Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئےہیں –

    باغی ٹی وی : نئے ٹولز کے ذریعے وہ اپنے چہرے کے تاثرات کو تبدیل کرتے ہوئے اینڈرائیڈ فونز استعمال کر سکیں گے گوگل نے کہا ہے کہ اب قوتِ گویائی سے محروم اور جسمانی طور پر معذور افراد اپنی بھوئیں اٹھا کر یا مسکرا کر ہاتھ کا استعمال کیے بغیر ہی اپنے اسمارٹ فونز چلا سکتے ہیں۔

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    گوگل کے یہ دو نئے ٹول مشین لرننگ اور اسمارٹ فون کے فرنٹ کیمرا کی مدد سے صارفین کے چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کی حرکت کا پتا لگاتے ہیں صارفین مسکراتے ہوئے، بھنویں اٹھا کر، منہ کھول کر یا دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے دیکھ کر کوئی بھی آپشن منتخب کر سکتے ہیں۔

    لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی میں وائس کمانڈز یا اپنے ہاتھوں کے ذریعے فون کا استعمال کرتے ہیں اگرچہ جسمانی طور پر معذور اور قوتِ گویائی سے محروم افراد کے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    گوگل نے اس ضمن میں دو نئے فیچرز پیش کیے ہیں جس میں ‘کیمرا سوئچ’ کی مدد سے صارفین چہرے کی مدد سے اسمارٹ فونز چلا سکیں گے اسی طرح گوگل نے ‘پروجیکٹ ایکٹو’ کے نام سے ایک نئی ایپلی کیشن بھی پیش کی ہے جس کے ذریعے بھی چہرے کے تاثرات استعمال کرتے ہوئے موبائل استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    یہ ایپلی کیشن آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کے گوگل پلے اسٹور پر صارفین کے لیے مفت میں دستیاب ہےامریکہ کے صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں چھ کروڑ 10 لاکھ افراد جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

    اس اعداد و شمار نے گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسی پروڈکٹس بنانے پر مجبور کر دیا ہے جو زیادہ قابلِ رسائی ہوں۔

    گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

  • 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب میں حال ہی میں منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے ہیں پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

    پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

    ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں۔

    لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ان نقش ونگار کا علاقہ،جسے اونٹ سائٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ممکنہ طورپردنیا میں جانوروں کی ان کے فطرتی حجم کے برابر بڑے پیمانے پر سنگ تراشی کا سب سے پرانامرکزہے۔

    شہباز شریف کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس: ایک اور ملزم گرفتار

    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس دور میں انہیں تخلیق کیا گیا تھا اس دورمیں یہ خطہ آج کے بنجرمنظرنامے سے بہت مختلف نظرآتا ہوگا اس دور میں یہ علاقہ گھاس کے میدان، جھیلوں اور درختوں سے بھراپڑا تھا، جہاں جنگلی اونٹ آوارہ گھومتے پھرتے تھے اور شکار کیے جاتے تھے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ اب ہم اونٹ سائٹ کو قبل ازتاریخ کے ایک دور سے جوڑسکتے ہیں جب شمالی عرب کی بدوی آبادیوں نے سنگ تراشی کا فن تخلیق کیا اور پتھر کے بڑے ڈھانچے تعمیرکیےتھے جنہیں مستطیل کہا جاتا ہے ۔

    عمر شریف کے بیرون ملک علاج معالجے کے لیے ایئر ایمبولینس کی کب تک آمد متوقع ہے؟

    محقیقین کی ٹیم میں شامل سنگ تراش نے اندازہ لگایا تھا کہ ایک نقش کو مکمل ہونے میں 15 دن تک منبت کاری کی جاتی ہو گی یہ کام ایک اجتماعی کوشش ہوسکتا ہے۔

  • مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارنامے اور ایجادات تحریر: فرقان اسلم 

    مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارنامے اور ایجادات تحریر: فرقان اسلم 

    جیسا کہ انسان شروع سے ہی نت نئی چیزیں بنانے اور ان کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کی جدوجہد کررہا ہے۔ ان سب ایجادات میں سائنس کا بہت اہم کردار ہے۔ اور سائنس کی ان ایجادات میں سب سے اہم کردار مسلمان سائنسدانوں کا ہے۔ اگرچہ ابھی تک بہت سی مسلمانوں کی ایجادات ایسی ہیں جو نظروں سے دور ہیں۔ حالانکہ دنیا کی مفید اور ضروری ایجادات مسلمانوں اور عربوں کی مرہون منت ہیں۔ یہ وہ وقت تھا جب دنیا میں جدید یورپ کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ان میں سے بعض کی تو جدید سائنس نقل بھی نہ کرسکی اور بعض کو نقل کر کے ایجاد کاسہرا اپنے سر سجایا۔

