Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان اور متبادل توانائی کے ذرائع!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پرانے زمانے میں پاکستان ٹپلیوژن پر موسم کی خبروں میں اور کچھ ہوتا نہ ہوتا یہ خبر ضرور ہوتی کہ ” پورے ملک میں اس وقت موسم خشک ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں ہلکی ہلکی بوندا باندی کے آثار ہیں”. خدا خبر مالاکنڈ کی عوام ہر روز یہ خبر سن کر کیا سوچتی ہو گی؟

    مگر آج پورے ملک میں بوندا باندی نہیں بلکہ زارو قطار بارشوں کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ اس وقت دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے گزر رہی ہے۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ان تبدیلیوں سے دنیا کی معیشت پر کس قدر منفی اٹرات مرتب ہو رہے ہیں۔ کہیں سیلاب آ رہے ہیں تو کہیں طوفان، کہیں قحط سالی ہے تو کہیں پانی اور خوراک کی قلت۔

    دنیا میں اس وقت ماحولیاتی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں۔ جرمنی میں حالیہ الیکشن کے نتیجے میں حکومت بنانے والی پارٹیوں میں ماحول دوست گرین پارٹی کی کئی سیٹیں ہیں۔ اسی طرح دوسرے یورپی ممالک جیسا کہ آسٹریا، بیلجیئم ، فن لینڈ، آئرلینڈ اور سویڈن میں بھی ایسی ماحول دوست پارٹیاں اُنکی حکومتوں کا حصہ ہیں۔

    پاکستان میں البتہ اس طرف یا اس منشور پر عوامی سطح پر کوئی خاطر خواہ تحریک نظر نہیں آتی حالانکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں پاکستان آٹھویں نمبر پر ہے۔

    ماحولیاتی تحریکیں یا گرین مومنٹس کی ابتدا ترقی یافتہ مملک میں کافی عرصے سے زور پکڑ رہی ہیں۔ اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت تب دیکھنےمیں آئی جب 2018 میں تن تنہا سویڈن کی ایک پندرہ سالہ لڑکی گریٹا تُھنبرگ جمعہ کے روز سکول جانے کی بجائے سویڈن میں پارلیمنٹ کے باہر بیٹھ جاتیں۔ اُنکے دھرنے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے فیصلہ سازوں اور پالیسی سازوں کو باور کرانا تھا اور ان سے بچاؤ کے لیے ہر ممکنہ اقدام کرنے پر زور دینا تھا۔

    اُنکی کوشش کامیاب رہی اور جلد ہی اُنہیں مقامی اور بین القوامی فورمز پر ان تبدیلیوں کے حوالے سے بات کرنے کے لئے بلایا جانے لگا۔ اسی تحریک کے باعث 2019 میں یورپ میں کئی یورپی گرین پارٹیوں نے اپنے اپنے ملکوں اور یورپین یونین کے انتخابات میں خاطر خواہ کامیابی حاصل کی۔

    آج دنیا یہ سمجھ رہی ہے کہ کاربن ایمیشن کو کم کر کے ہی زمین کو مستقبل کے انسانوں کے لئے بچایا جا سکتا ہے۔ گو اس حوالے سے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں مگر جس تیزی سے ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، اُنکے مقابلے میں یہ اقدامات ناکافی ہیں۔

    2016 کے پیرس معاہدے میں شریک 196 ممالک نے اس عزم کا ایادہ کیا کہ زمین پر 2050 تک کاربن ایمیشن کو صفر تک لایا جائے گا۔ یاد رہے کہ آج دنیا کی کل کاربن ایمیشن 35 ارب ٹن سالانہ کے قریب ہے۔

    پیرس معاہدے میں پاکستان بھی شامل تھا۔ پچھلے دورِ حکومت میں ماحولیات کے حوالے سے اقدامات اُٹھائے گئے جن میں شجرکاری کا منصوبہ اہم تھا۔ مگر اسکے علاوہ بھی پاکستان کو توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے متبادل توانائی کے ذرائع کا حصول یقینی بنانا ضروری ہے۔

    جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کو قدرت نے بھرپور نوازا ہے۔ یہاں تقریبآ سارا سال کی سورج کی روشنی پڑتی ہے۔اسکے علاوہ سمندر سے آنے والی ہوائیں بھی ملک کے بیشتر جنوبی علاقوں خاص کر سندھ اور بلوچستان میں چلتی ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان توانائی کے ماحول دوست متبادل جن میں شمسی توانائی اور ہوا شامل ہے سے نہ صرف بھرپور بجلی بنا سکتا ہے بلکہ اسے درآمد کر کے کثیر زرِ مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔

    2020 میں شمسی توانائی کے حوالے سے ورلڈ بینک کے تعاون سے تیار کردہ رپورٹ یہ بتاتی ہے اگر پاکستان اپنے کل رقبے پر سولر پارکس بنائے تو اس سے اسکی قبے کا
    محض 0.07 فیصد کی تمام ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
    یہ رقبہ کتنا بنتا ہے؟
    لاہور سے بھی آدھا!!

    اس رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان 2030 تک متبادل شمسی اور ہوا کے ذرائع سے 24 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر لےتو اس سے اگلے بیس سال میں پیٹرول کی مد میں 5 ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہو سکتی ہے۔ اسکے ساتھ وقت پاکستان متبادل ذرائع سے تقریباً 1500 میگاواٹ بنا رہا ہے جو کل بجلی کی پیداوار کا محض 2 فیصد ہے۔

    اس مقصد کے حصول کے لیے پاکستان کو ہر ماہ متبادل ذرائع سے 150 سے 200 میگاواث بجلی بنانے کی صلاحیت میں اضافہ کرنا ہو گا۔ اس سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گیاور روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے۔

    حکومت کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات اور متبادل توانائی کے شعبے میں ہنرمند پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ آنے والا دور اسی کا ہے۔

  • جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    جنیٹک ٹیسٹنگ (Genetic testing) — خطیب احمد

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی 8 ارب آبادی میں سے 15 فیصد یعنی 1 ارب لوگ کسی نہ کسی سپیشل کنڈیشن یا معذوری کا شکار ہیں۔ ان میں 20 کروڑ یعنی پاکستان کی کل آبادی جتنے افراد شدید قسم کی ناقابل علاج ڈس ایبیلٹیز کے ساتھ ہیں۔ ایک ارب میں سے دنیا بھر میں 49 کروڑ سماعت سے محروم و متاثرہ سماعت ہیں۔ 2018 میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2050 تک دنیا کی آبادی 10 ارب سے زیادہ ہوگی۔ جس میں 1.5 ارب سماعت سے متاثرہ و محروم افراد ہونگے جس کی وجہ لاؤڈ اسپیکرز، ہینڈز فری، بلیو ٹوتھ، ائیر پاڈز ایم پی تھری ڈیوائسز وغیرہ کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ باقی معذوریوں کی ریشو آپ خود نکال سکتے ہیں۔

    جہاں دنیا بھر میں 1 ارب لوگ سپیشل ہیں۔ وہیں ان میں سے سپر پاورز کے حامل سپیشل افراد اور دیگر انسان اپنی اگلی پیڑھی کو معذوریوں سے بچاؤ کے لیے دن رات محنت کر رہی ہے۔ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ کسی طرح معذوری کو ہونے سے پہلے ہی روکا جائے۔۔کیونکہ بے شمار بیماریاں اور معذوریاں آج بھی ناقابل علاج ہیں۔

    اس روک تھام میں کلیدی کردار انسانی جینیاتی علوم کا ہے۔ جینیاتی ماہرین جنیٹک ٹیسٹنگ کی فیلڈ میں نت نئے تجربات و مشاہدات کرکے انسانی جسم کو وائرسز، دائمی امراض، انفیکشنز، جان لیوا بیماریوں، معذوریوں سے بائی ڈیفالٹ ہی محفوظ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔سائنس فکشن فلموں میں ہم اپنے بچپن سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔ جو اب کسی حد تک حقیقت میں بھی ہونے لگا ہے۔ گو اب بھی اس میں کئی افسانے ہیں مگر میں کوئی افسانہ نہیں سنانے والا۔ کچھ عملی باتیں ڈسکس کروں گا۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ پر جانے سے پہلے کچھ بنیادی باتیں سمجھ لیں۔ ماں کے تخم اور والد کے نطفے سے حمل ٹھہرنے پر بننے والا زائگوٹ یک خلوی جاندار ہوتا ہے۔ جسے بنیادی خلیہ یا سٹیم سیل کہتے ہیں۔

