Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    آتش فشاؤں سے بھرا چاند!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ملیے "آئیو”سے. یہ مشتری کا تیسرا بڑا چاند ہے۔ نظامِ شمسی کا ایسا چاند جس پر سب سے زیادہ آتش فشائی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ آئیو پر کئی آتش فشائی مرکز ہیں جن سے لاوا اور گیسیں اسکی فضا میں کئی سو میل اوپر کو اُٹھتی ہیں۔آئیو کی قسمت کہ یہ مشتری اور مشتری کے دیگر بڑے چاندوں کے بیچ یوں گھرا ہےجیسے مشتری اور اسکے بڑے چاند اس بیچارے کو درمیان میں رکھ کر گریویٹی کے بل پر رسہ کشی کھیل رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئیو کے اندرونی تہوں میں موجود لاوا اور گیسس ہمیشہ حرکت میں ، گرم یا مائع حالت میں رہتے ہیں اور اس چاند کی آتش فشائی فطرت کا سبب بنتے ہیں۔ ان آتش فشاؤں کیوجہ سے آئیو کی اندرونی تہوں سے مواد اسکی باہری سطح پر آتا ہے، جمتا ہے، اور پھر دوبارہ اندرونی تہوں میں چلا جاتا ہے۔ یوں آئیو کی سطح ہر وقت تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ گویا کسی نے اسے ری سائیکلنگ پلانٹ میں ڈال دیا ہو۔

    آئیو زمین کے چاند سے کچھ بڑا ہے۔ یہ مشتری کے ساتھ "ٹائیڈلی لاکڈ” ہے. نجانے اس لفظ کا فیروز اللغات میں کیا اُردو ترجمہ ہو گا۔ اُردو زبان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بے حد کم ہے۔ خیر آئیو کا ٹائیڈلی لاکڈ ہونے کا مطلب سادہ الفاظ میں یوں سمجھیں کہ یہ چاند مشتری کیطرف ہمیشہ محبوب کیطرح مستقل منہ کیے رہتا ہے۔ یعنی اس چاند کا اپنے محور پر گردش کا دورانیہ اور مشتری کے گرد گردش کا دورانیہ تقریباً ایک جتنا ہے یعنی 1.8 دن۔ یوں اگر آپ مشتری پر ہوں تو وہاں سے "آئیو” کی ایک ہی سائڈ آپکو ہمشہ نظر آئے گی ویسے ہی جیسے زمین پر ہمیں چاند کی صرف ایک سائیڈ نظر آتی ہے۔ (کوئی اُردو سائنس بورڈ جس میںں بابا اشفاق اور مفتی ممتاز صاحب جیسے ادیب ماضی میں شامل رہے تھے سے کہے کہ اُردو میں سائنسی الفاظ کا ذخیرہ بڑھائیں ٹائیڈل لاک کا اُردو ترجمہ "جوار بھاٹوی تالہ” یا "مدوجزری تالہ” کسی کو سمجھ نہیں آنا)

    خیر آئیو پر کبھی کبھی اتنے اونچے آتش فشاں پھٹتے ہیں کہ زمین سے کسی بڑی اور طاقتور ٹیلی سکوپ سے کئی کروڑ میل دور بیٹھے بھی کوئی انہیں دیکھ سکتا ہے۔ آئیو کی دریافت کا سہرا اطالوی ماہرِ فلکیات گیلیلیو کے سر جاتا ہے جس نے 1610 میں دوربین کے ذریعے جب مشتری کو دیکھا تو اسکے ساتھ آئیو اور کئی اور چاند اسے نظر آئے۔ ویسے یہ انسانی تاریخ میں ایسا واقعہ ہے جب انسانوں کو احساس ہوا کہ دیگر اجرامِ فلکی کے گرد بھی کئی اور اجسام گھومتے ہیں اور اس سے انسانوں کا زمین کو کائنات کو مرکز سمجھنے، تمام سیاروں، ستاروں اور سورج کا زمین کے گرد گھومنے یا انسانوں کو خود کو کائنات کی توپ چیز سمجھنے کے بچگانہ تصور سے نجات ملی۔

    ناسا کے چار مشنز آئیو کے پاس سے گزر چکے ہیں۔۔ان میں سے سب سے پہلا ستر کی دہائی میں وائجر 1 تھا جبکہ آخری مشن "نیو ہورائزن” تھا جو پلوٹو کی طرف جاتے ہوئے اسکے پاس سے گزرا اور اسکی تصاویر لیں۔آئیو پر اس قدر آتش فشاؤں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے زمینی زندگی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

  • اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    اختر لاوا اور اصلی لاوا!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    کچھ دن سے سوشل میڈیا، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ وغیرہ پر لاہور کے ایک مونچھوں والے صاحب بے حد مقبول ہوئےپڑے ہیں اور کافی ٹرینڈ میں ہیں۔ ان صاحب کا نام ہے اختر لاوا۔

    پیشے کے اعتبار سے یہ ایک کاروباری شخصیت ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ یہ ٹک ٹاکر بھی ہیں۔ انکی ایک ویڈیو کچھ دن پہلے ٹک ٹاک سے ہوتی ہوئی جب ٹوئیٹر پر پہنچی تو یہ ایک ٹرینڈ بن گئے۔ بقول اختر لاوا صاحب انکے نام کے ساتھ لفظ لاوا کے پیچھے ایک کہانی ہے۔

    فرماتے ہیں کہ ان کا شجرۂ نسب محمد بن قاسم سے جا ملتا ہے اور انگریزوں کے دور میں جب انگریزوں نے اِنکے گاؤں پر حملہ کیا تو اختر لاوا صاحب کے لکڑ دادا انگریزوں سے بے جگری سے لڑے اور انکو مار بھگایا۔ تب سے لوگوں نے انکے خاندان کے ساتھ یہ لاوا کا لاحقہ منسوب کر دیا کہ یہ لوگ بے حد جوشیلے ہیں۔خیر لاوا صاحب جس وجہ سے مشہور ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ اچانک سے کسی کنگ فو فائٹر کی طرح بجلی کی سی تیزی سے ایک قدم آگے آ کر نہایت پھرتی اور اپنے لکڑ دادا کی طرح جوش سے محمد علی کلی باکسر کے سٹائل میں مُکا ہوا میں لہراتے ہیں اور یہ تاریخی اور جلی حروف میں لکھا جانے والا جملہ ارشاد فرماتے ہیں: "لہور دا پاوا۔۔۔۔۔۔۔اختر لاوا”۔ پاوا غالباً اندرون لاہور میں بدمعاش کو کہتے ہیں۔ اب چونکہ اِنکا تعارف ہو چکا تو میں نے سوچا اسی بہانے آپکو اصل لاوا جو زمین سے نکلتا ہے اسکے بارے کچھ جانکاری دیتا جاؤں۔

