Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے نقصانات . تحریر : زارا سید

    چینی کے استعمال کے نقصانات میں کینسر، موٹاپا، شوگر، سردرد، توانائی یک دم ختم ھونا اور ھارمون کا عدم توازن سرفہرست ھیں۔ جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں شوگر اور موٹاپے کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ چینی کے عادی افراد کو جب تک میٹھی چیز نہ ملے وہ ڈر اور ذہنی تناﺅ محسوس کرتے ھیں۔

    مٹھاس کی یومیہ ضرورت۔

    مردوں کے لیے ساڑھے 37 گرام اور عورتوں کے لیئے صرف 25 گرام ھے۔ جو دن بھر کی خوراک سے ھی پوری ھو جاتی ھے۔ جبکہ اوسطاً ہر پاکستانی روزانہ 62 گرام چینی اپنے جسم کا حصہ بناتا ہے ۔

    کولیسٹرول کا باعث۔

    تحقیق کے مطابق جو لوگ زیادہ چینی استعمال کرتے ہیں ان میں دوسری بیماریوں کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے، جو کہ جسم کے لیے بہت نقصان دہ ہوتا ہے۔اور چینی انسانی جسم میں خطرناک چربی کو بھی بڑھاتی ھے۔

    انسولین میں اضافہ

    ایک تحقیق کے دوران ٹائپ تھری ذیابیطس کی اصطلاح استعمال کی گئی،جو انسولین کی مزاحمت اور زیادہ چربی والی غذاؤں سے ھوتی ھے اسے دماغی ذیابیطس بھی کہا جاسکتا ہے۔
    چینی کے زیادہ استعمال سے دوران خون میں انسولین بڑھ جاتی ہے، اور اس کا اثر جسم کے خون کی گردش کے نظام اور شریانوں پر بھی پڑتا ہے، انسولین کی زیادہ مقدار سے شریانوں میں مسلز سیلز کی گردش معمول سے زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جس سے ہائی بلڈپریشر اور اس کے بعد فالج یا دل کے دورے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

    چینی سے بھوک میں اضافہ :

    چینی انسان کے اندر بھوک کا احساس بڑھا دیتی ہے، زیادہ چینی کھانے سے دماغ میں جو پیٹ بھرنے کے احساس کی صلاحیت ہوتی ہے وہ بری طرح متاثر ھوتی ھے جس کی وجہ سے انسان کو ہر وقت بھوک کا احساس ہوتا رہتا ہے چاہے اس نے جتنا بھی زیادہ کھانا کھایا ہو۔ اس سے انسان بار بار کھانا کھاتا ھے اور موٹاپے کے ساتھ نظام ہضم بھی خراب ھوجاتا ھے۔

     

    چینی سے بڑھاپا:

    زیادہ چینی کھانے سے انسان کے دوران خون میں ایسے خطرناک مالیکیول پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے جو آپ کی جلد کو بہت زیادہ خشک اور ڈھیلی کردیتے ہیں، اور آپ کی جلد پر جھریاں پڑجاتی ہے ۔

    چینی والی اشیاء:

    سفید چینی کھانے پینے کی عام اشیاء جیسے سافٹ ڈرنکس، مٹھائیاں، آئس کریمز،جوسز، ملک شیکس، کیک، اور بیکری کی تمام مصنوعات، چائے، کافی، جام، جیلی،ٹافیوں، چاکلیٹس، مشروبات،اور تمام اقسام کے میٹھے پکوان میں کثرت سے موجود ہوتی ہے۔

    چینی کا متبادل:

    چینی کے متبادل کے طور پر کئی اشیاء استعمال کی جا سکتی ہیں جیسے:
    گنّے کا رس: اگرچہ سفید چینی بھی گنّے ہی کے رس سے تیار کی جاتی ہے، لیکن اس کی تیاری کے دوران تمام غذائی اجزا ضایع ہو جاتے ہیں، جب کہ گنّے کا رس نہ صرف وٹامن بی اور سی کا بہترین ذریعہ ہے،بلکہ جسم کو مٹھاس بھی پہنچاتا ہے۔
    شہد: سفید چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے، بی اور سی کی وجہ سے جسم کو مٹھاس ہی نہیں، تقویت بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے اسے چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پھلوں میں پائی جانے والی قدرتی شکر جسم کو مضر اثرات سے بچاۓ رکھتی ہے۔

    @Oye_Sunoo

  • کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز  تحریر: زاہد کبدانی

    کرونا وائرس اور پاکستان میں پڑھائی کی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے چیلینجز تحریر: زاہد کبدانی

    ہر جگہ تعلیمی خلل پیدا کرنا ، کرونا وائرس وبائی بیماری نے طلباء کی زندگیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ شاید ان کی آئندہ کی تعلیمی زندگی پر دیرپا اثرات مرتب ہوں گے۔ نسبتا کسی کا دھیان یہ نہیں رہا ہے کہ اس نے ترقی پذیر ممالک میں کہیں زیادہ مشکلات پیدا کردی ہیں۔ اس حقیقت کی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں پہلے سے ہی انٹرنیٹ تک رسائی ، ای لرننگ حل فراہم کرنے والے ، اور مقامی سطح پر تعلیم کی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے کے لئے حکومتی پالیسیاں نیز طالب علموں میں ذاتی وسائل کی کمی تھی۔کرونا وائرس بحران کو بہت سے ممالک سے بہتر طریقے سے نپٹانے میں ، پاکستان نے مکمل لاک ڈاؤن کی ضرورت سے گریز کیا اور دنیا کے لئے ایک مثال قائم کی۔ اس کی سمجھدار پالیسیاں یہاں تک کہ معیشت کو چلتی رہیں۔ ہمسایہ ممالک چین (جہاں پہلا کرونا وائرس انفیکشن پایا گیا تھا) اور بھارت (دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ ملک) سے قربت کے باوجود ، پاکستان حیرت انگیز طور پر محفوظ ہے جب یورپ اور امریکہ کے ساتھ مقابلے میں 98 فیصد بحالی کی شرح ہے۔

