Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کی حیثیت  دینے والا پہلا ملک بن گیا

    ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کی حیثیت دینے والا پہلا ملک بن گیا

    وسطی امریکا کے ملک ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی کرنسی کی حیثیت دینے والا پہلا ملک بن گیا۔

    باغی ٹی وی :ایل سلواڈور نے جون میں اس قانون کی منظوری دی تھی کہ بٹ کوائن کو قانونی کرنسی بنا دیا جائے اورکہا گیا تھا کہ بٹ کوائن کے ساتھ امریکی ڈالرز کی حیثیت بھی برقرار رہے گی 7 ستمبر سے اس قانون پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

    اگرچہ قانون کے تحت ہر شہری بٹ کوائن کو استعمال کرسکے گا تاہم جن کو ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل نہیں ہوگی ان پر یہ لازمی نہیں ہوگا حکومت کی جانب سے آبادی میں بٹ کوائن کے استعمال کے لیے ضروری تربیت اور میکنزمز کو فروغ دیا جائے گا جبکہ ماہرین اور ریگولیٹرز نے اس موقع پر کرپٹو کرنسی کی قدر میں اچانک اتار چڑھاؤ اور صارفین کے تحفظ کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    تاہم اب سلواڈور کے صدر نایب بوکلے کی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس اقدام سے متعدد شہریوں کو پہلی مرتبہ بینک سروسز تک رسائی مل سکے گی اور ہر سال بیرون ملک سے بھیجے جانے والی ترسیلات زر کی فیسوں کی مد میں خرچ کیے جانے والے 40 کروڑ ڈالرز کی بچت ہوسکے گی۔

    6 ستمبر کو ایک ٹوئٹ میں صدر نایب بوکلے نے کہا کہ ‘کل سے تاریخ میں پہلی مرتبہ پوری دنیا کی نظریں ایل سلواڈور پر مرکوز ہوں گی، بٹ کوائن نے ایسا ممکن بنایا ایل سلوا ڈور نے اپنے اولین 400 بٹ کوائنز خرید لیے ہیں جبکہ جلد تعداد میں مزید اضافے کا بھی وعدہ کیا۔

    کرپٹو کرنسی ایکسچینج ایپ جمنی کے مطابق 400 بٹ کوائنز 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالرز پر ٹریڈنگ کررہے ہیں۔

    حالیہ سروے پولز میں ایل سلواڈور کے 65 لاکھ میں سے اکثریت نے بٹ کوائن کو قانونی کرنسی دینے کے خیال کو مسترد کرتے ہوئے امریکی ڈالر کا استعمال جاری رکھنے کا کہا ہے جو گزشتہ 20 سال سے اس ملک کی قانونی کرنسی ہے۔

    گزشتہ ہفتے دارالحکومت سان سلواڈور میں سیکڑوں افراد نے اس کے خلاف مظاہرے کیے ، مظاہرین کا کہناہے کہ بٹ کوائن ایسی کرنسی ہے جس کا کوئی وجود نہیں ایسی کرنسی جس کا فائدہ غریبوں کو نہیں امیروں کو ہوگا۔

  • پاکستان اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم: تحریر:شہزاد احمد

