واٹس ایپ کپمنی نے ای کرنسی کا آغآز کر دیا جس میں واٹس ایپ کے ذریعے کسی بھی چیز کی ادائگی خود کر سکتے ہیں جبکہ برازیل میں چھوٹے کاروبار کا لین دین واٹس ایپ کے ذریعے کرنے کا آغاز کیا گیا ہے-
باغی ٹی وی : اطلاعات کے مطابق آج سے برازیل میں واٹس ایپ استعمال کرنے والے لوگوں کے لئے ادائیگی شروع کرنا شروع کر رہے ہیں۔ اس طریقہ سے اتنا ہی آسان رقم بھیجنا اور وصول کرنا ہیں جیسے فوٹو شیئر کرنا۔
اس طریقہ کار کو شروع کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم چھوٹے کاروباروں کو بھی واٹس ایپ میں ہی فروخت کرنے کے قابل بنارہے ہیں۔ ایسا کرنے کے لئے ، ہم فیس بک پر کام کررہے ہیں ، جو ہمارے ایپس میں ادائیگی کرنے کا ایک محفوظ اور مستقل طریقہ فراہم کرتا ہے۔ میں اپنے تمام شراکت داروں کو یہ ممکن بنانے کے لئے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم مقامی بینکوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں ، جن میں بینکو ڈو برازیل ، نوبینک ، سکریڈی نیز برازیل میں کاروباری افراد کے لئے معروف ادائیگی پروسیسر سییلو بھی شامل ہیں۔ برازیل پہلا ملک ہے جہاں ہم واٹس ایپ میں بڑے پیمانے پر ادائیگی کرتے ہیں۔
افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور ایک پولیس والے کو رہا کردیا
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان نے آٹھ قیدی اور پولیس والا رہا کردیا ، یہ قیدی اس تبادلے کا حصہ ہے جس کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کے قیدی رہا کریں گے . افغان ترجمان کے مطابق یہ قید صوبہ زابل میںقید تھے ان کے ساتھ رہائی کے وقت بہتر سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو نئے کپڑے اور پانچ پانچ ہزار افغانی کرنسی بھی دی گئ ہے ، یہ قیدن اب اپنے اہل خانہ کے ہاں پہنچ چکے ہیں.
1/2 As a part of prisoners release series, 8 soldiers and policemen of the Kabul Administration were released from a prison of the Islamic Emirate in Zabul province. They were sent to their families after giving them new clothes and Afs: 5,000 as transportation fare.
— Suhail Shaheen. محمد سهیل شاهین (@suhailshaheen1) June 11, 2020
اس کے علاوہ حکومت افغانستان نے بھی طالبان قیدی رہا کیے تھے ان بارے اطلاعات ہیں کہ ریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کے تحت افغانستان کی جیلوں سے طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل جاری ہے۔ رہائی پانے والے بعض قیدیوں نے دوبارہ محاذ جنگ میں جانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد افغانستان میں یہ بحث زور پکڑ گئی ہے کہ ان طالبان جنگجوؤں کا مستقبل کیا ہو گا۔
رواں سال 29 فروری کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے والے امن معاہدے کے تحت افغان حکومت نے لگ بھگ پانچ ہزار طالبان قیدی جب کہ طالبان نے ایک ہزار سے زائد افغان حکومت کے قیدیوں کو رہا کرنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اب تک افغان حکومت 3000 طالبان قیدیوں کو رہا کر چکی ہے جب کہ طالبان نے افغان حکومت کے 750 قیدیوں کو رہا کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ رہائی پانے والوں میں خود کش حملہ آور، خود کش جیکٹس تیار کرنے کے ماہر، اغوا کاروں سمیت کئی غیر ملکی قیدی بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے 1974 میں ایٹمی دھماکہ کر کے اپنا ایٹمی طاقت ہونے کا ثبوت پیش کیا اور پاکستان کو ڈرانا دھمکانا شروع کر دیا اس کے بعد پھر 1987 کو دوبارہ ایٹمی دھماکہ کرکے اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اس سے قبل پاکستان بھی اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر چکا تھا جس پر امریکہ اسرائیل اور بھارت کے علاوہ پورے عالم کفر کی چیخیں نکل رہی تھیں اور وہ چاہتے تھے کہ کسی بھی طریقے سے پاکستان اپنا ایٹمی منصوبہ منسوخ کر دے اور یو وہ پاکستان کو زیر کر لینگے کیونکہ تاریخ گواہ ہے عرب اسرائیل جنگوں میں پاکستان نے اسرائیل کی چیخ نکلوا دی تھی اسی طرح روس کی چیخیں افغانستان میں نکالی گئیں تھیں
