Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • پاکستان کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی نے کووڈ 19 کے خلاف میڈیسن تیار کر کے  دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا

    پاکستان کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی نے کووڈ 19 کے خلاف میڈیسن تیار کر کے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا

    پاکستان نے کووڈ 19 کے خلاف میڈیسن تیار کر لی یہ کارنامہ پاکستان کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی نے سر انجام دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے دنیا کے 7 ارب 70 کروڑ انسانوں کی نظریں پاکستان پرہیں

    باغی ٹی وی : پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کورونا کے خلاف میڈیسن تیار کر لی ہے اینٹی باڈی سیرل ہیومن اینٹی باڈی سیرل تیار کی جسے آئی وی آئی جی کا نام دیا گیا ہے اور اس علاج کو امینو تھراپی کا نام دیا گیاہے

    اس وبا کی میڈیسن کے لیے دنیا کی چھ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں دوڑ میں تھیں کہ وہ یہ میڈیسن تیار کر لیں اور دنیا کے لیے ایک بڑا کارنامہ۔سر انجام دے کر لاکھوں اربوں ڈالر کما لیں لیکن یہ میڈیسن تیار کرنے کا اعزاز پاکستان نے اپنے نام کر لیا ہے

    پاکستان کے شہر قائد کی مشہور یونیورسٹی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے یہ کارنامہ بفضل خدا سرانجام دے کر دنییا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر عبدالصمد پاکستان کے اکلوتے ویکسنالوجسٹ اور ان کی ٹیم نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے اب 7ارب 70 کروڑ لوگوں پر مشتمل دنیا کی نظریں پاکستان ہیں اور ان کے لیے یہ ایک خوشخبری ایک معجزہ ہے اور کورونا میں مبتلا 215 پندرہ سے زائد ممالک کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے

    اس معجزاتی میڈیسن کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ جاپان برطانیہ چین جرمنی فرانس سپین اٹلی سارے ممالک کوشش کر رہے تھے یہاں تک کہ چین وہ ممالک ہے جس نے کورونا کو سب سے پہلے ختم کیا ہے ان سے بھی ابھی تک یہ میڈیسن دریافت نہیں ہو سکی

    یہ میڈیسن کورونا وائرس کے تندرست مریضوں کے خون کے پلازمہ سے تیار کی جائے گی پاکستان میں 500 سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں ان صحت یاب ہوئے مریضوں کے ایک بلڈ بیگ سے کئی مریض صحت یاب ہو سکیں گے پاکستان میں آنے والے دنوں میں کووڈ 19 کا انشاءاللہ خاتمہ ہو جائے گا یا نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا دنیا کی نظریں اس وقت ڈاؤ یونیورسٹی پر ہیں

    یاد رہے کہ یہ میڈیسن ہے ویکسین نہیں ہے ویکسین وہ ہوتی ہے جو بیماری لگنے سے روکے جبکہ میڈیسن وہ ہوتی ہے جو بیماری کو ختم کرے

  • موبائل کے فونٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لئے اس میں نوری نستعلیق فونٹ انسٹال کرنے کا آسان طریقہ

    موبائل کے فونٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لئے اس میں نوری نستعلیق فونٹ انسٹال کرنے کا آسان طریقہ

    موبائل کے فونٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لئے اس میں نوری نستعلیق فونٹ انسٹال کرنے کا آسان طریقہ درج ذیل ہیں یہ طریقہ صرف اور صرف Huwawei موبائل کے لئے ہے