    اس سیل میں ایک نیوکلئیس ہوتا ہے۔ نیوکلئیس کو خوردوبین سے دیکھیں تو اس میں ننھی منھی سی چھوٹی چھوٹی دھاگے نما چیزیں حرکت کرتی نظر آتی ہیں۔ جنہیں ہم کروموسوم کہتے ہیں۔ یہ 23 جوڑے یعنی ایک انسانی سیل میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ مختلف جانداروں جانوروں و پودوں میں ان کروموسومز کی تعداد مختلف ہوتی ہے۔ مثلاً بلی میں 38 اور کتے میں 78 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک کیکر کے درخت میں 12 اور ایک کبوتر میں 80 کروموسوم ہوتے ہیں۔ ایک ہاتھی میں 56 کروموسوم ہوتے ہیں۔

    جب کروموسوم کو خوردوبین میں بڑا کرکے دیکھیں تو اس میں گول گول گھومتی ہوئی سیڑھی نما چیزیں دکھائی دیں گی۔ جنکو ہم DNA 🧬 کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک ڈی این کے چھوٹے سے ٹکڑے کو ہم جین Gene کہتے ہیں۔

    انسانی جینوم یعنی انسانی کوڈ میں 46 کروموسوم ہوتے ہیں۔ 20 ہزار جین ہوتے ہیں۔۔اور ایک انسانی جینوم میں 3 ارب معلومات کے مقام ہوتے ہیں۔

    کروموسوم جین جینوم ڈی این اے یہ سب مل کر انسانی حصوصیات وراثتی معلومات کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔

    جینوم ایک ریسپی بک اور جین ایک ریسپی کی ترکیب ہوتی ہے۔ جنیوم طے کرتا ہے کہ ہمارا سارا سٹرکچر کیسا ہوگا۔ اور جین جسم کے ہر حصے کو بنانے کے لیے ڈی این اے میں محفوظ معلومات پر عمل درآمد کرواتا ہے۔ ہمارے دانت آنکھیں رنگ وزن قد کیسا ہوگا یہ سب جینز کا کام ہے۔ جینز پروٹین پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں اور پروٹین انسانی جسم بناتی ہیں۔ کونسے جین میں کوئی تبدیلی یا تغیر آیا ہے۔ یہ طے کرتا کہ جسم کا کونسا حصہ ٹھیک نہیں بن سکا۔

    ہزاروں جینز کے نام ہیں۔ مثلا OCA2 نامی جین میں تغیر آجائے تو جسم میں میلانن پروٹین نہیں بن سکے گی یا کم بنے گی۔ میلانن ہمارے جسم میں کالے رنگ کی مقدار طے کرتی ہے۔ اس جین کی خرابی والے افراد Albinism یعنی سورج مکھی کا شکار ہوتے ہیں۔ میلانن پگمنٹ ہی طے کرتا ہے ہماری اسکن آنکھوں اور بالوں کا رنگ کیا ہوگا۔ وہ ہوگا ہی نہیں تو آنکھیں لائٹ کلر کی بال اور جسم بلکل سفید ہوگا۔ اسکن عام دھوپ سے جل سکتی ہے۔

    خیر جنیٹکٹس کی بنیادی معلومات سمجھ آگئی ہیں ناں؟ کہ ہم ایک انسان بنتے کیسے ہیں۔

    اب آتے ہیں جنیٹک ٹیسٹنگ کی طرف۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں ہمارے خون تھوک پسینے یا ایک سیل کا سامپل لیکر ڈی این اے کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ ہمارا جسم کیسے فنکشن کر رہا ہے۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ اس ٹیسٹنگ میں معلوم کیا جاتا ہے کہ کونسے جینز میں میوٹیشن ہوئی ہے۔ آیا ہمارے پاس کوئی سویا ہوا کینسر ہیموفیلیا تھیلیسیمیا سسٹک فائبروسس کا جین تو نہیں۔ جو ہمارے بچوں میں جا کر جاگ سکتا ہے۔ ہم ٹھیک ہیں ہمارے بچے ان بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اور اس سے ہمارے اپنے جسم میں کیا تبدیلی آسکتی ہے۔ یعنی کوئی بیماری یا کسی معذوری کا پیشگی اندازہ لگانا۔ یا اگلی پیڑھی کو یہ جین منتقل کرنے کی روک تھام پر ماہرین سے جنیٹک کاونسلنگ لینا۔

    بے شک جنیٹک ٹیسٹنگ کسی بھی مسئلے کا سراغ لگا کر اس سے بچاؤ اور علاج میں مددگار ہے۔ مگر ہم اسے سو فیصد درست نہیں کہہ سکتے۔ ڈی این اے اور جینز کے اندر اربوں کھربوں گھتیاں ہیں۔ جو انسانی عقل ابھی لاکھوں سال بعد سلجھا پائے گی۔

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ انسانی جین دیگر جانوروں اور پودوں میں بھی پائے جاتے ہیں؟ اسکا مطلب ہے کہ زندگی کا آغاز کھربوں سال قبل ایک سیل سے ہوا تھا اور اسی سے ساری کائنات وجود میں لائی گئی۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ میں پروٹین ان کوڈنگ encoding کے پارٹس جنکو ہم Exome کہتے ہیں۔ کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ کہ کہاں کوئی تنوع ہے۔ جو ہماری صحت یا ہمارے بچوں کو کسی طرح متاثر کر سکتا ہے۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ کی سات بڑی اقسام ہیں۔

    جنیٹک ٹیسٹنگ دنیا بھر میں جینیاتی بیماریوں کی مختلف لیولز پر کھوج لگانے میں مدد گار ہوتی ہے۔ اگر کسی جینیاتی نقص کا علم ہوجائے تو اسکا علاج یا روک تھام کیسے کرنی ہے اس پر کام کیا جاتا ہے۔

    میں نے اسی مضمون کے پہلے حصے میں لکھا کہ جینیاتی ٹیسٹوں کو ہم سات بڑی اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ جینیاتی بیماریاں کیا اور کیسی ہوتی ہیں تفصیل سے پچھلی پوسٹ میں لکھا گیا ہے۔۔ اسکا لنک اسی پوسٹ کے اختتام میں موجود ہے۔

    سات طریقہ ہائے ٹیسٹ یہ ہیں۔

    1.تشخیصی ٹیسٹ (Diagnostic Testing)

    اگر آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے اندر کسی بھی ایسی بیماری یا معذوری یا Disease کی علامات ہیں جو کہ جینیاتی ہیں۔ ان کو ہم عام زبان میں جینیاتی تغیر یعنی mutated genes کہتے ہیں۔ جنیٹک ٹیسٹنگ ایسے کیسز میں تصدیق کرتی ہے کہ آپ میں واقعی کوئی جینیاتی مرض ہے یا نہیں۔ مثال کے طور پر ہم سسٹک فائبروسس Cystic fibrosis یا Huntington’s disease کا پتا ڈائیگناسٹک ٹیسٹنگ سے لگا سکتے ہیں۔

    2. علامات ظاہر ہونے سے پہلے جنیٹک ٹیسٹنگ کروانا
    Presymptomatic and predictive testing

    اگر خاندان میں کوئی جینیاتی بیماری موجود ہے۔ اور آپ میں اس کے کوئی آثار یا علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ ایسے میں یہ ٹیسٹنگ کی جاتی ہے کہ آپ اس بیماری میں مبتلا ہونے کے رسک پر تو نہیں ہیں۔ عموماً اس میں کولو ریکٹل کیسنر colorectal cancer شامل ہے۔ اس کینسر کو ہم bowel cancer, colon cancer, or rectal cancer بھی کہتے ہیں۔ ہماری بڑی انتڑی کے حصے کولن اور ریکٹم میں کیسنر ہوجاتا ہے۔ اس کینسر کے 10 میں سے 8 مریض تشخیص کے بعد ایک سال بعد ہی وفات پاجاتے ہیں۔

