Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    ائیر کار کی کامیاب آزمائشی پرواز

    فلائنگ کار کی پہلی شہر سے پہلی پرواز مکمل ہونے کے بعد ڈویلپرز نقل و حمل کے ایک "نئے دور” کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی : لوواکیا میں مقیم کمپنی کلین ویژن کی اُڑنے والی گاڑی یا فلائنگ کار کے ایک آزمائشی ماڈل نے پیر کی صبح 6 بجے سلواکیا کے شہروں نیترا اور براٹیسلاوا کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے درمیان ایک گھنٹہ 35 منٹ کی پرواز کامیابی سے مکمل کی ہے۔

    اس کے موجد پروفیسر سٹیفن کلین کا دعویٰ ہے کہ یہ کار ایک ہزار کلومیٹر اور 8200 فٹ کی بلندی پر اُڑ سکتی ہے اور اس نے ہوا میں اب تک 40 گھنٹے گزارے ہیں اسے کار کی خصوصیات سے ہوائی جہاز کی خصوصیات حاصل کرنے میں صرف دو منٹ 15 سیکنڈ لگتے ہیں۔

    یہ ایک باقاعدہ پیٹرول اسٹیشن سے ایندھن پر چلتا ہے اور 160bhp بی ایم ڈبلیو انجن کے ساتھ لگایا گیا ہے ، اور یہ 118mph کی بحری رفتار کے ساتھ 8،200 فٹ پر اڑ سکتی ۔اس کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ فلائنگ کار کا نیا ، پری پروڈکشن ماڈل 186mph کی رفتار سے سفر کرنے اور صرف 600 میل سے زیادہ کی دوری کی پرواز کے قابل ہوگا۔

    فلائنگ کار کے موجد پروفیسر اسٹیفن کلین نے کہا: "یہ پرواز دوہری نقل و حمل کی گاڑیوں کے ایک نئے دور کا آغاز کرتی ہے۔ اس سے نقل و حمل کا ایک نیا زمرہ کھل جاتا ہے ۔

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    ایئر کار کے پر اس کے دروازوں کے پاس فولڈ ہوتے ہیں اور اس صورت میں یہ کسی عام گاڑی کی طرح ہوتی ہے پروفیسر کلین نے خود یہ کار رن وے پر چلائی اور پھر اسے اڑا کر لے گئے۔

    پیر کی صبح انھوں نے اس تجربے کو ’نارمل‘ اور ’بہت خوبصورت‘ قرار دیا۔ ہوا میں اس گاڑی نے 170 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر لی تھی اس میں دو لوگ بیٹھ سکتے ہیں اور کل وزن کی حد 200 کلو گرام ہے۔

    مگر ڈرون ٹیکسی کے آزمائشی ماڈل کے برعکس، یہ ایئر کار سیدھا اوپر کی طرف اڑان نہیں بھر سکتی کیونکہ اسے اڑان بھرنے کے لیے رن وے کی ضرورت ہوتی ہے۔

    سنہ 2019 میں کنسلٹنٹ کمپنی مورگن سٹینلی نے پیشگوئی کی تھی کہ سنہ 2040 تک اڑنے والی گاڑیوں کے شعبے کی مالیت 15 کھرب ڈالر تک جا سکتی ہے۔

    کلین وژن کے شریک بانی ، انتون زازاک نے مزید کہا: "ایئر کار اب صرف تصور کا ثبوت نہیں ہے… اس نے سائنس فکشن کو حقیقت میں بدل دیا ہے۔”

    "ونڈ کیچر” ونڈ ٹربائن سے سالانہ 5 گنا زیادہ بجلی بنانے والا گرڈ سسٹم

    منگل کو ایک تقریب کے دوران ہنڈائی موٹرز یورپ کے چیف ایگزیکٹیو مائیکل کول نے کہا تھا کہ یہ خیال ’ہمارے مستقبل کا حصہ ہو گا، دہائی کے آخر تک اڑن کاروں کو شہروں میں تعینات کردیا جائے گا۔

    سوسائٹی آف موٹر مینوفیکچررز اور تاجروں کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کول نے کہا:اڑنے والی گاڑیوں کو اس لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے کہ ان کی مدد سے موجودہ ٹریفک انفراسٹرکچر پر بوجھ کم کیا جا سکتا ہے "اگر آپ نے مجھ سے کچھ سال پہلے پوچھا ہوتا کہ کاریں اڑ رہی تھیں تو میں اپنی زندگی میں دیکھوں گا ، مجھے یقین نہیں آتا لیکن یہ جدید ، سمارٹ موبلٹی حل پیش کرنے کے ہمارے مستقبل کے حل کا حصہ ہے-

    ایئر کار کو بنانے والی کمپنی کلین ویژن نے کہا ہے کہ اس آزمائشی ماڈل کو بنانے میں دو سال لگے اور اس پر ’20 لاکھ یورو سے کم’ خرچ آیا ہے۔