    تعلیمی ٹکنالوجی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے — اسمارٹ فونز ، ٹیبلٹس ، بڑھا ہوا اور ورچوئل ریئلٹی ، اور تیز رفتار انٹرنیٹ ، 4 جی ، اور 5 جی کنیکٹوٹی۔ یہ سب آن لائن تعلیم کو زیادہ پیداواری ، انکولی اور قابل رسائی بناتا ہے۔ در حقیقت ، ای لرننگ انڈسٹری کی فی الحال قیمت 200 بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے اور اس کی توقع ہے کہ 2026 تک اس میں 375 بلین ڈالر کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے باوجود ، پاکستان کے دنیا کے کچھ بدترین تعلیمی نتائج بھی ہیں۔ مثال کے طور پر ، اس میں دنیا کی دوسری بڑی تعداد بچوں کی ہے جو اسکول میں نہیں ہیں: 22.8 ملین بچوں کی عمر 5 سے 16 سال ہے ، جو پاکستان کے اسکول جانے والے بچوں کا 40 فیصد ہے۔ بدقسمتی سے ، اس وبائی امراض کا آغاز پاکستان کی تمام صوبوں میں یکساں نصاب کو عملی جامہ پہنانے کی جدوجہد سے ہم آہنگ ہے۔ چونکہ جنوبی ایشیا میں کورونا وائرس کے کنٹرول کے اقدامات پھیل رہے ہیں ، محکمہ تعلیم اور اعلی سطحی یونیورسٹیوں نے خود کو ناقص سمجھا یا ، زیادہ تر معاملات میں ، آن لائن سیکھنے اور فاصلاتی تعلیم کی فراہمی کے لئے بالکل تیار نہیں ہے۔ ماضی میں ، پاکستان نے دہشت گردی کے حملوں اور سیاسی خطرات کی وجہ سے تعلیمی ادارے بند کردیئے تھے ، لیکن آن لائن تعلیم کے آس پاس ابھی تک کوئی سرکاری پالیسی موجود نہیں تھی۔ پاکستان میں ابھرتا ہوا موبائل فون استعمال کنندہ مارکیٹ ہے۔ اس وقت آبادی کا 75 فیصد موبائل ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ لیکن 220 ملین آبادی میں – جو دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے ، وہاں صرف 76.38 ملین انٹرنیٹ استعمال کنندہ ہیں۔ یہی آبادی کا صرف 35 فیصد ہے ، جس میں صرف 17 فیصد سوشل میڈیا استعمال کرتے ہیں۔ زمینی حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی ای-لرننگ سسٹم کو اپنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ آن لائن سیکھنے کی پالیسی کے خلاف مزاحمت میں ٹکنالوجی یا نئی پڑھنے کی تدریسی تعلیم کو اپنانے اور کلاس روم کے ماحول میں استعمال ہونے کی مزاحمت بھی منفی کردار ادا کرتی ہے۔

    وبائی مرض سے سیکھا گیا اسباق پڑھنے کی جگہوں کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور نصاب کی تشکیل نو کے موقع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ شکل 1 میں دکھایا گیا ہے۔ اس ملک میں تعلیم کا مستقبل۔ پاکستانی انسٹی ٹیوٹ میں ، تکنیکی طور پر تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی ہے کہ آن لائن کلاس آسانی سے چلائیں۔ ملاوٹ ، فاصلہ ، اور آن لائن تعلیم کو تقویت دینے کے لئے،MOOCs ، Corseera اور EdX کو زیادہ سے زیادہ آگاہی اور رسائ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ورچوئل ، بڑھا ہوا ، اور مخلوط حقیقت والی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جدید ، عمیق سیکھنے کی ٹکنالوجیوں اور جدید تعلیم کی جگہوں کو بھی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹیکنالوجیز ، مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے استعمال کے ساتھ ، مزید انٹرایکٹو ، شخصی اور نتیجہ خیز سیکھنے کے حل کی تعمیر میں ہماری مدد کرکے سیکھنے کے مستقبل کو تبدیل کرسکتی ہیں۔ مزید خاص طور پر ، جب ہم اسٹیم میں عملی ، عملی طور پر سیکھنے کے بارے میں بات کرتے ہیں ، جہاں سیکھنے کے مواد کی اشد ضرورت ہوتی ہے ، تو بڑھتی ہوئی حقیقت نسبتا سیکھنے کے نقطہ نظر کے ساتھ تعلیم دینے میں مجازی مواد فراہم کرسکتی ہے, تکنیکی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں ای لرننگ کے لئے جدید اور جدید نظام موجود ہیں ، جس کی وجہ سے وہ اس تعلیمی سال کے دوران سیکھنے کے بہاؤ کو متحرک رکھیں۔ لیکن پاکستان میں ، آن لائن سیکھنا ایک نوزائیدہ مرحلے پر ہے۔ ایمرجنسی ریموٹ پڑھنے کے طور پر شروع کرنے کے بعد ، اس کو مزید اپنانے اور حدود کو دور کرنے کے لئے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ دور دراز کے علاقوں میں انٹرنیٹ کے قیام کے ساتھ ساتھ ، تصنیف کے خصوصی اوزار تیار کرنا ، اور آن لائن سیکھنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے آگاہی

    @Z_Kubdani

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط سوم)  تحریر:  رانا بشارت محمود:

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط سوم) تحریر: رانا بشارت محمود:

    امید ہے آپ نے اِس سلسلے کی پہلے شائع ہونے والی دو اقساط ضرور پڑھی ہوں گی، جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری نوجوان نسل کی زندگیوں پہ پڑنے والے اثرات کے بارے میں تھی۔ تو چونکہ یہ بھی اُسی سلسلے کی تیسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    ~ ریڈیو، کیمرے، ٹیپ رکارڈر و کیسٹ، وی سی آر، چراغ، موم بتی، لال ٹین و ٹارچ لائیٹیں اور وقت دیکھنے کے لیے ہاتھ پہ باندھی جانے والی گھڑیوں سمیت سب کچھ گُم سا ہو کے رہ گیا ہے۔

    تو اِس سے پہلے شائع ہونے والی پہلی دو اقساط میں بھی موجودہ دور میں اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن اثرات کا ذکر کیا گیا تھا، اُن کے ساتھ ساتھ یہ جدیدیت بھی آگئی ہے کہ جو پہلے ہماری استعمال کی جانے والی بہت سی چیزیں تھیں، جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، یا تو پہ سب تقریباً ختم ہی ہو گئی ہیں یا پھر اگر کچھ موجود ہیں بھی تو وہ صرف اس وجہ سے کہ ان میں جدیدیت لائی گئی ہے۔

    عام طور پہ دیہاتوں اور قصبوں میں شام ہونے کے بعد (چوپال، دارا، ڈیرہ یا حویلی کے نام سے مشہور جگہیں) جہاں بہت سے لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھ جایا کرتے تھے۔ پھر ان کا آپس میں حالاتِ حاضرہ پہ گفتگو کرنا، جس کے ساتھ ساتھ ہُکا بھی پیا جاتا تھا اور ریڈیو پہ خبریں اور طرح طرح کے پروگرام بھی سُنے جاتے تھے۔ یہاں تک کے اگر پچیس تیس سال پہلے کے دور کو دیکھیں تو بڑے شہروں میں بھی کئی جگہ پر یہی طریقہ عام ہوا کرتا تھا۔ اور ریڈیو پہ خبریں اور پروگرام سننے کے بہانے سب کا اکٹھے ہو کر مِل بیٹھ جانا بھی ایک دل کو موہ لینے والا منظر پیش کر رہا ہوتا تھا۔

