Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ

    16جون کے بعد پہلی بار بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ ہفتوں میں بٹ کوائن کی قیمت 60 ہزار ڈالرز سے کم ہوکر 30 ہزار ڈالرز تک پہنچ گئی تھی تاہم ایمزون کا ایک اعلان ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا سبب بن گیا ہے26 جولائی کو بٹ کوائن کی قیمت میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا اور وہ کچھ وقت کے لیے 64 لاکھ پاکستانی روپوں تک پہنچ گئی۔

    ایمزون کی جانب سے گزشتہ ہفتے ڈیجیٹل کرنسی اینڈ بلاک چین پراڈکٹ لیڈ کی ملازمت کا اشتہار سامنے آیا تھا، جس کے بعد دنیا میں یہ خبر پھیل گئی کہ ایمزون کرپٹو کرنسی کے حوالے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

    ایمازون کے سرابرہ جیف بیزوس کی خلا سے زمین پر واپسی روکی جائے، پیٹیشز پر41000…

    رپورٹ کے مطابق کمپنی کی جانب سے دیگر کرنسیوں کو قبول کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے جبکہ کمپنی2022 میں اپنی ڈیجیٹل کرنسی بھی متعارف کرا سکتی ہےاس کا آغاز بٹ کوائن سے ہوگا جو کرپٹو پراجیکٹ کا اہم ترین ابتدائی مرحلہ ہوگا اور یہ ہدایات براہ راست جیف بیزوز کی جانب سے آئی ہیں۔

    ایمزون کی جانب سے بٹ کوائن کو قبول کرنے سے عالمی سطح پر ڈیجیٹل کرنسی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔

    ایک ٹوئٹ نے ایلون مسک سے دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص کا اعزاز چھین لیا

    اس سے پہلے برقی گاڑیاں بنانے والے کمپنی ٹیسلا کے بانی ایلون مسک نے بھی اپنی گاڑیوں کے لیے ڈیجیٹل کرنسی قبول کرنے کا بیان دیا تھا، جس کے بعد بٹ کوائن کی قیمت آسمان چھونے لگی تھی۔

    چین کیجانب سے کریک ڈاؤن میں توسیع کیوجہ سے بٹ کوائن پھر گراوٹ کا شکار

    تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے یوٹرن لے لیا لیکن اب حالیہ دنوں میں ہونے والی ” بی ورلڈ ” کانفرنس میں ایلون مسک نے کہا ہے کہ ٹیسلا بٹ کوائن کو دوبارہ قبول کرنا شروع کر سکتا ہے۔

    بٹ کوائن کی قیمتوں میں گراوٹ کا سلسلہ بدستور جاری، نئی پابندیوں کےبعد قیمت زمین پر آگئی

  • سوشل میڈیا اور تباہی  تحریر: رانا عزیر

    سوشل میڈیا اور تباہی تحریر: رانا عزیر

    اگر آج کے حالات و واقعات پر ہم لوگ نظر دوڑائیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ ہمارے معاشرے سے اخلاقیات کا جنازہ نکل رہا ہے لیکن ہم پھر بھی اس معاشرے کو تہذیب یافتہ کا نام دے رہے ہیں۔
    قصہ کرنل کی بیوی ہو یا ٹی وی پر بیٹھے سیاستدان ایک دوسرے کی عزت چوکوں پر لٹکا رہے ہوں یا کوئی بھی صحافی، ان حالات میں سوشل میڈیا نے ہمیشہ آگ بھڑکائی اور ایندھن کا کردار ادا کیا

    ہم کسی کی بھی نجی وڈیو اور بلیک میل کرنے کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں چاہے وہ عثمان مرزا واقعہ ہو جس میں سوشل میڈیا پر لڑکی کی تصویر کو سنسر کیے بغیر چلایا گیا اور لڑکی کی عزت کو پامال کیا گیا اس تمام صورتحال کو عکس بند بھی کیا گیا اور سوشل میڈیا صارفین انجوائے بھی کرتے رہے۔
    سوشل میڈیا پر نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور یہی حرکات و سکنات ہماری نوجوان نسل کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں اور ایک دوسرے کی پگڑی اچھالنے پرتلے ہوئے ہیں
    جب معاشرے میں بڑے, پڑھے لکھے سکالر اور ایلیٹ لوگ اس طرح کے حوصلہ شکن واقعات میں ملوث ہون گے تو نئ نسل کیا سیکھے گی، رہی سہی کسر آج کے ٹک ٹاکرز نے نکال دی ہے کہ چند ٹکوں کی خاطر سب کچھ بیچنے کیلئے تیار ہیں یہ انتہائی پریشان کن ہے اور لبرل ازم کے نام پر بے حیائ پھیلائی جارہی ہے اور ہر طبقہ اب انکی تقلید کرنا شروع ہوگیا ہے لیکن نفس پر کنٹرول بھی انسانی صفت ہے اور یہی ہمارا امتحان ہے کہ ہم اس سوشل میڈیا کی جنگ کو کسیے لڑتے ہیں یہ سب ہمارے لیے بہت اہم ہے

    twitter.com/RanaUzairSpeaks

  • ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل  تحریر :- مدثر حسین

    ہیکرز کس طرح اپ کا اکاؤنٹ باآسانی لاگ ان کر سکتے ہیں، دلچسپ اور معلوماتی آرٹیکل تحریر :- مدثر حسین

