Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    پہیے سے پہیے والی کہکشاں تک!!! — ڈاکٹرحفیظ الحسن

    کیا آپ نے کبھی ایسے جانور دیکھے جنکی ٹانگوں کی بجائے پہیے لگے ہوں؟ غالباً نہیں اور شاید دیکھ بھی نہ پائیں کیونکہ ایسے جانور فطرت میں نہیں پائے جاتے۔ اسکی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ سوچیں
    خیر!!

    لاکھوں برس سے زمین پر موجود انسان فطرت میں پہیہ نہ دیکھ کر اسے ایجاد نہ کر سکا۔ آج ہم جو کہتے کہ پیہہ انسان کی سب سے بڑی ایجاد ہے تو یہ اس لئے کہ انسان نے اپنے اردگرد کے ماحول میں پیہہ نہ دیکھ کر اپنی تخیلاتی صلاحیتوں سے ایک مصنوعی شے بنائی جس نے انسانوں کی زندگی بدل دی۔

    پہیہ آج سے تقریبا 4 سے 5 ہزار سال پہلے ایجاد ہوا۔جس سے آمد و رفت میں بہتری آئی۔ تہذیبوں میں روابط بڑھے۔ فاصلے کم ہوئے۔ خیالات کا تبادلہ بہتر ہوا اور اس تبادلے سے علم بڑھا۔ انسان نے ترقی کی۔

    آج ہم اکسیویں صدی میں موجود ہیں۔ پیہے
    سے ہم نے زمین پر فاصلے کم کیے اور اب راکٹ سے خلاؤں میں فاصلے کم کر رہے ہیں۔خلاؤں میں جدید دوربینوں کے ذریعے تسخیر کائنات میں مصروف ہیں۔اسی تسسل میں پچھلے سال تاریخ ِ انساں کی جدید ترین ٹیلسکوپ جیمز ویب بھیجی گئی۔اور آج یہ ہمیں کائنات کے ایسے ایسے کونے دکھا رہی ہے جو پہلے ہم کبھی نہ دیکھ پائے۔

    اسی ماہ کے اوائل میں جیمز ویب نے ہمیں ایک تصویر بھیجی۔پہیہ نما کہکشاں کی۔ جسے کارٹ ویل گیلکسی کا نام دیا جاتا ہے۔اب ایسا نہیں کہ ہمیں اس کہکشاں کے بارے میں پہلے سے علم نہیں تھا۔
    یہ کام جیمز ویب کی سوکن ہبل پہلے کر چکی تھی اور اس سے پہلے ماہرین فلکیات کے ہر دل عزیز جناب Fritz Zwicky اسے 1941 میں دریافت کر چکے تھے ۔ مگر اس تفصیل اور صفائی سے ہم نے اس کہکشاں کو پہلی بار جیمز ویب دوربین سے ہی دیکھا۔

    کہکشاں کیا تھی؟
    کائنات کے کھیل کا ایک مظہر۔۔
    غالب کا ایک شعر تھا:
    بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
    ہوتا یے شب و روز تماشہ میرے آگے

    تو یہ کہکشاں بھی ہزار ہا سالوں سے کائنات میں میلہ لگائے بیٹھی تھی۔
    دراصل یہ پہیے کی شکل کی کہکشاں ہم سے 50 لاکھ نوری سالوں کے فاصلے پر واقع ہے۔
    اسکی شکل ایسی کیوں یے؟ اس بارے میں مانا جاتا ہے کہ ماضی میں دراصل ایک سپائرل کہکشاں جیسے کہ ہماری ملکی وے جیسی تھی مگر پھر اس سے ایک چھوٹی کہکشاں ٹکرائی اور یوں کائنات کے اس کونے میں پیہہ نما کہشاں تشکیل پائی۔

    اس کہکشاں کا ایک روشن مرکزہ ہےاور اسکے گرد دو ہالے ہیں۔ کہکشاں کے روشن مرکزے میں بہت بڑا بلیک ہول ہے جسکے گِرد گرم خلائی گرد ہے۔

    مرکزی روشن ہالے میں پرانےاور نئے ستارے موجود ہیں جبکہ باہر کا رنگین ہالہ جو لاکھوں نوری سالوں پر محیط ہے، میں کئی ستارے ختم ہو کر سپرنووا بن رہے ہیں اور کئی نئے ستارے پرانے ستاروں کی گرد اور گیس سے پھر سے بن رہے ہیں۔

    دراصل جو ہم دیکھ رہے ہیں وہ دو کہکشاؤں کا ٹکراؤ کے بعد کا منظر ہے جو ماضی میں ایک دوسرے سے الگ تھیں اور اب ایک بنتی جا رہی ہیں۔

    بالکل ایسے ہی آج سے 4 ارب سال بعد ہماری ملکی وے اور ہماری پڑوسی کہکشاں اینڈرومڈا بھی ایک دوسرے سے ٹکرائیں گی۔
    نئے ستارے، نئے سورج جنم لیں گے اور ممکن ہے ان نئے سورجوں کے گرد زمین جیسی دنیائیں بنیں جن پر ہم جیسی کوئی مخلوق وجود میں آئے۔

    اور شاید وہ یہ کبھی نہ جان سکیں کہ ان سے پہلے بھی کوئی تھا جو پیہے کی ایجاد سے پیہہ نما کہکشاں کی حقیقت تک پہنچا۔

    کائنات میں ہماری حقیقت بس اتنی ہے!!

  • پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    پاؤں کا ٹیڑھا پن (Clubfoot) — خطیب احمد

    ایک انسانی پاؤں میں 26 ہڈیاں، 30 جوڑ اور 100 پٹھے، Tendons اور ligaments ہوتے ہیں۔ پٹھے یعنی مسلز تو آپ نے قربانی کرتے ہوئے جانوروں میں دیکھے ہوں گے۔ یہ ایک طرف ہماری ہڈیوں اور دوسری طرف اسکن کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں۔ پٹھے کا رنگ عموماً سرخ ہوتا ہے اور ہڈی کے ساتھ جو چیز اسے جوڑتی اسے ٹینڈن tendon کہتے ہیں۔ یہ سفید رنگ کا چھوٹا سا حصہ ہوتا جو مسل اور ہڈی کا مضبوط کنکشن بناتا ہے۔ Ligaments کو آپ ایلاسٹک کہہ سکتے ہیں۔ جن کی وجہ سے ہمارے جوڑ حرکت کرتے ہیں۔ اور مطلوبہ حرکت کے بعد واپس اپنی جگہ پر آجاتے ہیں۔ جوڑوں کی حرکت میں لچک ان کی ہی وجہ سے ہے۔

    پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ بچوں کے پاؤں میں ہڈیاں پوری 26 ہی ہوتی ہیں۔ مسلز بھی پورے ہوتے ہیں۔۔ بس Achilles tendon کا سائز کافی چھوٹا ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پاؤں کی پوزیشن نارمل نہیں رہتی۔ اور پاؤں اندر یا نیچے (in and under) مڑ جاتا ہے۔ اسے ہم کلب فٹ کہتے پیں۔ یہ سو فیصد ایک قابل علاج کنڈیشن ہے۔ اگر بروقت علاج کروا لیا جائے تو متاثرہ بچہ بلکل ٹھیک ہو سکتا ہے۔

    ہر سال پاکستان میں تقریباً 6 ہزار بچے پیدائشی طور پر ایک یا دونوں پاؤں کے ٹیڑھے پن کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ 1 ہزار میں سے 1 بچہ اس کنڈیشن کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ ہر تین متاثرہ بچوں میں سے دو لڑکے اور 1 لڑکی ہوتی ہے۔ یعنی لڑکوں کی تعداد لڑکیوں کی نسبت ڈبل ہے۔ متاثرہ 100 بچوں میں سے 50 کا ایک پاؤں ٹیڑھا ہوگا اور باقی پچاس کے دونوں پاؤں۔ یہ ٹیڑھا پن تصویر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے یا تو اندر کی طرف ہوتا ہے یا پاؤں نیچے مڑا ہوتا ہے ایڑھی زمین پر نہیں لگتی۔ کچھ کیسز میں پاؤں کی ہتھیلی پیچھے کو بھی مڑی ہو سکتی ہے۔