    اور پھر تصویریں بنانے یا بنوانے کے لیے استعمال کئے جانے والے مختلف کمپنیوں کے کیمرے جو کہ تب بہت کم لوگوں کے پاس ہوا کرتے تھے اور پھر تصویریں بنوانے کی غرض سے دیہاتوں اور قصبوں میں رہنے والوں کا ( جن کے قریب یہ سہولت موجود نہیں ہوتی تھی) اپنے نزدیکی شہروں میں موجود فوٹو سٹوڈیوز میں جانے والا بھی ایک سہانا دور ہوا کرتا تھا۔

    پھر اسی طرح سے اپنی یا کسی کی آواز کو ریکارڈ کرنے کے لیے ٹیپ ریکارڈر کا استعمال کرنا بھی ایک انوکھا تجربہ ہوا کرتا تھا جن میں کیسٹ ڈالی جاتی تھی، اس کے بعد وی سی آر جو اُس وقت فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کے لیے سب سے جدید ٹیکنالوجی مانی جاتی تھی۔ ان کا استعمال بھی ایک شاندار تجربہ ہوتا تھا۔

    اِس کے بعد اب آگے چلیے تو آپ کو بتلاؤں کہ اگر ہم زیادہ نہیں تو صرف تین عشرے ہی پیچھے چلے جائیں تو تب تک پنجاب کے بھی بہت سارے علاقوں میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی، تو وہاں کے طلباء پھر اپنا سبق پڑھنے کے لیے یا پھر گھر والے روشنی حاصل کرنے کی غرض سے رات کے وقت موم بتی، چراغ یا لال ٹین اور پھر بجلی کی سہولت آ جانے کے بعد تک بھی ٹارچ لائٹیں استعمال کیا کرتے تھے۔ (البتہ! اس اکیسویں صدی میں بھی جنوبی پنجاب کے کئی علاقے، اندرونِ سندھ کے بھی بہت سے علاقے، پختونخواہ کے قبائلی علاقہ جات اور بلوچستان میں تو اب بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں ابھی تک بجلی نہیں پہنچائی جا سکی ہے)۔

    اور پھر اُس کے بعد تب وقت دیکھنے کی خاطر مختلف اقسام کی گھڑیوں کا بھی کلائیوں پہ باندھنے کا ایک شاندار دور ہوا کرتا تھا۔ اور اُس دور میں جس کے پاس گھڑی ہوتی تھی تو اُس کی بھی اپنے حلقہ احباب میں بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی، کیونکہ دوسروں کو اُس سے وقت جو پوچھنا پڑتا تھا۔ (البتہ! ابھی بھی گھڑی پہننے کا بہت رواج ہے لیکن اب یہ صرف فیشن کی حد تک ہی رہ گیا ہے اور وقت دیکھنا غرض بالکل بھی نہیں رہا)۔

    اور اب اگر اِس کا دوسرا رُخ دیکھا جائے تو اِن سب مندرجہ بالا چیزوں کو تیار کرنے والی کمپنیاں، پھر اِن کو بیچنے والے دوکاندار اور پھر اِن کے خراب ہو جانے پہ تصلیح کرنے والے مکینک تک تقریباً سب کے سب لوگ بے روزگار بھی ہوئے ہیں۔

    اور اس سب کے پیچھے صرف اور صرف ایک یہ ہی وجہ ہے، اور یہ کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے عام ہو جانے کے بعد یہ سب کچھ اب پرانے وقتوں کی طرح ماضی کا حصہ ہی بن کے رہ گیا ہے۔ اور زیادہ تر یہ سبھی چیزیں اب صرف فلموں، ڈراموں، کہانیوں اور تصویروں تک ہی رہ گئی ہیں، اور وہ بھی جن میں پرانے دور کا دِکھانا مقصود ہو اُن میں یہ چیزیں آثارِ قدیمہ کی صورت میں دکھائی جاتی ہیں۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو کیونکہ اب اِس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ہمیں اِن سب چیزوں کی بالکل بھی ضرورت نہیں رہی، لیکن اگر ہمارے پاس ان میں سے کچھ چیزیں موجود ہیں تو اُن سب چیزوں کو اپنا قیمتی ورثہ جانتے ہوئے انہیں سنبھال کے حفاظت کے ساتھ رکھیں۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلیں بھی ہماری اُن پرانے وقتوں کی چیزوں کو دیکھ اور پرکھ سکیں ناکہ وہ یہ سب صرف فلموں اور ڈراموں میں ہی دیکھ کر حیران ہوا کریں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Author Name:
    Rana Basharat Mahmood – Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • کیا دنیا بھر میں جاسوسی کرنے والے پیگاسس  کی مدد واٹس ایپ نے کی اور پاک فوج کیسےمحفوظ رہی؟  پی ٹی اے حکام کے انکشافات

    کیا دنیا بھر میں جاسوسی کرنے والے پیگاسس کی مدد واٹس ایپ نے کی اور پاک فوج کیسےمحفوظ رہی؟ پی ٹی اے حکام کے انکشافات

    پی ٹی اے حکام کا کہنا ہے کہ پیگاسس کے ذریعے دنیا بھر میں جاسوسی کی گئی ، مگر پاک فوج بروقت اقدامات کے ذریعے اس سے محفوظ رہی ۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق قائمہ کمیٹی دفاع کے اجلاس میں پی ٹی اے حکام کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ فوج نے پہلے ہی بروقت ایکشن لیا اور سمارٹ فون پر پابندی عائد کی ، پیگاسس آپ کا مائیک ہیک کر لیتا ہے ، انکرپشن توڑی نہیں جا سکتی ، ہمارا اندازہ ہے کہ واٹس ایپ نے ان کی مدد کی ہے ۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں وزیر اعظم عمران خان کے موبائل فون کو ہیک کرنے کی کوشش کا انکشاف کیا تھا ۔

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    واشنگٹن پوسٹ اور دس ممالک کے 16میڈیا شراکت داروں کی ایک ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے مطابق بھارت میں کم از کم سات افراد پر مشتمل گروہ کا انکشاف ہوا ہے جوصحافیوں اور دیگر افراد کے ٹیلی فونز کو ہیک کر رہا ہے جبکہ یہ سہولت یا آلات صرف اور صرف حکومتوں کے پاس دہشتگردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے موجود ہوتے ہیں-

    پیگاسس سے جاسوسی پاکستان سالمیت پرحملہ ہے، قانونی چارہ جوئی کرینگے، مشیر داخلہ کا اعلان