    اکیسویں صدی میں نئی نئی ایجادات نے اس دنیا کو ڈیجیٹل بنا دیا ہے.ایک طرف جہاں انسانی رابطوں کے الات ڈیجیٹل ہیں، دوسری طرف سوشل میڈیا ہماری ضرورت بن چکا ہے
    ایک عام انسان ان آلات کو استعمال تو کر سکتا ہے لیکن صحیح معنوں میں اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے ناواقف ہے. بہت ساری ویب سائٹس اپنے یوزر (صارفین) کا بائیو ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھتی ہیں تا کہ پاسورڑ بھول جانے کی صورت میں اس بائیو ڈیٹا کی مدد سے اصلی صارف کی شناخت ممکن ہو سکے، ورنہ کوئی بھی کسی کے اکاؤنٹ کا پاسورڑ تبدیل کر لے گا.
    یہ سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بہت بڑا رسک بھی ہے. ہیکرز کسی کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کے لئے اسکی ڈیوایس (انٹرنیٹ استعمال کرنے والا آلات)، اس کا فون نمبر ان دو چیزوں کا clone (جعلی معلومات) بنا کر ان چیزوں تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں جس کے لئے ایک خاص قسم کے اوپریٹنگ سسٹم kali linux کو استعمال کیا جاتا یے، کچھ لوگوں نے اپنے اکاؤنٹس پہ two factor authentication آن کر رکھا ہوتا ہے یعنی لاگ کرنے پہ وہ ویب سائٹ اس شخص کے موبائل نمبر پہ ایک کوڈ بھیجتی ہے جو گنتی کے چار سے چھ ہندسوں پہ مشتمل ہوتا ہے، اس کو جب تک اپ لاگ ان پیج پہ لکھیں گے نہین تب تک اپ اپنا اکاؤنٹ استعمال نہیں کر پاییں گے. ہیکرز اس مرحلے کو بھی عبور کر لیتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ ایسی ویب سائٹس کا استعمال کرتے ہیں جس پہ عارضی طور پہ اپ کوئی بھی فون نمبر لکھ کر اس پہ انے والا مطلوبہ میسج /پیغام اپنی سکرین پہ دیکھ سکتے ہیں، بشرطیکہ اپ کو پیغام بھیجنے والے کا فون نمبر بھی معلوم ہو. ان ویب سائٹس کی مدد سے ہیکرز وہ میسج کوڈ سمیت وصول کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں. سیکیورٹی کے اس مسئلے کے حل کے لیے مختلف سوشل میڈیا ویب سائٹس اب صارف کو اسکا مکمل فون نمبر ظاہر نہیں کرتیں 0123*******+تا کہ صارف آخری ہندسوں سے اپنے نمبر کی تصدیق بھی کر لے اور اس کے زیر استعمال فون نمبر پہ کوڈ بھیجتے وقت فون نمبر کسی بھی جگہ ظاہر نہ ہو سکے.
    تاہم کئی لوگ ایسے بھی ہیں جنہیں کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے بہت ساری ویب سائٹس اور applications کا استعمال کرنا پڑتا ہے اور ان اپلیکیشنز کو استعمال کرنے کے لئے ان پہ اپنا اکاؤنٹ بنانا ضروری ہوتا ہے، اکثر ایسی ویب سائٹس کی سیکورٹی کے غیر محفوظ ہوتی ہے، عین ممکن ہے کہ ہیکرز ان ویب سائٹس کے دیٹا تک رسائی حاصل کر کے اپکا فون نمبر نکال لیں اور جہان جہاں اپکا اکاؤنٹ ہے وہ اس ویب سائٹ / سوشل میدیا ویب سائٹس پہ جا کے اپکا پاسورد مندجہ بالا طریقے سے باآسانی تبدیل کر لین. سیکورٹی کے اس مسئلے سے بچنے کے لیے بہت سے لوگ اپنے اکاؤنٹس میں اپنا فون نمبر درج ہی نہیں کرتے وہ صرف ای میل کا استعمال کرتے ہیں.
    ای میل باقاعدہ سرور پہ محفوظ ہوتی ہین جن تک ہیکرز کی رسائی انتہائی مشکل امر ہے، تو ہیکرز ایسی صورت میں ایک خاص طریقہ کار استعمال کرتے ہیں جس کے تحت وہ مطلوبہ شخص کا پاسورڈ تبدیل کرنے کے لیے forgot password والے صفحے پہ ایک خود ساختہ میل درج کرتے ہیں، جس سے وہ ویب سائٹ ایک error کا پیغام دیتی ہے، اور پھر تصدیق کے چند مراحل پیش کرتی ہے جس میں مطلوبہ شخص کی ای میل کے hints وہ آپ سے طلب کرتی ہے، ایسی صورت میں اگر ہیکرز کے پاس اپکا مکمل نام، پتہ، والدین اور دوست احباب کا علم ہو تو وہ ان hints کی مدد سے اپ کی ای میل پہ کوڈ بھیجنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تا ہم ویب سائٹس ای میل کو فون نمبر کی طرح ظاہر نہیں کرتیں اور کچھ اس طرح سے آپکو ای میل کی نشاندہی کرتی ہین s16@gmail.com***********
    اور پھر صارف کو اس بھیجی گئی ای میل کے زریعے علم ہو جاتا ہے کہ اسکا پاسپورڈ تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی یے اور وہ احتیاطی طور پہ اپنا پاسورڑ تبدیل کر لیتا ہے، پاسورد تبدیل کرتے وقت cookies کا آپشن اگر آن ہو تو اس صفحے کا ریکارڈ کچھ دیر کے لئے browser پہ محفوظ ہو جاتا ہے، جس کی مدد سے ہیکر اس صفحے کو دوبارہ refresh کر کے پاسورڈ تبدیل کرنے والا صفحہ اپنی سکرین پہ باآسانی دیکھ سکتا ہے اور اس طرح بغیر ای میل معلوم کئے وہ نیا پاسورڑ درج کر کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کر لیتا ہے.