وقت گزرتا گیا اسرائیل و بھارت کی بدمعاشی بڑھتی گئی اسرائیل و بھارت نے پاکستان کے ایٹمی پاور پلانٹ کہوٹہ پر حملے کا پلان بنایا اور ایک بار پھر جنگ کی دھمکی دیتے ہوئے بھارت نے 11 مئی 1998 کو پوکھران کے مقام پر ایٹمی دھماکے کر دیئے اب پاکستان کے لئے لازم ہو چکا تھا کہ ہاتھی کی طرح پاگل ہوئے دشمن کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے سو 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچستان کے ضلع چاغی کے مقام پر بیک وقت 5 ایٹمی دھماکے کر کے عالم کفر اور بالخصوص اسرائیل و بھارت کی چیخ نکلوا دی
پورے عالم کفر کی چیخ نکل گئی کے عراق ایٹمی طاقت بننے کی کوشش میں تھا مگر اسرائیل نے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا کر اس کا ایٹمی پروگرام ختم کر دیا تھا مگر اب پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ایٹمی طاقت کا حامل ملک بن چکا ہے واضع رہے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے سے قبل پاکستان اور بھارت کی 3 جنگیں ہو چکی ہیں مگر ایٹمی دھماکوں کے بعد اب تک پاک بھارت کے درمیان کوئی بھی روایتی جنگ نہیں ہوئی بھارت صرف اپنی خفت مٹانے کیلئے مظلوم و مجبور کشمیریوں پر ظلم اور لائن آف کنٹرول پر گیڈر بھبکیاں لگاتا رہتا ہے جس پر پاک فوج نے پچھلے برس 27 فروری کو اس کی ایسی چیخ نکلوائی کے پوری دنیا پریشان ہو گئی اور بھارت کیساتھ اس کے پائلٹ کی واپسی کیلئے چیخ و پکار شروع کر دی
ایک اندازے کے مطابق اس وقت بھارت کے پاس 100 جبکہ پاکستان کے پاس 120 ایٹم بم ہیں اور پاکستان کے پاس جوہری ہتھیار داغنے کی صلاحیت رکھنے والے ایف 16 اور میراج لڑاکا طیارے ہیں جو 2100 کلومیٹر تک ایٹمی ہتھیار داغ سکتے ہیں اور اس لحاظ سے بھارت کا ہر شہر پاکستان کے ہتھیاروں کی زد میں ہے جس سے ہر وقت بھارت کی چیخیں نکلتی رہتی ہیں اور وہ اسرائیل کو اپنے ساتھ اس لئے جوڑے ہوئے ہے کہ عراق کا ایٹمی پروگرام اسرائیل نے تباہ کیا تھا مگر اسرائیل کی چیخ بھی یہ سوچ کر نکل جاتی ہے کہ اسرائیل اور پاکستان کا فاصلہ تو تقریبا 4500 کلومیٹر ہے مگر پاک فضائیہ ون وے مشن کرنا جانتی اور اور وہ اسرائیل کے خلاف ون وے کامیاب مشن کر بھی چکی ہے نیز اس کے علاوہ عراق اور سعودی عرب بھی اسرائیل پر حملے کیلئے پاکستان کے معاون بن سکتے ہیں
اللہ تعالیٰ کا خاص فضل کرم ہے کہ امت کے غم خوار مجاھد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کی ٹیم نے بہت کم وسائل اور سہولیات کیساتھ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچا کر عالم کفر کی چیخیں نکلوا دیں اور ان شاءاللہ پاکستان قیامت تک قائم رہے گا اور عالم کفر کی چیخیں نکلتی رہینگی.
باغی ٹی وی :ان دنوں ویب کیم ڈھونڈنا مشکل ہے ، لہذا یہاں آپ زوم یا اسکائپ پر کال کرنے کے لئے آپ اپنے پاس پہلے سے موجود اپنے کیمرہ کو ویب کیم میں تبدیل کرسکتے ہیں
کوروناوائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویب کیمز کی فراہمی بہت کم ہے ، لہذا آپ اپنے میک یا پی سی میں سے بہتر کوالٹی کیمرہ تلاش کر سکتے ہیں۔ خوش قسمتی سے ، ان تمام زوم کالز اور اسکائپ سیشنوں کے لئے تصویر کے معیار کو بڑھانے کے لئے اپنے DSLR یا کیمکارڈر کو استعمال کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
آپ اپنے فون کو ویب کیم کی طرح دوگنا کرنے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں اور اپنے آپ کو اسٹینڈ کیمرہ کے ذریعے رابطے کی پریشانی سے بچ سکتے ہیں ، لیکن اس سے آپ کو تصویر کا بہترین معیار نہیں مل سکتا۔
اپنے DSLR کو ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کچھ مختلف طریقے ہیں۔ آپ جس کا انتخاب کرتے ہیں اس کا انحصار آپ کے کیمرا پر ہوگا ، چاہے اس میں USB ہو یا HDMI آؤٹ پٹ ، اور اگر آپ پی سی یا میک سے جڑ رہے ہیں۔
نیز ، آپ یقینی طور پر اپنے کالوں کے دوران کمفرٹ رہنے کے لئے اپنے کیمرہ کو تپائی پر رکھنا چاہتے ہیں اور اگر آپ اسے تھوڑی دیر کے لئے چلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اسے بجلی سے جوڑ دیں۔ اگر آپ آواز کی کوالٹی بہترین چاہتے ہیں تو آپ کیمرہ مائک کے بجائے اپنے آڈیو کو الگ الگ مائیکروفون کے ذریعہ ریکارڈ کرسکتے ہیں
اپنے کینن DSLR یا کیمرہ کو ایک ویب کیم میں تبدیل کرنے کے لئے کینن سافٹ ویئر کا استعمال کریں
