Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    اسرائیل کا جاسوس سافٹ وئیر "پیگاسس” کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    موبائل فون کی ہیکنگ کے لیے اسرائیلی کمپنی کا تیار کردہ سافٹ ویئر پیگاسس استعمال کیا جا رہا ہے۔ واٹس ایپ پر صرف ایک مس کال کی مدد سے فون ہیک ہو جاتا ہے، یہ مس کال بھی بعد میں کال لاگ سے ختم کر دی جاتی ہے۔

    باغی ٹی وی : پیگاسس کے گوگل پر جاری وکی پیڈیا کے مطابق پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے جو اسرائیلی سائبرارمز فرم این ایس او گروپ نے تیار کیا ہے جو iOS اور Android کے زیادہ تر ورژن چلانے والے موبائل فون (اور دیگر آلات) پر چھپ چھپا کر انسٹال کیا جاسکتا ہے۔ 2021 پروجیکٹ پیگاسس انکشافات سے پتہ چلتا ہے کہ موجودہ پیگاسس سافٹ ویئر 14.6 آئی او ایس تک کے حالیہ iOS ورژنز کا استحصال کرنے کے قابل ہے

    واشنگٹن پوسٹ اور دیگر میڈیا ذرائع کے مطابق ، پیگاسس سافٹ ویئر اس قدر طاقتور ہے کہ نہ صرف کسی فون (ٹیکسٹس ، ای میلز ، ویب سرچ) سے تمام مواصلات کی کی اسٹروک مانیٹرنگ کے قابل بناتا ہے بلکہ یہ آپ کی فون کالز سن اور ریکارڈ کر سکتا ہے۔ آپ کے بھیجئے گئے پیغامات کو کاپی کر سکتا ہے۔

    آپ کے فون میں موجود تمام تصاویر، ویڈیوز اور فائلز تک رسائی حاصل کرسکتا ہے جبکہ این ایس او گروپ کو دونوں کو ہائی جیک کرنے کی بھی اجازت دیتا ہےصرف یہی نہیں، یہ سافٹ ویئر آپ کے موبائل فون میں لگے کیمرے اور مائیک کے ذریعے چوبیس گھنٹے آپ کی جاسوسی کر سکتا ہے۔

    ایک بار آپ کا فون ہیک ہو جائے تو آپ کہاں جاتے ہیں، کس سے ملتے ہیں، کیا کھاتے پیتے ہیں، یہ سب راز نہیں رہتا۔

    اس کمپنی کی پہلے امریکی نجی ایکویٹی فرم فرانسسکو شراکت دار کی ملکیت تھی اس کے بعد بانیوں نے اسے 2019 میں واپس خریدلیا تھا اسرائیلی کمپنی یہ سافٹ ویئر دنیا کی مختلف حکومتوں کو بیچ چکی ہے۔

    این ایس او نے کہا ہے کہ وہ”مجاز حکومتوں کو ایسی ٹیکنالوجی مہیا کرتی ہے جو ان کو دہشت گردی اور جرائم سے مقابلہ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے-

    اس سافٹ ویئر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ کئی سال تک آپ کے فون کے ذریعے آپ کی نگرانی کر سکتا اور آپ کو اس کا علم تک نہیں ہوتا ایپل کا جدید ترین آپریٹنگ سسٹم اور اینڈرائیڈ کا کوئی بھی ورژن اس سے محفوظ نہیں۔

    اس سپائی ویئر کا نام افسانوی پنکھوں والے گھوڑے پیگاسس کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ٹروجن گھوڑا ہے جسے فون کو متاثر کے لئے "ہوا کے ذریعے” بھیجا جاسکتا ہے۔

    23 اگست ، 2020 کو ، اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے ذریعہ حاصل کردہ انٹلیجنس کے مطابق ، این ایس او گروپ نے مخالف حکومت کی نگرانی کے لئے سیکڑوں لاکھوں امریکی ڈالر میں پیگاسس اسپائی ویئر سافٹ ویئر ، عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں بیچا تھا بعدازاں ، دسمبر 2020 کو ، الجزیرہ کی تحقیقات میں دی ٹپ آف دی آئسبرگ ، جاسوس کے پارٹنروں نے ، پیگاسس اور میڈیا پیشہ ور افراد اور کارکنوں کے فونوں میں اس کے دخول کے بارے میں خصوصی فوٹیج دکھائی ، جسے اسرائیل اپنے مخالفین اور حتی اس کے اتحادیوں کے بارے میں چھپاتا ہے۔

    جولائی 2021 میں ، پراجیکٹ پیگاسس انکشافات کے وسیع پیمانے پر میڈیا کوریج کے ساتھ ہی انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے گہرائی سے تجزیے کے ساتھ ہی پتا چلا کہ ہائی پروفائل اہداف کے خلاف پیگاسس کا اب بھی وسیع پیمانے پر استحصال کیا جارہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پیگاسس آئی او ایس کے استحصال کے ایک صفر پر کلک کرکے تازہ ترین ریلیز ، iOS 14.6 تک کے iOS کے تمام جدید ورژن کو متاثر کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

  • تحریر  شمیل:  سوشل میڈیا کا کردار

    تحریر شمیل: سوشل میڈیا کا کردار

    آج کل ہر طرف ایک نفسانفسی ہے ہر کوئی اپنے مہیا پلیٹ فارم سے آواز اٹھا چاہتا ہے اپنی آواز کو حکام بالا تک یا کم از کم اس بند کواڑ تک لے جانا چاہتا ہے جس سے یا جہاں سے اس کے مسئلے کا یا ان لوگوں کے مسائل کا مداوا ہو سکے جن کے لیے وہ آواز اٹھا رہا ہے.