    کسی وائی فائی کا پاسورڈ ہیکرز کیسے ہیک کرتے ہیں اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے؟ یہ سب اگلے آرٹیکل میں ان شاء اللہ…

    ‎@MudassirAdlaka
    ‎#mudassiradlaka

  • جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    جدید موبائلز کی تباہ کاریاں (قسط اول) تحریر: رانا بشارت محمود

    ‏جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں اِس اشرف المخلوقات حضرتِ انسان نے اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کی دنیا میں بہت ساری ایجادات کی ہیں۔ اُنہی میں سے ایک بہت بڑی اور حیران کُن ایجاد آج کے دور میں استعمال ہونے والے سمارٹ سسٹم موبائلز فون بھی ہیں۔

    ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جہاں ہم نے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد اپنی زندگیوں میں استعمال کے ساتھ بہت ساری آسانیاں اور بے شمار فوائد بھی حاصل کئے ہیں۔ وہیں یہ موبائل فونز ہماری زندگیوں میں سے ہماری بہت ساری پرانی استعمال کی جانے والی چیزیں، یادیں، ہمارے ارد گرد کی دوستیاں اور بہت کچھ اپنے اندر نِگل بھی گیا ہے۔

    ‏چونکہ! میں اپنی اس تحریر میں سمارٹ سسٹم موبائلز کے ہماری زندگیوں پہ پڑنے والے برے اثرات کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ سمارٹ فونز کے آنے کے بعد ہمیں صرف نقصانات ہی ہوئے ہیں۔ ( بلاشبہ اِن کے بے شمار فائدے بھی ہوئے ہیں جن کا ذکر میں اپنی اسی سلسلے کی دوسری قسط میں کروں گا)۔ تو آج اس تحریر کے زریعے میں اپنے ناقص سے علم کے مطابق کوشش کروں گا کہ اِن سمارٹ فونز کے ہر طرف عام ہونے کے بعد ہماری زندگیوں پہ اس کے جو بُرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، اُن سب کا مکمل احاطہ کر سکوں۔

    ‏1 . پڑوس کی دوستیاں، آپسی میل جول و محبت اور ہمارے قیمتی وقت کے ساتھ ساتھ ہمارا سکون بھی نگل گیا ہے۔

    ‏مثال کے طور پر اگر آپ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے عام ہونے سے پہلے تک اپنی روز مرّہ کی زندگیوں پہ نظر دوڑائیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ آپ اپنے محلے داروں، اڑوس پڑوس کے لوگوں، رشتہ داروں اور یہاں تک کہ اِن محلے داروں ، گاوں یا قصبے کے لوگوں کے علاوہ دوسرے محلوں، گاوں یا قصبوں میں رہنے والوں سے بھی ہماری کتنی قریبی اور گہری دوستیاں ہوا کرتی تھیں۔

    ‏پھر اسی طرح ہمارا آپس کا میل جول اور ایک دوسرے سے پیار و محبت اور عزت سے پیش آنا، کتنا ہی زبردست اور چاہت سے بھرپور دور ہوا کرتا تھا۔ کہ ایک دوسرے کو ملنے، ایک ساتھ اکٹھے ہو کر بیٹھنے اور یہاں تک کہ ایک دوسرے سے کسی معاملے پہ بحث و تکرار کے لیے بھی کتنا وافر وقت ہوا کرتا تھا اور پھر ہمارا کتنی کتنی دیر تک آپس میں ایک جگہ بیٹھ کر ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کا کرنا، گپیں ہانکنا اور ایک دوسرے کے دُکھ سُکھ کو اپنا دُکھ سُکھ سمجھ کر اس میں ہر وقت شامل بھی رہنا، ایک بہترین احساس تھا۔

    ‏اور پھر ہر اچھے و بُرے وقت میں ایک دوسرے کی مدد کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہنا، پھر اگر کبھی آپس میں کسی دوست کی ناراضگی ہو جایا کرتی تھی، تو سب محلے کے دوستوں نے مل کے اُن کی آپس میں صلح بھی کروایا کرنی اور ایسے معاملات میں بعض اوقات تو کئی کئی گھنٹوں اور پھر کبھی تو رات گئے تک آپس میں بات چیت کرتے ہی وقت گُزر جایا کرتا تھا کیونکہ تب کسی کے پاس بھی وقت کی کوئی کمی نہیں ہوا کرتی تھی اور ایک دوسرے سے پیار اور دوستیاں بھی سچی ہوا کرتی تھیں۔

    ‏اور پھر یہی آپسی میل جول ایک دوسرے کی عزت اور آپسی پیار میں بھی بے شمار اضافے کا باعث بنا کرتا تھا تو پیار و محبت کی اِسی پُر ستائش فضا کی وجہ سے ہماری زندگیوں میں بھی بے شمار سکون اور اطمینان ہوا کرتا تھا۔