کینن کے پاس اپنے کیمرے کو اپنے کمپیوٹر سے کنیکٹ کرنے کا ایک طریقہ ہے (یہ میک کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا)۔ یہاں آپ کوایک USB کیبل کی ضرورت ہے ، جو آپ کے کیمرہ باکس میں موجود ہو گی۔ ایک بار جب آپ سافٹ ویئر کو اپ لوڈ کرتے ہیں اور اپنے کیمرہ میں پلگ ان کرتے ہیں تو ، کیمرہ کو مووی موڈ میں تبدیل کریں پھر EOS ویب کیم یوٹیلٹی بیٹا کو ان پٹ کے طور پر زوم ، اسکائپ ، مائیکرو سافٹ ٹیموں یا گوگل میٹ کو سیٹ کریں۔
یہ کینن ڈائریکٹ سے مفت ڈاؤن لوڈ ہوتی ہے لیکن پہلے آپ کو یہ فہرست دیکھنی پڑے گی کہ آیا آپ کا کینن کیمرہ مطابقت رکھتا ہے۔ نیز ، یہ بیٹا سوفٹ ویئر ہے لہذا آپ کا یہ تجربہ ناکام ہو سکتا ہے ، اور صرف امریکی کینن کیمرہ ماڈل ہی سہارا یہاں پر مفید رہتا ہے۔
اپنے DSLR کے لئے ایک ویب کیم ایپ آزمائیں جو USB سے زیادہ جڑتا ہے
دوسرا آپشن پی سی کے لئے اسپارکو کیم ہے۔ یہ ایک مفت ٹرائل کی آفر دیتا ہے ، لیکن یہ امیج پر آبی نشان لگادیتا ہے۔ غیر مقفل ورژن کے لئے اس کی لاگت 70 ڈالر ہے ، جو کئی کینن اور نیکن کیمروں کے ساتھ کام کرتا ہے۔
ایک بار جب آپ کیمرہ کو USB کے ذریعے اپنے کمپیوٹر سےجوڑ دیں گے تو ، آپ اسپارکو کیم سے نمائش کو تبدیل کرنے اور دیگر ترتیبات کو ایڈجسٹ کرنے کے قابل ہوجائیں گے۔ بدقسمتی سے ، آپ کیمرہ سے آڈیو کو براہ راست ریکارڈ نہیں کرسکیں گے ، لہذا آپ کو یا تو پی سی یا میک مائکروفون استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی ، یا بیرونی مائکروفون لگانے کی ضرورت ہوگی تاکہ لوگ آپ کو سن سکیں۔ کیمرے پر انحصار کرتے ہوئے اسپارکو کیم استعمال کرتے وقت کچھ تصویری ہنگامہ آرائی کی ہے ، لہذا یہ آپ کے لئے سب سے قابل اعتماد حل نہیں ہوسکتا ۔ ایکام لائیو میک کے لئے ایک اور آپشن ہے جو نیکون صارفین کے لئے بہترین ہے ، حالانکہ اس کا خصوصی طور پر تجربہ نہیں کیا ہے۔
متبادل کے طور پر ، اگر آپ کے پاس کینن ڈی ایس ایل آر ہے اور آپ میک استعمال کررہے ہیں تو ، آپ سافٹ ویئر کے دو ٹکڑے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں: کیمرا لائیو اور کیمٹسٹ (دونوں ہی مفت ڈاؤن لوڈ ہو تے ہیں)۔ ایک بار جب دونوں انسٹال ہوجاتے ہیں اور آپ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کیمرہ لائیو کے ذریعے کیمرہ USB کے ذریعے جڑا ہوا ہے تو ، کیم ٹیوسٹ کو کھولیں اور سیفون کو ویڈیو ماخذ کے طور پر منتخب کریں۔ سیٹنگ کے ٹیب میں ، سیفن سرور کے بطور کیمرہ لائیو منتخب کریں۔ اب آپ زوم ، اسکائپ یا اپنی پسند کی ایپ پر جاسکتے ہیں اور کیمٹوسٹ کو اپنے ویڈیو ذرائع کے طور پر منتخب کرسکتے ہیں۔
اپنے DSLR کو بہترین معیار کے لئے HDMI کے ذریعے جوڑیں
یہ ان کیمروں کے لئے موزوں ہے جو صاف HDMI سگنل کو آؤٹ کرسکتے ہیں – اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی امیج کی تفصیلات یا فوکس ٹولز جیسے اوورلیز نہیں ہیں۔ یہ میک یا پی سی کے ساتھ بھی کام کرتا ہے۔
اس کے لئے پہلے ، آپ کو اپنے کیمرے سے براہ راست تصویر حاصل کرنے کے لئے HDMI کیبل کی ضرورت ہوگی۔ یہ آپ کے کیمرہ پر منحصر ہے ، یہ منی HDMI سے فل سائز HDMI سائز تک کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد ، آپ کو ایک کیپچر ڈیوائس کی ضرورت ہوگی جیسے ایلگاٹو کیم لنک ($ 130)۔ ایک بار جب آپ اپنے مطابقت پذیر کیمرہ کو ڈونگل میں پلگ دیتے ہیں تو ، یہ HDMI سگنل کو USB سگنل میں بدل دیتا ہے تاکہ آپ اپنے کیمرہ کو ویب کیم کے طور پر استعمال کرسکیں۔ آپ کو اپنے ویڈیو کانفرنسنگ ٹول جیسے زوم یا مائیکروسافٹ ٹیموں میں کیمرا منتخب کرنا ہو گا۔
اگر آپ اپنا اسٹریمنگ گیم اسکائپ یا زوم سے آگے لے جانا چاہتے ہیں تو ، یہاں ایک عمدہ ٹیوٹوریل موجود ہے جو آپ کے کیمرے کے ہکنگ کے عمل سے گزارتا ہے ، پھر OBS نامی ایک مفت سافٹ ویئر ٹول کا استعمال کرتے ہوئے لائیو سٹریمنگ کی مزید سیٹنگ کو ایڈجسٹ کرسکتے ہیں۔
پاکستان نے کووڈ 19 کے خلاف میڈیسن تیار کر لی یہ کارنامہ پاکستان کی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی نے سر انجام دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے دنیا کے 7 ارب 70 کروڑ انسانوں کی نظریں پاکستان پرہیں
باغی ٹی وی : پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے کورونا کے خلاف میڈیسن تیار کر لی ہے اینٹی باڈی سیرل ہیومن اینٹی باڈی سیرل تیار کی جسے آئی وی آئی جی کا نام دیا گیا ہے اور اس علاج کو امینو تھراپی کا نام دیا گیاہے
