوٹر پر سیارچوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہوئے گزارتی ہیں اپنے یوٹیوب چینل پر نکول نے برازیل کے ماہر فلکیات ڈولیا ڈی میلو جیسی بااثر شخصیات کا انٹرویو کیا ، جنہوں نے ایس این 1997 ڈی نامی سپرنووا کی دریافت میں حصہ لیا تھا۔

    جہاں تک اس کے اپنے عزائم ہیں تو وہ بڑے ہو کر ایرو اسپیس انجینئر بننا چاہتی ہے نکول کا کہنا ہے کہ وہ راکٹ بنانا چاہتی ہیں اور ابھی وہ فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی خلائی مرکز میں ان کے راکٹ دیکھنے کی خواہاں ہیں۔

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

  • کیا انسان واقعی چاند پر گیا ہے تحریر اصغر علی                                             

    کیا انسان واقعی چاند پر گیا ہے تحریر اصغر علی                                             

    کیا انسان واقعی چاند پر گیا ہے

    16 جولائی 1969 کو امریکی خلائی سٹیشن کینیڈی اسپیس سینٹر سے اپولو 11 تین خلا بازوں کو لے کر خلا کی جانب روانہ ہوا وہ چند دن بعد یہ خلائی شٹل چاند کی زمین کو چھو چکی تھی نیل آرمسٹرانگ  پہلے آدمی  تھے جنہوں نے چاند پر پہلا قدم رکھا اس مشن میں نیل آرمسٹرانگ کے ساتھ بز ایلڈرن اور مائیکل کولن بھی شامل تھے بز ایلڈرن وہ دوسرے انسان تھے جنہوں نے چاند کی سطح کو چھوا تھا جہاں دنیا میں اس کارنامے کو بہت زیادہ سراہا گیا یا اور یہ ایک بہت بڑی کامیابی کے طور پر بتایا گیا وہاں پر اس کو فیک کہنے والے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں تھی سب سے پہلے ایک امریکہ کے ہیں نیوی کے افسر بل کسنگ نے 1976 میں ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے اس پر کافی اعتراضات اٹھائے اس کے بعد انیس سو اسی میں ایک اور شخص نے اس سارے مشن کو ایک ایک فلم قرار دیا اور کہا کہ یہ سارا کا سارا ایک سٹوڈیو میں فلمایا گیا ہے جیسا کہ آپ جانتے ہیں اس طرح کی فیک نیوز بہت جلدی پھیلتی ہہیں تو یہ نیوز بھی بہت جلدی پھیل گئی بھی اور لوگوں کو یقین ہونے لگا کہ امریکہ نے ناسا کے ساتھ مل کر یہ ڈرامہ رچایا ہے چاند پر اترنے کے مطابق ان چہ مہگوئیوں سے ہٹ کر کچھ ایسے ثبوت بھی ملتے ہیں جسے دیکھ کر آج کا انسان یہ یقین کر سکتا ہے کہ واقعی انسان چاند پر گیا ہے تو ان میں سے چند ایک ثبوت یہ ہیں انسان کا چاند پر پہنچنے کا پہلا ثبوت یہ دیا جاتا ہے کے اپولو 11 مشن جب چاند سے واپس آیا تو چاند کی سطح سے 22کلو مٹی اور پتھر اپنے ساتھ لایا اس کے بعد جانے والے اور بھی مشن اس طرح کے نمونے ساتھ لاتے رہے چاند پر جانے کا دوسرا ثبوت یہ پیش کیا جاتا ہے کے اپولو  11 آپولو 14 اور اپولو 15 مشنز جب چاند کی سطح سے واپس آنے لگے تو خلابازوں نے چاند کی سطح پر ریکٹر و ریفلیکویو لگا دیے تھے اسی طرح کی ڈیوائسز 1973 میں سوویت یونین کی جانب