    ‏لیکن پھر اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے کے بعد آہستہ آہستہ یہ سب کچھ بکھرتا چلا گیا اور ہر کوئی اپنے اِن سمارٹ سسٹم موبائلز تک محدود ہو کے رہ گیا ہے اور پھر اب ہر کوئی اپنا زیادہ تر وقت اِن سمارٹ سسٹم موبائلز پہ موجود سوشل میڈیا کے ذریعے (جن میں فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب، انسٹاگرام، واٹس ایپ، لنکڈ اِن، سنیپ چیٹ، ٹِک ٹاک اور دوسری بہت ساری ایپلیکیشنز شامل ہیں) اب ہم بہت سارے انجان، دور دراز اور اَن دیکھے لوگوں سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو نہ ہم کبھی ملے ہوتے ہیں اور نہ ہی کبھی ہماری ملنے کی امید ہی ہوتی ہے۔ اور اسی لئے اب ہماری دوستیاں بھی اِن موبائلز تک ہی محدود ہو کے رہ گئی ہیں۔

    ‏مگر اپنے اُن قریبی دوستوں، عزیز رشتہ داروں، محلے داروں اور دوسرے گِرد و نواح کے لوگوں کو ہم بالکل ہی بھول کر رہ گئے ہیں اور کبھی کبھار ہم انہیں، وہ بھی کسی خوشی یا غمی کے موقع پہ یا تو صرف میسج ہی بھیج کر کام چلا لیتے ہیں یا پھر زیادہ سے زیادہ دو چار منٹ کے لیے کال کر کے ان سے بات کر لیتے ہیں۔ اور میرے مطابق اِن سب قریبی لوگوں سے دوریوں کا باعث صرف اور صرف اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا ہی ہے۔

    ‏اور پھر کیونکہ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کے آنے سے پہلے تک نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا آپس میں بے دھڑک ہو کے بات چیت کرنا بالکل بھی ممکن نہیں ہوا کرتا تھا تو اِن موبائلز کے عام ہو جانے کے بعد بہت سے انجان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی آپس میں دوستیوں اور پھر اس سے بھی بڑھ کے ملاقاتوں تک کے ہونے کے بعد معاشرے میں بہت ساری برائیوں نے بھی جنم لے لیا ہے، جن کے بارے میں بھی ہمیں آئے روز خبریں اور حتٰی کہ ویڈیوز تک بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اور میرے مطابق ہمارے اِن نوجوانوں میں پھیلنے والی زیادہ تر برائیوں کا باعث اور دوسری بہت ساری وجوہات کے ساتھ ساتھ اِن سمارٹ سسٹم موبائلز کا ہر طرف عام ہو جانا بھی ہے۔

    ‏اور اب آخر میں! میں اپنے ملک پاکستان کے نوجوانوں کو ایک پیغام بھی دینا چاہوں گا کہ اگر تو آپ اپنی زندگیوں کو سکون و اطمینان سے گزارنا چاہتے ہیں تو اپنے خاندان کے افراد، قریبی دوستوں، محلہ داروں، عزیز اور رشتہ داروں اور ظاہری طور پر موجود اپنے قریبی لوگوں سے اپنے تعلقات کو مضبوط بنائیں اور انہیں زیادہ سے زیادہ وقت بھی دیا کریں۔

    ‏اس کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار کو بھی مضبوط بنائیں اور کیونکہ اب یہ سمارٹ سسٹم موبائلز بھی ہماری مجبوری بن چکے ہیں تو جہاں تک ہو سکے سوشل میڈیا کے ذریعے انجان لوگوں سے ہونے والی دوستیوں کو اپنی نجی زندگیوں پہ اثرانداز نہ ہونے دیا کریں۔ (بلاشبہ! سوشل میڈیا پہ بھی ہمیں سب لوگ ایک جیسے نہیں ملتے ہیں اور ہمیں بہت سارے اچھے، پڑھے لکھے، سُلجھے ہوئے اور قابلِ احترام دوست بھی ملتے رہتے ہیں، جن سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملتا ہے اور اُن سے ملنے والے علمی تجربات سے بھی استفادہ کرتے ہوئے ہم اپنی عملی زندگیوں کو مزید بہتر سے بہتر بنا سکتے ہیں)۔

    ‏اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    ‏وآخر دعونا أن الحمدلله رب العالمين
    ‏دُعاؤں میں یاد رکھیے گا۔ شکریہ
    ‏ Twitter Handle: ⁦‪@MainBhiHoonPAK

  • ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر :  مدثر حسین

    ‏موبائل فون ہیکنگ، سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرات تحریر : مدثر حسین

    50 ہزار سے زائد سیاست دان اور صحافی حضرات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف۔
    اسرائیلی سافٹ وئیر پیگاسس کی مدد سے دنیا بھر کے کئی ممالک کی اہم شخصیات کے فون ہیک ہونے کا انکشاف ہوا یے جس کا زکر مغربی اخبارات میں کیا گیا تھا ، اعلی پاکسانی شخصیات کے فون ٹیپ ہونے میں مودی حکومت کے ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔ جس کے بعد پاکسان کی اعلی عسکری قیادت نے اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے. جن اہم شخصیات کے فون ہیک کئے گئے ان کی تعداد پجاس ہزار کے قریب بتائی جاتی ہے جن میں عمران خان اور انکے قریبی ساتھیوں سمیت کشمیر کی اعلی قیادت اور انڈیا کے راہول گاندھی کے بھی فون ٹیپ ہونے کا انکشاف ہوا ، ایک اسرائیلی اخیار میں بتایا گیا کہ پیگاسس سوفٹ وئیر کے زریعے دو مرتبہ راہول گاندھی کا فون ٹٰئپ کرن کی کوشش کی گئی۔ جب کہ ہیکنگ کا شکار ہونے والے پچاس ہزار افراد میں سے ایک ہزار کا تعلق انڈیا سے ہے جن میں زیادہ تت صحافی حضرات ہیں.