اس وبا کی میڈیسن کے لیے دنیا کی چھ بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں دوڑ میں تھیں کہ وہ یہ میڈیسن تیار کر لیں اور دنیا کے لیے ایک بڑا کارنامہ۔سر انجام دے کر لاکھوں اربوں ڈالر کما لیں لیکن یہ میڈیسن تیار کرنے کا اعزاز پاکستان نے اپنے نام کر لیا ہے
پاکستان کے شہر قائد کی مشہور یونیورسٹی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز نے یہ کارنامہ بفضل خدا سرانجام دے کر دنییا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے ڈاؤ یونیورسٹی کے ڈاکٹر عبدالصمد پاکستان کے اکلوتے ویکسنالوجسٹ اور ان کی ٹیم نے یہ کارنامہ سر انجام دیا ہے اب 7ارب 70 کروڑ لوگوں پر مشتمل دنیا کی نظریں پاکستان ہیں اور ان کے لیے یہ ایک خوشخبری ایک معجزہ ہے اور کورونا میں مبتلا 215 پندرہ سے زائد ممالک کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے
اس معجزاتی میڈیسن کے لیے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ جاپان برطانیہ چین جرمنی فرانس سپین اٹلی سارے ممالک کوشش کر رہے تھے یہاں تک کہ چین وہ ممالک ہے جس نے کورونا کو سب سے پہلے ختم کیا ہے ان سے بھی ابھی تک یہ میڈیسن دریافت نہیں ہو سکی
یہ میڈیسن کورونا وائرس کے تندرست مریضوں کے خون کے پلازمہ سے تیار کی جائے گی پاکستان میں 500 سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں ان صحت یاب ہوئے مریضوں کے ایک بلڈ بیگ سے کئی مریض صحت یاب ہو سکیں گے پاکستان میں آنے والے دنوں میں کووڈ 19 کا انشاءاللہ خاتمہ ہو جائے گا یا نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا دنیا کی نظریں اس وقت ڈاؤ یونیورسٹی پر ہیں
یاد رہے کہ یہ میڈیسن ہے ویکسین نہیں ہے ویکسین وہ ہوتی ہے جو بیماری لگنے سے روکے جبکہ میڈیسن وہ ہوتی ہے جو بیماری کو ختم کرے
موبائل کے فونٹ کو دیدہ زیب بنانے کے لئے اس میں نوری نستعلیق فونٹ انسٹال کرنے کا آسان طریقہ درج ذیل ہیں یہ طریقہ صرف اور صرف Huwawei موبائل کے لئے ہے
اپنے موبائل میں نوری نستعلیق فونٹ انسٹال کرنے کے لئے سب سے پہلے Play Store میں جائیں Huwawei theme manager لکھ کر سرچ کریں توکافی زیادہ آپشن آئیں گے ان میں سے جو پہلے نمبر پر آپشن ہو گا اس پر کلک کر کے انسٹال کرلیں اس کے بعد بیک کر کے گوگل پر جائیں اور نوری نستعلیق ٹی ٹی ایف لکھ کر سرچ کریں گے تو مختلف ویب سائٹس سامنے آئیں گی ان میں سے کوئی بھی ویب سائٹ سیلیکٹ کر لیں سب سے اچھی ویب سائٹ اردو جہان ہے اس پر جلدی ڈاؤن لوڈ ہوجاتا ہے اس پر کلک کریں تو چار فونٹ سامنے آئیں گے ان میں سے نوری نستعلیق پر کلک کر کے ڈاؤن لوڈ کرلیں ڈاؤن لوڈ مکمل ہونے کے بعد یہ آپکی فائل میں آجائے گا اس کے بعد اس فائل کو تھوڑا سا پریس کریں گے تو یہ سیلیکٹ ہو جائے گا سائیڈ پر تین نقطوں پر کلک کریں تو ایک بار آئیں گی اس میں Extract to پر کلک کریں تو چار آپشن آتے ہیں ان میں سے دوسری آپشن یعنی Select Directory پر کلک کرکے اوکے کر دیں اس کے بعد انٹرنل سٹوریج کو کلک کریں تو مختلف فولڈرز سامنے آئیں گے آپ جس فولڈر میں فائل کو رکھنا چاہتے ہیں اس کو اوکے کردیں فائل اس فولڈر میں منتقل ہو جائے گی
https://www.youtube.com/watch?v=EhfjPb5-nWo&feature=youtu.be
پھر وہاں سے بیک کر کے موبائل کے Home Page پر موجود Theme Manager فونٹ کے اندر آئیں وہاں پر یہ ایپ ہو گی اس ایپ پر کلک کر کے اوپن کریں تو اس میں مختلف آپشنز آئیں گی ان میں سے Editor کے اوپر کلک کریں تو سب سے آخر میں Generate Font ہو گا اس پر کلک کریں گے تو آپ سے First Step میں Choose tff file from your device پوچھے گا تو آپ نے وہ فائل لینی ہے جو گوگل سے ڈاؤن لوڈ کی تھی اس پر کلک کریں گے چند آپشن آئیں گے ان میں سے درمیان والے آپشن پر کلک کریں گے تو وہاں دو فائلیں ہوں گی ایک نوری نستعلیق کشیدہ اور ایک نوری نستعلیق سادہ آپ ان دونوں کو ایک ایک کر کے انسٹال کریں
یعنی پہلے آپ سادہ کو کلک کریں گے تو آپ کے پاس Next والا آپشن آئے گا آپ اس پر کلک کریں ایڈ آئے گی اس کو ختم کریں اگلے سٹیپ پر آپ سے نام مانگے گا فائل کو کوئی نہ کوئی نام دے کر Generate پر کلک کر دیں تو یہ فونٹ ایک دو سیکنڈ کے اندر اندر بن جائے گا اسکو اوپن کریں
اس کے بعد موبائل کے Home Page پر Setting اوپن کریں اس میں موجود اوپشن Display پر کلک کریں تو Text Styleاور Text Size