    مختلف قسم کے لوگ ہر طبقے ہر میڈیم پہ آواز اٹھاتے ہیں
    کہیں کوئی سڑکوں پہ احتجاج کر رہا ہے
    کہیں کوئی تھانے کچہری کے سامنے
    کہیں کوئی ہسپتال کے سامنے عمل پیرا ہے

    غرض یہ کہ جس کی جہاں تک رسائی ہو پاتی ہے وہ وہاں تک جاتا ہے.
    ہمارے معاشرے اور ہماری زندگیوں میں بہت بڑا بدلاؤ جو چیز لے کر آئ وہ ہے سوشل میڈیا کا دور
    یوٹیوب
    فیس بک
    انسٹا گرام
    ٹویٹر
    وغیرہ وغیرہ.
    ان کا کردار بہت ہی مثبت ہے لیکن ایک بات واضع کر دوں کہ کردار مثبت تب ہی ممکن ہوتے ہیں جب آپ کا اپنا عمل مثبت ہو اور اس کے ثمرات اس سے بھی بڑھ کے نکلتے ہیں..
    بہت سے لوگوں کو انصاف کی فراہمی بروقت بھی میسر ہوئی اور بہت سے لوگوں کے سالوں لٹکے کام بھی پورے ہوے جب بہت سے لوگوں نے مل کر سوشل میڈیا پہ مثبت آواز کو مسئلے کو اجاھر کیا جن میں زینب قتل کیس ہو گیا جو سرفہرست ہے لوگوں کا سوشل میڈیا کے ذریعے آواز اٹھانا ہی اداروں کو حرکت میں لے کر آیا..
    قصہ مختصر یہ کہ جہاں منفی سوچ کو مار دینا ہو منفی نیت کو ختم کرنا ہو وہاں مثبت پہلو اور ارادہ لازم ہے.

    @Shameel512

  • 2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    2030 میں زمین پر تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے ،ناسا کا موسمیاتی تبدیلی سے متعلق خوفناک انکشاف

    ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے گلیشیر تیزی سے پگھل رہے ہیں اور سمندروں کی آبی سطح میں بھی لگاتار اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب ناسا نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ایک نیا اور خطرناک اندیشہ ظاہر کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے اپنی تحقیقی رپورٹ میں ایک خوفناک انکشاف کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ چاند پر ہونے والی ہلچل کے باعث زمین پر بہت ہی خطرناک طوفانی سیلاب کا خطرہ ہے۔

    ناسا کے ذریعہ کی گئی تحقیق پر مبنی رپورٹ “نیچر” رسالہ میں گزشتہ ماہ شائع ہوئی تھی اس رپورٹ میں چاند پر ہونے والی ہلچل کی وجہ سے زمین پر آنے والے خطرناک سیلاب کو”نیوسنس فلڈ” کہا گیا ہے۔

    ناسا کا کہنا ہے کہ موسمی تبدیلی کے پیچھے ایک بڑی وجہ چاند بھی ہو سکتا ہے ناسا نے مستقبل قریب میں چاند کے اپنے ہی محور پر ڈگمگانے کا امکان ظاہر کیا ہے جس طرح سے ماحولیاتی تبدیلی میں تیزی آرہی ہے اور سمندر کی آبی سطح بڑھ رہی ہے، ایسے میں 2030 میں چاند اپنے محور پر ڈگمگا سکتا ہے۔ چاند کے اس طرح سے ڈگمگانے سے زمین پر تباہ کن سیلاب آسکتا ہے۔

    حالانکہ جب کبھی بھی زمین پر ہائی ٹائیڈ آتا ہے اس میں آنے والے سیلاب کو اسی نام سے جانا جاتا ہے لیکن ناسا کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ 2030تک زمین پر آنے والے نیوسنس فلڈ کی تعداد کافی بڑھ جائے گی پہلے ان کی تعداد بھلے ہی کم ہوگی، لیکن بعد میں اس میں تیزی آ جائے گی۔

    ناسا کی تحقیق کے مطابق چاند کی حالت میں آنے والی تھوڑی سی بھی تبدیلی زمین پر زبردست سیلاب کی وجہ بن سکتی ہے –

    ناسا کے ایڈمنسٹریٹر بل نیلسن کے مطابق چاند کی کشش ثقل جو طوفان کی وجہ بنتی ہے، ایسی ماحولیاتی تبدیلی زمین پر آنے والے سیلاب کی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ زمین پر آنے والا سیلاب چاند، زمین اور سورج کی حالت پر منحصر کرے گا کہ اس میں کتنی تبدیلی ہوتی ہے۔

  • حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں      تحریر:آصف گوہر

    حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں تحریر:آصف گوہر

    حکومت پنجاب توانائی کے شعبہ میں

    تحریر:آصف گوہر

    کسی بھی ملک کے لئےقابل اعتماد اور کم قیمت توانائی کی دستیابی کا معاشی ترقی، اور شہریوں کےمعیار زندگی پر بہت اثر پڑتا ہے۔ معیشت اور ملک کی سکیورٹی کا ہونا ایک ترقی پذیر ملک کے لئے ضروری ہے۔ بجلی کی گھریلو اور کاروباری صارفین کے لئے بڑھتی ہوئی مانگ اور بڑھتی ہوئی آبادی اور توانائی کی بچت پاکستان کے پالیسی سازوں کے لئے اہم چیلنج ہے۔ پنجاب میں محکمہ توانائی ایک مدت سے غیر فعال تھا منصوبہ جات پر کام فیتہ کاٹنے اور فائلوں کی حد تک ہی کیا جاتا تھا ۔اور پنجاب انرجی کمپنی مسلسل خسارہ میں جا رہی تھی ۔ ملک میں بجلی کی طلب میں 8 سے 10 فیصد سالانہ کی تیز رفتاری سے اضافہ ہو رہا ہے۔ پنجاب پاور جنریشن پالیسی 2006 (نظر ثانی شدہ 2009)، کے مطابق پاکستان کی بجلی کی مانگ رہی ہے سال 2030 تک 101,478 میگاواٹ بڑھ جانے کی توقع ہے۔

    اس ضرورت میں مستقل اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت تھی۔ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار نے حکومت سنبھالتے ہی محکمہ توانائی پنجاب کوفعال کیااور اپنی کابینہ کے رکن ڈاکٹر محمد اختر ملک کو مختلف ٹاسک دئیے جن میں توانائی کا تحفظ بجلی کی پیداوار کی طرح اہم ہے۔
    توانائی کے تحفظ کے اقدامات جیسے 150 عوامی عمارتوں کا توانائی آڈٹ کرنا، ریٹرو فٹنگ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کی تکمیل ہو چکی ہے جس نے سالانہ 891 میگاواٹ فی گھنٹہ کی بچت اور بجلی کی کھپت میں 44 فیصد کمی ملکی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری 100ارب سے 1263 میگاواٹ کا پاور پلانٹ تکمیل قریب ہے۔

    نیاپنجاب سولرائزیشن منصوبہ کےتخت10500 پرائمری سکولوں کو سولر بجلی فراہم کی گئ ہے جن میں 1800 سکول ایسے تھے جو 1947سے بغیر بجلی کے کام کررہے تھے۔ پنجاب کی یونیورسٹی انجینئرنگ اینڈ ٹیکنولوجی لاہورسے جامعات کو سولر انرجی فراہم کرنے کے کام کا آغاز ہوچکا مزید پر کام جاری ہے
    ڈیرہ غازی خان ٹیچنگ ہسپتال کوسولر انرجی پر منتقل کیا گیا ہے۔لاہور جنرل ہسپتال میں سولر پینلز کی تنصیب کا کام مکمل ہوچکا ہے جوجلد کام شروع کر دے گا۔

    لیہ میں 100میگاوٹ کے سولر پاور پلانٹ کے منصوبہ کا آغاز کیا گیا ہے ۔ پنجاب میں پہلی بار بجلی چوروں کا محاسبہ کیا گا اور 20ارب روپے کی ریکوری کرکے رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی گی-

    پنجاب پاور کمپنی کوبہتر منصوبہ بندی سے پہلی بار مسلسل خسارے کے بعد ملکی تاریخ میں پہلی بار 217 ملین روپے کا منافع ہوا۔
    اس مالی سال میں پنجاب میں سولر پاور کے مزید 29 منصوبے شروع کئے جارہے ہیں جس کے تحت ہسپتالوں مزاروں سرکاری دفاتر مرکزی مساجد کو سولر انرجی پر منتقل کردیا جائے گا ۔

    حکومت پنجاب کے ان اقدامات کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ 2023 تک پنجاب حکومت متبادل انرجی حصول اور بجلی کی پیداوار میں اضافہ کا ہدف حاصل کرلے گی۔

    مضمون نگار ایک فری لانس صحافی، بلاگر اور معروف ماہر تعلیم ہیں۔ سیاسی امور پر بھی عمیق نظر رکھتے ہیں۔ حکومتی اقدامات اور ترقیاتی منصوبوں بارے بہت اچھی اور متناسب رپورٹنگ کرتے ہیں۔ ایک اچھے ایکٹوسٹ کے طور پر سوشل میڈیا پر جانے جاتے ہیں۔ ان کا پرسنل اکاؤنٹ ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آصف گوہر @Educarepak