    اس گروپ کی فہرست میں ایک ہزار سے زیادہ فون نمبرز موجود تھے جن کی نگرانی کرنا مقصود تھا ، یہ نمبرز صحافیوں ، سیاستدانوں ، بڑے تاجروں سمیت دیگر افراد کے تھے ، اس میں ایک نمبر ماضی میں پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم نے بھی ایک بار استعمال کیا تھا مگر اس وقت عمران خان وزیر اعظم نہیں تھے ۔

    چین کے معاملات پر شور مچانے والے اسرائیل اور پیگاسس معاملے پر کیوں خاموش ہیں؟ روسی میڈیا نے سوال اٹھا دیا

    معاملہ سامنے آنے پر پاکستان نے بھارت کی جانب اسرائیلی سافٹ ویئر کے استعمال سے وزیر اعظم عمران خان سمیت دیگر اعلیٰ شخصیات کے فون ہیک کرنے کا معاملے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ ادارے معاملے کی تحقیقات کریں،اقوام متحدہ اصل حقائق منظر عام پر لائے اور اس میں ملوث بھارتی عناصرکا محاسبہ کیا جائے۔

    بھارت کا پیگاسس کے ذریعے 25 کشمیری رہنماؤں اور صحافیوں کی جاسوسی کا انکشاف

  • پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں کہاں کھڑا ہے تحریر: محمد حارث ملک زادہ

    1947 قیام پاکستان کے بعد ہی مختلف شعبوں میں خود کفیل ہونے کے لیے، متعلقہ ادارہ تشکیل دیئے گئے تھے، ان میں سپیس ٹیکنالوجی کےلیے 1961 میں ڈاکٹر عبدوسسلام سپارکو(خلائی و بالائے فضائی تحقیقاتی مأموریہ) کی بنیاد رکھی گئی ۔ابتداء میں سپارکو نے خوب ترقی کی جس کا اندازہ اپ اس بات سے لگائے سکتے ہیں کہ 7 جون 1962 کو ، رہبر راکٹ کے لانچ کیاجس سے پاکستان ،اسلامی دنیا اور جنوبی ایشیا کا پہلا ملک ، ایشیاء میں تیسرا ، اور بغیر پائلٹ خلائی جہاز کو کامیابی کے ساتھ لانچ کرنے والا دنیا کا دسواں ملک بن گیا۔اسی کے ساتھ ہی کامیابیوں کا سفر طےکرتے ہوئے سپارکو نے متعدد ساؤنڈ راکٹ لانچ کیے , پاکستان کا پہلا مصنوعی سیارہ -بدر 1 ، 1990 میں , بدر-بی کو 2001 میں ۔ 2011 میں ، پاکس سیٹ -1 جو پاکستان کا پہلا مواصلاتی مصنوعی سیارہ بن گیا۔
    1971 کی جنگ کے بعد پاکستان کو معاشی طور پر کمزوری کی وجہ سے ملک کو مستحکم کرنے کے لیے پیسوں کی ضرورت نے بجٹ میں مختلف شعبوں کے لیے مختص رقوم میں کمی کی وجہ سے جس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ 2021 میں سپارکو کا بجٹ صرف 46 ملین ڈالر تو 1971 میں چند ملین تھا جس میں تمام معاملات چلانا ناممکن تھا جس سے پاکستان سپیس مشنز التوٰا کا شکار ہوتے گئے،یہئ سے سپارکو کا زوال شروع ہواجو کئی دہائیوں سے چل رہاہے، اس کے علاوہ ایک وجہ 70 و 80 کی دہائی میں پاکستان کا ایٹمی پروگرام تھا جووقت کی اہم ضرورت تھا جوعسکری و سیاسی توجہ کے سبب اس پرزیادہ کام ہورہاتھا ، جس سے فنڈ میں دستیابی نہ ہونے کی وجہ سے سپیس مشنز کو بریک لگ گئی۔
    اس کے علاوہ چین کی طرف بڑھنے سے پاکستان کے جوہری عزائم کے بارے میں امریکی پالیسی حلقوں میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ، جو 1980 کی دہائی کے دوران تیزی سے واضح ہورہے تھے۔ مواصلاتی مصنوعی سیارہ لانچ کرنے کا منصوبہ وسائل کی کمی کی وجہ سے ضائع ہو گیا تھا کیونکہ ضیا الحق کے دور حکومت میں بجٹ میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ بجٹ میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ خلا میں مزید گھٹ جانے والے عزائم کے ساتھ ساتھ اس وقت بھی آگیا جب پاکستان سوویت یونین کے ساتھ افغانستان میں اپنی جنگ میں مصروف تھا۔ پاکستان کے لئے سیاسی ترجیحات میں تبدیلی نے سپارکو کی پیشرفت میں طوقیں ڈال دی ہیں۔
    لیکن سپیس ٹیکنالوجی کی طرف کم دھیان ہونے کی وجہ سے ریسرچ و ڈیلومنٹ کے ساتھ نئی سٹیلائٹ تیار کرناو لانچ بروقت نہیں کرسکا جو زیرالتوا ہوتے ہوتے 2000 کی دہائی تک مزید سست روی کا شکار ہوگیا۔9/11 کے بعد کی دہشت گردی کی لہر نے امریکی پاپندیوں نے پاکستان کو مالی طور پر شدید کمزور کردیا جو 2015 تک پاکستان کے مستحکم ہونے تک سپیس مشنز بلکل ہی غائب ہوگئے۔
    سپیس ٹیکنالوجی کی اہمیت جدید دور کے ساتھ ساتھ کافی حد تک بڑھ چکی کیونکہ سٹیلائٹ کی مدد سے کوئی بھی ملک موسمیاتی تبدیلی ، سیلاب ، ظوفان ، بارشوں کا وقت سے پہلے پتہ لگاسکتاہے، جس سے ناصرف بہت بڑی تباہی سے بچا جاسکتاہے، اسی تناظر میں موجودہ دور میں دفاعی میدان میں بھی سپیس ٹیکنالوجی بے انتہاہ ضروری ہے کیونکہ فوجی دستہ آپس میں خفیہ پیغامات بھی سٹیلائٹ کی مدد سے بھیجتے ہیں، میزائل بھی مقررہ ہدف کو کامیابی دے نشان بنانے کے لیے سٹیلائٹ کا استعمال کرتاہےاور اس کے علاوہ دشمن کے علاقہ کی جاسوسی کےلیے بھی سٹیلائٹ کا استعمال کیا جاتاہے۔ اس کی اہمیت یہ بھی ہے کہ لوگ آپس میں موبائل کالز و میسجز آپس میں رابطہ کے لیے سگنلز سے جو سٹیلائٹ کی مدد سے ہی برق رفتاری سے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچتے ہیں، مجموعی طور پر یہ بات کی جائے تو ایک ملک کے تمام معاملات حالیہ دور میں انٹرنیٹ کے ساتھ جودراصل سپیس ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی چل رہے ہوتے ہیں، جس کوچند منٹ میں مکمل تباہ بھی کیاجاسکتاہے جس پورا ملک مفلوج ہوسکتاہے، اس کی طاقت اس وقت روس ، امریکہ ، چین وغیرہ کے پاس جو ایک میزائل کی مدد سے کسی بھی ملک کی تمام سٹیلائٹس کوتباہ کرسکتے ہیں۔لیکن بدقسمتی سے بروقت توجہ نہ دینے کی وجہ سے آج پاکستان سپیس ٹیکنالوجی میں بہت پیچھے رہ گیاہے، جس کا صرف اس خطے میں ہی مقابلہ بہت مشکل ہے۔2022 میں چین کی مدد سے پاکستان سے ایک خلاباز خلا میں بھیجاجائے ، جس کاتکمیل موجودہ حالات کو دیکھ کر کہا جاسکتاہے کہ ناممکن نظر آرہاہے، اس کے علاوہ پاکستان خود سے سٹیلائٹ خلا ءمیں بھیجنا تو دور خودساختہ سٹیلائٹ بھی تیار نہیں کرپارہاہے،اس کے برعکس دنیا کے باقی ممالک چاند و مریخ پر پہنچ چکے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ایسے ماحول کی دستیاب ہو جو اس کے لئے سازگار ہو اور سیاسی مرضی جو اس کا حامی ہو۔
    ایک پاکستانی ہونے کی ناطے حکومت ِوقت سے میری ذاتی طور پر گزارش ہے کہ خداراہ جس طرح ایٹمی پروگرام کو ممکن کربنایا تھا ، اسی طرح سپیس ٹیکنالوجی کی طرف بھی توجہ دی جائے جس سے ملک کی افواج و عوام اور کاروبار کو فائدہ ہوگا ناصرف قدرتی آفات کی تباہی سے بچنے میں مدد حاصل ہوگئی، اس کے علاوہ سپیس ٹیکنالوجی میں خود کفیل ہوگاتو پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہوگا۔
    اللہ پاک پاکستان کو سپیس ٹیکنالوجی میں ترقی و عروج عطا فرمائے ، آمین۔
    Name Muhammad Haris MalikZada
    Twitter ID:@HarisMalikzada