    کلین ویژن کے معاون اور سرمایہ کار اینٹن ریجک کہتے ہیں کہ اگر یہ کمپنی عالمی فضائی سفر کا تھوڑا سا بھی حصہ لے لیتی ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہو گی صرف امریکہ میں ایئر کرافٹ کے قریب 40 ہزار آرڈرز ہیں اگر ہم ان میں پانچ فیصد بھی مکمل کر لیں اور ایئر کرافٹ کو فلائنگ کار میں بدل دیں تو ہمارے ہاتھ بڑی مارکیٹ لگ جائے گی۔

    یونیورسٹی آف دی ویسٹ آف انگلینڈ میں ایوی ایشن کے ماہر ڈاکٹر سٹیفن رائٹ کہتے ہیں کہ ایئر کار ’بوگاٹی ویرن اور سیزنا 172 سے مل کر بنی ہے وہ کہتے ہیں کہ انھیں نہیں لگتا کہ ہوائی جہاز کے مقابلے ایسی کار سے ایندھن پر زیادہ خرچ آئے گا۔

    اڑن طشتریوں اور خلائی مخلوق کے بارے میں خفیہ امریکی رپورٹ کے کچھ حصے منظر عام پر…

    ڈاکٹر رائٹ کہتے ہیں کہ ‘مجھے ماننا پڑے گا کہ یہ بہت پُرکشش ہے۔ لیکن اجازت ناموں کے حوالے سے میرے سینکڑوں سوالات ہیں کوئی بھی ہوائی جہاز بنا سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسے ہوائی جہاز کی ضرورت ہے جو مسافروں کے ساتھ لاکھوں گھنٹوں تک اڑتا رہے اور جس میں حادثہ ہونے کے امکانات بہت کم ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے اس کاغذ کے ٹکڑے کا انتظار ہے جس پر لکھا ہو کہ اسے اڑانا اور بیچنا محفوظ ہے۔

  • واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    واٹس ایپ صارفین کی دیرینہ خواہش تکمیل کے مراحل میں داخل

    فیس بک کی ایپ واٹس ایپ صارفین جلد ہی واٹس ایپ کو مختلف ڈیوائسز پر استعمال کرسکیں گے۔

    باغی ٹی وی : واٹس ایپ کو آپ ایک وقت میں ایک اکاؤنٹ کو ایک ہی ڈیوائس پر چلا سکتے ہیں، اور کمپیوٹر پر چلانے کے لیے آپ کے موبائل کا انٹرنیٹ سے منسلک ہونا بھی ضروری ہے۔ لیکن اب واٹس ایپ گوگل پلے بیٹا پروگرام کے ذریعے دی گئی نئی اپ ڈیٹ 2.21.14.1 میں اپنے استعمال کنندگان کے لیے نہایت اہم فیچر کی آزمائش کر رہا ہے۔

    اس نئی اپ ڈیٹ کے بیٹا(آزمائشی) ورژن میں واٹس ایپ کے مختلف ڈیوائسز پر کام کرنے کا تجربہ کیا جا رہا ہے۔ اور اس نئے فیچر کی اپ ڈیٹ جلد ہی صارفین کے لیے جاری کردی جائے گی جس کے بعد صارفین واٹس ایپ ویب، واٹس ایپ ڈیسک ٹاپ اور پورٹل کو موبائل فون کے انٹرنیٹ سے منسلک ہوئے بنا استعمال کر سکیں گے۔


    ٹیکنالوجی ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق واٹس ایپ لنکڈ موبائل ڈیوائسز کے لیے ’ لاگ آؤٹ‘ کے آپشن پر کام کر رہا ہے اور یہ فیچر بھی مستقبل میں دستیاب ہوگا۔ آج بھی واٹس ایپ نے اس سیکشن کو دوبارہ اپ ڈیٹ کیا ہے جو کہ واٹس ایپ اکاؤنٹس میں ملٹی ڈیواسز فعال ہونے کے بعد دستیاب ہوگا۔ جب کہ ملٹی ڈیوائسز استعمال کرتے ہوئے آپ کی کالز اور پیغامات ’ اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹیڈ‘ ہوں گے۔

    ملٹی ڈیوائس کے بارے میں تازہ ترین خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ملٹی ڈیوائس کے پہلے ورژن کو استعمال کرتے ہوئے دوسرے موبائل کو کنیکٹ کرنا ممکن نہیں ہوگا اور مندرجہ بالااسکرین شاٹ میں واٹس ایپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملٹی ڈیوائس بیٹا کو استعمال کرتے ہوئے آپ صرف ایک فون ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

