Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • فیس بک پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر بطورعطیہ جمع کی گئی رقم پانچ ارب ڈالرتک جا پہنچی

    فیس بک پلیٹ فارم اور انسٹاگرام پر بطورعطیہ جمع کی گئی رقم پانچ ارب ڈالرتک جا پہنچی

    سان فرانسسكو: دنیا بھر میں مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے اعلان کیا ہے کہ اس کے پلیٹ فارم سے دنیا بھر کے لوگوں اور تنظیموں نے پانچ ارب ڈالر کا عطیہ جمع کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق فیس بک نے باضابطہ طور پر اپنےمرکزی پلیٹ فارم، اس کے ٹولز اور انسٹاگرام پر 12 ماہ کے دوران پانچ ارب ڈالر کی رقم عطیہ کرنے کی تصدیق کی ہے بالخصوص فیس بک کی جانب سے کورونا وبا کے دوران لوگوں کی غیرمعمولی مدد کی گئی ہے

    اس ضمن میں فیس بک نے کئی طرح کے ٹولز متعارف کرائے ہیں جو مختلف تنظیموں کو فنڈ جمع کرنے میں مدد دیتے ہیں فیس بک کے مطابق ماحولیاتی اور انسانی عوام کی بنا پر اس نے عطیہ اور عطیہ کنندگان پر خصوصی توجہ رکھی ہے صرف 2020 میں کورونا وبا میں لوگوں کی مدد کرنے کے ضمن میں 17 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رقم عطیہ کی گئی ہے۔

  • پاکستانی طالب علم نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی

    پاکستانی طالب علم نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی

    کراچی: پاکستان کے نویں جماعت کے طالب علم نبیل حیدر جعفری نے واٹس ایپ طرز کی ایپ بنالی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پاکستان کے شہر کراچی کے طالب علم نبیل حیدر جعفری نے ’ایف ایف میٹنگ‘ کے نام سے واٹس طرز کی ایپ بنالی جسے اب تک دو لاکھ سے زائد صارفین گوگل ایپ سے ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں۔

    ایف ایف میٹنگ نامی ایپلی کیشن میں بہت سے آپشنز موجود ہیں،ایف ایف ایم یعنی فرینڈ اینڈ فیملی میٹنگ ایپ کی تیاری میں نبیل کو تین سال کا عرصہ لگا۔

    نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’باخبر سویرا‘ میں گفتگو کرتے ہوئے نبیل حیدر کا کہنا تھا کہ میں اس ایپ پر گزشتہ تین سالوں سے کام کررہا تھا کوشش تھی کہ کچھ نیا کرکے ملک کا نام روشن کروں اور اس میں کامیاب بھی رہا۔

    طالب علم کا کہنا تھا کہ جب تیسری جماعت میں تھا تو گیمز تیار کرتا تھا پھر میں ںے یوٹیوب پر دوسری ایپس دیکھیں تو خیال آیا ہے صارفین کے لیے نئی ایپ بنائی جائے، ایپ کی تیاری کے لیے والد نے بہت سپورٹ کیا۔

    ایپ سے متعلق نبیل حیدر نے بتایا کہ دوسری ایپلی کیشن میں دو منٹ کی ویڈیو بھیجی جاسکتی ہیں لیکن ایف ایف میٹنگ میں تین سے چار گھنٹے کی ویڈیو بھیجی جاسکتی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ایپ میں کمزور بینائی والے افراد کے لیے کلر اور فونٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔

    نبیل کی والدہ کا کہنا تھا کہ ایپ بنانے کے دوران نبیل کی پڑھائی متاثر نہیں ہوئی، وہ پرنسپل اور ٹیچرز کے فیورٹ طالب علم ہیں، جب بھی پیرنٹس میٹنگ میں شرکت کرتے ہیں تو ہمیں بیٹے پر فخر ہوتا ہے۔

    نبیل کی والدہ نے کہا کہ بیٹے کو مختلف ممالک سے پذیرائی مل رہی ہے لیکن وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی جانب سے اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

    ایف ایف میٹنگ کے بانی سید نبیل حیدر جعفری کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو

  • واٹس ایپ کا وائس میسج کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

    واٹس ایپ کا وائس میسج کیلئے نیا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ

    واشنگٹن: دنیا بھر میں مقبول میسجنگ ایپ واٹس ایپ کی انتظامیہ نے اپنے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے،یہ فیچر کچھ عرصہ تک عام صارفین کو میسر آسکے گا۔