    3. کیرئیر ٹیسٹنگ (Carrier testing)

    اگر آپ کے خاندان میں کوئی جینیاتی امراض کی فرد یا ہسٹری موجود ہے۔ جیسے سکل سیل انیمیا Sickle cell Anemia یا ہیموفیلیا یا سسٹک فائبروسس، سپائنل مسکولر اٹرافی وغیرہ۔ یا آپ کسی ایسے ایتھنک گروپ سے ہیں جہاں کوئی مخصوص بیماری یا معذوری بہت عام ہے۔ مثلاً ملتان کے ایک محلے میں 70 افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں۔ اور کرک کے ایک گاؤں میں 50 سے زائد بونے لڑکے لڑکیاں موجود ہیں اور ان دونوں مخصوص ایریاز میں ان دونوں جینیاتی امراض کی ریشو بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

    آپ کے بچوں میں یہ مرض نہ جائے اس کے لیے ہم کیرئیر ٹیسٹنگ کرواتے ہیں کہ آیا ہم میوٹڈ جین کیری کیے ہوئے ہیں یا نہیں۔

    میں یہاں بتاتا چلوں کہ اگر ماں اور باپ دونوں ایک ہی جینیاتی مرض کے صرف کیرئیر ہیں۔

    "ان میں وہ مرض ہے نہیں”

    تو 25 فیصد چانسز ہیں وہ بچہ اس مرض کے ساتھ پیدا ہوگا۔

    اور 50 فیصد چانسز ہیں کہ بچہ اگر اس کے ساتھ پیدا نہیں ہوا تو کیرئیر ضرور ہوگا۔

    اگر صرف ماں کیرئیر ہے تو بھی بچے کے جینوم میں 50 فیصد وہ جین منتقل ہونے کے جانسز ہیں۔

    4. فارماکو جینیٹکس (Pharmacogenetics)

    اگر آپ کسی مخصوص و دائمی صحت کی خرابی کے مرض یا ڈی زیز میں مبتلا ہیں۔ اور ڈاکٹروں سے سمجھ سے باہر ہے دوائی کیا دیں؟ تو جنیٹک ٹیسٹنگ کی یہ قسم اپلائی کی جاتی ہے۔ تاکہ پراسرار یا ناقابل فہم بیماری کو ٹھیک کرنے کے لیے دوائی کا سالٹ اور ڈوزیج معلوم کی جا سکے۔

    مشہور گولی پیناڈول کا سالٹ پیراسیٹا مول ہے اور پیناڈول ایکسٹرا کے سالٹ میں پیراسیٹا مول کے ساتھ کیفین Caffeine بھی شامل ہوتی ہے۔ پہلے ایک گولی میں ایک سالٹ ہوتا تھا اب دو سے تین سالٹ تک ایک گولی میں ڈالے جا رہے ہیں۔ مطلب جہاں آپ دو یا تین گولیاں کھاتے تھے اب ایک ہی کھائیں گے۔

    5. دوران حمل ٹیسٹنگ (Pre natal testing)

    اگر آپ حاملہ ماں ہیں۔ کچھ ٹیسٹ بتا سکتے ہیں کہ آپکے پیدا ہونے والے بچے میں کوئی ابنارمل جین تو نہیں ہے۔ ڈاؤن سنڈروم اور ٹرائی سومی 18 Edwards syndrome یا ٹرائی سومی 18 یعنی Patau syndrome اس کی کچھ مثالیں ہیں۔ یہ سب پری نیٹل جنیٹک ٹیسٹنگ میں ماں کے پیٹ سے سیری برو سپائنل فلیوڈ یا پلاسینٹا سے بلڈ سیل لیکر حمل کے پہلے تین ماہ میں روح پھونکے جانے سے پہلے ہی معلوم ہو سکتے ہیں۔ اب تک 2 ہزار سے زیادہ سنڈروم دریافت ہو چکے ہیں۔ 5 کے قریب تو میں پڑھ چکا ہوں۔ موسٹ کامن 20 کے قریب ہیں وہ سب میری زیر تصنیف کتاب میں شامل ہیں۔

    اسی سال ایک جدید ٹیسٹ دریافت ہوا ہے جسے سیل فری ڈی این اے ٹیسٹ cell-free DNA testing کا نام دیا گیا ہے۔ یعنی اس میں ہمیں یوٹرس سے پانی یا بچے کا خون لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس میں جدید ٹیکنالوجی سے ماں کے خون سے ہی پیٹ میں موجود بچے کا ڈی این اے نکال کر اسکا ٹیسٹ ہوجائے گا۔ جین ڈی این اے کا ہی ایک ٹکڑا ہے۔ چارپائی ایک ڈی این اے ہے اور اسکی ایک چھوٹی سی رسی ایک جین۔

    6. نومولود بچوں کی سکریننگ (Newborn screening)

    دنیا بھر میں یہ سکریننگ عام ہے۔ مگر پاکستان کے بڑے سے بڑے مہنگے ترین ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں کو اسکا شعور نہیں ہے۔ میں یہ بات پوری ذمہ داری سے کر رہا ہوں کہ نومولود بچوں کا 1 سے 2 فیصد ہسپتالوں کو چھوڑ کر کسی بھی جگہ سماعت و بصارت کا ابتدائی ٹیسٹ نہیں کیا جاتا۔ جو کہ دنیا بھر میں یونیورسل ٹیسٹ بن چکا ہے۔ اسکے علاوہ رئیر جنیٹک اور ہارمونل تغیرات کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ کچھ میٹابولک خرابیوں کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے جو بچے کی جان تک لے سکتے ہیں۔ کیوں پیدائش کے بعد پہلے سال ہی لاکھوں بچے فوراً بیمار ہو کر ایک سے دو دن میں فوت ہوجاتے؟ وجہ یہی ہے کہ ابتدائی ٹیسٹ نہیں ہوپاتے۔ اگر ہوجائیں فوری اسکا علاج ہو تو بچے فوت ہونے سے بچ سکیں۔

    7۔ پری امپلانٹیشن ٹیسٹنگ (Preimplantation testing)

    جب ہم مصنوعی طریقہ حمل ان ورٹو فرٹی لائزیشن IVF کے ذریعے حمل کی طرف جاتے ہیں۔ تو بلاسٹو سسٹ یا ایمبیریو میں سے لیزر کے ذریعے ایک دو سیل لے کر انکی جنیٹک ٹیسٹنگ کی جاتی ہے۔ ایمبیریو میں موجود میوٹڈ جین کو نکال دیا جاتا ہے۔۔اور صحت مند بلکل ٹھیک ایمبریو کو بچہ دانی میں داخل کیا جاتا ہے۔ اس سے چند ممکنہ جینیاتی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔

    ان میں سے پانچ قسم کی ٹیسٹنگ میری معلومات کے مطابق پاکستان میں ہو رہی ہے۔ آغا خان اور شوکت خانم لیبارٹری جینیٹک ٹیسٹنگ کرنے میں مصروف عمل ہیں۔ کچھ اور بھی کر رہے ہونگے معتبر اور قابل اعتماد یہ دونوں نام ہیں۔ یہ ٹیسٹنگ کافی مہنگی ہے۔ مگر ایک اسکی قیمت آپکے یا آپکے بچوں میں عمر بھر کے روگ سے تو کسی صورت بھی زیادہ نہیں ؟

  • سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بناڈالی

    سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بناڈالی

    سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بناڈالی

    سائنس دانوں نے پتے سے متاثر ہو کر ایک چھوٹی دائرہ نما ڈیوائس بنائی ہے جو ہوا سے پانی اخذ کر کے شفاف توانائی بنا سکتی ہے۔ ٹرانسپیرنٹ پورس کنڈکٹیو سبسٹریٹ ایک دبے ہوئے گلاس فائبر کا چھوٹا دائرہ ہے جس پر ایک باریک تہہ چڑھی ہوئی ہے جو روشنی جذب کرتی ہے۔ جب یہ ڈیوائس سورج کی روشنی میں ہوتی ہے تو یہ ہوا سے پانی اخذ کر کے ہائیڈروجن گیس بناتی ہے جس کو ممکنہ طور پر ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

