Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • ہالینڈ نے سمندر کی صفائی کیلئے بڑا جہاز تیار کر لیا

    ہالینڈ نے سمندر کی صفائی کیلئے بڑا جہاز تیار کر لیا

    ہالینڈ کے ایک نان پرافٹ گروپ نے سطح سمندر اور تہہ سے کچرا اٹھانے اور آبی حیات کو صاف مسکن فراہم کرنے کیلئے جہاز تیار کر لیا، یہ جہاز پچھلے ماہ کی نو تاریح کو سان فرانسسکو کی پورٹ سے سمندر میں اتر چکا ہے، اور اس جہاز کو سب پہلا ٹاسک دنیا کے سب سے بڑے سمندر بحرالکاہل کو صاف کرنے کا دیا گیا ہے،
    اس جہاز کو بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو بوئین سلاٹ نے ہالینڈ کے شہر روٹر ڈیم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے "آج ہم فخریہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ ہمارے کلینگ سسٹم نے بحرالکاہل سے صفائی کا آغاز کر دیا ہے،

  • اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    اب جلد کی حفاظت جدید ٹیکنالوجی کرے گی ، نئی ٹیکنالوجی نے ہلچل مچادی

    تائیوان:اب اپنی جلد کے بارے میں‌پریشان ہونا چھوڑ دیں‌، کیونکہ اب ایک جدید ٹیکنالوجی آپ کی جلد کے تمام مسائل حل کرنے میں‌آپ کی مدد کرے گی ،تفصیلات کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تیار اسمارٹ آئینہ نہ صرف سچ بولتا ہے بلکہ جلدی امراض کے بھید بھی کھولتا ہے۔


    جدید ٹیکنالوجی کے شاہکار اس آئینے کو ہائی مِرر کا نام دیا گیا ہے جو انتہائی گہرائی اور تفصیل سے ہر روز آپ کے چہرے کا معائنہ کرتا ہے۔ اس کا خاص نظام 8 مختلف طریقوں سے آپ کے چہرے کا جائزہ لیتا ہے۔ اس طرح چہرے کے داغ، دھبے، جھریوں، خشکی، پانی کی کمی، رنگت اور جلد کی ناہمواری کو بھی روکتا ہے۔

    حبیب الرحمان نیپال میں نوکری کیلئے انٹرویو کیلئے گئے تھے اور وہاں سے لاپتہ ہو گئے

    تائیوان کے ماہرین نے دعویٰ‌کیا ہے کہ ہائی مرر کی ایک اچھی بات یہ بھی ہے کہ اگر آپ اسے چند ماہ تک استعمال کریں تو اس کے ڈیٹا بیس میں آپ کے جلد کی تفصیلات جمع ہوتی رہیں گی اور اس طرح سافٹ ویئر جھائیوں اور جلد میں دیگر تبدیلیوں کو مسلسل نوٹ کرتا رہتا ہے۔ ہائی مِرر کا سافٹ ویئر کسی جلدی عارضے کی صورت میں لوشن اور کریم کے متعلق بھی مشورہ دیتا ہے۔ اسمارٹ مِرر میں ایلکسا بھی موجود ہے اور آپ ایک جملے سے جلد کے لیے ضروری مصنوعات آرڈر بھی کرسکتے ہیں۔

    اس جدیدٹیکنالوجی کو ایجاد کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ گہرے داغ دھبوں میں کمی و بیشی کو فیصد اور گراف کی صورت میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اسطرح آئی لائنر، بلش، سات طرح کی لپ اسٹک اور آئی لیشز کو استعمال کیے بغیر اسکرین پر ان کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

    جلد کے حوالے سے اس کا ایک اور فیچر میک اپ اسٹوڈیو ہے جسے استعمال کرکے آپ صرف آئینے میں ہی اپنے چہرے پر میک اپ کرکے دیکھ سکتی ہیں کہ فلاں میک اپ اور لِپ اسٹک لگانے سے چہرہ کیسا دکھائی دے گا؟۔

  • زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    زمین سے پراسرار شعلوں نے دنیا میں خوف پیدا کردیا

    واشنگٹن : زمین کے قریبی بلیک ہول سے عجیب و غریب شعلے نکل رہے ہیں اس خبر نے ہر طرف خوف کی فضا پیدا کردی .۔ہماری کہکشاں کے وسط میں واقع عظیم بلیک ہول (جس کا نام سیجی ٹیریئس اے ہے) سے تابکاری کے اتنے طاقتور شعلے نکل رہے ہیں جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئے۔

    یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ آج تک سائنس دانوں کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، حالانکہ انہوں نے اس کا براہِ راست مشاہدہ کیا ہے۔ سیجی ٹیریئس اے ہمارے سورج سے 40 لاکھ گنا زیادہ وزنی ہے۔سائنس دانوں نے ایک نئے تحقیقی مقالے میں کہا ہے کہ ان شعلوں کا کہکشاں میں دور تک سفر کرنا بہت مشکل ہے۔ اس مقالے میں انہوں نے ان شعلوں کا شماریاتی ماڈل شائع کیا ہے , محققین کے مطابق رات کو ان شعلوں کے نظر آنے کا امکان ہزار میں سے تین ہے۔

  • انٹرنیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کریں‌ کس نے کس کو کہہ دیا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    انٹرنیٹ پر عائد سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کریں‌ کس نے کس کو کہہ دیا ؟ جانیئے اس خبر میں‌

    اسلام آباد :انٹر نیٹ استعمال کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ، وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چودھری صارفین کی حمایت میں‌بول پڑے، فواد چوہدری نے حکومت سندھ سے درخواست کی کہ وہ انٹرنیٹ پر عائد کیے جانے والے سیلز ٹیکس کے فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں فواد چودھری نے کہا کہ سندھ حکومت نے انٹرنیٹ پر 19.5فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا ، یہ اقدام ٹیکنالوجی اور کمیونیکیشن کی حوصلہ شکنی کے مترادف ہے .انھوں نے درخواست کی کہ اس کی وجہ سے نوجوان بالخصوص طلبہ کو نقصان ہوگا .

    وفاقی وزیر کا کہنا تھا کا کہنا تھا کہ انٹرنیٹ سروس اب ہر شخص کی بنیادی ضرورت بن گئی ہے اگر سندھ حکومت فیصلہ واپس لے گی تو یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔یاد رہے کہ جہاں اس وقت انٹرنیٹ کا استعمال بہت بڑھ گیا وہاں اس کی قمیتوں میں اضافہ کرکے صارفین پر بہت بڑا بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے

  • نوکیا موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان

    نوکیا موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان

    اسلام آباد: اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لیے نوکیا نے خوشخبری سنا دی ، نوکیا موبائل فون کمپنی ایچ ڈی ایم نے پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

    نوکیا فون کی قیمتوں کو کم کرنے کے حوالے سے پاکستان میں نوکیا کے ڈسٹری بیوٹر ایڈوانس ٹیلی کام نے اپنی ویب سائیٹ پر نئے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد تک کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ایک اعلامیہ کے مطابق نئے اسمارٹ فونز نوکیا کے تمام فرنچائزز اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں جس سے صارفین بھرپور استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ سالوں میں نوکیا کو بین الاقومی مارکیٹ میں سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے فونز کی طلب میں بہت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ نوکیا کی اس نئی پیشکش کو مارکیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ واپس حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ جب سے ایچ ایم ڈی کمپنی نے نوکیا کے فون بنانا شروع کر دیے ہیں دنیا بھر میں ان کے فون کی فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔نوکیا کس طرح مارکیٹ میں جگہ بناتی ہے یہ پتہ چلے گا نوکیا کے فیچرز سے کہ کیا وہ صارفین کے دلوں میں جگہ بناسکتے ہیں.

  • یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    ہماری جنریشن کا مسئلہ یہ کہ ہماری جنریشن کا اب ایک ایک لمحہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ میرے دادا، پردادا کا اپنے وقتوں میں کیا اوڑھنا بچھونا رہا یا ان کے نظریات و خیالات کیا تھے مجھے کچھ نہیں پتہ لیکن میرے نواسی نواسے اور پوتا پوتی میری ایک ایک دن کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکیں گے ۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کس نے کس مقام پر ٹھوکر کھائی اور جدوجہد کر کے کھڑا ہوگیا یا کون سے چاچے مامے انقلابات زمانہ سے ڈر کے بیٹھ گئے اور کشمکش حیات سے فرار کی راہیں اختیار کر لیں ۔
    ہمارے لئیے تو بڑا مسئلہ ہمارا یہ ورچوئل ہمزاد ہے جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹرز میں تشکیل پا رہا ہے ۔ میری لوکیشن ، میرے اسٹیٹس ، میرے خیالات سب کچھ ہی Google , Amazon, Ali baba ، یوٹیوب ، فیس بک ، گوگل کروم اور وغیرہ وغیرہ کے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ انھی ڈیٹا کو پڑھنے والے Algorithm ہی ہماری preferences کی بنیاد پر یوٹیوب سے لیکر فیس بک پر ویڈیوز اور اشتہارات کو ہماری اسکرین پر چلنے والی ویڈیوز میں گھماتے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں موبائل میں لگے کیمروں سے آپکے چہرے کے تاثرات پڑھ کر آپ کو آپ کی ہی اسکرین پر گھماتے پھراتے ، فیس بک یو ٹیوب کی سجیشن کے ذریعے انھی اشتہارات سے لیکر انھی ویڈیوز تک پہنچادیا جائے گا جو یا آپ دیکھنا پسند کرتے ہوں گے یا مارکیٹنگ کمپنیاں آپکو دکھانا چاہتی ہوں گی ۔

    تو ایسے میں ہمارا چھوڑا ہوا یہ ڈیجیٹل ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ساری پول پٹیاں کھول کر رکھ سکتا ہے کہ لگڑ دادا زیادہ وقت پورن سائیٹس پر سرفنگ میں یا خواتین کو رجھانے والے اسٹیٹس لگانے میں لگاتے تھے یا زیادہ وقت کتابوں اور سیاحت میں گزارا کرتے تھے ۔ زمانے کی رو کے ساتھ بہتے چلے جاتے رہے یا اپنا کوئی فریش content بھی تھا ۔ خیالات فارورڈ لنکنگ تھے یا ماضی گزیدہ اور اسلاف پرستانہ ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثالیں ، اچھے خیالات و جذبات ، عقل و دانش پر مبنی تحریں اور ویڈیوز چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پڑھ کر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں یا ایسا ڈیجیٹل ترکہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جس کو آنے والی نسلیں ڈیلیٹ فرام دا اسٹارٹ پر لگانا چاہیں ۔

    کیونکہ جب روبوٹس انسان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے ہیں تو کون جانے کہ آنے والے ہزار دو ہزار سال بعد لوگ اپنے بچوں کے لئیے یا خود تنہائی کا مارا کوئی فرد اپنے لیے ایک دادا روبوٹ یا ایک نانی روبوٹ بھی بنوانے کے قابل ہوجائے ۔ جو ظاہر ہے کہ کسی حقیقی دادا نانا کی طرح consious being تو نہیں ہوگا لیکن اس کی ایک ڈیجیٹل ورچوئل یا روبوٹک کاپی تو ہوگا ۔ ہوگا تو انسان نہیں لیکن ہوگا کچھ نہ کچھ تو کمی پوری ہوگی جیسے آج ہم اپنے بچوں کو ان کے دادا پر دادا کی تصویریں دکھا کر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔کیا پتہ کہ آنے والے وقتوں میں لوگ خود اپنی ڈیجیٹل ہسٹری ، ساری زندگی کی آن لائین ایکٹیویٹیز، تھری ڈی ورچوئل ویڈیوز ، چھوٹے چھوٹے ویڈیو مسجز کو خود ہی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کسی CLOUD SERVER یا ڈیٹا سینٹر میں SAVE کرا کر جائیں جنہیں بعد میں آن ڈیمانڈ کسی گوشت پوست سے بنے روبوٹ میں فیڈ کرا دیا جائے اور اس دادا روبوٹ یا نانی روبوٹ یا محبوبہ روبوٹ کو ویسے ہی Behave کرائیں جیسا وہ شخص خود اپنی زندگی میں ان سامنے آنے والے Given circumstance میں Behave کرتا ۔

