Baaghi TV

Category: سائنس و ٹیکنالوجی

  • نوکیا موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان

    نوکیا موبائل فون کمپنی کا پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان

    اسلام آباد: اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کے لیے نوکیا نے خوشخبری سنا دی ، نوکیا موبائل فون کمپنی ایچ ڈی ایم نے پاکستان میں اپنے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔

    نوکیا فون کی قیمتوں کو کم کرنے کے حوالے سے پاکستان میں نوکیا کے ڈسٹری بیوٹر ایڈوانس ٹیلی کام نے اپنی ویب سائیٹ پر نئے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد تک کی کمی کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کے ایک اعلامیہ کے مطابق نئے اسمارٹ فونز نوکیا کے تمام فرنچائزز اور ڈسٹری بیوٹرز کے پاس بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں جس سے صارفین بھرپور استفادہ حاصل کرسکتے ہیں۔

    ذرائع کے مطابق حالیہ سالوں میں نوکیا کو بین الاقومی مارکیٹ میں سخت مقابلہ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے فونز کی طلب میں بہت کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ نوکیا کی اس نئی پیشکش کو مارکیٹ میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ واپس حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

    یاد رہے کہ جب سے ایچ ایم ڈی کمپنی نے نوکیا کے فون بنانا شروع کر دیے ہیں دنیا بھر میں ان کے فون کی فروخت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔نوکیا کس طرح مارکیٹ میں جگہ بناتی ہے یہ پتہ چلے گا نوکیا کے فیچرز سے کہ کیا وہ صارفین کے دلوں میں جگہ بناسکتے ہیں.

  • یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    ہماری جنریشن کا مسئلہ یہ کہ ہماری جنریشن کا اب ایک ایک لمحہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ میرے دادا، پردادا کا اپنے وقتوں میں کیا اوڑھنا بچھونا رہا یا ان کے نظریات و خیالات کیا تھے مجھے کچھ نہیں پتہ لیکن میرے نواسی نواسے اور پوتا پوتی میری ایک ایک دن کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکیں گے ۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کس نے کس مقام پر ٹھوکر کھائی اور جدوجہد کر کے کھڑا ہوگیا یا کون سے چاچے مامے انقلابات زمانہ سے ڈر کے بیٹھ گئے اور کشمکش حیات سے فرار کی راہیں اختیار کر لیں ۔
    ہمارے لئیے تو بڑا مسئلہ ہمارا یہ ورچوئل ہمزاد ہے جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹرز میں تشکیل پا رہا ہے ۔ میری لوکیشن ، میرے اسٹیٹس ، میرے خیالات سب کچھ ہی Google , Amazon, Ali baba ، یوٹیوب ، فیس بک ، گوگل کروم اور وغیرہ وغیرہ کے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ انھی ڈیٹا کو پڑھنے والے Algorithm ہی ہماری preferences کی بنیاد پر یوٹیوب سے لیکر فیس بک پر ویڈیوز اور اشتہارات کو ہماری اسکرین پر چلنے والی ویڈیوز میں گھماتے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں موبائل میں لگے کیمروں سے آپکے چہرے کے تاثرات پڑھ کر آپ کو آپ کی ہی اسکرین پر گھماتے پھراتے ، فیس بک یو ٹیوب کی سجیشن کے ذریعے انھی اشتہارات سے لیکر انھی ویڈیوز تک پہنچادیا جائے گا جو یا آپ دیکھنا پسند کرتے ہوں گے یا مارکیٹنگ کمپنیاں آپکو دکھانا چاہتی ہوں گی ۔

    تو ایسے میں ہمارا چھوڑا ہوا یہ ڈیجیٹل ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ساری پول پٹیاں کھول کر رکھ سکتا ہے کہ لگڑ دادا زیادہ وقت پورن سائیٹس پر سرفنگ میں یا خواتین کو رجھانے والے اسٹیٹس لگانے میں لگاتے تھے یا زیادہ وقت کتابوں اور سیاحت میں گزارا کرتے تھے ۔ زمانے کی رو کے ساتھ بہتے چلے جاتے رہے یا اپنا کوئی فریش content بھی تھا ۔ خیالات فارورڈ لنکنگ تھے یا ماضی گزیدہ اور اسلاف پرستانہ ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثالیں ، اچھے خیالات و جذبات ، عقل و دانش پر مبنی تحریں اور ویڈیوز چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پڑھ کر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں یا ایسا ڈیجیٹل ترکہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جس کو آنے والی نسلیں ڈیلیٹ فرام دا اسٹارٹ پر لگانا چاہیں ۔