    پاکستان اور الیکٹرانک ووٹنگ مشین سسٹم: تحریر:شہزاد احمد

    سائنس اور ٹیکنالوجی کی دوڑ میں جہاں دنیا ترقی کی طرف گامزن ہے وہیں ہمارے ملک پاکستان میں بھی سائنسی ترقی کے آثار نظر آرہے ہیں۔ حال ہی میں پاکستانی حکومت نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یقیناً یہ ٹیکنالوجی پاکستان کے انتخابات کے طرز عمل میں بہت بڑا انقلاب لا سکتی ہےـ یہ ٹیکنالوجی بہت پہلے ہی متعارف کروائی جاچکی ہے اور کئی ممالک اس کا استعمال کر رہے ہیں یہاں تک کہ ہمارا پڑوسی ملک بھارت 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی اس ٹیکنالوجی کا استعمال کر چکا ہےـ ٹیکنالوجی اور سائبر سیکیورٹی سے وابستگی کی وجہ سے یہ بات میرے لیے قابلِ رشک ہے کہ اب ہمارے ملک میں بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال ہوگی-
    الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم):
    الیکٹرانک ووٹنگ مشین دو یونٹس پر مشتمل ہے، بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ- بیلٹ یونٹ وہ ڈیوائس ہے جو کہ ووٹر استعمال کرے گا اس ڈیوائس پر تمام امیدواران کے نام اور ان کے انتخابی نشان بنے ہوں گے- ہر امیدوار اور اس کے انتخابی نشان کے سامنے ایک بٹن بنایا گیا ہے اسی بٹن کو دبا کر ووٹر اپنے پسندیدہ امیدوار کو ووٹ دے سکے گا۔ ایک بیلٹ یونٹ پر 16 امیدواران کے نام درج ہوسکتے ہیں اگر کسی حلقے میں امیدواران کی تعداد 16 سے تجاوزکرتی ہے تو دو سے زیادہ بیلٹ یونٹ بیک وقت استعمال ہوسکتے ہیں۔
    بیلٹ یونٹ اور کنٹرول یونٹ کو آپس میں پانچ میٹر کیبل سے جوڑا جاتا ہے۔
    کنٹرول یونٹ کا اختیار پریزائیڈنگ افسر یا پولنگ آفیسر کے پاس ہوتا ہے اور صرف وہی اس کو آپریٹ کر سکتا ہے۔
    ووٹر کی تصدیق کے بعد پولنگ آفیسر کنٹرول یونٹ پر موجود بیلٹ بٹن کو دبائے گا تب ووٹر جا کر بیلٹ یونٹ پر ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل ہوگا۔ اسی طرح ووٹر کی تصدیق اور کنٹرول یونٹ پر موجود بیلٹ بٹن دبانے کرنے کے بغیر دوسرا ووٹر اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کرسکے گا۔ پولنگ آفیسر ہر ووٹر کی تصدیق کرنے کے بعد بیلٹ بٹن دبائے گا تب جاکر ووٹرز ووٹ کاسٹ کرنے کے قابل ہونگے۔
    ووٹ کاسٹ کرنے پر بیلٹ مشین سے پرچی باہر نکلے گی جس پرانتخاب کردہ امیدوار کا نام، انتخابی نشان اور ووٹر کی ٹریکنگ آئی ڈی درج ہوگی، ووٹر کی ٹریکنگ آئی ڈی مخصوص ہوگی اوراسی طرح سے ہر ووٹر کو مختلف ٹریکنگ آئی ڈی ملے گی۔ اس پرچی کو ووٹر ساتھ موجود بیلٹ باکس میں ڈالے گا یہی کاغذی ووٹ بعد میں ڈیجیٹل نتائج کے ساتھ موازنے کے لئے استعمال ہو سکیں گے۔
    کنٹرول یونٹ کے اندر دو خفیہ سیل کیے گئے بٹن ہوتے ہیں ایک ریزلٹ اور دوسرا کلوز کا بٹن ہوتا ہے۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے پر پولنگ افسر کلوز کا بٹن دبا کر ووٹنگ روک دیگا اس کے بعد بیلٹ یونٹ پر موجود کوئی بھی بٹن قابلِ استعمال نہیں ہوگا۔ رزلٹ بٹن دبانے سے کنٹرول یونٹ پر موجود سکرین کل کاسٹ کیے گئے ووٹس اور ہر امیدوار کا علیحدہ علیحدہ نتائج دیکھائے گی-

    کیا یہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے ہیک ہو سکتی ہے؟
    یہ ایک سٹینڈ اعلون مشین ہے۔ مختصر یہ کہ یہ مشین بیرونی آلات پرانحصار نہیں کرتی ، یعنی کہ نہ یہ وائی فائی سے کنیکٹ ہوسکتی ہے اور نا ہی بلوٹوتھ کے ساتھ، اور نہ اس میں کوئی یوایس بی یا باہر کی چیز لگ سکتی ہے- حتیٰ کہ اس میں بجلی کی تار بھی نہیں لگ سکتی ہے ۔ یہ مشین مکمل طور پر خشک بیٹری پر چلتی ہے، لہذا یہ مشین ہیک نہیں ہو سکتی۔

    مگر ہیک ہو بھی سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔
    جب بات اس مشین کی سکیورٹی اوراس کی ایک جگہ سے دوسری جگہ تک منتقلی پر آجائے تو یہاں پر اس کے ہیک ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں، یعنی ناقص سکیورٹی یا آپس میں جوڑ توڑ کی وجہ سے اگر کسی غیرذمہ دار شخص کو اس مشین تک رسائی حاصل ہوجائے تو یقیناً یہ مشین ہیک ہو سکتی ہے۔
    کنٹرول یونٹ پر ڈسپلے سکرین لگی ہوتی ہے جو کہ رزلٹ ڈسپلے کرتی ہے-

    اگر اسی طرح کی ایک نقلی ڈسپلے سکرین بنایی جائے جس کے نیچے بلوٹوتھ ڈیوائس نصب کی جائے اور اسی ڈسپلے سکرین کو کنٹرول یونٹ پر موجود اصلی ڈسپلے سکرین کے ساتھ تبدیل کیا جائے، اب اس سے ہوگا یہ کہ کنٹرول یونٹ اور سمارٹ فون کے درمیان بلوٹوتھ کے زریعے رابطہ قائم ہوگا- اور اسی رابطے کے ذریعے سے پولنگ ختم ہونے کے بعد اپنے مرضی کے رزلٹ شو کرائے جا سکتے ہیں۔ بہرحال یہ محض ایک خیالی بات ہے۔
    اللہ تعالی پاکستان اور پاکستانیوں کو ہر میدان میں سرخرو فرمائے۔ آمین۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔!!!
    Follow on Twitter & Instagram: @imshehzadahmad

  • ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    ویب ٹی وی کا گنجھلا جال تحریر؛ علی خان 