    لاوا دراصل زمین کے اندر موجود پگھلی چٹانوں سے بنتا ہے۔ جب یہ زمین کے اندر ہوتی ہیں تو انہیں جیالوجی میں میگما کہتے ہیں۔ میگما کا درجہ حرارت 700 سے 1300 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہوتا ہے۔ میگما زمین کی اوپری سطح یعنی کرسٹ میں 6 سے 10 کلومیٹر نیچے بڑے بڑے ذخائر کی صورت پایا جاتا ہے۔ انہیں میگما چیمبرز کہا جاتا ہے۔ میگما چیمبرز خصوصاً آتش فشاں پہاڑوں کے نیچے ہوتے ہیں۔

    میگما میں گیس کے بلبلے بھی ہوتے ہیں جو گرم ہونے کی وجہ سے پھٹتے رہتے ہیں مگر یہ زمین کی پتھریلی سطح کے نیچے دب کر اوپر کو نہیں آتے تاہم کبھی کبھار جب پریشر بے حد بڑھ جائے تو یہ بلبلے میگما کو اپنے ساتھ زمین کی نرم جگہوں سے اوپر لے آتے ہیں اور یوں زور سے میگما زمین سے باہر آتش فشاؤں کے پھٹنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ میگما جب باہر آتا ہے تو اسے لاوا کہتے ہیں۔ لاوا کا درجہ حرارت ںھی کم و بیش اتنا ہوتا ہے جو میگما کا ہوتا ہے۔

    زمین یا آتش فشاں سے نکلتا لاوا کئی سو میٹر بلندی تک جا سکتا ہے۔ لاوے کا رنگ اسکے درجہ حرارت پر منحصر ہوتا یے۔ 1000 ڈگریی سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت پر لاوے کا رنگ بھڑکتا نارنجی جبکہ 650 ڈگری سینٹی گریڈ سے 500 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارات کے لاوے کا رنگ بادامی مائل سرخ ہوتا ہے۔

    لاوا زمین سے نکل کر مختلف رفتار سے اسکی سطح پر بہتا یے۔ یہ اس پر منحصر کے کہ لاوے میں سیلیکا کی مقدار کتنی ہے۔ سیلیکا دراصل گلاس ہوتا ہے۔سیلیکا کی کم مقدار کا لاوا پتلا اور زیادہ علاقے میں پھیلتا ہے جبکہ زیادہ مقدار میں سیلیکا لاوے کو گاڑھا کر دیتی ہے اور یہ سست روی سے بہتا ہے۔لاوا جب زمین کے اوپر آ کر ٹھنڈا ہو کر جمتا ہے تو کالے پتھروں اور چٹانوں می صورت اختیار کر لیتا ہے۔

    اب آپ بتائیں اختر لاوا میں کتنا سیلیکا ہے؟

  • سمندروں سے نیچے، آسمانوں سے اوپر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سمندروں سے نیچے، آسمانوں سے اوپر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہالینڈ یا نیدرلینڈ رقبے کے اعتبار سے دنیا کا 131واں ملک ہے۔ اسکا کل رقبہ 42 ہزار مربع کلومیٹر کے آس پاس ہے۔ ہالینڈ کا زیادہ تر حصہ سطح سمندر سے اوسطاً 1.5 میٹر نیچے ہیں۔ یہاں کا سب سے نچلا حصہ سطح سمندر سے نیچے تقریباً 6 میٹر ہے۔

    2020 کے اعداد و شمار کے مطابق ہالینڈ کی آبادی تقریبآ پونے دو کروڑ ہے۔یہ یورپ کے بڑے ممالک میں سب سے گنجان آباد ملک ہے جہاں فی مربع کلومیٹر تقریباً 500 افراد رہتے ہیں۔
    ہالینڈ کا حالیہ جی ڈی پی ہے 950 ارب امریکی ڈالر۔ خوراک کی برآمدات کے حوالے سے یہ دنیا کے پہلے چھ ممالک میں آتا ہے۔ دنیا کی خوراک اور گھریلو اشیاء کی بڑی کمپنی یونی لیور ایک ڈچ اور برطانوی کمپنی کے اشتراک سے 1929 میں قائم ہوئی۔ اسکے علاوہ بھی خوراک اور ذراعت کے دنیا کی کئی بڑی کمپنیاں ہالینڈ کی ہیں۔

    ہالینڈ کا قابلِ کاشت رقبہ تقریباً 18 ہزار مربع کلومیٹر ہے جو اس ملک کے کل رقبے کا تقریباً آدھا ہے ۔ اس میں سے بہت سا حصہ انہوں نے سمندر کا راستہ تبدیل کر کے، نہریں بنا کر حاصل کیا ہے۔ محدود قدرتی وسائل کے باوجود یہ ملک ترقی کی دوڑ میں دنیا کے صف اول کے ممالک میں آتا ہے۔ یہاں کی آبادی کا بڑا حصہ متوسط طبقہ ہے۔ اور اوسطاً ایک آدمی یہاں سال میں 36 ہزار یورو کماتا ہے۔(آج کا ایک یورو 213 پاکستانی روپوں کے برابر ہے). 2020 میں ہالینڈ کی برآمدات کا حجم 670 ارب ڈالر تھا جبکہ درآمدات تقریباً 600 ارب ڈالر رہی۔ یوں کل فرق تقریباً 70 ارب ڈالر کا ہوا۔ ہالینڈ کی زراعت کے شعبے سے برآمدات 150 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

    اب بات کرتے ہیں وطنِ عزیز یعنی پاکستان کی۔ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک۔ جسکی کل آبادی اس وقت 22 کروڑ سے اوپر ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ 81 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ یوں یہ رقبے کے لحاظ سے دنیا کا 33 واں بڑا ملک ہے۔ اسکے ایک صوبے خیبر پختونخواہ کا رقبہ کم و بیش ہالینڈ کے رقبے کے برابر ہے جبکہ وہاں کی آبادی ہالینڈ سے دوگنی یعنی 3.5 کروڑ۔
    پاکستان کی سب سے بڑی برآمدت زراعت شعبے سے ہیں جن میں گندم، چاول، گنا، کپاس اور کپاس سے وابستہ ٹیکسٹائل کی مصنوعات ہیں۔
    پاکستان کا جی ڈی پی تقریباً 350 ارب ڈالر ہے۔ یہ۔ہالینڈ کے جی ڈی پی سے 2.7 گنا کم ہے۔ 2021 میں پاکستانی برآمدات 34 ارب ڈالر رہیں جبکہ درآمدات تقریباً 56 ارب ڈالر۔ یوں پاکستان میں پیسہ آ نہیں بلکہ جا رہا ہے۔

    پاکستان کا ہالینڈ سے موازنہ محض اس لئے کیا ہے تاکہ آپ سوچیں کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کسی ملک کو دنیا میں کتنا اوپر لے کر جا سکتی ہے۔ آج ہالینڈ میں شاید ہی کوئی زرعی فارم ہو جہاں خودکار مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی سے کاشت نہ ہوتی ہو۔ فی ایکٹر پیدوارکے اعتبار سے ہالینڈ دنیا کے صفِ اول کے ممالک میں آتا ہے۔ جبکہ ہمارا حال یہ ہے کہ ہماری فی ایکڑ گندم کی پیدوار پڑوسی ملک بھارت سے بھی کم ہے۔
    آج کی دنیا کسی بھی ملک کے شہری کو اس ملک کی معیشت اور دنیا میں مقام کیوجہ سے عزت دیتی ہے۔ آپ بھلے ہوا میں مکے ماریں, مٹھیاں بھینچیں اور سازشی تھیوریوں کے انبار لگا کر خوش ہوں کہ دنیا آپکو پیچھے رکھنے کی کوششوں میں ہے اس لیے آپ ترقی نہیں کر رہے۔ مگر یہ سوچیں کہ دنیا آپکی کونسی صلاحیتوں سے خوف زدہ ہے؟ یہی کہ آپ سونگھ کر بتا سکتے ہیں کہ خربوزہ میٹھا ہے یا پھیکا؟ اس خود فریبی سے نکلیں گے تو کچھ سدھ بدھ آئے گی۔