  • دنیا کی دوسری امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    دنیا کی دوسری امیر ترین شخصیت ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی

    ایلون مسک کی ایک دن کی آمدنی 4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : ایلون مسک کی کمپنی ٹیسلا کی جانب سے ایلون مسک کی آمدنی سے متعلق نئے اعداد شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق ان کی روزانہ کی آمدنی 3.75 ارب ڈالر سے زائد ہو چکی ہے۔

    ٹیسلا نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا ہے کہ کمپنی کی آمدنی 2021 کی دوسری سہ ماہی میں کمپنی کی تاریخ میں پہلی بار ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر کے 1.14 ارب تک پہنچ گئی ہے۔

    کیلیفورنیا میں موجود کمپنی اپریل سے جون کے دوران ریکارڈ دو لاکھ سے زائد گاڑیاں تیار کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ پیر کے روز ٹیسلا کے اسٹاک کی قیمت 676.42 ڈالر فی شیئر تک پہنچ چکی تھی۔

    ٹیسلا کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے ایلون مسک نے ابھی بٹ کوائن کرنسی نہ خریدی ہے اور نہ ہی فروخت کی ہے۔

    بلومبرگ بلینیئر انڈیکس کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ ایلون مسک کی مجموعی مالیت دو برسوں کے دوران 177 بلین ڈالر تک جا پہنچی ہے۔

    تاہم اب جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے، برقی کاریں اور خلائی راکٹ بنانے والی معروف کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک کو دنیا کی امیر ترین شخصیات میں پہلے نمبر پر آنے کے لیے 32 بلین ڈالر کی ضرورت ہے

    جبکہ پہلے نمبر پر اب بھی ایمازون اور بلواوریجن کے بانی جیف بیزوز ہیں، جن کی نیٹ ورتھ 208 ارب ڈالر سے زائد ہے، اور بل گیٹس 151 ارب ڈالرز کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

  • بھارت و اسرائیل گٹھ جوڑ .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    بھارت و اسرائیل گٹھ جوڑ .تحریر:محمد عتیق گورائیہ

    بھارت و اسرائیل جیسے ملک ایسے ہیں کہ جو وقت پڑنے پر دوستوں کو بھی کاٹ کھائیں ۔ ابھی حال ہی میں فرانسیسی میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیم کو 50ہزار سے ایسے فون نمبروں تک رسائی ملی ہے جو اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کو استعمال کرنے والے ملکوں کا ہدف ہوسکتے ہیں ۔ 80کے قریب صحافیوں کے تجزیے سے کافی کچھ چونکا دینے والا سامنے آیا ہے ۔ اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حکومتی اہلکاروں ، صحافیوں ،انسانی حقوق کے کارکنوں، وکیلوں ، کاروباری شخصیات ، سیاسی شخصیات اور کئی لوگوں کے فون نمبر اس فہرست میں شامل ہیں ۔ ہمارے لیے ان سب میں اہم ہمارے وزیراعظم عمران خان کا نام ہے کہ جن کا پرانا نمبر اس فہرست میں شامل ہے ۔ ان کا نام بھارت نے 2019ء میں اہمیت والے افراد میں منتخب کیا تھا ۔ ان میں سے 67 افراد کے موبائل ڈیوائسز کو ایمنسٹی انٹرنیشنل نے تجزیہ کرنے کے لیے حاصل کیا جس میں سے 37 فون ایسے تھے جن پر پیگاسس کے حملے کا سراغ ملا۔