کے آپشنز آئیں گے اس میں Text Style پر کلک کریں گے تو Recomanded category discover for me آجائے گا اس میں چوتھے نمبر والے فونٹ پر کلک کریں تو چند آپشن آئیں گے ان میں سے دوسرے نمبر پر My Text Style آجائیں گے اس پر کلک کریں گے تو آپ کے پاس مختلف Text Style آ جائیں گے تو سب سے لاسٹ میں Khasheed deishelon lab فونٹ کے اوپر کلک کرکے اپلائی کرلیں
آپکے فون میں سادہ الفاظ کے فونٹ اپلائی ہو جائیں گے اس کے بعد کشیدہ نوری نستعلیق کو بھی اپلائی کر لیں
واشنگٹن:ٹیکنالوجی کے میدان میں آنکھ مچولی ، اب آئی پیڈ کوٹچ نہیں آنکھیں چلائیں گی ،اطلاعات کےمطابق دنیا اس وقت ٹیکنالوجی کی انتہائیوں کوچھورہی ہے، دنیا بھر میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کا عام استعمال ہورہا ہے لیکن ہر شخص ان اہم ایجادات سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا۔ اب دنیا کے پہلے آئی پیڈ پرو کے لیے اضافی کیسنگ بنائی گئ ہے جو آنکھوں کے اشاروں سے آئی پیڈ کا مکمل کنٹرول فراہم کرتی ہے۔
اس نظام کو اسکائل کا نام دیا گیا ہے اور سب سے پہلے یہ سہولت ایپل آئی پیڈ پرو میں شامل کی گئی ہے۔ اس طرح ٹیبلٹ کو ہاتھ لگائے بغیر مکمل طور پر آنکھوں کے اشارے سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔ فی الحال یہ آئی پیڈ پرو کے 12.9 انچ ورژن ٹیبلٹ کے ساتھ ہی کارآمد ہے۔
آئی پیڈ پرو میں یہ خواص شامل کرنے کے لیےاسے ایک خاص طرح کی کیسنگ میں رکھا گیا ہے ۔ اس میں حساس اسکینر نصب ہے جو دونوں آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت کو نوٹ کرتا رہتا ہے۔ اس میں دو طرح کے آپشن ہیں، ایک تو یہ دوربینی انداز میں ٹریکنگ کرتا ہے تو دوسری جانب یہ آنکھ میں سیاہ حلقے یعنی پتلی کی دائیں بائیں اور اوپر نیچے کی حرکت کو بھی نوٹ کرتا رہتا ہے۔
اس طرح کے رابطے کو آگمینٹو اینڈ آلٹرنیٹو کمیونی کیشن ( اے اے سی ) کا نام دیا گیا ہے جو کئی طرح کے سسٹم اور پروٹوکول کے ساتھ کام کرسکتا ہے۔ یوں آئی پیڈ کے سارے فیچر آنکھ سے انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اسکائل کے ذریعے فالج کے شکار، سیربرل پیلسی اور دیگر امراض کے شکار افراد بھی ٹیب کو چلاسکتے ہیں۔
جب ٹیبلٹ کی بات ہو تو آئی پیڈ بہت سے امور انجام دے سکتے ہیں۔ ایک جانب تو آپ دوستوں اور اہلِ خانہ سے رابطے میں رہ سکتے ہیں۔ دوسری جانب اسمارٹ گھروں کا پورا نظام ان سے قابو کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے اسکائل کے ذریعے معذور افراد بہت حد تک اپنے مختلف کام انجام دے سکیں گے۔
اسکائل کیسنگ کے لیے الگ سے پاور سپلائی کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ آئی پیڈ سے ہی بجلی لے کر کام کرتا ہے۔ اس کےساتھ پوائنٹنگ ڈیواس یعنی ماؤس اور ڈجیٹل پین بھی لگائے جاسکتے ہیں تاہم اسکائل کسینگ کی قیمت تین ہزار ڈالر یعنی ساڑھے چار لاکھ روپے کے برابر ہے۔
اسلام و ماں باپ کے بعد سب سے بڑی نعمت تندرستی ہے انسان مختلف بیماریوں کا شکار ہوتا رہتا ہے جس سے اللہ رب العزت بندے کے صبر کو آزماتے ہیں اور اس کے بدلے میں آخرت کی پریشانیوں سے بھی نجات دیتے ہیں یوں تو ازل سے ہی کئی بیماریاں ہیں اور ہر انسان کسی نا کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے مگر ایک تھیلیسمیا نامی بیماری ایسی بھی ہے جو کہ ماں باپ کے جینیاتی خرابی کے باعث اولاد میں منتقل ہوتی ہے اللہ رب العزت ہر کسی کے بچوں کو اس موذی بیماری سے بچائے یہ بیماری ایسی ہے کہ ہر ہفتے خون کی بوتل کے علاوہ بطور علاج معالجہ ہزاروں روپیہ بھی خرچ ہوتے ہیں
عالمی یوم تھیلیسمیا 8 مئی کو پوری دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی منایا جاتا ہے
ایک اندازے کے مطابق سنہ 2000 میں پاکستان میں تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 60 ہزار تھی جو اب بڑھ کر 1 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہر سال تقریبا 6 ہزار نئے کیس سامنے آ رہے ہیں جو کہ بہت تشویشناک بات ہے اس سے بچاءو کیلئے حمل شروع ہوتے ہی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جوکہ تقریبا ہر سرکاری ہسپتال سے با آسانی ہو جاتے ہیں لہذہ ہمیں لوگوں میں اس بیماری سے بچاءو کے متعلق شعور و آگاہی پیدا کرنی ہوگی وہ اجتماعی طور پر کریں یا انفرادی طور مگر کریں ضرور مگر بہتر ہے کہ اجتماعی طور پر ہو تا کہ ایک ٹیم بن کر زیادہ لوگوں تک آواز با آسانی پہنچائی جا سکے