    11، 12، 13، 14، 15، 20،  22، 23،  25 ، 43، 45،  91، ، 93،9، 94۔۔۔۔ جیو اسٹار، نیا وقت، اچھا وقت، ، اے آر زیڈ، سماں،  میری جنگ، تیری جنگ، کرائم کنٹرول، اینٹی کرپشن، اینٹی کرائم۔ دوستو  ابتدائی حروف سے نہ سہی ، الفاظ کی گردان سے تو آپ کی سمجھ میں کچھ نہ کچھ معاملہ تو آہی گیا ہوگا،،، جی ہاں یہ وطن عزیز میں پھیلی اس نئی وبا یعنی ویب ٹی وی  میں سے چند ایک کے نام ہیں۔ اب میں انہیں وبا کیوں کہہ رہاہوں اسکا کچھ قصہ ہوجائے۔ پاکستان میں اکیسویں صدی کی ابتداء کے ساتھ ہی الیکٹرانک میڈیا تیزی سے پھلا پھولا، ایک کے بعد ایک سیٹلائٹ ٹی وی چینلز  منظر عام پر آئے۔  ہر لمحہ بریکنگ نیوز کی دوڑ نے عوام کے لیے نئی مصروفیت کا سامان کیا۔ ریٹنگ کے چکر میں ان چینلز کی  خبریں بعض اوقات ڈرامے سے بھی زیادہ سنسنی لیے  ہوتیں،،، صاف ستھرے چمکدار اسٹوڈیوز میں بیٹھے نیوز کاسٹرز اور اینکرز کو فنکاروں سے زیادہ شہرت ملنے لگی۔ ترقی کے خواہش مند ہر نوجوان کا دل اینکرنگ کو مچلنے لگا لیکن کیا کیجئے کہ ایک انار سو بیمار کے مصداق چند ایک چینلز تھے اور انکے کچھ درجن اینکرز۔ ٹی وی میزبان بننا مقابلے کا امتحان پاس کرنے سے زیادہ کٹھن اور قسمت کا کھیل سمجھا جانے لگا اور ہزاروں امیدواران میں سے کچھ حسد اور کچھ رشک کرتے رہ گئے۔

    ان سب من ہی من میں تیار اینکرز اور  صحافیوں نے قسمت کا لکھا جان کر صبر کرلیا تھا کہ اسمارٹ فون کی آمد سے ایک نیا در  وا ہوگیا،،،  موبائل یا کمپیوٹرز میں ایڈیٹنگ سافٹ وئیر انسٹال کریں،،، دیوار پر ایک رنگ کا کپڑا لگائیں،،، کسی بھی موضوع پر ویڈیو ریکارڈ کریں اور اس کی ایڈیٹنگ کرکے پس منظر میں اسٹوڈیو بنا لیں،،، آپکا چینل تیار ہوگیا،،، شروع میں یہ چینل مقبول بھی ہوئے کیونکہ غیر روایتی انداز میں کام کرنے والے یہ چینلز پیمرا اور دیگر حکومتی کنڑول سے آزاد تھے ۔ یہاں بغیر کسی رکاوٹ کے حکومت پر تنقید ممکن تھی اور لائیو نہ ہونے کی وجہ سے ریکارڈ شدہ ہر اسٹوری چلانا ممکن تھا،،، روایتی میڈیا کے تربیت یافتہ صحافیوں کا  شروع کردہ یہ سلسلہ جب غیر تربیت یافتہ، کم پڑھے لکھے اور دیہاڑی دار صحافیوں تک پہنچا تو وہ طوفان بدتمیزی برپا ہوا کہ الامان۔

    خود کو صحافی کہلانے والی یہ مخلوق معروف چینلز سے مشابہ لوگو اٹھائے  ہر چھوٹے بڑے شہروں کی گلی محلوں، دفاتر ، دکانوں اور فیکٹری کارخانوں پر یلغار کرتی نظر آتی ہے۔ خبر لینے کے بہانے یہ حضرات جب کسی تاجر کے پاس جاتے ہیں تو مفت جلیبیاں یا پکوڑے نہ ملنے پر  بھی ناراض ہوجاتے ہیں۔ یہ غصہ ویڈیو ریکارڈ کرکے اسی دکاندار کو دکھانے اور پیسے اینٹھنے پر ہی ختم ہوتا ہے،  ہر آتے جاتے عام و خاص کے سامنے منہ میں گھسیڑنے کی حد  تک مائیک دے ڈالنا اور اپنے بے تکے سوالات کا جواب مانگنا یہ صحافی اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں۔ کسی کی نجی زندگی اور قانونی و غیر قانونی کافرق ان  کو بالکل نہیں معلوم ہوتا۔ سارا دن صحافت کے نام پر بھتہ خوری کےبعد شام کو یہی  فیس بکی اور یوٹیوبی "سینئر صحافی  "ہر مسئلے کا طوق  حکومت کے گلے ڈال کر  خود ہاتھ جھاڑ پرے  ہولیتے ہیں۔

    حکومت کی دیگر پالیسیوں پر لاکھ اختلاف  سہی لیکن ایسے بے مہار چینلز اور منہ پھاڑ صحافیوں کا قبلہ درست کرنا وقت کی ضرورت ہے ۔ ایسے گلی محلے کے چینلز کی رجسٹریشن وقت کی ضرورت ہے،،، اس امر کے لیے مالکان کی اہلیت  اور شہرت  کو مدنظر بھی نہایت اہم ہوگا ورنہ میڈیا کی ساکھ کو پہنچنے والا نقصان ناقابل تلافی بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہ ہو ان لفافی صحافیوں کے چکر میں حقیقی صحافی اور میڈیا سے وابستہ دیگر کارکن اپنی عزت بچانے کو شعبے کو خیرآباد کہہ دیں اور  پھر میڈیا کے نام پر ان  بہروپیوں کے کرتب ہی باقی بچیں

    @hidesidewithak

  • موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی  بیماری   تحریر : فرح بیگم