    یورپ والوں نے عظیم مسلمان سائنسدانوں جن میں قابلِ ذکر جابر بن حیان کوگیبر، ابن رشد کو اویرو، ابن سینا کو ایوونا اورابن الہیشم کو الہیزن کہنا شروع کردیا تاکہ ان عظیم انسانوں کا مسلمان اور عرب ہونا ثابت نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارا سائنس کا طالب علم خالد بن یزید، زکریا، رازی، ابن سینا، الخوارزمی، ابو ریحان البیرونی، الفارابی، ابن مسکویہ، ابن رشد، کندی، ابو محمد خوحبدی، جابر بن حیان، موسیٰ بن شاکر، البتانی، ابن الہیثم، عمر خیام، المسعودی، ابو الوفاء اور الزہراوی جیسے عظیم سائنسدانوں کے حالات زندگی اور سائنسی کارناموں سے یکسر ناواقف ہے۔ بلکہ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ ان کا نام سن کر ہمارے طلباء حیرانی سی محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ سائنس کی ترقی میں زیادہ ہاتھ یورپ کا ہی ہے۔

    مسلمانوں نے سائنسی خدمات اور انسانی خدمات کی وجہ سے بہت نام بنایا ہے۔ ان کی ایجادات نے دنیا کا رہن سہن ہی بدل دیا۔ اور دنیا کو ایک نئی سمت کی جانب گامزن کردیا۔ اس بات کا اقرار مغربی دنیا آج بھی کرتی ہے۔ 

    آج میں آپ کو مسلمان سائنسدانوں کے عظیم کارناموں اور اہم ایجادات کے بارے میں بتاؤں گا جن کی بدولت آج دنیا میں بہت سے کام سرانجام دیے جارہے ہیں۔ ان ایجادات کے بغیر آج کے دور میں زندگی گزارنے کا تصور کرنا بھی تقریباً ناممکن تھا۔ 

    1۔ ہسپتال

    دنیا کا پہلا ہسپتال بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر جاتا ہے۔ یہ ہسپتال 872ء میں مصر کے شہر قاہرہ میں احمد بن طالون کے نام سے قائم کیا گیا تھا۔ اس میں طبیب اور نرسیں مریضوں کے علاج کے لیے موجود ہوتی تھیں۔ اور ساتھ ہی طالبعلموں کی ٹریننگ کے لیے ایک سینٹر بھی قائم تھا۔ یہاں پر مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا تھا۔

    2۔ یونیورسٹیاں

    ڈگری دینے والی دنیا کی سب سے پہلی یونیورسٹی بنانے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔859ء میں مراکش میں دنیا کی پہلی یونیورسٹی "القراویون” نے پہلی ڈگری دی تھی۔ یہ یونیورسٹی شہزادی فاطمہ الفرہی نے قائم کی تھی اور آج بھی یہاں تدریس کا عمل جاری ہے۔

    3۔ سرجری

    مسلم سائنسدان الزہراوی کے بارے میں یہ مانا جاتا ہے کہ وہ جدید سرجری کا بانی ہے۔ انہوں نے ہی سرجری کے آلات ایجاد کیے اور آپریشن کو ممکن بنایا۔ ان کی بدولت ہی موجودہ دور میں سرجری ممکن ہوئی۔ سرجری میں آج جو بھی آلات استعمال کیے جاتے ہیں سب ان کی مرہون منت ہیں۔

    4۔ الجبرا 

    محمد ابن موسیٰ الخوارزمی وہ پہلے سائنسدان ہیں جنہوں نے حساب اور الجبرا میں فرق کیا اور الجبرا کو باقاعدہ ریاضی کی صنف کے طور پر روشناس کرایا۔ یورپ پہلی بار حساب کے اس نئے سسٹم سے بارھویں صدی میں روشناس ہوا۔ الخوارزمی کو متفقہ طور پر دنیا بھر میں "الجبرا” کا بانی مانا جاتا ہے اور لفظ الگوریتھم بھی ان کے نام سے ہی کشید کیا گیا ہے۔

    4۔ ٹوتھ برش

    نبی کریم ﷺ سے مسواک کی مبارک سنت ترویج پائی اور تمام مسلمانوں کو اپنے دانت صاف کرنے کے بارے میں کہا گیا۔ اس سے قبل انسان اپنی دانتوں کی صفائی کی طرف خاص توجہ بھی نہیں دیتا تھا۔ اسی طرح سے ٹوتھ برش کی ایجاد بھی ممکن ہوئی اور دنیا کے لوگوں کو اپنے دانت صاف کرنے کا خیال آیا۔

    5۔ شیمپو

    شیمپو دنیا میں پہلی بار ایک مسلمان نے 1759ء میں اس وقت متعارف کروایا جب اس نے برطانیہ میں ایک حمام کھولا۔ برصغیر کے شیخ دین محمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے پہلی بار یورپ کو شیمپو سے متعار ف کروایا۔

    6۔ گٹار

    مغربی دنیا میں بہت زیادہ پسند اور بجایا جانے والا آلہ موسیقی گٹار بھی مسلمانوں کی ایجاد "لیوٹ” سے متاثر ہوکر بنایا گیا۔ لیوٹ عربوں نے تقریباًایک ہزار سال قبل ایجاد کیا تھا۔ جس سے موجودہ موسیقی کے دور کے آلات بنانے میں مدد ملی۔