    معلومات کے مطابق یہ سافٹ وئیر اسرائیل کے ایک گروپ این ایس او کا ہے جو کہ 2010ء میں قائم کی گئی تھی اس کمپنی کا سب سے معروف سافٹ وئیر مذکورہ بالا ہی ہے جوکہ آئی فون اور اینڈرائڈ فونوں تک خفیہ طریقےسےرسائی کرکے جاسوسی و دیگر کام کرتا ہے ۔اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا سافٹ وئیر سرکاری اداروں کو بیچا جاتا ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی و جرائم پیشہ عناصر کو روکنا ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ اخبار، جو کہ اس تحقیقی منصوبے کا حصہ بھی ہے، کہ مطابق این ایس او کمپنی کے 750 کے قریب ملازمین ہیں اور گذشتہ برس کمپنی کی سالانہ آمدنی 24 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی۔ یاد رہے کہ اس کمپنی کے اکثریتی حصص لندن کی ایک نجی فرم کے پاس ہیں ۔ اس سافٹ وئیر کو خریدنے کے لیے اسرائیلی حکومت کی اجازت بھی درکار ہے اور بی بی سی کے مطابق 45 سے زائد ممالک اس سافٹ وئیر کے متاثرین میں شامل ہیں جن میں پاکستان، فلسطین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بنگلہ دیش، سنگاپور، عمان، لیبیا، لبنان، وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں یہ بات بھی باعث حیرت ہوگی کہ اس مہنگے ترین سافٹ وئیر کا استعمال بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے 25 کے قریب راہ نماوں کی جاسوسی کراے جانے کا انکشاف بھی ہوا ہے ۔ جبکہ ایک اور تحقیق کے مطابق "جو کہ ایمنسٹی اور فوربڈن سٹوریز نے کی ہے ” دس ممالک ایسے ہیں جو پیگاسس سافٹ وئیر کے صارفین میں شمار ہوتے ہیں جن میں بھارت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان،بحرین، قازقستان، میکسیکو، مراکش، ہنگری اور روانڈا شامل ہیں۔ مذکورہ سافٹ وئیر بھیجے جانے والے ربط پر کلک کرتے ہی خود کو فون میں انسٹال کر کے دی گئی ہدایات کے مطابق کام شروع کردیتا ہے جس میں تصاویر، ویڈیوز، فون نمبرز، ای میلز ، پیغامات ، کیلنڈر ، پیغاماتی ایپلیکیشنز وغیرہ کا تجزیہ کرسکتا ہے یا پھر اپنے سرور کو بھیج سکتا ہے ۔ علاوہ ازیں کیمرہ و مائیک وغیرہ استعمال کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فوربڈن سٹوریز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پیگاسس کا تازہ ترین ورژن بغیر ربط یا کوئی مواد ڈاؤن لوڈ کیے بغیر اپنے آپ کو انسٹال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ سب سے زیادہ خطرناک ہے ۔ماہرین نے اس کو صلاحیت کو ’زیرو کلک ولنریبیلٹی‘ کا نام دیا ہے ۔

    ایک ایسے وقت میں جب پوری دنیا کرونا جیسے مہلک مرض سے نبردآزما ہے پہلی، دوسری، تیسری لہر کے بعد چوتھی لہر نے حضرت انسان کے اعصاب کو شل کردیا ہے ۔ ایسے میں اسرائیل گھناونے عزائم میں نہ صرف مبتلا ہے بلکہ اس کی فروخت بھی کررہا ہے ۔ بھارت جہاں 49 لاکھ سے زائد افراد کرونا کی وجہ سے موت کو گلے لگاچکے ہیں اور بھارتی کسانوں نے بھارت سرکار کے ناک میں دم کیا ہوا ہے ۔ ایسے میں اپنے ملک کی خدمت کرنے اور حالات کو بہتر کرنے کی بجاے دوسرے ممالک کے سربراہان و راہ نماؤں کی جاسوسی کرتے پھرنا کہاں کی انسانیت ہے ؟پاکستانی قیادت کو بھی آگے بڑھ کر ایمنسٹی و دیگر اداروں کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات کو اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھانا چاہیے کہ یہ ہماری قومی سلامتی پر حملے کے مترادف ہے ۔ امریکا کو بھی سوچ لینا چاہیے کہ اسرائیل و بھارت کس قدر گر سکتے ہیں ۔ ماضی میں بھی اسرائیل پر مختلف طرح کے الزامات لگتے رہے ہیں لیکن جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا معاملہ ہورہا ہے ۔

  • موبائل فون اور ہم . تحریر : رانا محمد جنید

    موبائل فون اور ہم . تحریر : رانا محمد جنید

    ہم آج اکیسویں صدی سے گزر رہے ہیں، جس میں آئیے روز نت نئی ایجادات پیدا کی جا رہی ہیں جو کے انسانی زندگی کو زیادہ سے زیادہ آرام فرہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جیسے جیسے انسانی زندگی مشکل کی طرف جا رہی ہے ویسے ویسے انسان اپنے لئے نئی چیزیں پیدا کرتا جا رہا ہے، ان میں بہت سے چیزیں تو انسان کو فائدہ کو بے شمار فائدے فراہم کر رہی ہیں اور کچھ کے نقصانات بھی ہیں۔
    آج کے دور سب سے زیادہ اور زیادہ وقت کے لیے جو چیز استعمال ہو رہی ہے وہ موبائل فون ہے، اس میں اب کوئی شک نہیں ہے کے تقریباً دنیا بھر میں موجود ہر شخص موبائل فون سے واقف ہو چکا ہے،ہر شخص موبائل فون کا استعمال جان چکا ہے۔

    موبائل فون عام طور پہ ایک دوسرے سے رابطے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے علاؤہ بھی بے شمار فائدے ہیں مثلاً: انٹرنیٹ، انٹرٹینمنٹ اور حساب کتاب وغیرہ چونکہ موبائل فون کے بنانے کا مقصد اس وقت دور کے فاصلے تک ایک دوسرے سے رابطہ رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا، موبائل فون وہ ضرورت تو پوری کر ہی رہا ہے۔ پرکیا ہم نے کبھی سوچا موبائل فون نے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک دوسرے سے بہت زیادہ دور بھی کر دیا ہے، موبائل کے حد سے زیادہ استعمال نے انسان کی زندگی پر بے حد اثرات مرتب کئے ہیں چاہے وہ دینی ہوں دنیاوی یا سماجی اگر دیکھا جائے تو موبائل فون اب ہمارے معاشرے کے لئے بے حد ضروری ہو چکا ہے جس سے پیچھا چھوڑا ممکن نہیں، پراس وجہ سے ہم اس کے نقصانات سے بھی منہ نہیں موڑ سکتے اگر پہلے دیکھا جائے کے موبائل فون نے ہماری دینی زندگی پر کیا اثرات چھوڑے ہیں تو شاید ہم یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کے ہم صِرَٰطٍۢ مُّسْتَقِيمٍۢ سے ہٹ کر کہاں جا رہے ہیں.