    موبائل فون ایک بڑھتی ہوئی بیماری تحریر : فرح بیگم

    موبائل فونز کے استعمال کا سب سے بڑا نقصان خود کو بیماریوں میں مبتلا کرنا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے ڈاکٹرز کا مشورہ یہ ہے کہ موبائل فونز کا زیادہ استعمال ذہنی دباؤ ، پریشانی ، دل کی بیماری ،سر درد ، نظر کا کمزور ہونا اور دوسری بیماریوں کا سبب ہے۔ لوگ کام کرتے ،کھاتے، چلتے پھرتے، ڈرائیونگ کرتے وقت استعمال کرتے ہیں ۔ بشتر احاثات سڑک پر موبائل فون کے استعمال کرنے سے ہوتے ہیں ۔ البتہ گاڑی چلاتے وقت موبائل یوز کرنا کسی کی جان لینے کے برابر ہے ۔ زیادہ موبائل فون کا استعمال نوجوان نسل میں بہت اہم پایا جاتا ہے۔ سم فرنچائز کے دیے گۓ پیکجز ،فری کالز،فری ایس ایم اس آفرز نوجوان نسل کو خراب کر رہی ہے ۔سری سری رات کال پر باتیں کرنا ،ویڈیو گیمز کھیلنا ، سوشل میڈیا کا بے جاں استعمال صحت پر گہرا اثر ڈالتی ہے ۔
    موبائل کے استعمال سے تعلیم پر بھی گہرا اثر پڑھتا ہے ۔بچے اپنا زیادہ وقت موبائل فون پر لگاتے ہیں جس کا سیدھا اثر بچوں کی پڑھائی پر ہوتا ہے نا وہ ٹیسٹ میں دل لگا کر محنت کرتے ہیں نا پاس ہوتے ہیں ۔ اس لیے اگر تعلیم حاصل کرنا چاھتے ہیں تو موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنا ہوگا ۔ جس کالج اور یونیورسٹی میں موبائل فون لے کر جانے میں پابندی نہیں ہوتی وہاں بعض اوقات طالب علم لیکچر کی دوران ایس ایم ایس یا ویڈیو گیمز کھیلتے نظر اتے ہیں ۔موبائل فون سے فحاشی کا کافی حد تک اصافہ ہوا ہے ۔ چاہے وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو یا ہوئی بھی اپپ ، اس سے بچے بہت بگڑ گے ہیں ۔ پہلے آپ نے سنا ہوگا چوری ہوئی ہے ، یا كیڈناپپینگ ہوئی ہے لیکن آج کل یہ سب چیزیں آنلاین موبائل فون کے ذریغے ہو رہی ہیں ۔ یہاں تک کے بلیک میالینگ بھی کھلے عام جاری ہے ۔اس کی وجہہ سے کرائم میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ جس میں مختلف وارداتیں شامل ہیں ۔ موبائل فون چھیننے کے واقعات اس قدر بڑھ گۓ ہیں کہ گننا مشکل ہے ۔
    موبائل فون کے حوالے سے اور بھی بہت نقصانات ہیں جو کے معاشرے میں بہت واضح ہیں اور لوگ انکو جھیل رہے ہیں لیکن اگر ہمیں ان نقصانات سے بچانے کے لیے ایسے کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہہ سے ہم اس ضرورت کی چیز کو استعمال تو کریں پر وہ بھی ایک حد تک ، اور اس معاشرے پر جو اثرات پڑھے گے اس کو بھی کم کر سکیں۔
    اب ہم سب والدین کی ذمداری ہے کہ وہ اپنے بچوں کو موبائل دینے سے پہلے یہ سوچ لیں کہ انکو موبائل کی ضرورت بھی ہے یا نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو یہ دیکھ لیں کے وہ اسکا استعمال کس طرح ،کب اور کیسے کر رہے ہیں ۔ بچوں کی غیر موجودگی میں انکے موبائل فون کو دیکھیں اور چیک کریں کہ وہ اس کا استعمال غلط تو نہیں کر رہے ہیں ۔ بچوں کی خفاظت اب والدین پر لازم ہے۔

    Twitter ID: @iam_farha

  • سوشل میڈیا کا استعمال تحریر:فاروق زمان

    سوشل میڈیا کا استعمال تحریر:فاروق زمان

    سوشل میڈیا کا استعمال آج کل عام ہے، اور ایک نشہ بن کر لوگوں کی زندگیوں سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر عمر کے لوگ خصوصاً نوجوان اپنا زیادہ تر وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال کا بنیادی مقصد تفریح حاصل کرنا، وقت گزاری اور نت نئ دوستیاں بنانا اور خبریں وغیرہ حاصل کرنا ہے۔ لوگ مختلف اغراض و مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی دلچسپی کا سامان پیدا کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا استعمال کرنے کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات ہیں۔ لیکن اس کا استعمال کثرت سے نہیں کیا جانا چاہیے جو کہ آج کل عام ہے۔ لوگ  تنہائی، ڈپریشن، ایگزاٹی اور مختلف ذہنی بیماریوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں، یہ ان کے لیے حتی الامکان اطمینان بخش ہو سکتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ سوشل میڈیا کے استعمال سے ان بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے نقصانات بہر حال کافی زیادہ ہیں۔