    کیا ہم ان خوش فہمیوں سے یہ حقیقت تبدیل کر سکتے ہیں کہ ہم روز بروز تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ سوچ میں بھی اور معیشت میں بھی۔آج کی دنیا میں معیشتوں کا دارومدار سائنسی ترقی پر ہے۔مگر ہم سائنس کی دوڑ میں پیچھے جا رہے ہیں اور انسانوں پر، اُنکے دماغوں پر، اُنکی سوچ پر پیسہ لگانے کی بجائے قتل و غارت کے نئے طریقوں، جنگوں، اسلحوں، نفرتوں اور بارودوں پر پیسہ لگا کر خود کو آہستہ آہستہ مہذب دنیا سے دور کرتے جا رہے ہیں۔ یہ باتیں آپکو وہ نہیں بتائیں گے جو وطنیت کے نام پر آپکو لوٹتے ہیں۔ یہ باتیں آپکو کوئی نہیں بتائے گا کیونکہ آپکے جاہل رہنے سے بہت سوں کا فائدہ ہے۔ حال میں رہ کر اسکا تجزیہ کرنا ایک مشکل عمل ہے۔ آپکو ایک قدم پیچھے جا کر حالات کو دیکھنا ہو گا کہ کہانی شروع کہاں سے ہوتی ہے اور جا کس طرف رہی ہے۔

    سائنس محض انسان کو روزمرہ کی زندگی میں سہولیات فراہم کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سوچ ہے ہر اُس عمل، ہر اُس خیال کو پرکھنے کا جسے پہلے کبھی نہ پرکھا گیا ہو۔ یہ ایک سوچ ہے اُن وجوہات کو ڈھونڈنے کی جن سے عقل و شعور کی کسوٹی پر مسائل کے حل ممکن ہوں۔ یہ ایک خود احتسابی کا عمل ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ہم کتنی آسانی سے خود فریبی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ کیسے ہم خود پسندی کے فریب سے نکل کر حقیقت کا ادراک پا سکتے ہیں۔ سائنس کو جب تک سائنس نہیں رہنے دینگے، ترقی کرنا تو کجا، ترقی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔

    ہالینڈ سمندروں سے بھلے نیچے ہے مگر سوچ کے آسمانوں میں اوپر سے اوپر اور ہم سمندروں سے اوپر ہیں مگر سوچ کے آسمانوں میں پر کٹے۔

    نوٹ: اعداو شمار میں فرق یا معمولی غلطیاں ممکن ہیں مگر پوسٹ کا مقصد آپکو اعداو شمار رٹوانا نہیں بلکہ سائنسی سوچ کی اہمیت بتانا ہے۔

  • کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالے چاولوں کی چمک — ابن فاضل

    کالی گھٹاؤں، کالی زلفوں اور کالے گلاب سے تو سب آشنا ہیں. مگر آج ہم آپ کو متعارف کرواتے ہیں کالے چاولوں سے… جی ہاں کالے چاول. Black rice. قدیم زمانے سے اہل چین کے ہاں کالے چاولوں کی کاشت کی جاتی رہی. جانے کیسے چین کے شاہی خاندان کے لوگ ان کالے چاولوں کی غذائی خوبیوں سے واقف ہوئے کہ انہوں نے اس کی کاشت اور استعمال کو صرف شاہی خاندان تک محدود کردیا. اسی وجہ سے انہیں ممنوعہ چاول forbidden rice بھی کہا جاتا ہے.

    کچھ عرصہ قبل جب جدید سائنس نے مختلف اجناس کے غذائی اجزاء کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ کالے چاولوں میں اینٹی آکسیڈنٹس اور فائٹو کیمکلز کی مقدار بہت زیادہ ہے. بلکہ سب سے زیادہ کارآمد اینٹی آکسیڈنٹ اور نیوٹراسیوٹیکل کیمیائی مرکب اینتھوسائیانین کی سب سے زیادہ مقدار کالے چاولوں میں پائی جاتی ہے.

    اینتھوسائیانین بنیادی طور پر پھلوں میں پایا جانے والی گہرا جامنی رنگ ہوتا ہے جسے پھلوں سے سادہ کیمیائی عمل سے علیحدہ کیا جاتا ہے. یہ وہ مرکب ہے جس کا مستقل استعمال دائمی امراض کے خاتمے کے لئے بیحد مفید ہے. حتی کہ بہت سے اقسام کے کینسر کے خلیے بھی اینتھوسائیانین کے استعمال سے ختم ہوجاتے ہیں. اس وجہ سے پوری دنیا میں اینتھوسائیانین کی مانگ اور قیمت فروخت بہت زیادہ ہے.

    کالے چاولوں میں اس جامنی اینتھوسائیانین کی اس قدر زیادہ مقدار ہوتی ہے کہ وہ کالے نظر آتے ہیں. جب کہ پکنے کے بعد یہ گہرے جامنی ہی دکھائی دیتے ہیں. اس زبردست دریافت کے بعد دنیا بھر میں کالے چاولوں کا استعمال بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے. خطے میں چین کے بعد سب سے پہلے تھائی لینڈ میں اس کی کاشت شروع ہوئی. پھر فلپائن اور سال 2011 میں بھارت میں آسام میں ایک کسان نے اس کی کاشت کا کامیاب تجربہ کیا. اس وقت سے اب تک بھارت میں آسام، اڑیسہ اور ارد گرد کے علاقوں میں ہزاروں ایکڑ پر سالانہ کالے چاولوں کی کاشت کی جا رہی ہے.

    سال 2017 میں بھارتی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں اس کی کاشت کا میابی سے کی گئی. یہاں اس کی فی ایکڑ پیداوار تیس سے پینتیس من حاصل کی گئی. عام چاول کی نسبت کالے چاول کی قیمت فروخت بہت زیادہ ہے. بھارت میں اس کی تھوک میں فروخت ساڑھے تین سو روپے بھارتی فی کلوگرام ہوتی ہے. یعنی پاکستانی آٹھ سو روپے فی کلو. اور اگر یہ کھاد اور کرم کش ادویات کے بغیر یعنی آرگینک طریقے سے اگایا گیا ہوتو اس کی قیمت فروخت پانچ سو روپے بھارتی یعنی ساڑھے گیارہ سو روپے پاکستانی فی کلوگرام ہوتی ہے.