  • ٹویٹر اکاؤنٹ کی ویرفکیشن مشکل مگر ناممکن نہیں : تحریر: محمد جاوید

    آج کل ٹویٹر پہ ایک دوڑ لگی ہوئی ہے جیس کو دیکھو اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ مجھ سمیت ہر بندہ ٹویٹر پہ اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکیشن میں لگا ہوا ہے اور ہونا بھی چائے کیونکہ ویرفکیشن کرانا سب کا حق ہے۔ سب کو بلیو ٹک ملنا چائے تو اس سلسلے میں بنا کسی ریسرچ کے بندہ ناچیز نے بھی اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کیا اور بعد میں کافی ریسرچ کے بعد تب جاکر معلوم ہوا کہ اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کا کام اتنا آسان نہیں اور ناممکن بھی نہیں ہے بس کچھ باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے ۔

    پولیس کی زیادتی، خواجہ سراؤں نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دے دی

    پلاسٹک بیگ پر پابندی لگی تو خواجہ سراؤں نے ایسا کام کیا کہ شہری داد دینے پر مجبور

    کرونا لاک ڈاؤن، شادی کی خواہش رہی ادھوری، پولیس نے دولہا کو جیل پہنچا دیا

    کرونا لاک ڈاؤن، گھر میں فاقے، ماں نے 5 بچوں کو تالاب میں پھینک دیا،سب کی ہوئی موت

    اکاؤنٹ کی ویرفکیشن کے لئے اپلائی کرنے سے پہلے ایک بار اپنے اکاؤنٹ کو دیکھو کیا وہ ٹویٹر کے رولز کے حساب سے قابل قبول ہے بھی یا نہیں تو اس سلسلے میں کچھ بنیادی باتیں ہے جن کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے اس کے بعد اگر اپ اپلائی کرتے ہو تو 99 فیصد مثبت نتائج کے توقع کیا جا سکتا ہے
    اگر آپ ان شرائط پہ پورے اترتے ہیں تو اپکے اکاؤنٹ کو ویرفکیشن سے کوئی نہیں روک سکتا بس ان بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے

    (1) سب سے پہلے آپ کا اکاؤنٹ ایکٹو ہو اور کمپلیٹ ڈیٹیلز موجود ہو ۔
    (2) اکاؤنٹ کے پروفائل میں نام اور تصویر ہو ۔
    (3) پچھلے 6 مہینوں سے اکاؤنٹ آپ کے استعمال میں ہو اسکا مطلب ہے ایکٹو ہو
    (4) اکاؤنٹ میں تصدیق شدہ ای میل ایڈریس یا فون نمبر موجود ہو ۔
    (5) پچھلے 12 مہینوں میں ٹویٹر کی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کیا هو۔ جیسا کہ تین دن یا سات دن کی لمیٹ نہیں لگی ہو۔

    دس برس تک سگی بیٹی سے مسلسل جنسی زیادتی کرنیوالے سفاک باپ کو عدالت نے سنائی سزا

    شادی شدہ خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے بعد ملزمان نے ویڈیو وائرل کر دی

    مالی نے خاتون کے ساتھ زیادتی کے بعد دوستوں کو بلا لیا،اجتماعی درندگی کا ایک اور واقعہ

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات

    لڑکی کو برہنہ کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کو پولیس نے عدالت پیش کر دیا

    اگر آپ کا اکاؤنٹ ان شرائط پہ پورا اترتا ہے تو اس کے بعد آپ جس پیشے سےوابستہ ہے اس کٹیگری میں اپلائی کرو اور اس کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ضروری ہے جب آپ ویرفکیشن فارم پر کرو گے تب ٹویٹر آپ سے مانگے گا جیسا کہ اگر آپ جرنلسٹ کٹیگری میں اپلائی کرتے ہو تو آپکو کسی نیوز ارگنائزیشن کے ساتھ منسلک ہونا اپکا لکھا ہوا آرٹیکل جیس میں اپکا اکاؤنٹ مینشن ہوا ہو اور اس لنک کا ہونا بھی ضروری ہے۔

    کیا فائدہ قانون کا، مفتی کو نامرد کیا گیا نہ عثمان مرزا کو،ٹویٹر پر صارفین کی رائے

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    یہ مخصوص کٹیگری والے شرائط تو بہت آسان ہے مگر سب سے مشکل شرط جو ہے وہ نمبر 5 ہے کیونکہ ہم سب لوگ یا تو کسی ٹرینڈ کی وجہ سے یا زیادہ فولونگ/ان فولونگ کی وجہ سے اسکی زد میں آجاتے ہیں اب اگر آپ نے اپنے اکاؤنٹ کی ویرفکشن کرانی ہو تو پہلے بنیادی باتوں کا خیال رکھنا ہےاس کے بعد مخصوص کٹیگری کے شرائط پہ بھی پورا اترنا ہے۔
    اکاؤنٹ ویرفکیشن ڈیپارٹمنٹ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ٹویٹر جلدی ہی تین اور کٹیگریز کا اضافہ کرنے والا ہے جن میں سب سے پہلے سائنٹسٹ پھر مذہبی رہنما اور اس کے بعد ٹیچرز تو ان حضرات کے لئے اچھی بات ہے جو موجودہ کٹیگریز پہ پورا نہیں اترتے۔
    اب یہ آپ کے اوپر منحصر ہے کس طرح آپ ٹویٹر کے بنیادی شرائط پہ پورا اترتے اور بلیو ٹک کا حقدار بن جاتے۔