    7۔ شطرنج

    دنیا بھر میں بہت زیادہ پسند کی جانے والی گیم کو ایجاد کرنے کا سہرا بھی مسلمانوں کے سر ہے۔ یہ کھیل ہڑپہ اور موہنجو داڑو میں بھی کھیلی جاتی تھی لیکن وہ موجودہ کھیل سے مختلف تھی۔ مسلم سائنسدان موسیٰ الخوارزمی نے صفر کی ایجاد کے ساتھ کئی طرح کے مسائل کاخاتمہ بھی کیا۔

    8۔ گھڑی

    یورپ سے سات سو قبل بھی اسلامی دنیا میں گھڑیاں عام استعمال ہوتی تھی۔ خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے ہم عصر فرانس کے شہنشاہ شارلیمان کو گھڑی (واٹر کلاک ) تحفہ میں بھیجی تھی۔ محمد ابن علی خراسانی (لقب الساعتی 1185ء) دیوار گھڑی بنانے کا ماہر تھا ۔ اس نے دمشق کے باب جبرون میں ایک گھڑی بنائی تھی۔ اسلامی سپین کے انجنیئر المرادی نے ایک واٹر کلاک بنائی جس میں گئیر اور بیلنسگ کے لئے پارے کو استعمال کیا گیا تھا۔ مصر کے ابن یونس نے گھڑی کی ساخت پر رسالہ لکھا جس میں ملٹی پل گئیر ٹرین کی وضاحت ڈایاگرام سے کی گئی تھی ۔ جرمنی میں گھڑیاں1525ء اور برطانیہ میں 1580ء میں بننا شروع ہوئی تھیں۔

    9۔ علم فلکیات و ارضیات 

    776ء میں ابراہیم بن جندب نے سب سے پہلے عجائب الفلک کے مشاہدے کے لیے دوربین ایجاد کی تھی۔ دنیا کا پہلا ماہر فلکیات احمد بن سجستانی تھا جس نے گردش زمین کا نظریہ پیش کیا تھا۔ احمد کثیر الفرغانی نے اپنے طریقہ سے زمین کے محیط کی پیمائش معلوم کی جو مسلمہ محیط سے بہت قریب ہے۔ ابن یونس صوفی نے اپنی کتاب ”الشفائی” میں حرکت کا قانون بیان کیا ہے اس قانون کو یورپ نے بوعلی سینا کے پانچ سال بعد نیوٹن کی ایجاد کے طور پر ساری دنیا میں مشہور کرا دیا۔ علم فلکیات کا ماہر اور جغرافیہ داں ابو ریحان البیرونی نے زمین کی محیط کی پیمائش معلوم کی تھی، البیرونی نے سورج کے مشاہدے کے بعد ارض البلد اور طول البلد معلوم کرنے کا طریقہ ایجاد کیا تھا۔ البیرونی نے زمین کی محوری گردش کو بھی بیان کیا ہے۔

    10۔سوراخ والا کیمرہ

    ابن الہیثم دنیا کا پہلا انسان تھا جس نے کہا کہ روشنی آنکھ میں داخل ہوتی ہے۔ اس نے آنکھ کی ساخت پر بہت تفصیل سے لکھا اور دنیا کو کیمرے کے خیال سے متعارف کرایا۔ اگر انہوں نے یہ نہ بتایا ہوتا کہ کس طرح روشنی سفر کرتی ہے اور اسے کس طرح شبیہہ کی صورت میں محفوظ بنایا جا سکتا ہے تو آج بھی لوگوں کوکیمرے کے بارے میں علم بھی نہ ہونا تھا۔

    مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کی مسلمان نسل اپنے اسلاف کے کارناموں کو فراموش کر چکی ہے۔ اور ان کی نظر میں صرف یورپ کو کی ترقی اور ایجادات کا سہرا دیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اگر آج بھی مسلمان اپنے اسلاف کے کارناموں سے سبق حاصل کریں اور ان کی تعلیمات کا مطالعہ کریں تو دنیا میں کھویا ہوا مقام حاصل کرسکتے ہیں۔

    علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں کہ:

    گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی 

    ثُریّا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا 

    @RanaFurqan313

  • سوشل میڈیا اور سماجی رابطے تحریر ظفر ڈار۔

    سوشل میڈیا اور سماجی رابطے تحریر ظفر ڈار۔

    ہم اس نسل کے نمائندے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کی ابتداء کمپیوٹر اور موبائل فون سے نہیں کی۔ ہمیں کالج کی کوئی اسائنمنٹ بنانے کیلئے بھی کمپیوٹر کی ضرورت نہیں تھی۔ پیشہ ورانہ زندگی میں کمپیوٹر ایک ٹائپ رائٹر کے طور پر استعمال ہونا شروع ہوا۔ ہماری ایک سیکرٹری ہمارے سرکلرز ورڈ سٹار پر ٹائپ کرتی تھی، پھر پرنٹ نکال کر دیتی اور ترمیم کا ایک سلسلہ شروع ہوتا اور آخر کار دو سے تین دن میں وہ مکمل ہوتا۔ ان کے پاس بڑی بڑی گراموفون کے ریکارڈ سائز کی ڈسک ہوتی تھی جس میں بہت تھوڑا سا ڈیٹا محفوظ ہوتا تھا۔ کمپیوٹر میں ڈیٹا محفوظ ہونے کی گنجائش بہت کم ہوتی تھی۔ لیکن اس وقت ہمارے دماغ میں گنجائش بہت زیادہ تھی، ہمیں سارے دوستوں اور رشتہ داروں کے ٹیلیفون نمبرز یاد ہوتے تھے۔ کوئی اجنبی بھی ملتا تو اس کا فون نمبر یاد ہو جاتا تھا۔ 