    ان بچوں کی متاثرہ پاؤں والی ٹانگ بھی دوسری سے معمولی سے چھوٹی ہو سکتی ہے۔ جو چلتے ہوئے محسوس ہوسکتی ہے نہیں بھی محسوس ہو سکتی۔ اور متاثرہ پاؤں دوسرے پاؤں سے 1 یا آدھا انچ چھوٹا رہ سکتا ہے۔ یعنی بڑے ہوکر بھی ایک پاؤں میں جوتا 40 نمبر اور دوسرے میں 39 آئے گا۔

    وجوہات کیا ہیں؟

    اس کی سب سے بڑی قسم Idiopathic Clubfoot ہے۔ اس میں پیدائشی طور پر بچے کا ایک یا دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک ہزار میں سے ایک بچہ اسی قسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس کی کوئی مستند معلوم وجہ نہیں ہے۔ دوران حمل والدہ کا سگریٹ یا شراب پینا، بچہ دانی میں حمل کے شروع سے ہی امنیاٹک فلیوڈ Amniotic fluid کی مقدار بہت کم ہونا، والد یا والدہ کو یہ مسئلہ ہونا یا انکے خاندان میں کوئی ہسٹری ہونا اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ چاند گرہن کسی عورت کے سائے، اٹھرا وغیرہ سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری قسم میں Neurogenic Clubfoot آتا ہے۔ اگر بچہ سپائنا بیفیڈا یا سیری برل پالسی کے ساتھ پیدا ہوا ہے تو امکان ہیں بچے کو کچھ عرصہ بعد کلب فٹ بھی ہو جائے گا۔ سپائنا بیفیڈا میں جب آپریشن ہوتا ہے تو بہت سی نسیں دب یا کٹ جاتی ہیں جس کی وجہ سے پوری ٹانگ بشمول پاؤں کے مسلز و نسیں کھچ جاتی ہیں اور پاؤں مڑ جاتے ہیں۔

    تیسری قسم میں Syndromic Clubfoot ہوتا ہے۔ بونے بچوں میں بھی یہ مسئلہ ہوسکتا ہے۔ جن سنڈرومز کے ساتھ کلب فٹ ہو سکتا وہ یہ ہیں
    arthrogryposis, constriction band syndrome, tibial hemimelia and diastrophic dwarfism.

    علاج کیا ہے؟

    اس کی روک تھام تو ابھی تک پوری دنیا میں نہیں ہے۔ مگر اسکا علاج انتہائی سستا اور آسان ہے۔ بروقت علاج سے سو فیصد بچے ٹھیک ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاج میں دو سٹیجز ہیں۔ پہلی میں متاثرہ بچوں کو پیدائش کے دوسرے ہفتے میں ہی پاؤں کی پوزیشن کو سیدھا کرکے اوپر پلستر لگا دیا جاتا ہے۔ کوئی آپریشن نہیں ہوتا۔ چھوٹے بچوں کے مسلز اور ٹینڈن اتنے لچکدار ہوتے ہیں کہ ان کو جیسے مرضی موڑ لیں بچے کو کوئی نقصان یا تکلیف نہیں ہوتی۔ اسے پروفیشنل Ponseti Serial Casting کہتے ہیں۔ یہ پلستر ہر 7 سے 10 دن بعد بدل دیا جاتا ہے۔ عموماً چھٹے پلستر میں اگر Achilles tendon بقدر ضرورت لمبے نہ ہوئے ہوں تو پاؤں میں ایک چھوٹے سے بلیڈ سے کٹ لگا کر ایک دوائی لگا کر آخری پلستر کر دیا جاتا ہے جو دو سے تین ہفتے تک رہتا ہے۔ اور پاؤں بلکل سیدھا ہو جاتا ہے۔

    دوسرے مرحلے میں اس سیدھے پن کو قائم رکھنے کے لیے Bracing کی جاتی ہے۔ یہاں بہت سے والدین لاپرواہی کر جاتے ہیں۔ اور پاؤں پھر سے ٹیڑھا ہوجاتا ہے جس کا آپریشن سے بھی کئی بار علاج ممکن نہیں ہوتا۔ ایک ایسا جوتا پلستر والا کام ختم ہونے کے اگلے دن سے ہی بچے کو پہنایا جاتا ہے۔ جس میں پاؤں کی پوزیشن چلتے پھرتے ایک جیسی رہے۔ یہ جوتا شروع میں 2 ماہ تک چوبیس میں سے 23 گھنٹے پہننا ہوتا ہے۔ اور اس کے بعد مزید دو سال رات کو وہی جوتا پہنا کر بچے کو سلانا ہوتا ہے۔ دن میں چلتے پھرتے تو پاؤں ٹھیک رہتا ہے۔۔ رات کو وہ بریس نہ پہنی ہو تو پاؤں اپنی خراب حالت کی طرف واپس مڑنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس میں بھی لاپرواہ قسم کے والدین معاملہ اللہ کی سپرد کرکے رات کو بریس نہ پہنا کر سارے کیے کترے پر پانی پھیر دیتے ہیں۔

    یوں سمجھیے کہ تین سے چار سال کی محنت جس میں کوئی زیادہ پیسے نہیں لگ رہے۔ آپ کے بچے یا بچی کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتی ہے۔

    میں دیکھتا ہوں بے شمار نوجوان لڑکے لڑکیاں ٹیڑھے پاؤں کے ساتھ ہیں۔کئی آپریشن کروا چکے ہیں۔ جو فرق پیدا ہونے کے فوراً بعد علاج سے پڑنا تھا وہ اب نہیں پڑ سکتا جو مرضی کر لیں۔ جتنی تاخیر سے علاج شروع ہوگا اتنے ہی کم چانسز ہیں کہ پاؤں سیدھا ہوجائے گا۔ آپ صرف دو چار ماہ تاخیر کردیں تو پاؤں سو فیصد ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ سالوں کی تاخیر تو کبھی بھی ریکور نہیں ہو سکتی۔

    ایسے نوجوان لڑکوں لڑکیوں کے رشتے کرنے میں بھی والدین کو بہت مشکل پیش آتی ہے۔ ان افراد کو ساری عمر امتیازی و ناروا سلوک کا سامنا رہتا ہے۔ ایک ٹیڑھے پاؤں والی لڑکی میرے سرکل میں باٹنی کی لکچرر تھی۔ نین نقش عقل شکل کد کاٹھ حسب نسب سب کچھ اچھا تھا۔ مگر کلب فٹ کی وجہ سے بلکل گئے گزرے لوگ اسے قبول کرتے تھے۔ کوئی بھی مناسب سا رشتہ نہیں مل رہا تھا۔ ان پڑھ و لالچی قسم کے لوگوں کے رشتے آتے تھے جن کی بظاہر نظر لڑکی کمائی پر ہوتی تھی۔ کوئی پڑھا لکھا شخص اسے قبول نہ کرتا تھا۔

    اسکی شادی شدہ بہن کی اکٹوپک حمل کی وجہ سے وفات ہوگئی اور اسی جگہ اسکا نکاح ہوگیا۔ اپنے ایک بیٹی کے ساتھ بہن کے بھی دو بچوں کو پال رہی ہے۔ میں جانتا ہوں اس نے 6 سال اپنے رشتے کی وجہ سے جس ناقابل برداشت رجیکشن کا سامنا کیا اس کی وجہ سے اسکی شخصیت کس قدر تباہ ہوگئی تھی۔ اب بھی وہ کسی سے بلکل رابطے میں نہیں ہے۔ وہ وہاں شادی نہیں کرنا چاہتی تھی بہت روتی تھی کہ مجھے وہ بندہ نہیں پسند مجھ سے پندرہ سال بڑا ہے۔ مگر گھر والوں نے زبردستی کر دی کہ اور تو کوئی ڈھنگ کا رشتہ مل نہیں رہا۔

    ایسے ہی جوڑ اس کنڈیشن والے لڑکوں کی شادی کے وقت بنتے ہیں۔ساری عمر بظاہر مکمل ہو کر بھی ایک ادھورے پن میں گزرتی ہے۔