    لوگ صحت مندانہ زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں، فون، لیپ ٹاپ اور دیگر آلات کا مسلسل استعمال بہت خطرناک ہے، ان سے نکلنے والی شعاعیں انسانی جسم پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ لوگ ان آلات کو استعمال کرنے کے لیے بیشتر وقت ایک ہی جگہ پر بیٹھے رہتے ہیں اور صحت مندانہ سرگرمیوں سے دور رہتے ہیں، جس کے صحت پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔

    سوشل میڈیا لوگوں کی زہنی اور جسمانی صحت پر اثر انداز ہونے کے علاوہ روز مرہ زندگی پر بھی بری طرح سے اثر انداز ہے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر دوستیاں پالی ہوئی ہیں اور دن کا بیشتر وقت سوشل میڈیا اور اس پر بنائے گئے دوستوں کے ساتھ مشغول رہتے ہیں، اپنے ساتھ رہنے والے لوگوں کو نظر انداز کرتے ہیں اور وقت نہیں دے پاتے۔ لوگوں نے آپس میں ملنا، ایک دوسرے کا خیال رکھنا چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے اپنی زاتی زندگی نظر انداز کرتے ہیں۔ بہت سے کام ان کی توجہ کے منتظر رہتے ہیں۔ لوگ حقیقی زندگی سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ اتنا وقت سوشل میڈیا پر گزار کر بھی لوگ غیر مطمئن رہتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بننے والی دوستیاں ٹوٹنے پر اکثر نوجوان افسردہ رہتے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر کوئی بھی خبر بہت جلدی پھیلتی ہے۔ سوشل میڈیا جھوٹی خبریں پھیلانے کا گڑ بنتا جا رہا ہے۔ کوئی بھی خبر یا بات نشر کی جائے تو لوگ بلا تصدیق اس کو آگے پھیلانے میں لگ جاتے ہیں۔جس سے بعض اوقات سنگین قسم کی بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ لوگ مہذب بن کر شر انگیز مواد شائع کرتے ہیں اور نفرت پھیلاتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کے استعمال سے لوگ اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو رہے ہیں۔ اپنی اخلاقی اقدار اور اخلاقیات کو بھلا کر اخلاقی پستی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ بری زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ طعن و تشنیع اور گالم گلوچ کا رواج عام ہو رہا ہے۔ جس کا اثر بہت سے نوجوانوں اور بچوں پر پڑ رہا ہے۔ جو کہ تشویشناک صورتحال ہے۔

    لوگ سوشل میڈیا پر مثبت کام بھی کرتے ہیں، نوجوانوں اور لوگوں کے لیے کورسز وغیرہ اور دیگر چیزیں سیکھنے کے بہت زیادہ مواقع میسر ہوتے ہیں، لوگ اپنے کاروبار وغیرہ کی اشاعت کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کے زریعے کامیاب کاروبار بھی کرتے ہیں۔ مختلف مذہبی اور دیگر موضوعات پر راہنمائی کے پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں۔

    بہرحال لوگوں کو خصوصاً نوجوانوں کو سوشل میڈیا کا استعمال اپنی بہتری کے لیے کرنا چاہیے، انہیں کسی بھی صورت اپنی زندگی عذاب بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سوشل میڈیا ایک جال ہے، جو آپ کو بری طرح جکڑ سکتا ہے، آپ کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ اپنے ہوش و حواس بحال رکھیں اور توازن کے زریعے اس کا استعمال کریں۔ خود کو حقیقی اور صحت مندانہ زندگی کی طرف راغب کریں اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع نہ کریں۔ سوشل میڈیا کو اچھے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

    @FarooqZPTI

  • دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی لمبے عرصے تک جینے کی خواہش

    دنیا کے امیر ترین شخص جیف بیزوس کی خواہش ہے کہ وہ لمبے عرصے تک جئیں اس حوالے سے ارب پتی جیف بیزوس اور یوری ملنر ایسی بائیوٹیکنالوجی فرم کو فنڈز دے رہے ہیں جس کا مقصد عمر کو بڑھانا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق الٹس نامی لیب کے لیے امریکہ اور برطانیہ میں 270 ملین ڈالر اکٹھے کیے گئے ہیں تاکہ جانوروں اور ممکنہ طور پر انسانوں میں سیل ری پروگرومنگ ٹیکنالوجی کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    پروگرام میں ایک جاپانی ڈاکٹر شنیا یاماناکا بھی شامل ہیں جنہوں نے سیل ریپروگرامنگ میں تحقیق کی اور انہیں اس تحقیق کے لیے 2012 کا نوبل انعام دیا گیا۔

    انہوں نے دریافت کیا کہ خلیوں میں صرف چار مخصوص پروٹینز کو شامل کرکے انہیں دوبارہ پرانی حالت میں واپس لایا جاسکتا ہے جو جانوروں کو نئی زندگی کی طرف لاسکتے ہیں2016 میں بھی ایسی ہی تحقیق میں ایک سیل بنایا گیا تھا جس کا تجربہ چوہوں پر کیا گیا، جس کے مثبت اثرات دیکھے گئے تھے۔

    یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی دنیا کی پہلی ڈیجیٹل طالبہ

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی صرف خلیوں کو جوان نہیں بناتی، بلکہ انہیں سٹیم سیلز میں تبدیل کر کے ان کے کردار کو بھی بدل دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں پر آزمانا اب بھی بہت خطرناک ہے۔