    موبائل فون ہماری دینی زندگی پر کس طرح سے اثر انداز ہوا ہے وہ کچھ اس نظم میں بیان کئے گے الفاظ کے عین مطابق ہے

    موبائل نے ذوقِ تلاوت چُھڑا دی
    موبائل نے تسبیح کی عادت چُھڑا دی

    موبائل نے خود میں ہی مصروف رکھا
    موبائل نے مسجد کی رغبت چھڑا دی

    موبائل نے آنکھوں کو آوارگی دی
    موبائل نے تقوی کی نعمت چھڑا دی

    موبائل وبا ہے، موبائل ہے فتنہ
    موبائل نے اُمت کی خدمت چھڑا دی

    موبائل غمِ آخرت سے ہٹائے
    موبائل نے دعوت کی محنت چھڑا دی

    موبائل نے ایماں کو کمزور کرکے
    موبائل نے راہِ شجاعت چھڑا دی

    موبائل نے لایعنیوں میں دھکیلا
    موبائل نے نیکوں کی صحبت چھڑا دی

    موبائل نے دلدل کو گلشن بتاکر
    موبائل نے دریائے رحمت چھڑا دی

    موبائل کے لت کی نحوست ہے
    موبائل نے شوقِ شہادت چھڑا دی

    اسی طرح سے ہی اقبال کا ایک شعر جو مسلمانوں کے ان حالات کی عکاسی کرتا تھا،

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    اب اگر موبائل فون کا انسان کی دنیاوی زندگی پر اثر دیکھا جائے تو وہ بھی کچھ کم نہیں، اس وقت لوگوں کو ایک دوسرے سے بے زار کرنے کے لیے موبائل فون کا بہت ہاتھ ہے لوگ اس فتنے میں اس قدر کھو چکے ہیں کے وہ اپنی قریبی رشتے ئاور دوستوں کو بھی وقت نہیں دے پاتے،جس کی وجہ سے بہت سی غلطی فہمیاں جنم لے لیتی ہیں جو کے بعد میں تعلقات کے خاتمے کا سبب بنتی ہیں۔
    اور اسی طرح ہی موبائل فون سے ہمارے معاشرے پہ جو اثرات چھوڑے ہیں ان سے بے شمار برائیاں جنم لے رہی ہیں، آج کل لوگ اپنے زیادہ تر لین دین کے معاملات موبائل فون کے ذریعے ہی کرتے ہیں،اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کے کوئی تیسرا شخص موبائل فون کو ہیک کر کے ان کے پیسے یا دوسری ضروری معلومات نکال لیتا ہے اور اس کا غلط استعمال کرتا ہے۔

    آج کے وقت میں ہر نا بالغ لڑکا اور لڑکی بھی فون کا استعمال کر رہے ہیں اور بعض اوقات والدین ان کی طرف توجہ نہیں دیتے تو وہ برائی کی طرف مائل ہونے لگتے ہیں، اور پھر موبائل فون میں ایسے ڈرامے اور فلمیں دیکھی جاتی ہیں جن کے ذریعے بچوں کا ‘مائنڈ واش’ ہو جاتا ہے اور وہ اکثر کوئی جرم بھی کر بیٹھتے ہیں اور یہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے۔

    اگرہم موبائل فون کا کم استعمال اور صرف ضرورت کے وقت ہی استعمال کریں تو ہم خود اور اسے اپنے معاشرے کو بے شمار برائیوں سے بچا سکتے ہیں اور اپنے قریبی لوگوں کے ساتھ وقت گزار کے بہت ساری تلخیوں کو بھی ختم کر سکتے ہیں.

    @Durre_ki_jan

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم)  تحریر:  رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط دوئم) تحریر: رانا بشارت محمود

    جیساکہ آپ نے اِس سلسلے کی پہلی قسط جو کہ جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہماری آج کی سوسائٹی اور زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں تھی، ضرور پڑھی ہوگی۔ تو چونکہ یہ اُسی سلسلے کی دوسری قسط ہے تو آئیے پھر اُسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہیں۔

    ~ ہماری خط و کتابت اور علمی و ادبی کتابوں کو پڑھنے والے ورثے کا ناپید ہو جانا۔

    اِس سلسلے کی پہلی قسط میں آج کے دور کے اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آنے کے بعد ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے جن برے اثرات کا ذکر کیا گیا تھا اُن کے ساتھ ساتھ یہ بھی انتہائی برا ہوا کہ جو ہمارا انتہائی قیمتی خط و کتابت کا ورثہ تھا جس کے زریعے ہم اپنے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں اور وہ لوگ جنہیں کوئی پیغام یا خبر بھیجنا مقصود ہوتا، تو خط لکھا جاتا تھا جسے کبھی تار کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔

    اور پھرعیدین کے موقع پہ تو بازاروں میں تو طرح طرح کے ڈیزائنوں والے عید کارڈز بھی ملا کرتے تھے جنہیں پھر ہم مختلف اشعار لکھ کر یا پھر چھوٹی سی تحریر لکھ کر مبارکبادوں کے ساتھ اسے ڈاک کے ذریعے بھیجنے کے لئے اپنے گلی، محلوں یا پھر کسی قریبی گاوں میں موجود لیٹر بکس میں ڈال کے آیا کرتے تھے۔

    پھر اِس سارے خوشگوار اور شاندار عمل سے گزرنے کے بعد اُس بندے کا کام شروع ہوتا تھا، جس کا نام اور کام دونوں کو ہی ہم آج کے دور میں ناپید ہوتا بھی دیکھ رہے ہیں اور اُس کا نام ڈاکیا تھا۔ جو اُن خطوط یا تاروں، شادی کارڈوں اور عید کارڈوں کو لیٹر بکسوں سے وصول کرنے کے بعد اپنی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے مطلوبہ پتوں پہ اُن کے دوستوں، عزیزوں و رشتہ داروں تک پہنچاتا تھا (البتہ! دیہاتوں اور قصبوں میں زیادہ تر منگنیوں اور شادیوں وغیرہ کے موقع پہ شادی کارڈز دے کر اپنے خاندانی طور پہ رکھے ہوئے نائی/ حجام جسے مقامی اور پنجابی زبان میں سیپی بھی کہا جاتا ہے، اُسے بھی بھیج دیا جاتا ہے/تھا)۔

    اور اب نہ تو وہ خطوط اورعید کارڈ ہی رہے ہیں اور نہ ہی وہ اُس سہانے دور میں سائیکلوں پہ گھومنے والے ڈاکیے، وہ سب کچھ تو جیسے دفن ہی ہو کے رہ گیا ہو۔ کیونکہ اب اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے ہر طرف عام ہو جانے کے بعد عیدین اور تہواروں پہ بس اِنہی موبائلوں کے زریعے صرف یا تو ایک میسج بھیج دیا جاتا ہے یا پھر زیادہ سے زیادہ یہ کہ فون کال کر کے دو چار منٹ کے لیے پیغام دینے کی غرض سے تھوڑی بہت بات کر لی جاتی ہے۔

    اب تھوڑا آگے چلیے تو آپ کو بتلاوں کہ کبھی جو ہمارا کتابیں پڑھنے کا دور ہوا کرتا تھا۔ (جس کا ہم میں سے کچھ تو ہو سکتا ہے اب بھی شوق رکھتے ہوں مگر زیادہ تر تو بُھلا ہی چکے ہیں) اور جس میں بہت سارے اچھے اچھے مصنفوں کی علمی، ادبی، اسلامی، تاریخی، ہنسی و مزاح اور کئی دوسرے موضوعات پہ مبنی لکھی ہوئی کتابوں کو پڑھنے کا ایک بڑا ہی اچھا زمانہ ہوا کرتا تھا۔