    اپنے موبائل میں نوری نستعلیق فونٹ انسٹال کرنے کے لئے سب سے پہلے Play Store میں جائیں Huwawei theme manager لکھ کر سرچ کریں توکافی زیادہ آپشن آئیں گے ان میں سے جو پہلے نمبر پر آپشن ہو گا اس پر کلک کر کے انسٹال کرلیں اس کے بعد بیک کر کے گوگل پر جائیں اور نوری نستعلیق ٹی ٹی ایف لکھ کر سرچ کریں گے تو مختلف ویب سائٹس سامنے آئیں گی ان میں سے کوئی بھی ویب سائٹ سیلیکٹ کر لیں سب سے اچھی ویب سائٹ اردو جہان ہے اس پر جلدی ڈاؤن لوڈ ہوجاتا ہے اس پر کلک کریں تو چار فونٹ سامنے آئیں گے ان میں سے نوری نستعلیق پر کلک کر کے ڈاؤن لوڈ کرلیں ڈاؤن لوڈ مکمل ہونے کے بعد یہ آپکی فائل میں آجائے گا اس کے بعد اس فائل کو تھوڑا سا پریس کریں گے تو یہ سیلیکٹ ہو جائے گا سائیڈ پر تین نقطوں پر کلک کریں تو ایک بار آئیں گی اس میں Extract to پر کلک کریں تو چار آپشن آتے ہیں ان میں سے دوسری آپشن یعنی Select Directory پر کلک کرکے اوکے کر دیں اس کے بعد انٹرنل سٹوریج کو کلک کریں تو مختلف فولڈرز سامنے آئیں گے آپ جس فولڈر میں فائل کو رکھنا چاہتے ہیں اس کو اوکے کردیں فائل اس فولڈر میں منتقل ہو جائے گی
    https://www.youtube.com/watch?v=EhfjPb5-nWo&feature=youtu.be
    پھر وہاں سے بیک کر کے موبائل کے Home Page پر موجود Theme Manager فونٹ کے اندر آئیں وہاں پر یہ ایپ ہو گی اس ایپ پر کلک کر کے اوپن کریں تو اس میں مختلف آپشنز آئیں گی ان میں سے Editor کے اوپر کلک کریں تو سب سے آخر میں Generate Font ہو گا اس پر کلک کریں گے تو آپ سے First Step میں Choose tff file from your device پوچھے گا تو آپ نے وہ فائل لینی ہے جو گوگل سے ڈاؤن لوڈ کی تھی اس پر کلک کریں گے چند آپشن آئیں گے ان میں سے درمیان والے آپشن پر کلک کریں گے تو وہاں دو فائلیں ہوں گی ایک نوری نستعلیق کشیدہ اور ایک نوری نستعلیق سادہ آپ ان دونوں کو ایک ایک کر کے انسٹال کریں

    یعنی پہلے آپ سادہ کو کلک کریں گے تو آپ کے پاس Next والا آپشن آئے گا آپ اس پر کلک کریں ایڈ آئے گی اس کو ختم کریں اگلے سٹیپ پر آپ سے نام مانگے گا فائل کو کوئی نہ کوئی نام دے کر Generate پر کلک کر دیں تو یہ فونٹ ایک دو سیکنڈ کے اندر اندر بن جائے گا اسکو اوپن کریں

    اس کے بعد موبائل کے Home Page پر Setting اوپن کریں اس میں موجود اوپشن Display پر کلک کریں تو Text Styleاور Text Size
    کے آپشنز آئیں گے اس میں Text Style پر کلک کریں گے تو Recomanded category discover for me آجائے گا اس میں چوتھے نمبر والے فونٹ پر کلک کریں تو چند آپشن آئیں گے ان میں سے دوسرے نمبر پر My Text Style آجائیں گے اس پر کلک کریں گے تو آپ کے پاس مختلف Text Style آ جائیں گے تو سب سے لاسٹ میں Khasheed deishelon lab فونٹ کے اوپر کلک کرکے اپلائی کرلیں

    آپکے فون میں سادہ الفاظ کے فونٹ اپلائی ہو جائیں گے اس کے بعد کشیدہ نوری نستعلیق کو بھی اپلائی کر لیں

    جرائم پیشہ افراد کس طرح خواتین کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں ایسے لوگوں سے کیسے محفوظ رہا جا سکتا ہے؟

  • ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی

    ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی

    واشنگٹن:ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی ،اطلاعات کےمطابق دنیا اس وقت ٹیکنالوجی کی انتہائیوں کوچھورہی ہے، دنیا بھر میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا عام استعمال ہورہا ہے لیکن ہر شخص ان اہم ایجادات سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ اب دنیا کے پہلے آئی پیڈ پرو کے لیے اضافی کیسنگ بنائی گئ ہے جو آنکھوں کے اشاروں سے آئی پیڈ کا مکمل کنٹرول فراہم کرتی ہے۔

    شادی کے لیے سعودی مردوخواتین کے لیے عمرکی حدیں مقررکردی گئیں

    اس نظام کو اسکائل کا نام دیا گیا ہے اور سب سے پہلے یہ سہولت ایپل آئی پیڈ پرو میں شامل کی گئی ہے۔ اس طرح ٹیبلٹ کو ہاتھ لگائے بغیر مکمل طور پر آنکھوں کے اشارے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ فی الحال یہ آئی پیڈ پرو کے 12.9 انچ ورژن ٹیبلٹ کے ساتھ ہی کارآمد ہے۔