    پیسوں کی ضرورت نہیں، خوشحال ہوں،جوڑے سے معافی مانگ لی تھی،عثمان مرزا کا عدالت میں بیان

  • بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    بجلی بنانے والا” ٹوائلٹ” جسے استعمال کرنے پر معاوضہ بھی ملے گا

    جنوبی کوریا میں بجلی بنانے والا ایسا بیت الخلا تیار کیا گیا ہے جسے استعمال کرنے پر کرپٹو کرنسی بھی ملے گی۔

    باغی ٹی وی:"رائٹرز” کے مطابق جنوبی کوریا میں السان نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹکنالوجی (یو این آئی ایس ٹی) کے شہری اور ماحولیاتی انجینئرنگ کے پروفیسر چو جا وون نےچو جائی ویون نے اپنے اسٹوڈنٹس کے ساتھ مل کر ماحول دوست ٹوائلٹ ڈیزائن کیا ہے بائیوگاس اور کھاد تیار کرنے کے لئے اخراج کو استعمال کرتا ہے۔

    تیار کردہ بیت الخلا کو “بی وی” کا نام دیا گیا ہے اور یہ ایک خاص طرح کے ٹینک کے ساتھ منسلک ہے جس میں انسانی فضلے سے میتھین گیس اور کھاد بنانے والے جراثیم بھی بند کیے گئے ہیں۔

    انسانی فضلہ ایک ویکیوم پمپ کے ذریعے فلش کیا جاتا ہے جس کے لیے پانی کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ فضلہ ٹوائلٹ سے ٹینک میں پہنچتا ہے اور جرثومے اپنا کام شروع کر دیتے ہیں۔

    پروفیسر چو جائی ویون کہتے ہیں کہ ایک انسان یومیہ اوسطاً 500 گرام فضلہ خارج کرتا ہے جس سے 50 لیٹر میتھین گیس بنائی جاسکتی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کی یہ مقدار اتنی ہے کہ اس سے لگ بھگ 0.5 کلوواٹ گھنٹہ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جو ایک برقی کار کو 1.2 کلومیٹر تک لے جانے کےلیے کافی ہے۔

    پروفیسر چو جائی ویون نے ’’جی گول‘‘ کے نام سے ایک کرپٹو کرنسی بھی متعارف کروائی ہےجو ٹوائلٹ استعمال کرنے والے کو معاوضے کے طور پر دی جائے گی۔

    چو کےمطابق ماحول دوست دوستانہ ٹوائلٹ استعمال کرنے والا ہر فرد ایک دن میں 10 جی گول حاصل کرسکتا ہے طلباء اس کرنسی کا استعمال کیمپس میں سامان خریدنے کے لئے کر سکتے ہیں ، تازہ بریڈ کافی سے لے کر انسٹنٹ کپ نوڈلز ، پھلوں اور کتابیب تک خرید سکتے ہیں۔طلباء اپنی مصنوعات کو اپنی دکان پر اٹھا سکتے ہیں اور جی کول کے ساتھ ادائیگی کے لئے کیو آر کوڈ اسکین کرسکتے ہیں۔

    جی گول مارکیٹ میں پوسٹ گریجویٹ طالب علم ہی ھوئی جن نے کہا ، "میں نے کبھی سوچا تھا کہ یہ گندا ہے ، لیکن اب یہ میرے لئے بہت اہمیت کا خزانہ ہے۔”

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

  • واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    واٹس ایپ کا بھارت میں کریک ڈاؤن،20 لاکھ بھارتی اکاؤنٹس بند کر دیئے

    کیلی فورنیا ،سلیکون ویلی: فیس بۃک کی زیر ملکیت سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس ایپ نے بھارت کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کر دیئے۔

    باغی ٹی وی :واٹس ایپ جعلی خبروں اور غلط معلومات کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہا ہے تاہم اپنی اسی مہم کے مدنظر واٹس ایپ نے نقصان دہ اور غلط معلومات دینے پر بھارتی صارفین کے 20 لاکھ اکاؤنٹس بند کیے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے نئے انفارمیشن ٹیکنالوجی قوانین کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے ایک ماہ میں ان 20 لاکھ اکاؤنٹس کو بند کیا جن کے ذریعے غلط اور نقصان دہ معلومات شیئر کی گئی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا کہ ناقص معلومات پر اکاؤنٹس بلاک نہیں کیے جاتے بلکہ ٹھوس وجوہات پر کارروائی کی جاتی ہے ان صارفین نے رواں سال 15 مئی سے 15 جون تک واٹس ایپ کے قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

    کمپنی کا کہنا تھا کہ نقصان دہ اور غیر مطلوبہ پیغامات کے پھیلاؤ کو روکنا اہم ٹارگٹ ہے اور کمپنی ہر ماہ 80 لاکھ اکاؤنٹس کو بلاک کرتی ہے۔