  • ففتھ جنریشن وار اور ہم   تحریر : شفقت مسعود عارف

    ففتھ جنریشن وار اور ہم تحریر : شفقت مسعود عارف

    ففتھ جنریشن وار

    دراصل hybrid  war ہے یعنی مخلوط طریقہ جنگ

    جس میں 

    عسکری

    انفارمیشن

    ڈس انفارمیشن

    مسلسل پروپیگنڈا سے رائے کی تبدیلی

    پر تسلسل سے کام کیا جاتا ہے اور عام رائے کو اپنے مقصد کیلئے کسی ریاست کے حق میں یا خلاف ہموار کرنے کیلئے منصوبہ بندی سے کوشش کی جاتی ہے

    اس کے کئی حصے ہیں

    1۔ مخالف ریاستوں میی کسی حکومت ، ادارے یا کسی عالمی یا مقامی موقف کے حق میں یا خلاف

    2۔ اپنی ریاست کے حق میں

    3۔ اپنی ہی ریاست میں کسی خاص علاقے، ادارے یا عالمی و مقامی موقف کے حق میں یا خلاف

    4۔ عالمی رائے عامہ کو کسی موقف کے حق میں یا خلاف بدلنے کیلئے 

    5۔ چونکہ اسے وار فیئر کا نام دیا گیا ہے اس لئے ہر ملک کی افواج  کے حق میں یا خلاف رائے بدلنے کیلئے بھی یہی وارفیئر مسلسل استعمال کی جاتی ہے

    ففتھ جنریشن وار فیئر کا پروپیگنڈا بھی ففتھ جنریشن وار کا حصہ ہے جہاں آپ کے اعصاب کو تناؤ میں رکھ کر متوقع ردعمل کو استعمال کیا جاتا ہے یہ تہہ در تہہ پلاننگ ہے

    اسلئے اسے درست طور پر سمجھنا ضروری ہے 

    قریبا ہر ملک میں کچھ شخصیات ، ادارے اور شعبے مقدس ٹھہرائے جاتے ہیں 

    جن کے حق میں ملک کے اندر سے اور انکے خلاف باہر سے اس طریقہ جنگ کے تحت پلاننگ کی جاتی ہے

    جس کا مثبت اور منفی استعمال یہی شخصیات ، ادارے اور شعبے بھی کرتے ہیں اور ففتھ جنریشن وار کے نام پر من مانی کرنے کے ساتھ ذاتی ایجنڈے بھی پروموٹ کرتے ہیں

    اسلئے میڈیا اور سوشل میڈیا 

    ‏کیلئے صحیح بات معلوم ہونا ضروری ہے پھر وہ خود فیصلہ کریں کہ کیا بتانا اور کیا چھپانا مناسب ہے

    مثبت پروپیگنڈا کے ساتھ ساتھ ڈس انفارمیشن اس طریقہ جنگ کا بڑا ہتھیار ہے

    جس سے رائے کیلئے check لگا کر تجزیہ کر کے آئندہ کیلئے پلاننگ کی جاتی ہے

    اسے ہم ابھی اگر صرف پاکستان کے تناظر میں دیکھیں تو

    پاکستان کے خلاف دہشتگردی کا لیبل لگانے کیلئے اسے استعمال کیا گیا اور ہم اس کا دفاع خاصے عرصے تک نہ کر سکے

    ہمیں عالمی پابندیوں، سیاحت کے نقصان اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات میں مشکلات کا سامنا رہا بڑے فورمز پر ہمیں کئی دفعہ شکست کا سامنا کرنا پڑا جس میں اب جا کر کسی حد تک تبدیلی آ سکی ہے

    لیکن 70 کی دہائی سے اس جنگ کا ایک حصہ اندرون ملک بھی لڑا جارہا ہے جسے عسکری ادارے lead کر رہے ہیں

    بطور پاکستانی ہمارے لئے اس جنگ کا درست طریقہ کار کیا ہے

    ہماری ترجیحات کی کسوٹی پاکستان کا مفاد ہو

    کوئی حکومت

    کوئی شخصیت

    کوئی ادارہ

    اسکی کسوٹی نہ ہو

    کوئی حکمران ، کوئی جج کوئی جرنیل کوئی بیوروکریٹ کوئی میڈیا آئیکون کوئی رائٹر جس کا کوئی کام پاکستانی مفاد سے متصادم ہو ہم اسے گرفت کر سکیں

    مگر اس سے پہلے بیرونی ممالک کے عالمی فورم پر launched پروپیگنڈا کو سمجھنے اور اس کا جواب دینے کی اہلیت بھی ہم پیدا کریں

    اور

    عالمی اور مقامی سطح پر کوئی پروپیگنڈا لانچ کرتے ہوئے یا کسی پروپیگنڈا کا جواب دیتے ہوئے ہم یہ مدنظر ضرور رکھیں کہ اس کا اثر پاکستان کیلئے کیا ہو گا

    اس کیلئے کئی دفعہ ہمیں اپنے الفاظ ، اور کئی دفعہ حقائق بھی دبا کر رکھنا پڑیں گے 

    ففتھ جنریشن وار

    بڑی سطح پر کھیلی جانے والی وہ شطرنج ہے جس میں بعض دفعہ ایک چھوٹی سی چال کسی بڑے معاملے کو سلجھا یا خراب کر سکتی ہے

    ففتھ جنریشن وار کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ 

    آپ وہ موقف تسلیم کر کے اس جنگ کا حصہ بنیں جو اس وار فیئر کے ڈیزائنر آپ کو بتاتے ہیں وہ ڈیزائنر غیر ملکی ہوں یا ملکی