    کیونکہ جب روبوٹس انسان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے ہیں تو کون جانے کہ آنے والے ہزار دو ہزار سال بعد لوگ اپنے بچوں کے لئیے یا خود تنہائی کا مارا کوئی فرد اپنے لیے ایک دادا روبوٹ یا ایک نانی روبوٹ بھی بنوانے کے قابل ہوجائے ۔ جو ظاہر ہے کہ کسی حقیقی دادا نانا کی طرح consious being تو نہیں ہوگا لیکن اس کی ایک ڈیجیٹل ورچوئل یا روبوٹک کاپی تو ہوگا ۔ ہوگا تو انسان نہیں لیکن ہوگا کچھ نہ کچھ تو کمی پوری ہوگی جیسے آج ہم اپنے بچوں کو ان کے دادا پر دادا کی تصویریں دکھا کر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔کیا پتہ کہ آنے والے وقتوں میں لوگ خود اپنی ڈیجیٹل ہسٹری ، ساری زندگی کی آن لائین ایکٹیویٹیز، تھری ڈی ورچوئل ویڈیوز ، چھوٹے چھوٹے ویڈیو مسجز کو خود ہی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کسی CLOUD SERVER یا ڈیٹا سینٹر میں SAVE کرا کر جائیں جنہیں بعد میں آن ڈیمانڈ کسی گوشت پوست سے بنے روبوٹ میں فیڈ کرا دیا جائے اور اس دادا روبوٹ یا نانی روبوٹ یا محبوبہ روبوٹ کو ویسے ہی Behave کرائیں جیسا وہ شخص خود اپنی زندگی میں ان سامنے آنے والے Given circumstance میں Behave کرتا ۔

    ہم سے پچھلے والوں کے لیے کم از کم یہ امتحان تو نہیں تھے کہ آنے والی نسلوں کی بھی اسکروٹنی سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ہاں انہوں نے یہ سہولتیں بھی نہیں دیکھیں جن کا ہم آج مزہ اٹھا رہے ہیں اور جس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اس طرح کا چانس ہمارے آباؤ اجداد کے پاس نہیں تھا ۔ دیکھا جائے تو زندگی تو ہر جنریشن کے لئیے ایک امتحان ہی یے ۔ قدرت نے اگر آپکو لیموں دیے ہیں تو آپ نے زندگی میں کھٹاس ہی بھرے رکھی یا کہیں سے شکر پکڑ کر لیمن کے ساتھ ملا کر اسکا لیمن مالٹ بنا کر انجوائے کر لیا ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے ۔ آیا آپ اپنی صلاحیتوں کی نشونما اور نمود یعنی ان میں اضافہ کرتے ہیں یامقام انسانیت سے نیچے جا کر صرف دو وقت کی روٹی کا حصول اور حیوانی تقاضوں کی تکمیل میں جوڑا بناکر بچے پیدا کر کے مرجانے کو ہی زندگی کا حاصل گردانتے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔
    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
    پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے

  • خلا پر جانے کے50 سال، گوگل کا خوشی منانے کا انوکھا انداز

    خلا پر جانے کے50 سال، گوگل کا خوشی منانے کا انوکھا انداز

    نیویارک: گوگل نے بھی خوشیاں منانی شروع کردیں ،تفصیلات کے مطابق چاند پر انسانی قدم پہنچنے کی نصف سنچری مکمل ہونے پر گوگل نے خوصی ڈوڈل جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق 19 جولائی 1969 کو پہلی امریکی خلا باز آرمسٹرانگ اور ایڈورڈ ایلڈرن کئی مشکل مراحل طے کرنے کے بعد چاند پر پہنچے ، انہوں نے خلائی سفر کا آغاز 16 جولائی کو شروع کیا تھا اور مسلسل 8 روز تک اسے طے کرتے رہے۔

    یہ بھی یادرہے کہ سائنسی میدان میں کئی معرکے سر کرنے کے باوجود اس واقعہ کو انیسویں صدی کی آج بھی بہت بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ امریکی خلا باز وں نے ناتجربے کاری کے باوجود چاند پر جانے کا اعلان کیا تھا۔

    دنیا بھر کے ماہرین 16 جولائی سے 8 روز تک بے چینی کا شکار رہے تھے کیونکہ امریکی خلا باز 24 جولائی کو اپنا سفر مکمل کر کے واپس زمین پر لوٹ گئے تھے۔

    گوگل نے چاند پر قدم رکھنے کے پچاس سال مکمل ہونے پر نہ صرف قیمتی دن کو اہمیت دی بلکہ ڈوڈل سجاتے ہوئے پانچ منٹ کی ویڈیو بھی لگائی جس میں سفر سے متعلق آگاہی دی گئی ہے۔

  • بوڑھا دیکھانے والی "فیس ایپ” کتنی خطرناک،جان لیں تو ہوش اڑ جائیں

    بوڑھا دیکھانے والی "فیس ایپ” کتنی خطرناک،جان لیں تو ہوش اڑ جائیں

    فیس ایپ کی کارستانی جان کر آپ کے ہوش اڑ جائیں اور اسکو انسٹال کرنے سے توبہ کر لیں اورکبھی انسٹال نہ کریں.