    اندرون و بیرون ملک سیاسی حریفوں کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنے اور خفیہ معلومات تک رسائی کے لئے ہیکنگ کا استعمال بہت بڑھتا جا رہا ہے. جس سے سیکیورٹی لیک ہونے کے خطرارت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئے ہیں.

    پاکستانی اور انڈین قیادت نے ہیکرز کی غیر اخلاقی حرکت پہ سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔ راہول گاندھی نے اس کی مکمل چھان بین کرانے کی پرزور اپیل بھی کی۔۔ جبکہ دوسری طرف مودی حکومت کے عمران خان اور ان کے قریبی ساتھیوں کے فون ٹیپ کرنے کا انکشاف انتہائی شرمناک حرکت ہے۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک اہم شخصیت کے فون ٹیب ہونے کا بھی انکشاف ہوا. پیگاسس پروجیکٹ انوسٹی گیشن میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دنیا بھر کے 180 سے زائد صحافیوں کے فون کی ریکارڈنگ بھی کی گئی ہے اور اس سلسلے میں کل 12 لوگوں نے این ایس او کی خدمات حاصل کیں، تفتیشی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کے زیر استعمال ایک فون نمبر بھارتی فہرست میں کم از کم ایک دفعہ ضرور رہ چکا ہے ۔ پاکستان کی اعلی عسکری قیادت نے اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ پاکستانی کو سائبر وار میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔ فواد چودری اور شیری مزاری کی طرف سے بھی ایسے شرمناک اقدامات کی پرزور مزمت کی گئی ہے اور اس سلسلے میں اپنا سوفٹ وئیر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

    ‎@MudassirAdlaka

  • سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    سوشل میڈیا کا استعمال اور ہماری ذمہ داری تحریر: محمد آصف شفیق

    جب سے سمارٹ فون آیا اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال شروع ہوا ہے تب سے اسے استعمال کرنے والوں پر یہ فرض ہے کہ اسکا مثبت استعمال کریں اور یہ بالکل نہ بھولیں جو کچھ وہ لکھ رہے ہیں شئر کر رہے اس سب کی ذمہ داری ان ہی کے کاندھوں پر ہے
    قرآن کریم میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10۝ۙ كِرَامًا كَاتِبِيْنَ 11۝ۙ يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ 12؀ حالانکہ تم پر نگران (فرشتے) مقرر ہیں، ایسے مُعَزَّز کاتب (لکھنے والے فرشتے)، جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں۔(سورۃ الانفطار10،11،12)
    ایسے حاضر باش فرشتے جو آپ کی ہر حرکت کو نوٹ کر رہے ہیں آپ کا نامہ اعمال ترتیب دیا جا رہا ہے اس دن سے ڈریں جب صورتحال ایسی ہوگی کہ
    وَتَرٰى كُلَّ اُمَّةٍ جَاثِيَةً ۣ كُلُّ اُمَّةٍ تُدْعٰٓى اِلٰى كِتٰبِهَا ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 28؀
    اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرا دیکھو گے۔ ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہ اعمال دیکھے ۔ اُن سے کہا جائے گا ، ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔ (28سورۃ الجاثیہ )
    اور اس دن کا احوال کچھ ایسا ہوگا
    وَوُضِـعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَيَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّلَا كَبِيْرَةً اِلَّآ اَحْصٰىهَا ۚ وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا ۭ وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا 49؀ۧ
    اور نامہ ٔ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ! یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہو گئی ہو۔‘‘ جو جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔(49سورۃ الکھف )
    ہم سب کو اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ جو بھی تحریر کریں اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ ہم نے اپنے ہر فعل کا حساب دینا ہے ہمیشہ حق بات کہیں حق بات کا ساتھ دیں تمیز کے دائرے میں رہتےہوئے اپنی اپنی بات رکھیں اختلاف رائے کریں مگر دلیل کا جواب دلیل سے دیں گالم گلاچ اور بہتانوں سے پرہیز کریں
    ہر مکتبہ فکر کا احترام کیا جائے ، گروہ بندی کرکے ٹرولنگ کرنا ، بغیر سوچے سمجھے بغیر تحقیق کے لٹھ لے کے کسی کے بھی پیچھے پڑجانا کسی بھی طرح مناسب نہیں اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو اسے اچھے انداز میں قائل کیا جاسکتا ہے ، ہر ایک کے بارے میں اچھا گمان کیا جائے ، لوگوں کے بارے میں برا گمان کرنے سے منع فرمایا گیا ہے ، ہمیں کوشش کرنی چائیے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہیں اور اس کریم رب سے اپنی مغفرت کیلئے دعا کرتے رہیں جس کا ہم سے وعدہ ہے کہ
    اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِيْمًا 31؀
    اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔(سورۃ النساء31)
    اے رب کریم ہمیں سیدھے راستے پر رکھیے برائیوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائیے اور ہر صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے محفوظ رکھیے ۔آمین یا رب العالمین