    اسی وجہ سے چھوٹے چھوٹے گروہ ہیں جو اس جنگ میں حق میں یا خلاف ایک ہی مخصوص ایجنڈا پر کام کرتے نظر آئیں گے ‏ایسے میں ہم کس طرح دشمن کا آلہ کار بننے سے بچ سکتے ہیں

    جبکہ اداروں کی طرف سے پالیسیز پر مکمل خاموشی کیلئے وجہ سیکیورٹی بتائی جاتی ہے

    آج کل کوئی معاملہ انفرادی نہیں ہے ہر چھوٹے بڑے معاملے کا تعلق مقامی اور عالمی پالیسی ، سسٹم اور براہ راست یا بالواسطہ کنٹرول سے جڑا ہوا ہے

    اسی طرح صرف اس چیز کی وضاحت کیلئے ایک کتاب بھی ناکافی ہے کہ ہم کب کیا اور  کس طرح سمجھیں اور ردعمل کا اظہار کریں

    مسلسل نظر، درست معلومات، تجزیہ اور سیاق و سباق سے واقفیت ضروری ہے جو سب کو میسر نہیں اور اسی چیز سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے

    اسلئے ضروری ہے کہ ہر لیول پر غیر جانبدار تھنک ٹینک اور ڈسکشن بورڈ ہوں جو تازہ ترین صورتحال پر بات کر کے واضح کر سکیں

    ‏ڈس انفارمیشن سے نمٹنے کے دو طریقے ہیں

    پہلا موثر ترین طریقہ حکومتی سطح پر ہے لیکن بدقسمتی سے وہ سب سے زیادہ غیر فعال ہیں

    دوسرا طریقہ وہ ہے جس میں انفرادی یا چھوٹی جماعتوں اور ٹیموں کی شکل میں انالسز ونگ اور جوابی سٹریٹجی اختیار کرنے کے ہیں لیکن اس معاملے میں اکثر صحیح واقفیت نہ ہونا رکاوٹ ہے درحقیقت اس پر بڑے لیول پر کام کرنے کیلئے میدان قریبا خالی پڑا ہے

    ‏بیانیہ کی جنگ میں ہم پاکستانیوں میں صبر اور صحیح تجزیہ کی کمی ہے کیونکہ ہم فوری ردعمل ضروری سمجھتے ہیں

    اور درحقیقت یہی وہ چیز ہے جو ففتھ جنریشن وار کے منصوبہ ساز استعمال کرتے ہیں

    ہمیں رکنا ، دیکھنا ، سوچنا اور سمجھنا شروع کرنا پڑیگا

    "کسی ردعمل سے پہلے”

    Twitter handle 

    @ShafqatChMm

  • ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے نیا فیچر سپر فالووز متعارف کرا دیا ہے جس میں ٹوئٹرصارفین اپنے سبسکرائبرز کے لیے شیئر کیے گئے مواد کے پیسے وصول کرسکیں گے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اس فیچر کے تحت صارفین یہ طے کر سکتے ہیں کہ ان کی ٹوئٹس صرف سپرفالوورز کی ٹائم لائنز پر نظر آئیں گی جنہوں نے انہیں سبسکرائب کیا ہوگا سپر فالوورز کی شناخت ان کے نام کے نیچے نظر آنے والے ایک بیج کے ذریعے ہوگی جب وہ کسی بھی ٹوئٹ کا جواب دیں گے۔

    نئے فیچر کا اعلان فروری میں کیا گیا تھا اور اب یہ فیچر آئی او ایس ٹوئٹر کی ایپ پر دستیاب ہے ، اسےامریکہ اور کینیڈا میں لوگوں کے ایک ٹیسٹ گروپ تک محدود کیا گیا ہےٹوئٹر اس فیچر کو آئندہ ہفتوں میں دیگر ممالک میں بھی آئی او ایس پر فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے بعد میں یہ اینڈرائیڈ اور ویب پر بھی دستیاب ہوگا۔

    ٹوئٹر کے مطابق سپر فالووز صارفین ماہانہ بنیادوں پر 3، 5 یا 10 ڈالر اسٹرائپ سے ہونے والی ادائیگی کے ذریعے وصول کرسکتے ہیں تھرڈ پارٹی فیس کے صارفین سبسکرپشن سے 97 فیصد آمدنی کماسکتے ہیں جب تک وہ 50 ہزار ڈالر کی لائف ٹائم مونیٹائزیشن تک نہیں پہنچ جاتے۔اس حد کو عبور کرنے کے بعد 80 فیصد تک آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔

    اس سے قبل ٹویٹر نے کہا تھا کہ وہ ایک حفاظتی فیچر لانچ کرے گا جو صارفین کو نقصان دہ زبان استعمال کرنے یا بلائے گئے جوابات بھیجنے کے لیے سات دن کے لیے اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    صارفین کی تنقید، ایپل نے بچوں کے تحفظ کے لیے نئے سیکیورٹی فیچرزمؤخر کر دیئے

    ایک بار جب سیفٹی موڈ آن ہوجاتا ہے ، ٹویٹر کے سسٹم ٹویٹ کے مواد کو چیک کریں گے تاکہ منفی مصروفیت کے امکان اور مصنف اور جواب دہندہ کے مابین تعلقات کا اندازہ لگایا جاسکے۔ کمپنی نے کہا کہ جن اکاؤنٹس کے ساتھ اکثر بات چیت ہوتی ہے وہ خودکار طور پر بلاک نہیں ہوں گے ، کیونکہ یہ موجودہ تعلقات کو مدنظر رکھتا ہے۔

