Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    سوشل میڈیا کا غیرضروری استعمال اور نقصانات:تحریر: عمران افضل راجہ

    گزشتہ دنوں شادی کی ایک تقریب میں شرکت کا موقع ملا، ہم بہت پرجوش تھے کہ چلو
    کافی عرصے بعد سب سے ملنے کا موقع مل رہاہے، خوب گپ شپ ہو گی۔ وہاں پہنچے تو
    دیکھا دلہا دلہن سمیت سب لوگ سیلفیاں لینے میں مصروف ہیں۔ کسی کے پاس باتکرنے
    کی فرصت نہیں۔ کچھ دیر یوں ہی سب کو دیکھ دیکھ کر بور ہوتے رہے پھر ہم نے بھی
    اپنا موبائل نکالا اور فیس بک پرسکرولنگ شروع کر دی۔ گزشتہ اتوار ایک پارک جانا
     ہوا تو وہاں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا۔ سب تفریح سے لطف اٹھانے کیبجائے اپنے
     اپنے موبائل کی سکرین پر جھکے ہوئے تھے۔

    ہم سب موبائل ہاتھ میں لیے فیس بک، واٹس ایپ، انسٹا گرام میں مصروف ہیں۔ سوشل
    میڈیا پر ہمارے سینکڑوں دوست ہیںلیکن درحقیقت ہم بالکل تنہا ہیں۔ ہمارے پاس
    اپنے گھر والوں کے پاس بیٹھنے، ان سے بات چیت کرنےکا وقت نہیں۔ گھر کےہر فرد کی
     اپنی ایک الگ دنیا ہے جو موبائل کی سکرین تک محدود ہے۔ اس تنہائی کا اگرچہ
    وقتی طور پر ہم سب کو احساس نہیں لیکنجتنا زیادہ سوشل میڈیا کے استعمال میں
    اضافہ ہو رہا ہے اتنا ہی معاشرے میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔
    ہر دوسراشخص احساس کمتری، مایوسی، حسد، چڑچڑےپن اور سماجی تنہائی کا شکار نظر
    آتا ہے۔

    پہلے پہل شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں جائیں تو رشتے دار ایک دوسرے سے گھل
    مل کر باتیں کرتے تھے، ایک دوسرے کے دکھدرد سنتے تھے،  تقریب کو بھرپور  طریقے
    سے انجوائے کیا جاتا تھا۔ مگر اب سب لوگ سیلفیاں لینے اور اسٹیٹس لگانے میں
    مصروفہوتے ہیں۔ کسی کے پاس ایک دوسرے سے بات کرنے کی فرصت نہیں ہوتی۔ اس طرح
    غیر محسوس طریقے سے ہم اپنے پیاروںسے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

    جتنا زیادہ لوگ سوشل میڈیا سے جڑ رہے ہیں اتنا زیادہ سماجی تنہائی کا شکار ہوتے
     جا رہے ہیں۔  ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ جو لوگفیس بک ، ٹویٹر ، Google+ ،
    یوٹیوب ، لنکڈ ان ، انسٹاگرام ، پنٹیرسٹ ، ٹمبلر ، وائن ، اسنیپ چیٹ اور ریڈڈیٹ
     سمیت 11 سوشلمیڈیا سائٹس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، اتنا ہی سماجی طور پر الگ
     تھلگ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیاپر زیادہ دوستوں کا مطلب ہر گز یہنہیں ہے کہ حقیقت
    میں بھی آپ کے زیادہ دوست ہیں۔

    زیادہ تر سوشل میڈیا پر صداقت کی شدید کمی ہے۔ لوگ اپنی دلچسپ مہم جوئی کے لیے
    اس کا استعمال کرتے ہیں،  قریبی رشتہ دارایک  دوسرے سے کتنا پیار کرتے ہیں ، اس
     قسم کی تصاویر فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت
    میں یہ سب ایک دھوکہ ہے۔ اگرچہ یہ بظاہر بہت اچھا لگتا ہے لیکن اکثر یہ دیکھا
    گیا ہے کہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔سوشل میڈیا پر مدرز ڈے اور فادرز ڈے دھوم
    دھام سے منانے والے، اور جذباتی پوسٹ لگانے والے اکثر لوگوں کے پاس عیدکے عید
    بھی اپنے والدین سے ملنے کا وقت نہیں ہوتا۔ ایک ایسی ہی خاتون جن کا سٹیٹس دیکھ
     کر لگتا تھا کہ ان سے زیادہ محبتکرنے والا اور خیال رکھنے والا شوہر کسی کا
    نہیں، ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی تو چہرے پر نیل کے نشانات تھے. استفسار پر
    معلومہوا کہ شوہر نے نشے کی حالت میں پیٹا ہے۔

    معاشرے میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ سوشل میڈیا پر
    غیر حقیقی زندگی کی تشہیر ہے۔ نوجوان نسلاپنے جیون ساتھی کو ویسا ہی دیکھنا
    چاہتی ہے جیسا کہ سوشل میڈیا پر دکھایا جاتا ہے اور جب وہ ان کی امیدوں پر پورا
     نہیں اترتا توفاصلے اور اختلافات بڑھتے جاتے ہیں۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو وقت
    دینے کی بجائے سوشل میڈیا پر مصروف ہیں۔ ان تمامباتوں کا منطقی نتیجہ طلاق کی
    صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔

    اسی طرح خودکشی کے رجحان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لوگ اپنی کامیابیوں، ترقی،
    تقریبات، تفریح حتی کہ کھانے پینے کی تصاویربھی سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔
    اس طرح وہ لوگ جو یہ سب حاصل نہیں کر سکتے وہ احساس محرومی کا شکار ہو جاتے
    ہیں۔اور یہ سب حاصل نہ ہونے پر ناکامی کی صورت میں یا تو خودکشی کر لیتے ہیں یا
     پھر ان چیزوں کے حصول کے لیے جرائم پیشہسرگرمیاں اختیار کر لیتے ہیں۔

    انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ اسے پیدائش سے لے کر موت تک زندگی کے ہر قدم پر
    دوسرے انسانوں کا سہارا اورمدد درکار ہوتیہے۔ وہ اپنی خوشیاں اور غم دوسروں کے
    ساتھ بانٹنا چاہتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا نے انسان کو سچ مچ کا حیوان بنا دیا ہے۔
     اسکی ایک مثال چودہ اگست پر مینار پاکستان پر ہونے والا سانحہ ہے۔  اگر ہم اس
    قسم کے واقعات کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو ہماس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سوشل
    میڈیا کے بے لگام استعمال نے ہم سے ہماری اخلاقیات،  صحت اور سماجی اقدار چھین
    لی ہیں۔اس نے نہ صرف ہمیں تنہا کر دیا ہے بلکہ ایک ذہنی، جسمانی اور نفسیاتی
    بیمار معاشرے کو بھی جنم دیا ہے۔

    سوشل میڈیا نےایک نشے کی طرح لوگوں کوجکڑ لیا ہے۔ چند لمحے موبائل ہاتھ میں نہ
    ہو تو طبیعت بے چین ہو جاتی ہے۔ گھنٹوںفیس بک اور انسٹا گرام پر بے معنی اور
    غیر ضروری پوسٹیں دیکھتے رہنے میں وقت کے ضائع ہونے کا احساس ہی نہیں ہوتا۔
    ماہریننفسیات اسے ‘فیس بک ایڈکشن ڈس آرڈر’ کا نام دیتے ہیں۔ یہ لوگ نہ صرف
    نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتے ہیں بلکہ رات بھر جاگنےاور بیٹھے رہنے سے جسمانی
    بیماریوں کا بھی بآسانی شکار ہو جاتے ہیں۔ زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے موٹاپے،
    جوڑوں کے درد،  دل اورشوگر کے امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ نیند کی کمی سے
    چڑچڑاپن اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں۔ ماہرین صحتنے بیٹھے
    رہنے کو سگریٹ نوشی سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اس سے بہت سے خطرناک امراض جنم لیتے
    ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہر سالہزاروں افراد موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم فرصت کے
    لمحات میں بیٹھ جاتے ہیں اور غیر ارادی طور پر موبائل پر سکرولنگ شروعکر دیتے
    ہیں، جو کہ نفسیاتی طور پر بے حد خطرناک ہے۔ اس سے معاشرے میں نکمے اور بے کار
    لوگوں کی ایک فوج پیدا ہوتی جارہی ہے۔جن کا کام صرف سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں
    کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ جو ہر وقت ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں لیکن عملیزندگی
    میں مکمل طور پر ناکام ہوتے ہیں۔ ۔

    سوشل میڈیا پر لوگ ہر وقت دوسروں سے موازنہ کرتے ہیں، جس سے جلن، حسد اور احساس
     کمتری جنم لیتا ہے۔ تحقیق سے یہبات ثابت ہوئی ہے کہ سوشل میڈیا میں موازنہ کا
    عنصر حسد کا باعث بنتا ہے- زیادہ تر لوگ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی
    تعطیلات، بے پناہ محبت کرنے والے ساتھی اور بہترین سلوک کرنے والے بچوں کو دیکھ
     کر حسد پیدا ہوتا ہے۔ ایک تحقیق میںماہرین نے فیس بک کا استعمال کرتے ہوئے حسد
     اور دیگر منفی جذبات کو دیکھتے ہوئے لکھا ہے کہ "صرف فیس بک پر ہونے والےحسد
    کے واقعات کی شدت حیران کن ہے، یہ اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ فیس بک
    ناگوار جذبات کی افزائش گاہ ہے۔” وہمزید کہتے ہیں کہ اگر لوگوں نے اس سے نکلنے
    کی کوشش نہ کی تو یہ ایک ایسا شیطانی چکر بن سکتا ہے، جو کہ جلن، حسد، مقابلہ
    بازی،احساس محرومی اور منفی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ کیونکہ
    حسد محسوس کرنے سے ڈپریشن اور دیگر منفیجذبات کو فروغ ملتا ہے اور منفی خیالات
    جسمانی صحت کو بھی تباہ کر دیتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہر لمحہ اپنے ایڈونچر کو اپ لوڈ کرنے کے
    لیے کبھی پہاڑ کی چوٹی پر،  کبھی دریا کے کنارے اورکھبی گلیشیر کے نیچے کھڑے ہو
     کر تصویریں لینے والے لوگ اکثر اوقات اپنی قیمتی جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے
    ہیں۔ ہر روز اس قسمکے واقعات اخبارات کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

    جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کے علاوہ سوشل میڈیا اخلاقی اقدار کو بھی نقصان
    پہنچانے کا سبب ہے۔ ٹک ٹاک اس کی ایک بد ترینمثال ہے۔ ٹیکنالوجی استعمال کرنے
    کے جنون میں مبتلا لوگ معاشرتی اور اخلاقی روایات کو سمجھے بغیر ٹک ٹاک پر غیر
    اخلاقی مواداپ لوڈکرتے رہتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ باعزت خاندانوں کے
    بچے، بچیاں، بوڑھے، جوان سب اس میں مصروفہیں۔

    ہمارا مذہب ہمیں میانہ روی کا درس دیتا ہے۔ نمودونمائش سے روکتا ہے۔ دین نے تو
    ہمیں سکھایا ہے کہ پھلوں کے چھلکے تکاپنے ہمسائے سے چھپا کر پھینکو، کہیں ان کو
     احساس محرومی ہو اور ان کی دل آزاری ہو۔ اس کے باوجود ہم دوسروں کے جذباتاور
    احساسات کی پرواہ کیے بغیر اپنے ہر لمحے حتی کہ کھانے پینے کی تصویریں بھی سوشل
     میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ یہ سوچے بغیر کہ جولوگ مہنگے ہوٹلوں میں یہ کھانا
    نہیں کھا سکتے ان کے دل پر کیا گزرے گی۔