    واضح رہے کہ معروف میسیجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ کے بھارت میں 400 ملین سے زائد صارفین ہیں اور واٹس ایپ نے بھارت کے نئے متنازع سوشل میڈیا قوانین کے تحت پہلی رپورٹ جاری کی ہے۔

  • پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں انٹرنیٹ پر اپنی شناخت اور ڈیٹا کی حفاظت کے مسئلے .تحریر:حمیداللہ شاہین

    پاکستان میں رائج سائبر کرائم قوانین کے تحت کسی کے موبائل یا کمپیوٹر سے ڈیٹا چرانا، بری نیت سے اسے پھیلانا یا اس میں کسی قسم کی مداخلت جرم شمار ہوتا ہے۔ یہ ڈیٹا تصاویر، ویڈیوز یا تحریری مواد اور کسی بھی دیگر صورت میں ہو سکتا ہے۔آج کل سائبر کرائم میں اضافے کی وجہ سے جدید دور کے معاشرے میں ہم لوگوں کا اپنی سیکیورٹی کو لے کر ایک بہت اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ اپنی معلومات اور شناخت ظاہر کرنے سے گھبراتے ہیں۔
    زیادہ تر سائبر کریمینلز مالی فوائد کے لئے سائبر کرائم میں ملوث ہوجاتے ہیں، جبکہ کئی سائبر کرائمرز شوقین ہیکرز، سیاسی طور پر اختیار ملنے والے ہیکرز، یا ملازمین ہیکرز جو کمپنی کے راز تک رسائی حاصل کرنے کے لئے یا انہیں دوسری کمنیوں تک پہنچانے کے لیے اپنا حربہ استعمال کرتے ہوئے سائبر کرائم کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔
    پاکستانیوں کو اکثر کریڈٹ کارڈ فراڈ ، بنک کی معلومات فراڈ، آن لائن خرید و فروخت فراڈ، کسی کو انٹرنیٹ پہ بدنام کرنا، شناخت کی چوری، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ کے نمبروں کی چوری اور سوشل میڈیا ایپس جیسے فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام اور واٹس ایپ ہیک کی شکل میں مختلف ڈیجیٹل خطرات کا سامنا ہے۔
    ہمیں ہر وقت الیکٹرانک فراڈ کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ ہم موبائل، ای میل، یا ویب سائٹ کے ذریعے اپنی ضروری معلومات نامعلوم افراد کے ساتھ شیئر کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہمیں ایسے معاملات میں مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    آن لائن جدیدسیکیورٹی مقامی ریاستوں، فوج اور تنظیموں کے لئے بھی اہم ہے کیونکہ وہ اپنے ملک اور اس کے شہریوں کے بارے میں بہت زیادہ خفیہ ڈیٹا اور ریکارڈ رکھتے ہیں۔  تاہم مختلف ملکوں کے متعدد محکموں اور تنظیموں کو ناکافی جدید ٹیکنالوجی کی سہولیات اور وسائل کی کمی کی وجہ سے ڈیٹا کے تحفظ میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  حساس محکموں اور ہیکرز جاسوسوں کے دہشت گردوں کے ذریعہ خفیہ ڈیٹا یا حساس معلومات کی چوری کسی بھی ملک میں سنگین خطرہ لاحق ہوسکتی ہے۔
    لہذا ڈیجیٹل سیکیورٹی ہر محکمے کے لئے بے حد اہمیت رکھتی ہے اور یہ ہر فرد کے لئے بھی ضروری ہے۔  ڈیجیٹل خطرات کے پیش نظر صارفین کو چاہئے کہ وہ ڈیٹا کی حفاظت کے بارے میں چوکس رہیں۔  کسی بھی فرد کے لئے انٹرنیٹ کی دنیا میں پائے جانے والے مختلف قسم کے خطرات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

    انٹرنیٹ نے وسیع پیمانے پر مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن ایسے شدید خطرات ہیں جن سے بچا نہیں جاسکتا۔  فیس بک ، انسٹاگرام ، ٹویٹر ، واٹس ایپ جیسے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹوں پر کسی فرد کے ذریعہ شیئر کی گئی تصاویر ، ویڈیوز اور دیگر ذاتی معلومات سنگین اور حتی کہ جان لیوا واقعات کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ خواتین کو ہراساں کرنے کے لئے ان کی شناخت چوری کرکے مو بائل فون نمبر اور جعلی تصاویر لگانے کی شکایات بہت بڑھ چکی ہیں، ڈیجیٹل خطرات سے کیسے بچایا جائے اور ورچوئل دنیا اور حقیقی دنیا کے مابین فرق کو سمجھنا ہر فرد کا واحد فرض ہے۔  مثبت آن لائن ماحول پیدا کرنے کے لئے ہر فرد کو ڈیجیٹل شہری کے حقوق اور ذمہ داریوں کا پتہ ہونا چاہئے۔
    وقت کی بنیادی ضرورت ہے کہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کو مستقبل میں ہمارے ملک سازوں کو ڈیجیٹل خطرات سے محفوظ رکھنے کے لئے اسکول اور کالج کی سطح کے نصاب میں ڈیجیٹل سیکیورٹی آگاہی شامل کی جائے۔ اساتذہ کے لئے اس بارے میں اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کی سطح پہ ورکشاپ قائم کرنے چاہئے، اہم بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ سائبر کو اپنے شہریوں کے لئے زیادہ سے زیادہ محفوظ بنانے کے لئے پاکستان سائبر کرائم ایکٹ 2016 کو اعلی جذبے سے نافذ کیا جائے۔کچھ عرصے سے انٹر نیٹ کی دنیا میں دھوکہ دہی اور جعل سازی کے لئے جدید ترین طریقے اپنائے جانے کے بعد ضرورت محسوس کی جارہی تھی کہ پاکستان میں اس حوالے سے ٹھوس اور پائیدار قانون سازی عمل میں لائی جائے ۔