    آسان الفاظ میں اگر عام طریقہ سے بھی اگایا جائے تو فی ایکڑ دس لاکھ روپے کی فصل حاصل کی جاسکتی ہے. پاکستان میں خاص طور پر پنجاب میں جہاں کچھ علاقے چاول کی کاشت کے انتہائی موزوں ہیں عین ممکن ہے کہ اس کی فی ایکڑ پیداوار اور معیار اور بھی شاندارہو. جس کی قیمت عالمی منڈی میں اور بھی زیادہ ہو. ہم نہ صرف کالے چاول براہ راست فروخت کرسکتے ہیں بلکہ اس میں امسے اینتھوسائیانین ایکسٹریکٹ کرکے بھی مہنگے داموں بیچ کر بہت سا زرمبادلہ کما سکتے ہیں.

    بات پھر وہی ذرا سا غوروخوض کی عادت ہو، تھوڑا ترقی کا شوق اور آرزو ہو تو خوشحالی کے سینکڑوں راستے اور ہزاروں منزلیں ہماری منتظر ہیں.

  • اصلی شہد اور نقلی شہد!!! — شہزاد حسین

    اصلی شہد اور نقلی شہد!!! — شہزاد حسین

    میں پچھلے کئی سالوں سے فیس بک پر ہی شہد کی خریداری کررہا ہوں۔ گزشتہ کئی سالوں کے تجربے کے اور بے شمار شہد فروشوں کے شہد کو ٹیسٹ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ فارمی شہد، فارمی ہوتا ہے، چاہے دنیا کے سب سے بہترین برانڈ کا ہی کیوں نہ ہو.

    میری کوشش رہتی ہے کہ خالص جنگلی شہد استعمال کیا جائے جس کا فلیور ہی الگ ہوتا ہے.

    ایسا شہد قریباً 4 سے 5 ہزار روپے کلو ملتا ہے اور آرام سے کئی ماہ چل جاتا ہے.

    اصلی شہد کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت کم مقدار میں دستیاب ہوتا ہے۔ اسی لیے کافی مہنگا ہوتا ہے.

    مارکیٹ میں اکثریت شہد فارمی ہے.

    آپ کو ایک بار اصلی شہد کی عادت پڑجائے تو فارمی شہد چکھتے ہی تھوک دیں گے.

    فارمی شہد کا کوئی خاص فلیور نہیں ہوتا۔ وہ محض شیرے کی طرح میٹھا ہوتا ہے مانوں میٹھا fructose سیرپ پی رہے ہوں.

    جبکہ،

    اصلی شہد منہ میں جاتے ہی ایک distinct ٹیسٹ کا احساس دلاتا ہے.

    فیس بک پر بکنے والا نوے فیصد سے زائد شہد فارمی ہے.

    ایک دلچسپ بات بتاؤں:

    میں کئی شہد فروشوں کو جانتا ہوں، ان سے خریداری بھی کرچکا ہوں، جو عام سا فارمی شہد بیچتے ہیں اور لوگ وہاں کومنٹس میں "واہ واہ” کررہے ہوتے ہیں.

    ان کی اکثریت وہ ہیں جنھوں نے کبھی اصلی شہد نہیں چکھا۔ انھیں کوالٹی کا سرے سے اندازہ ہی نہیں ہوتا.

    میں شہد کی خریداری کے لیے اپنے کچھ خاص دوستوں پر بھروسہ کرتا ہوں جو شمالی علاقہ جات کے باسی ہیں اور باقاعدہ شہد کا کام نہیں کرتے.

    میں فارمی شہد کی برائی نہیں کررہا ہوں۔ فقط اتنا سمجھارہا ہوں کہ فارمی کو فارمی ہی سمجھیے، اصلی ہرگز نہیں.

    فارمی شہد ایک مناسب "بجٹ” آپشن لگتا ہے۔ دو سے ڈھائی ہزار روپے کلو باآسانی مل جاتا ہے.

    کچھ فارمی شہد ہزار پندرہ سو کے بھی دستیاب ہیں.

    انھیں استعمال کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ دو سو روپے کلو ملنے والا خالص گڑ لے کر پھانک لیں.

    ایک اہم بات،

    دو ڈھائی ہزار روپے کلو فارمی شہد لینے سے کہیں بہتر ہے کہ پانچ ہزار روپے کلو والا اصلی شہد آدھا کلو خرید لیں.

    اگر بجٹ اور تنگ ہے تو بیشک ایک پاؤ خرید لیں پر فارمی شہد سے پرہیز کیجیے.

    یہ شہد ہول سیل مارکیٹوں میں ڈرموں میں بھر کر بیچا جاتا ہے۔

    میں اب فارمی شہد سے سخت بیزار ہوچکا ہوں۔ ان پر 500 روپے خرچ کرنا بھی پیسوں کا ضیاع ہے.

    دو سے تین ہزار روپے کلو یا اس سے کم میں آپ کو کسی صورت اصلی شہد نہیں مل سکتا۔ یہ سارا مال فارمی ہے.

    اصلی شہد قدرت کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی خاص بات اس کا "نایاب” ہونا ہے.

    لہذا،

    کوشش کیجیے کہ شہد چاہے بہت تھوڑا استعمال کریں پر وہ اصلی و نسلی ہو۔ ڈرموں سے بھر کر آنے والی "جعلی نسل” پر پیسہ ہرگز مت برباد کیجیے۔۔۔۔۔!!!!

  • عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    عطارد اور چاند — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہماری زمین کا چاند اور نظامِ شمسی کا سب سے پہلا سیارہ عطارد ایک جیسے کیوں دکھتے ہیں؟

    کیونکہ دونوں کی فضا نہیں ہے اور دونوں کے اندر اربوں سالوں سے کوئی جغرافیائی تغیرات نہیں ہو رہے جیسے کہ زمین یا زہرہ پر آتش فشاں یا اُنکے اندر لاوا موجود ہے جو باہر کو آتا ہے اور سطح کو تبدیل کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ ایسا کچھ چاند یا عطارر پر نہیں ہوتا۔

    اگر ان دونوں کی سطح کا جائزہ لیا جائے تو ان پر شہابیوں کے گرنے سے پیدا ہونے والے گڑھے اور انکے نشانات واضح نظر آتے ہیں۔ زمین پر خلا سے گڑھے کیوں نہیں دِکھتے؟ اول تو زمین کی فضا جو اسے شہابیوں سے بچاتی ہے اور دوسرا یہ کہ زمین کی اوپری سطح تبدیل ہوتی رہتی ہے یعنی یہ حرکت میں رہتی ہے۔ جسکی وجوہات زمین کے اندر ٹیکٹانک پلیٹس کی حرکت ، زمین کے اوپر پانی(بارش، دریا، سمندر) سے پیدا ہونے والے کٹاؤ اور انسانوں کی زمین پر کی جانے والی تبدیلیاں (صنعتی، زرعی،تعمیراتی) شامل ہیں۔