    کہ جب وہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی لائبریریوں یا پھر بازاروں میں موجود کتابوں کی دوکانوں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کے کتابوں کو گھر لے کے آنا اور پھر کئی کئی دن تک اُن کو پڑھنے میں ہی گزار دیے جاتے تھے۔ اور پھر کتابوں کو پڑھنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جو علم و حکمت کی باتیں کتابوں کو پڑھنے سے حاصل ہوتی ہیں، ایک تو وہ دل و دماغ پہ نقش ہو جاتی ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ باتیں حِفظ کی طرح اپنے قاری کے دماغ میں گھر کر لیتی ہیں اور اُن کا بھولنا پھر تقریباً ناممکن سا ہو جاتا ہے۔

    اور پھر اِن کتابوں کو پڑھنے کے بعد اپنے کتابوں کا شوق رکھنے والے دوستوں سے بھی کئی موضوعات پہ انتہائی اچھی علمی، ادبی اسلامی اور تاریخی گفتگو بھی اپنے آپ میں ایک شاندار قسم کی بیٹھک بن جایا کرتی تھی۔ اور یہی علمی و ادبی بیٹھک اُن سب کے علم میں مزید اضافہ کا باعث بھی بنتی تھی۔ الغرض یہ سارے کا سارا عمل ایک انتہائی خوشگوار تجربہ ہوا کرتا تھا۔

    مگر! مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اِن جدید سمارٹ سسٹم موبائل فونز کے آ جانے کے بعد اب نہ تو وہ گفتگو ہی رہی ہے، نہ ہی ویسی بیٹھکیں رہیں ہیں اور نہ ویسے شوق ہی باقی رہے ہیں۔ اب تو ہر کوئی اپنے اِن موبائل فونز میں ہی گم ہو کے رہ گیا ہے اور نہ کسی کے پاس وقت ہی رہا ہے اِن کتابوں کو پڑھنے کا۔

    اور اب آخر میں! میں یہ کہوں گا کہ دوستو بلا شبہ جدید ٹیکنالوجی کے اس آج کے دور میں چاہے ہم کتنے ہی آگے کیوں نہ نکل جائیں مگر ہمیں یہ بھی کرنا چاہیے کہ اپنے قیمتی وِرثوں کو کسی نہ کسی صورت میں ہم زندہ بھی رکھیں اور اچھی اور علمی کتابوں کو بھی پڑھنے کے لیے تھوڑا وقت بھی ضرور نکالا کریں کہ کہیں ہم اِن کتابوں سے مکمل طور پہ ناواقف ہی نہ ہو جائیں۔

    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

    وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين

    دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ

    Twitter Handle: @MainBhiHoonPAK

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ دادی تحریر: سیدہ ام حبیبہ

    قارئین محترم
    سوشل میڈیا کے استعمال کے لی چند اخلاقی ضوابط جن کا خیال رکھ کر ہم خود کو اور دوسروں کو ذہنی کوفت سے بچا سکتے ہیں.
    *بہترین اور تعمیری مواد آپ لوڈ کریں
    *کاپی پیسٹ کی بجائے قوٹ یا ری ٹویٹ کریں
    *کسی کی تحریر کے ساتھ منقول ضرور لکھیں
    *شاعری لکھتے وقت شاعر کا نام ضرور لکھیں
    *آیت کا حوالہ آیت نمبر اور پارہ نمبر درج کریں
    *حدیث کا حوالہ مکمل ذمہ داری کے ساتھ درج کریں
    *گالی سے پرہیز کریں
    *اور جہاں دلیل دینا لازم ہو ادب و احترام کے ساتھ دلیل دیں
    *اول تو خبر کی تصدیق ہو جانے تک خبر نہ دیں
    *اور اگر تصدیق کے بغیر خبر دیں تو ساتھ غیر مصدقہ ضرور لکھیں
    *سوشل میڈیا پہ آپکی ٹائم لائن آپ کا آئینہ ہے جیسی ٹائم لائن ویسی آپکی شخصیت ہے تو سوچ سمجھ کر شئیرنگ کریں
    *اگر آپکی دی گئی خبر یا تبصرہ سچ ثابت نہیں ہوتا تو اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معذرت کریں یا متعلقہ مواد حذف( ڈیلیٹ) کر دیں
    *اپنے اصل نام اور تصویر کے ساتھ اکاؤنٹ بنائیں
    *فیک اکاؤنٹ یا فرضی نام سے آپکی شخصیت چھپ جاتی ہے
    *بلا ضرورت اور بلا اجازت ان باکس میں میسج نہ بھیجیں
    *اپنی بائیو میں اپنی دلچسپی اور وابستگی کا اظہار لازم کریں تاکہ فالو کرنے والے کو معلوم ہو کہ آپکی وابستگی کا مرکز کیا ہے
    *سیاسی اور مذہبی اختلافات کا اظہار دلائل اور ثبوت کے ساتھ کریں نا کہ تلخ کلامی اور بدزبانی سے
    *ایسی موضوعات سے اجتناب کریں جن سے شر پھیلنے کا خدشہ ہو
    *اپنے عقائد کی ترویج ضرور کریں دوسروں کے عقائد کی نفی اور توہین کے بغیر
    *ہنسی مزاح کے موضوعات میں لغو زبانی اور فحش گوئی شامل کر کے اپنی شخصیت متاثر نہ کریں
    *تنقید برائےتنقید کے بجائے تنقید برائے اصلاح کریں
    *تنقید کرتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ ہر شخص کی ذاتی پسند نا پسند ہے اور رائے کا اظہار کرنا اسکا حق ہے
    *اپنے قومی اور ملکی معاملات پہ دفاعی غرض تحریر پاجائیں
    جہاں اپنی قوم کی اصلاح ممکن ہو اردو زبان میں تحریر کریں
    *سچ کا ساتھ دیں چاہے وہ آپ کے عقیدے آپکی سیاسی وابستگی کے مخالف شخص ہی کیوں نہ ہو.

    *جب بحث طول پکڑے اور فضول ہونے لگے تو وسلام کہہ کر گفتگو سمیٹ دیں
    *ممکن ہو تو گالی کے جواب میں گالی کی بجائے بلاک کا بٹن استعمال کریں.
    یہ نکات سوشل میڈیا پہ آپ کی ویلیڈٹی تو بڑھائیں گے ہی ساتھ آپکو بہترین وقت صرف کرنے کا موقع ملے گا.

    @hsbuddy18