    ویب سائٹ ویب بیٹا کے مطابق فیس بک کے بانی مارک زکر برگ بھی اس بات کی تصدیق کرچکے ہیں کہ ملٹی ڈیوائس فیچر اگلے دو ماہ کے اندر اینڈروئیڈ اور آئی او ایس کے استعمال کنندگان کے لیے دستیاب ہوگا۔

  • کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    کراچی کے نوجوان نے موٹر وے پر ہنگامی‌صورتحال کیلئے خاص موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی

    کراچی کے شعیب احمد نے موٹر وے کے لیے موبائل ایپلیکیشن متعارف کروا دی-

    باغی ٹی وی : ایپ سے مسافر کسی ہنگامی حالت میں اپنی لوکیشن اسپتال یا سکیورٹی اداروں تک پہنچا سکیں گے شعیب احمد نے جامعہ کراچی سے کمپیوٹر سائنس میں ڈگری حاصل کی اور آج کل دیگر ساتھیوں کے ساتھ ایک خاص موبائل ایپلی کیشن تیار کرنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات فراہم کر رہے ہیں۔

    شعیب احمد اور ان کی ٹیم نے پاکستان میں موٹر وے کی مناسبت سے ایک خاص موبائل ایپلی کیشن بنائی ہے جو ناصرف ٹول پلازہ کے جھنجٹ سے نجات دلا سکتی ہے بلکہ کسی بھی ہنگامی حالت میں مسافروں کی لوکیشن متعلقہ اداروں تک پہنچا سکتی ہے۔

    نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے شعیب احمد نے بتایا کہ اس ایپ میں صرف ایک بٹن ہوگا جو کسی ایمر جنسی پر کلک کرنے پر فوراً نوٹیفیکیشن میری یا صارف کی لوکیشن کے ساتھ اتھارٹیز کو چلی جائے گی اتھارٹی سے آٹومیٹکلی قریبی پولیس موبائل گاڑیوں گو نزدیکی ایمبولینسز کو چلی جائے گی تو ایمرجنسی کے مقام کے نزدیک ترین اہلکار جا سکے گے-

    شعیب کے مطابق اسمارٹ موٹروے ایپ کے تحت آپ کو اپنے راستے میں ادا کرنے والے ٹول ٹیکس کا بھی علم ہو سکے گا اور لمبی لمبی قطاروں سے بھی چھٹکارا ممکن ہو جائے گا۔

    شعیب احمد اور ان کی ٹیم اس وقت امریکا میں موٹر وے کے لیے کام کر رہی ہے اور پاکستان میں اپنی اس ایپ کو سرکاری سطح پر متعارف کروانے اور عام شہریوں کو فراہم کرنے کی خواہاں ہے-

  • یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    یہ سائنسدان مینڈکوں کی آواز کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں

    سڈنی: آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی ہیں جو مینڈکوں سے باتیں کرنے کےلیے انہی کی طرح ’’ٹر ٹر‘‘ کرتے ہیں ۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے "رائٹرز” کے مطابق آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیوکاسل میں ایک 70 سالہ سینئر سائنسدان پروفیسر مائیکل ماہونی نے مینڈکوں کی طرح ٹرانےمیں مہارت حاصل کی ہے وہ مینڈکوں کی آوازوں کی اتنی مہارت سے نقل کرتے ہیں کہ خود مینڈک بھی دھوکا کھا جاتے ہیں اور ٹرّا کر انہیں جواب دینے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور جب مینڈک ٹرّا کر انہیں جواب دیتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔

    پروفیسرمائیکل ماہونی نے”رائٹرز” کو بتایا کہ جب وہ مینڈکوں کو پکارتے ہیں اور انہیں جواب ملتا ہے تو انہیں خوشی ہوتی ہے لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں یہ مینڈک خاموش نہ ہوجائیں-

    5 سال تک بارودی سرنگیں تلاش کرنے والا چوہا ملازمت سے ریٹائر

    ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں مینڈکوں کی 240 انواع پائی جاتی ہیں مگر ان میں سے تقریباً 30 فیصد کی بقاء کو ماحولیاتی تبدیلیوں، بیماریوں، قدرتی پناہ گاہوں کی تباہی،سائٹرائڈ فنگس اور پانی کی بھیانک آلودگی سے شدید خطرہ لاحق ہے ماہونی نے کہا کہ عالمی سطح پر تمام خطوں میں ورٹیبریٹس میں سب سے زیادہ خطرہ مینڈکوں کو ہے۔

    70 سالہ پروفیسر ماہونی اپنے طویل کیریئر میں مینڈکوں کی 15 انواع بھی دریافت کرچکے ہیں۔ جبکہ انہوں نے مینڈکوں کی کچھ انواع کو ناپید ہوتے بھی دیکھا ہے-