    اسکا علاج ملک بھر میں کسی بھی سرکاری و پرائیویٹ آرتھوپیڈک سرجن سے کروایا جا سکتا ہے۔ مگر پیدائش کے فوراً بعد بغیر کسی بھی تاخیر کے۔

  • بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    بارے زحل کے!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کا چھٹا سیارہ اور مشتری کے بعد سائز میں دوسرے نمبر پر۔ قدیم زمانوں سے انسان اس سیارے کو دیکھتے آئے جو اسمانوں میں چمکتا اور سال بھر اپنی جگہ بدلتا۔

    مگر جب سترویں صدی کے آغاز پر دوربین ایجاد ہوئی اور اسے دیکھا گیا تو اس سیارے کے ساتھ بڑے علاقے تک پھیلے روشن رِنگز تھے۔ زحل دراصل گیس جائینٹ ہے۔ اسکی کوئی ٹھوس سطح نہیں ہے۔ یعنی یہ گیسوں سے بنا ہے۔ ویسے ہی جیسے مشتری ہائیڈروجن اور ہیلیئم سے بنا ہے۔

    ہماری زمین کا محض ایک چاند ہے جبکہ زحل کے چاند ہیں 83۔ ان میں سب سے بڑا چاند کے ٹائٹن۔ یہ زمین کے چاند سے تقریباً ڈیڑھ گنا بڑا ہے۔ گو زحل پر زندگی ہونا ناممکن ہے مگر اسکے مختلف چاندوں پر پانی اور نامیاتی مالیکولز ملے ہیں جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔

    زحل کے رنگز دراصل مختلف سائز کی خلائی چٹانیں ہیں جنکا سائز زمین پر کسی اوسط پہاڑ کے سائز سے لیکر چند سینٹی میٹر تک ہے۔ یہ رنگز زحل سے 2 لاکھ 82 ہزار کلومیٹر اوپر تک کے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں۔ زحل کے رنگز کائناتی عمر کے اعتبار سے ابھی ابھی بنے ہیں۔ یعنی محض چند کروڑ سال قبل۔ ہم یہ کیسے جانتے ہیں؟ کمپیوٹر ماڈلز اور ان چٹانوں کی ساخت کو جان کر۔

    زحل اپنے مدار میں ایک چکر 10.7 گھنٹوں میں مکمل کرتا ہے گویا اس پر ایک دن زمین کے آدھے دن سے بھی کم ہے۔ جبکہ سورج کے گرد یہ ایک چکر 29.4 زمینی سالوں میں مکمل کرتا ہے۔ زحل کی کثافت پانی سے کم ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ اگر زحل کو زحل سے سائز میں بڑے کسی سمندر میں پھنیکا جائے تو یہ تیرنے لگے گا۔

    2004 تک ناسا کے تین سپیس کرافٹ زحل کے قریب سے گزرے اور اسکی تصاویر زمین تک بھیجیں۔ مگر 2004 میں ناسا کا کاسینی سپیس کرافٹ زحل کے مدار میں داخل ہوا جسکے بعد سائنسدانوں کو زحل کا بہتر تجزیہ کرنے کا موقع ملا۔ اس سپیس کرافٹ کے ساتھ ایک سپیس پراب ہیوگن بھی تھا جو 2005 میں زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن ہر اُترا۔ اس پر کئی سائنسی الات نصب تھے اور یہ انسانوں کا کسی دوسرے سیارے کے چاند پر پہلا کامیاب مشن تھا۔ یہ پراب محض 72 منٹ تک ٹائٹن کی سطح پر کام کرتا رہا۔ البتہ کاسینی سپیس کرافٹ 13 سال تک زحل کے گرد مدار میں رہا اور اسکی فضا کا تفصیلی جائزہ لیتا رہا۔ ستمبر 2017 میں یہ اپنے مدار سے نکلا اور زحل کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔ اب 2026 میں ناسا زحل کے اس چاند ٹائیٹن تک ایک اور سپیس کرافٹ بھیجے گا جسکا نام ڈریگن فلائی ہو گا اور یہ 2034 میں اسکی سطح پر اُترے گا اور یہاں زندگی کے آثار ڈھونڈے گا۔

  • سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سائنسی تھیوری کیا ہوتی ہے؟ — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    غلط فہمی۔۔ "سائنسی تھیوری جب ثابت ہوتی ہے تو لا بن جاتی ہے”.

    یا پھر
    ” سائنس کی تھیوری فیکٹ نہیں ہوتی۔ ”

    بچپن میں ٹی وی پر ڈاکٹر نائیک سائنس کو غلط طریقے سے پیش کرتے اور ہم سائنس کا محدود علم رکھتے ہوئے واہ واہ کرتے ۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے پتہ چلنا شروع ہوا کہ سائنس میں تھیوری کی کیا اہمیت ہوتی ہے اور جب ہم کسی شے کو سائنسی تھیوری کہتے ہیں تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ سائنس میں یہ سب سے اونچے درجے پر ہے۔ ایسی غلط فہمیاں ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہیں کہ اصل سائنس سکھانے والے پیچھے ہوتے ہیں، انہیں مجمع لگانا نہیں آتا اور وہ جنکو سائنس کی سمجھ بوجھ نہیں ہوتی وہ مجمع لگا کر اپنے مطلب کی سائنسی تشریحات کے کبوتر نکال نکال کر عوام کو مزید جاہل رکھتے ہیں۔ تو کیا سائنس میں تھیوری لا سے کمتر یا فیکٹ سے نیچے ہے؟ آئیں اس غلط فہمی کو دور کرتے ہیں۔

    درحقیقت ایسا نہیں ہے۔ سائنس میں تھیوری ہمیشہ ایک مسلمہ حقیقت ہوتی ہے۔ سائنس کو سنجیدگی سے پڑھنے اور سمجھنے والے لوگ یہ جانتے ہیں کہ سائنسی تھیوری دراصل انگریزی زبان میں عام فہم استعمال ہونے والی تھیوری سے مختلف معنی رکھتی ہے۔ کسی بھی تھیوری کو سائنسی تھیوری بننے میں تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔
    1. وہ تھیوری کسی مظاہرِ قدرت کو بیان کرے کہ وہ کیسے ظہور پذیر ہوتا ہے۔ اسکے لئے ریاضی کا ایک مکمل فریم ورک بنایا جاتا ہے جو تفصیل سے اُس مظہر کو بیان کرے۔

    2. وہ تھیوری اپنے ثابت ہونے کے لئے پیشن گوئیاں کرے جسے تجربات اور مشاہدات سے ثابت کیا جا سکے۔

    3. وہ تھیوری ان تجربات اور مشاہدات سے مکمل ثابت ہو جائے۔

    اب آتے ہیں لا کی طرف۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنسی لا دراصل ایک مصدقہ اور ٹھوس قانون ہے جو ثابت شدہ ہے اور یہ کہ جب تھیوری ثابت ہو جائے تو یہ لا بن جاتی ہے۔
    سائنس میں مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ایک سائنسی لا دراصل ایک سائنسی تھیوری ہی سے نکلا ہوتا ہے۔ یعنی کہ وہ اّس تھیوری کی ایک محدود شکل یا حصہ ہوتا ہے۔
    مثال کے طور پر تھرموڈائنامک تھیوری یہ بتاتی ہے کہ حرارت کسی سسٹم میں کس طرح منتقل یا اُس سے خارج ہوتی ہے۔ اس تھیوری کے حصوں کو لا آف تھرموڈاینمکز کہا جاتا ہے۔
    اسی طرح گریوٹی کی تھیوری جو نیوٹن نے دی کہ ایک ان دیکھی قوت "گریوٹی” ہے جو ماس والی چیزیں ایک دوسرے پر لگاتی ہیں۔ اس تھیوری کے تحت لا آف گریوٹیشن بنا جو یہ بتاتا ہے کہ دو ماس کیسے اور کس قوت سے ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔
    اسی طرح انفارمیشن تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ کہ کس طرح انفارمیشن کو سٹور اور منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اس تھیوری کے تحت "شینن” لا یہ بتاتا ہے کہ کسی چینل پر کس حد ریٹ سے انفارمیشن منتقل کی جا سکتی ہے۔
    بالکل اسی طرح ایولوشن کی تھیوری جو یہ بتاتی ہے کہ زمین پر کوئی بھی جاندار ارتقاء کے عمل سے گزر کر مختلف انواع میں تبدیل ہوتا ہے۔ اس تھیوری کا ایک حصہ لا آف نیچرل سلیکشن ہے جو یہ بتاتا ہے کہ قدرت جانداروں میں اُن تبدیلیوں کو آگے بڑھنے دیتی ہے جو ماحول سے مطابقت رکھتے ہیں اور جن سے اُس جاندار کو بقاء میں فائدہ ہوتا ہے۔