    سوئٹزرلینڈ کے فیڈرل اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لوزین(ای پی ایف ایل) میں کی جانے والی تحقیق میں محققین نے بتایا کہ اس طریقے سے ہائیڈروجن حاصل کی جاسکتی ہے اور بڑی فیسیلیٹیز میں ذخیرہ اکٹھا کی جاسکتی ہے اور بعد ازاں گاڑیوں کے ایندھن یا گھروں کو گرم کرنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔ تحقیق کے مصنف پروفیسر کیون سِوُلا کا کہنا تھا کہ پائیدار معاشرے کے لیے ہمیں قابلِ تجدید توانائی کو ذخیرہ کرنے کے لیے نئے طریقوں کی ضرورت ہے جس کو ایندھن اور فیڈ اسٹاک کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم بچے نہیں ہیں جو ہم پر ہونے والے حملوں کو نہ سمجھ پائیں اسد صدیقی کا عادل راجہ کو منہ توڑ جواب
    اسلام آباد میں آج موسم شدید سرد اور خشک رہے گا
    فیصل واوڈ کی نشست پر انتخاب کامعاملہ،کاغذات نامزدگی آج سے 7 جنوری تک جمع ہوں گے
    اداکاراؤں کی کرداکشی : خواتین کی عزت نہ کرنے والے ذہنی بیمار ہیں،مریم اورنگزیب
    انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی قابلِ تجدید توانائی کی وہ قسم ہے جو وافر مقدار حاصل کی جاسکتی ہےاور سائنس دان شمسی توانائی بنانے کے لیے کم لاگت والے بہترین طریقے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس آلے کو بنانے والی ٹیم ’پتے کے فوٹو سنتھسز‘ عمل سے متاثر تھی۔ یہ ایسا عمل ہوتا ہے جس میں پودے سورج کی روشنی، پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کا استعمال کرتے ہوئے آکسیجن بناتے ہیں اور شکر کی صورت میں توانائی بنتی ہے۔ اس سے قبل سائنس دان سورج کی روشنی اور پانی کا فوٹو الیکٹرو کیمیکل سیل نامی ڈیوائس کا استعمال کرتے ہوئے ہائیڈروجن بنا کر مصنوعی فوٹو سنتھسز کا عمل کرچکے ہیں۔

  • ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    ہاتھی پاؤں یا لمفیٹک فلئرائسس (Elephantiasis) — خطیب احمد

    لاکھوں میں ایک فرد آپ کو ایسا نظر آئے گا جس کا ایک پاؤں ٹانگ ہاتھ یا بازو دوسرے کی نسبت بہت موٹا ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ بیماری ایک مچھر کے کاٹنے سے لاحق ہوتی ہے؟ جی ہاں ایک ایسا مچھر جس کے اندر filarial parasites کے لاروا ہوتے ہیں۔ ان کو (roundworms) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ لاروا انفیکٹڈ مچھر کے کاٹنے سے مچھر سے انسانی جسم داخل ہوتے اور وہاں اپنا اگلا لائف سائیکل پورا کرکے بڑے ہوجاتے۔

    جس طرح کسی عمارت میں پانی کی نکل و حرکت کے لیے ایک سیورج سسٹم ہوتا ہے بلکل اسی طرح انسان جسم میں بھی خون کی نالیوں سے خودکار نظام کے تحت نکلنے والی رطوبتوں کو ٹھکانے لگانے کے Lymphatic system کام کرتا ہے۔ اب فلیرئل لاروے بڑے ہو کر لمف نارڈ lymph nodes کو بند کر دیتے۔ اور وہ رطوبتیں اپنی مطلوبہ جگہ جانے کی بجائے وہیں ٹانگ کے نچلے حصے یا بازو میں کہنی کے نچلے حصے میں جمع ہونا شروع ہو جاتیں۔ ایک طرف تو وہ پانی جمع ہو رہا ہوتا دوسری طرف جسم میں موجود پیراسائٹ تیزی سے اپنا سائز اور اپنی تعداد بڑھا رہے ہوتے۔

    نتیجتاً پاوں ٹانگ ہاتھ یا بازو کا سائز ایسے ہوجاتا جیسے ہاتھی کا پاؤں ہے۔ ایک طرف تکلیف تو دوسری طرف سوشل سٹگما الگ سے جان لے رہا ہوتا۔ لوگ ڈرنا شروع کر دیتے کہ اس متاثرہ فرد کو کاٹنے والا مچھر ہمیں بھی کاٹ کر انفیکٹڈ نہ کر دے۔ اور انکا یہ ڈر کسی نہ کسی حد تک درست ہوتا ہے۔ مگر ایسا ہر قسم کے مچھر کے کاٹنے سے بلکل نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثریت کیسز میں مچھر کی ایک خاص قسم Culex کے کاٹنے سے منتقل ہوتی ہے۔ اور نہ ہی خدا نخواستہ ایسا ہوتا ہے اس فرد کو کاٹنے والا مچھر جسے کاٹے گا وہ بھی ایسا ہی ہوجائے گا۔

    ڈاکٹرز کی طرف سے اس مرض سے متاثرہ مریض کو ہدایت کی جاتی کہ وہ ہر ممکن حد تک خود کو مچھر کے کاٹنے سے بچائے۔ پرسنل ہائی جین کا بہت خیال رکھے۔ جن لوگوں کا امیون سسٹم مضبوط ہوتا ان کو انفیکٹڈ مچھر کاٹنے کے بعد بھی عموماً لاروا اپنا لائف سائیکل مکمل نہیں کر پاتا اور ہمیشہ لاروا سٹیج میں ہی رہتا ہے۔ جسکی وجہ سے انکو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔

    ہاتھ پاؤں ٹانگ یا بازو موٹا ہونے سے پہلے ہی عموماً گردن کے دائیں سائیڈ پر خون کی نالیاں بڑی نمایاں ہو کر اسکن سے باہر ابھری ہوئی نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس اسٹیج پر مرض کا آغاز ہو رہا ہوتا ہے اور کیمو تھراپی سے اسے کافی حد تک بڑھنے اور نقصان کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔ ایک عام ڈاکٹر نہیں بلکہ ایک ڈرما ٹالوجسٹ Dermatologist اس مرض کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔ علاج میں ابھی تک کوئی ایسا نہیں ہے جو اس چیز کو سو فیصد ختم کر سکے۔ ڈاکٹرز پوری دنیا میں Diethylcarbamazine (DEC) نامی دوائی ان مریضوں کو دیتے ہیں۔ اس دوا کا بنیادی مقصد جسم میں موجود adult worm کو مارنا ہوتا ہے۔ پانی کو خشک کرنے یا نکالنے پر کام کیا جاتا۔ ایسا نہیں ہوتا کہ اندر گوشت بڑھ گیا ہوا ہے اور آپریشن کرکے ایک ہی بار ٹانگ یا بازو کو نارمل کر دیا جائے۔ احتیاط اور علاج لمبے عرصے تک جاری رہتا ہے۔

    ایسے افراد سے ڈرنے کی بجائے ان سے محبت کی جائے۔ اور انکو تنہائی سے نکال کر ہر قسم کے فیملی و سوشل ایونٹس میں ضرور شریک کیا جائے۔ اور ایسے افراد خود بھی کوئی ایسی سافٹ ہا ہارڈ اسکل سیکھ کر خود کو مصروف رکھیں جس میں کہیں آنے جانے کی ضرورت کم سے کم ہو۔

  • اینڈرائیڈ صارفین مصروفیات شیڈول کرنے والی خطرناک ایپ ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘  کو فورا ڈیلیٹ کردیں

    اینڈرائیڈ صارفین مصروفیات شیڈول کرنے والی خطرناک ایپ ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘ کو فورا ڈیلیٹ کردیں

    اینڈرائیڈ صارفین مصروفیات شیڈول کرنے والی خطرناک ایپ ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘ کو فورا ڈیلیٹ کردیں
    وائرس اور ہیکنگ کے خطرے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ماہرین نے ایک ایسی ایپلی کیشن کا پتا لگایا ہے جو فون میں آتے ہی ایسی صورت حال بنا دیتی ہے کہ گویا آپ نے اپنا موبائل کسی اور کو پکڑا دیا اور وہ بھی پِن کوڈز، فنگر، چہرے کی شناخت وغیرہ کی تصدیق کے ساتھ، اس لیے محتاط رہیے۔ امریکی ٹی وی فاکس نیوز کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کے فینش میگزین ’’سیدتی‘‘ میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ٹی ماہرین نے سمارٹ فون رکھنے والے ایسے صارفین جو اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھلا اسی میں ہے کہ اس کو فوری طور ڈیلیٹ کر دیا جائے۔