    باغی ٹی وی :موجودہ دور میں واٹس ایپ پیغام رسانی کے علاوہ ای فائلز، فوٹوز، ویڈیوزتقریباً ہر طرح کے موبائل ڈیٹا کی منتقلی کا سب سے تیز اور بڑا ذریعہ بن گیا ہےایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت واٹس ایپ کو دنیا بھر میں 2 ارب سے زائد افراد استعمال کر رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ کمپنی بھی اپنے صارفین کو پریشانی سے بچانے کے لیے اس ایپ کے فیچرز کو اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہے۔

    تاہم اب پھر واٹس ایپ انتظامیہ نے اپنے صارفین کے لیے نیا فیچر متعارف کروانے کا اعلان کیا ہے اور اسی سلسلے میں ایک رپورٹ سامنے آئی ہے کہ واٹس ایپ اب وائس میسج کے فیچر کو اپ ڈیٹ کرنے کا جارہا ہے۔


    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس فیچر پر کام چل رہا ہے جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق اس پر کام مکمل ہونے کے قریب ہے مذکورہ فیچر کی مدد سے صارفین وائس میسج میں موجود آواز کو اس کی طے شدہ چلنے کی رفتار سے زیادہ تیز بھی سن سکتے ہیں جیسے کسی ویڈیو کو سپیڈ سے چلایا جاتا ہے ایسے ہی آڈیو پیغامات کو بھی سپیڈ سے چلایا جاسکے گا۔

    یہ اسپیڈ 1x سے 2x تک ہوسکتی ہے جس کا بنیادی مقصد صارفین کو لمبے وائس میسجز جلد سنوانا اور ان کا وقت بچانا ہے نئے فیچر کے حوالے سے واٹس ایپ انتظامیہ نے کام شروع کردیا ہے۔

    واٹس ایپ نے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم آئی او ایس 9 کے لیے اپنی سپورٹ بند کر دی

  • فیس بک نے 3 ماہ کے دوران ایک ارب 3 کروڑ جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے

    فیس بک نے 3 ماہ کے دوران ایک ارب 3 کروڑ جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے

    دنیا بھر میں مقبول سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے 3 ماہ کے دوران ایک ارب 3 کروڑ جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کردیئے۔

    باغی ٹی وی :میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں ایک بلاگ پوسٹ میں فیس بک نے بتایا کہ انتظامیہ نے گزشتہ برس اکتوبر سے دسمبر تک ایک ارب 3 کروڑ جعلی اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے ہیں جن کے ذریعے تقریباً 35 ہزار افراد گمراہ کن معلومات پھیلارہے تھے۔

    فیس بک کے مطابق کمپنی نے کورونا اور ویکسین سے متعلق ایک کروڑ 20 لاکھ مواد بھی ڈیلیٹ کیا ہے۔

    خیال رہے کہ کورونا وائرس اور ویکسین سے متعلق جھوٹے دعوےسوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی زینت بنے ہوئے ہیں جبکہ اس سے قبل یوٹیوب بھی گزشتہ 5 ماہ کے دوران کورونا ویکسین سے متعلق 3000 گمراہ کن معلومات پھیلانے والی ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرچکی ہے۔

    یوٹیوب ترجمان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 8 لاکھ سے زائد غلط معلومات فراہم کرنے والی ویڈیو ز کو یوٹیوب سے ڈیلیٹ کیا جاچکا ہے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ ڈیلیٹ کی جانے والی ویڈیوزمیں ویکسین سے لوگوں کی ہلاکت ، بانجھ پن میں اضافے کا سبب یا پھر ویکسین میں خفیہ مائیکروچپ جیسے دعوے کیے جانے جیسا مواد شامل تھا۔

    ترجمان نے بتایا تھا کہ ان اعداد وشمار میں ڈیلیٹ کی جانے والی ویڈیوز کا مواد صرف ویکسین سے متعلق نہیں تھا بلکہ ویڈیوز میں وائرس کے حوالے سے بڑے پیمانے پر طبی لحاظ سے گمراہ کن دعوے بھی کیے گئے تھے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ویکسینز سے متعلق کیے جانے والے غلط دعوؤں اور گمراہ کن معلومات کو روکنے کے لیے یوٹیوب سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی ایسے مواد کی تلاش اور انہیں حذف کیے جانے سے متعلق سرگرم عمل ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل فیس بک کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد فیس بک کے قواعد وضوابط توڑنے والے گروپوں کی رسائی کو محدود کرنا ہے جبکہ ساتھ ہی ایسےگروپس تک الگورتھم سفارشات کے ذریعے عوام کی رسائی بھی محدود کرنا ہے جوماضی میں فیس بک کے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔

    یوٹیوب نےکورونا ویکسین اور وائرس سے متعلق ہزاروں گمراہ کن ویڈیوز ڈیلیٹ کر دیں

    فیس بک کاعوامی ویڈیوزکےاعداد و شماراورکاپی رائٹس جیسےمسائل کیلئےآرٹیفیشل…

    فیس بک کا سیاسی و سماجی گروپوں سے متعلق اہم اقدام

     

  • سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے توعالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے  تحقیق

    سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے توعالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران ختم کیا جاسکتا ہے تحقیق

    سمندر دنیا کے 70 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں اور اب دنیا میں تحفظ کے حامل سمندری علاقوں کے مفصل نقشے سے انکشاف ہوا ہے کہ اگرسمندروں کی حفاظت کی جائے تو اس سے نہ صرف آب و ہوا میں تبدیلی کے مسائل حل ہوسکتے ہیں بلکہ عالمی غذا کی فراہمی اور حیاتیاتی تنوع کا بحران بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : ایک تحقیقی مقالے رپورٹس کے مطابق سمندروں کا سختی سے تحفظ کیا جائے تو صحتمند خوراک کی مسلسل فراہمی یقینی ہوجائے گی، سمندری جانوروں کے مسکن اور ان کی بقا کو فروغ ملے گا اور شاید موسمیاتی تبدیلیوں کا قدرتی حل بھی برآمد ہوسکے گا۔

    ہفت روزہ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین نے سمندروں میں خاص مقامات کی نشاندہی کی ہے۔ اگر ان کی کڑی نگرانی اور حفاظت کی جائے تو 80 فیصد سمندری حیات کو تحفظ ملے گا، ماہی گیری کی تعداد میں 80 لاکھ میٹرک ٹن کا اضافہ ہوگا، اور سمندری فرش کی ٹرالنگ روکنے سے ایک ارب ٹن تک کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوجائے گا کیونکہ سمندری فرش پر ماہی گیری کا یہ طریقہ نہایت خطرناک ہے۔


    یہی وجہ ہے کہ ٹرالنگ کا عمل نہ صرف سمندری حیاتیات کےلیے تباہ کن ہے بلکہ اس سے سمندروں میں سالانہ کروڑوں ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ سمندری پانیوں میں گھل رہی ہے۔ اس تحقیق کے اہم رکن پروفیسر اینرک سیلا کہتے ہیں کہ اس وقت عالمی بحر کے صرف سات فیصد رقبے کو تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے تمام ممالک پر زور دے کر کہا کہ 2030 تک سمندروں کے 30 فیصد حصے کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے بے پناہ فوائد حاصل ہوں گے۔

    اپنی تحقیق میں انہوں نے سمندری ڈیٹا اور الگورتھم کی مدد سے کہا ہے کہ عالمی سطح پر یہ کام ممکن ہے اور اس میں تمام شریک کو ایک میزپربیٹھنا ہوگا کیونکہ سمندروں کا تحفظ ہر حال میں انسانوں کو ان گنت فوائد فراہم کرسکتا ہے صرف 30 فیصد سمندری علاقوں کو تحفظ اور کڑی نگرانی کے ذریعے محفوظ بنا کر اس سے تین گنا فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں-

    اس تحقیق میں بین الاقوامی ماہرین نے اہم کردار ادا کیا ہے جسے محض نقشے کی بجائے ایک پورا منصوبہ (فریم ورک) کہا جاسکتا ہے جو ایک تہائی سمندری علاقوں کی سخت نگرانی اور تحفظ پر زور دیتا ہے کیونکہ سمندر کے یہ مقامات خود کی مرمت اور بحالی کے شاندار خواص رکھتے ہیں۔

    ان علاقوں کو ایم پی اے یا میرین پروٹیکٹڈ ایریا کہا جاتا ہے جہاں ماہی گیری پر پابندی عائد کرکے بہت سے فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ اس طرح پورا ماحول اور مسکن دھیرے دھیرے بحال ہوجاتا ہے دوسری جانب رپورٹ میں سمندری فرش کی ٹرالنگ کو انتہائی تباہ کن قرار دیا گیا ہے۔