    کمپنی نے کہا ، “ہم چاہتے ہیں کہ ٹویٹر پر لوگ صحت مندانہ گفتگو سے لطف اندوز ہوں ، لہذا ہم حد سے زیادہ اور ناپسندیدہ بات چیت کو محدود کر رہے ہیں جو ان گفتگو کو روک سکتی ہے۔”

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

  • طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    طالبان کی سابق افغان حکومتی اہلکاروں کی ای میلز تک رسائی کی کوشش ، گوگل بھی میدان میں آ گیا

    گوگل نے افغان حکومت کے نامعلوم تعداد میں ای میل اکاؤنٹس بند کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق افغانستان کا کنڑول سنبھالنے کے بعد اگرچہ طالبان نے سابقہ حکومت میں شامل عہدیداروں اور ان سے تعاون کرنے والے ہم وطنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا تھا لیکن برطانوی خبر رساں ایجنسی ” روئٹرز” کا کہنا ہے کہ طالبان سابق افغان حکومت میں شامل عہدیداروں کے ای میل اکاؤنٹس تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    گوگل کی اپنے صارفین کے لئے ہنگامی وارننگ

    جمعے کو ایک بیان میں گوگل الفابیٹ انکارپوریٹڈ نے بتایا کہ کمپنی افغانستان کی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن اس نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی کہ افغان حکومت کے ای میل اکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں۔

    دوسری جانب سابق افغان حکومت کے ایک عہدے دار نے روئٹرز کو بتایا کہ طالبان سابق حکام کی ای میلز تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں طالبان نے گذشتہ ماہ ان سے کہا تھا کہ وہ اس وزارت کے سرورز پر موجود ڈیٹا کو محفوظ کریں جس کے لیے وہ کام کرتے تھےاگر میں ایسا کرتا ہوں تو وہ سابقہ وزارت کے ڈیٹا اور سرکاری مواصلات تک رسائی حاصل کر لیں گے۔

    فیس بک نے اپنے تمام پلیٹ فارمز پرافغان طالبان اور انکی حمایت سے متعلقہ تمام مواد…

    سکیورٹی کے خدشے کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عہدے دار نے بتایا کہ انہوں نے طالبان کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی اور اب وہ روپوش ہیں۔

    عوامی طور پر دستیاب میل ایکسچینجر ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ تقریباً دو درجن افغان حکومتی اداروں نے سرکاری ای میلز کے لیے گوگل سرورز کا استعمال کیا جن میں وزارت خزانہ، وزارت صنعت، اعلیٰ تعلیم اور معدنیات کی وزارتیں شامل ہیں کچھ مقامی حکومتوں کی طرح افغانستان کے صدارتی پروٹوکول کا دفتر بھی گوگل اکاؤنٹس استعمال کرتا رہا ہے۔

    سرکاری ڈیٹا بیس اور ای میلز سابق انتظامیہ کے ملازمین، سابق وزرا، سرکاری ٹھیکے داروں، قبائلی اتحادیوں اور غیر ملکی شراکت داروں کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔

    طالبان کے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا اعلان

  • سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

    سرکاری ملازمین کیلئے واٹس ایپ کی متبادل ایپ تیار

    وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سرکاری ملازمین کے لیے واٹس ایپ کی متبادل ایپلیکیشن تیار کر لی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق ایپ سے متعلق وزیر آئی ٹی سید امین الحق نے بتایا ہے کہ پاکستان میں اگلے چند ہفتوں کے بعد ہم بیپ ایپلیکیشن لانچ کرنے جارہے ہیں یہ ایپ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ہو گی اس ایپ کی دیکھ بھال این ٹی سی کریں گی، اس لیے یہ محفوظ ہو گی، یہ ایپ بن چکی ہے ٹرائل پر ہے، چند ہفتوں میں لانچ کر دی جائے گی۔

    پی ٹی اے وزیراعظم اور وفاقی کابینہ سے ٹک ٹاک پابندی سے متعلق پالیسی معلوم کرے اسلام آباد…

    سید امین الحق کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں اس ایپ میں صرف ٹیکسٹ میسج کی سہولت ہو گی دوسرے مرحلے میں وائس اور ویڈیو کال کی سہولت بھی موجود ہو گی اس ایپ کو ابتدائی سٹیج میں صرف وفاقی سرکاری ملازمین کے لیے لانچ کیا جائے گا۔

    سرکاری ملازمین کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال ممنوع ، نوٹیفیکیشن جاری

    واضح رہے کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سرکاری ملازمین کو خط لکھ کر واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا کا استعمال کرنے سے منع کیا تھا نوٹیفکیشن میں تمام سرکاری ملازمین کو خبردار کیا گیا تھا کہ کسی ایک یا زائد ہدایات کی خلاف ورزی بددیانتی کے مترادف ہوگی اور غفلت برتنے والے ایسے سرکاری ملازم کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شینسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے تحت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔

    اس کے علاوہ ان حاضر سروس سرکاری ملازمین کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جو اس سوشل میڈیا گروپ کے منتظم ہوں جس میں کسی طرح کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