    ان تمام باتوں کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ سوشل میڈیا کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
    ظاہر ہے کہ یہ ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے ، اور ایسےدوستوں کو تلاش کرنے میں ہماری
    مدد کرتا ہے جن سے ہم برسوں پہلے رابطہ کھو چکے تھے۔ اس کے علاوہ معلومات
    کےحصول اورکاروبار کرنے میں بھی مددگار ہے۔ لیکن اس کے استعمال سے پہلے ہمیں
    کچھ حدود کا تعین کرنا ہو گا۔ بجائے اس کے کہ ہم حکومتسے کبھی ٹک ٹاک، کبھی یو
    ٹیوب پر پابندی کا مطالبہ کریں، ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہو گی۔ ان
    تمام چیزوں کو استعمالکرتے ہوئے اعتدال اور اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھنا
    چاہیے۔

    اپنے ہر لمحہ کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بجائے اس کو کسی با مقصد کام کے
    لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے ذریعےمعلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، پیسے
     کمانے اور کاروبار کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ دوسروں پر تنقید کرنے
    اور پابندیاںلگانے سے پہلے اپنی اصلاح کرنا ضروری ہے۔ ہم نظم و ضبط اور پابندی
    وقت کے ذریعے اپنی جسمانی اور ذہنی صحت کا خیال بھیرکھ سکتے ہیں۔ موجودہ دور
    میں ٹیکنالوجی سے دور نہیں رہا جا سکتا لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اس
     میں کھو جائیں۔ ہم پراپنی جان کا بھی حق ہے اور اپنے رشتے داروں کا بھی۔ اس
    نشے سے نکلنے میں سب سے اہم کردار والدین ادا کر سکتے ہیں۔ لیکنزیادہ تر والدین
     خود ہی ان چیزوں سے نہیں نکل پاتے۔ ان کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت نہیں۔
    انہیں شروع سے ہیبچوں کو یہ بات سمجھانی چاہیے کہ ہر کام اپنے وقت پر کرنا ہے
    اور صحت، فیملی، پڑھائی اور معاشرے  کا کامیاب شہری بننا سبسے زیادہ ضروری ہے۔
    بچوں سے بات چیت کریں، ان کو اپنے بچپن اور اسکول لائف کے قصے سنائیں، ان کے
    مسائل سنیں۔سب سے پہلے تو اپنی صحت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ورزش کے لیے وقت
    مختص کرنا چاہیے۔ دن کے کچھ گھنٹے صرف اپنی فیملیکے لیے مخصوص ہونے چاہئیں۔
    سونے جاگنے کے اوقات میں بھی موبائل کو بند کر دیں۔ اگر یہ چھوٹی چھوٹی
    تبدیلیاں ہم اپنیزندگی میں لے آئیں تو یقینا زندگی پر بہت خوشگوار اثرات مرتب
    ہوں گے۔ لیکن اگر ہم نے ابھی اس لت سے نکلنے کی کوشش نہیںکی تو اس کے گھناؤنے
    اثرات زندگیوں کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ جس کے نتائج سانحہ مینار پاکستان سے
    بھی زیادہ شدید نوعیت کے ہوسکتے ہیں۔

    Imran Afzal Raja is a freelance Journalist, columnist & photographer. He
    has been writing for different forums. His major areas of interest are
    Tourism, Pak Afro Relations and Political Affairs. Twitter: @ImranARaja1

  • یوٹیوب کا ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان

    یوٹیوب کا ویکسین مخالف مواد کو بلاک کرنے کا اعلان

    فیس بک اور ٹوئٹر کے بعد یوٹیوب نے ویکسین مخالف مواد کو پلیٹ فارم سے بلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نئی پالیسی کے تحت عالمی ادارہ صحت یا ممالک میں منظوری حاصل کرنے والی ہر قسم کی ویکسینز کے اثرات کے خلاف گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کی جائے گی۔

    ویکسین کے بارے میں یہ کہنا کہ اس کے استعمال سے دائمی مضر اثرات کا سامنا ہوسکتا ہے یا ویکسین سے بیماری کا پھیلاؤ کم نہیں ہوتا یا تحفظ نہیں ملتا وغیرہ پر کمپنی کی جانب سے ایکشن لیا جائے گا۔

    کورونا ویکسین سے متعلق گمراہ کن معلومات :فیس بک نے وینزویلا کے صدر کا آفیشل پیج…

    تاہم صارفین کی جانب سے ویکسین پالیسیوں، نئے ویکسین ٹرائلز اور ماضی میں ویکسینز کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے مواد کو پوسٹ کرنے کی اجازت ہوگی۔

    صارفین ویکسینز پر سائنسی بحث اور اپنے ذاتی تجربے کو بیان کرسکیں گے، مگر ویکسین کے حوالے سے گمراہ کن باتوں کی اجازت نہیں ہوگی۔

    یوٹیوب کے علاوہ فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی کورونا کی بیماری اور ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد پر پابندی عائد کر رکھی ہے اس سے پہلے اگست میں یوٹیوب نے کورونا وائرس سے متعلق غلط معلومات فراہم کرنے والی 10 لاکھ سے زائد ویڈیوز ہٹا دی تھیں۔

    فیس بک کا جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    یوٹیوب انتظامیہ کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت، امریکی سینٹر فارڈیزیز کنٹرول سمیت دیگر ماہرین صحت کی رائے کو دیکھتے ہوئے ویڈیوز کے مواد کو چیک کیا گیا ویڈیوز میں کورونا کے بارے میں معلومات غلط، نقصان دہ اور غیر واضح تھیں۔ یوٹیوب کا کہنا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم پر ہر منٹ میں 500 گھنٹے سے زیادہ مواد اپ لوڈ کیا جاتا ہے۔