    لہذا اگلی بار کوئی آپ کو کہے کہ کوئی بھی سائنسی تھیوری محض تھیوری ہے لا نہیں تو اُسے سائنسی اعتبار سے یہ وضاحت ضرور دیجئے گا۔

  • دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دُھند کی نعمت سے فائدہ اٹھائیں!!! — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ہمارے ہاشم عاشورہِ محرم میں سیکیورٹی کے نام پر موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند ہوجاتی ہے لوگوں کو رابطے میں دشواری ہوتی ہے اور آن لائن کاروبار ٹھپ ہونے کے ساتھ ساتھ موبائل کمپنیوں کا کاروبار بھی کچھ دنوں کے لئے بند ہوجاتا ہے۔

    اسی طرح کسی بھی احتجاج کے دوران کنٹینر لگا کر راستے بند کردئے جاتے ہیں۔ بزرگ ، مریض، حاملہ عورتوں اور بچوں کو سکول، ہسپتال اور روزمرہ زندگی کے معاملات میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ عام کاروبار بھی کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے۔

    تازہ ترین یہ ہے کہ آج کل کے دنوں میں دُھند کے دوران موٹر وے بند کردیا جاتا ہے جس سے لوگوں کا سفر اور کاروبار ڈسٹری ہوتا ہے اور مہینے بھر کے لئے معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوتا ہے۔

    پتہ نہیں ہم ہر کام کا حل چلتی پھرتی زندگی کو جام کرنے اور اپنا نقصان کرنے میں ہی کیوں سوچتے ہیں۔ کیا ان مسائل کو مواقع میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا؟

    کہتے ہیں کام کرنے والے کام کرنے کی کوئی ایک وجہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں جب کہ نکمے اور سست لوگ سو وجوہات کے ہوتے ہوئے بھی کام نہ کرنے کا ایک بہانہ تراش لیتے ہیں ۔

    دُھند زدہ اس ایک مہینے کے بعد اب ہمارے ہاں پانی کی کمی کی وجہ سے گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے پر واویلا ہوگا حالانکہ اس مضمون کے ساتھ شراکت کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دُھند کو پانی میں تبدیل کرنا تیکنیکی طور پر کتنا آسان اور قابلِ عمل ہے۔

    اس سے ملتے جلتے بے شمار طریقے استعمال کئے جا سکتے ہیں جس میں کپڑے کا نیٹ، پلاسٹک کی شیٹیں یا کوئی بھی اس جیسا اور میٹیرئیل استعمال کرکے دُھند کو پانی بنا کر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم کیوں نہ دُھند کی نعمت سے فائدہ اُٹھائیں۔

    یہ ایک اچھوتا بزنس آئیڈیا بھی بن سکتا ہے جس میں کوئی بھی زرعی مشینری سے متعلقہ سیٹ اَپ دُھند سے پانی بنانے والے متحرک (موبائل) یونٹ بنا کر کسانوں کو روزانہ کی بنیاد پر کرائے پر بھی دے سکتا ہے۔

    دُھند سے پانی بنانے والے یہ یونٹ اِس طرح بھی ڈیزائن کئے جاسکتے ہیں کہ مون سون کے موسم میں یہ افقی ہوکر بارش کا پانی بھی جمع کر سکیں ۔ یوں یہ مون سون اور دُھند، دونوں موسموں میں کارآمد ہو جائیں گے۔ ضرورت کے حساب سے ان کا سائز چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے اور ہر وہ جگہ جہاں ترپال یا پلاسٹک شیٹ کا استعمال ہو تا ہے وہاں اس طرح کے یونٹ کے لئے بھی وہی کپڑا استعمال ہو سکتا ہے۔

    اسی اُصول پر بھَٹّوں اور کارخانوں کی چمنیاں بھی ، جو عام طور پر ڈھند میں بند ہوتے ہیں ، دُھند کو واپس اندر کھینچ کر پانی میں تبدیل کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں یا پھر ایسی کئی موبائل چمنیاں بھی بنائی جا سکتی ہیں جو کھیتوں کی کنارے دُھند اپنے اندر کھینچ کر دوسری طرف نالے یا تالاب میں پانی نکال رہی ہوں۔

  • اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اے چاند خوبصورت!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    صدیوں سے شاعروں کے حسن و تخیل کا استعارہ، بیوی ہو یا محبوبہ لے دے کر چاند میاں ہی اُنکی تعریف کے لئے بطور مثال استعمال کیے جاتے ہیں۔ دیوداس فلم میں پارو کو دیو بابو کہتا ہے۔ اتنا غرور تو چاند کو بھی نہیں۔ جس پر پارو نہایت فلمی انداز میں جواب دیتی ہے کہ کیسے ہو چاند پر داغ جو ہیں۔

    کچھ عرصہ تک پاکستان ٹیلیوژن پر ایک کپڑے دھونے کے پاؤڈر کا اشتہار قوم کو یہ باور کراتا رہا کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔ اور اس اشتہار سے وہ اپنا پاؤڈر بیچ کر چاندی کماتے رہے۔ لیجئے چاندی میں بھی چاند آ گیا۔

    مگر سوال یہ ہے کہ چاند پر داغ کیوں ہیں؟ اسکے لیے ہمیں چاند کی کچھ تاریخ سمجھنا ہو گی۔

    ہم یہ جانتے ہیں کہ نظامِ شمسی آج سے قریب 4.6 ارب سال پہلے بنا۔ پہلے پہلے سورج بنا پھر اسکی دیکھا دیکھی باقی بچے کچھے نبیولا سے زمین اور دیگر سیارے۔ زمین کے بننے کا عمل تقریباً 4.5 ارب سال پہلے شروع ہوا۔ اسے ہم پروٹو ارتھ یعنی بنیادی زمین کہہ لیتے ہیں۔ اب جب زمین بنی تو نظامِ شمسی میں کوئی نظم و ضبط نہیں تھا۔ یوں سمجھیں کہ برتھ ڈے پارٹیاں چل رہی تھیں۔ کوئی سیارہ بن رہا ہے، کوئی کہاں سے کہاں ناچ رہا یے, کہیں گیس اور خلائی گرد بہک رہی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسے میں سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ زمین کے پاس مریخ جتنا بڑا ایک اور سیارہ "تھییا” ٹکرایا۔ اس سیارے کے ٹکرانے سے سیارے کا کچھ حصہ زمین میں شامل ہوا اور زمین اور تھییا کا کچھ حصہ خلا میں بکھر گیا جو زمین کے گرد گریویٹی کے باعث چکر کاٹنے لگا۔ بالکل ویسے ہی جیسے آج زحل کے گرد رنگز ہیں جو مختلف چھوٹی بڑی چٹانوں پر مشتمل ہیں۔ وقت کیساتھ ساتھ یہ ٹکڑے آپس میں جڑتے گئے اور چاند کی شکل اختیار کر گئے۔
    یہ نظریہ اس وقت کا سب سے زیادہ مانا جانے والا نظریہ ہے جسکے حق میں کمپیوٹر ماڈلز اور کئی اور ثبوت پیش کیے جاتے ہیں مثال کے طور پر چاند کے مدار اور زمین کی محوری گردش ایک سمت میں ہونا۔ چاند اور زمین کی چٹانوں کے تجزیے ، کائنات کے دوسرے ستاروں کے نزدیک انکے سیاروں میں ایسے واقعات کے مشاہدات وغیرہ وغیرہ۔