    پاکستان دنیا کے ان 42ممالک میں شامل ہے جن کے پاس سائبر کرائم کے لئے کسی نہ کسی شکل میں قانون ہمیشہ سے موجود رہا ہے ۔اگرچہ بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قانون میں سقم اور آزادی اظہار پر قدغن لگانے جیسے خدشات سامنے آئے ہیں ۔ تاہم ہمارے ملک میں آزادی اظہار کے لیے سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو تمام قواعد و ضوابط سے مبرا ہو کراستعمال کیا جاتا رہا ہے جس کے منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔
    پاکستان میں سائبر کرائم کی شکایات میں ماضی کی نسبت اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے جس سے جہاں یہ پتا چلتا ہے کہ ملک میں سائبر کرائم سے متعلق آگہی بڑھی ہے، وہیں اس حقیقت کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ معاشرے میں سائبر کرائم بڑھ رہے ہیں۔
    حکومت پاکستان کو چاہئے کہ اس حوالے سے سائبر کرائم ادارہ کو مضبوط بنایا جائے، انہیں ہر قسم کی جدید ٹیکنالوجی فراہم کی جائے جبکہ تمام سوشل میڈیا ایپس اور ویب سائٹ کو اسکا پابند رکھنا چاہئے کہ بغیر کسی تصدیق کے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات اور ڈیٹا نہ پھیلایا جائے، موبائل کمیونیکیشن اور موبائل میکرز کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ ہر صارف کی نقل و حرکت اور موبائل کے استعمال پہ نظر رکھنی چاہئے۔
    حکومت کو چاہئے کہ ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ کو بہترین اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ڈیٹا اور ریکارڈ کی مانیٹرنگ دینی چاہئے۔
    بقلم!
    حمیداللہ شاہین

  • فتھ جنریشن سائبر وار!  تحریر : زوہیب زاہد خان

    فتھ جنریشن سائبر وار! تحریر : زوہیب زاہد خان

    دور حاضر میں سوشل میڈیا نے انسانی زندگیوں میں بہت بڑا انقلاب برپا کردیا ہے۔ ہزاروں اور لاکھوں میل بیٹھے لوگوں سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب ہوچکے ہیں۔ سوشل میڈیا نے پوری دنیا کو ایک چھوٹی سی گلوبل ولیج بنادیا ہے۔ سوشل میڈیا نے لوگوں کو اظہار رائے بیان کرنے کیلئے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کردیا ہے۔ اسی تناظر میں سوشل میڈیا کو ڈیجیٹل میڈیا بھی کہا جاتا ہے۔

    ففتھ جنریشن سائبر وار!
    آجکل سماجی رابطے کی ویب سائیٹس فیس بُک اور ٹوئٹر پر بہت زیادہ پروپیگنڈے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ افراد، سیاسی جماعتوں حتی کہ دو مختلف ملک بھی ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر پروپیگنڈے میں مشغول نظر آتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہا جائے تو سوشل میڈیا پر دو مختلف نظریات اور سچ رکھنے والے عناصر کا ٹکراو ہوتا ہے۔ کہیں افواہیں پھیلائی جارہی ہوتی ہیں. کہیں ان افواہوں کی تردید کی جارہی ہوتی ہے۔ اسی قسم کی کشمکش چلتی رہتی ہے۔

    سوشل میڈیا پر اس طرح کے جھوٹے اور منفی پروپیگنڈے کو ایک موثر حکمت عملی سے کاؤنٹر کیا جاتا ہے۔ جہاں دلیل اور ثبوتوں کے ساتھ منفی پروپیگنڈے کا جواب دیا جاتا ہے. سوشل میڈیا کی اس جنگ کو ففتھ جنریشن سائبر وار کہتے ہیں۔

    بیرونی دشمن قوتیں ہمارے ملک میں عدم استحکام پھیلانے کیلئے کبھی ہمارے دین اسلام اور مقدس مذہبی ہستوں کے خلاف اپنا زہر اگلتی ہیں. کبھی ہمارے ملک پر الزام تراشی کرتی ہیں۔

    الحمدالله! پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ دشمن قوتوں کے ہر قسم کے منفی پروپیگنڈے کا بخوبی جواب دیتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹس کا مقصد ہی دین اسلام اور ملک پاکستان کا دفاع کرنا ہے۔ دین اسلام اور وطن عزیز پاکستان سے بڑھ کر ہم پاکستانیوں کی کچھ نہیں ہے۔