    یوٹیوب کے گلوبل ترسٹ اینڈ سیفٹی نائب صدر میٹ ہالپرین نے بتایا کہ جامع پالیسیوں کو تشکیل دینے میں وقت لگتا ہے، ہم ایسی پالیسی لانچ کرنا چاہتے ہیں جو جامع، تسلسل کے ساتھ نفاذ کے لیے آسان اور چیلنجز کا سامنا کرسکے۔یوٹیوب کے ساتھ ساتھ فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی کووڈ 19 کی بیماری اور ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن مواد پر پابندی عائد ہے۔

    یوٹیوب نے اگست 2021ء میں بتایا تھا کہ اس نے اپنے پلیٹ فارم پر کووڈ 19 سے متعلق بہت زیادہ خطرناک گمراہ کن مواد پر مبنی 10 لاکھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کردیا ہے۔یوٹیوب کے چیف پراڈکٹ آفیسر نیل موہن نے یہ اعدادوشمار ایک بلاگ پر شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ فروری 2020 سے اب تک 10 لاکھ ویڈیوز کو ڈیلیٹ کیا گیا ہے۔

    اس سے قبل سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بُک نے جھوٹی خبریں اور معلومات پھیلانے والے اکاؤنٹس، پیجز اور گروپس کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا تھا فیس بُک نے اپنی پریس ریلیز میں کہا تھا کہ جو سوشل میڈیا اکاؤنٹس باقاعدگی سے غلط اور گمراہ کن معلومات پھیلاتے ہیں، ان کی پوسٹس کو ہٹانے کے بجائے ان پر لیبل لگا کر صارفین کو خبردار کیا جائے گا۔

    فیس بک نے نفرت اور نسل کی بنا پر نازیبا جملوں کو روکنے کا ایک اہم ٹول پیش کردیا

  • روس :گوگل پر ڈیڑھ کروڑ کا جرمانہ عائد

    روس :گوگل پر ڈیڑھ کروڑ کا جرمانہ عائد

    ماسکو: روسی عدالت نے سرچ انجن گوگل پر 90 ہزار ڈالرز کا جرمانہ عائد کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق ماسکو کی مقامی عدالت نے سرچ انجن گوگل کو غیر قانونی مواد ڈیلیٹ نہ کرنے جرمانہ عائد کیا جو تقریبا ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے بنتا ہے۔

    گوگل کی جانب سے جرمانہ عائد کیے جانے کے حوالے سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔

    روس نے یوٹیوب کی جانب سے روس کے جرمن لینگویج چینلز کو ڈیلیٹ کیے جانے پر یوٹیوب پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ ماسکو کی ایک عدالت نے ممنوعہ مواد ڈیلیٹ نہ کرنے پر فیس بک پر 21 ملین روبلز مالیت کے 5 جرمانے عائد کیے تھے جو 2 لاکھ 88 ہزار امریکی ڈالر بنتے ہیں جبکہ اسی عدالت نے ٹوئٹر پر بھی 5 ملین روبلز کا جرمانہ عائد کیا تھا۔

    جنوبی کوریا میں گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد

    اس سے قبل جنوبی کوریا میں بھی گوگل پر150 ملین یورو کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا اینٹی ٹرسٹ اتھارٹی کی جانب سے جرمانے کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ گوگل نے آپریٹنگ سسٹم اور ایپس کی مارکیٹ میں اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا ہے۔

    یہ جرمانہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں کے خلاف ریگولیٹری اداروں کے اقدامات میں نیا اضافہ ہے جنوبی کوریا نے ایک ایسا نیا قانون متعارف کروایا تھا جس کا مقصد ایپس اور گیموں کی دنیا میں اس کی اجارہ داری کو کم کرنا ہے۔

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    جنوبی کوریا کی جانب سے گوگل اور ایپل جیسے بڑے ایپ سٹور آپریٹرز پر سافٹ ویئر ڈویلپرز کو اپنے ادائیگی کے نظام استعمال کرنے پر مجبور کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ گوگل نے "اینٹی فریگمنٹشن معاہدے” کے ذریعے مارکیٹ کے مقابلے کے رجحان میں رکاوٹ ڈالی ہے جو سمارٹ فون بنانے والوں کو اینڈرائیڈ کے ترمیم شدہ ورژن انسٹال کرنے سے روکتا ہے، جسے "اینڈرائیڈ فورکس” کہا جاتا ہے-

    اینٹی ٹرسٹ واچ ڈاگ نے گوگل کو مقامی کرنسی میں 207.4 ارب (176.8 ملین ڈالر) جرمانہ کیا تھا اور ٹیکنالوجی کی عالمی کمپنی کو اصلاحی اقدامات کرنے کا حکم دیا۔

    دو سے تین سالوں کے دوران نظام شمسی سے باہر زندگی کے آثار دریافت کر لیں گے سائنسدانوں کا دعویٰ

  • آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والی نسلوں کو مستقبل میں ہیٹ ویو کے واقعات میں 7 گنا اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق برسلز یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق میں ماہرین نے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں موسمیاتی تبدیلیاں انتہائی شدت اختیار کر لیں گی ہماری آنے والی نسلیں شدید موسمی اثرات کا سامنا کریں گی۔

    ان بچوں کو اپنے دادا کے مقابلے میں جنگلات میں آگ لگنے کے دگنے واقعات کا سامنا کرنا پڑے گا جب کہ خشک سالی کے واقعات میں بھی 3 گنا اضافہ ہو جائے گا۔ سب سے زیادہ افریقی ممالک متاثر ہوں گے جہاں ایسے شدید موسمی اثرات یورپ کے مقابلے میں 50 گنا زیادہ ہوں گے۔