    جدہ – سعودیہ

  • سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر .  تحریر: زاہد کبدانی

    سوسائٹی اور ماحولیات پر ٹِک ٹوک ایپ کا اثر . تحریر: زاہد کبدانی

    رواں دواں: نوجوان لوگوں پر ٹک ٹوک کا اثر حالیہ ماضی میں لوگوں کی طرف سے سوشل میڈیا ایپلی کیشنز کا استعمال بڑھتا رہا ہے۔ نوجوان نسل کی مقبولیت کے استعمال کے لئے سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز استعمال ہوتی ہیں۔ ٹِک ٹوک سوشل میڈیا کی بہت سی ایپلی کیشنز میں شامل ہے ، جو نوعمروں اور نوجوانوں کی جانب سے شہرت کیلئے استعمال کیا جاتا ہے اور بعض اوقات غضب سے چھٹکارا پاتا ہے۔ ایپ کو بنیادی طور پر استعمال کنندہ کے مابین شیئر امیجز اور ویڈیوز کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ امیج اور ویڈیو پر مبنی ایپس کے اثر سے متعلق حالیہ مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ وہ صارفین کو ذہنی طور پر صحت سے متعلق دشواریوں کا باعث بن سکتے ہیں جیسے کھانے کے عارضے اور آنکھوں کے مسائل۔ اس مطالعے نے نوجوانوں پر ٹک ٹوک کے تاثرات کی جانچ پڑتال میں عملی نقطہ نظر پر توجہ دی ہے۔ مشمولات کا تجزیہ صارفین کے ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے بعد تاثرات کے بقیہ نظریات اور تبصروں سے لیا گیا ہے۔ اس کاغذ کے ساتھ ساتھ ٹک ٹوک کے صارفین کے ساتھ فوکس گروپ انٹرویو بھی استعمال کیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ ان پر اثر انداز ہونے والے امور دریافت کیے جانے والے سوچاوں کے مسائل اور ایپ کے بارے میں بنیادی حقائق دریافت کیے جارہے ہیں۔ اس مطالعے میں صارفین کے نقطہ نظر اور ایپ کی فعالیت کو بہتر بنانے کی بنیاد پر مزید تحقیق کے لئے علاقوں کو تیز کرنے کے سلسلے میں اس حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے۔ تحقیقی سوال کا بیان – ٹک ٹوک کی تیز رفتار ترقی اور نوجوان لوگوں کے ذریعہ اس کے استعمال ، اس سے دونوں پر اثر پڑے گا طویل مدت میں مثبت اور منفی. اس میں تین عوامل ہیں جو نوجوان نسل پر اس کے اثرات پر غور کرنے کے لئے ہیں۔ ، اس منڈی کا استعمال جس کا مارکیٹ کے سامعین نوجوان ہیں۔ ٹک ٹوک کے سامعین 18-25 سال کی عمر کے نوجوان ہیں ، ان کے مطالبات کو پورا کرنے کے لئے اس کی ترقی بہت ضروری ہے۔ دوم ، ٹِک ٹاک میں موجود مواد مختصر ویڈیوز ہیں جن کی ویڈیو کی اصلیت پر مرکزی دھیان ہے جو بدلے میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرتا ہے۔ تیسرا ، ویڈیو کو بانٹنے میں ٹک ٹوک کی انفرادیت یہ آہستہ آہستہ ہر نوجوان کی ضرورت بن گیا ہے ، اور وہ اس ایپ کو استعمال کرنے میں گھنٹوں ضائع کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں ہے کہ وہ اس وقت کو کسی ہنر کو سیکھنے ، یا علم یا کوئی اور چیز حاصل کرکے استعمال کرسکتے ہیں جو مستقبل میں ان کی مدد کرسکے۔ وہ اپنا وقت کسی کی مدد کرنے یا کھیل کھیلنے میں بھی گزار سکتے تھے ، جس سے ان کا دماغ اور جسم صحت مند رہتا ہے۔ اپنی زندگیوں پر توجہ دینے ، اور اپنے کیریئر اور مطالعے کو ترجیح دینے کے بجائے ، وہ ان ایپس کے عادی ہو رہے ہیں جو ان کے سوچنے کے عمل میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔

    @Z_Kubdani

  • سوشل میڈیا کا استعمال  تحریر : راجہ ارشد

    سوشل میڈیا کا استعمال تحریر : راجہ ارشد

    پورانے زمانے میں انسانوں کو صرف زمینی ،سمندری اور فضائی جنگوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا ۔ مگر اس وقت میدانِ جنگ سوشل میڈیا ہے جہاں انسانی دماغ بطورِ افواج لڑ رہے ہیں ۔
     
    سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں سے گزارش ھے کہ اس میڈیا کی اصل طاقت کے متعلق آگاہی حاصل کریں ۔اور اس دھوکے سے تو بلکل باہر نکل آئیں کہ سوشل میڈیا کا مقصد محض سماجی رابطے اور  تفریح کا حصول ہے۔

    یہاں پہ ہماری ایک ذاتی رائے ہمارے وطن عزیز کےلئے کس حد تک خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ،ہم سب کےلیے یہ جاننا بہت ضروری ہے ۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے استعمال کے بہت سےفوائد بھی ہیں ۔ یہ شعور اور علم کی راہیں بھی ہموار کرتا ہے اور ہر خبر سے باخبر بھی رکھتا ہے
    میری اس تحریر کا مقصد آپ کو سوشل میڈیا کے قومی اور بین الاقوامی سطح پہ منفی اثرات کے متعلق آگاہ کرنا ہے۔