اس بیماری میں مبتلا بچے کا خون بہت تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جسے کم سے کم ایک ہفتہ اور زیادہ سے زیادہ 20 دن بعد خون کی بوتل کی ضرورت ہوتی ہے اور بار بار خون کی تبدیلی کی بدولت ان بچوں کے دل و جگر بہت زیادہ کمزور ہو جاتے ہیں جس کی بدولت ان بچوں کی زندگی کی مہلت 20 سے 25 سال تک ہی ہے وہ بھی بہت کم بچوں کی ورنہ زیادہ تر 13 سے 17 سال تک ہی یہ بچے دنیا میں رہ پاتے ہیں اس کے بعد یہ مریض و مہمان بچے ہم سے جدا ہو کر خالق حقیقی کے پاس پہنچ جاتے ہیں
تھیلیسمیا میں زیادہ تر مریضوں کی تلی بڑھ جاتی ہے جس پر آپریشن کرنا لازمی ہوتا ہے اس آپریشن پر لاکھوں روپیہ خرچا آتا ہے جبکہ بار بار خون منتقلی کی بدولت ان کی خاص دوائی Desferrioxamicin کی ضرورت پڑتی رہتی ہے جس کی موجودہ قیمت 5 ہزار روپیہ ہے جو کہ ہر غریب انسان کے بس کی بات نہیں والدین کیلئے دوائی کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی خون کا بندوبست کرنا ہے جو کہ ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ لوگ بار بار مالی مدد تو کر دیتے ہیں مگر خون ہر بار ہر بندہ نہیں دے سکتا ایسے میں کئی واقعات دیکھنے کو ملے کے مجبور و لاچار ماں باپ تنگ آ کر اپنے لخت جگروں کو ہسپتالوں و این جی اوز کے پاس چھوڑ کر بھاگ گئے اور کچھ کم عمر تھیلیسمیا کے مریض بچے محنت مشقت کرکے بیماری کیساتھ لڑتے ہوئے اپنا علاج معالجہ کرواتے ہیں
ایسے میں ہم صحت مند افراد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان بچوں کیلئے خون کا بندوبست کریں تاکہ کوئی مجبور و لاچار ماں باپ اپنے لخت جگر کو یوں مرنے کیلئے چھوڑ کر نا جائے مذید ان بچوں کیلئے ہر شہر کی سطح پر این جی اوز قائم کی جائیں جو کہ ان مریضوں کیلئے خون کے عطیات جمع کرنے کیساتھ علاج معالجے اور ان کی ضروریات زندگی کیلیے رقم بھی جمع کریں تاکہ اللہ رب العزت کے پاس پہنچ کر یہ بچے ہمارا گریبان نا پکڑ سکیں کہ الہی میں ان صحت و توانا لوگوں میں چند سال کیلئے آیا تھا مگر یہ مجھے اپنا خون عطیہ نہیں کرتے تھے اور مجھے کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ علاج معالجے کیلئے پیسوں کی ضرورت تھی مگر یہ پیسوں والے لوگ مجھ چند سالوں کے مہمان کو پیسے دینے سے انکاری تھے اور مجھے اپنے علاج معالجے کیلئے بیماری کیساتھ محنت و مشقت بھی کرنی پڑتی تھی
پاکستان میں اس وقت سینکڑوں این جی اوز اور سرکاری و نجی ہسپتال ان کم عمر مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے کی جدوجہد میں پیش پیش ہیں تو اپنے خون و مال سے ان این جی اوز و معالج خانوں کی مدد کرکے ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال رکھنے میں مدد کیجئے تاکہ کوئی غریب ماں باپ خون و پیسے کے نا ہونے کی بدولت اپنے لخت جگر کو مرنے کیلئے اکیلا نا چھوڑ دے اور اس مہمان مریض کو اپنے علاج معالجے کیلئے غربت کے باعث بیماری کیساتھ محنت و مشقت نا کرنا پڑے کیونکہ فرمان باری تعالی ہے ،جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا
تو آگے بڑھیں جب تک ان مہمان بچوں کی سانسیں بحال ہیں تب تک ان کو عام بچوں کی طرح زندہ رہنے کا موقع دیجئے
مقدمہ کے حقائق
نام مقدمہ-شہلا ضیاء بنام واپڈا ( پی ایل ڈی 1994سپریم کورٹ 693)
سال 1992 میں اسلام آباد کے چار رہائشیوں نےٖ، ایف 6/1 اسلام آباد کے رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے خلاف احتجاج کیا-اس ضمن میں ایک شکایتی خط 15 اگست 1992 کو چیئرمین واپڈا کے نام ارسال کیا گیا جس میں رہائشیوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کے لیے ہائی وولٹیج ٹرانسمیشن لائنیں نصب کی جائیں گی اور برقی مقناطیسی فیلڈ کی موجودگی علاقے کے رہائشیوں خاص طور پر بچوں ، کمزوروں اور دھوبی گھاٹ خاندانوں کے لئے ایک سنگین خطرہ ثابت ھوگی- مزید یہ کہ بجلی کی تنصیبات اور ٹرانسمیشن لائنیوں کا وجود گرین بیلٹ کے لیئے نقصان دہ ھونے کے ساتھ ساتھ انتہائی مظر صحت ھے-
شہریوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسی بھی رہائشی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر اسلام آباد میں نافذالعمل منصوبہ بندی کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ھے جہاں گرین بیلٹس کو ماحولیاتی اور جمالیاتی وجوہات کی بناء پر شہر کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے جولائی 1991 سے گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کی بابت مختلف احتجاجی کوششوں کا بھی حوالہ دیا اور واضع کیا کہ اس ضمن میں کوئی قابل اطمینان اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ یہ خط ایل یو سی این کے ڈاکٹر طارق بنوری نے انسانی حقوق کے معاملے کے طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو قانونی جائزہ لینے کے لئے بھیجا جس میں دو سوالات اٹھائے گئے –