    سائنسدانوں کا زمین پر سمندر سے بھی بڑی جھیل دریافت کرنے کا انکشاف

    ماہونی نے کہا ، "شاید میرے کیریئر کا سب سے افسوسناک حصہ یہ ہے کہ ایک نوجوان کی حیثیت سے ، میں نے ایک مینڈک کو دریافت کیا اور اس کے دو سال کے اندر ہی پتہ چلا کہ مینڈک ناپید ہو گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ "میں نے اپنے کیریئر کے شروع میں ہی اس سے آگاہی حاصل کرلی کہ ہمارے کچھ مینڈک کتنے کمزور ہیں۔ ہمیں اپنے رہائش گاہوں کو دیکھ کر یہ پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا غلط ہے۔”

    انہوں نے کہا ، "ہم نے ان کے تباہ کن نقصان کے مسائل کا سامنا کرتے ہوئے جو کچھ کیا وہ آسٹریلیائی مینڈکوں کے لئے پہلا جینوم بینک قائم کرنا ہے۔”

    ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر (ڈبلیو ڈبلیو ایف) کے ساتھ کام کرتے ہوئے انہوں نے دریافت کیا کہ 2019 اور 2020 میں آسٹریلیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ سے تقریباً تین ارب جانور ہلاک ہوئے تھے جن میں کم از کم پانچ کروڑ مینڈک بھی شامل تھے۔

    50 لاکھ سال کا موسمیاتی احوال 80 میٹر طویل پہاڑی پر محفوظ

    اس عمر رسیدگی میں بھی ماہونی اپنے شاگردوں کو مینڈکوں سے بات کرنے کے طریقے اور انہیں آواز لگانا سکھاتے ہیں۔ البتہ ماہونی یا ان کے شاگردوں میں سے کوئی بھی مینڈکوں کی زبان سمجھنے کا دعویدار نہیں۔

    ماہونی کے تحفظ کے اس جذبے نے ان کے طلباء کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ ان میں سے ایک ، سائمن کلو نے ، 2016 میں ماہونی کے اعزاز میں ایک نئے دریافت مینڈک کا نام "ماہونی ٹاڈلیٹ” رکھا تھا۔

  • فیس بُک کا اپنے "شی مینز بزنس” کو پاکستان میں توسیع دینے کا فیصلہ

    فیس بُک کا اپنے "شی مینز بزنس” کو پاکستان میں توسیع دینے کا فیصلہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘فیس بک’ خواتین کو بااختیار بنانے پر مبنی اقدام ‘شی مینز بزنس’ کو پاکستان میں بھی بڑھا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ‘شی مینز بزنس’ اقدام دنیا بھر کے 21 ممالک میں کام کر رہا ہے اور فیس بک اور اس کے شراکت داروں نے دنیا بھر میں 10 لاکھ سے زائد خواتین کو ڈیجیٹل مہارت کی تربیت دی ہے۔

    اسٹیٹ بینک اور امریکی ایڈ پروگرام کے نئے جزو ‘مالیاتی تعلیم کے ذریعے کاروباری لچک (بی آر ایف ای)’ کے ساتھ شراکت میں کام کیا گیا ہے، اس کا مقصد مالی انتظام کی مہارت کو بہتر بنانا ہے تاکہ خواتین کی زیر قیادت ملک میں چھوٹے اور درمیانے کاروبار (ایس ایم ایز) میں ابھرنے کی قوت اور استحکام کو بڑھایا جاسکے۔

    فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    اپنے ویڈیو پیغام میں نائب گورنر اسٹیٹ بینک سیما کامل نے پاکستان میں خواتین کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے فیس بک اور دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو سراہا۔

    انہوں نے کہا کہ خواتین کی زیرقیادت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں میں مہارت میں اضافہ اور مالی اعانت تک رسائی کے ذریعے استحکام اور ابھرنے کی قوت حاصل کرنا بہت ضروری ہے بی آر ایف ای جیسے اقدامات پاکستانی خواتین کو قومی تعمیر کے عمل میں اپنی شراکت کو بڑھانے کے قابل اور مستحکم بنائیں گے۔

    شی مینز بزنس کی عالمی سربراہ بیتھ این لِم کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان اور دنیا بھر میں کہیں بھی خواتین کی زیر قیادت کاروبار کے استحکام کے لیے مالیاتی تعلیم بہت ضروری ہےشی مینز بزنس، ایشیا بحرالکاہل پیسفک خطے میں خواتین کی معاشی ترقی میں مدد کے لیے فیس بک کے عزم کی عکاسی ہے۔

    امریکی صدر نے چینی ایپلیکیشنز پرعائد پابندی اٹھا لی

    امریکی ناظم الامور لیسیلی وگویری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ امریکی حکومت، پاکستان اور پوری دنیا میں خواتین کی معاشی بااختیاری کو ترقی کا اہم جزو سمجھتی ہے اور اس پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ خواتین کو بااختیار بنانے میں سرمایہ کاری کرنے سے متحرک معیشتوں کو غربت کے خاتمے اور تعمیر میں مدد مل سکتی ہے۔