    شروع شروع میں چاند زمین کے بے حد قریب تھا یعنی محض 22 ہزار 500 کلومیٹر دور۔ (آج چاند ہم سے تقریباً 3 لاکھ 84 ہزار کلومیٹر دور ہے) جو آہستہ آہستہ زمین سے دور ہوتا گیا ۔ چاند آج بھی زمین متواتر 3.8 سینٹی میٹر دور ہو رہا ہے۔ وجہ زمین اور چاند کا کھچاؤ اور سمندروں میں ٹائڈز۔

    اس سے چاند تو دور ہو رہا ہے مگر زمین بھی اپنے محور کے گرد گھومتے ہوئے آہستہ ہو رہی ہے جس سے دن کا دورانیہ بتدریج بڑھ رہا ہے۔ آج سے 3.8 ارب سال پہلے جب زمین پر زندگی وجود میں آئی تو دن کا دورانیہ 12 گھنٹے سے بھی کم تھا۔

    سو ماضی میں چاند زمین سے روٹھے محبوب کیطرح دور ہوتا گیا اور ستم ظریفی کہ زمین سے جدائی کی پاداش کہئے یا اسکا مقدر کہ اس پر کئی چھوٹے بڑے شہاب ِ ثاقب گرتے رہے۔ چاند پر لاوے سے گھاٹیاں بنتی گئے شہابیوں سے بڑے بڑے گڑھے ہوتے گئے۔ جہاں جہاں لاوا پگھل کر ٹھنڈا ہوا وہاں کی مٹی اور چٹانیں باقی چاند کی نسبت کالی رہی۔

    چاند پر آج دکھنے والے داغ ماضی میں اس پر ہولناک تباہیوں کے آثار ہیں جو ہمیں اسکے داغدار ماضی کے بارے میں بتاتے ہیں۔سو پارو کا یہ کہنا کہ چاند کو غرور اس لیے نہیں کہ اس پر داغ ہیں، تھوڑی زیادتی ہے کیونکہ چاند بیچارے نے تو خوبصورت ہونے کے لیے بڑے داغ سہے ہیں۔

    اور بقول فیض:
    ہر داغ ہے اس دل پہ بجز داغِ ندامت

    خیر اب حالت یہ ہے کہ چاند ہمارے آسمان کا سب سے خوبصورت جُز ہے۔ اسکے استعمال سے نہ شاعروں نے اور نہ ہی مجبور عاشقوں نے باز آنا ہے اور نہ ہی سامنے بیٹھے محبوباؤں یا بیگمات نے اس استعارے سے دھوکہ کھانے سے رکنا ہے۔ کیونکہ چاند ہے ہی اتنا خوبصورت۔

  • ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری دودھیا کہکشاں!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ساحر لدھیانوی (ساحر لودھی نہیں) برصغیر کے مشہور نغمہ نگار اور شاعر گزرے ہیں۔ اُنکی ایک خوبصورت نظم "انتظار” کا ٹکڑا تھا:

    دور وادی میں دودھیا بادل
    جھک کے پربت کو پیار کرتے ہیں

    دل میں ناکام حسرتیں لے کر
    ہم ترا انتظار کرتے ہیں

    ان بہاروں کے سائے میں آ جا
    پھر محبت جواں رہے نہ رہے

    زندگی تیرے نامرادوں پر
    کل تلک مہرباں رہے نہ رہے!

    اب ساحر صاحب تو ٹھہرے بڑے شاعر، دودھیا بادلوں کے چکر میں پوری نظم کہہ گئے مگر ہم کس خوبصورت شے پر کس خوبصورت زبان میں لکھیں؟

    چلیے ہم شاعری کی بجائے سائنس کی زبان استعمال کرتے ہیں اور دودھیا بادلوں کی جگہ دودھیا کہکشاں کا ذکر چھیڑتے ہیں۔ وہ کہکشاں جو قدیم دور میں مصنوعی روشنیاں نہ ہونے کے باعث رات کو صاف آسمانوں پر دودھیا لکیر سی دکھتی اور دیکھنے والوں کو وطیرہ حیرت میں ڈال دیتی۔ ایک سفید راستہ دور کہیں پراسرار آسمان کے بیچوں بیچ۔ نجانے وہاں کیا ہو گا؟

    مگر آج ہم جانتے ہیں کہ ہم بھی اسی دودھیا کہکشاں کا ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔ اس کہکشاں کو ملکی وے کہتے ہیں۔ ہمارا سورج اس کہکشاں کے کئی ارب ستاروں میں سے ایک معمولی سا ستارا ہے۔

    یہ کہکشاں کتنی وسیع ہے؟ اگر آپ روشنی کی رفتار سے سفر کریں(جو کہ ناممکن ہے مگر فرض کیجئے) تواسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے کے لیے آپکو کم و بیش 1 لاکھ سال درکار ہونگے۔ گویا اس کہکشاں کا قطر تقریباً 1 لاکھ نوری سال ہے۔

    ملکی وے پرانے دور کے کمپیوٹر کی سی ڈی کیطرح چپٹی اور گول نہیں ہے بلکہ یہ ایک سپائرل شکل کی ہے یعنی بھنور جیسی اور اسکے اسکے چار بڑے اور پھیلے بازو ہیں جیسا کہ تصویر میں دِکھ رہے ہیں۔ ہمارا نظام شمسی، ہماری زمین اور ہم ان میں سے ایک بازو میں کہیں نقطے کی مانند موجود ہیں۔ ملکی وے کی موٹائی تقریباً 1 ہزار نوری سال ہے۔ تو نہ ہی یہ سی ڈی کیطرح چپٹی ہے اور نہ ہی مکمل گول۔

    اس کہکشںاں میں موجود تمام ستارے بشمول سورج اسکے مرکز میں موجود ایک بہت بڑے بلیک ہول کے گرد گھوم رہے
    ہیں۔ اگر یہ بلیک ہول نہ بھی ہوتا تو بھی سورج اور ستارے اس کہکشاں کے مرکز کے گرد ہی گھومتے۔ایسا کیوں؟ یہ بحث پھر کبھی۔ اس کہکشاں کے مرکز میں موجود بلیک ہول کا ماس، سورج کے ماس سے 40 لاکھ گنا زیادہ ہے!! مگر گھبرائیں نہیں ، ہماری زمین اس بلیک ہول سے کافی دور ہے یعنی تقریباً 28 ہزار نوری سال دور۔

    آپ اس وقت جو یہ تحریر پڑھ رہے ہیں اور میں جو یہ تحریر لکھ رہا ہوں، ہم دونوں اس کہلشاں کے مرکزی بلیک ہول کے گرد 28 ہزار نوری سال فاصلے پر 80 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ اگر آپ اس تحریر کو ڈیڑھ منٹ میں پڑھتے ہیں تو تحریر کے ختم ہونے تک آپ کہکشاں میں موجودہ مقام سے، کہشکشاں کے مرکز کا محور کرتے 20 ہزار کلومیٹر دور جا چکے ہونگے۔ اسی رفتار سے ہمارا نظامِ شمسی ہر 23 کروڑ سال میں ہماری کہکشاں کے مرکز کے گرد ایک چکر لگاتا ہے۔ یعنی آخری بار سورج اس کہکشاں میں جس مقام پر اب ہے ، وہ تب تھا جب زمین پر ڈائناسورز اج سے 23 سے 25 کروڑ سال پہلے نمودار ہوئے تھے۔

    ہماری کہکشاں میں موجود اربوں ستاروں کے گرد کئی سیارے اپنے اپنے مدار میں ویسے ہیں گھوم رہے ہیں جیسے ہمارے سورج کے گرد اسکے آٹھ سیارے۔ سائنسدان اب تک تقریباً 5 ہزار ایسے سیارے ڈھونڈ چکے ہیں جن پر شاید کسی یا کئییوں پر زندگی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہو۔

    ہماری کہکشاں سے بڑی اربوں اور کہکشائیں اس کائنات میں موجود ہیں جن میں اب تک کی دریافت کردہ سب سے بڑی کہکشاں کا نام IC1101 ہے اور یہ 40 لاکھ نوری سالوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ یعنی یہ ہماری کہشاں سے بھی کئی گنا بڑی ہے۔ کائنات اتنی وسیع ہے یہ سوچ کر ذہن چکرا سا جاتا ہے۔ ویسے ساحر لدھیانوی صاحب کو اس پر بھی کچھ لکھنا چاہیے تھا مگر وہ تو 1980 میں دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو چلیے ہم ہی ایک شعر کہے دیتے ہیں:

    وسعتِ ابتدا؟ نہیں معلوم
    وسعتِ انتہا؟ نہیں معلوم
    ہم کو معلوم ہے جو ہے معلوم
    اور جو معلوم تھا، نہیں معلوم

  • نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    نظامِ شمسی کے باہر چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    چاند کی تعریف وہ نہیں جو آپکا محبوب ہے بلکہ سائنس میں اسکی تعریف یہ ہے کہ یہ ایک ایسا سیارچہ ہو جو کسی سیارے کے گرد گھومے۔ مثال کے طور پر زمین کا چاند جسے نجانے کتنے دیوداسوں(اسلم, شکیل، غفور وغیرہ) نے پارو ("فرسٹ” کزن رقیہ خالہ کی بیٹیوں) سے تشبیہ دی ہو گی۔
    یا وہ چاند جسے دیکھنے کے لئےہر سال محلے والی رخسانہ آنٹی کیطرح کمیٹیاں ڈالی جاتی ہیں۔

    مگر کیا چاند محض زمین کا ہے؟ یا کسی سیارے کے گرد بھی اُنکے چاند موجود ہیں؟ 1609 میں جب گلیلیو نے دوربین کی مدد سے آسمانوں کو دیکھا تو اُسے مشتری کے گرد گھومتے اجسام نظر آئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب انسانوں کو معلوم ہوا کہ نظامِ شمسی کے دیگر سیاروں کے گرد بھی چاند گھومتے ہیں۔

    نظامِ شمسی میں عطارد اور زہرہ کے علاوہ باقی تمام سیاروں کے چاند ہیں حتیٰ کہ پلوٹو کے بھی جسے اب سیارہ نہیں مانا جاتا۔
    زمین, مریخ ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون اور دیگر بونے سیاروں جیسے پلوٹو ،ایریس وغیرہ کے کل ملا کر 214 چاند بنتے ہیں۔
    نظامِ شمسی میں سب سے زیادہ چاند جس سیارے کے ہیں وہ زحل ہے جسکے 82 چاند ہیں جبکہ سب سے کم جس سیارے کے چاند ہیں وہ زمین ہے جسکا محض ایک ہی چاند ہے۔

    مگر کیا نظامِ شمسی سے باہر کے دریافت کردہ سیاروں یا Exoplanets کے بھی چاند ہیں؟ یہ جدید فلکیات کا ایک اہم سوال ہے۔ ہم سے کئی نوری سال دور موجود کسی چھوٹے سے سیارے گرد اُسکا چاند ڈھونڈنا ایک مشکل کام ہے۔ زمین پر پہلی کا چاند اتنی مشکل سے دکھتا ہے کہ مرغوں کی لڑائی سے بھی دلچسپ لڑائی ہوتی ہے اور یہاں تو بات کسی دورافتادہ سیارے کے گرد گھومتے چاند کی ہو رہی ہے۔ تو کیا طریقہ ہے جس سے ان سیاروں کے گرد چاند ڈھونڈا جائے؟

    اسکا ایک طریقہ موجود ہے اور وہ ہے سیاروں سے آتی مدہم سی روشنی میں معمولی سے بدلاؤ کو جانچنا۔ ہم جانتے ہیں کہ زمین اور چاند ایک دوسرے کو اپنی طرف مسلسل کھینچتے ہیں۔ اس "رسہ کشی” سے چاند اور زمین اپنے اپنے مدار میں ہلکا سا ڈولتے ہیں جسے Wobbling کہتے ہیں۔ اس معمولی حرکت سے سیاروں سے آتی اس مدہم سی روشنی کو جانچ کر ہم بتا سکتے ہیں کہ سیارے کے مدار میں گھومنے کے دوران معمولی سا بدلاؤ آ رہا ہے۔ اگر ہم یہ بدلاؤ معلوم کر لیں تو ہم جان سکیں گے کہ سیارے کے گرد کوئی چاند گردش کر رہا ہے۔ ا

    کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طریقے سے ہم کائنات میں بھٹکے سیاروں یعنی وہ سیارے جو کسی ستارے کے گرد نہیں بلکہ خلا میں آزادانہ گھوم رہے ہیں کے گرد چاند بھی زیادہ آسانی سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔

    تو سوال یہ کہ کیا اس طریقے سے ہم نے اب تک نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کا چاند ڈھونڈا ؟

    اب تک کی معلومات کے مطابق دو ایسے اجسام ملے ہیں جو ممکنا طور پر نظامِ شمسی سے باہر کے کسی سیارے کے چاند ہو سکتے ہیں۔ ہمارے زمین سے 8 ہزار نوری سال دور مشتری جیسا ایک سیارہ Kepler 1625b جو اپنے ستارے کے گرد گھوم رہا یے۔ اس سیارے کے گرد نیپچون کے ماس کا ممکنہ چاند موجود ہیں۔ اسکو نام دیا گیا ہے Kepler 1625b-i.

    جبکہ دوسرا ممکنا چاند زمین سے تقریباً 5ہزار 6 سو نوری ساک کے فاصلے پر ایک اور مشتری جسیے سیارے Kepler-1708 کے گرد گھوم رہا ہے۔یہ بھی کم و بیش نیپچون جتنا ہے۔ اسے سائنسدانوں نے نام دیا ہے Kepler-1708 b-i۔ مگر ان دونوں متوقع چاندوں کے بارے میں فی الحال متفقہ رائے موجود نہیں کیونکہ مشاہدات کا ڈیٹا اتنا نہیں کہ اس پر حتمی رائے دی جا سکے۔ تاہم مستقبل میں اُمید کی جا سکتی کے کہ جیمز ویب اور دیگر ٹیلیسکوپس کی مدد سے ہم نظامِ شمسی سے باہر کے چاندوں کو دریافت کر سکیں۔

    ہو سکتا کے کسی دوسرے سیارے پر موجود کوئی اسلم آج بھی اپنی دردانہ کو نیپچون جتنا بڑا چاند کہتا ہو اور وہ ڈائٹنگ کرنے کی بجائے خوشی سے اور پھولتی ہو۔

  • توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    توہمات اور اُنکی وجوہات!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    یہ دور سائنس و ٹیکنالوجی کا ہے مگر ضعیف العتقادی اور توہم پرستی اب بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے۔ ایسی کئی توہمات ہیں جن پر لوگ آج بھی یقین کرتے ہیں۔ توہم پرستی دراصل وہ خیال ہے جو بغیر کسی منطق کے لوگ سچ سمجھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ کسی خاص عمل کے کرنے یا ہونے سے اُنکی زندگی پر اثر پڑے گا۔

    اس سلسلے میں کچھ مثالیں بیان کرتا ہوں اور اُنکے پیچھے وجوہات تاکہ آپ سمجھ سکیں کہ ان توہم پرست رویوں کے بننے کے محرکات کیا تھے۔

    1. کالی بلی راستہ کاٹ جائے تو کچھ برا ہو گا۔

    یہ ایک فضول بات ہے، بلی کے راستہ کاٹنے سے آپکی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ دراصل پرانے زمانے میں لوگ گھوڑا گاڑی یا بیل گاڑی کا استعمال کرتے تھے۔ تو رات کے وقت کسی ویران راستے سے گزرتے ہوئے کوئی بلی راستہ کاٹتی تھی تو اُسکی آنکھوں کی چمک سے گھوڑا یا بیل ڈر سکتے تھے جس سے گاڑی کا توازن خراب ہونے کا اندیشہ رہتا۔ اسی لئے پرانے زمانے میں لوگ ایسا کچھ ہونے سے گاڑی کو کچھ دیر کو روک دیا کرتے تھے تاکہ نقصان نہ ہو۔ مگر آج کے دور میں نہ آپ گدھا گاڑی چلاتے ہیں اور نہ ویران جنگلوں میں رہتے ہیں لہذا بلی کو کاٹنے دیجئے رستہ اس سے کچھ نہیں ہو گا۔