  • تجربہ گاہ میں آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کی کاشت

    تجربہ گاہ میں آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کی کاشت

    ہالینڈ کے سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں پہلی بار آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود ’کاشت‘ کیے ہیں-

    باغی ٹی وی : ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں میں آنسوؤں کا بنتے رہنا اور وقفے وقفے سے خارج ہونا ہماری صحت کےلیے بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے ہماری آنکھیں مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں بلکہ آنکھوں کی صفائی بھی ہوتی رہتی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ’سیل پریس‘‘ کے ریسرچ جرنل ’’اسٹیم سیل‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ہالینڈ کی ’دی رائل نیدرلینڈز اکیڈمی آف آرٹس اینڈ سائنسز‘ کی سرپرستی میں کی گئی اس تحقیق میں سب سے پہلے جینیاتی انجینئرنگ کی جدید ترین ٹیکنالوجی ’کرسپر‘ (CRISPR) سے استفادہ کرتے ہوئے وہ جین شناخت کیے گئے جو انسانوں اور چوہوں کی آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود میں اہم ترین حیثیت رکھتے ہیں۔

    یعنی ’خلیاتِ ساق‘ (stem cells) استعمال کرتے ہوئے پیٹری ڈش میں آنسو بنانے والے مخصوص خلیات تخلیق کرکے انہیں غدود کی شکل میں کامیابی سے یکجا کیا گیا۔


    تجربہ گاہ کے ماحول میں ان غدود نے ٹھیک ویسے ہی آنسو بہائے جیسے قدرتی آنکھ سے آنسو نکلتے ہیں۔

    فی الحال یہ ابتدائی نوعیت کے تجربات ہیں جن کا مقصد آنکھوں میں آنسو پیدا کرنے والے غدود کے کام کو باریک بینی سے سمجھنا ہے۔

    تاہم مستقبل میں ماہرین اسی طریقے پر آنسو بنانے والے ایسے غدود تیار کرنے کا ارادہ بھی رکھتے ہیں جنہیں خشک آنکھوں کی بیماری میں مبتلا مریضوں میں پیوند کیا جاسکے گا البتہ یہ منزل ابھی بہت دور ہے جس کا انحصار آئندہ تجربات میں کامیابیوں پر ہے۔

  • انگلی کے اشارے اور دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈیجیٹل رسٹ بینڈ

    انگلی کے اشارے اور دماغ سے کمپیوٹر قابو کرنے والا فیس بک کا ڈیجیٹل رسٹ بینڈ

    فیس بک نے کلائی پر باندھے جانے والا ایک ویئرایبل بنایا ہے جو دماغی سگنل پڑھ کر آگمینٹڈ ریئلٹی کے ماحول میں آپ کو مختلف سہولیات فراہم کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : فیس بک نے اپنے بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ اس طرح آئی پوڈ جیسا نظام پہن کر دماغی سگنلوں کو پڑھا جاسکتا ہے اور جب آپ کسی منظر میں کوئی ڈیجیٹل شے دیکھتے ہیں تو صرف دماغی طور پر سوچنے سے ہی اسے ایک سے دوسری جگہ لے جاسکتے ہیں۔ ڈیجیٹل پٹا الیکٹرومائیوگرافی (ای ایم جی) استعمال کرتے ہوئے دماغ سے ہاتھوں تک پہنچنے والے حرکتی (موٹر) اعصاب کو پڑھتا ہے۔


    اب تک اس آلے کو کوئی نام نہیں دیا گیا ہے لیکن اس کی بدولت آگمینٹڈ ریئلٹی کی معلومات یا اجزا کو انگلی کے اشارے یا محض سوچنے سے ہی ایک سے دوسری جگہ حرکت دینا ممکن ہوگا۔

    اسی برس نو مارچ میں فیس بک نے خود فیس بک گلاس (عینک) کا اعلان کیا تھا جو آگمینٹڈ ریئلٹی میں استعمال کی جاسکتی ہیں اسی کے ساتھ مخصوص دستانے اور دیگر آلات پر تحقیق کے لیے بھی غیرمعمولی رقم خرچ کی گئی ہے۔