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر نئی ایپ نے تہلکہ مچا رکھا ہے ، روسی انجینئرز کی تیار کردہ نئی ایپلی کیشن مشہور ہونے کے ساتھ متنازع بھی ہوگئ ہے یہ اہپلی کیشن کتنی خطرناک ہے اگر آپ جان لیں تو شاید کبھی اس کو استعمال نہ کریں.اس ایپلی کیشن میں آپ کا تمام ڈیٹا ایپلی کیشن کے منتظمین چرا لیتے ہیں.آپ کی ہر حرکت اور ایکٹیوٹی کی جاسوسی ہوتی ہیں.ایپلی کیشن کے قوائد و ضوابط میں واضح لکھا ہے کہ ۔اس ایپلی کیشن کے انسٹال کرنے کے بعد آپ اس ایپ کو اجازت دے دیں گے کہ وہ آپ کی پسند نا پسند، شخصیت کا میلان ،آواز ، کونٹیکٹ نمبرز اور اس ڈیٹا پر رسائی حاصل کر لیں گے جو آپ کے موبائل فون میں ہے.

    اس ایپ کو امریکا میں بھی خطرناک قرار دے دیا گیا ہے امریکی جریدے کے مطابق ایپ کو گوگل پلے سے 10 کروڑ سے زیادہ لوگ ڈاؤن لوڈ کرچکے ہیں جبکہ دنیا کے 121 ممالک میں یہ ٹاپ رینکنگ ایپ بن چکی ہے۔امریکی بزنس جریدے نے خبردار کیا ہے کہ ایپ کے ذریعے کمپنی کو دنیا میں تقریباً 15 کروڑ لوگوں کی تصاویر کے ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگئی ہے
    یہ ایپ اسے استعمال کرنے والے صارفین کی تصاویر اپنے کلاؤڈ میں اپ لوڈ کرتی ہے اور صارفین سے ان کی نجی تصاویر اور ڈیٹا تک مکمل اور ناقابل تنسیخ رسائی کا تقاضہ کرتی ہے۔

    ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی اپنی یادداشت میں محفوظ ان تصاویر کو جب چاہے جس مقصد کیلئے چاہے استعمال کرسکتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپ میں محفوظ ڈیٹا کے ذریعے مصنوعی ذہانت کے کمپیوٹر پروگرام کو چہرہ کی شناخت کی تربیت دینے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

  • نئی دنیا نیا فیچر،آئی فون صارفین کیلئے خوشخبری لے آیا

    نئی دنیا نیا فیچر،آئی فون صارفین کیلئے خوشخبری لے آیا

    لندن :آئی فون نے صارفین کو نئی خوشخبر سنا دی.آئی ٹی کمپنی ایپل Appleنے 59نئے ایموجیز کی جھلک جاری کردی ۔ یہ ایموجیز کچھ عرصہ بعد آئی فونز کے آئی او ایس سافٹ وئیر میں میسر ہونگے ۔ ان ایموجیز میں پہلے سے زیادہ آپشنز رکھے گئے ہیں ،مثال کے طور پر جلد کا رنگ ،جوڑے کی صورت میں بھی ایموجیز بنائے جاسکیں گے ۔ یہاں مزید کھانوں اور جانوروں آپشنر بھی رکھے گئے ہیں ۔

    ڈیلی میل کے مطابق یہ ایموجیز آئی او ایس IOS سافٹ وئیر اسی سال میسر ہوگا ۔ کمپنی ان ایموجیز کو عالمی ایموجی ڈے پر جاری کرے گی ۔ آئی فون صارفین کیلئے یہ بہترین سہولت ہوگی ۔اس سے پہلے بھی آئی فون کئی نئے فیچر متعارف کروا چکی ہے. حالیہ فیچر کے بارےمیں یوزرز کا خیال ہے کہ اس سے آئی فون کے استعمال کرنے والوں پر مثبت اثرات ہوں گے

  • سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پر بھارت کا راج پاکستانی بے یارو مددگار — محمد عبداللہ

    سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بالخصوص فیس بک اور ٹوئیٹر مقبول ترین پلیٹ فارمز ہیں. سال دو ہزار انیس کے اوائل میں دنیا بھر سے 2.7 بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں. اسی طرح سماجی رابطوں کی دوسری بڑی سائٹ ٹویٹر کے صارفین کی تعداد 261 ملین ہیں.واضح رہے کہ یہ کوئی ختمی تعداد نہیں ہے بلکہ سوشل میڈیا صارفین کی تعداد ہر دن بڑھتی چلی جا رہی ہے.

