Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • 2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی آبی سطح میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب ناسا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک نیا اور خطرناک اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کے ذریعہ کی گئی تحقیق پر مبنی رپورٹ “نیچر” رسالہ میں گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی اس رپورٹ میں چاند پر ہونے والی ہلچل کی وجہ سے زمین پر آنے والے خطرناک سیلاب کو”نیوسنس فلڈ” کہا گیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کے مطابق چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

  • حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں      تحریر:آصف گوہر

    حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں تحریر:آصف گوہر

    حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں

    تحریر:آصف گوہر

    کسی بھی ملک کے لئےقابل اعتماد اور کم قیمت توانائی کی دستیابی کا معاشی ترقی، اور شہریوں کےمعیار زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔ معیشت اور ملک کی سکیورٹی کا ہونا ایک ترقی پذیر ملک کے لئے ضروری ہے۔ بجلی کی گھریلو اور کاروباری صارفین کے لئے بڑھتی ہوئی مانگ اور بڑھتی ہوئی آبادی اور توانائی کی بچت پاکستان کے پالیسی سازوں کے لئے اہم چیلنج ہے۔ پنجاب میں محکمہ توانائی ایک مدت سے غیر فعال تھا منصوبہ جات پر کام فیتہ کاٹنے اور فائلوں کی حد تک ہی کیا جاتا تھا ۔اور پنجاب انرجی کمپنی مسلسل خسارہ میں جا رہی تھی ۔ ملک میں بجلی کی طلب میں 8 سے 10 فیصد سالانہ کی تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پنجاب پاور جنریشن پالیسی 2006 (نظر ثانی شدہ 2009)، کے مطابق پاکستان کی بجلی کی مانگ رہی ہے سال 2030 تک 101,478 میگاواٹ بڑھ جانے کی توقع ہے۔

    اس ضرورت میں مستقل اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت تھی۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے حکومت سنبھالتے ہی محکمہ توانائی پنجاب کوفعال کیااور اپنی کابینہ کے رکن ڈاکٹر محمد اختر ملک کو مختلف ٹاسک دئیے جن میں توانائی کا تحفظ بجلی کی پیداوار کی طرح اہم ہے۔
    توانائی کے تحفظ کے اقدامات جیسے 150 عوامی عمارتوں کا توانائی آڈٹ کرنا، ریٹرو فٹنگ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی تکمیل ہو چکی ہے جس نے سالانہ 891 میگاواٹ فی گھنٹہ کی بچت اور بجلی کی کھپت میں 44 فیصد کمی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری 100ارب سے 1263 میگاواٹ کا پاور پلانٹ تکمیل قریب ہے۔

    نیاپنجاب سولرائزیشن منصوبہ کےتخت10500 پرائمری سکولوں کو سولر بجلی فراہم کی گئ ہے جن میں 1800 سکول ایسے تھے جو 1947سے بغیر بجلی کے کام کررہے تھے۔ پنجاب کی یونیورسٹی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنولوجی لاہورسے جامعات کو سولر انرجی فراہم کرنے کے کام کا آغاز ہوچکا مزید پر کام جاری ہے
    ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال کوسولر انرجی پر منتقل کیا گیا ہے۔لاہور جنرل ہسپتال میں سولر پینلز کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے جوجلد کام شروع کر دے گا۔

    لیہ میں 100میگاوٹ کے سولر پاور پلانٹ کے منصوبہ کا آغاز کیا گیا ہے ۔ پنجاب میں پہلی بار بجلی چوروں کا محاسبہ کیا گا اور 20ارب روپے کی ریکوری کرکے رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی گی-

    پنجاب پاور کمپنی کوبہتر منصوبہ بندی سے پہلی بار مسلسل خسارے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار 217 ملین روپے کا منافع ہوا۔
    اس مالی سال میں پنجاب میں سولر پاور کے مزید 29 منصوبے شروع کئے جارہے ہیں جس کے تحت ہسپتالوں مزاروں سرکاری دفاتر مرکزی مساجد کو سولر انرجی پر منتقل کردیا جائے گا ۔

    حکومت پنجاب کے ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2023 تک پنجاب حکومت متبادل انرجی حصول اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ کا ہدف حاصل کرلے گی۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی ویرفکیشن مشکل مگر ناممکن نہیں : تحریر: محمد جاوید

    آج کل ٹویٹر پہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جیس کو دیکھو اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ مجھ سمیت ہر بندہ ٹویٹر پہ اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکیشن میں لگا ہوا ہے اور ہونا بھی چائے کیونکہ ویرفکیشن کرانا سب کا حق ہے۔ سب کو بلیو ٹک ملنا چائے تو اس سلسلے میں بنا کسی ریسرچ کے بندہ ناچیز نے بھی اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کیا اور بعد میں کافی ریسرچ کے بعد تب جاکر معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کا کام اتنا آسان نہیں اور ناممکن بھی نہیں ہے بس کچھ باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کرنے سے پہلے ایک بار اپنے اکاؤنٹ کو دیکھو کیا وہ ٹویٹر کے رولز کے حساب سے قابل قبول ہے بھی یا نہیں تو اس سلسلے میں کچھ بنیادی باتیں ہے جن کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے اس کے بعد اگر اپ اپلائی کرتے ہو تو 99 فیصد مثبت نتائج کے توقع کیا جا سکتا ہے
    اگر آپ ان شرائط پہ پورے اترتے ہیں تو اپکے اکاؤنٹ کو ویرفکیشن سے کوئی نہیں روک سکتا بس ان بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے

    (1) سب سے پہلے آپ کا اکاؤنٹ ایکٹو ہو اور کمپلیٹ ڈیٹیلز موجود ہو ۔
    (2) اکاؤنٹ کے پروفائل میں نام اور تصویر ہو ۔
    (3) پچھلے 6 مہینوں سے اکاؤنٹ آپ کے استعمال میں ہو اسکا مطلب ہے ایکٹو ہو
    (4) اکاؤنٹ میں تصدیق شدہ ای میل ایڈریس یا فون نمبر موجود ہو ۔
    (5) پچھلے 12 مہینوں میں ٹویٹر کی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کیا هو۔ جیسا کہ تین دن یا سات دن کی لمیٹ نہیں لگی ہو۔

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    اگر آپ کا اکاؤنٹ ان شرائط پہ پورا اترتا ہے تو اس کے بعد آپ جس پیشے سےوابستہ ہے اس کٹیگری میں اپلائی کرو اور اس کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ضروری ہے جب آپ ویرفکیشن فارم پر کرو گے تب ٹویٹر آپ سے مانگے گا جیسا کہ اگر آپ جرنلسٹ کٹیگری میں اپلائی کرتے ہو تو آپکو کسی نیوز ارگنائزیشن کے ساتھ منسلک ہونا اپکا لکھا ہوا آرٹیکل جیس میں اپکا اکاؤنٹ مینشن ہوا ہو اور اس لنک کا ہونا بھی ضروری ہے۔

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    یہ مخصوص کٹیگری والے شرائط تو بہت آسان ہے مگر سب سے مشکل شرط جو ہے وہ نمبر 5 ہے کیونکہ ہم سب لوگ یا تو کسی ٹرینڈ کی وجہ سے یا زیادہ فولونگ/ان فولونگ کی وجہ سے اسکی زد میں آجاتے ہیں اب اگر آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکشن کرانی ہو تو پہلے بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہےاس کے بعد مخصوص کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ہے۔
    اکاؤنٹ ویرفکیشن ڈیپارٹمنٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹویٹر جلدی ہی تین اور کٹیگریز کا اضافہ کرنے والا ہے جن میں سب سے پہلے سائنٹسٹ پھر مذہبی رہنما اور اس کے بعد ٹیچرز تو ان حضرات کے لئے اچھی بات ہے جو موجودہ کٹیگریز پہ پورا نہیں اترتے۔
    اب یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کس طرح آپ ٹویٹر کے بنیادی شرائط پہ پورا اترتے اور بلیو ٹک کا حقدار بن جاتے۔

    پیسوں کی ضرورت نہیں، خوشحال ہوں،جوڑے سے معافی مانگ لی تھی،عثمان مرزا کا عدالت میں بیان

  • بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    جنوبی کوریا میں بجلی بنانے والا ایسا بیت الخلا تیار کیا گیا ہے جسے استعمال کرنے پر کرپٹو کرنسی بھی ملے گی۔

    باغی ٹی وی:"رائٹرز” کے مطابق جنوبی کوریا میں السان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (یو این آئی ایس ٹی) کے شہری اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر چو جا وون نےچو جائی ویون نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ماحول دوست ٹوائلٹ ڈیزائن کیا ہے بائیوگاس اور کھاد تیار کرنے کے لئے اخراج کو استعمال کرتا ہے۔

    تیار کردہ بیت الخلا کو “بی وی” کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک خاص طرح کے ٹینک کے ساتھ منسلک ہے جس میں انسانی فضلے سے میتھین گیس اور کھاد بنانے والے جراثیم بھی بند کیے گئے ہیں۔

    انسانی فضلہ ایک ویکیوم پمپ کے ذریعے فلش کیا جاتا ہے جس کے لیے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ فضلہ ٹوائلٹ سے ٹینک میں پہنچتا ہے اور جرثومے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

    پروفیسر چو جائی ویون کہتے ہیں کہ ایک انسان یومیہ اوسطاً 500 گرام فضلہ خارج کرتا ہے جس سے 50 لیٹر میتھین گیس بنائی جاسکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کی یہ مقدار اتنی ہے کہ اس سے لگ بھگ 0.5 کلوواٹ گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ایک برقی کار کو 1.2 کلومیٹر تک لے جانے کےلیے کافی ہے۔