    آگمینٹڈ ریئلٹی کو یوں سمجھئے کہ آپ ایک مخصوص عینک سے حقیقی منظر کو دیکھ رہے ہیں اور اس میں ڈجیٹل معلومات شامل ہوتی جاتی ہیں۔ اس کی بہترین مثال پوکے مون گیم ہے جو حقیقی مقامات پر ڈجیٹل پوکے مون کردار دکھاتا ہے۔اسی طرح آگمینٹڈ ریئلٹی کسی بھی جگہ اور منظر میں مزید معلومات اور پہلوؤں کا اضافہ کرسکتی ہے۔

    تاہم اسے گوگل گلاس، یا کسی ہیڈ اپ ڈسپلے کے ساتھ ہی استعمال کیا جاسکے گا اور فیس بک کے خیال میں ڈیجیٹل کنگن اس ضمن میں بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے لیکن واضح رہے کہ یہ ٹیکنالوجی فیس بک کی ریئلٹی لیبس میں اب تک تحقیق اور مزید تصدیق کے مراحل میں سے گزررہی ہے اس پر کئی برس سے تحقیق جاری ہے-

  • تصویر جسے کھینچنے میں 12 سال کا عرصہ لگا

    تصویر جسے کھینچنے میں 12 سال کا عرصہ لگا

    فن لینڈ کے ایک مشہور فلکیاتی فوٹوگرافر جے پی میتساوینیو نے تقریباً 12 سال کے عرصے میں تصویر کھینچی۔

    باغی ٹی وی : میڈیا رپورٹس کے مطابق فوٹوگرافر جے پی میتساوینیو کی کھینچی گئی تصویر کی حقیقی جسامت 1.7 گیگا پکسل (ایک ارب 70 کروڑ پکسل) ہے ہماری کہکشاں یعنی ’ملکی وے‘ کے وسیع حصے کو ظاہر کرتی ہوئی یہ کوئی ایک تصویر نہیں بلکہ 234 ایسی تصویروں کا مجموعہ ہے جن میں سے ہر ایک بجائے خود درجنوں فلکیاتی تصویروں کا مجموعہ ہے۔

    میتساوینیو 2007 سے پیشہ ورانہ فلکیاتی فوٹوگرافی کر رہے ہیں جس کےلیے انہوں نے فن لینڈ کے شہر اولو میں ذاتی رصدگاہ بھی قائم کر رکھی ہےاپنی کھینچی ہوئی آسمانی تصویریں وہ ایک ویب سائٹ کے ذریعے مختلف افراد اور اداروں کو فروخت کرتے ہیں۔

    فوٹوبشکریہ میڈیا
    رپورٹس کے مطابق ملکی وے کہکشاں کی یہ تصویر کھینچنے کا سلسلہ 2009 سے 2021 کی ابتداء تک جاری رہا جس میں وہ ہماری کہکشاں کے مختلف حصوں کی تفصیلی تصویریں کھینچتے رہے اور انہیں احتیاط سے آپس میں جوڑ کر ایک تصویر کی صورت دیتے رہے۔

    میتساوینیو کا کہنا ہے کہ اس کام کےلیے انہوں نے اپنی دوربین مجموعی طور پر تقریباً 1,250 گھنٹے تک ملکی وے کہکشاں کے الگ الگ حصوں پر مرکوز رکھی۔

    فوٹوبشکریہ میڈیا
    ویسے تو یہ تصویر اصل میں بہت بڑی ہے لیکن فلکیات کا شوق رکھنے والے عام افراد بھی اس کا قدرے بڑا ورژن مفت میں (اس لنک سے) ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں جو 7023 پکسل چوڑا اور 1299 پکسل اونچا ہے، جبکہ کمپیوٹر اسٹوریج میں یہ 11.5 میگابائٹ جتنی جگہ گھیرتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق یہ تصویر آسمان میں 125 ڈگری لمبے اور 22 ڈگری چوڑے حصے کا احاطہ کرتی ہے جس میں ہماری کہکشاں لگ بھگ 2 کروڑ ستارے موجود ہیں۔

    یہی نہیں بلکہ ستاروں کی روشنی بھی ان میں موجود عناصر کا پتا دیتی ہے۔ مثلاً آیونائزڈ ہائیڈروجن سے خارج ہونے والی روشنی سبز رنگ کی ہے، سلفر (گندھک) کی سرخ، جبکہ آکسیجن کی رنگت نیلی ہے وغیرہ۔