    جب تقدیرغالب آجائے:ایبٹ آباد میں کمرے میں گیس بھر جانے سے پانچ افراد جاں بحق

    آئی پیڈ پرو میں یہ خواص شامل کرنے کے لیےاسے ایک خاص طرح کی کیسنگ میں رکھا گیا ہے ۔ اس میں حساس اسکینر نصب ہے جو دونوں آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس میں دو طرح کے آپشن ہیں، ایک تو یہ دوربینی انداز میں ٹریکنگ کرتا ہے تو دوسری جانب یہ آنکھ میں سیاہ حلقے یعنی پتلی کی دائیں بائیں اور اوپر نیچے کی حرکت کو بھی نوٹ کرتا رہتا ہے۔

    جنوبی افریقہ کے اسٹاربیٹسمین ہاشم آملہ پشاور زلمی کا حصہ بن گئے

    اس طرح کے رابطے کو آگمینٹو اینڈ آلٹرنیٹو کمیونی کیشن ( اے اے سی ) کا نام دیا گیا ہے جو کئی طرح کے سسٹم اور پروٹوکول کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ یوں آئی پیڈ کے سارے فیچر آنکھ سے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اسکائل کے ذریعے فالج کے شکار، سیربرل پیلسی اور دیگر امراض کے شکار افراد بھی ٹیب کو چلاسکتے ہیں۔

    جب ٹیبلٹ کی بات ہو تو آئی پیڈ بہت سے امور انجام دے سکتے ہیں۔ ایک جانب تو آپ دوستوں اور اہلِ خانہ سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسمارٹ گھروں کا پورا نظام ان سے قابو کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے اسکائل کے ذریعے معذور افراد بہت حد تک اپنے مختلف کام انجام دے سکیں گے۔

    حرامانی نے والدین کی شادی کی سالگرہ پرشاندارخراج تحسین پیش کیا

    اسکائل کیسنگ کے لیے الگ سے پاور سپلائی کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آئی پیڈ سے ہی بجلی لے کر کام کرتا ہے۔ اس کےساتھ پوائنٹنگ ڈیواس یعنی ماؤس اور ڈجیٹل پین بھی لگائے جاسکتے ہیں تاہم اسکائل کسینگ کی قیمت تین ہزار ڈالر یعنی ساڑھے چار لاکھ روپے کے برابر ہے۔

  • "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض”  تحریر: غنی محمود قصوری

    "تھیلیسمیا کے مریض بچے اور ہمارے فرائض” تحریر: غنی محمود قصوری

    اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
    عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
    ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
    اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
    تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
    ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
    پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
    تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے

  • ماحولیاتی آلودگی بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار۔ پاکستانی تاریخ کا پہلا مقدمہ