    2. رات کو جھاڑو دینے سے گھر میں غربت آتی ہے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے۔ صفائی کرنا صحت کے لیے ضروری ہے چاہے دن میں کریں یا رات میں۔ یہ بات اس لئے مشہور ہوئی کہ پرانے دور میں بجلی نہیں ہوا کرتی تھی۔ گھروں میں رات کو ایک آدھا دیا ہی روشن ہوتا۔ ایسے میں اگر رات کو جھاڑو دیا جاتا تو اس بات کا اندیشہ رہتا کہ کوئی بھی قیمتی شے جھاڑو کیساتھ کوڑے میں چلی جائے گی۔ اسی سبب رات کو جھاڑو دینے کو غربت سے جوڑا جاتا رہا مگر فی زمانہ آپکے گھر رات کو بجلی اور برقی روشنی سے چمچما رہے ہوتے ہیں تو رات کو جھاڑو یا صفائی کرنے میں اب کوئی مسئلہ نہیں۔

    3 رات کے وقت بال یا ناخن کاٹنا بدشگونی ہے

    اسکے پیچھے بھی یہی منطق تھی کہ پرانے زمانے میں رات کو اندھیرا ہونے کے باعث دیے کی روشنی میں بال یا ناخن کاٹنے سے زخم لگنے کا اندیشہ رہتا۔ مگر آج ایسا کچھ نہیں ۔ آپ روشن کمرے میں بال کاٹیں یا ناخن، کوئی بدشگونی نہیں ہوگی۔

    4. کسی کام سے پہلے دہی اور شکر کھانے سے کام اچھا ہوتا ہے

    دہی دراصل پیٹ کو ٹھنڈا رکھتی ہے اور شکر میں گلوکوز ہوتا ہے جو فورآ دماغ تک پہنچتا ہے جس سے آدمی کا ذین مستعد ہوتا یے۔ لہذا کام کے دوران آپ کا پیٹ ٹھنڈا اور جسم مستعد رہے گا تو کام کے بہتر ہونے کے امکان بڑھ سکتے ہیں۔ مگر آپکے کام کے اچھے ہعنے یا نہ ہونے کا تعلق آپ پر منحصر ہے نہ کہ دہی اور شکر سے۔ ایسا ہوتا تو ایلان مسک کی جگہ آج کوئی دودھ دہی بیچنے والا شخص امیر ترین ہوتا۔

    5. سورج گرہن یا چاند گرہن کے وقت حاملہ عورت کو باہر نہیں جانا چاہیے ۔ اس سے بچے معذور پیدا ہونگے۔

    یہ بھی ایک بے تکی بات ہے جسکی کوئی سائنسی وجہ نہیں۔ سورج گرہن یا چاند گرہن میں جانے سے پیدا ہونے والے بچے ہر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ چاند گرہن میں باہر جانا بالکل محفوظ ہے البتہ سورج گرہن کے وقت سورج کو سیدھا دیکھنے سے آنکھوں کی بینائی جا سکتی ہے۔ مگر اس سے بچے کی معذوری بلاواسطہ ہرگز ہرگز کوئی تعلق نہیں ۔ دراصل سورج گرہن کو آنکھوں پر بغیر کسی حفاظتی عینک کے سیدھا دیکھنے سے بینائی متاثر ہوسکتی ہے۔۔لہذا بینائی کے متاثر ہونے سے حاملہ عورت کے معمولات زندگی ہر اثر پڑ سکتا ہے جس سے حمل کے دوران بچے کی افزائش بھی متاثر ہو سکتی ہے مگر یہ اس صورت میں جب کوئی حاملہ عورت دیدے پھاڑ کر سورج گرہن دیکھے اور اپنی بینائی متاثر کر بیٹھے ورنہ سورج گرہن میں حفاظتی تدابیر کے ساتھ باہر جانے سے نہ ہی بچہ متاثر ہو گا اور نہ ہی ماں۔

    پرانے دور کی اور بھی کئی توہمات ہیں مگر کہنے کا مقصد یہ ہے کہ کسی بھی شے پر جو صدیوں سے سنتے آئے ہوں اُن پر اندھا یقین کرنے سے پہلے اس بارے میں سوچیں تو شاید پتہ چلے کہ زمانہ بدل چکا ہے لہذا یہ فرسودہ خیالات بھی ترک کر دئے جائیں تو بہتر ہے۔

  • جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) —  خطیب احمد

    جینو ویرم/ ٹیڑھی ٹانگیں (Genu Varum / Bowlegs) — خطیب احمد

    بوہ لیگز Bow legs بچوں میں ایک ایسی حالت ہے۔ جس میں ان کی ٹانگیں تیر کمان کی طرح گھٹنوں سے باہر کی طرف ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ یہ عموماً تب دیکھا جاتا ہے جب بچہ چلنا شروع ہوتا ہے۔ میڈیکل یا ہڈی جوڑ کی فیلڈ سے وابستہ افراد جلد ہی یہ چیز دیکھ لیتے ہیں۔ چلتے ہوئے اگر پاؤں ساتھ جڑتے ہیں۔ گھٹنے ایک دوسرے سے دور ہیں۔ ٹانگوں کا نچلا حصہ گھٹنوں والی جگہ سے ایک دوسرے سے دور ہے تو آپکے بچے کو "جینو ویرم” ہے۔

    یہ مسئلہ ایک ٹانگ میں اور دونوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ اکثریت میں دونوں ٹانگیں ہی باہر کو مڑی ہوتی ہیں۔

    ماں کی کوکھ میں کچھ بچوں کی پوزیشن نارمل پوزیشن سے الٹ ہوجاتی ہے۔ عام طور پر کوکھ میں بچے کا سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوتے ہیں مگر کچھ بچوں کا سر اوپر اور پاؤں نیچے بھی ہو سکتے ہیں۔ آخری دو تین ماہ یہ پوزیشن رہے بچہ تھوڑا صحت مند ہو (وزن 3 کلو سے زیادہ) تو بچے کی ٹانگیں ٹیرھی ہو سکتی ہیں۔ اکثریت میں پیدائش کے بعد 18 ماہ کی عمر تک یہ مسئلہ خود سے ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔

    ویسے بھی 18 ماہ کی عمر تک ٹانگوں کا ٹیڑھا پن نارمل ہے۔ اگر تین سال کی عمر کے بعد بھی ٹانگیں ٹیڑھی ہی رہتی ہیں تو ہڈیوں کے ڈاکٹر سے ملنے کی ضرورت ہے۔

    جنیو ویرم کی وجوہات کیا ہیں؟

    1. اسکی پہلی وجہ Blount’s disease ہے۔ ہماری پنڈلی میں دو ہڈیاں ہوتی ہیں۔ بڑی مین ہڈی کو Tibia اور اسکی مددگار ہڈی کو fibula کہتے ہیں۔ ٹیبیا یعنی بڑی ہڈی کسی بھی ڈیویلپمنٹل ابنارملیٹی کی وجہ سے وہ باہر کو مڑنا شروع ہو جاتی ہے۔ اور نتیجتاً "بوہ لیگز” بنا دیتی ہے۔

    2. دوسری بڑی وجہ Rickets ہے۔ بچوں میں وٹامن ڈی اور کیلشیم کی وجہ سے ہڈیاں کمزور رہ جاتی ہیں۔ اور جب ٹانگوں پر وزن پڑتا تو ٹانگیں ٹیڑھی ہوجاتی ہیں۔

    3. آپ نے دیکھا ہوگا بونوں یا لٹل پیپلز کی ٹانگیں عموماً ایسی ہی ہوتی ہیں؟ باہر کو مڑی ہوئی۔ کہنیوں سے بازو بھی باہر کو مڑے ہوتے۔ Dwarfism بھی بوہ لیگز کی وجہ بنتا ہے۔ بونا پن ایک جنیٹک ڈس آرڈر یے جس میں cartilage سے ہڈیاں بننے میں کوئی خرابی ہوجاتی یے اور پورے جسم کی ہڈیوں کی گروتھ خراب ہوجاتی ہے۔