    عطارد کے سطح کا تفصیلی جائزہ لیکر ہم زمین اور اسکے چاند کے بارے میں اور ماضی میں اسکی پیدائش کے حوالے سے کافی کچھ جان سکتے ہیں۔ عطارر کی سطح میں تبدیلیوں کا نہ ہونا دراصل ہمیں ماضی میں نظامِ شمسی کے ہولناک منظر کی یاد دلاتا ہے جب زمین، عطارر اور دیگر سیارے ابھی بن رہے تھے اور ان پر کئی سیارے، سیارچے، شہابیے وغیرہ ٹکرا رہے تھے۔ ہمارا چاند بھی زمین پر نظامِ شمسی کی پیدائش کے وقت ایک مریخ کی سائز کے سیارے "تھیا” کے ٹکرانے سے وجود میں آیا۔

    زمین کُل نہیں،نظامِ شمسی کا جُز ہے۔ اور ہم دیگر سیاروں کے بارے میں جان کر زمین کے ماضی کے بارے میں بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ لہذا خلا کی تسخیر ہمیں محض مستقبل کی ٹیکنالوجیز فراہم نہیں کرتی بلکہ ماضی کے کئی رازوں سے بھی پردہ اُٹھاتی ہے۔۔اسی لیے خلا کی تسخیر انسانی بقا کے لیے اہم ہے۔

  • میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں؟ — فرقان قریشی

    ہم سب بچپن سے ایک نام سنتے بڑے ہوئے ہیں

    برمودا ٹرائی اینگل اور اس سے منسوب واقعات

    بہت سی باتیں سننے کو ملیں کہ وہاں چیزیں گم جاتی ہیں ، یہ بھی سننے میں آیا کہ وہاں دجال ہے بلکہ اس وقت بھی پاکستان میں برمودا ٹرائی اینگل اور دجال نام سے ایک کتاب بڑی پاپولر ہے ۔

    لیکن کیا واقعی ؟

    برمودا کے متعلق یہ سبھی پراسرار باتیں بڑی دلچسپ ہیں لیکن ایک بات کہوں ؟

    سچ … کسی بھی فکشن سے زیادہ حیران کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔

    آج پانچ دسمبر ہے ، اور پانچ دسمبر ہی کو دراصل برمودا سے منسلک ایک واقعہ ہوا تھا ، لیکن آج سے 77 سال پہلے ، اور وہ واقعہ یہ تھا کہ برمودا کے ایریا میں پانچ جہاز ایک ساتھ گم ہوئے تھے ، مشہور فلائٹ 19 ۔

    کیا وہ خراب موسم کا شکار ہو گئے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر اس دن موسم خراب ہوتا ، مگر ایسا نہیں تھا ۔

    کیا وہ راستہ بھٹک گئے تھے ؟ ہو سکتا تھا … لیکن اس صورت میں کہ اگر رات کا وقت ہوتا مگر … ایسا نہیں تھا ، دن صاف تھا اور سورج چمک رہا تھا اور فلائٹ کمانڈر ایک تجربہ کار شخص تھا جس کے پاس ڈھائی ہزار گھنٹے کا فلائٹ ایکسپیرئینس تھا ۔

    ایسی بات نہیں ہے کہ اس واقعے کا ہر پہلو ہی پراسرار ہے ، کچھ سوالوں کے جواب تو موجود ہیں جو اس واقعے کے متعلق 500 صفحوں کی ایک رپورٹ میں ہیں مثلاً …

    کمپاس یعنی قطب نما … کسی حد تک کام کر رہے تھے ، ریڈیوز بھی کام کر رہے تھے ، بلکہ جہازوں کے ساتھ پانچ گھنٹے تک کمیونیکیشن ہوتی رہی تھی اور آخری کمیونیکیشن میں فلائٹ کمانڈر کے الفاظ یہ تھے کہ ہم پانی کی طرف جا رہے ہیں ۔

    ان ساری باتوں سے تو ذہن میں یہی جواب آتا ہے کہ وہ لوگ کھلے سمندروں میں بھٹک کر کریش کر گئے ہوں گے ۔

    لیکن سچ … اکثر اتنا بلیک اینڈ وائٹ نہیں ہوتا ، آپ کو بہت غور سے دیکھنا پڑتا ہے ۔

    اگر کمپاس کام کر رہے تھے تو انہیں مغرب کی طرف جانا چاہیئے تھا کیوں کہ زمین مغرب کی طرف تھی جبکہ وہ لوگ مشرق کی طرف جا رہے تھے جس کا ایک ہی مطلب ہے … کمپاس کام تو کر رہے تھے لیکن وہ مشرق کو مغرب اور مغرب کو مشرق دکھا رہے تھے ۔

    ریڈیو کام کر تو رہا تھا لیکن کمیونیکیشن میں بہت delay آ رہا تھا ، انفیکٹ کنٹرول ٹاور نے انہیں فریکوئنسی چینج کرنے کا بھی کہا لیکن فریکوئنسی بدل نہیں رہی تھی ۔

    فلائٹ میں نقشہ بھی موجود تھا لیکن نقشے کے حساب سے نیچے سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں تھے … ان لوگوں کو ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے تھے ۔

    اور شاید سب سے اہم بات کہ ایک ریڈیو میسج میں کسی نے کہا تھا کہ اگر ہم مغرب کی طرف جائیں تو ہم زمین پر پہنچ جائیں گے …

    اور اپنی طرف سے انہوں نے وہی کیا … اپنی طرف سے وہ لوگ مغرب کی طرف اڑتے رہے جہاں سورج غروب ہو رہا تھا لیکن حقیقت میں … وہ لوگ مشرق کی طرف اڑتے چلے جا رہے تھے ۔

    something was going on

    کچھ نہ کچھ تو ہوا تھا … اور یہ بات سب جانتے ہیں کیوں کہ فلائٹ 19 کی رپورٹ پر اس کی گمشدگی کی وجہ بعد میں ’’حادثے‘‘ سے بدل کر … "unknown” لکھ دی گئی تھی ۔

    کمپاس مشرق کو مغرب دکھا رہا ہے ؟

    وہ لوگ مغرب کی طرف جاتے سورج کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، اس کی طرف اڑ رہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ مشرق کی طرف جا رہے ہیں ؟

    سمندر میں جتنے جزیرے نظر آنے چاہیئں ان سے کہیں زیادہ جزیرے نظر آ رہے ہیں ؟

    ریڈیو کام کر رہا ہے لیکن فریکوئنسی نہیں بدل رہی ؟

    یہاں تک بالآخر پانچوں جہاز گمشدہ ہو گئے ۔

    ان سب عجیب و غریب باتوں کے ہوتے ہوئے بھی چلیں میں مان لیتا کہ وہ بدنصیب لوگ ایک حادثے کا شکار ہو گئے لیکن پھر شاید سب سے عجیب بات ہوئی ۔

    ان جہازوں کی تلاش میں ایک سرچ آپریشن ہوا تھا … سرچ آپریشن کا مطلب ہوتا ہے کہ ایک ایسی پارٹی بھیجی جاتی ہے جو خراب موسم اور مختلف آفات کے لیے تیار ہوتی ہے ، ان کے پاس بہتر ایکوئپمنٹس ہوتے ہیں ۔

    لیکن عجیب بات یہ تھی کہ ان لوگوں کی تلاش کے لیے جو جہاز well equiped اور اچھی طرح سے تیار ہو کر گیا تھا …