    مقدمہ کے حقائق
    نام مقدمہ-شہلا ضیاء بنام واپڈا ( پی ایل ڈی 1994سپریم کورٹ 693)
    سال 1992 میں اسلام آباد کے چار رہائشیوں نےٖ، ایف 6/1 اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا-اس ضمن میں ایک شکایتی خط 15 اگست 1992 کو چیئرمین واپڈا کے نام ارسال کیا گیا جس میں رہائشیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں نصب کی جائیں گی اور برقی مقناطیسی فیلڈ کی موجودگی علاقے کے رہائشیوں خاص طور پر بچوں ، کمزوروں اور دھوبی گھاٹ خاندانوں کے لئے ایک سنگین خطرہ ثابت ھوگی- مزید یہ کہ بجلی کی تنصیبات اور ٹرانسمیشن لائنیوں کا وجود گرین بیلٹ کے لیئے نقصان دہ ھونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مظر صحت ھے-
    شہریوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی بھی رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر اسلام آباد میں نافذالعمل منصوبہ بندی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ھے جہاں گرین بیلٹس کو ماحولیاتی اور جمالیاتی وجوہات کی بناء پر شہر کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے جولائی 1991 سے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کی بابت مختلف احتجاجی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور واضع کیا کہ اس ضمن میں کوئی قابل اطمینان اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ خط ایل یو سی این کے ڈاکٹر طارق بنوری نے انسانی حقوق کے معاملے کے طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو قانونی جائزہ لینے کے لئے بھیجا جس میں دو سوالات اٹھائے گئے –
    اول یہ کہ کیا کسی سرکاری ایجنسی کو یہ حق حاصل ھے کہ وہ اپنے اقدامات سے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے ؟ اور
    دوم یہ کہ کیا حلقہ بندی کے قوانین میں شہریوں کودیئے گئے حقوق شہریوں کی رضامندی کے بغیر واپس لیے جا سکتے یا ان قوانین میں ردوبدل کیا جاسکتا ھے ؟
    اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں شہریوں کی زندگی اور صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا جاسکتا تھا جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیا گیا- جواب دہندگان نے موقف اختیار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق گرڈ اسٹیشن کی مجوزہ جگہ کو گرین ایریا کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے- جواب دہندگان نے مزید استفسار کیا کہ مجوزہ جگہ قریب واقع مکانات سے تقریبا چھ سے دس فٹ کی ڈپریشن میں ہےاور علاقے میں رہائش گاہوں سے کم از کم 40 فٹ دور شروع ہوتی ہے لہذا گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے رہائشیوں کے لیئے قدرتی منا ظر متاثر نہ ھوں گے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اخذ کرنا بلکل بےبنیاد ھے کہ ٹرانسمیشن لائینوں اور گرڈ اسٹیشن سے 132 K.V. کی ہائی ولٹیج پیداوار کسی طرح بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جواب دھندگان نے استفسار کیا کہ اسی طرح کے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن گنجان آباد علاقے راولپنڈی ، لاہور ، ملتان اور فیصل آباد میں قائم کیے گئے ہیں ، لیکن صحت کی خرابی کی بابت کوئی اطلاع موصول نہیں ھوئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان گرڈ اسٹیشنوں میں کام کرنے والے اور گرڈ اسٹیشنوں کے احاطے میں رہائش پذیر لوگوں سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ کہ تنصیبات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید کہا گیا کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگیوں پر 5000 کے وی سے زیادہ وولٹیج کی اضافی ہائی وولٹیج لائنوں کے برقی مقناطیسی اثرات ترقی یافتہ ممالک میں زیرِ مطالعہ ہیں ، لیکن اس طرح کے مطالعے کے نتائج کی اطلاعات متنازعہ ہیں۔
    مقدمہ کا فیصلہ
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاءفریقین مقدمہ کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اُنھیں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا کسی بھی گرڈ اسٹیشن ، فیکٹری ، بجلی گھر یا دیگر ایسی تنصیبات و تعمیرات سے پیدا ہونے والے خطروں سے بچایا جائے۔
    آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کو ذیر غور لائے جہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی زندگی و صحت کے متاثر ہونے کا احتمال ہو ۔ مذید یہ کہ کیس میں اُٹھائے جانے والے مسئلے میں شہریوں کی فلاح و بہبود شامل ہے کیونکہ ملک بھر میں "ہائی ٹینشن لائینوں” کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہ کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ طرزِ زندگی ، صنعت و تجارت اور روزمرہ معاملات زندگی میں توانائی کا کردار لازم وملزوم ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ذیادہ توانائی کی پیدوار و تقسیم پر منحصر ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے مابین توازن برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیئے ایک پائیدار ترقی کی پالیسی اپنائی جائے۔ کوئی بھی ایسی پالیسی بنانے کے لیئے واپڈا کو اپنے گرڈاسٹیشن سے متعلقہ منصوبہ بندی و طریقہ کار کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور امریکہ کی طرز پر ایسے طریقوں کو اپنانا چاہیے جن کے ذریعے تناﺅ کی اعلیٰ تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ واپڈا کو حکم دیا گیا کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب کے لیئے سائنسی نقطہ نظر اپنانا چاہیے اور سائنسی و تکنیکی معاونین کی مدد لینی چاہے۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے فریقین کی باہمی رضا مندی سے NESPAK کو بطور کمشنر مقرر کیا تا کہ وہ سائینسی وتکنیکی بنیادوں پر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب سے متعلق واپڈا کے منصوبے کی جانچ پڑتال کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی تمام ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کی پیداور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں توانائی کی پیدا وار کی ضرورت باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہے ۔ لیکن معاشی ترقی کی جستجو میں ایسے اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے جو انسانی زندگی کے لیئے مہلک ہوں اورماحول کو آلودہ اور تباہ کردیں۔
    سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضع کیا کہ واپڈا نے وزارت پانی و بجلی کی مشاورت سے بجلی کی تقسیم کے لیئے گرڈاسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہےلیکن اس منصوبے کو تشکیل دینے کے دوران نہ ہی شہریوں کو سماعت کا کوئی موقع دیا گیا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کا موقف سنا گیا ہے۔ واپڈا نے یہ منصوبہ یکطرفہ طور پر تیار کیا ہےجبکہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے شہریوں اور علاقے کے رہائیشیوں کی زندگی و صحت متاثر ہونے کا شدید احتمال ہے۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ امریکہ میں ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے پبلک سروس کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے اور عوامی رائے واعتراضات کو سننے کے بعد ایسے منصوبوں کی منظوری دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا طریقہ کار نہیں اختیار کیاگیا ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں بہت سے گرڈ اسٹیشنوں و بجلی کی ترسیل کے لیئے لائینوں کی تنصیب کی ضرورت ہے لہذا حکومت پاکستان کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر پہنچانے جانے والے سائینسدانوں و دیگر ممبران پر مشتمل ایک اتھارٹی یا کمیشن تشکیل دے جو کسی بھی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق منصوبے کی منظوری دے اور پہلے سے قائم شدہ گرڈ اسٹیشنوں اور بجلی کی ترسیل کی لائینوں کا انسانی زندگی و ماحول پر اثرات کا مطالعہ کرے۔ اگر حکومتِ پاکستان وقت پر ایسے اقدامات اُٹھائے تو مستقبل میں بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
    واپڈا نے بحث کے دوران یہ اعتراض اُٹھایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو آرٹیکل 184 کے تحت یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ کسی بھی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دے کیونکہ گرڈ اسٹیشن سے متعلق منصوبہ باقائدہ مطالعہ کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اور گرڈ اسٹیشن و ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے انسانی صحت و زندگی پر اثرات کو پرکھا گیا ہے اور یہ کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے واپڈا کے اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ تجزیہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت کسی بھی فرد کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ قانون اس کی اجازت دے۔ لفظ زندگی انسانی وجود کے تمام حقائق کا احاطہ کرتا ہے۔ لفظ زندگی کی تعریف آئین پاکستان میں نہیں دی گئی لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی تعریف کو پودوں یا جانوروں کی زندگی یا انسانی زندگی کا پیدائش سے موت تک کےعمل تک محدود کر دیا جائے۔ زندگی میں ایسی تمام تر آسائشیں و سہولیات شامل ہیں جن سے ایک آزاد ملک میں بسنےوالا شہری باعزت طریقے سے قانونی و اآئینی طور پر لطف اندوز ہو سکے۔
    مضمون نگار سیدہ صائمہ شبیر سینئر ریسرچ آفیسر سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں
    syeda_saima@yahoo.com