    اس تقریب میں مہمانوں نے چیلنجز اور مواقع پر خصوصی توجہ کے ساتھ ‘شی مینز بزنس’ کے لیے خواتین کی مالیاتی انتظام میں مہارت کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا اور موجودہ رکاوٹوں کو دور کرتے ہوئے خواتین کی مالی شمولیت کے فروغ کے لیے خیالات کا تبادلہ کیا۔

    درجنوں پاکستانی فیس بک اور انسٹاگرام اکاؤنٹس مشکوک سرگرمیوں کے الزام میں بند کر…

  • دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین     تحریر: محمد نعیم شہزاد

    دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین تحریر: محمد نعیم شہزاد

    دور حاضر میں سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی بندش اور صارفین
    تحریر: محمد نعیم شہزاد

    اکیسویں صدی کو یقینی طور پر سوشل میڈیا کے استعمال کے لحاظ سے انقلاب کی صدی کے طور پر تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ زندگی کے تمام شعبوں سے وابستہ افراد اپنی زندگی اور خیالات کے اظہار کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں۔ جدید دور نے آزادی اظہار کو جنم دیا ہے لیکن بہت ساری سائٹس اور ایپس کچھ لابیزکے مکروہ ایجنڈے پر کام کر رہی ہیں اور صارفین پر مختلف مبینہ پابندیاں عائد کرتی ہیں اور انہیں اپنی آزادانہ مرضی کے مطابق کام کرنے نہیں دیتی ہیں۔

    معطل اور محدود کردہ صارفین کو اپیل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے لیکن جب وہ اپیل کرتے ہیں تو اس کا مناسب انداز میں جواب ​​نہیں دیا جاتا ہے۔ متعدد بار درخواست کرنے کے بعد بھی صارف کو حکام کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملتا۔

    جب میں اکاؤنٹ کی بندش کے لیے اپیل کرتا ہوں تو معاونتی ٹیم جواب نہیں دیتی ہے اور مجھے بے بس چھوڑ دیتی ہے۔ ایک صارف نے کئی ماہ کے تجربات بیان کرتے ہوئے بتایا۔ اس طرح کے سلوک کی مذمت کی جاتی ہے اور آج کے دور میں یہ سلوک صارفین کے لیے اذیت ناک ہے۔

    یقیناً یہ انداز آزادی اظہار رائے کے منافی ہے لیکن صارفین ان تنگ ذہنوں کے ہاتھوں بے بس ہیں۔

    مجھے ذاتی طور پر ایک ایسی سوشل سائٹ کی طرف سے اس طرح کی پابندیوں کا سامنا ہے جس نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر ابھارا۔ میں اس سوشل سائٹ کو یہاں نامزد کرنا بہتر نہیں سمجھتا ہوں لیکن میں یہ خواہش ضرور کروں گا کہ اس پیغام کو اس سائٹ کے مالکان کی نظر میں قبولیت ملے اور کسی سازگار اقدام کی امید بھی کرتا ہوں ۔

    دوم ، میں یہ ذکر کروں گا کہ قواعد و ضوابط کو کسی بھی قسم کی جانبداری اور حمایت کے بغیر پالیسی کے مطابق لاگو کیا جانا چاہئے۔ امید ہے کہ یہ الفاظ سائٹ کے مالکان پر اپنا اثر دکھا سکیں گے اور وہ صارفین کی تقریر کی آزادی کا احترام کریں گے اور انہیں اپنے میڈیا سے بیزار نہیں کریں گے۔

    ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے میں صارفین کی مرضی کے خلاف سوشل سائٹوں کی اجارہ داری ختم کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔ صارفین پر صرف ان سائٹس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی پر پابندی لگانی چاہئے اور میل یا الگ نوٹیفیکیشن کے توسط سے اس کی خلاف ورزی کی وضاحت کرنی چاہئے۔ معطلی کے معاملے پر صارف اور سوشل سائٹ کے مابین کسی بھی چیز کو پوشیدہ یا نجی نہیں رکھا جانا چاہئے اور کسی بھی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے صارف کو واضح طور پر مطلع کیا جانا چاہئے۔ واضح اور قابل اعتراض خلاف ورزی کی اطلاع کے بغیر کسی صارف کا اکاؤنٹ معطل کرنا ایک جرم قرار دیا جانا چاہیے۔