    ہم سے پچھلے والوں کے لیے کم از کم یہ امتحان تو نہیں تھے کہ آنے والی نسلوں کی بھی اسکروٹنی سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ہاں انہوں نے یہ سہولتیں بھی نہیں دیکھیں جن کا ہم آج مزہ اٹھا رہے ہیں اور جس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اس طرح کا چانس ہمارے آباؤ اجداد کے پاس نہیں تھا ۔ دیکھا جائے تو زندگی تو ہر جنریشن کے لئیے ایک امتحان ہی یے ۔ قدرت نے اگر آپکو لیموں دیے ہیں تو آپ نے زندگی میں کھٹاس ہی بھرے رکھی یا کہیں سے شکر پکڑ کر لیمن کے ساتھ ملا کر اسکا لیمن مالٹ بنا کر انجوائے کر لیا ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے ۔ آیا آپ اپنی صلاحیتوں کی نشونما اور نمود یعنی ان میں اضافہ کرتے ہیں یامقام انسانیت سے نیچے جا کر صرف دو وقت کی روٹی کا حصول اور حیوانی تقاضوں کی تکمیل میں جوڑا بناکر بچے پیدا کر کے مرجانے کو ہی زندگی کا حاصل گردانتے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔
    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
    پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے

  • خلا پر جانے کے50 سال، گوگل کا خوشی منانے کا انوکھا انداز

    خلا پر جانے کے50 سال، گوگل کا خوشی منانے کا انوکھا انداز

    نیویارک: گوگل نے بھی خوشیاں منانی شروع کردیں ،تفصیلات کے مطابق چاند پر انسانی قدم پہنچنے کی نصف سنچری مکمل ہونے پر گوگل نے خوصی ڈوڈل جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق 19 جولائی 1969 کو پہلی امریکی خلا باز آرمسٹرانگ اور ایڈورڈ ایلڈرن کئی مشکل مراحل طے کرنے کے بعد چاند پر پہنچے ، انہوں نے خلائی سفر کا آغاز 16 جولائی کو شروع کیا تھا اور مسلسل 8 روز تک اسے طے کرتے رہے۔

    یہ بھی یادرہے کہ سائنسی میدان میں کئی معرکے سر کرنے کے باوجود اس واقعہ کو انیسویں صدی کی آج بھی بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ امریکی خلا باز وں نے ناتجربے کاری کے باوجود چاند پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

    دنیا بھر کے ماہرین 16 جولائی سے 8 روز تک بے چینی کا شکار رہے تھے کیونکہ امریکی خلا باز 24 جولائی کو اپنا سفر مکمل کر کے واپس زمین پر لوٹ گئے تھے۔

    گوگل نے چاند پر قدم رکھنے کے پچاس سال مکمل ہونے پر نہ صرف قیمتی دن کو اہمیت دی بلکہ ڈوڈل سجاتے ہوئے پانچ منٹ کی ویڈیو بھی لگائی جس میں سفر سے متعلق آگاہی دی گئی ہے۔