    تحقیق کے مطابق افریقہ میں 2021 میں پیدا ہونے والے بچے یورپ میں پیدا ہونے والے بچوں کے مقابلے میں ہیٹ ویو کے 50 گنا زیادہ واقعات دیکھیں گے۔ اسی طرح خشک سالی اور جنگلوں میں آتشزدگی جیسے واقعات میں 6 گنا تک اضافے کا خدشہ ہے2021 میں پیدا ہونے والوں بچوں کو اپنی زندگی میں اپنے دادا کے مقابلے میں خشک سالی کے 2.6 گنا زیادہ اور سیلابی صورت حال کے 2.8 گنا زیادہ واقعات سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    تحقیق کی منصف ڈاکٹر جوئری نے کہا ہے کہ اس ریسرچ میں نے ہم نے یہ بتایا ہے کہ آنے والی دہائیوں میں انسانوں کو کن بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ابھی سے جارحانہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

    تحقیق میں 1970 سے 2019 تک موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والے حادثات کے اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے جس کے مطابق 1983 میں ایتھوپیا میں شدید خشک سالی کے باعث 3 لاکھ افراد زندگی کی بازی ہار گئےاسی سال سوڈان میں خشک سالی سے ڈیڑھ لاکھ افراد چل بسے۔

    1970میں بنگلہ دیش میں سمندری طوفان 3 لاکھ جانیں لے گیا جبکہ1991 میں بنگلہ دیش میں ہی سمندری طوفان ایک لاکھ 38 ہزار جانیں لےگیا خشک سالی سے سب سے زیادہ افریقی ممالک ایتھوپیا، سوڈان، موزمبیق جب کہ سمندری طوفان اور سیلاب سے بنگلہ دیش اور میانمار زیادہ متاثر ہوئے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    تحقیق میں جاری کئے اعدادو شمار کے مطابق مالی لحاظ سے سمندری طوفان کٹرینا امریکا کے لیے تباہ کن ثابت ہوا 2005 میں آنے والے اس طوفان سے امریکا کا 163 ارب ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا جبکہ 2017 میں سمندری طوفان ہاروے سے امریکا کو 96 ارب ڈالر کانقصان ہوا اسی سال سمندری طوفان ماریا نے امریکا کو 69 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

    اس سے قبل تحقیق میں سائنسدانوں نے کہا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے انسان ہی نہیں جانور بھی متاثر ہوتے ہیں امریکی ساِنسی جریدے کی جانب سے نئی تحقیق کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافہ برداشت کرنے کے لیے گرم خون والے کئی جانور اپنی ہئیت تبدیل کررہے ہیں آسٹریلوی طوطوں سے لے کر امریکی پرندوں تک کئی پرندوں کی چونچیں بڑی ہونے لگیں۔

    ماہرین کا کہنا تھا کہ 30 جانوروں میں سب سے زیادہ جسمانی تبدیلیاں آسٹریلوی طوطے میں دیکھی گئی ہیں، ان طوطوں کی چونچ 1871 کے بعد سے اب تک 4 سے 10 فیصد تک بڑھ چکی ہیں جبکہ یورپی خرگوش سمیت کسی کے کان یا دُم میں تبدیلی آرہی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وہ اس ارتقائی تبدیلی کے حیاتیاتی نتائج کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہہ سکتے ایسا کہنا بھی قبل از وقت ہو گا کہ اس کے پیچھے صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے عوامل ہیں۔

    انٹارکٹیکا میں گرمی کی شدت میں اضافہ بھیانک حد تک پہنچ سکتا ہے، ماہرین نے خطرے کی…

    دوسری جانب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیاتھا، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کا کہنا تھا کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن نے کہا تھا کہ چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک…

  • اسکائپ ، زوم ، گوگل میٹ اور واٹس ایپ کے مقابلے میں آنے کو تیار

    اسکائپ ، زوم ، گوگل میٹ اور واٹس ایپ کے مقابلے میں آنے کو تیار

    مقبول ویڈیو کالنگ سروس اسکائپ اب زوم، گوگل میٹ اور واٹس ایپ سمیت دیگرسروسز کے مقابلے میں آنے کو تیار ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس نئے اسکائپ کی آزمائش کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے اور کمپنی کے مطابق یہ پہلے سے زیادہ تیزرفتار، قابل انحصار اور جدید ڈیزائن کی حامل سروس بن جائے گی۔

    کمپنی کے مطابق ان میں سے ایک بڑی تبدیلی نیا گرڈ ڈسپلے ہے جس میں کال میں شامل تمام افراد کو ایڈ کیا جاسکے گا چاہے ویڈیو آف ہی کیوں نہ ہو مگر تمام شرکا کو دیکھنا ممکن ہوگا اسی طرح نئی تھیمز اور لے آؤٹس کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے جس کا مقصد کالنگ یوزر انٹرفیس کے لیے نئے آپشنز فراہم کرنا ہے۔

    صارفین زیادہ بڑی گیلری، ٹوگیدر موڈ، گرڈ ویو اور اسپیکرو ویو کے ساتھ کونٹینٹ ویو کا انتخاب کرسکیں گے موبائل ورژن میں سائیڈ پینل، رنگا رنگ تھیمز اور ریفریش آئیکونز کا اضافہ کیا جاسکے گا اسی طرح کاسٹیوم ساؤنڈ نوٹیفکیشنز اور ٹوئن کیم بھی نئے فیچرز ہیں ہم نے صرف ڈیزائن میں تبدیلی پر توجہ مرکوز نہیں کی بلکہ کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے۔

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسکائپ کے اینڈرائیڈ ورژن کی پرفارمنس میں نئی اپ ڈیٹس کے بعد لگ بھگ 2 ہزار فیصد بہتری آئے گی جبکہ ڈیسک ٹاپ ورژن میں 30 فیصد تک بہتر ہوگی وہ مستقبل میں تمام ویب براؤزرز کے لیے اسکائپ سپورٹ فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ صارفین کو ہر ممکن بہتر تجربہ فراہم کیا جاسکے۔