    سوشل میڈیا ایک ڈیجیٹل خوبصورت اور تیز ترین دنیا ہے یہاں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے کےلیے چند سکینڈ درکار ہوتے ہیں۔
    اپنی بات کو مختصر کرتا ہوں آپ جب بھی اس میدان میں اتریں تو مکمل تیاری سے اپنے عقل و فہم کو بروئے کار لاتے ہوئے اس کو استعمال کریںں ۔

    پاکستان کے ذمہ دار شہری بنئں۔ایک بات جو بہت ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پہ ملنے والی کسی بھی خبر کو بغیر تصدیق کے آگے مت پھیلائیں۔
    وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حفاظت کرنا ہم سب پہ فرض ہے جس سے کوئی بھی بری الزمہ نہیں ہوسکتا۔

    اللہ پاک ہم سب کو سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔آمین

    @RajaArshad56

  • ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    ہمارے محسن. تحریر: محمد احمد

    پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا جب بھی کہیں پر ذکر آئے گا سب سے پہلے ڈاکٹر عبد القدیر خان کا نام لیا جائے گا۔۔ پاکستان کو پہلی اسلامی ایٹمی طاقت بنانے میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا۔

    ڈاکٹرعبد القدیر خان 27اپریل 1936کو ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے آپ سات بہن بھائیوں میں چھٹے نمبر پر تھے،آپکے والد شعبہ تعلیم سے وابستہ تھے،وہ اپنے شاگردوں اور بچوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہء نظر سے انکی اخلاقی تربیت پر بھی خاص توجہ دیتے تھے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مچھلیاں پکڑنے اور ہاکی کھیلنے کا بھی شوق تھا۔۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ڈی جے سائنس کالج کراچی سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا۔۔کالج کی تعلیم کے دوران انہیں فزکس کے مضمون سے بھی لگاؤ رہا، بی ایس سی کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے جرمنی چلے گئے، آپ ہالینڈ اور بلجیئم بھی گئے،ڈاکٹریٹ کرنے کے بعد آپ ہالینڈ کی ایک فرم ایف ڈی او میں ملازمت اختیار کی۔۔یہ فرم ان دنوں کئی یورپی ممالک کےایک مشترکہ منصوبے کیلئے ہالینڈ میں یورینیم کے افزودگی کے پلانٹ تعمیر کررہی تھی۔۔ یورینیم کی افزودگی کا مطلب اسے ایٹمی توانائی حاصل کرنے کے قابل بنانا تھا۔۔ڈاکٹر عبد القدیر خان جن دنوں جرمنی میں ڈاکٹریٹ کررہے تھے انہی دنوں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا المناک حادثہ پیش آیا تھا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بھی دیگر ہم وطنوں کی طرح شدید ذہنی صدمے سے دوچار تھے۔۔۔ انکے دل میں اس واقعے کے بعد وطن عزیز کیلئے کچھ کر گزرنے کی خواہش شدت اختیار کر گئی۔۔1974 میں جب بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے اپنے علم اور تجربے کو پاکستان کیلئے وقف کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔۔ ایف ڈی او سے منسلک ہونے کی وجہ سے آپ یورینیم افزود کرنے کے فن میں مہارت حاصل کرچکے تھے۔۔انہیں یقین تھا وہ اپنی اس صلاحیت کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

    ڈاکٹر عبد القدیر خان اس سال دسمبر میں جب چھٹیاں گزارنے وطن واپس آئے تو اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے ملے،اور انکے ساتھ ایٹمی منصوبے پر گفتگو کی۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کے مطابق وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کی دلچسپی کے باعث پاکستان میں یورینیم افزودہ کرنے کے منصوبے پر اتفاق ہوگیا۔۔۔ اس موقع پر آپ نے وزیراعظم کو کہا کہ ” پاکستان کے وسائل انتہائی محدود ہیں جبکہ ہمارا پروجیکٹ بہت بڑا ہے” تو وزیراعظم نے کہا آپ کام شروع کریں فنڈ فراہم کرنا میرا مسلہ ہے۔