    پروفیسر چو جائی ویون نے ’’جی گول‘‘ کے نام سے ایک کرپٹو کرنسی بھی متعارف کروائی ہےجو ٹوائلٹ استعمال کرنے والے کو معاوضے کے طور پر دی جائے گی۔

    چو کےمطابق ماحول دوست دوستانہ ٹوائلٹ استعمال کرنے والا ہر فرد ایک دن میں 10 جی گول حاصل کرسکتا ہے طلباء اس کرنسی کا استعمال کیمپس میں سامان خریدنے کے لئے کر سکتے ہیں ، تازہ بریڈ کافی سے لے کر انسٹنٹ کپ نوڈلز ، پھلوں اور کتابیب تک خرید سکتے ہیں۔طلباء اپنی مصنوعات کو اپنی دکان پر اٹھا سکتے ہیں اور جی کول کے ساتھ ادائیگی کے لئے کیو آر کوڈ اسکین کرسکتے ہیں۔

    جی گول مارکیٹ میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم ہی ھوئی جن نے کہا ، "میں نے کبھی سوچا تھا کہ یہ گندا ہے ، لیکن اب یہ میرے لئے بہت اہمیت کا خزانہ ہے۔”

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

  • واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    کیلی فورنیا ،سلیکون ویلی: فیس بۃک کی زیر ملکیت سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس ایپ نے بھارت کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیئے۔

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ جعلی خبروں اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاہم اپنی اسی مہم کے مدنظر واٹس ایپ نے نقصان دہ اور غلط معلومات دینے پر بھارتی صارفین کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کیے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ میں ان 20 لاکھ اکاؤنٹس کو بند کیا جن کے ذریعے غلط اور نقصان دہ معلومات شیئر کی گئی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ناقص معلومات پر اکاؤنٹس بلاک نہیں کیے جاتے بلکہ ٹھوس وجوہات پر کارروائی کی جاتی ہے ان صارفین نے رواں سال 15 مئی سے 15 جون تک واٹس ایپ کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

    کمپنی کا کہنا تھا کہ نقصان دہ اور غیر مطلوبہ پیغامات کے پھیلاؤ کو روکنا اہم ٹارگٹ ہے اور کمپنی ہر ماہ 80 لاکھ اکاؤنٹس کو بلاک کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ معروف میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کے بھارت میں 400 ملین سے زائد صارفین ہیں اور واٹس ایپ نے بھارت کے نئے متنازع سوشل میڈیا قوانین کے تحت پہلی رپورٹ جاری کی ہے۔

  • پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں رائج سائبر کرائم قوانین کے تحت کسی کے موبائل یا کمپیوٹر سے ڈیٹا چرانا، بری نیت سے اسے پھیلانا یا اس میں کسی قسم کی مداخلت جرم شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا تصاویر، ویڈیوز یا تحریری مواد اور کسی بھی دیگر صورت میں ہو سکتا ہے۔آج کل سائبر کرائم میں اضافے کی وجہ سے جدید دور کے معاشرے میں ہم لوگوں کا اپنی سیکیورٹی کو لے کر ایک بہت اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ اپنی معلومات اور شناخت ظاہر کرنے سے گھبراتے ہیں۔
    زیادہ تر سائبر کریمینلز مالی فوائد کے لئے سائبر کرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں، جبکہ کئی سائبر کرائمرز شوقین ہیکرز، سیاسی طور پر اختیار ملنے والے ہیکرز، یا ملازمین ہیکرز جو کمپنی کے راز تک رسائی حاصل کرنے کے لئے یا انہیں دوسری کمنیوں تک پہنچانے کے لیے اپنا حربہ استعمال کرتے ہوئے سائبر کرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔
    پاکستانیوں کو اکثر کریڈٹ کارڈ فراڈ ، بنک کی معلومات فراڈ، آن لائن خرید و فروخت فراڈ، کسی کو انٹرنیٹ پہ بدنام کرنا، شناخت کی چوری، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کے نمبروں کی چوری اور سوشل میڈیا ایپس جیسے فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ ہیک کی شکل میں مختلف ڈیجیٹل خطرات کا سامنا ہے۔
    ہمیں ہر وقت الیکٹرانک فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم موبائل، ای میل، یا ویب سائٹ کے ذریعے اپنی ضروری معلومات نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں ایسے معاملات میں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    آن لائن جدیدسیکیورٹی مقامی ریاستوں، فوج اور تنظیموں کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ وہ اپنے ملک اور اس کے شہریوں کے بارے میں بہت زیادہ خفیہ ڈیٹا اور ریکارڈ رکھتے ہیں۔  تاہم مختلف ملکوں کے متعدد محکموں اور تنظیموں کو ناکافی جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ڈیٹا کے تحفظ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حساس محکموں اور ہیکرز جاسوسوں کے دہشت گردوں کے ذریعہ خفیہ ڈیٹا یا حساس معلومات کی چوری کسی بھی ملک میں سنگین خطرہ لاحق ہوسکتی ہے۔
    لہذا ڈیجیٹل سیکیورٹی ہر محکمے کے لئے بے حد اہمیت رکھتی ہے اور یہ ہر فرد کے لئے بھی ضروری ہے۔  ڈیجیٹل خطرات کے پیش نظر صارفین کو چاہئے کہ وہ ڈیٹا کی حفاظت کے بارے میں چوکس رہیں۔  کسی بھی فرد کے لئے انٹرنیٹ کی دنیا میں پائے جانے والے مختلف قسم کے خطرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