    اسکائپ میں یہ تبدیلیاں آنے والے مہینوں میں صارفین کو دستیاب ہوں گی-

    معروف کمپنی ایل جی نے نیا ٹی وی متعارف کرا دیا، قیمت 28 کروڑ 82 لاکھ 35 ہزار…

  • ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی

    ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی

    معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلیکیشن ٹک ٹاک کو ماہانہ بنیاد پر استعمال کرنے والوں کی تعداد ایک ارب سے زائد ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: صیلات کے مطابق ٹک ٹاک نے ایک ارب سے زائد افراد پر مشتمل عالمی ٹک ٹاک کمیونٹی کی تعمیر کے ذریعے عالمی سنگ میل حاصل کر لیا۔

    اس موقع پر ٹک ٹاک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ٹک ٹاک میں ہمارا مشن تخلیقی صلاحیتوں کو تحریک دینا اور تفریح فراہم کرنا ہے آج ہم اِس مشن اور ٹک ٹاک کی عالمی کمیونٹی کا جشن منا رہے ہیں اب ہر ماہ دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد ٹک ٹاک پر آتے ہیں تاکہ تفریح فراہم کر سکیں۔

    واٹس ایپ صارفین کے لئے بڑی خوشخبری

    ٹک ٹک انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا کہ اس پلیٹ فارم پر نئے لوگ اس لیے آتے ہیں کہ وہ کچھ سیکھ سکیں اور کچھ نیا دریافت کر سکیں ہمیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم مختلف خاندانوں پر مشتمل انتہائی دلفریب اور متنوع کمیونیٹیز اور تخلیق کنندگان کا گھر ہیں جو وقت کے ساتھ ہمار ے پسندیدہ ستاروں میں بدل جاتے ہیں۔

    ٹک ٹک انتظامیہ نے مزید کہا کہ ہماری عالمی کمیونٹی، تمام نسلوں میں، لاکھوں افراد تک پہنچے کی صلاحیت کے باعث اہمیت اختیار کر چکی ہے موسیقی، خوراک، حسن اور فیشن سے لیکر فن، مقاصد اور ہر وہ چیز جو اِن کے درمیان موجود ہے ثقافت حقیقی معنوں میں ٹک ٹاک پر شروع ہوتی ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    سعودی عرب : بحیرہ احمر میں مرجان کالونی دریافت

  • لاما اور اونٹ کے ذریعےکورونا وائرس ختم کیا جا سکتا ہے     برطانوی سائنسدانوں کا دعویٰ

    لاما اور اونٹ کے ذریعےکورونا وائرس ختم کیا جا سکتا ہے برطانوی سائنسدانوں کا دعویٰ

    لندن: برطانوی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ لاما اور اونٹ کے ذریعے انسانوں سے کورونا وائرس کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانوی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ لاما اور اونٹ میں بننے والی مختصر اینٹی باڈیز یعنی ’نینو باڈیز‘ کورونا وائرس کے خاتمے کا سبب بنتا ہے عام اینٹی باڈیز کے مقابلے میں نینو باڈیز کی جسامت بہت کم ہوتی ہے لیکن اب تک کی تحقیق میں انہیں ایسے کئی وائرسوں اور جرثوموں کے خلاف بھی مؤثر پایا گیا ہے کہ جن پر روایتی اینٹی باڈیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    روزالن فرینکلن انسٹی ٹیوٹ برطانیہ کے سائنسدانوں نے ابتدائی طور پر تجربہ گاہ میں رکھے گئے ایک لاما میں ناول کورونا وائرس داخل کیا تو لاما کے جسم میں موجود ایک خاص نینو باڈی نے وائرس کو جکڑ کر مزید پھیلنے سے روک دیا۔

    لاما میں سے یہ نینوباڈی الگ کی گئی اور اگلے مرحلے میں اسے ہیمسٹرز (چوہوں جیسے جانوروں) پر آزمایا گیا جو وائرس سے متاثر کیے گئے تھے ہیمسٹرز میں بھی اس نینوباڈی نے وہی کارکردگی دکھائی جس کا مظاہرہ یہ لاما میں کرچکی تھی۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کے جانوروں پر اثرات، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

    ماہرین کے مطابق لاما سے حاصل شدہ نینو باڈی کو اسپرے کی شکل میں براہِ راست ناک کے ذریعے پھیپھڑوں میں پہنچایا جاسکتا ہے جو اس کا سب سے بڑا فائدہ ہے-

    رپورٹ کے مطابق 1989 میں لاما اور اونٹ پر تحقیق کے دوران پہلی بار نینوباڈیز دریافت ہوئیں جبکہ ان سے اولین علاج وضع کرنے میں مزید 30 سال لگ گئے۔

    سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے سائنسدانوں کا دعویٰ

    واضح رہے کہ اس سے قبل برازیلیا کے سائنسدانوں نے دعویٰ کیا تھا کہ اب سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کی افزائش روکی جا سکتی ہے وائپر سانپ کے زہر سے کورونا وائرس کے بچاؤ کی دوا کی تیاری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے سانپ کے زہر میں موجود مالیکیول نے بندروں کے خلیوں میں کورونا وائرس کی افزائش کو روکا ہے اور یہ وائرس سے نمٹنے کے لیے ایک ممکنہ پہلا قدم ہے۔

    سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق وائپر سانپ کے زہر میں پایا جانے والا مالیکیول بندروں کو لگایا گیا جس سے کورونا وائرس کے نقصان پہنچانے کی صلاحیت میں 75 فیصد کمی آئی یہ دریافت اس وائرس سے لڑنے کے لیے ایک دوا کی تخلیق کی طرف ممکنہ پہلا قدم ہو سکتا ہے جو COVID-19 کا سبب بنتا ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ وائپر سانپ کے زہر میں پائے جانے والے مالیکیولز پہلے ہی انسداد بیکٹریا خصوصیات کی وجہ سے مشہور ہیں یہ لمبے سفر میں پہلا قدم ہے یہ عمل بہت لمبا ہے۔

  • ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    ای وی ایم کا استعمال ایک اچھا قدم ہے، لیکن اپوزیشن کے اطمینان کے بغیر نہیں۔ تحریر: محمد اسعد لعل

    یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ پاکستان میں ماضی میں ہونے والے تمام انتخابات کی شفافیت کو ہارنے والی جماعتوں نے متنازعہ بنایا تھا۔ یہاں تک کہ 2018 کے انتخابات ،جنہوں نے پی ٹی آئی کو اقتدار میں لایا، متنازعہ رہے کیونکہ بڑی اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ نتائج میں ہیرا پھیری کی گئی تاکہ عمران خان کے بطور وزیر اعظم راستہ صاف ہو سکے۔

    ایسی صورت حال میں ایک ایسے نظام کو متعارف کرانے کی اشد ضرورت ہے جو قابل اعتماد نتائج دے سکے، جس میں کسی کے لیے اس کی سچائی کو چیلنج کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس طرح انتخابی عمل میں ٹیکنالوجی کا استعمال صحیح قدم ہوگا، بشرطیکہ اپوزیشن کے تحفظات/ خدشات کو ان کے مکمل اطمینان سے حل کیا جائے۔

    دوسرے لفظوں میں، اگر ٹیکنالوجی کا استعمال اہم ہے، تو اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے جن خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کا ازالہ بھی ضروری ہے۔

    اور یہ دونوں فریقوں کے درمیان کھلے ذہن کے مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہوگا۔ اگر اب کوئی اتفاق رائے کا طریقہ کار نہیں بنایا گیا تو 2023 کے انتخابات کے نتائج بھی ماضی کی طرح غیر واضح ہوں گے۔

    پارلیمنٹیرین کا فرض ہے کہ وہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ ایسے انتخابات کا انعقادہو جس کے نتائج تمام جماعتوں کے لیے قابل قبول ہوں۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کسی خاص پارٹی کو فائدہ پہنچانے کے لیے ممکنہ ہیرا پھیری کے بارے میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کو آسانی سے دور نہیں کیا جا سکتا۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ ای سی پی کے اعلیٰ عہدیداروں سے منسوب کیے بغیر ان سب کا جواب دے۔

    محض یہ الزام ہے کہ الیکشن کمیشن اپوزیشن کا ہیڈ کوارٹر بن گیا ہے یا الیکشن کمیشن نے رشوت قبول کی ہے ، یا دھمکی ہے کہ ای سی پی کی عمارتوں کو جلا دیا جائے گا ، اپوزیشن کے خدشات کو کمزور نہیں کر سکتا۔

    اسی طرح، ایک وفاقی وزیر کا یہ مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو استعفیٰ دینا چاہیے، ای وی ایم کے انتظام کے بارے میں خوف کا جواب نہیں ہے۔ اگر حکومت سی ای سی کو ہٹانا چاہتی ہے تو اسے آئینی طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

    وزیر سائنس شبلی فراز کی رپورٹ کردہ پیشکش ہے کہ اگر مقامی ای وی ایم قابل اعتماد نہیں ہیں تو انہیں کسی دوسرے ملک سے درآمد کیا جا سکتا ہے، اور یہ ایک معقول دلیل ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ مقامی ای وی ایم کو ہیک نہیں کیا جا سکتا اور جو دعوے کو جھٹلاتا ہے اسے انعام کے طور پر 10 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے تاکہ ان کی وزارت کی تیار کردہ مشینوں کے مخالفین کو چیلنج کیا جا سکے۔

    قوم نے گلیارے کے دونوں اطراف اپنے نمائندوں کو ووٹ دیا تھا تاکہ تمام مسائل حل ہوں۔ اس طرح منتخب نمائندوں کا فرض ہے کہ وہ تمام مسائل کا حل تلاش کریں۔ صرف کیچڑ اچھالنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ گلیارے کے دونوں اطراف کے عوامی نمائندوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ملک کو درپیش تمام مسائل کا حل تلاش کرنا ان کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ کسی ایسے طریقہ کار سے اتفاق کرنے میں ناکام رہے جو مستقبل کے انتخابات کے نتائج کو ناقابل تسخیر بنا سکتا ہے تو وہ ووٹروں کی توقعات پر پورا نہیں اتریں گے۔

    پی ٹی آئی کے وزراء یہ اشارے دے رہے ہیں کہ حکومت ای وی ایم قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرائے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حکمران جماعت دونوں ایوانوں میں اپنی عددی طاقت کی وجہ سے ایسا کر سکتی ہے۔ لیکن اس طرح کا اقدام اپوزیشن جماعتوں کے موقف کو تبدیل نہیں کر سکتا۔

    لہذا، انتخابی نتائج ای وی ایم کے استعمال کے بعد بھی متنازعہ رہیں گے۔ اور ان پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو گا۔سمجھداری کا تقاضا ہے کہ دونوں فریق مل بیٹھ کر اپنے چھوٹے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر کوئی حل تلاش کریں۔ اور اس مسئلے سے نمٹنے کے دوران، دونوں فریقوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگلے انتخابات میں صرف دو سال باقی ہیں اور اس آئینی ذمہ داری کو پورا کرنے سے پہلے بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ اگلے انتخابات نئی مردم شماری اور حلقہ بندیوں کی نئی حد بندی کی بنیاد پر ہوں گے۔ یہ دونوں وقت لینے والی مشقیں ہیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ 20 سال کے وقفے کے بعد منعقد ہونے والی 2017 کی مردم شماری کے نتائج ابھی تک کچھ جماعتوں نے قبول نہیں کیے۔

    سندھی رہنماؤں کا الزام ہے کہ سندھ کی آبادی کو کم اور پنجاب کی آبادی کو دس ملین سے زیادہ سمجھا گیا ہے۔ یہ وسائل کی تقسیم میں فیڈریٹنگ یونٹ کے حصہ کو متاثر کرتا ہے۔

    مختلف موضوعات پر مختلف جماعتوں کی پوزیشنوں کے درمیان پھنسے ہوئے فرق کو دیکھتے ہوئے، اگلے انتخابات کے لیے انتظامات کرنا وقت کے خلاف دوڑ ہوگی۔ اور مسئلہ کی سنگینی اس وقت بڑھ جاتی ہے جب کچھ رپورٹوں کے مطابق حکومت اگلے انتخابات شیڈول سے ایک سال قبل جولائی، اگست 2022 میں کرانے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

  • گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئے

    گوگل نے معذور افراد کے لیے نئے ٹول متعارف کرادیئےہیں –

    باغی ٹی وی : نئے ٹولز کے ذریعے وہ اپنے چہرے کے تاثرات کو تبدیل کرتے ہوئے اینڈرائیڈ فونز استعمال کر سکیں گے گوگل نے کہا ہے کہ اب قوتِ گویائی سے محروم اور جسمانی طور پر معذور افراد اپنی بھوئیں اٹھا کر یا مسکرا کر ہاتھ کا استعمال کیے بغیر ہی اپنے اسمارٹ فونز چلا سکتے ہیں۔

    ایپل نے آئی فون کا نیا ماڈل متعارف کرا دیا

    گوگل کے یہ دو نئے ٹول مشین لرننگ اور اسمارٹ فون کے فرنٹ کیمرا کی مدد سے صارفین کے چہرے کے تاثرات اور آنکھوں کی حرکت کا پتا لگاتے ہیں صارفین مسکراتے ہوئے، بھنویں اٹھا کر، منہ کھول کر یا دائیں، بائیں، اوپر اور نیچے دیکھ کر کوئی بھی آپشن منتخب کر سکتے ہیں۔

    لوگ اپنی روز مرہ کی زندگی میں وائس کمانڈز یا اپنے ہاتھوں کے ذریعے فون کا استعمال کرتے ہیں اگرچہ جسمانی طور پر معذور اور قوتِ گویائی سے محروم افراد کے لیے یہ ممکن نہیں ہے۔

    ٹوئٹر کی اپنے صارفین کے لئے نئے پرائیوسی فیچر کی آزمائش

    گوگل نے اس ضمن میں دو نئے فیچرز پیش کیے ہیں جس میں ‘کیمرا سوئچ’ کی مدد سے صارفین چہرے کی مدد سے اسمارٹ فونز چلا سکیں گے اسی طرح گوگل نے ‘پروجیکٹ ایکٹو’ کے نام سے ایک نئی ایپلی کیشن بھی پیش کی ہے جس کے ذریعے بھی چہرے کے تاثرات استعمال کرتے ہوئے موبائل استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    یہ ایپلی کیشن آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کے گوگل پلے اسٹور پر صارفین کے لیے مفت میں دستیاب ہےامریکہ کے صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کے ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں چھ کروڑ 10 لاکھ افراد جسمانی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔

    اس اعداد و شمار نے گوگل، ایپل اور مائیکروسافٹ جیسی بڑی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسی پروڈکٹس بنانے پر مجبور کر دیا ہے جو زیادہ قابلِ رسائی ہوں۔

    گوگل کا جی میل کے لیے نیا فیچر

  • 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت

    سعودی عرب میں اونٹوں اور گھوڑوں کے چٹانوں پر کندہ تقریباً 7000 سال پرانے نقش ونگاردریافت ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : سعودی عرب میں حال ہی میں منبت کاری کے 21 نمونے دریافت کیے گئے ہیں پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ ان کی سنگ تراشی کوئی زیادہ پرانی نہیں ان نقش و نگار کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ پہلے سے لگائے گئے اندازوں کے مقابلے میں کافی پرانے ہیں۔

    پی سی بی کا راولپنڈی میں نیشنل ٹی20 کپ کرانے کا فیصلہ

    ابتدائی طورپر 2018 میں اردن میں بطرا میں دریافت شدہ آرٹ ورک سے مماثلت کی بناپریہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ یہ قریباً 2000 سال پرانے ہوسکتے ہیں۔

    لیکن سعودی اور یورپی اداروں کی نئی تحقیق میں مختلف طریقوں کا استعمال کیا گیا ہے ان میں سنگ تراشی کے آلات کے نشانات (ٹول مارکس) اور کٹاؤ کے نمونوں کے ساتھ ساتھ ایکسرے ٹیکنالوجی کا تجزیہ بھی شامل ہےاس سے پتا چلتا ہے کہ منبت کاری کے یہ آثار قریباً 7000 سے 8000 سال پرانے ہیں۔

    مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ان نقش ونگار کا علاقہ،جسے اونٹ سائٹ کے نام سے جانا جاتا ہے ممکنہ طورپردنیا میں جانوروں کی ان کے فطرتی حجم کے برابر بڑے پیمانے پر سنگ تراشی کا سب سے پرانامرکزہے۔

    شہباز شریف کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس: ایک اور ملزم گرفتار

    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جس دور میں انہیں تخلیق کیا گیا تھا اس دورمیں یہ خطہ آج کے بنجرمنظرنامے سے بہت مختلف نظرآتا ہوگا اس دور میں یہ علاقہ گھاس کے میدان، جھیلوں اور درختوں سے بھراپڑا تھا، جہاں جنگلی اونٹ آوارہ گھومتے پھرتے تھے اور شکار کیے جاتے تھے۔

    محقیقین کا کہنا ہے کہ اب ہم اونٹ سائٹ کو قبل ازتاریخ کے ایک دور سے جوڑسکتے ہیں جب شمالی عرب کی بدوی آبادیوں نے سنگ تراشی کا فن تخلیق کیا اور پتھر کے بڑے ڈھانچے تعمیرکیےتھے جنہیں مستطیل کہا جاتا ہے ۔

    عمر شریف کے بیرون ملک علاج معالجے کے لیے ایئر ایمبولینس کی کب تک آمد متوقع ہے؟

    محقیقین کی ٹیم میں شامل سنگ تراش نے اندازہ لگایا تھا کہ ایک نقش کو مکمل ہونے میں 15 دن تک منبت کاری کی جاتی ہو گی یہ کام ایک اجتماعی کوشش ہوسکتا ہے۔