    ترقی پزیر اور معاشی و سیاسی حوالے سے کمزور ممالک میں سوشل میڈیا کا استعمال اس لحاظ سے بھی بہت زیادہ بڑھ گیا ہے کہ بے روزگار لوگوں کے پاس سوشل میڈیا استعمال کرنے کا کھلا وقت ہوتا ہے.
    ان سوشل میڈیا سائٹس کا استعمال بڑھنے کی وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ سائٹس آپ کو اپنے نظریات و افکار کے اظہار کی آزادی دیتے ہیں. ان سماجی رابطوں کی سائٹس کا بنیادی نعرہ ہی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ آپ اپنے انفرادی، سیاسی، مذہبی اور معاشرتی نظریات کا کھلم کھلا اظہار کر سکتے ہیں لیکن پچھلے چند سالوں سے دیکھا جا رہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ان سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی بزور سلب کی جا رہی ہے. بالخصوص جب سے بھارت ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھا ہے اور فیس بک کا جنوبی ایشیائی علاقائی ہیڈ کوارٹر بھارت کے شہر دکن میں قائم ہوا ہے تب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگنا شروع ہوچکی ہے.


    بھارت کی ایماء پر فیس بک اور ٹویٹر پر سے لاکھوں اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں اور ان میں سے زیادہ تر اکاؤنٹس وہ ہیں جو کشمیر اور خالصتان کے حوالے سے سرگرم تھے. بھارت میں اپوزیشن کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس تک کے ہزاروں اکاؤنٹس بلاک ہوچکے ہی‍ں اور ان کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ سیاسی معاملات اور انتخابات میں اثر انداز ہو رہے تھے. کچھ ہی عرصہ قبل فیس بک نے 24 پیجز، 57 اکاؤنٹس، 7 گروپس اور 15 انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کیے تھے جن کے بارے میں فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ان اکاؤنٹس کا تعلق افواج پاکستان کے ادارے آئی ایس پی آر کے ملازمین کے ساتھ ہے اور یہ اکاؤنٹس اور پیجز کشمیر پر مواد اپلوڈ کرتے تھے.

    واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل ہی پاکستان کے معروف اداکار اور اینکر پرسن حمزہ علی عباسی کے اکاؤنٹس اور یوٹیوب چینل بھی کشمیر کے لیے آواز اٹھانے کی وجہ سے بلاک کیے جا چکے ہیں. اسی طرح کشمیریوں پر ظلم اور کلبوشن یادیو پر ٹویٹس کرنے کی وجہ سے پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا گیا.
    ان کے علاوہ عام پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے اکاؤنٹس اور پیجز لاکھوں کی تعداد میں بلاک کیے جا چکے ہیں.
    حالیہ دنوں میں کشمیر میں برہان وانی کی تیسری برسی کی وجہ سے احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا گیا جس کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا پر پزیرائی ملی پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی اس ایشو کو سوشل میڈیا پر اجاگر کیا لیکن بھارت کی ایماء پر ہزاروں پاکستانی صارفین اپنے اکاؤنٹس سے ہاتھ دھو بیٹھے.
    سوشل میڈیا صارف عمران اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیریوں پر بھارتی افواج پیلٹس فائر کرتی ہیں ان کی بینائی چھینی جا رہی ہے اور اس پر آواز اٹھانے کی وجہ سے ہمارے اکاؤنٹس بلاک کیے جا رہے ہیں.

    ایک سوشل میڈیا صارف بنت مہر کا کہنا تھا کہ فقط برہان مظفر کی تصویر لگانے سے ہمارے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے جا رہے ہیں یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے.
    سوشل میڈیا کے فعال صارف انوار الحق کا کہنا تھا کہ میرے دو سو سے زائد اکاؤنٹس پاکستانیت اور کشمیر ایشو کی وجہ سے بلاک ہوچکے ہیں.
    ایک اور سوشل میڈیا صارف کومل باجوہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارت کی اجارہ داری اور ہٹ دھرمی ہے جو ہمارے اکاؤنٹس بلاک کردیئے جاتے ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی انتظامیہ کو لازمی طور پر ان سماجی رابطوں کی سائٹس سے معاہدے کرنے چاہیں تاکہ بھارت کی اجارہ داری سے چھٹکارہ پایا جاسکے.