اول یہ کہ کیا کسی سرکاری ایجنسی کو یہ حق حاصل ھے کہ وہ اپنے اقدامات سے شہریوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالے ؟ اور
دوم یہ کہ کیا حلقہ بندی کے قوانین میں شہریوں کودیئے گئے حقوق شہریوں کی رضامندی کے بغیر واپس لیے جا سکتے یا ان قوانین میں ردوبدل کیا جاسکتا ھے ؟
اس معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جس میں شہریوں کی زندگی اور صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا جاسکتا تھا جواب دہندگان کو نوٹس جاری کیا گیا- جواب دہندگان نے موقف اختیار کیا کہ ریکارڈ کے مطابق گرڈ اسٹیشن کی مجوزہ جگہ کو گرین ایریا کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا ہے- جواب دہندگان نے مزید استفسار کیا کہ مجوزہ جگہ قریب واقع مکانات سے تقریبا چھ سے دس فٹ کی ڈپریشن میں ہےاور علاقے میں رہائش گاہوں سے کم از کم 40 فٹ دور شروع ہوتی ہے لہذا گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے رہائشیوں کے لیئے قدرتی منا ظر متاثر نہ ھوں گے۔ مزید کہا گیا کہ یہ اخذ کرنا بلکل بےبنیاد ھے کہ ٹرانسمیشن لائینوں اور گرڈ اسٹیشن سے 132 K.V. کی ہائی ولٹیج پیداوار کسی طرح بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ جواب دھندگان نے استفسار کیا کہ اسی طرح کے 132 کے وی گرڈ اسٹیشن گنجان آباد علاقے راولپنڈی ، لاہور ، ملتان اور فیصل آباد میں قائم کیے گئے ہیں ، لیکن صحت کی خرابی کی بابت کوئی اطلاع موصول نہیں ھوئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ ان گرڈ اسٹیشنوں میں کام کرنے والے اور گرڈ اسٹیشنوں کے احاطے میں رہائش پذیر لوگوں سے ایک بھی شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ یہ کہ تنصیبات کو اس طرح بنایا گیا ہے کہ اہلکاروں اور املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے۔ مزید کہا گیا کہ انسانوں، جانوروں اور پودوں کی زندگیوں پر 5000 کے وی سے زیادہ وولٹیج کی اضافی ہائی وولٹیج لائنوں کے برقی مقناطیسی اثرات ترقی یافتہ ممالک میں زیرِ مطالعہ ہیں ، لیکن اس طرح کے مطالعے کے نتائج کی اطلاعات متنازعہ ہیں۔
مقدمہ کا فیصلہ
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاءفریقین مقدمہ کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اُنھیں الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ یا کسی بھی گرڈ اسٹیشن ، فیکٹری ، بجلی گھر یا دیگر ایسی تنصیبات و تعمیرات سے پیدا ہونے والے خطروں سے بچایا جائے۔
آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان کو یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے معاملے کو ذیر غور لائے جہاں شہریوں کی ایک کثیر تعداد کی زندگی و صحت کے متاثر ہونے کا احتمال ہو ۔ مذید یہ کہ کیس میں اُٹھائے جانے والے مسئلے میں شہریوں کی فلاح و بہبود شامل ہے کیونکہ ملک بھر میں "ہائی ٹینشن لائینوں” کا جال بچھا ہوا ہے۔ یہ کہ اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ طرزِ زندگی ، صنعت و تجارت اور روزمرہ معاملات زندگی میں توانائی کا کردار لازم وملزوم ہے ۔ ملک کی معاشی ترقی کا انحصار ذیادہ توانائی کی پیدوار و تقسیم پر منحصر ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ معاشی ترقی اور خوشحالی کے مابین توازن برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیئے ایک پائیدار ترقی کی پالیسی اپنائی جائے۔ کوئی بھی ایسی پالیسی بنانے کے لیئے واپڈا کو اپنے گرڈاسٹیشن سے متعلقہ منصوبہ بندی و طریقہ کار کا گہرا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اور امریکہ کی طرز پر ایسے طریقوں کو اپنانا چاہیے جن کے ذریعے تناﺅ کی اعلیٰ تعداد کو کم کیا جاسکتا ہے۔ واپڈا کو حکم دیا گیا کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب کے لیئے سائنسی نقطہ نظر اپنانا چاہیے اور سائنسی و تکنیکی معاونین کی مدد لینی چاہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے فریقین کی باہمی رضا مندی سے NESPAK کو بطور کمشنر مقرر کیا تا کہ وہ سائینسی وتکنیکی بنیادوں پر گرڈ اسٹیشن کی تعمیر و تنصیب سے متعلق واپڈا کے منصوبے کی جانچ پڑتال کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ اس مرحلے پر سپریم کورٹ نے اس بات کی نشاندہی بھی کی تمام ترقی یافتہ ممالک میں توانائی کی پیداور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان میں توانائی کی پیدا وار کی ضرورت باقی ممالک کی نسبت زیادہ ہے ۔ لیکن معاشی ترقی کی جستجو میں ایسے اقدامات نہیں اُٹھائے جاسکتے جو انسانی زندگی کے لیئے مہلک ہوں اورماحول کو آلودہ اور تباہ کردیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے واضع کیا کہ واپڈا نے وزارت پانی و بجلی کی مشاورت سے بجلی کی تقسیم کے لیئے گرڈاسٹیشن کی تعمیر کا منصوبہ تیار کیا ہےلیکن اس منصوبے کو تشکیل دینے کے دوران نہ ہی شہریوں کو سماعت کا کوئی موقع دیا گیا اور نہ ہی علاقے کے رہائشیوں کا موقف سنا گیا ہے۔ واپڈا نے یہ منصوبہ یکطرفہ طور پر تیار کیا ہےجبکہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے شہریوں اور علاقے کے رہائیشیوں کی زندگی و صحت متاثر ہونے کا شدید احتمال ہے۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ امریکہ میں ایسے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیئے پبلک سروس کمیشن کا تقرر کیا جاتا ہے اور عوامی رائے واعتراضات کو سننے کے بعد ایسے منصوبوں کی منظوری دی جاتی ہے جبکہ پاکستان میں کوئی بھی ایسا طریقہ کار نہیں اختیار کیاگیا ہے۔ ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں بہت سے گرڈ اسٹیشنوں و بجلی کی ترسیل کے لیئے لائینوں کی تنصیب کی ضرورت ہے لہذا حکومت پاکستان کے لیے یہ مناسب ہوگا کہ بین الاقوامی سطح پر پہنچانے جانے والے سائینسدانوں و دیگر ممبران پر مشتمل ایک اتھارٹی یا کمیشن تشکیل دے جو کسی بھی گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق منصوبے کی منظوری دے اور پہلے سے قائم شدہ گرڈ اسٹیشنوں اور بجلی کی ترسیل کی لائینوں کا انسانی زندگی و ماحول پر اثرات کا مطالعہ کرے۔ اگر حکومتِ پاکستان وقت پر ایسے اقدامات اُٹھائے تو مستقبل میں بہت سے مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
واپڈا نے بحث کے دوران یہ اعتراض اُٹھایا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو آرٹیکل 184 کے تحت یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ کسی بھی علاقے میں گرڈ اسٹیشن کی تعمیر سے متعلق کوئی بھی فیصلہ دے کیونکہ گرڈ اسٹیشن سے متعلق منصوبہ باقائدہ مطالعہ کے بعد تیار کیا گیا ہے۔ اور گرڈ اسٹیشن و ہائی ٹرانسمیشن لائنوں کے انسانی صحت و زندگی پر اثرات کو پرکھا گیا ہے اور یہ کہ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ نے واپڈا کے اعتراض کو رد کرتے ہوئے یہ تجزیہ کیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل (9) کے تحت کسی بھی فرد کو زندگی یا آزادی سے محروم نہیں کیا جا سکتا ماسوائے اس کے کہ قانون اس کی اجازت دے۔ لفظ زندگی انسانی وجود کے تمام حقائق کا احاطہ کرتا ہے۔ لفظ زندگی کی تعریف آئین پاکستان میں نہیں دی گئی لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اس کی تعریف کو پودوں یا جانوروں کی زندگی یا انسانی زندگی کا پیدائش سے موت تک کےعمل تک محدود کر دیا جائے۔ زندگی میں ایسی تمام تر آسائشیں و سہولیات شامل ہیں جن سے ایک آزاد ملک میں بسنےوالا شہری باعزت طریقے سے قانونی و اآئینی طور پر لطف اندوز ہو سکے۔
مضمون نگار سیدہ صائمہ شبیر سینئر ریسرچ آفیسر سپریم کورٹ آف پاکستان ہیں
syeda_saima@yahoo.com
سری نگر: مقبوضہ کشمیر پولیس نے مظاہرین و حریت رہنماؤں کی کاروائیوں کی نگرانی کرنے کیلئے 50 جدید ڈرون طیارے خرید نے کا اعلان کر دیا ، بھارت کی مرکزی حکومت ان ڈرون طیاروں کی خرید کی اجازت دے چکی ہے، ان ڈرون طیاروں سے فضائی نگرانی کو محفوظ سے محفوظ تر بنایا جائے گا،
ہندوستان ٹائمز کو مقبوضہ کشمیر پولیس کے ایک سینئر پولیس آفیسر نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان طیاروں کی خرید کے ٹینڈر پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں، اور جلد ااز جلد اس منصوبے کو پایا تکمیل تک پہنچایا جائے گا