    موبائل فون اگرچہ Amps ٹیکنالوجی پر 90 کی دہائی میں دستیاب تھے لیکن ان کا حصول اور پھر انسٹافون سے کنکشن لینا بہت مہنگا سودا تھا، کیونکہ کال وصول کرنے پر بھی پیسے لگتے تھے۔ اس وقت یہ سہولت بڑی کمپنیوں کے سینئر منیجرز کے پاس ہی دستیاب ہوا کرتی تھی۔ میں ایک فلپس کا موبائل فون یورپ سے لایا تھا لیکن جب میں نے انسٹافون سے کنکشن اور ماہانہ چارجز کی معلومات لی تو بغیر سوچے سمجھے فوراً ارادہ ترک کر دیا۔ اس وقت میرے اپارٹمنٹ کا ماہانہ کرایہ اتنا ہی تھا جتنا فون کا متوقع بل۔

    پھر تیزی سے تبدیلیاں آنے لگیں، کمپیوٹر میں ونڈوز 3.1، پھر 95 ، 98 اور ملینیم بھی آگئیں۔ اس دوران ہارڈویئر میں بھی تبدیلی آتی رہی 1.5 MB کی فلاپی ڈسک، پھر سی ڈی 750 ایم بی، یوں لگتا تھا ہم بہت سا ڈیٹا سٹور کر سکتے ہیں۔ ہم نے ہر قسم کا ڈیٹا سی ڈی میں ذخیرہ کرنا شروع کر دیا۔ زندگی آسان ہوگئی لیکن یادداشت کمزور ہونے لگی۔ ہم نے دماغ کا سارا ڈیٹا کمپیوٹر میں جمع کر دیا اور ہمارے دماغ خالی ہو گئے۔ اسی دوران موبائل فون میں بھی نمایاں تبدیلیاں ہوئیں ۔۔۔ ایمپس سے جی ایس ایم اور پھر سم کارڈ، خیر یہ گفتگو پھر کبھی۔

    غالباً 1998 یا 99 میں ہمارے آئی ٹی ڈیپارٹمنٹ نے بتایا کہ ایک جی بی کی ہارڈ ڈسک آرہی ہے اور اس میں اتنا ڈیٹا محفوظ ہو سکتا ہے کہ آپ کو زندگی بھر کسی سی ڈی کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہم اس اطلاع پر بہت خوش تھے کہ ہمیں سی ڈیز کے ڈھیر سے نجات ملے گی۔ آج کے بچے اس خوشی کو نہیں محسوس کر سکتے، کیونکہ ان کے موبائل فون میں اس سے سو گنا زیادہ ڈیٹا آ سکتا ہے۔

    اسی دوران ہم ورلڈ وائڈ ویب یعنی www سے متعارف ہوئے اور انٹرنیٹ کا استعمال شروع ہوا جو ٹیلیفون لائن سے کنیکٹ ہوتا تھا اور یوں ہم دفتری نیٹ ورک کی ای میل سے ویب کی یاہو میل اور ہاٹ میل سے متعارف ہوئے جنہیں کسی بھی جگہ دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ ہمارے لئے ایک اور بڑی سہولت تھی۔ اس انٹرنیٹ کی دنیا میں پہنچے تو سوشل میڈیا کی پہلی سائٹ جس سے ہم متعارف ہوئے وہ فیس بک تھی۔ بہت ڈرتے ڈرتے اکاؤنٹ بنایا کہ کہیں پیسے نہ مانگ لیں۔ پھر ایک دوسرے سے اس کا استعمال سیکھتے رہے۔ مجھے یاد ہے کسی بھی پرانے یا نئے دوست سے ملتے تو پہلا سوال یہ ہوتا تھا "تم فیس بک پہ ہو نا ۔۔۔ آو کنیکٹ ہوتے ہیں” اور یوں فیس بک پہ دوستیاں ہونے لگیں۔ اس وقت کسی اجنبی کو ریکویسٹ بھیجنا بہت مشکل کام تھا۔

    فیس بک نے ہمیں پرانے دوستوں کو ڈھونڈنے میں مدد کی، دوسرے شہروں اور ملکوں میں رہنے والے پرانے دوستوں سے رابطہ کرا دیا لیکن بہت دیر میں یہ احساس ہوا کہ دور رہنے والوں سے رابطے کے عوض ہم قریب رہنے والے دوستوں سے بہت دور ہو گئے۔ اس وقت تک ہم کمپیوٹر اور انٹرنیٹ میں کھو گئے تھے جس نے ہمیں سکائپ پر وڈیو کال میں مصروف کر دیا تھا۔ پھر گوگل نے سب کچھ بدل دیا اور ہم گوگل میں دب گئے۔