    انتہائی فعال سوشل میڈیا صارف وقاص احمد کا کہنا تھا برہان وانی اور کشمیر ایشو پر بات کرنے کی وجہ سے پیجز اور اکاؤنٹس بلاک کردیئے گئے ہیں جن پر پاکستانی ایکٹوسٹس اور حکومت بے بس دکھائی دیتی ہے حالانکہ یہ سائٹس پاکستان سے ملین ڈالرز کے اشتہارات کی کمائی کرلیتی ہیں لیکن اکاؤنٹس کی بندش کے سلسلے میں پاکستان حکومت اور آئی ٹی منسٹری کی ان سائٹس کے ساتھ کوئی واضح پالیسی نہیں ہے.
    واضح رہے کہ ماضی اور حال میں بھی پاکستان کے بڑے سیاسی و مذہبی رہنماؤں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کیے جاچکے ہیں جس پر احتجاج کے علاوہ کوئی حل نہیں ہے. حکومت پاکستان کو چاہیے کہ لازمی طور پر اس معاملے کی حساسیت کو دیکھیں اور سوشل میڈیا پر بھارت کی اجارہ داری کے خاتمے کی سنجیدہ کوشش کی جائے تاکہ پاکستانی سوشل میڈیا ایکٹوسٹس آزادانہ طور پر اپنی رائے کا اظہار کرسکیں.

    Muhammad Abdullah
  • دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    دنیا میں تیزی سی بڑھتا ہوا منافع بخش بزنس …. محمد فہد شیروانی

    پودوں کو کئی ہزار سالوں سے صحت اور طبی فوائد حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔یہاں تک کہ دنیا کے وہ علاقے جہاں جدید ادویات دستیاب ہیں وہاں بھی دیسی اور روایتی طریقہ علاج کے استعمال میں نہ صرف دلچسپی بڑھ رہی ہے بلکہ اس کو جدید طریقہ علاج پر فوقیت دی جا رہی ہے۔ لوگ "ایلوپیتھک” دوائیاں چھوڑ کر دیسی اور روایتی طریقہ علاج کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت دنیا کے 62 فیصد لوگ دیسی طریقہ علاج کا استعمال کر رہے ہیں۔ مارکیٹ میں دیسی ادویات کی مانگ میں اضافے کی وجہ سے پوری دنیا کی فارماسوٹیکل انڈسڑی اس وقت ہر بل دوائیں بنانے کے لئے مجبور ہو چکی ہے اور تقریباً ہر ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنی کی ہر بل ادویات اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں جو اس بات کا واضح اور منہ بولتا ثبوت ہے دنیا دیسی طریقہ علاج کی طرف واپس لوٹ رہی ہے۔
    "ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن” کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اس وقت ہربل ادویات کا بزنس 60 ارب امریکی ڈالرز تک جا پہنچا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کابل میڈیسن آہستہ آہستہ پوری دنیا میں اپنی جگہ بنا چکی ہے اور ہیلتھ فورمز میں اس کو باقاعدہ موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔ اس وقت لاکھوں امریکی ڈالرز ہربل ادویات کی ریسرچ پر خرچ کئے جا رہے ہیں ۔ افریقی میں موجود 80 فیصد آبادی اس وقت ہربل ادویات کا استعمال کر رہی ہے ۔
    ہربل اور دیسی طریقہ علاج کی ڈیمانڈ کے سامنے بلین ڈالرز کی فارما انڈسٹری اس وقت لاچار و بے بس نظر آتی ہے۔ "ایلوپیتھک” ادویات کی قیمتوں میں آئے دن ہونے والے ہو شربا اضافے اور اس کے "سائیڈ افیکٹ” لوگوں کو اس سے دور کرتے جا رہے ہیں۔
    ہربل ادویات کا استعمال بڑھنے کی مندرجہ ذیل وجوہات نظر آتی ہیں۔
    – عام ادویات کی نسبت کم قیمت ہونا
    – انتہائی کم مضر اثرات ہونا
    – جسم میں موجود مدافعتی نظام کو فعال کرنا
    – قدرتی طور پر شفایاب ہونا
    – ادویات کا کیمیکل وغیرہ سے پاک ہونا
    "گلوبل ہربل میڈیسن مارکیٹ” کی 2019 میں کی گئی ریسرچ کے مطابق ہربل میڈیسن مارکیٹ عالمی سطح پر سب سے زیادہ مستحکم صنعت بننے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ اس کی گزشتہ سالوں سے اس کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے. تیزی سے بڑھتی ہوئی ہربل میڈیسن کی طلب مارکیٹ میں ترقی کو فروغ دینے میں مدد دے رہی ہے اسی وجہ بزنس ادارے اور بزنس شخصیات کا رحجان ہربل میڈیسن کی پروڈکشن کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ 2025 تک ہربل میڈیسن کا بزنس دنیا کے اہم ترین بزنس میں شمار ہونے لگے گا ۔