    جنوری 1976 میں ڈاکٹر صاحب نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں بطورِ ایڈوائزر کام کرنا شروع کردیا۔۔ ڈاکٹر صاحب پاکستان اٹامک انرجی کمیشن میں جو تنخواہ وصول کررہے تھے وہ ہالینڈ میں ملنے والی تنخواہ کے مقابل بہت کم تھی،لیکن وطن کی خدمت کے جذبے کے آگے تنخواہ کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔۔ جولائی 1976 میں راولپنڈی میں کہوٹہ نامی قصبے ایک منصوبے کی بنیاد رکھی گئی جو براہ راست وزارت دفاع کے ماتحت تھا۔۔ اس ادارے کا نام کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز رکھا گیا اس منصوبے کا مقصد دفاع اور اسکے مقاصد کیلئے یورینیم کی پر امن افزودگی کرنا تھا۔۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا چارج سنبھالتے ہی جس جانفشانی،گن اور جذبے سے اس پرعمل درآمد شروع کیا وہ ہماری قومی تاریخ کا ایک درخشندہ باب ہے۔ پلانٹ کیلئے عمارت کا ڈیزائن اسکی تعمیر اور اس میں کام کرنے والے محنتی اور باصلاحیت افراد کا انتخاب بھی ایک کھٹن مرحلہ تھا۔ اصل پلانٹ کے ساتھ ایک چھوٹی سی لیبارٹری میں یورینیم کی افزودگی پر تجرباتی کام شروع کردیا گیا۔۔ 1977 میں جب حکومت تبدیل ہوئی تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کا کام بند ہو جائے گا۔۔۔ مگر نئے سربراہ مملکت جنرل ضیاء الحق نے ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کو مزید اختیارات اور سہولتیں دے دیں اور ڈاکٹر صاحب کی صلاحیتوں کے اعتراف کے طور پر کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کو ڈاکٹر عبد القدیر ریسرچ لیبارٹریز کا نام دے دیا گیا۔۔ 1981 میں ایٹمی پلانٹ کی تنصیب کا کام مکمل ہوا اور 1982 میں یورینیم کی باقاعدہ افزودگی شروع ہوئی۔۔اس دوران ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب نے جن انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔۔ آپ نے ثابت کردیا کہ وطن سے محبت کرنے والے لوگ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بہت کم لاگت اور بہت کم عرصہ میں اتنی بڑی کامیابی حاصل کرنا ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب اور سنکے ساتھیوں کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ تھا اور جب 28مئی1998ء کو پاکستان نے بھارت کے ایٹمی تجربات کے جواب میں چاغی کے مقام پر پانچ کامیاب ایٹمی دھماکے کیئے ملک بھر کے لوگ خوشی سے سجدہ شکر بجا لائے۔۔ ہندوستان کا غرور ڈاکٹر عبد القدیر خان صاحب کی محنتوں کی بدولت پاکستان نے خاک میں ملا دیا تھا۔۔پاکستان دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی طاقت بن چکا تھا اور ہے ( الحمد اللہ) اور چاغی سمیت وطن کی فضائیں ڈاکٹرعبد القدیرزندہ باد اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی تھی.

    ڈاکٹرعبد القدیر خان صاحب ہمارے محسن ہیں اور ہم اپنے اس محسن کو اپنی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھیں گے۔۔اللہ تعالیٰ انکو صحتیابی والی خوشحالی والی لمبی زندگی عطا فرمائے آمین ثم آمین۔۔۔ انہیں ہماری دعاؤں کی جتنی ضرورت آج ہے پہلے کبھی نہ تھی آئیں سب ملکر ان کے لیئے دعا کریں،اللہ تعالیٰ انہیں اپنی امان میں رکھے اور انہیں ہر مصیبت سے بچائے. آمین ثم آمین

    @MohhammadAhmad

  • پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    پاکستان کا چھوٹا سا گاؤں ، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے

    بلھیریجی کا چھوٹا سا گاؤں، جہاں ڈیجیٹل انقلاب اب بھی نیا پن رکھتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق لاڑکانہ کا پورا گاؤں واٹس ایپ کے ذریعہ منسلک ہے، یہ گاؤں موہنجو دڑو آثار قدیمہ سے چند کلومیٹر دور واقع ہے، گروپ کے منتظمین میں سے ایک ریاض پیرزادہ نے کہا ، ہم نے اپنے گاؤں واٹس ایپ گروپ کو 2016 میں شروع کیا تھا اور اس سال نومبر میں اس کی پانچویں سالگرہ ہوگی-

    پیرزادہ کا خیال ہے کہ ڈیجیٹل چیٹ روم نے پوری برادری کو کامیابی کے ساتھ تبدیل کر دیا ہے اجتماعی مسائل کے خلاف گاؤں کے لوگوں کو متحرک کرنے میں مدد کرنا ، ان طریقوں سے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

    انہوں نے بتایا کہ ابھی تک، اس گروپ میں 180 کے قریب ممبران آباد ہیں، ان میں ڈاکٹر، انجینئر، اسکالر، وکیل ، مصنفین اور سینئر اور جونیئر عہدوں پر کام کرنے والے مختلف سرکاری ملازمین شامل ہیں ، جو صوبے کے دیگر حصوں اور یہاں تک کہ بیرون ملک رہائش کے باوجود گاؤں کے امور میں معاون ہیں۔

    بلھیریجی کے لوگوں کے مطابق، واٹس ایپ سے لیس ان کی کمیونٹی کے کارکنوں نے اس پلیٹ فارم کا استعمال علاقے میں حفظان صحت اور صفائی ستھرائی کے لئے بھی کیا ہے پائیدار ترقیاتی اہداف کی مؤثر طریقے سے تعمیل کرنے کے لئے اس گروپ نے مواصلات، تعلیم، صحت، کھیلوں، خواتین کے مسائل، ادب اور ٹیکنالوجی کے لئے سوشل میڈیا رضاکاروں کو منظم اور سرشار کیا ہے۔

    بلھیریجی ولیج گروپ کے اہم ممبران نے دیگر تمام ذیلی گروپوں کے ساتھ ہم آہنگی کی اور ان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے وسائل مہیا کرنے میں ان کی سہولت فراہم کی۔

    ڈاکٹر اصغر پیرزادہ ، جنہوں نے بلھیریجی واٹس ایپ گروپ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے ، نے کہا کہ اس پلیٹ فارم نے بہت سے معاشرتی اقدامات کی مدد کی ہے اور دیہاتی امور کو بھی تیز کیا ہے ، جو طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