    فیس بک پر جب غیر ضروری دوستیوں سے تنگ آگئے تو ٹویٹر، لنکڈ ان اور واٹس ایپ کا رخ کر لیا۔ گویا سوشل میڈیا نے ہمیں مکمل طور پر جکڑ لیا۔ جو وقت ہم گھر والوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتے تھے وہ سوشل میڈیا کی نظر ہونے لگا۔ کمپیوٹر پر موجود سارے ورچوئل دوستوں کو پہچاننے میں تو آسانی ہو گئی لیکن مجسم انسانوں سے نا آشنا ہو گئے۔ میں سولہ سال سے جس اپارٹمنٹ میں رہتا ہوں، وہاں کسی کو نہیں جانتا لیکن مجھے معلوم ہے کہ اکثر پارکنگ میں ایسے لوگ ملتے ہیں جن سے میں سوشل میڈیا پر رابطے میں ہوں لیکن پڑوس میں رہ کر بھی کبھی ملاقات نہیں ہوتی۔ میں سوشل میڈیا کے دوستوں سے گفتگو کرتا ہوں، چیٹ اور وائس نوٹ بھیجتا ہوں لیکن  اپنے پڑوسیوں سے دور ہو گیا ہوں۔

    سوچتا ہوں ہماری اولاد جب ہماری عمر کو پہنچے گی تو ٹیکنالوجی انہیں کہاں لے جا چکی ہو گی ۔۔۔ ؟

    @ZafarDar

     https://www.facebook.com/zafarmdar

  • شمالی کوریا کا ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ ،  جاپان نے اشتعال انگیزی قرار دیدیا

    شمالی کوریا کا ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ ، جاپان نے اشتعال انگیزی قرار دیدیا

    شمالی کوریا نے ٹرین کے ذریعے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا ہےشمالی کوریا ایٹمی ہتھیاروں کے بغیر ایسا نظام تیار کرنے والا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : میزائل کو شمالی کوریا کی مشرقی بندرگاہ کے قریب چلتی ہوئی ٹرین سے داغا گیا ٹرین لانچ میزائل نیا نظام ہے جو حملہ آور دشمن کو نشانہ بنانے کیلئے تیار کیا گیا ہے شمالی کورین حکام کے مطابق میزائل نے مشرقی ساحل سے800 کلومیٹر دور سمندر میں ایک ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

    عالمی میڈیا کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے داغے گئے میزائل ایک نئے "ریلوے سے چلنے والے میزائل سسٹم” کی آزمائش ہیں جو کسی بھی طاقت کے خلاف ممکنہ جوابی کارروائی کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    جنوبی کوریا اور جاپانی حکام نے گزشتہ روز کہا تھا کہ انہیں شمالی کوریا کی جانب سے کیے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کا پتہ چلا ہے۔اس سے چند دن پہلے ہی اس نے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا جس کے بارے میں تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ایٹمی صلاحیت ہو سکتی ہے۔

    شمالی کوریا نے میزائل کی لانچنگ اسی دن کی جب جنوبی کوریا نے سب میرین سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

    جاپان کے وزیراعظم یوشڈی سوگا نے میزائل لانچ کو ‘اشتعال انگیز’ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے خطے کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

    خیال رہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے رواں ہفتے یہ دوسرا میزائل تجربہ ہے بیلسٹک میزائل کے تجربات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں جو شمالی کوریا کی ایٹمی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

    رواں ہفتے کے آغاز پر شمالی کوریا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایک کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا جو کہ جاپان کے بڑے حصے کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    افغانستان کےمسئلے پر پاکستان سے رابطے میں ہیں امریکا

  • اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    اسپیس ایکس پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ

    اسپیس ایکس کا خلائی جہازانسپائریشن 4 پہلی بار چار افراد کو لے کر خلا میں روانہ ہو گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق انسپائزیشن چاروں افراد کو لے کر زمین کے گرد چکر لگائے گی، خلائی شٹل فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس اسٹیشن سے روانہ ہوئی۔ خلائی گاڑی مشن کے تحت تین دن تک وہاں قیام کرے گی، مشن کو انسپیریشن 4 کا نام دیا گیا ہےاگلے تین دنوں میں انسپیریشن 4 کا عملہ ہر 24 گھنٹے میں 15 مرتبہ زمین کا چکر لگائے گا۔

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    جس میں شہری اسپیس ایکس کے راکٹ میں زمین کے گرد چکر مکمل کریں گے خلائی گاڑی زمین کے مدار میں پہنچنے کے بعد27 ہزار 360 کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے ہر 90 منٹ میں ایک چکر مکمل کرے گی خلائی گاڑی اس دوران زمین کے گرد آواز کی رفتار سے 22 گنا زیادہ تیزی کے ساتھ سفر کرے گی۔