  • دنیا میں‌کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں ،رپورٹ آگئی

    دنیا میں‌کتنے ایٹمی ہتھیار ہیں ،رپورٹ آگئی

    9ممالک کےپاس 13865 جوہری ہتھیار ہین.اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیش ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے سال 2019 میں مختلف ممالک کے پاس کیمیائی ہتھیاروں کی رپورٹ جاری کر دی۔

    رپورٹ کے مطابق دنیا کے 9 ممالک کے پاس 13865 جوہری ہتھیار ہیں۔ امریکا 6500 جبکہ روس 6185 جوہری ہتھیار رکھتا ہے۔ روس اور امریکا کے درمیان تخفیف اسلحہ کے معاہدے سے 6 سو جوہری ہتھیاروں میں کمی واقعہ ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان کے پاس 150 سے 160 جبکہ بھارت 130 کے قریب جوہری ہتھیار ہیں۔ فرانس 300، چین 290، برطانیہ 200 اور اسرائیل کے پاس 80 سے 90 جوہری ہتھیار موجود ہیں۔

  • ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم

    ملک ترقی کیسے کر سکتا ہے…. فیصل ندیم

    کیا آپ کو یہ بات مذاق نہیں لگتی کہ ہم ایٹم بم بنا چکے ہیں طیارے بنا رہے ہیں ٹینک بنا رہے ہیں دنیا کا بہترین میزائل سسٹم بھی ہم نے ہی تخلیق کیا ہے کل ہم دفاعی ضروریات پوری کرنے کیلئے دنیا کے محتاج تھے آج ہم دنیا کو یہ چیزیں برآمد کررہے ہیں اگر ہم یہ سب کرسکتے ہیں تو سب کچھ کرسکتے ہیں ۔۔۔۔۔

    ایک ایسا ملک جو ہمیشہ درآمدی بل کے خسارہ کا شکار رہتا ہے وہ کیسے ترقی کرسکتا ہے اگر اس کے ہر بازار کی ہر دکان کی ہر الماری غیر ملکی مصنوعات سے بھری ہوگی گاڑیاں بسیں ہیوی ٹرک تو بڑی شے ہے بچوں کیلئے بنایا گیا پلاسٹک کا کھلونا بھی ہم کسی اور ملک سے درآمد کررہے ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ق
    ایسا نہیں ہے کہ ہم میں صلاحیت نہیں ہے اگر صلاحیت نہ ہوتی تو دفاعی سازوسامان کے ساتھ دنیا کے بہترین سرجیکل آئٹمز ، اسپورٹس کا بہترین سامان ، معیاری الیکٹریکل اپلائنسز اور بہترین سینیٹری آئٹمز ہم نہ بنا رہے ہوتے ۔۔۔۔۔
    اس پوری کیفیت کی سب سے بڑی ذمہ دار ہمیشہ سے ہماری حکومتیں رہی ہیں جو صنعتکار کو اپنی صنعت چلانے کیلئے بہتر سہولیات اور ماحول دینے میں ناکام رہی ہیں چھوٹے چھوٹے اجازت ناموں کیلئے لمبے اور تھکا دینے والے طریقہ کار اور ہر منظوری پر رشوت کا بھاری بھرکم بوجھ کبھی بھی صنعتی ترقی کے فروغ کو سبب نہیں ہوسکتا مہنگی بجلی مہنگی گیس اور سازگار ماحول کی غیر موجودگی میں درآمدات کوگھٹا کر برآمدات بڑھانا مشکل نہیں ناممکن ہے ۔۔۔۔