    4. بچوں کا چھوٹی عمر میں جنک فوڈ کولڈ ڈرنکس آرٹیفیشل جوسز یا چینی کے شربت کھانے کی وجہ سے بہت موٹا ہوجانا بھی ان کی ٹانگوں کو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔ کھانے پینے کی چیزوں میں تمیز اور بیلنس بچوں کو بچپن میں سکھائیں کہ بھوک رکھ کر سب کچھ کھانا ہے ورنہ بڑے ہو کر بھی جانوروں کی طرح ہر جگہ کچھ نہیں چھوڑیں گے۔ جو بچے بچپن میں ہی گھر باہر ہر جگہ ہر کھانے والے شے کا اجاڑا کر دیتے ہیں وہ بڑے ہو کر بھی اسی تربیت کا مظاہرہ ساری عمر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    5. اگر بچپن میں ٹانگ کے نچلے حصے میں کوئی شدید چوٹ لگ جاتی ہے۔ اور ہڈی ٹوٹ کر ٹھیک سے جڑ نہیں پاتی۔ تو اسکی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل ہو کر باہر کو بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ عطائی ہڈی جوڑ والوں کے بجائے کوشش کریں کسی ماہر آرتھوپیڈک سرجن سے ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑوائیں۔

    6. جو پانی ہم پیتے ہیں اس کوالٹی کی ہے؟ اس میں فلورائیڈ Flouride اور لیڈ lead کی مقدار کتنی ہے؟ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پانی میں لیڈ یعنی تیزابیت زنگ وغیرہ کی نارمل مقدار µg/L۔ 15 ہے۔ اس سے زیادہ نہ ہو۔ گندہ پانی حاملہ ماں پئیے یا نومولود بچہ ٹانگوں کے ٹیڑھا پن باعث بن سکتا ہے۔ اپنا پانی پہلی فرصت میں لیبارٹری ٹیسٹ ضرور کروائیں کہ اس کا ٹی ڈی ایس 1 ہزار سے زیادہ نہ ہو۔ فلورائیڈ اور لیڈ کی آمیزش نارمل کے آس پاس ہو۔ فلورائیڈ کی پانی میں نارمل مقدار ہے ppm۔ 1 – 0.5

    چھوٹے بچوں میں جینو ویرم کی تشخیص کے طریقے

    1. ایک سال کے چھوٹے بچے کی ٹانگیں بلکل سیدھی کریں اگر گھنٹوں میں وقفہ نارمل سے زیادہ لگے بوہ لیگز ہونگی۔

    2. 18 ماہ کی عمر میں ٹانگوں کے نچلے حصے کے ڈیجیٹل ایکسرے کی مدد سے اس مرض کو بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ کہ ہڈیوں کی گروتھ کا پیٹرن ابنارمل تو نہیں۔

    3. خون کے ٹیسٹ میں ہم وٹامن ڈی کی مقدار دیکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ سیرم alkaline phosphatase کا لیول اور فلورائیڈ و لیڈ کی مقدار بھی خون سے دیکھ کر اس مرض کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔

    ماہرین عموماً بچے کی پاجامی اتار کر تھوڑا دور پر چل کر آنے کا کہتے ہیں۔ فرنٹ اور بیک پر کھڑے ہو کر دیکھتے اور اپنے تجربے کی بنا کر فزیکلی بھی دیکھ لیتے کہ مسئلہ کس حد تک ہے۔

    اس کا علاج کیا ہے؟

    عموماً تین سال کی عمر تک یہ مسئلہ خود ہی حل ہوجاتا ہے۔ اگر نہ ہو اور بڑھتا ہی جائے تو ہم مرض کی شدت اور اسکی وجہ کو دیکھتے ہوئے اسکے علاج کی طرف جاتے ہیں۔

    1۔ فزیکل تھراپی سے اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو کہ عموماً ٹھیک ہو بھی جاتا ہے۔

    2. مسئلہ فزیکل تھراپی سے ٹھیک نہ ہو تو ٹانگوں پر بریس لگا دی جاتی ہے۔ جو ٹانگوں کو سیدھا رکھتی ہے۔ یہ ایک دو سال تک لگانی ہوتی۔ کئی کیسز میں کئی سال تک لگائے رکھنا ہوتی۔

    3. وٹامن ڈی اور کیلشیم بطور فوڈ سپلیمنٹس دیے جاتے ہیں۔ صبح سورج نکلنے کے بعد 8 بجے اور شام سے کچھ دیر قبل سورج کی دھوپ میں چھوٹے بچوں کو پلیز کھیلنے دیا کریں۔ یہ دھوپ وٹامن ڈی ان بچوں کے جسم میں داخل کرنے کا قدرتی سب سے بڑا سورس ہے۔ یورپ میں آپ دیکھتے کہ بھائی اور آپیاں ساحل سمندر پر چھوٹے چھوٹے کپڑے پہن کر لیٹے ہوئے سورج کی دھوپ لے رہے ہوتے۔ وہ اصل میں جسم میں وٹامن ڈی کی نارمل مقدار کو نیچرلی پورا کررہے ہوتے۔

    سورج کی دھوپ میں موجود ultraviolet B (UVB) ہمارے جسم میں موجود کولیسٹرول کو نیچرلی پراسس کرکے وٹامن ڈی میں بدل دیتی ہے۔ بچوں کو بھی اور خود بھی صبح اور شام کی کچھ دھوپ ضرور دیا کریں۔

    4. سرجری سب سے آخر میں آتی ہے۔ اگر کوئی طریقہ بھی کارگر نہ ہو رہا ہو تو ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم آپریشن کا فیصلہ کرتی ہے۔ اس سرجری کو ہم osteotomy کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ bone grafting اور کئی بچوں کی ٹانگوں میں سٹیل کا راڈ بھی ڈالا جاتا ہے۔

    سرجری آخری آپشن ہو تو چار سال کی عمر تک کروا لینے سے ہم بہتر طریقے سے اس مسئلے کو حل کر سکتے ہیں۔

    عموماً سرجری کے بعد بھی کوئی بریس کا میٹل کا فریم کچھ ماہ کے لیے ٹانگوں کے ساتھ لگایا جاتا کہ ٹانگیں وزن پڑنے پر پھر سے ٹیڑھی نہ ہو جائیں۔

    اس مسئلے کی روک تھام کیا ہے؟

    1. بچہ جب چلنے لگے تو گھر میں موجود نوک دار جگہوں ہر فوم لگا دیں۔ بچے کی کسی طرح کوئی ہڈی نہ ٹوٹنے پائے۔ بیڈ کے بیک کے علاوہ ہر طرف نیچے فوم بچھا کر اوپر کارپٹ ڈال دیں۔

    2. پانی میں فلورائیڈ اور لیڈ کی مقدار نارمل رکھیں۔ اپنا پانی فوراً چیک کروائیں۔

    3۔ بچوں کو وٹامن ڈی اور کیلشیم والی نیچرل غذائیں دیں۔ دھوپ میں کھیلنے دیں۔ ماں ممکن ہو تو ضرور اپنا دودھ بچے کو پورے دو سال پلائے۔ یہ خدا کا حکم بھی یے۔ پاوڈر دودھ کی بجائے بکری یا گائے کا دودھ بچوں کو پلائیں۔

    اگر اس مسئلے کو حل کیے بنا چھوڑ دیں تو بچپن میں ہی بچوں کو ایک دائمی مرض Arthritis لگ جاتی ہے۔ گھنٹوں اور پاؤں میں سوجن اور شدید درد جو کبھی جان نہیں چھوڑتا۔

    اپنے آس پاس اس طرح کا کوئی بچہ دیکھیں تو اس کے والدین کو یہ آرٹیکل ضرور پڑھائیں۔ اور مستقبل میں والدین بننے والے لوگ ان سب باتوں کا خاص خیال رکھیں۔