    انٹرنیٹ نے وسیع پیمانے پر مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن ایسے شدید خطرات ہیں جن سے بچا نہیں جاسکتا۔  فیس بک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر ، واٹس ایپ جیسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر کسی فرد کے ذریعہ شیئر کی گئی تصاویر ، ویڈیوز اور دیگر ذاتی معلومات سنگین اور حتی کہ جان لیوا واقعات کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی شناخت چوری کرکے مو بائل فون نمبر اور جعلی تصاویر لگانے کی شکایات بہت بڑھ چکی ہیں، ڈیجیٹل خطرات سے کیسے بچایا جائے اور ورچوئل دنیا اور حقیقی دنیا کے مابین فرق کو سمجھنا ہر فرد کا واحد فرض ہے۔  مثبت آن لائن ماحول پیدا کرنے کے لئے ہر فرد کو ڈیجیٹل شہری کے حقوق اور ذمہ داریوں کا پتہ ہونا چاہئے۔
    وقت کی بنیادی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کو مستقبل میں ہمارے ملک سازوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے اسکول اور کالج کی سطح کے نصاب میں ڈیجیٹل سیکیورٹی آگاہی شامل کی جائے۔ اساتذہ کے لئے اس بارے میں اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح پہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ سائبر کو اپنے شہریوں کے لئے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لئے پاکستان سائبر کرائم ایکٹ 2016 کو اعلی جذبے سے نافذ کیا جائے۔کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی دنیا میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے لئے جدید ترین طریقے اپنائے جانے کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں اس حوالے سے ٹھوس اور پائیدار قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔

    پاکستان دنیا کے ان 42ممالک میں شامل ہے جن کے پاس سائبر کرائم کے لئے کسی نہ کسی شکل میں قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے ۔اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قانون میں سقم اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے جیسے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ تاہم ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو تمام قواعد و ضوابط سے مبرا ہو کراستعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔
    پاکستان میں سائبر کرائم کی شکایات میں ماضی کی نسبت اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ ملک میں سائبر کرائم سے متعلق آگہی بڑھی ہے، وہیں اس حقیقت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ معاشرے میں سائبر کرائم بڑھ رہے ہیں۔
    حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس حوالے سے سائبر کرائم ادارہ کو مضبوط بنایا جائے، انہیں ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے جبکہ تمام سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹ کو اسکا پابند رکھنا چاہئے کہ بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا نہ پھیلایا جائے، موبائل کمیونیکیشن اور موبائل میکرز کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ ہر صارف کی نقل و حرکت اور موبائل کے استعمال پہ نظر رکھنی چاہئے۔
    حکومت کو چاہئے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ کو بہترین اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیٹا اور ریکارڈ کی مانیٹرنگ دینی چاہئے۔
    بقلم!
    حمیداللہ شاہین

  • فتھ جنریشن سائبر وار!  تحریر : زوہیب زاہد خان

    فتھ جنریشن سائبر وار! تحریر : زوہیب زاہد خان

    دور حاضر میں سوشل میڈیا نے انسانی زندگیوں میں بہت بڑا انقلاب برپا کردیا ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں میل بیٹھے لوگوں سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک چھوٹی سی گلوبل ولیج بنادیا ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو اظہار رائے بیان کرنے کیلئے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کردیا ہے۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا کو ڈیجیٹل میڈیا بھی کہا جاتا ہے۔

    ففتھ جنریشن سائبر وار!
    آجکل سماجی رابطے کی ویب سائیٹس فیس بُک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ پروپیگنڈے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ افراد، سیاسی جماعتوں حتی کہ دو مختلف ملک بھی ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر پروپیگنڈے میں مشغول نظر آتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو سوشل میڈیا پر دو مختلف نظریات اور سچ رکھنے والے عناصر کا ٹکراو ہوتا ہے۔ کہیں افواہیں پھیلائی جارہی ہوتی ہیں. کہیں ان افواہوں کی تردید کی جارہی ہوتی ہے۔ اسی قسم کی کشمکش چلتی رہتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اس طرح کے جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کو ایک موثر حکمت عملی سے کاؤنٹر کیا جاتا ہے۔ جہاں دلیل اور ثبوتوں کے ساتھ منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا جاتا ہے. سوشل میڈیا کی اس جنگ کو ففتھ جنریشن سائبر وار کہتے ہیں۔