    بھاری بھرکم بیرونی و اندرونی قرضہ ،بجٹ خسارہ ، گردشی قرضہ جات ہمیشہ ہر حکومت کا مسئلہ رہے ہیں بدقسمتی سے ہر آنے والی حکومت نے اپنی سیاست اور ووٹ بنک کو تحفظ دینے کیلئے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے ان کے شارٹ ٹرم حل کی جانب توجہ کی ہے نتیجتاً ہر آنے والی حکومت میں ہم مسائل کے حل کے بجائے مسائل کی دلدل میں مزید دھنستے چلے گئے ہیں ۔۔۔۔۔
    ان مسائل کے حل کا ایک ہی طریقہ ہے درآمدی اشیاء کی آمد کے طریقہ کار کو مشکل سے مشکل تر بنایا جائے غیرملکی اشیاء پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا جائے جبکہ ملکی صنعت کو سازگار ماحول سستی بجلی سستی گیس فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود سفارتخانوں کو استعمال کرتے ہوئے اس کیلئے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں ( یہ بھی ایک المیہ ہے کہ بیرون ممالک پاکستان کی نمائندگی کیلئے بننے والے سفارتخانوں میں تقرریاں سیاسی رشوت کے طور پر کی جاتی ہیں نتیجتاً سفارتخانے عیاشی کے اڈے کے طور پر تو استعمال ہوتے ہیں پاکستان کی نمائندگی کیلئے نہیں ) ۔۔۔۔
    ملکی صنعت کی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے خام مال کی فراہمی کو نہایت آسان اور سہل بنایا جائے ضرورت پڑنے پر حکومت ان اشیاء پر سبسڈی بھی فراہم کرے تاکہ صنعتکار کی دلچسپی بڑھائی جائے سکے پاکستان میں کارخانے لگانے والے ہر بیرونی سرمایہ کار کو ضروری سہولیات فوری اور آسانی کے ساتھ فراہم کرنے کے ساتھ انہیں پابند کیا جائے کہ وہ ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر کریں گے ٹیکنالوجی کے حصول کے بغیر اغیار کی محتاجی کا خاتمہ ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔۔

    جان لیجئے حکومتیں عوامی تعاون کے بغیر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی اس لیے عوامی سطح پر شعور کی بیداری کی مہم چلانا ضروری ہے ہر دکان ہر مارکیٹ میں میڈ ان پاکستان اشیاء کو نمایاں کرکے رکھنا ضروری ہے عوام کو سمجھانا ضروری ہے کہ آپ کے شوق کی تکمیل یا چند روپوں کی بچت ملک و قوم کی بہت بڑی تباہی کا سبب ہے اس لئے میڈ ان پاکستان اشیاء کا انتخاب کیجئے تاکہ ہم غیرملکی قرضہ جات سے نجات حاصل کرکے غیروں کے تسلط سے حقیقی آزادی حاصل کرسکیں ۔۔۔۔
    ململ شعور کے ساتھ ہم یہ سمجھتے ہیں تمام کاموں سے پہلے یہ کام ضروری ہے پورا زور لگا کر اپنی عوام کو میڈ ان پاکستان پر لانا چاہئے پاکستان کیلئے پاکستانیوں کیلئے اپنے لئے اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے ضروری ہے پاکستانی میڈ ان پاکستان اشیاء کا استعمال کریں ۔۔۔۔
    اس مقصد کے حصول کیلئے نصاب تعلیم میں باقاعدہ مضامین شامل کئے جائیں جن میں طلبہ کو اس مسئلہ کی حساسیت سمجھائی جاسکے اور وہ عملی میدان میں اترنے کے بعد خود غرضی کا شکار ہوکر غیروں کے آلۂ کار بننے کے بجائے محب وطن اور مفید شہری بن سکیں ۔۔۔۔
    علماء اور مساجد کے خطیب حضرات اس مسئلہ میں بہت زیادہ معاونت کرسکتے ہیں ان کی باقاعدہ ورکشاپس کروائی جائیں تاکہ وہ میڈ ان پاکستان کو ایک قومی و ملی مسئلہ سمجھ کر اپنے متعلقین کو قائل کرسکیں ۔۔۔۔
    میڈیا ( پرنٹ الیکٹرانک سوشل ) کو عوامی شعور کی بیداری کیلئے بھرپور طور پر استعمال کیا جائے تاکہ عام پاکستانی جان سکے کہ اس کا حقیقی نفع نقصان کہاں پر ہے ۔۔۔۔۔

    امید ہے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہوکر لکھی گئی اس تحریر کو آپ تحریک بنا کر آگے چلائیں گے پاکستان اللہ کا انعام ہے اس انعام کی قدر اسی طرح ممکن ہے کہ اسے ہر طرح سے غیر ملکی تسلط سے آزاد کروایا جائے

    پاکستان زندہ باد
    پاکستانی قوم پائندہ باد

  • یوم تکبیر، یومِ عید ۔۔۔ عبدالحمید صادق

    یوم تکبیر، یومِ عید ۔۔۔ عبدالحمید صادق

    28 مئی  یوم تکبیر ہماری شان ، عظمت، وقار اور قومی تاریخ کا اہم ترین دن ہے.
    مسلم امہ کی تاریخ کا یہ وہ یادگار دن ہے کہ جب پاکستان نے عالم کفر کا غرور خاک میں ملاتے ہوئے یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کر دنیا کو اسبات کا پیغام دیا کہ ہم سوئے نہیں بلکہ اپنے دفاع کے لئے زندہ و بیدار گھڑے ہیں.
    ایٹمی دھماکے ہونے کی دیر تھی کہ پاکستان کے گلی کوچے "نعرہ تکبیر اللہ اکبر” کی صداؤں سے گونج رہے تھے.