    پورٹ کے مطابق اس ایپ کا نام ’ٹو ڈو: ڈے مینیجر‘ ہے۔ خیال رہے کہ یہ ایپ بنیادی طور پر مالکان کو دن بھر کی مصروفیات کا شیڈول بنانے اور ملاقاتوں کی یاددہانی میں مدد دینے کے لیے بنائی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ایپ نہ صرف آپ کے فون پر آنے والے تحریری پیغامات تک رسائی رکھتی ہے بلکہ اصل خطرے کی بات یہ ہے کہ یہ آپ کی بینکنگ کی حساس معلومات بھی کاپی کر سکتی ہے۔ اسی طرح وہ لوگ جو لاگ ان ہونے کے لیے تصدیق کے دو مراحل رکھتے ہیں یہ ایپ ان کے کوڈز کو روک سکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دوسرا ٹیسٹ؛ نیوزی لینڈ کا پاکستان کیخلاف بیٹنگ کا فیصلہ
    متنازع ٹوئٹ کیس؛ اعظم خان سواتی کے بیٹے نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف عدم اعتماد کا خط واپس لے لیا۔
    ڈومیسٹک کرکٹرز کی سن لی گئی، پیر سے بقایاجات کی ادائیگی کا کام شروع
    قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس آج پھر ہوگا،ہوں گے بڑے فیصلے
    ماہرین کا کہنا ہے کہ جب آپ اس ایپ کو انسٹال کرتے ہیں تو یہ آپ سے فون کے کچھ ڈیٹا تک رسائی کی درخواست کرتی ہے اور اگر آپ نے اس کو ایگری کیا تو پھر اس کو ڈیلیٹ کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ ایگری کرتے ہی وہ فون میں ڈیوائس ایڈمنسٹریٹر کے طور پر شامل ہو جاتی ہے جس کے بعد صارف کے لیے اس کو غیرفعال کرنا زیادہ آسان نہیں رہتا اور اس سے چھٹکارہ پانے کے لیے فون کو فیکٹری ری سیٹ کرنا پڑ سکتا ہے۔

  • کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    کارنیل ٹرانسپلانٹ (keratoplasty) —- خطیب احمد

    (کسی کو آنکھیں عطیہ کرنا)

    انسانی آنکھوں کو دنیا کی ہر زبان کے ادب میں موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ کوئی محبوب کی آنکھوں کو سمندر سے تشبیہ دیتا ہے تو کوئی ان آنکھوں کی سیاہی میں اپنی زندگی کی روشنی تلاش کرتا ہے۔ بقول عدیم ہاشمی

    کیا خبر تھی تری آنکھوں میں بھی دل ڈوبے گا
    میں تو سمجھا تھا کہ پڑتے ہیں بھنور پانی میں

    آنکھیں جہاں خوبصورتی کا ایک پیمانہ ہیں تو وہیں آنکھوں سے جڑے امراض بھی پوری دنیا میں پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت تقریباً 10 لاکھ افراد بینائی سے مکمل یا جزوی محروم ہیں۔ دنیا بھر میں 4 کروڑ افراد بینائی سے مکمل محروم ہیں اور اڑھائی ارب جزوی طور پر کسی نہ کسی درجے میں محروم بصارت ہیں۔ اس موضوع پر تو کئی کتب لکھی جا سکتی ہیں۔ آج ہم بات کریں گے کارنیا کے ٹرانسپلانٹ پر۔ اسے ڈاکٹرز keratoplasty ھی کہتے ہیں۔

    کارنیا ہماری آنکھ کے نظر آنے والے گہرے گول سے حصے کے اوپر ایک صاف شفاف شیشہ سا ہے۔ جو آنکھ کے اندرونی حصے میں جراثیم، دھول، مٹی، انفیکشن جانے سے روکتا ہے۔ کورنیا روشنی کو اندر جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اور روشنی کی شعاعوں کو اس طرح موڑتا ہے کہ فوکس پر آ جائیں۔ یعنی ہماری آنکھ کا فوکس کارنیا بناتا ہے۔ کارنیا میں پیدائشی یا بعد میں کسی خرابی ہو یا کسی بیماری و حادثے کی صورت میں کارنیا ڈیمج یا خراب ہوجائے تو دنیا بھر میں خراب کارنیا نکال کر نیا کارنیا لگا دیا جاتا ہے۔

    کارنیا کا مکمل خراب ہونا بینائی سے ممکل محرومی کا سبب بن جاتا ہے۔ امریکہ میں ہر سال 50 ہزار لوگوں کا کارنیل ٹرانسپلانٹ ہوتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں سالانہ کارنیل ٹرانسپلانٹ کی تعداد 2000 کے آس پاس رہتی ہے۔ جن میں سے 800 ٹرانسپلانٹ سالانہ تو الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں ہوتے ہیں۔ ہر پیدائشی نابینا فرد کو ضروری نہیں کارنیا ڈال کر بصارت لوٹائی جا سکے مگر چیک ضرور کروا لینا چاہیے کہ کارنیا تو خراب نہیں۔ اگر وہ ہے تو کوشش کرکے ٹرانسپلانٹ کروا لیں۔

    پاکستان میں کارنیا عموماً امریکہ اور سری لنکا سے آتے ہیں۔ وہاں لوگ مرنے سے پہلے وصیت کر جاتے ہیں کہ ان کی وفات کے بعد آنکھیں عطیہ کر دی جائیں۔ جیسے ہی فرد فوت ہوتا ہے 6 گھنٹوں کے اندر اس کی دونوں آنکھوں کی اوپری ٹرانس پیرنٹ جھلی یعنی کارنیا 8 یا 9 ملی میٹر گولائی میں کاٹ لی جاتی ہے۔ اسے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور جلد ہی کسی انسانی آنکھ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں اب تو آرٹیفشل کارنیا بھی موجود ہیں مگر وہ پائیدار اور قابل اعتماد نہیں ہیں۔ کسی جانور کا کارنیا انسان کو نہیں لگایا جا سکتا۔

    ہم پاکستان میں بھی کارنیا ٹرانسپلانٹ سنٹرز جیسے الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال راولپنڈی میں جاکر وصیت لکھ سکتے ہیں۔ اپنے گھر والوں کو اس بارے میں بتا سکتے ہیں۔ کہ ہماری موت کے بعد ہماری آنکھوں سے کارنیا لیکر کسی نابینا فرد کو ڈال دیا جائے۔ کچھ علماء اسے حرام کہتے ہیں اور کچھ حلال۔ میرا ماننا ہے کہ ہمارا جسم ہمارے مال کی طرح اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک عطیہ ہے۔ جیسے ہم مال اسکی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں ویسے ہی ہماری آنکھ کی ایک معمولی سی جھلی کسی کی تاریک دنیا کو روشن کر سکتی ہے تو یہ کام ضرور کرنا چاہیے۔ میں انشاء اللہ اپنی آنکھوں کے عطیہ کی وصیت بہت جلد کردونگا۔۔کہ میری وفات کے بعد کارنیا لے کر کسی نابینا فرد کو لگا دیے جائیں۔ زندگی میں ایسا کرنا کسی کو ایک یا دو کارنیا دینا مناسب نہیں۔ ایک گردہ یا جگر کا ایک حصہ دے سکتے ہیں۔ مگر ان سب کی کوئی قیمت نہ وصول کی جائے۔

    اعضا کے ہم مالک نہیں ہیں۔ اور کسی کو زندگی یا موت کے بعد دے نہیں سکتے۔ میرا اس بیانیے سے اتفاق نہیں ہے۔ بے شمار جید علماء اکرام بھی اسے درست نہیں مانتے۔ مولانا اسرار احمد مرحوم کا بھی یہی موقف تھا جو میرا ہے۔ تقریباً تمام عالمی سطح کے اسکالرز کا یہی موقف ہے۔ اور یہ کام پاکستان میں ہو بھی رہا ہے۔

    آئیے اس پیغام کو عام کریں۔ اپنے آس پاس نابینا بچوں و افراد کے والدین کو گائیڈ کریں کہ وہ انکی آنکھوں کا چیک اپ کروائیں۔ اگر کارنیا ٹرانسپلانٹ سے بینائی لوٹ سکتی تو ان کے لیے کارنیا ارینج کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ ایک لمحے کے لیے تصور تو کریں آپ نابینا ہو جائیں تو کیا ہو؟ اگر کسی نابینا کو بینائی مل جائے تو اسکی زندگی کیسی خوبصورت ہوجائے گی؟

  • "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    "ٹیم پاس”!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم ستاروں کی خاک ہیں گویا!!
    خود میں ہی کائنات ہیں گویا!!