    بیرونی دشمن قوتیں ہمارے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کیلئے کبھی ہمارے دین اسلام اور مقدس مذہبی ہستوں کے خلاف اپنا زہر اگلتی ہیں. کبھی ہمارے ملک پر الزام تراشی کرتی ہیں۔

    الحمدالله! پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ دشمن قوتوں کے ہر قسم کے منفی پروپیگنڈے کا بخوبی جواب دیتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹس کا مقصد ہی دین اسلام اور ملک پاکستان کا دفاع کرنا ہے۔ دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان سے بڑھ کر ہم پاکستانیوں کی کچھ نہیں ہے۔

    بلاشبہ آج کے دور میں ہر پاکستانی مسلمان سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال دین اسلام اور ملک پاکستان کے دفاع کیلئے کرے۔ ہر سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو ففتھ جنریش سائبر وار کے متعلق بخوبی آگاہی ہونی چاہیئے۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر پاکستانی کو سوشل میڈیا کو دین اسلام اور وطن پاکستان کے دفاع کیلے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے. آمین! (جزاک اللہ)

  • آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آج سے لگ بھگ ہزار سال پہلے( 800 سے 1100 صدی پہلے )اسلام سائنس کے گولڈن ایج سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد سائنسی علوم کے لئے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ دور دراز سے دانشور، اساتذہ اور طلبا علم کی تلاش میں بغداد کا رخ کرتے تھے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ مسلمانوں کی پہچان ریسرچ اور ایجاد سے ہوتی تھی۔ الجبرا، الگورتھم، ذراعت، میڈیسن، نیویگیشن، اسٹرونومی، فزکس،کوزمولوجی، سائیکولوجی وغیرہ، ان سب فیلڈز کے چیمپئن مسلمان تھے،پھر یہ سب اچانک رک گیا۔ علم، فلسفہ، ایجاد اور دانش کا یہ دور اچانک مسلمانوں کے سامنے سے غائب کیسے ہوگیا؟

    نیل ڈی گراس ٹائیسن کے مطابق انکی ایک بنیادی وجہ امام غزالی کا وہ دینی تفسیر ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ numbers یعنی ہندسوں اور اعداد کے ساتھ کھیلنا ( Maths )شیطان کا کام ہے۔ ریاضی کائنات کی زبان ہے اور آپ سائنس میں سے ریاضی نکال نہیں سکتے۔ امام غزالی کے اس تفسیر کے بعد گویا کسی نے اسلامی سائنس کے گھٹنے کاٹ دیئے ۔اور اس حادثے سے اسلام آج تک recover نہیں کرسکا۔
    1900 سے 2010 کے درمیان سائنس میں نوبل انعامات حاصل کرنے والوں کو دیکھتے ہیں ۔ پوری دنیا میں یہودیوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ ہے لیکن پچھلے سو سال میں سائنس سے related نوبل انعامات میں سے 25 فیصد یہودیوں نے حاصل کئے۔

    Biochemical: 49
    Chemistry : 28
    Physics : 45
    Economics : 28
    Total : 150
    25 %
    اسکے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے اور یہ اعداد و شمار ہماری سائنسی contributions کو ری پریزنٹ کرتی ہیں:
    Biochemical : 0
    Chemistry: 1
    Physics: 1
    Economics: 1
    Total: 3
    0.5 %

    ماڈرن سائنسی دور میں ہماری کوئی ایک بھی میجر کنٹری بیوشن نہیں ہے ۔ In fact پچھلے کئی صدیوں سے ہم ہر سائنسی ایجاد کو پہلے حرام قرار دیتے ہیں، پھر کچھ سال بعد اسکے گن گانے لگ جاتے ہیں ۔ printing Press وہ واحد ایجاد کہی جا سکتی ہے جس سے یورپ میں سائنسی ایجادات کی ابتدا ہوئی، لوگ سائنسی مقالات لکھنے لگے،کتب چھپنے لگیں، میگزین، اخبارات۔۔۔ہر طرح کا علم دور دراز تک پھیلنے لگا۔ اس دوران شیخ الاسلام نے فتوہ دیا کہ پرینٹنگ پریس حرام ہے!! 230 سال تک پرینٹنگ پریس پر اسلامی سلطنت میں پابندی لگی رہی۔ مغرب سائنسی تحقیق اور ایجادات میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور اسلام صرف ایک فتوی کی وجہ سے کم از کم 250 سال پیچھے رہ گیا۔

    جب جہاز ایجاد ہوا تو برصغیر میں فتوی سامنے آیا کہ جہاز میں سفر کرنا حرام ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر جانا قدرت کو للکارنے کے مترادف ہے!!اسی طرح ریڈیو، کیمرہ، ٹی وی، وغیرہ، سب پہ فتوے کے داغ لگائے گئے۔

    آج کوئی Blood transfusion کو حرام قرار دے رہا ہے، کوئی Hair transplant کو، تو کوئی Gene editing technology کو واہیات قرار دے رہا ہے۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
    سوال یہ ہے کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں….