    چند ماہ قبل ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس نے ناسا کے لیے انسانوں جیسے مدافعتی نظام رکھنے والے 73 ہزار خرد بینی جانور اور دیگر تحقیقاتی مواد کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن روانہ کیا تھا۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ پر 7،300 پاؤنڈ سے زیادہ تحقیقی مواد، رسد اور ہارڈ ویئر پر مشتمل جدید کارگو مشن کو جمعرات کے روز فلوریڈا میں کینیڈی اسپیس سنٹر سے خلائی اسٹیشن پر روانہ کیا۔


    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق سائنسدانوں کو انسانوں پر اسپیس لائٹ کے اثرات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرے گی ،اس سے ماہرین خلا میں رہتے ہوئے خلابازوں کی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے مطالعہ کریں گے، اور دریافت کیا جائے گا کہ خلا میں طویل مدتی قیام کس طرح انسانی صحت کو متاثر کرسکتا ہے۔

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

  • معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت  28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرایا ہے جسے ہوم سنیما کا نام دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی :غیر ملکی میڈیا کے مطابق اس نئے ٹی وی کو بطور خاص سنیما کے شوقین افراد کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جس کے بعد کمپنی کا کہنا ہے کہ سنیما گھروں تک جانے کی روایت پرانی ہو گئی ہے مگر اس کے لے ضروری ہے کہ آپ کے پاس کم از کم 70 ہزار امریکی ڈالرز ( ایک کروڑ 18 لاکھ 68 ہزار 500 پاکستانی روپے) اضافی ہوں –

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ایل جی کمپنی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ایکسٹریم ہوم سنیما 325 انچ (27 فٹ) چوڑا ہے اور 8 کے آپشن کے ساتھ مختلف سائزوں میں دستیاب ہے۔

    ایل جی الیکٹرانکس یو ایس اے کے نائب صدر ڈین اسمتھ نے تصدیق کی ہے کہ متعارف کرائے جانے والے نئے ہوم سنیما کی قیمتیں تقریبا ً70،000 امریکی ڈالرز سے شروع ہو کر 1.7 ملین امریکی ڈالرز ( 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار پاکستانی روپے) تک ہوں گی۔

    ایل جی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ہوم سنیما 2K ، 4K اور 8K کنفیگریشنز میں دستیاب ہے۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے ایکسٹریم ہوم سنیما میں شائقین کے لیے پاپ کارن کے علاوہ باقی سب کچھ ہے۔

    کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق متعارف کرائے جانے والے ہوم سنیما کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ صارفین اسے اپنے گھر میں موجود جگہ کے اعتبار سے افقی و عمودی طور پر بھی سیٹ کرسکتے ہیں کمپنی نے اس کے ساتھ ایک فلائٹ کیس بھی دیا ہے جس کی وجہ سے چھٹیوں کے دوران اسے اپنے ہمراہ لے جانا بھی ممکن ہوگا۔

    ایل جی کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہر سیٹ کو انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ پیک کیا جاتا ہے اور کسٹم پیکجنگ کا پورا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ صارفین تک پہنچنے میں کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔

    برطانوی اخبار کے مطابق لیکن بہت بڑے سائز کا ٹی وی متعارف کرانے والا ایل جی واحد ادارہ یا کمپنی نہیں ہے کیونکہ کچھ دن قبل ہی سام سنگ نے بھی دی وال کے نام سے ایک بڑی اسکرین کی نقاب کشائی کی تھی جو کہ ایک ہزار انچ کی ہے۔

    اخبار کے مطابق سام سنگ کی جانب سے متعار کرائی جانے والی دی وال نامی بڑی اسکرین ماڈیولر ڈیزائن میں ہے جو کئی چھوٹی اسکرینوں پر مشتمل ہوتی ہے جب کہ ایل جی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا ہوم سنیما صرف ایک اسکرین پر مشتمل ہے۔

    Interior of a luxury living room with billiard table

    میڈیا رپورٹ کے مطابق سام سنگ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے گھر کی دیوار کو ایک نئی جدت دی ہے اور گھریلو سجاوٹ کے ساتھ ساتھ انتہائی دلکش منظر بھی پیش کرتی ہے اور انتہائی خوشگوار و لاتعداد نئے تجربات سے ہم آہنگ کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔

    سام سنگ کی جانب سے تاحال دی وال کی قیمت کا عوامی طور پر باضابطہ اعلان تو نہیں کیا گیا ہے کہ لیکن میڈیا رپورٹ کے مطابق اس کا 2019 کا ایک ورژن ایک لاکھ امریکی ڈالرز (ایک کروڑ 69 لاکھ 55 ہزار پاکستانی روپے) میں فروخت ہوا ہے۔

  • سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    سوشل میڈیا اور آج کا نوجوان تحریر: محمد عمران خان