    اس ملک کی سرحد کو کوئی چھو نہیں سکتا

    جس ملک کی سرحد کی نگہبان ہیں آنکھیں

    بھارت نے ہمیشہ کی طرح اپنے آپ کو خطے کا ٹھیکیدار سمجھتے ہوئے 11 مئی 1998 کو راجستھان کے صحرا پوکھران میں 5 ایٹمی دھماکے کر کے خطے امن کو داؤ پرلگا دیا.
    امریکہ سمیت دیگر ممالک کی جانب سے پاکستان پر زبردست پریشر ڈالا گیا کہ پاکستان ایٹمی دھماکے نہ کرے، اس دوران دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ شاید پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا سامان موجود نہیں اس لیے بھارت کو کوئی کوئی جواب نہیں دیا گیا. حتیٰ کہ اس وقت کے بھارتی وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی نے پاکستان کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ بات کہی کہ ” پاکستان کی کھوکھلی دھمکیاں دنیا کے سامنے آ چکی ہیں، پاکستان کے پاس نہ ایٹم بم موجود ہے اور نہ ہی یہ دھماکے کر سکتا ہے” دوسری جانب پاکستان کی سیاسی قیادت بھی زبردست عالمی پریشر میں تھی کہ اگر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر دیئے تو امریکہ سمیت دنیا بھر کی جانب سے پابندیاں لگا دی جائیں گی.
    عالم کفر کی پابندیوں، دھمکیوں، سازشوں اور لالچ کو پس پشت ڈالتے ہوئے افواج پاکستان نے 28 مئی 1998 کو دن 3 بج کر 16 منٹ پر بلوچستان کے ضلع چاغی کے سیاہ و سنگلاخ پہاڑوں میں 5 زبردست ایٹمی دھماکے کر کے اسلام و پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا.
    قوموں کی تاریخ میں ایسے یادگار لمحات ضرور آتے ہیں کہ جب کوئی ایک درست فیصلہ بھی بروقت کر دیا جائے تو اس قوم کی تقدیر بدل جاتی ہے. ایسا ہی کچھ ییادگار وقت پاکستان کی تاریخ میں 28 مئی 1998 کا آیا تھا جب پاکستان نے بروقت جرات مندانہ فیصلہ کر کے ایک ایسا معجزہ کر دکھایا کہ دنیا کو حیران و ششدر کر کے رکھ دیا.
    یہی وہ یادگار وقت تھا کہ جب پاکستان کے دشمنوں میں صفماتم بچھی ہوئی تھی اور دنیا بھر کے مسلمانوں میں مٹھایاں تقسیم کی جا رہی تھیں.
    ادھر امریکہ کی جانب سے پاکستان پر پابندی لگا دی گئی تھی اور ادھر سعودی عرب نے کسی کی پرواہ کیے بغیر پاکستان کو انعام کے طور پر 50 ہزار بیرل مفت تیل دینے کا اعلان کر دیا.
    ایک طرف تو امریکہ، بھارت سمیت دنیا بھر کے کافروں پر سکتہ طاری تھا اور دوسری جانب فلسطین، شام، سعودی عرب، مصر، شام اور ترکی سمیت تمام مسلم مالک میں مرد، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے دلوں میں عید کی سی خوشی تھی اور اس بات پر مٹھایاں بانٹے پھر رہے تھے کہ آج ہم (مسلمان) ایٹمی پاور بن چکے ہیں.
    یہی وہ لمحات تھے کہ جب پاکستان مسلم دنیا کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہونے کا درجہ حاصل کر چکا تھا.
    پاکستان کے ایٹم بم کو دنیا اسلامی بم کے ان سے جانتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی مسلم اُمّہ کہ امیدوں کا محور و مرکز ہے.
    ہمارے دشمن کو کسی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ پاکستان ایک تر نوالہ ہے جسے جب چاہیں ہضم کر جائیں، عوام پاکستان جذبہ ایمانی سے سرشار اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور یہ پیغام دے رہے ہیں کہ

    بتا دواہل باطل کو کہ حق کا نام زندہ ہے
    ابھی وہ دین قائم ہے، ابھی اسلام زندہ ہے

    28 مئی کے اس عظیم کارنامے کا کریڈٹ افواج پاکستان، ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر ثمر مبارک اور ان کے سینکڑوں شاگرد سائنسدانوں کو جاتا ہے کہ جنہوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر وطن کا دفاع مضبوط کیا.