    ۔
    <p

  • جدید ٹیکنالوجی  کا استعمال کیسے؟ تحریر:ثاقب مسعود

    جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیسے؟ تحریر:ثاقب مسعود

    موجودہ دور میں سائنس نے انسانیت کے لیے بے شمار آسانیاں پیدا کی ہیں ، گزرتےوقت کے ساتھ ایجادات کی رفتار بھی بڑھ چکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر کچھ نہ کچھ ایجاد کیا جا رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ ماضی کے وہ بہت سے کام جو پہلے انسان کرتے تھے اب مشینیں سرانجام دے رہی ہیں۔ علم کی رفتار کا شمار اب گوگل کے سرچ رزلٹس کے زریعے ہوتا ہے۔ ایک کلک کے زریعے پوری دنیا کی تفصیل آپ کی سکرین پہ ہوتی ہے۔ اور گھر بیٹھے بٹھائے بڑی آسانی سے آپ وہ معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ ماضی میں یہ کام اگر کرنا ہوتا تو کئی دن کی محنت درکار ہوتی تھی۔ گویا ٹیکنالوجی نے ہمارے لیے یہ ممکن بنا دیا ہے کہ دنوں کا کام ہم سیکنڈز میں سرانجام دے سکیں۔
    جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہونے والی آسانیوں کے علاوہ کچھ ایسی جدید مشکلات بھی ہیں جو ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں۔ خالی ٹیکنالوجی ہی نہیں بلکہ چیز کے کچھ فائدے یا نقصانات ہوتے ہیں۔ جیسے آپ چھری سے چاہیں تو سبزی کاٹیں چاہیں تو گلے کاٹیں، یہ استعمال پہ منحصر ہے کہ نتیجہ اچھا ہے یا برا۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کا استعمال بھی اچھے اور برے دونوں مقاصد کےلیے کیا جا رہا ہے۔ موجودہ دور کی ٹیکنالوجی جس سے سب سے زیادہ نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے وہ سوشل میڈیا ہے۔ جہاں رابطہ اور انٹرٹینمنٹ کےلیے اس کے کچھ فوائد ہیں وہیں اس کے بہت سارے نقصانات بھی ہیں جن سے صرفِ نظر کرنے کی وجہ سے نئی نسل کا خاصہ نقصان ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا میں فیس بک ٹوئیٹر وٹس ایپ اور ٹک ٹاک وغیرہ جیسی ایپلیکشنز ہیں جنہوں نے نئی نسل کا دماغ بری طرح اپنے شکنجے میں لے رکھا ہے۔ سوشل میڈیا کی نوجوان نسل کے دماغ پہ گرفت اتنی مضبوط ہے کہ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفقود ہوتی جا رہی ہے۔

    دور کے لوگ تو یقینا سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے نزدیک آ رہے ہیں مگر۔ اس کے ساتھ ہی وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے بہت دور چلے گئے ہیں جو سوشل میڈیا کے آنے سے قبل ایک دوسرے کے نزدیک ہوا کرتے تھے۔ مثلا والدین، میاں بیوی، بچے ، بہن بھائی اور دوست۔ ہم کسی بھی ایسی جگہ جائیں جہاں یہ سارے رشتے موجود ہوں تو دیکھ کر حیرت سے جھٹکا لگتا ہے کہ ہر کوئی اپنے اپنے موبائل میں مصروف ہوتا ہے۔ گویا انسان انسان پہ مشین کو فوقیت دے رہا ہے، خالی انسان ہی نہیں اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ انسان ماں باپ پہ بھی مشین یعنی کمپیوٹر اور موبائل کو ترجیح دے رہا ہوتا ہے۔

    جس رفتار سے سوشل میڈیا کا استعمال بڑھ رہا ہے اسی رفتار سے اس سے جڑے جرائم کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ لڑکیوں کو سوشل میڈیا کے زریعے دوستی کا جھانسا دینا اور بعد ازاں گھروں سے بلوا کر زیادتی کا نشانہ بنا دینا یا قتل کر دینا۔ اس طرح کے حادثات آئے روز میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ جھوٹ، دھوکا دہی، قتل، مالی فراڈ وغیرہ سب سوشل میڈیا کے زریعے ہو رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پہ شیئر کی گئی اپنی تصاویر کا جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں غلط استعمال بھی ایک بڑا نقصان ہے ۔ ایسی تصاویر کو بعد ازاں ایڈٹ کر کے لوگوں کو بلیک میل کرنے کے علاوہ دھوکہ دہی کےلیے بنائی گئی آئی ڈیز میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے زریعے کی جانے والی آن لائن خریداری کے نام پر بھی لوگوں کے ساتھ کافی دھوکہ دہی کے واقعات ہوئے ہیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا پہ چیز کوئی اور دکھائی جاتی ہے۔ مگر پوری قیمت وصول کرنے کے بعد چیز ناقص معیار کی چیز بھجوا دی جاتی ہے۔ بعد میں دیے گئے پتہ یا موبائل فون نمبرز پہ رابطہ کریں تو وہ بھی غلط ثابت ہوتے ہیں۔