سے بھیجے جانے والے مشن رونا سیونٹین اور رونا 18 نے بھی چاند کی سطح پر نصب کی تھی دراصل یہ ڈیوائس ایک آئینہ نما ڈیوائس تھی جو زمین سے بھیجے گئے  عکس  کو اپنے اندر محفوظ کرتی ہے چاند کے اترنے کا تیسرا بڑا ثبوت یہ ہے کیا جاتا ہے ہے کہ انیس سو انہتر سے لے انیس سو تہتر تک ٹھیک کامیاب مشن اتارے گئے یہ تمام مشن چاند پر مختلف مقامات پر اترے تھے خلا باز وہاں پر کئی کئی گھنٹے رہے اور چاند گاڑی پر بیٹھ کر چاند مختلف حصوں کا مشاہدہ کرتے رہے ان گاڑیوں کے پہیوں کے نشان آج بھی چاند کی سطح پر موجود ہیں اگر آپ کے پاس ایک اچھی سی دوربین ہے یا  ایک اچھی سی سیٹلائٹ ہے تو آج بھی زمین سے بیٹھ کر آپ چاند کی سطح پر گاڑیوں کے ٹائروں کے نشان دیکھ سکتے ہیں ان تمام ثبوتوں کے باوجود ناصح کے چاند پر اترنے پر بہت زیادہ اعتراضات پائے جاتے ہیں سب سے پہلا اعتراض یہ ہے کہ اگر چاند کی سطح پر پر اب و ہوا نہیں ہے تو وہاں لگائے جانے والا امریکہ کا جھنڈا کیسے لہرا رہا ہے اس میں امریکہ نے کہا کہ جھنڈے کے اوپری حصے میں ایک راڈ لگا ہوا ہے  جو جھنڈے کو سیدھا رکھنے کے لئے ہے اور نیچے پڑے ہوئے بل اس لیے لیے سیدھے نہیں ہوسکے کہ وہاں پر آب و ہوا نہیں ہے ہے اور یہی وجہ ہے کہ کہ پرچم کے بل سیدھے نہیں ہو سکے اور اسی حالت میں پرچم آپ کو نظر آرہا ہے دوسرا اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ چاند کی سطح پر کوئی آب و ہوا نہیں ہے اور نہ ہی اس کے اوپر بادل ہوتے ہیں تو کسی بھی تصویر میں جو چاند کے اوپر کھینچی گئی ہے ستارے کیوں نہیں نظر آ رہے تو اس پے سائنسدانوں کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ سورج کے روشنی چاند پر پر بغیر رفلیکٹ ہوئے سیدھی پڑتی ہے اس لیے لیے وہاں پر کھینچی ہوئی تصویر میں میں ستارے نظر میں آ رہے اور وہ تمام تصویریں دن کے ٹائم کی ہے ایک اعتراض یہ بھی اٹھایا جاتا ہے کہ ناسا آج سے پچاس سال پہلے اگر چاند پر جا سکتا ہے تو آج اتنی جدید ترین ٹیکنالوجی ہونے کے باوجود وہ چاند پر کیوں نہیں جاتا اس کا جواب ناسا اس طرح دیتا ہے 1969 سے 1972 تک ناسا کی جانب  سے سات مشن چاند پر بھیجے گئے ان میں سے چھ مشن چاند کی سطح پر کامیابی سے اترے اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دور امریکہ اور روس کے درمیان خلائی جنگ کا دور تھا تھا کہ کون پہلے خلا میں جاتا ہے اور کون پہلے چاند پر جاتا ہے ہے خلا میں جانے کی جنگ روس جیت گیا اور چاند پہ جانے کی جنگ امریکہ چاند کی جنگ جیتنے کے بعد امریکہ کے پاس کسی قسم کا کوئی جواز نہیں تھا کہ وہ ایک دفعہ پھر چاند پر اربوں ڈالر خرچ کر کے جائے جو لوگ یہ کالم پڑھ رہے ہیں ان سے میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ان کو کیا لگتا ہے کیا واقعی امریکہ ناسا چاند پر گیا یا پھر یہ سب بچایا گیا ایک ڈرامہ تھا