  • پاکستانی سائنسدانوں نے بھنگ کے پودے سے بنے دھاگے سے جراثیم کش جینز تیار کر لی

    پاکستانی سائنسدانوں نے بھنگ کے پودے سے بنے دھاگے سے جراثیم کش جینز تیار کر لی

    فیصل آباد :زرعی یونیورسٹی کے ماہرین نے بھنگ کے پودے سے دھاگا بنا کر جراثیم کش جینز تیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جینز کی تیاری سے پاکستانی برآمدکنند گان کو بیرون ملک سے بھنگ کے ریشے سے تیار دھاگا درآمد کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور قیمتی زرمبادلہ کی بھی بچت ہو گی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق زرعی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اسد فاروق نے بھنگ کے پودے سے وہ دھاگا تیار کیا ہے جو آج کل بین الاقوامی سطح پر جینز کی تیاری میں استعمال ہو رہا ہے 80فیصد سوتی دھاگے کے ساتھ 20 فیصد بھنگ کے دھاگے سے تیار ہونے والی جینز جراثیم کش اور ماحول دوست ہونے کی وجہ سے مقبول ہو رہی ہے۔

    بھنگ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قدرتی طور پر اینٹی بیکٹریل صلاحیت رکھتا ہے اور جب اس کے دھاگے سے تیار جینز کو پہنا جاتا ہے تو جلد پر جراثیم اس طرح سے پیدا نہیں ہوتے جیسے دوسرےکپڑے پر ہوتے ہیں۔

    ڈاکٹر اسد فاروق کہتے ہیں کہ ٹیکسٹائل مالکان جینز کی تیاری کے لیے صنعتی بھنگ کا دھاگا بیرون ملک سے درآمد کرتے تھے، مقامی سطح پر دھاگے کی تیاری سے ناصرف قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا ہے بلکہ کمایا بھی جا سکتا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق اسد فاروق کے مطابق بھنگ کے دھاگے سے تیار کی جانے والی جینز کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، پاکستان اگر اس پراڈکٹ کو مینوفیکچرکر لے اور اس کو انفرادی طور پر تیار کرنے کے قابل ہو جائے توبہت زیادہ غیر ملکی زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر صنعتی بھنگ سے تیار ملبوسات کی منڈی 25 بلین ڈالر مالیت کی ہے، اگر فوری طور پر صنعتی بھنگ کی کاشت میں اضافہ کر کے ضرورت کا دھاگا مقامی طور پر ہی تیار کیا جائے تو پاکستانی ملبوسات کی برآمدات میں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔

  • واٹس ایپ اورانسٹاگرام کی سروس میں بندش کے حوالے سے فیس بک کا وضاحتی بیان سامنے آ گیا

    واٹس ایپ اورانسٹاگرام کی سروس میں بندش کے حوالے سے فیس بک کا وضاحتی بیان سامنے آ گیا

    دو روز قبل 10 لاکھ سے زائد سوشل میڈیا صارفین کو واٹس ایپ اور انسٹاگرام کی بندش کا سامنا کرنا پڑا تھا جو کہ بعد میں مسئلہ حل کر دیا گیا تھا تاہم ایسا کیوں ہوا اس حوالے سے فیس بک نے اب وضاحتی بیان جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس حوالے سے فیس بک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی اس تکنیکی مسئلے کو حل کر چکی ہے جس کے باعث لاکھوں واٹس ایپ اور انسٹاگرام صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

    زیر غور تکنیکی مسئلے کے باعث کمپنی کی آن لائن پیغامات کی خدمات واٹس ایپ اور میسنجر متاثر ہوئی تھی جس کے باعث #whatsappoutage ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرتا رہا۔

    ڈاؤن ڈی ٹیکٹر ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 20 ہزار واٹس ایپ اور 10 لاکھ انسٹاگرام صارفین کی جانب سے سوشل میڈیا سائٹس میں مسائل کی پوسٹ کی گئیں۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل واٹس ایپ اور انسٹاگرام صارفین سمیت فیس بک کے مسینجر صارفین کی جانب سے پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنے کی شکایات موصول ہوئی تھی اس حوالے سے واٹس ایپ کی جانب سے ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرکے سروس بحالی کا بتایا گیا اور کہا کہ سروس کی معطلی 45 منٹ تک برداشت کرنے کا شکریہ لیکن اب سروس بحال کردی گئی ہے۔