    فیس بک کے استعمال پہ حکومتی چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے اسلام سے متعلق انتہائی گمراہ کم معلومات بھی پھیلائی جاتی ہیں۔ جو ایک جانب معاشرے میں بے چینی کا سبب بنتی ہیں اور دوسری جانب لوگوں میں اشتعمال انگیزی بھی پھیلاتی ہیں۔ اس سے سماج کا امن تباہ ہوتا ہے ۔ حکومت کی جانب سے ایسے عناصر کے خلاف کاروائی نا کیے جانے کی وجہ سے عوامی طبقوں میں حکومت پہ اعتماد کم ہوتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کو فرقہ واریت کےلیے بھی بڑی پیمانے پہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مناسب کاروائی نہ ہونے کی وجہ سے سماج دشمن عناصر پوری آزادی کےساتھ محرم، رمضان اور ربیع الاول کے مہینوں میں ملک بھر میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکا رہے ہوتے ہیں۔ یہ لگی ہوئی آگ پوراسال جلتی رہتی ہے اور اسی آگ کی بدولت کئی دفعہ قتل جیسی سنگین وارداتیں بھی ہو جاتی ہیں۔ نیم پڑھے لکھے اور ان پڑھ طبقے کی جانب سے اسلام کی غلط اور من چاہی تشریح بھی ایک ایسا نقصان ہے جو اسلام کا چہرہ بگاڑ رہا ہے۔ ایسے نقصانات کا خمیازہ ان سادہ لوح لوگوں کو بھی بھگتنا پڑتا ہے جو اپنی کم علمی کی بنا پر اسلام کی غلط تشریح پہ یقین کر لیتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف وہ اپنی دنیا بلکہ آخرت کی تباہی کا بندوبست بھی کر لیتے ہیں۔ الحاد کو ایک منظم اور سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان میں پھیلایا جا رہا ۔ اسلام آباد کے بڑے تعلیمی اداروں کے طلباء و طالبات سوشل میڈیا کی وجہ سے الحاد کا شکار ہو رہے ہیں۔ مگر اس کی روک تھام کےلیے بھی کوئی منصوبہ بندی یا عملی قدم دکھائی نہیں دیتا۔ حالیہ دنوں میں بنگلہ دیش سے ایک گروہ گرفتار کیا گیا جو لڑکیوں کو ٹک ٹاک سٹار بنانے کا جھانسہ دے کر انہیں بھارت سمگل کر دیتا تھا۔ اور بعد ازاں ان سے جسم فروشی کا دھندا کرواتا تھا۔ گروپ نے اعتراف کیا کہ تقریباََ ایک ہزار سے زائد لڑکیاں وہ بھارت سمگل کر چکا ہے۔ پاکستان میں ایسے کتنے گروپ متحرک ہیں اور ان کی ورک تھام کےلیے کیا حکمتِ عملی ہے اس کےلیے بھی کوئی پالیسی دکھائی نہیں دیتی۔ برا سوشل میڈیا نہیں ہے، چیز کو اچھا یا برا اس کا استعمال بناتا ہے۔ اگر حکومت کی جانب سے مناسب پالیسیاں بنا کر ان برائیوں کو روک لیا جاتا ہے تو یقیناََ پاکستان میں سوشل میڈیا زیادہ محفوظ ماحول میں چل سکے گا۔

  • ‏سوشل میڈیا :تحریر:  شاہ زیب

    ‏سوشل میڈیا :تحریر: شاہ زیب

    سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا ہے۔ یقیناً سوشل میڈیا جہاں معلومات و روابط کا تیز ترین زریعہ ہے، وہیں پر کسی حد تک سوشل میڈیا صارفین کی ایک تعداد ایسی بھی ہے جو اس کے ذریعے اپنی منفی سوچ و رویے سے دوسروں کے لئے باعثِ تکلیف و پریشانی بھی بنتے ہیں۔
    بنیادی طور پر کوئی بھی چیز بُری نہی ہوتی جبتک اس کا ستعمال برائی کو پھیلانے یا دوسروں کو تکلیف پہنچانے کے لئے نہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا نے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا لوہا منوانے کے لیے ایک مضبوط پلیٹفارم مہیا کیا ہے۔
    مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ایک بہت بڑی تعداد سوشل میڈیا پر اپنی صلاحیات کو بروئےکار لانے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ کُچھ منفی سوچ و رویہ کے حامل لوگوں کی وجہ سے سوشل میڈیا بھی اُن کے مضمرات سے بچ نہ پایا۔

    دنیا کے بائیس مختلف ممالک کی لڑکیوں پر کیے گئے ایک سروے کے مطابق 60 فیصد لڑکیوں کو سوشل میڈیا پر بدسلوکی یا ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں۔