    انسان اپنی تمام ضروریات اپنے آپ پوری نہیں کرسکتا۔ اسے اپنی خواہشات، اپنی ضروریات اور اپنا مدعا دوسروں تک پہنچانا پڑتا ہے۔ پہنچانے کے عمل کو "ابلاغ” کہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا مطلب عوام کے درمیان مختلف ذرائع سے مواصلاتی روابط پیدا کرنا ہے۔ جو موجودہ دور کے معاشرے کے مزاج، خیالات، ثقافت اور عام زندگی کی کیفیات پر دورس اثرات کا حامل ہے۔ اس کا بہاؤ انتہائی وسیع اور لامحدود ہے۔ سوشل میڈیا ذرائع کی طرف سے سماج میں ہر شخص کو زیادہ سے زیادہ اظہار رائے و آزادی اظہار کے مواقع حاصل ہو رہے ہیں۔ آزاد سوشل میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے۔ یعنی جس ملک میں سوشل میڈیا کے ذرائع آزاد نہیں ہیں وہاں ایک صحت مند جمہوریت کی تعمیر ہونا ممکن نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کا جال اتنا وسیع ہے کہ اس کے بغیر ایک مہذب معاشرے کا تصور بھی نا ممکن ہے۔ ٹیکنالوجی کا استعمال اگر ضروریات کے تحت مثبت طریقے سے کیا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے میں نعمت سے کم نہیں۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسے ٹول کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے معاشرے میں مثبت و منفی اثرات کے بے انتہا نقوش چھوڑے ہیں۔ سوشل میڈیا اس وقت پوری دنیا خصوصاً نوجوانوں کو اپنے سحر اور رنگینیوں میں جکڑے ہوئے ہے۔ 12 سال سے 35 سال کے افراد میں سوشل میڈیا کے استعمال کا رجحان بے انتہا حد تک بڑھ چکا ہے۔ جن نوجوانوں نے سوشل میڈیا کے مثبت پہلو کو اپنا کر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے وہ اس سے بے پناہ مالی و معاشرتی فوائد حاصل کررہے ہیں۔ سوشل میڈیا مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے نوجوان مرد و عورتیں لاکھوں کروڑوں روپے کما کر اپنے روزگار کا ذریعہ حاصل کر چکے ہیں۔ ہر آتے دن کے ساتھ ہی فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کے معاشی فوائد کو کھول کھول کر بیان کررہے ہیں۔

    پاکستان میں گزشتہ کئی سالوں سے دیکھا جارہا ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر معمولی استعمال ہو رہا ہے اور نوجوان بڑھ چڑھ کر اس کا استعمال کرتے اور اس سے متاثر ہوتے بھی نظر آ رہے ہیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کوئی بھی نیم خواندہ معاشرہ با آسانی انتہا پسند رویوں کا شکار ہوکر تعمیری سرگرمیوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کل سوشل میڈیا پر ٹرولز یعنی سوشل میڈیا کے ایسے گمنام یا اپنی اصل شناخت چھپائے ہوئے صارف جن کا مقصد جھوٹ سچ کی آمیزش یا طنز و مزاح کی آڑ میں انتشار پھیلانا ہوتا ہے، بڑے متحرک ہیں۔ ہم سب اس سنگین صورتحال سے آگاہ تو ہیں لیکن سدباب کیلئے عملی طور پر کوئی منظم سوچ یا کوئی مربوط حکمت عملی نظر نہیں آرہی۔ اس حوالے سے شاید مناسب تجویز یہی ہوسکتی ہے کہ سوشل میڈیا کے مثبت اور قابل قبول استعمال کے حوالے سے معاشرے میں آگاہی کی ضرورت ہے جس میں والدین اور اساتذہ کو سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی باریکیوں سے آگاہ ہونا ہوگا۔ تاکہ وہ اپنی اولاد اور شاگردوں کی تربیت کرتے قت اس اہم مگر بڑی حد تک نظر انداز معاملے پر مناسب توجہ دے سکیں۔ اس حوالے سے والدین کی اولین اور اہم ترین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کو کس عمر میں انٹرنیٹ اور سمارٹ فون تک رسائی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ پھر رسائی سے پہلے اور رسائی کے دوران ان کی مناسب بنیادی تربیت اور نگرانی بھی نہایت ضروری ہے۔

    سوشل میڈیا کے منفی اثرات کی جانب ایک نگاہ دوڑائی جائے تو فکر انگیز حد تک یہ نوجوانوں کو بے راہ روی کا شکار کر چکا ہے۔ نوجوان فحاشی و عریانی کے بدمست کھیل میں کود کر اپنا مستقبل داؤ پر لگاتے نظر آتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ہی دشمن بھی اپنی چال چلتے ہوئے نوجوانوں کے ذہنوں میں شیطانیت کا پرچار کرتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر بھی سوشل میڈیا پر لڑی جانے والی جنگ ہے جو آج کل سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کر چکی ہے۔

  • فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

    فیس بک کی تحقیق، انسٹاگرام نوجوان لڑکیوں کے لئے نقصان دہ ثابت

    فیس بک کی جانب سے ملکیتی ایپ انسٹاگرام پرکی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسٹاگرام سے نوجوان لڑکیوں میں نقصان دہ اثرات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کی رپورٹ کے مطابق فیس بک کے محققین کی جانب سے تین سال پر محیط تحقیق میں یہ پایا گیا ہے کہ انسٹاگرام کے نوعمر صارفین کی ایک بڑی تعداد کی نفسیات پرمواد کی وجہ سے برا اثر پڑ رہا ہے۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    فیس بک کی جانب سے 2019 میں پیش کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق انسٹاگرام پر تصاویر سے ہر تین میں سے ایک نو عمر لڑکی کو اپنے جسم کے بارے میں نفسیاتی خدشات لاحق ہوجاتے ہیں تحقیق میں رائے دینے والے نو عمروں کے مطابق ایپ کے استعمال سے اضطرات اور ڈپریشن میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

    فیس بک پریزنٹیشن میں کہا گیا ہے کہ نوجوانوں میں جنہوں نے خودکشی کے خیالات کی اطلاع دی ، 13 فیصد برطانوی صارفین اور 6 فیصد امریکی صارفین شامل تھے 32 فیصد نوعمر لڑکیوں نے کہا کہ جب انہیں اپنے جسموں کے بارے میں برا محسوس ہوتا ہے تو انسٹاگرام اس احساس کو مزید بڑھا دیتا ہے-

    گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

    وال اسٹریٹ جنرل کے مطابق وہ خصوصیات جن کو سوشل میڈیا کمپنی نے سب سے زیادہ نقصان دہ قرار دیا ہے وہ اس کے کلیدی الگورتھم کا حصہ ہیں۔

    دوسری جانب انسٹاگرام نے اس تحقیق کی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئےکہا کہ کمپنی نوجوان صارفین کو سمجھنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔

    ادھر انسٹاگرام کی پبلک پالیسی کی سربراہ کارینا نیوٹن نے ایک بلاگ پوسٹ میں لکھا کہ تمام لوگوں کے اذہان میں یہی سوال موجود ہے کہ کیا سوشل میڈیا معاشرے کے لئے اچھا ہے یا برا؟ اس پر تحقیق ملی جلی ہےاس سے دونوں اثرات اخذ کیے جاسکتے ہیں انسٹاگرام میں ہم سوشل میڈیا کے مثبت اثرات کو اپنا مقصد بناتے ہوئے اس سے پیدا ہونے والے خطرات پر نظر رکھتے ہیں-

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    کا رینا نیوٹن کے مطابق انسٹاگرام نے خودکشی، خود ضربی، کھانے سے متعلق بیماریوں پر آگاہی پر بہت تفصیل میں کام کیا ہے تاکہ ایپ کو ہر کسی کے لئے محفوظ بنایا جاسکے-

    ایک بلاگ پوسٹ میں کارینا نیوٹن نے اس رپورٹنگ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی صارفین کو انسٹاگرام کی مخصوص اقسام پر رہنے سے دور کرنے کے طریقوں پر تحقیق کر رہی ہے۔

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

  • چین کا سوشلسٹ اقدار پر مبنی "مہذب” انٹرنیٹ کو فروغ دینے کا منصوبہ

    چین کا سوشلسٹ اقدار پر مبنی "مہذب” انٹرنیٹ کو فروغ دینے کا منصوبہ

    چین کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ان کا ملک سوشلسٹ اقدار پر مبنی "مہذب” انٹرنیٹ کو فروغ دینے کی کوششوں میں مزید تیزی لائے گا۔

    باغی ٹی وی :چینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برسوں کی تیز رفتار نمو اور تبدیلی کے بعد چین کے ریگولیٹرز ٹیکنالوجی سے لے کر تعلیم اور تفریح تک کئی شعبوں کی سخت نگرانی کے ساتھ معاشرے پر کنٹرول کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    رپورٹ کے مطابق سائبراسپیس کو حکمران کمیونسٹ پارٹی اور اس کی کامیابیوں کے بارے میں تعلیم کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے”تاریخ کے حوالے سے منفی سوچ” کے خلاف واضح مؤقف اختیار کیا جانا چاہیے اور اچھی اخلاقی اقدار کو فروغ دیا جانا چاہیے ۔

    چین کا افغانستان میں نئی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ

    8 کروڑ روپے کا سفید شاہین،نیلامی کا نیا عالمی ریکارڈ

    رپورٹ میں کہا گیا کہ سائبر اسپیس میں رویے کے اصولوں کو بھی اخلاقیات اور قوانین، جو کہ سوشلسٹ بنیادی اقدار کے مطابق ہے، کو مضبوط بنانا چاہیے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ کو ‘صحیح’ اور ‘محفوظ طریقے سے’ استعمال کرنے میں مدد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ انٹرنیٹ پلیٹ فارمز کو خود نظم و ضبط اور نظم و نسق کو بہتر بنانے کے لیے مواد پلیٹ فارمز جیسے لائیو اسٹریمنگ کو مضبوط کیا جائے گا اور عوام کو نگرانی میں حصہ لینے کی ترغیب دی جائے گی۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے…

    رپورٹ کے مطابق سائبر کرائم اور نابالغوں کے تحفظ جیسے قوانین کی تشکیل، نظر ثانی اور ان پر عملدرآمد کو بھی تیز کیا جائے گا۔

    اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا جائزہ لیا جائے امریکا