  • خیبرپختونخوا حکومت نے ٹیکنالوجی کے لئے 14 بلین روپے مختص کئے ہیں   عاطف خان

    خیبرپختونخوا حکومت نے ٹیکنالوجی کے لئے 14 بلین روپے مختص کئے ہیں عاطف خان

    خیبر پختونخواہ (کے پی) کے وزیر برائے سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی (ایس ٹی اینڈ آئی ٹی) اور فوڈ عاطف خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت نے شہریوں کو خدمات کی فراہمی میں بہتری کے لئے ڈیجیٹل معیشت ، شفافیت اور فروغ کے مقصد کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) میں 14 ارب روپے کے میگا پروجیکٹس کو شامل کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : وزیر آئی ٹی نے ان خیالات کا اظہار بدھ کے روز اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت معاشی ترقی ، معاشرتی کو تیز کرنے اور ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کی مہارتوں سے نوجوانوں سے آشنا کرنے کے لئے ڈیجیٹل پاکستان کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لئے گہری دلچسپی لے رہی ہے۔

    منصوبوں کی تفصیلات دیتے ہوئے ، عاطف خان نے بتایا کہ 2.70 ارب روپے کی لاگت سے شہری سہولت مراکز (سی ایف سی) قائم کیے جائیں گے ، جن میں نئے ضم شدہ اضلاع سمیت تمام اضلاع میں عوام کو ڈومیسائل ، پیدائش ، جیسی بنیادی سہولیات تک آسان رسائی حاصل کرنے میں آسانی ہوگی۔ موت ، شادی اور طلاق نامہ اسلحہ اور ڈرائیونگ لائسنس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کے اندراج بھی ہوں گے-


    عاطف خان نے بتایا کہ مردان میں 742 ملین روپے کی لاگت سے ڈیجیٹل اکانومی اور اسکل سنٹر کے قیام کو بھی نوجوانوں کو مہارت اور جدید ترین مہارت سے آراستہ کرنے کے لئے میگا پروجیکٹس میں شامل کیا گیا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مردان میں 2 ہزار کنال پر پھیلے اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (ایس ٹی زیڈز) کو خصوصی ٹیکنالوجی کی صنعتوں کے قیام کے لئے بھی مختص کیا گیا ہے۔

    مزید برآں ، ڈیجیٹل سٹی ہری پور 1 ارب 30 کروڑ روپے کی لاگت سے جلد قائم ہوجائے گی جبکہ اس منصوبے سے ڈیجیٹل معیشت کو فروغ ملے گا اور اس علاقے میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔

    پشاور اور سوات میں گندھارا ڈیجیٹل کمپلیکس کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ان منصوبوں کے لئے 4.06 ارب روپے رکھے گئے ہیں جس کے تحت آئی ٹی پارکس ، بزنس پروسیس آؤٹ سورسنگ (بی پی او) ، اور انکیوبیشن مراکز جلد عمل میں آئیں گے۔

    عاطف خان نے کہا کہ تمام مرجع اضلاع میں ڈیجیٹل ہنر اور نوجوانوں کی صلاحیت سازی کے لئے ایک ارب روپے بھی مختص کیے گئے ہیں ، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے مربوط علاقوں میں ایس ٹی آئی کو فروغ دینے کے لئے اے ڈی پی اسکیم بھی شروع کی ہے جس کی کل لاگت 300 ملین روپے ہے۔

    مزید یہ کہ انہوں نے کہا کہ انسانی وسائل کے لئے ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی میں صلاحیت پیدا کرنے اور بائیوٹیکنالوجی ، نینو ٹیکنالوجی ، مصنوعی ذہانت (اے آئی) ، بگ ڈیٹا اور ڈیٹا مائننگ ، روبوٹکس ، اور میٹریل سائنس میں تحقیق کے لئے ماحول کو قابل بنانے کے لئے 450 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ، "اس کے علاوہ ، ایس ایم ایز کو تکنیکی مدد کے لئے صنعتی مسابقت اور جدت طرازی میں اضافہ ، ٹیکنالوجی انکیوبیشن مراکز کا قیام ، ٹیکنالوجی کے ضوابط ، اصل سند ، اور لیبر کی HR ترقی ترقیاتی منصوبے ہیں جن کو اس سال 450 ملین روپے کی لاگت میں شامل کیا گیا ہے۔”

  • فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    فیس بک کے بانی کا واٹس ایپ میں شاپنگ کو لانے کا اعلان

    فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے 4 نئے فیچر کا اعلان کیا ہے جن میں واٹس ایپ اور مارکیٹ پلیس میں شاپس، انسٹاگرام ویژول سرچ اور شاپ ایڈز شامل ہیں جس سے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کے ذریعے شاپنگ کرنا آسان ہوجائے گا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ میں شاپس سے صارفین کو کاروباری اداروں سے کچھ خریدنے سے قبل بات چیت کا موقع ملے گا مارکیٹ پلیس میں شاپس کا فیچر فی الحال صرف امریکا میں دستیاب ہوگا۔

    مارک زکربرگ نے کہا کہ مارکیٹ پلیس میں یہ فیچر لوگوں کو فیس بک پر آن لائن دکان تشکیل دینے میں مدد فراہم کرے گا اور ایک بار شاپ سیٹنگ ان ایبل کرنے پر اسے فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر استعمال کیا جاسکے گا۔