    ایک عالمی سروے کے مطابق آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کی وجہ سے لڑکیاں سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرنےپر مجبور ہورہی ہیں۔ اس سروے میں شامل 58 فیصد سے زیادہ لڑکیوں کے مطابق انہیں کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لڑکیوں پر حملے سب سے زیادہ فیس بک پر ہوتے ہیں، اس کے بعد انسٹاگرام، واہٹس ایپ اور سنیپ چیٹ کا نمبر ہے۔
    پلان انٹرنیشنل نامی تنظیم کی جانب سے کیے گئے سروے میں 22 ممالک میں 15 سے 22 برس کی عمر کی 14000 لڑکیوں سے بات کی گئی۔ اس میں امریکا، برازیل، یورپین ممالک اور بھارت کی خواتین سے سوشل میڈیا کی افادیت و نقصانات پر کی گئی تفصیلی گفتگو کے مطابق بدسلوکی کا یہ سلسلہ ہر آنے والے وقت کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے جس کی بدولت نوجوان اور ٹیلینٹڈ لڑکیوں کی بڑی تعداد خود یا اپنی فیملی کی وجہ سے سوشل میڈیا کو چھوڑنے پر مجبور ہوئیں

    فیس بُک
     سوشل میڈیا پر خواتین پر بد سلوکی اور ہراسانی ایک عام بات تصور کی جاتی ہے۔ فیس بک پر یہ حملے سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔  39 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ انہیں فیس بک پر بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سروے کے مطابق انسٹا گرام پر 23 فیصد، واہٹس ایپ پر 14 فیصد، اسنیپ چیٹ پر 10 فیصد، ٹوئٹر پر 9فیصد اور ٹک ٹاک پر6 فیصد لڑکیوں کو  ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ بدتمیزی کا رجحان پایا گیا ہے۔ جو بتدریج بڑھ رہا ہے

    کون سا سوشل میڈیا پلیٹفارم محفوظ ہے
    سروے سے اندازہ ہوا کہ بدسلوکی یا ہراساں کیے جانے کی وجہ سے ہر پانچ میں سے ایک لڑکی نے سوشل میڈیا کا استعمال یا تو بند کردیا یا اسے بہت حد تک محدود کردیا۔ سوشل میڈیا پر بدسلوکی کے بعد ہر دس میں سے ایک لڑکی کے اپنی رائے کے اظہار کے طریقہ میں بھی تبدیلی آئی۔
    سروے میں شامل 22 فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ وہ یا ان کی سہیلیوں نے ہراسانی کے خوف کی وجہ سے سوشل میڈیا سے کنارہ کشی اختیار کرلی۔
    سروے میں شامل 59 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پرحملے کا سب سے عمومی طریقہ توہین آمیز، غیر مہذب اور نازیبا الفاظ اور گالی گلوچ کا استعمال تھا۔  41 فیصد لڑکیوں کا کہنا تھا کہ وہ ارداتاً شرمندہ کرنے کے اقدامات سے متاثر ہو کر کنارہ کش ہوئیں، حتیٰ کہ باڈی شیمنگ‘ اور جنسی تشدد کے خطرات کے خوف نے اُنہیں مجبور کر دیا۔ اسی طرح 39 فیصد نسلی اقلیتوں پر حملے، نسلی بدسلوکی کی شکار ہوئیں۔

    خود اعتمادی میں کمی
    پلان انٹرنیشنل کی سی ای او اینی بریگیٹ البریکسٹن کا کہنا تھا کہ ”اس طرح کے حملے جسمانی نہیں ہوتے لیکن وہ لڑکیوں کی اظہار رائے کی آزادی اور سوشل ایکٹیویٹی کے لیے خطرہ ہوتے ہیں اور ان کے اعتماد محدود کردیتے ہیں۔

    اینی بریکگیٹ کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو آن لائن تشدد کا خود ہی مقابلہ کرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے اور صحت پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
    فیس بک اور انسٹا گرام کا کہنا ہے کہ وہ بدسلوکی سے متعلق رپورٹوں کی نگرانی کرتے ہیں اور دھمکی آمیز مواد کا پتہ لگانے کے لیے آرٹیفیشل یا ذہنی انٹلی جینس کا استعمال کرتے ہیں اور اس پر کارروائی بھی کی جاتی ہے۔
    ٹوئٹر کا بھی کہنا ہے کہ وہ ایسی تکنیک کا استعمال کرتا ہے جو توہین آمیز مواد کی نشاندہی کرسکے اوراسے روک سکے۔
    سوشل میڈیا مینجمنٹ کے اِن اقدامات کے باوجود مذکورہ بالا سروے  سے بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے والی تکنیک اب تک اُس طرح سے موثر نہیں رہی۔
    چنانچہ مزید اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ اِس اخلاقی اور قانونی جُرم کی روک تھام کی جا سکے۔
    اس کے ساتھ ساتھ والدین کو اپنی بیٹیوں کے اعتماد اور ہمت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ اُن کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ وہ معاشرے میں خود اعتمادی کے ساتھ ہر آنے والے چیلنج کے ساتھ کامیابی سے نمٹ سکیں۔ شکریہ
    @shahzeb___