    بلاشبہ آج کے دور میں ہر پاکستانی مسلمان سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو اس قابل ہونا چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا کا استعمال دین اسلام اور ملک پاکستان کے دفاع کیلئے کرے۔ ہر سوشل میڈیا ایکٹی ویسٹ کو ففتھ جنریش سائبر وار کے متعلق بخوبی آگاہی ہونی چاہیئے۔

    الله پاک مجھ سمیت ہر پاکستانی کو سوشل میڈیا کو دین اسلام اور وطن پاکستان کے دفاع کیلے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرمائے. آمین! (جزاک اللہ)

  • آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آخر ہم چاہتے کیا ہیں؟ تحریر:حنا

    آج سے لگ بھگ ہزار سال پہلے( 800 سے 1100 صدی پہلے )اسلام سائنس کے گولڈن ایج سے گزر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب بغداد سائنسی علوم کے لئے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ دور دراز سے دانشور، اساتذہ اور طلبا علم کی تلاش میں بغداد کا رخ کرتے تھے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔ مسلمانوں کی پہچان ریسرچ اور ایجاد سے ہوتی تھی۔ الجبرا، الگورتھم، ذراعت، میڈیسن، نیویگیشن، اسٹرونومی، فزکس،کوزمولوجی، سائیکولوجی وغیرہ، ان سب فیلڈز کے چیمپئن مسلمان تھے،پھر یہ سب اچانک رک گیا۔ علم، فلسفہ، ایجاد اور دانش کا یہ دور اچانک مسلمانوں کے سامنے سے غائب کیسے ہوگیا؟

    نیل ڈی گراس ٹائیسن کے مطابق انکی ایک بنیادی وجہ امام غزالی کا وہ دینی تفسیر ہے جسکا خلاصہ یہ ہے کہ numbers یعنی ہندسوں اور اعداد کے ساتھ کھیلنا ( Maths )شیطان کا کام ہے۔ ریاضی کائنات کی زبان ہے اور آپ سائنس میں سے ریاضی نکال نہیں سکتے۔ امام غزالی کے اس تفسیر کے بعد گویا کسی نے اسلامی سائنس کے گھٹنے کاٹ دیئے ۔اور اس حادثے سے اسلام آج تک recover نہیں کرسکا۔
    1900 سے 2010 کے درمیان سائنس میں نوبل انعامات حاصل کرنے والوں کو دیکھتے ہیں ۔ پوری دنیا میں یہودیوں کی آبادی زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ کروڑ ہے لیکن پچھلے سو سال میں سائنس سے related نوبل انعامات میں سے 25 فیصد یہودیوں نے حاصل کئے۔

    Biochemical: 49
    Chemistry : 28
    Physics : 45
    Economics : 28
    Total : 150
    25 %
    اسکے مقابلے میں مسلمانوں کی آبادی ڈیڑھ ارب ہے اور یہ اعداد و شمار ہماری سائنسی contributions کو ری پریزنٹ کرتی ہیں:
    Biochemical : 0
    Chemistry: 1
    Physics: 1
    Economics: 1
    Total: 3
    0.5 %

    ماڈرن سائنسی دور میں ہماری کوئی ایک بھی میجر کنٹری بیوشن نہیں ہے ۔ In fact پچھلے کئی صدیوں سے ہم ہر سائنسی ایجاد کو پہلے حرام قرار دیتے ہیں، پھر کچھ سال بعد اسکے گن گانے لگ جاتے ہیں ۔ printing Press وہ واحد ایجاد کہی جا سکتی ہے جس سے یورپ میں سائنسی ایجادات کی ابتدا ہوئی، لوگ سائنسی مقالات لکھنے لگے،کتب چھپنے لگیں، میگزین، اخبارات۔۔۔ہر طرح کا علم دور دراز تک پھیلنے لگا۔ اس دوران شیخ الاسلام نے فتوہ دیا کہ پرینٹنگ پریس حرام ہے!! 230 سال تک پرینٹنگ پریس پر اسلامی سلطنت میں پابندی لگی رہی۔ مغرب سائنسی تحقیق اور ایجادات میں کہاں سے کہاں پہنچ گیا اور اسلام صرف ایک فتوی کی وجہ سے کم از کم 250 سال پیچھے رہ گیا۔

    جب جہاز ایجاد ہوا تو برصغیر میں فتوی سامنے آیا کہ جہاز میں سفر کرنا حرام ہے کیونکہ اتنی اونچائی پر جانا قدرت کو للکارنے کے مترادف ہے!!اسی طرح ریڈیو، کیمرہ، ٹی وی، وغیرہ، سب پہ فتوے کے داغ لگائے گئے۔

    آج کوئی Blood transfusion کو حرام قرار دے رہا ہے، کوئی Hair transplant کو، تو کوئی Gene editing technology کو واہیات قرار دے رہا ہے۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔
    سوال یہ ہے کہ آخر ہم چاہتے کیا ہیں….

    ۔
    <p