    فیس بک کے بانی نے کہا کہ انسٹاگرام ویژول سرچ سے صارفین کو تصاویر پر مبنی مصنوعات کو تلاش کرنے میں مدد ملے سکے گی جبکہ شاپ ایڈز شاپنگ تجربات کو پرسنلائز بنائے گا۔

    اس کے برعکس واٹس ایپ میں شاپس کا فیچر متعدد ممالک میں پیش کیا جارہا ہے جبکہ شاپ ایڈز امریکا، یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں متعارف کرایا جائے گا۔

    واٹس ایپ کو ہیکرز کی رسائی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے

    انسٹاگرام اور فیس بک مارکیٹ پلیس میں تو پہلے ہی ایپس میں شاپس کا آپشن نمایاں ہے مگر واٹس ایپ شاپس ان میں نمایاں فیچر ہے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل رواں ہفتے فیس بک کی جانب سے کلب ہاؤس کی نقل پر مبنی لائیو آڈیو فیچر کو بھی سوشل میڈیا سائٹ کا حصہ بنایا گیا تھا مارک زکربرگ نے ان نئے ای کامرس فیچرز کا اعلان لائیو آڈیو روم میں بات چیت کے دوران ہی کیا۔

    واٹس ایپ انتظامیہ نے 100 فلسطینی صحافیوں کے اکاؤنٹس بلاک کر دیئے

    ان کا کہنا تھا کہ ہر ماہ ایک ارب سے زیادہ افراد مارکیٹ پلیس کو استعمال کرتے ہیں تو ہم کارباری اداروں کے لیے وہاں پر اپنی دکانوں کی تشکیل کے عمل کو زیادہ آسان بنارہے ہیں تاکہ زیادہ افراد کو رسائی مل سکے۔

    رواں ماہ کے شروع میں فیس بک کی ایف 8 کانفرنس کے دوران کمپنی نے واٹس ایپ فار بزنس میں اپ ڈیٹس کے بارے میں بتایا تھا اس سے قبل ایک بزنس اکاؤنٹ کو تشکیل دینے میں کئی ہفتے درکار ہوتے تھے مگر اب یہ چند منٹوں میں ممکن ہوسکے گا۔

    واٹس ایپ شاپ کا فیچر آنے والے ہفتوں میں دستیاب ہو سکے گا-

    واٹس ایپ کا جلد ہی زبردست فیچر متعارف کرانے کا اعلان

  • اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    اسٹرابیری مون کیا ہے ؟ جون2021 کا سٹرابیری مون سال کا آخری سُپرمون ہے؟

    ناسا کے مطابق ہمارے سیارے کا قدرتی مصنوعی سیارہ – جسے چاند کے نام سے جانا جاتا ہے – سورج کے برخلاف ظاہر ہوگا اور 24 جون 2021 کو 1:40 بجے مکمل طور پر روشن ہوگا ، یہ پورا چاند دو وجوہات کی بناء پر خاص ہے: یہ ایک اسٹرابیری مون ہے اور سال کا آخری سپرمون ہے!

    باغی ٹی وی : “بلیو مون” اور “سپرمون” کی اصطلاحات آج نسبتا عام ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی اسٹرابیری مون ، تھنڈر مون ، یا بیور مون کے بارے میں سنا ہے؟-

    ہر سال جون میں ہونے والا پورا چاند اسٹرابیری مون کو اپنے رنگ کی وجہ سے نہیں کہا جاتا ہے ، بلکہ اس نام کی کنونشن کی وجہ سے ابتدائی مقامی امریکیوں نے تشکیل دیا ہے۔ گریگوریئن اور جولیئن تقویم ان قبائل کو معلوم نہیں تھے ، لہذا ، اس کے بجائے ، وہ چاند کے مراحل کی گنتی کرکے وقت گزرنے کو چارٹ کرتے تھے۔


    چونکہ نام اس موسم کے دوران پیش آنے والے واقعات پر مبنی تھے ، لہذا یہ اصطلاحات قبائل کے مابین ہم آہنگ نہیں رہتیں۔ مثال کے طور پر جون کے چاند کو اسٹرابیری مون کہا جاتا ہے کیونکہ وہ اسٹرابیری چننے کے موسم کا آغاز تھا ، اس لئے نہیں کہ چاند گلابی ہے۔ چاند کے لئے گلابی یا سرخ رنگت کا ہونا ممکن ہے ، لیکن یہ ایک بے ترتیب واقعہ ہے جس کی وجہ سے گلابی رنگ کے بادل اس کو ڈھکتے ہیں یا طوفان ، آلودگی ، یا آتش فشاں پھٹنے سے دھول یا دھوئیں کی وجہ سے آسمان میں چھلک پڑتی ہے۔ .