    وہ بھی گمشدہ ہو گیا ۔

    ایک کے بعد ایک کئی ہوائی اور بحری جہاز غائب ہو گئے … آخر ان گمشدگیوں کی کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟

    کچھ ہفتے پہلے مجھے ایک لیڈ ملی تھی ۔

    اسی سال سمندر کے دوسرے حصے میں گم ہوئے ایک japenese پائلٹ کی آخری کمیونی کیشن اور اس کمیونیکیشن کے اندر گم ہونے سے پہلے پائلٹ نے ایک بہت اہم بات بتائی تھی ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا اور 1561ء میں لکھی ایک جرمن کتاب تک پہنچا جس میں سمندر نہیں بلکہ زمین کے اوپر ایک ایسے ہی واقعے کے متعلق لکھا ہوا ہے ۔

    نہ صرف لکھا ہوا ہے بلکہ انہوں نے اس واقعے کی آنکھوں دیکھی ایک تصویر بھی بنائی تھی جو آج بھی موجود ہے ۔

    میں نے اس لیڈ کو فالو کیا … اور 1566ء میں دوبارہ ویسا ہی ایک واقعہ سوئیٹزرلینڈ کے ریکارڈ میں دیکھنے کو ملا ۔

    اور پھر لیڈ پر لیڈ ..

    آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے ایک مصری پاپائرس میں لکھا ایک واقعہ ۔

    سوا دو ہزار سال پہلے ایک رومن شہر livy میں دیکھا گیا ایسا ہی ایک واقعہ ۔

    دو ہزار سال پہلے دو آرمیز کے درمیان لڑائی کے دوران دیکھا گیا ایک عجیب و غریب واقعہ جسے انفیکٹ ، دونوں آرمیز نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور رپورٹ کیا تھا ۔

    سنہ 1668ء میں فرانس کے پورے ایک گاؤں کا قریب کے پہاڑوں پر ایک بہت ہی عجیب و غریب واقعہ ہوتا دیکھنے کی رپورٹ ، جس میں وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم نے گھبرا کر اس طرف پتھر بھی برسانے شروع کر دیئے ۔

    مجھ لگ رہا ہے کہ … میں برمودا کے راز تک پہنچ گیا ہوں ۔

    فرقان قریشی

  • انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    انسانوں کے بنائے عناصر!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہم جانتے ہیں کہ یورینیم تک تمام عناصر جو پیریاڈیک ٹیبل میں ہیں یہ سب ستاروں میں بنے ہیں اور یہ زمین پر قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں مگر کیا انسان ان سے آگے کے بھاری عناصر بنا سکتے ہیں؟

    اسکا جواب ہے جی۔ سائنسدانوں نے پچھلی ایک صدی میں یورینیم کے بعد 24 مزید ایسے عناصر لیبارٹریوں میں بنائے ہیں جو زمین پر نہیں پائے جاتے۔

    یہ عناصر نیوکلیئر ری ایکٹرز، پارٹیکل ایکسلیریٹر یا ایٹمی دھماکوں کے دوران بنے ہیں۔ ان میں سب سے پہلا عنصر 1944 میں بنایا گیا جبکہ آخری 2010 میں۔ ان مصنوعی عناصر کی ہاف لائف یعنی وہ مدت جس میں ایک خاص مقدار میں موجود انکے ایٹم ڈیکے ہو کر آدھے رہ جائیں ملی سیکنڈز سے لیکر کروڑوں سالوں تک ہے۔ یہ عناصر موجودہ قدرتی عناصر میں مزید پروٹانز ڈال کر بنائے جاتے ہیں۔

    ان میں سے پہلا مصنوعی عنصر کیورئیم تھا جسکا ایٹامک نمبر 96 ہے یعنی اسکے مرکزے میں 96 پروٹانز ہیں۔ یہ 1944 میں پلوٹونیم کے ایٹموں میں ایلفا پارٹیکلز کے ٹکرانے سے بنائے گئے۔ ایلفا پارٹیکلز الیکٹرانز کے بغیر ہیلئیم کا مرکزہ ہوتے ہیں جس میں دو پروٹان اور دو نیوٹران آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ اس عنصر کے 19 آئسوٹوپس(ریڈیوسٹوپس) ہیں
    ۔
    آئسوٹوپ کسی عنصر کے ایٹم میں پروٹان کی تعداد برابر مگر نیوٹران کی اضافی تعداد کے باعث بنتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہائیڈروجن کے تین آئسوٹوپ ہیں۔ پہلا ہائیڈروجن کا نارمل ایٹم جسکے مرکزے میں ایک پروٹان ہے جبکہ باقی دو آئسوٹوپس میں بالترتیب ایک پروٹان اور ایک نیوٹران اور ایک پروٹان اور دو نیوٹران پائے جاتے ہیں۔

    کیوریم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ(وہ آئسوٹوب جو تابکار ہوں) کی ہاف لائف ہے تقریباً 1.5 کروڑ سال۔ کیوریم کا استعمال پلوٹونیم کے سب سے سٹیبل ریڈیسٹوپ میں کیا جاتا ہے جو دل کی دھڑکن کو معمول پر رکھنے والے آلے یعنی پیس میکر کو ماضی میں توانائی فراہم کرنے میں استعمال ہوتا رہا ہے مگر اب یہ متروک ہے۔۔اسکے علاوہ خلا کی تسخیر کے لیے بھیجے جانے والے کئی مشنز میں بھی توانائی کے حصول کے لیے پلوٹونیم کا استعمال تھرمو نیوکلئیر جنریوٹٹرز میں ہوتا رہا ہے۔

    2010 میں امریکہ اور روس کے سائنسدانوں نے ملکر ایک نیا عنصر لیبارٹری میں بنایا اسکا ایٹامک نمبر تھا 117 یعنی اسکے مرکزے میں 117 پروٹانز تھے اور اسے نام دیا گیا Tennessine۔ مگر یہ کوئی سٹیبل عنصر نہںں اور اسکے سب سے سٹیبل ریڈیوسٹوپ کی ہاف لائف تھی محض 51 ملی سیکنڈ۔

    اسی طرح اب تک کا سب سے بھاری عنصر جسے لیب میں تیار کیا چکا ہے اسکا نام ہے Oganesson اور یہ 2002 میں بنایا گیا۔ یہ پیرایاڈک ٹیبل کا سب سے آخری عنصر ہے اور اسکی ہاف لائف محض 0.69 ملی سیکنڈ ہے۔

    اب تک کا سب سے مہنگا مصنوعی عنصر ہے کیلوفورنیم۔ اسکا ایٹامک نمبر ہے 98 اور اسکے 100 گرام کی قیمت ہے تقریباً 3 ارب ڈالر ہے۔ جبکہ قدرتی طور پر پایا جانا والا سب سے مہنگا عنصر جسے آپ خرید سکتے ہیں وہ ہے لوٹیٹیم اِسکا ایٹامک نمبر یے 71 اور اسکے سو گرام کی قیمت ہے دس ہزار ڈالر۔ انسانوں نے قدرتی عناصر سے ہٹ کر مصنوعی عناصر تیار کر لیے ہیں اور یہ دوڑ ابھی جاری ہے۔

  • سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    سورج سے قریب مگر سردی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    زمین کا سورج کے گرد مدار گول نہیں بلکہ بیضوی ہے۔ یعنی سال میں زمین کا سورج کے گرد فاصلہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ کبھی کم تو کبھی زیادہ۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زمین جب سورج کے قریب ہوتی ہے تو گرمیاں آتی ہیں۔ مگر یہ بات بالکل غلط ہے۔ 3 جنوری کو زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے مگر آپ رضائی میں ٹھنڈ سے دبکے مونگ پھلیاں اور دیگر خشک میوہ جات رگڑ رہے ہوتے ہیں۔ مگر ایسا کیوں؟ کہ جنوری میں زمین سورج کے سب سے قریب ہوتی ہے جسے عرفِ عام میں ایک مشکل سا نام دیا جاتا ہے Perihelion اور آپ رضائی میں سر گھسائے سردی کو کوس رہے ہوتے ہیں جبکہ 4 جولائی کو جب زمین سورج سے باقی سال کی نسبت سب سے دور ہوتی ہے جسے Apehlion کہتے ہیں تو آپ اے سی کے سامنے بیٹھے ٹھنڈا پانی پی رہے ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں؟

    پہلی بات یہ جان لیں کہ زمین کے دو کرے ہیں۔ شمالی کرہ اور جنوبی کرہ۔ ان دو کروں کو زمین کے درمیان سے گزرتی ایک فرضی لکیر سے تقسیم کیا جاتا ہے جسے خطِ استوا یا ایکوئیٹر کہتے ہیں۔ مملکتِ خداداد یعنی پاک لوگوں کا ملک پاکستان اتفاق سے زمین کے شمالی کُرے پر واقع ہے۔ جب زمین کے شمالی کُرے پر جون میں سخت گرمیاں پڑ رہی ہوتی ہیں تو زمین کے جنوبی کُرے پر واقع ممالک جیسے کہ آسٹریلیا ، برازیل، چِلی وغیرہ میں سردیاں اور برف باری ہو رہی ہوتی ہے اور جب پاکستان اور شمالی کرے پر موجود دیگر ممالک میں لوگ دسمبر میں سردی سے کانپ رہے ہوتے ہیں تو جنوبی کُرے پر واقع ممالک یعنی آسٹریلیا ، برازیل, جنوبی افریقہ وغیرہ میں لوگ ساحلِ سمندر پر فحاشی اور عریانی کی مثالیں بنے ٹی شرٹ یا چڈیوں میں گھوم رہے ہوتے ہیں۔ اور بعض تو محض سلیمانی لباس میں۔

    گویا زمین پر موسم ہر جگہ، ہر وقت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ شمالی کُرے پر گرمیاں ہونگی تو جنوبی کُرے پر سردیاں ۔ البتہ خط ِ استوا پر واقع ممالک میں سارا سال موسم تقریباً ایک سا رہتا ہے جیسے کہ ایکواڈور ، کینیا وغیرہ۔

    دراصل زمین پر سردیوں، گرمیوں، بہار، خزاں جیسے موسموں کا تعلق زمین کا سورج سے فاصلے پر منحصر نہیں بلکہ اس بات پر منحصر ہے کہ زمین کے کس حصے پر سورج کی روشنی کتنی زیادہ پڑتی ہے۔ زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری تک جھکی ہوئی ہے۔ جسکی وجہ سے زمین کے شمالی کرے پر جنوری سے مارچ تک جھکاؤ کم ہوتا ہے جسکے باعث ان مہینوں میں یہاں سورج کی روشنی کم مدت تک پڑتی ہے تبھی سردیوں میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی ہیں جبکہ اسکے بعد متواتر زمین کا جھکاؤ سورج کی طرف بڑھتا جاتا ہے اور موسم مئی جون تک گرم ہونا شروع ہو جاتا ہے جبکہ دن لمبے اور راتیں چھوٹی ہوتی جاتی ہیں۔

    چونکہ زمین کروی ہے تو اسکا ایک کُرہ جب سورج کی طرف زیادہ جھکا ہوتا ہے تو دوسرا کرہ کم۔ لہذا شمالی اور جنوبی کروں پر موسموں کی ترتیب اُلٹ ہوتی ہے۔ زمین پر درجہ حرارت دراصل زمین کی فضا میں موجود گرین ہاؤس گیسوں کی سورج کی روشنی کو جذب کرنے پر منحصر ہے نہ کہ زمین سے سورج کے فاصلے پر۔ جس قدر زیادہ وقت سورج زمین کے کسی حصے تک روشنی ڈالے گا یعنی جس قدر زیادہ زمین کے کسی حصے کا جھکاؤ سورج کی طرف ہو گا اس قدر زیادہ وقت فضا میں موجود گیسیں سورج کی روشنی کو جذب کریں گی اور زمین کو گرم رکھیں گی۔

    پاکستان میں آ جکل سردیاں چل رہی ہیں جبکہ سورج میاں اس وقت زمین کے سب سے قریب ہیں۔ ویسے سردیوں سے یاد آیا فی زمانہ سچے دوست کی نشانی یہ ہے کہ جب آپ سردیوں میں اُسکے گھر جائیں تو وہ آپکی تواضع چلغوزوں سے بھری ٹرے سے کرے۔

  • سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں —  خطیب احمد

    سماعت کی حس کے ابتدائی مدارج ماں کی کوکھ میں — خطیب احمد

    صرف چار ہفتے کے حمل میں انسانی ایمبریو کا دماغ بن چکا ہوتا ہے۔ پانچویں ہفتے دماغ کی دونوں اطراف میں دو چھوٹے سے سوراخ بن جاتے ہیں۔ یہ کان کے اندرونی حصے کا آغاز ہوتا ہے۔۔ ایک دو ہفتوں میں یہ سوراخ اندر کی طرف گولائی میں فولڈ ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور کچھ ہی دن میں یہ گولائی کاکلیا Cochlea بن جاتی ہے۔ جی بلکل سب سے پہلے کان میں کاکلیا بنتا ہے۔ کان کا اندرونی حصہ۔

    آٹھویں ہفتے میں کان میں موجود تین چھوٹی ہڈیوں کا سٹرچر بننا شروع ہوتا ہے۔ جو آواز کان میں آنے پر وائبریٹ کرتی ہیں اور آواز کو سننے میں مدد دیتی ہیں۔ ایک ٹیوب کی شکل میں کیویٹی جو اس سٹرکچر کے گرد بننا شروع ہوتی ہے۔ اسے ہم کان کا درمیانی حصہ کہتے ہیں۔ پہلے Inner ear بنا تھا اور اب middle ear بننے لگا ہے۔

    حمل کے بارہویں ہفتے میں کاکلیا کے اندر چھوٹے چھوٹے بال اگنا شروع ہوتے ہیں۔ جنہیں ساؤنڈ ٹرانسمیٹرز کہا جاتا ہے۔ یہ بال کاکلیا کے ساتھ ہی نس (Nerve) میں بھی شفٹ ہونا شروع ہوجاتے ہیں جو آواز کے سگنل دماغ تک لے جا رہی ہے۔ یہ آواز کے سگنل لیجانے والی نس ہمارے برین کے ٹیمپورل لوب میں موجود آڈیٹری کارٹیکس کے ساتھ کنکیشن ہوئی ہوتی ہے۔ جہاں بے معنی شور کو پراسس کرکے دماغ معنی اور مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔

    حمل کے پندرہویں ہفتے تک بیرونی کان مکمل بن چکا ہوتا ہے۔ جیسے ہی حمل کے سولہویں ہفتے یعنی چار ماہ کے حمل میں خدا کے حکم سے بچے کے جسم میں روح پھونکی جاتی ہے تو جسم کے دیگر تمام حصوں کے ساتھ کان بھی اپنا ابتدائی کام کرنا شروع کرتا ہے۔

    تقریباً اٹھارہویں ہفتے میں بچہ ماں کے سانس لینے، کھانا ہضم کرنے، دل کی دھڑکن سننے لگتا ہے۔ باہر کی دنیا سے وہ ابھی کوئی آواز نہیں سن رہا۔

    حمل کے تئیسویں ہفتے بچہ کوکھ سے باہر کی دنیا میں سے آواز سنتا ہے۔ باہری دنیا کی آوازوں میں سے بچہ پہلے low-pitched ساونڈز سنتا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ وہ ماں کی آواز سے پہلے باپ کی آواز سنتا ہے۔ یا کوئی بھی مردانہ آواز۔ ایسے ہی وہ بلی کی آواز نہیں سن سکتا مگر کتے کے بھونکنے کی آواز سن سکتا ہے۔ مگر جیسے جیسے کانوں اور دماغ کا کنیکشن میچور ہوتا جاتا ہیں وہ ماں کی آواز بھی سننے لگتا ہے۔

    ماں کے پیٹ میں بچے کا کان انتہائی حساس ہوتا ہے۔ اللہ نے اسکی حفاظت کے لیے تین تہیں بنا دی ہیں۔ سب سے پہلے ماں کے پیٹ کی اسکن۔ دوسرے نمبر پر کوکھ کی اسکن۔ اور تیسرے نمبر پر کوکھ میں موجود پانی جو کان تک انتہائی اونچی آواز جانے میں حائل ہوجاتا ہے۔ واہ میرے مالک کون لوگ ہیں جو تیری ذات کا انکار کرتے ہیں۔ اگر صرف کوکھ میں یہ پانی ہی نہ ہو تو کسی بس کا ہارن یا دروازہ زور سے بند ہونے پر ماں کے پیٹ میں ہی بچے کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔

    یہ آوازیں بچے کے لیے بامعنی نہیں ہوتیں۔ اسے نہیں پتا ہوتا کہ یہ کیا کہا جا رہا ہے۔ چھبیسویں ہفتے تک بچہ کسی آواز کو سننے پر تین طرح کے ری ایکشن دیتا ہے۔ اسکے دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے سانس تیزی ہوتی یا وہ حرکت کرتا ہے اور کائنات کو پیغام دے رہا ہوتا ہے میں سن رہا ہوں۔

    بتسویں ہفتے تک اگر بچے کا سونوگرام کیا جائے تو پاس کوئی بات کرکے یا میوزک چلا کر بچے کے چہرے کے تاثرات اور سمائل تک دیکھی جا سکتی ہے۔ پینتسویں ہفتے تک بچہ اپنے آس پاس سنی جانے والی اپنی امی اور ابو کی آواز سے غیر شعور میں مانوس ہو چکا ہوتا ہے۔

    یہی وجہ سے جب بچہ پیدا ہوتا تو باہر دنیا میں وہ اپنی ماں کی ڈائیریکٹ آواز سن کر روتے ہوتے ہوئے فوراً چپ کر جاتا ہے۔ اور یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اس لڑکی کی آواز سنی سنی لگتی ہے۔ یہ لڑکی ضرور میری اپنی ہے۔ اس سے ضرور کوئی گہرا رشتہ ہے۔ سو لوگوں کی آوازوں میں سے وہ چند منٹوں کی زندگی کا بچہ اپنی ماں کی آواز میں فرق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    ماں کی کوکھ میں بچے کی سماعت کا خیال کیسے رکھا جائے کہ وہ سماعت سے محروم نہ ہو؟

    اپنی من مرضی کی دوائیاں نہ کھائیں۔ کہ میری بہن نند جٹھانی دیورانی کو حمل میں یہ ہوا تھا اس نے یہ گولی کھائی تو وہ ٹھیک ہوگئی میں بھی کھا لیتی ہوں۔ یہ خطرناک ترین عمل ہے۔ دوران حمل کوئی بھی اینٹی بائیوٹک کھانے سے پہلے مستند ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ حمل میں دانتوں کا علاج کروانے سے گریز کریں اس میں بہت ہیوی اینٹی بائیوٹک کھانا پڑتی ہے۔ جو بچے کی سماعت کو خراب یا ختم بھی کر سکتی ہیں۔

    آپکا گھر مسجد امام بارگاہ وغیرہ کے قریب ہے جہاں سپیکرز کی آواز بہت ہی زیادہ آتی ہے۔ تو پلیز حمل کے دنوں میں اس گھر سے کہیں اور شفٹ ہوجائیں۔ یا اذان کے وقت کسی ایسے کمرے میں یاد سے بیٹھ جائیں جہاں آواز بہت کم آسکے۔ اسپیکرز کی اتنی تیز اور ہائی پچ آواز ہوتی کہ بڑے لوگوں کی سماعت ڈیمج ہو سکتی ہے۔ ماں کے پیٹ میں بچہ یا نومولود چھوٹا بچہ تو انتہائی رسک پر ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ بہت اونچی بولنے والی خواتین کے پاس حاملہ لڑکی 10 تا 20 منٹ سے زیادہ نہ بیٹھے۔ اونچی آواز میں میوزک نہ چلائے۔ شادیوں میں فوجی بینڈ والوں سے دور رہے۔ شبرات پر دوران حمل آپ کے آس پاس پھوڑا گیا کوئی پٹاخہ یا بم آپکے پیٹ میں موجود بچے کو ساری عمر کے لیے سننے سے صلاحیت سے محروم کر سکتا ہے۔

    الکوہل اگر آپ پیتی ہیں تو دوران حمل پلیز نہ پئیں۔ یہ عادت بھی بچے کی سننے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے۔

    حاملہ لڑکی کو نو ماہ انتہائی خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ اسے کوئی دکھ پریشانی نہ دیں۔ مالی مشکلات کو قرض لے کر ہی عارضی طور پر ختم کر لیں۔ ماں کا دوران حمل پریشانی و ٹینشن میں رہنا، یا خوش نا رہنا، ذہنی تناؤ میں رہنا بھی بچوں میں متعدد معذوریوں کا باعث بن سکتا ہے۔

    حمل میں مچھلی انڈے بادام کی سات سے نو گریاں روزانہ رات کو بھگو کر صبح، زیتون، کچا ناریل ضرور کھائیں۔ یہ پیدا ہونے والے بچے میں سماعت کی حس کو قدرتی طور پر اچھا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