    یہ شعر ویسے تو جون ایلیا صاحب کا نہیں بلکہ ناچیز کا ہے مگر کیا فرق پڑتا ہے ۔ جون ایلیا بھی کمال لکھتے تھے مگر وہ غمِ حیات میں اُلجھے رہتے اور ہم غمِ کائنات میں۔

    ایک کہاوت تھی:
    "کائنات کو سمجھنے کے اُتنے راستے ہیں جس قدر اس میں ذی روح ہیں’

    مگر یہ ایک فلسفیانہ بات ہے۔ یہ بات گو کہ درست کہ کائنات کو سمجھنا آسان نہیں۔ انسان کی عقل محدود ہے۔۔انسان اسی کائنات میں رہ کر کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے مگر کیا یہ بات کم ہے کہ سوچتا ہے!!
    وہ جو سوچتے ہی نہیں، وہ جو فکر ہی نہیں کرتے کیا وہ اس امیبیا سے زیادہ اہم ہیں جو اُنکی طرح زندگی گزار کر مر جاتا ہے ۔۔خوراک حاصل کر کے بس جی رہا ہے اور نسل در نسل اپنے جینز منتقل کر رہا ہے۔

    فنا یعنی مر جانا انسان کے شعور کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ایسا مسئلہ کہ یہ اسے کسی طور چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ آج ہم جو ایجادات، سائنسی ترقی، جدید معیشت، طب میں جدت، بیماریوں کا علاج، خلاؤں میں جانا وغیرہ وغیرہ یہ سب دیکھتے ہیں تو یہ سب کیا اور کیوں ہے؟ یہ سب انسان کی لاشعور میں چھپی موت سے جنگ ہے۔ یہ بقا کی جنگ ہے۔ ہم ہر لمحہ بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہماری عقل ہو گی۔ کیونکہ ہماری عقل نے ہی ہمیں موت سے آگاہ کیا ہے۔ ایک جانور یہ نہیں جانتا کہ اُس نے کم و بیش کتنے سال زندہ رہنا ہے۔ مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اوسطاً اس زمین پر کتنے سال زندہ رہ سکتے ہیں۔ ہم نے ان سالوں کو مختلف کاموں اور مقاصد کے حصول میں تقسیم کر رکھا ہے۔ تعلیم مکمل کرنا، شادی کرنا، بچے پیدا کرنا، بہتر روزگار رکھنا، گھر، گاڑی، بچوں کی تعلیم ، ریٹائرمنٹ وغیرہ وغیرہ ۔
    اس سب میں تگ و دو تو ہے مگر جستجو کہاں ہے؟ نئے علم کی تلاش کہاں ہے؟ انسانی عقل کی معراج کہاں ہے؟

    اقبال نے کہا تھا:
    عروج ِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
    کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مہہِ کامل نہ بن جائے

    اقبال نے یہ ہمارے جسیوں کے لیے ہرگز نہیں کہا تھا۔ ہم نے دنیا کو دیا ہی کیا ہے؟ یہ بات اقبال نے اُنکے لیے کہی ہے جو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جنہیں علم کی اس قدر پیاس ہے کہ خلاؤں میں جا کر بھی نہیں بجھ رہی۔ کیا علم حاصل کرنا اور نئےعلوم کی راہیں استوار کرنا مذاق ہے؟

    کائنات کو سمجھنے کے کئی راستے ہونگے مگر وہ جڑتے ایک ہی راستے سے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم اپنے اندر کائنات کو زندہ رکھیں۔ کائنات محض اُنکو نوازتی ہے جو اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب بھی اور آئندہ بھی۔

    ہم جتنا سیاست میں اُلجھتے ہیں اتنا سائنس میں اُلجھیں تو کئی مسائل اپنی عقل سے حل کر لیں مگر وہ جو ہم پہ مسلط ہیں اُنکے بقا کی ضمانت ہماری جہالت کا قائم رہنا ہے۔غربت مجبوری ہے مگر جہالت پرسنل چوائس ہے۔ باقی آپ خود سمجھیں۔ دنیا میں "ٹیم پاس” کرنا ہے یا صحیح معنوں میں کچھ بامقصد کرنا ہے۔

  • بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بلی کے گلے میں گھنٹی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسان ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں ہیں جنکے بل پر پوری معیشت کا ڈھانچہ کھڑا ہے۔ مگر اعداد و شمار دیکھیں تو یوں لگتا ہے یہ ملک چلا کسان رہے ہیں مگر اُنکا ہے نہیں۔

    2010 کے حکومتی اعداد و شمار کے مطابق زراعت کے شعبے سے وابستہ 80 فیصد لوگ قابلِ کاشت زمینوں کے محض 28 فیصد کی ملکیت رکھتے ہیں۔ جبکہ کروڑوں کی آبادی کے اس ملک میں تقریباً 1 لاکھ لوگ 50 ایکڑ یا اس سے زائد زرعی زمین کے مالک ہیں۔ جو کل زرعی زمین کے مالکان کی تعداد کا 1.44 فیصد بنتا ہے مگر یہ لوگ قابلِ کاشت رقبے کے 29 فیصد کے مالک ہیں۔ اسی اعداد و شمار کے مطابق ںڑے زمینداروں کی تعداد تقریباً 19 ہزار ہے جن میں سے ہر ایک 150 ایکڑ یا اس سے زائد کا مالک ہے۔ یہ تقریبآ 9 کروڑ ایکڑ زمین بنتی ہے جو صرف 0.3 فیصد زمینداروں کے پاس ہے۔مگر یہ زمینی رقبہ67 فیصد غریب کسانوں کی کل ملا کر زمین سے بھی زیادہ ہے۔

    یہ اعداد و شمار ہوشربا اور نیندیں اُڑا دینے والے ہیں۔ ان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مملکتِ خداد دراصل وڈیروں اور جاگیرداروں کا ملک ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد لوگوں وگوں کا روزگار زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے اور معیشت کا 23 فیصد سے زائد اسی شعبے سے منسلک ہے جس میں 60 فیصد سے زیادہ برآمدات کا حصہ بھی شامل ہیں۔

    ورلڈ بینک کے 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا زیرِ کاشت رقبہ ملک کے کل رقبے کا تقریباً 40 فیصد ہے۔ اس میں وہ تمام زمین شامل ہے جو کاشت کے قابل ہے چایے عارضی طور پر یا مستقل طور پر۔ ان اعداد و شمار سے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ زمینوں اور وسائل کی تقسیم میں غریب کسان ہمیشہ مارا جاتا ہے۔

    ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث پوری دنیا اس وقت خوارک کی قلت کے خطرے سے دوچار ہے جسکے لیے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں کئی اہم پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں جنکا مرکز کسانوں کو زرعی ضروریات کے حوالے سے سہولیات مہیا کرنا اور اُنہیں جدید زرعی طریقوں کی تربیت دے کر پیداوار کو بڑھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    اسکے علاوہ اربن فارمنگ کی طرف بھی شہرہوں کی توجہ دلائی جا رہی ہے جس میں وہ اپنے گھروں میں اور مصنوعی فارمز میں جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک پیدا کر سکیں۔

    پاکستان میں دن بدن زرعی زمین ماحولیاتی تبدیلیوں اور زراعت میں غیر موثر اور پرانے طریقوں سے کاشت کے باعث کم ہو رہی ہے۔ اسکے علاوہ گندم اور دیگر اجناس کی سٹوریج ، منڈیوں تک بہتر رسائی نہ ہونے اور کسانوں کے استحصال کے باعث خوراک مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ایسا ملک جو زرعی ہو وہاں گندم، چاول اور دیگر اجناس کا غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہونا ایک سوالیہ نشان ہے۔

    ان سب میں بنیادی وجہ کسان دوست پالیسیوں کا فقدان ہے ۔ ملک کی آبادی بڑھنے، شہری آبادیوں میں اضافے کے باعث غریب کسانوں کی زمینیں ختم ہو رہی ہیں۔ اسکے علاوہ وسائل کے بدترین ضیاع اور آبی وسائل کی دیکھ بھال میں مجرمانہ غفلت اس صورتحال کو مزید ابتر کر رہا ہے۔

    موجودہ معاشی اور معاشرتی سائنس یہ کہتی ہے کہ کسان دوست پالیسیاں اپنا کر نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کو اپنے حق میں کیا جا سکتا ہے بلکہ پیداوار میں بھی خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ اسکے علاوہ سیلاب کے بعد کسانوں کے ساتھ مل کر اُنکے فہم و فراست جو صدیوں سے اُنہوں نے ان علاقوں میں رہ کر حاصل کیا، کی مدد سے آئندہ آنے والی آفتوں سے بچا جا سکتا ہے۔ مگر بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالے گا کون؟

  • پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    کیا آپ نے کبھی ایسے جانور دیکھے جنکی ٹانگوں کی بجائے پہیے لگے ہوں؟ غالباً نہیں اور شاید دیکھ بھی نہ پائیں کیونکہ ایسے جانور فطرت میں نہیں پائے جاتے۔ اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ سوچیں
    خیر!!

    لاکھوں برس سے زمین پر موجود انسان فطرت میں پہیہ نہ دیکھ کر اسے ایجاد نہ کر سکا۔ آج ہم جو کہتے کہ پیہہ انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے تو یہ اس لئے کہ انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول میں پیہہ نہ دیکھ کر اپنی تخیلاتی صلاحیتوں سے ایک مصنوعی شے بنائی جس نے انسانوں کی زندگی بدل دی۔

    پہیہ آج سے تقریبا 4 سے 5 ہزار سال پہلے ایجاد ہوا۔جس سے آمد و رفت میں بہتری آئی۔ تہذیبوں میں روابط بڑھے۔ فاصلے کم ہوئے۔ خیالات کا تبادلہ بہتر ہوا اور اس تبادلے سے علم بڑھا۔ انسان نے ترقی کی۔

    آج ہم اکسیویں صدی میں موجود ہیں۔ پیہے
    سے ہم نے زمین پر فاصلے کم کیے اور اب راکٹ سے خلاؤں میں فاصلے کم کر رہے ہیں۔خلاؤں میں جدید دوربینوں کے ذریعے تسخیر کائنات میں مصروف ہیں۔اسی تسسل میں پچھلے سال تاریخ ِ انساں کی جدید ترین ٹیلسکوپ جیمز ویب بھیجی گئی۔اور آج یہ ہمیں کائنات کے ایسے ایسے کونے دکھا رہی ہے جو پہلے ہم کبھی نہ دیکھ پائے۔

    اسی ماہ کے اوائل میں جیمز ویب نے ہمیں ایک تصویر بھیجی۔پہیہ نما کہکشاں کی۔ جسے کارٹ ویل گیلکسی کا نام دیا جاتا ہے۔اب ایسا نہیں کہ ہمیں اس کہکشاں کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔
    یہ کام جیمز ویب کی سوکن ہبل پہلے کر چکی تھی اور اس سے پہلے ماہرین فلکیات کے ہر دل عزیز جناب Fritz Zwicky اسے 1941 میں دریافت کر چکے تھے ۔ مگر اس تفصیل اور صفائی سے ہم نے اس کہکشاں کو پہلی بار جیمز ویب دوربین سے ہی دیکھا۔

    کہکشاں کیا تھی؟
    کائنات کے کھیل کا ایک مظہر۔۔
    غالب کا ایک شعر تھا:
    بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا یے شب و روز تماشہ میرے آگے

    تو یہ کہکشاں بھی ہزار ہا سالوں سے کائنات میں میلہ لگائے بیٹھی تھی۔
    دراصل یہ پہیے کی شکل کی کہکشاں ہم سے 50 لاکھ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
    اسکی شکل ایسی کیوں یے؟ اس بارے میں مانا جاتا ہے کہ ماضی میں دراصل ایک سپائرل کہکشاں جیسے کہ ہماری ملکی وے جیسی تھی مگر پھر اس سے ایک چھوٹی کہکشاں ٹکرائی اور یوں کائنات کے اس کونے میں پیہہ نما کہشاں تشکیل پائی۔

    اس کہکشاں کا ایک روشن مرکزہ ہےاور اسکے گرد دو ہالے ہیں۔ کہکشاں کے روشن مرکزے میں بہت بڑا بلیک ہول ہے جسکے گِرد گرم خلائی گرد ہے۔

    مرکزی روشن ہالے میں پرانےاور نئے ستارے موجود ہیں جبکہ باہر کا رنگین ہالہ جو لاکھوں نوری سالوں پر محیط ہے، میں کئی ستارے ختم ہو کر سپرنووا بن رہے ہیں اور کئی نئے ستارے پرانے ستاروں کی گرد اور گیس سے پھر سے بن رہے ہیں۔

    دراصل جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ دو کہکشاؤں کا ٹکراؤ کے بعد کا منظر ہے جو ماضی میں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور اب ایک بنتی جا رہی ہیں۔

    بالکل ایسے ہی آج سے 4 ارب سال بعد ہماری ملکی وے اور ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومڈا بھی ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
    نئے ستارے، نئے سورج جنم لیں گے اور ممکن ہے ان نئے سورجوں کے گرد زمین جیسی دنیائیں بنیں جن پر ہم جیسی کوئی مخلوق وجود میں آئے۔

    اور شاید وہ یہ کبھی نہ جان سکیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی تھا جو پیہے کی ایجاد سے پیہہ نما کہکشاں کی حقیقت تک پہنچا۔

    کائنات میں ہماری حقیقت بس اتنی ہے!!

  • پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    ایک انسانی پاؤں میں 26 ہڈیاں، 30 جوڑ اور 100 پٹھے، Tendons اور ligaments ہوتے ہیں۔ پٹھے یعنی مسلز تو آپ نے قربانی کرتے ہوئے جانوروں میں دیکھے ہوں گے۔ یہ ایک طرف ہماری ہڈیوں اور دوسری طرف اسکن کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ پٹھے کا رنگ عموماً سرخ ہوتا ہے اور ہڈی کے ساتھ جو چیز اسے جوڑتی اسے ٹینڈن tendon کہتے ہیں۔ یہ سفید رنگ کا چھوٹا سا حصہ ہوتا جو مسل اور ہڈی کا مضبوط کنکشن بناتا ہے۔ Ligaments کو آپ ایلاسٹک کہہ سکتے ہیں۔ جن کی وجہ سے ہمارے جوڑ حرکت کرتے ہیں۔ اور مطلوبہ حرکت کے بعد واپس اپنی جگہ پر آجاتے ہیں۔ جوڑوں کی حرکت میں لچک ان کی ہی وجہ سے ہے۔

    پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ بچوں کے پاؤں میں ہڈیاں پوری 26 ہی ہوتی ہیں۔ مسلز بھی پورے ہوتے ہیں۔۔ بس Achilles tendon کا سائز کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاؤں کی پوزیشن نارمل نہیں رہتی۔ اور پاؤں اندر یا نیچے (in and under) مڑ جاتا ہے۔ اسے ہم کلب فٹ کہتے پیں۔ یہ سو فیصد ایک قابل علاج کنڈیشن ہے۔ اگر بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ بچہ بلکل ٹھیک ہو سکتا ہے۔