    سال 2021 کا پہلا چاند گرہن 26 مئی کو لگے گا ،گرہن کیا ہوتا ہے اس کی کتنی اقسام…

    جولائی کے چاند کو تھنڈر مون کہا جاتا ہے کیونکہ سال کے اس وقت کچھ علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش ہوئی تھی۔ لیکن اس کو فل بک مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے کیونکہ جولائی ہے جب ہرن کے پیسے پوری طرح پختہ ہوجاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم ایک اصطلاح کو دوسرے کی ترجیح میں استعمال کرتے ہیں یہ ہے کہ نوآبادیاتی امریکیوں نے اپنے کیلنڈر کے لئے مخصوص نام اپنایا ، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ کچھ نام محفوظ ہیں جبکہ دوسرے تاریخ سے محروم ہیں۔

    مارچ میں پورا چاند کرم مون کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ ایسا ہی ہوتا ہے جب کیچڑ کی ذاتیں نمودار ہونے لگتی ہیں اور پرندے کھانا لینا شروع کردیتے ہیں۔ اسے سیپ مون ، کرو مون اور لینٹین مون کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ آخری نام اس حقیقت سے متاثر ہے کہ مارچ کے پورے چاند کو ایسٹر کی تاریخ طے کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

    “سپرمون” کی اصطلاح چاند کو بیان کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے جب وہ زمین کے اتنا قریب ہوتا ہے کہ وہ معمول سے بڑا اور روشن دکھائی دیتا ہے۔ مثال کے طور پر ، اپریل 2021 میں سپرمون اوسط سے 6٪ بڑا تھا۔ یہ وہ اصطلاح نہیں ہے جو ماہرین فلکیات کے ذریعہ استعمال کی جاتی ہے ، جو اس طرح کے چاند کو “پیریجی فل مون” کہتے ہیں۔ لفظ “پیریجی” سے مراد اس وقت ہوتا ہے جب چاند کا بیضوی مدار اسے زمین کے قریب لاتا ہے۔ جب یہ زمین سے بہت دور ہوتا ہے ، تو اسے “آپجی مون” یا “مائکرو مون” کہا جاتا ہے۔

    زمین کے گرد ہر 27 دن کے مدار میں ، چاند زمین سے تقریبا 2 لاکھ 26 ہزار میل دور ، اور اس کی سب سے دوری ، یا اپوجی ، زمین سے 2 لاکھ 51 ہزار میل دور پر پہنچ جاتا ہے۔

    اگر آپ سپر اسٹرابیری مون کے وقت دن کی روشنی میں ہیں تو ، اس کے طلوع آفتاب کے دوران ایک بہتر نظارہ تلاش کریں ، جو مقامی وقت کے مطابق ، غروب آفتاب کے 20 منٹ بعد ہوتا ہے۔

    سپر اسٹرابیری مون 2021 کے لئے چار سپر مونز میں آخری ہوگا۔ سوپرمونز سال میں صرف تین سے چار بار ہوتا ہے ، اور ہمیشہ لگاتار ظاہر ہوتا ہے۔ آخری تین سپرمونز 26 مئی ، 27 اپریل ، اور 28 مارچ کو واقع ہوئی تھیں۔

    ناسا کے مطابق مغرب میں غروب آفتاب سے لطف اندوز ہوں ، اور اگر آپ مشرق کی طرف دیکھیں تو آپ کو ہمارے سپر اسٹرابیری مون کا ٹھیک ٹھیک گلابی رنگ نظر آئے گا!

  • اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی کی جیل میں مبینہ خودکشی

    اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی کی جیل میں مبینہ خودکشی

    اینٹی وائرس سافٹ ویئر کے بانی جان میکافی نے اسپین کی جیل میں مبینہ خودکشی کر کے موت کو گلے لگا لیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپین کی جیل میں قید جان میکافی اپنے سیل میں مردہ پائے گئے غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسپین کے شہر بارسلونا کی عدالت نے جان میکافی کو امریکا کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔

    علاقائی کاتالان حکومت کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی اہلکاروں نے اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی ، لیکن جیل کی میڈیکل ٹیم نے آخر کار اس کی موت کی تصدیق کردی۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ "عدالتی وفد موت کی وجوہات کی تحقیقات کرنے پہنچا ہے ،” انہوں نے مزید کہا کہ "ہر چیز خودکشی سے موت کی نشاندہی کرتی ہے۔”

    غیر ملکی خبر ایجنسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ جان میکافی کو امریکا میں ٹیکس چھپانے کے الزام میں اکتوبر 2020ء میں اسپین میں گرفتار کیا گیا تھا۔

    جان میکافی پر 2014ء سے 2018ء تک ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کرانے کا الزام تھا، ان پر اثاثے چھپانے کا بھی الزام تھا، انہوں نے اپنی آمدنی دوسروں کے نام پر اکاؤنٹس میں جمع کی تھی-