    Written by Asghar Ali

    Twitter id @Ali_AJKPTI

    T

  • ففتھ جنریشن وار تحریر : نواب فیصل اعوان


    آج جس موضوع پہ مجھے لکھنے کا اتفاق ہوا ہے یہ موضوع کوٸ عام فہم نہیں ہے اس کو سمجھنے کیلۓ ہمیں بہت سے پہلوٶں کا جاٸزہ لینا پڑے گا
    ففتھ جنریشن وار ہے کیا چیز اس کے محرکات کیا ہیں اس کے فاٸدے یا نقصانات کیا ہیں اس پہ تفصیلی بات ہوگی ۔
    ففتھ جنریشن وار ایک ایسی جگ ہے جس میں کسی بھی قوم کو عدم استحکام اور معاشی طور پہ مفلوج کرکے ان پہ کولڈ اسٹریٹیجی کو مسلط کیا جاتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار رواٸیتی تلواروں پستولوں راٸفلوں یا موجودہ ایٹمی ہتھیاروں سے بلکل بھی نہیں لڑی جاتی ۔
    ففتھ جنریشن وار ایک ایسی جنگ ہے جس میں دشمن کسی بھی قوم کو جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیتے ہیں اور بحثیت قوم ایسا کرنے پہ مجبور دکھاٸ دیتے ہیں ۔
    ففتھ جریشن وار رواٸیتی جنگوں سے یکسر مختلف جنگ ہے جس میں حریف دشمنوں کو عدم استحکام کا شکار کر کے اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار کی ابتدا ناٸن الیون کے بعد شروع ہوٸ جس میں القاعدہ نے ناقابل تسخیر سمجھے جانے والے امریکہ کو کھڈے لاٸن لگا کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ار دیکھتے ہی دیکھتے القاعدہ کی ہر ملک میں برانچ کھلنے لگی اور لوگ جوک در جوک القاعدہ کا حصہ بننے لگے ۔
    یہاں سے امریکہ کو عدم استحکام کا شکار کر کے ایک عجیب جنگ کا آغاز کیا گیا جو بعد میں ففتھ جنریشن وار فیٸر کہلاٸ ۔
    کسی بھی ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنا وہاں کی عوام کو مایوسی کی طرف دھکیلنا اس ملک کے خلاف سوشل میڈیا پہ جھوٹے پروپیگنڈے کو تقویت دینا اور ملکی اداروں کے خلاف کرنا یہ سب بھی ففتھ جریشن وار کہلاتا ہے ۔
    ففتھ جنریشن وار کی سمجھ بوجھ رکھنے والے یہ ضرور جانتے ہونگے کہ ففتھ جنریشن وار کا مطلب بھی یہی ہے کہ کسی بھی ملک کے خلاف ایسی سرد جنگ کا آغاز کیا جاۓ جو بنا کسی ہتھیار کے دشمن ممالک میں افراتفری اور عدم استحکام کو فروغ دے تاکہ وہ اپنے متعلقہ عزاٸم میں کامیاب ہو سکیں ۔
    ففھ جنریشن وار یہ بھی ہے کہ دشمن ہمارے نوجوانوں کی ذہن سازی کر کے حکومت و ریاستی اداروں کے خلاف کر دینا ہے تاکہ وہ ریاستی اداروں سے ٹکراٸیں جس سے اندرونی خلفشار کی سی فضا قاٸم ہو ۔
    وہ دور اور تھے جب تلواروں نیزوں، توپوں یا بندوقوں کے ساتھ دشمنوں کو زیر کیا جاتا تھا یا افرادی قوت کے ذریعے جنگیں جیتی جاتیں تھیں مگر ففتھ جنریشن وار فٸیر کا جب سے دور آیا ہے آپ لوگ سوشل میڈیا سے ففتھ جنریشن جاری رکھ سکتے ہو ۔
    ففتھ جنریشن وار ایسی جنگ ہے جہاں لوگ ملکی مفادات کو یکسر انداز کےٹرک کی بتی کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔
    ففتھ جنریشن وار فئیر کو ذہنی جنگ یا بیانیے کی جنگ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ کسی بھی پسماندہ ذہن کے مالک شخص پہ مسلط کی جاتی ہے ۔ اس وقت اس دنیا میں اس جنریشن کا اہم اور موئثر ہتھیار میڈیا ہے جس میں الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا شامل ہیں۔ کیا آپ لوگ یہ جانتے ہیں کہ آپ لوگ سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم سے اس ٹولز کو بروئے کار لا کر بالخصوص نوجوان نسل کی ذہن سازی کرکے اپنے ملک یا ریاست کے خلاف کرسکتے ہیں اور ریاست یا ریاستی اداروں کے خلاف اندرونی محاذ کھول سکتے ہیں ۔ اس میں کسی بھی ملک کے حالات خراب کرنے کیلۓ مذہبی منافرت پھیلایا جاتا ہے اور ایک دوسرے کے مسالک کے مابین تعصبات کو ایک دوسرے کے دماغوں میں نقش کر کے فسادات کو فروغ دیا جاتا ہے ۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ففتھ جنریشن وار فئیر میں اپنی مخالف طاقت کو کمزور کرنے کے لیے قوم پرستی کی بنیاد پر پنجابی کو پھٹان سے پھٹان کو سندھی سے سندھی کو بلوچی سے اور بلوچی کو گلگت بلتستانی سراٸیکی کو پنجابی سے لڑایا جاتا ہے۔ ففتھ جنریشن وار فئیر میں مخالف فریق کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ مخالف فریق معاشی ترقی نہ کر سکیں اور ناکام و نامراد ہوتا جاۓ ۔ ففتھ جنریشن وار کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ففتھ جنریشن وار فئیر دشمن عناصر ریاستی افواج کے خلاف غلط پروپیگنڈہ کر کے اپنی ریاست کی افواج کے خلاف نفرت کے راگ الاپے جاتے ہیں اس چیز کو کامیاب کرنے کے لیے نوجوانوں کا ایک گروہ تیار کر کے عسکری حلقوں کو طرح طرح کے الزامات لگا کر اپنے مقاصد کی وصولی کے لئے راستے ہموار کیۓ جاتے ہیں تاکہ وہ ملکی لوگوں کو ہی دشمن ملک کے خلاف استمعال کریں تاکہ لوگ یہ سمجھیں کہ یہ تو ان کا اندرونی معاملہ ہے مگر حقیقیت اسکے برعکس ہوتی ہے وہ دشمن ممالک کے ایجنڈے پہ کام کر رہا ہوتا ہے ۔ معزز قارئین ففتھ جنریشن وار دوسری جنگوں کی نسبت بہت خطرناک ترین وار ہے جس سے ہتھیاروں یا افرادی قوت کے مظاہرے سے بھی زیادہ نقصان ہوتا ہے ۔ بحثیت مسلمان اور پاکستانی ہماری اولین زمہ داری یہ ہونی چاہیۓ کہ ہم اپنے اسلام و ملک کے ایک اچھے شہری بن کے رہیں اسلام کی سربلندی کیلۓ پاکستان کی ترقی کیلۓ دشمن کی تمام چالوں کو بے نقاب کرتے ہوۓ ملکی مفاد کی جنگ لڑیں اور دشمن یا ان کے آلہ کار جس طرح ہماری ریاست کے خلاف منفی پروپیگنڈے اور اوچھے ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں ان تمام سازشوں کا قلع قمع کر کے ملک کی سالمیت ،استحکام اور ترقی کے لئے ملکی وفادار بن کے سوچنا چاہیے تاکہ ہم ففتھ جنریشن وار فئیر سے مکمل طور پر بچ سکیں اور اس سرد جنگ کے نقصانات کم کیۓ جاسکیں ۔
    دوسری جانب ریاست کو بھی چاہیئے کہ وہ ففتھ جنریشن وار کے نام پر جو لوگ اپنے حقوق کے حصول کی بات کرتے ہیں ملکی مفاد کیلۓ کام کر رہے ہیں ففتھ جنریشن وار لڑ رہے ہیں اور جو لوگ حق حاکمیت اور حق ملکیت کی بات کرتے ہیں، اپنے خلاف ہونے والی ناانصافیوں پر آواز بلند کرتے ہیں انہیں خوف زدہ کرنے ڈرانے دھمکانے اور سزا دینے کے بجائے انکی بات کو بغور سنا جاۓ اور کوشش کی جاۓ کہ انکے مسائل جنگی بنیادوں پہ حل کیۓ جاٸیں تاکہ عوام اور ریاست کے بیچ محبت کا رشتہ برقرار رہے اور ہمارے ملک باسی دشمنوں کے آلہ کار بننے سے بچ سکیں کیونکہ ففتھ جنریشن وار فیٸر تمام روایتی جنگوں سے مختلف ہے کیا آپ جانتے ہیں کہ فیک نیوز بھی ففتھ جنریشن فٸیر ہی کی ایک قسم ہے انڈین کرونیکلز نیٹ ورک جو کچھ عرصہ پہلے بے نقاب ہوا تھا اس میں بھی کٸ ویب ساٸٹس جرنلسٹ اور اقوام عالم کی کارواٸیوں پہ کنٹرول حاصل کرنے کیلۓ اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلۓ ہر سازش کی جاتی تھی اس کے علاوہ حالیہ دورہ نیوزی لینڈ کی منسوخی بھی ففتھ جنریشن وار کا ہی ایک حصہ ہے ۔ اس وقت قوم کو یا ملکی حالات کو کنٹرول کرنا ہے کہ انکی عوام محفوظ ہیں اس سلسلے میں قوم میں ففتھ جنریشن کے متعلق آگاہی پیدا کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ عوام جان سکے کہ یہ ففتھ جنرشن وار ہے کیا ۔؟ اس کے مقاصد کیا ہیں ۔؟ کیسے ففتھ جنریشن وار کسی بھی ملک یا قوم پہ مسلط کر کے اپنے اہداف حاصل کرنے کیلۓ لڑی جاتی ہے ۔؟ الحَمْدُ ِلله پاکستان کی عوام میں اس حوالے سے کافی شعور موجود ہے مگر اکثریت ففتھ جنریشن وار کی اے بی سی ڈی سے بھی ناواقف ہے اس وقت پاکستان میں ہمارے پاکستانی دشمن ممالک خاص طور پہ ازلی دشمن بھارت اسراٸیل و امریکہ کے پروپیگنڈے کو کاٶنٹر کر کے ان کو منہ توڑ جواب دیتے ہوۓ دشمن مالک کی کروڑوں اربوں روپے کی انویسٹمنٹ کو خاک میں ملانے کا ہنر رکھتے ہیں اللہ پاک ہمیں ملکی مفاد کیلۓ ہر فورم پہ حق بات کہنے والا بنا دے اور ملکی مفاد کیلۓ لڑنے والا بنا دے آمین تاکہ ہم بھی اقوام عالم کی تمام قوموں کو ٹکر دینے کے مقابل آجاٸیں ۔

    ‎@NawabFebi