    ہر سال پاکستان میں تقریباً 6 ہزار بچے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ 1 ہزار میں سے 1 بچہ اس کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ہر تین متاثرہ بچوں میں سے دو لڑکے اور 1 لڑکی ہوتی ہے۔ یعنی لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کی نسبت ڈبل ہے۔ متاثرہ 100 بچوں میں سے 50 کا ایک پاؤں ٹیڑھا ہوگا اور باقی پچاس کے دونوں پاؤں۔ یہ ٹیڑھا پن تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے یا تو اندر کی طرف ہوتا ہے یا پاؤں نیچے مڑا ہوتا ہے ایڑھی زمین پر نہیں لگتی۔ کچھ کیسز میں پاؤں کی ہتھیلی پیچھے کو بھی مڑی ہو سکتی ہے۔

    ان بچوں کی متاثرہ پاؤں والی ٹانگ بھی دوسری سے معمولی سے چھوٹی ہو سکتی ہے۔ جو چلتے ہوئے محسوس ہوسکتی ہے نہیں بھی محسوس ہو سکتی۔ اور متاثرہ پاؤں دوسرے پاؤں سے 1 یا آدھا انچ چھوٹا رہ سکتا ہے۔ یعنی بڑے ہوکر بھی ایک پاؤں میں جوتا 40 نمبر اور دوسرے میں 39 آئے گا۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    اس کی سب سے بڑی قسم Idiopathic Clubfoot ہے۔ اس میں پیدائشی طور پر بچے کا ایک یا دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے ایک بچہ اسی قسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی کوئی مستند معلوم وجہ نہیں ہے۔ دوران حمل والدہ کا سگریٹ یا شراب پینا، بچہ دانی میں حمل کے شروع سے ہی امنیاٹک فلیوڈ Amniotic fluid کی مقدار بہت کم ہونا، والد یا والدہ کو یہ مسئلہ ہونا یا انکے خاندان میں کوئی ہسٹری ہونا اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ چاند گرہن کسی عورت کے سائے، اٹھرا وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری قسم میں Neurogenic Clubfoot آتا ہے۔ اگر بچہ سپائنا بیفیڈا یا سیری برل پالسی کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو امکان ہیں بچے کو کچھ عرصہ بعد کلب فٹ بھی ہو جائے گا۔ سپائنا بیفیڈا میں جب آپریشن ہوتا ہے تو بہت سی نسیں دب یا کٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے پوری ٹانگ بشمول پاؤں کے مسلز و نسیں کھچ جاتی ہیں اور پاؤں مڑ جاتے ہیں۔

    تیسری قسم میں Syndromic Clubfoot ہوتا ہے۔ بونے بچوں میں بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔ جن سنڈرومز کے ساتھ کلب فٹ ہو سکتا وہ یہ ہیں
    arthrogryposis, constriction band syndrome, tibial hemimelia and diastrophic dwarfism.

    علاج کیا ہے؟

    اس کی روک تھام تو ابھی تک پوری دنیا میں نہیں ہے۔ مگر اسکا علاج انتہائی سستا اور آسان ہے۔ بروقت علاج سے سو فیصد بچے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاج میں دو سٹیجز ہیں۔ پہلی میں متاثرہ بچوں کو پیدائش کے دوسرے ہفتے میں ہی پاؤں کی پوزیشن کو سیدھا کرکے اوپر پلستر لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی آپریشن نہیں ہوتا۔ چھوٹے بچوں کے مسلز اور ٹینڈن اتنے لچکدار ہوتے ہیں کہ ان کو جیسے مرضی موڑ لیں بچے کو کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہوتی۔ اسے پروفیشنل Ponseti Serial Casting کہتے ہیں۔ یہ پلستر ہر 7 سے 10 دن بعد بدل دیا جاتا ہے۔ عموماً چھٹے پلستر میں اگر Achilles tendon بقدر ضرورت لمبے نہ ہوئے ہوں تو پاؤں میں ایک چھوٹے سے بلیڈ سے کٹ لگا کر ایک دوائی لگا کر آخری پلستر کر دیا جاتا ہے جو دو سے تین ہفتے تک رہتا ہے۔ اور پاؤں بلکل سیدھا ہو جاتا ہے۔

    دوسرے مرحلے میں اس سیدھے پن کو قائم رکھنے کے لیے Bracing کی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے والدین لاپرواہی کر جاتے ہیں۔ اور پاؤں پھر سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے جس کا آپریشن سے بھی کئی بار علاج ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ایسا جوتا پلستر والا کام ختم ہونے کے اگلے دن سے ہی بچے کو پہنایا جاتا ہے۔ جس میں پاؤں کی پوزیشن چلتے پھرتے ایک جیسی رہے۔ یہ جوتا شروع میں 2 ماہ تک چوبیس میں سے 23 گھنٹے پہننا ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد مزید دو سال رات کو وہی جوتا پہنا کر بچے کو سلانا ہوتا ہے۔ دن میں چلتے پھرتے تو پاؤں ٹھیک رہتا ہے۔۔ رات کو وہ بریس نہ پہنی ہو تو پاؤں اپنی خراب حالت کی طرف واپس مڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں بھی لاپرواہ قسم کے والدین معاملہ اللہ کی سپرد کرکے رات کو بریس نہ پہنا کر سارے کیے کترے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

    یوں سمجھیے کہ تین سے چار سال کی محنت جس میں کوئی زیادہ پیسے نہیں لگ رہے۔ آپ کے بچے یا بچی کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے۔

    میں دیکھتا ہوں بے شمار نوجوان لڑکے لڑکیاں ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ ہیں۔کئی آپریشن کروا چکے ہیں۔ جو فرق پیدا ہونے کے فوراً بعد علاج سے پڑنا تھا وہ اب نہیں پڑ سکتا جو مرضی کر لیں۔ جتنی تاخیر سے علاج شروع ہوگا اتنے ہی کم چانسز ہیں کہ پاؤں سیدھا ہوجائے گا۔ آپ صرف دو چار ماہ تاخیر کردیں تو پاؤں سو فیصد ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ سالوں کی تاخیر تو کبھی بھی ریکور نہیں ہو سکتی۔

    ایسے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے رشتے کرنے میں بھی والدین کو بہت مشکل پیش آتی ہے۔ ان افراد کو ساری عمر امتیازی و ناروا سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ایک ٹیڑھے پاؤں والی لڑکی میرے سرکل میں باٹنی کی لکچرر تھی۔ نین نقش عقل شکل کد کاٹھ حسب نسب سب کچھ اچھا تھا۔ مگر کلب فٹ کی وجہ سے بلکل گئے گزرے لوگ اسے قبول کرتے تھے۔ کوئی بھی مناسب سا رشتہ نہیں مل رہا تھا۔ ان پڑھ و لالچی قسم کے لوگوں کے رشتے آتے تھے جن کی بظاہر نظر لڑکی کمائی پر ہوتی تھی۔ کوئی پڑھا لکھا شخص اسے قبول نہ کرتا تھا۔

    اسکی شادی شدہ بہن کی اکٹوپک حمل کی وجہ سے وفات ہوگئی اور اسی جگہ اسکا نکاح ہوگیا۔ اپنے ایک بیٹی کے ساتھ بہن کے بھی دو بچوں کو پال رہی ہے۔ میں جانتا ہوں اس نے 6 سال اپنے رشتے کی وجہ سے جس ناقابل برداشت رجیکشن کا سامنا کیا اس کی وجہ سے اسکی شخصیت کس قدر تباہ ہوگئی تھی۔ اب بھی وہ کسی سے بلکل رابطے میں نہیں ہے۔ وہ وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی بہت روتی تھی کہ مجھے وہ بندہ نہیں پسند مجھ سے پندرہ سال بڑا ہے۔ مگر گھر والوں نے زبردستی کر دی کہ اور تو کوئی ڈھنگ کا رشتہ مل نہیں رہا۔

    ایسے ہی جوڑ اس کنڈیشن والے لڑکوں کی شادی کے وقت بنتے ہیں۔ساری عمر بظاہر مکمل ہو کر بھی ایک ادھورے پن میں گزرتی ہے۔

    اسکا علاج ملک بھر میں کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ آرتھوپیڈک سرجن سے کروایا جا سکتا ہے۔ مگر پیدائش کے فوراً بعد بغیر کسی بھی تاخیر کے۔