  • بوڑھا دیکھانے والی "فیس ایپ” کتنی خطرناک،جان لیں تو ہوش اڑ جائیں

    بوڑھا دیکھانے والی "فیس ایپ” کتنی خطرناک،جان لیں تو ہوش اڑ جائیں

    فیس ایپ کی کارستانی جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں اور اسکو انسٹال کرنے سے توبہ کر لیں اورکبھی انسٹال نہ کریں.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر نئی ایپ نے تہلکہ مچا رکھا ہے ، روسی انجینئرز کی تیار کردہ نئی ایپلی کیشن مشہور ہونے کے ساتھ متنازع بھی ہوگئ ہے یہ اہپلی کیشن کتنی خطرناک ہے اگر آپ جان لیں تو شاید کبھی اس کو استعمال نہ کریں.اس ایپلی کیشن میں آپ کا تمام ڈیٹا ایپلی کیشن کے منتظمین چرا لیتے ہیں.آپ کی ہر حرکت اور ایکٹیوٹی کی جاسوسی ہوتی ہیں.ایپلی کیشن کے قوائد و ضوابط میں واضح لکھا ہے کہ ۔اس ایپلی کیشن کے انسٹال کرنے کے بعد آپ اس ایپ کو اجازت دے دیں گے کہ وہ آپ کی پسند نا پسند، شخصیت کا میلان ،آواز ، کونٹیکٹ نمبرز اور اس ڈیٹا پر رسائی حاصل کر لیں گے جو آپ کے موبائل فون میں ہے.

    اس ایپ کو امریکا میں بھی خطرناک قرار دے دیا گیا ہے امریکی جریدے کے مطابق ایپ کو گوگل پلے سے 10 کروڑ سے زیادہ لوگ ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں جبکہ دنیا کے 121 ممالک میں یہ ٹاپ رینکنگ ایپ بن چکی ہے۔امریکی بزنس جریدے نے خبردار کیا ہے کہ ایپ کے ذریعے کمپنی کو دنیا میں تقریباً 15 کروڑ لوگوں کی تصاویر کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگئی ہے
    یہ ایپ اسے استعمال کرنے والے صارفین کی تصاویر اپنے کلاؤڈ میں اپ لوڈ کرتی ہے اور صارفین سے ان کی نجی تصاویر اور ڈیٹا تک مکمل اور ناقابل تنسیخ رسائی کا تقاضہ کرتی ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی اپنی یادداشت میں محفوظ ان تصاویر کو جب چاہے جس مقصد کیلئے چاہے استعمال کرسکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپ میں محفوظ ڈیٹا کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر پروگرام کو چہرہ کی شناخت کی تربیت دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • نئی دنیا نیا فیچر،آئی فون صارفین کیلئے خوشخبری لے آیا

    نئی دنیا نیا فیچر،آئی فون صارفین کیلئے خوشخبری لے آیا

    لندن :آئی فون نے صارفین کو نئی خوشخبر سنا دی.آئی ٹی کمپنی ایپل Appleنے 59نئے ایموجیز کی جھلک جاری کردی ۔ یہ ایموجیز کچھ عرصہ بعد آئی فونز کے آئی او ایس سافٹ وئیر میں میسر ہونگے ۔ ان ایموجیز میں پہلے سے زیادہ آپشنز رکھے گئے ہیں ،مثال کے طور پر جلد کا رنگ ،جوڑے کی صورت میں بھی ایموجیز بنائے جاسکیں گے ۔ یہاں مزید کھانوں اور جانوروں آپشنر بھی رکھے گئے ہیں ۔

    ڈیلی میل کے مطابق یہ ایموجیز آئی او ایس IOS سافٹ وئیر اسی سال میسر ہوگا ۔ کمپنی ان ایموجیز کو عالمی ایموجی ڈے پر جاری کرے گی ۔ آئی فون صارفین کیلئے یہ بہترین سہولت ہوگی ۔اس سے پہلے بھی آئی فون کئی نئے فیچر متعارف کروا چکی ہے. حالیہ فیچر کے بارےمیں یوزرز کا خیال ہے کہ اس سے آئی فون کے استعمال کرنے والوں پر مثبت اثرات ہوں گے

  • سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.

    ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
    ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.


    بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہی‍ں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
    ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
    حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.

    ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
    سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.


    انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
    واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.

    Muhammad Abdullah