  • پولیس کی مدد اب ڈرون کریں گے

    پولیس کی مدد اب ڈرون کریں گے

    سری نگر: مقبوضہ کشمیر پولیس نے مظاہرین و حریت رہنماؤں کی کاروائیوں کی نگرانی کرنے کیلئے 50 جدید ڈرون طیارے خرید نے کا اعلان کر دیا ، بھارت کی مرکزی حکومت ان ڈرون طیاروں کی خرید کی اجازت دے چکی ہے، ان ڈرون طیاروں سے فضائی نگرانی کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جائے گا،
    ہندوستان ٹائمز کو مقبوضہ کشمیر پولیس کے ایک سینئر پولیس آفیسر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان طیاروں کی خرید کے ٹینڈر پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، اور جلد ااز جلد اس منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا

  • ہالینڈ نے سمندر کی صفائی کیلئے بڑا جہاز تیار کر لیا

    ہالینڈ نے سمندر کی صفائی کیلئے بڑا جہاز تیار کر لیا

    ہالینڈ کے ایک نان پرافٹ گروپ نے سطح سمندر اور تہہ سے کچرا اٹھانے اور آبی حیات کو صاف مسکن فراہم کرنے کیلئے جہاز تیار کر لیا، یہ جہاز پچھلے ماہ کی نو تاریح کو سان فرانسسکو کی پورٹ سے سمندر میں اتر چکا ہے، اور اس جہاز کو سب پہلا ٹاسک دنیا کے سب سے بڑے سمندر بحرالکاہل کو صاف کرنے کا دیا گیا ہے،
    اس جہاز کو بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بوئین سلاٹ نے ہالینڈ کے شہر روٹر ڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے "آج ہم فخریہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے کلینگ سسٹم نے بحرالکاہل سے صفائی کا آغاز کر دیا ہے،

  • اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    تائیوان:اب اپنی جلد کے بارے میں‌پریشان ہونا چھوڑ دیں‌، کیونکہ اب ایک جدید ٹیکنالوجی آپ کی جلد کے تمام مسائل حل کرنے میں‌آپ کی مدد کرے گی ،تفصیلات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تیار اسمارٹ آئینہ نہ صرف سچ بولتا ہے بلکہ جلدی امراض کے بھید بھی کھولتا ہے۔


    جدید ٹیکنالوجی کے شاہکار اس آئینے کو ہائی مِرر کا نام دیا گیا ہے جو انتہائی گہرائی اور تفصیل سے ہر روز آپ کے چہرے کا معائنہ کرتا ہے۔ اس کا خاص نظام 8 مختلف طریقوں سے آپ کے چہرے کا جائزہ لیتا ہے۔ اس طرح چہرے کے داغ، دھبے، جھریوں، خشکی، پانی کی کمی، رنگت اور جلد کی ناہمواری کو بھی روکتا ہے۔

    حبیب الرحمان نیپال میں نوکری کیلئے انٹرویو کیلئے گئے تھے اور وہاں سے لاپتہ ہو گئے

    تائیوان کے ماہرین نے دعویٰ‌کیا ہے کہ ہائی مرر کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اگر آپ اسے چند ماہ تک استعمال کریں تو اس کے ڈیٹا بیس میں آپ کے جلد کی تفصیلات جمع ہوتی رہیں گی اور اس طرح سافٹ ویئر جھائیوں اور جلد میں دیگر تبدیلیوں کو مسلسل نوٹ کرتا رہتا ہے۔ ہائی مِرر کا سافٹ ویئر کسی جلدی عارضے کی صورت میں لوشن اور کریم کے متعلق بھی مشورہ دیتا ہے۔ اسمارٹ مِرر میں ایلکسا بھی موجود ہے اور آپ ایک جملے سے جلد کے لیے ضروری مصنوعات آرڈر بھی کرسکتے ہیں۔

    اس جدیدٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے داغ دھبوں میں کمی و بیشی کو فیصد اور گراف کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اسطرح آئی لائنر، بلش، سات طرح کی لپ اسٹک اور آئی لیشز کو استعمال کیے بغیر اسکرین پر ان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

    جلد کے حوالے سے اس کا ایک اور فیچر میک اپ اسٹوڈیو ہے جسے استعمال کرکے آپ صرف آئینے میں ہی اپنے چہرے پر میک اپ کرکے دیکھ سکتی ہیں کہ فلاں میک اپ اور لِپ اسٹک لگانے سے چہرہ کیسا دکھائی دے گا؟۔

  • زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    واشنگٹن : زمین کے قریبی بلیک ہول سے عجیب و غریب شعلے نکل رہے ہیں اس خبر نے ہر طرف خوف کی فضا پیدا کردی .۔ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع عظیم بلیک ہول (جس کا نام سیجی ٹیریئس اے ہے) سے تابکاری کے اتنے طاقتور شعلے نکل رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔

    یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ آج تک سائنس دانوں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، حالانکہ انہوں نے اس کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔ سیجی ٹیریئس اے ہمارے سورج سے 40 لاکھ گنا زیادہ وزنی ہے۔سائنس دانوں نے ایک نئے تحقیقی مقالے میں کہا ہے کہ ان شعلوں کا کہکشاں میں دور تک سفر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے ان شعلوں کا شماریاتی ماڈل شائع کیا ہے , محققین کے مطابق رات کو ان شعلوں کے نظر آنے کا امکان ہزار میں سے تین ہے۔

  • انٹرنیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کریں‌ کس نے کس کو کہہ دیا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    انٹرنیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کریں‌ کس نے کس کو کہہ دیا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    اسلام آباد :انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری صارفین کی حمایت میں‌بول پڑے، فواد چوہدری نے حکومت سندھ سے درخواست کی کہ وہ انٹرنیٹ پر عائد کیے جانے والے سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں فواد چودھری نے کہا کہ سندھ حکومت نے انٹرنیٹ پر 19.5فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ، یہ اقدام ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے .انھوں نے درخواست کی کہ اس کی وجہ سے نوجوان بالخصوص طلبہ کو نقصان ہوگا .

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سروس اب ہر شخص کی بنیادی ضرورت بن گئی ہے اگر سندھ حکومت فیصلہ واپس لے گی تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔یاد رہے کہ جہاں اس وقت انٹرنیٹ کا استعمال بہت بڑھ گیا وہاں اس کی قمیتوں میں اضافہ کرکے صارفین پر بہت بڑا بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے