Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر… بقلم:جویریہ بتول

    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر… بقلم:جویریہ بتول

    سارے حساب…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
    جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر …
    دلوں میں اُٹھتے ہیں جو سب خیالات…
    ہیں تلاش کرتے ہیں جو اُن کی تعبیر…
    عملِ صالح کی ہر اک اَدا…
    اور ریا کاری کے انداز حقیر…
    مخلصی کے رنگ کی وسعتیں…
    اور جو ہوتے ہیں ظاہریت کے سفیر…
    اس کی یاد سے دھڑکتے ہوں دل…
    یا پھر غفلتوں کے ہوں مارے خمیر…
    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
    جزا کے ضیاع کا ہے نہیں کوئی ڈر…
    سزا سے ہو سکے گا کیسے مفر…؟
    اک یومِ حساب ہے اور وہ محتسب…
    پھر جنت کے سکوں ہوں یا عذابِ سعیر…؟
    وہ رکھتا ہے سارے حساب خبیر…
    جو ظاہر ہیں ہم اور جو ہیں درِ پردہ…!!!
    اک ایک پَل کے عمل ہیں جو کردہ…
    لکھتے ہیں ساتھ ساتھ کِرامًا کاتبین…
    واں ہوں گے جواب دہ کھڑے غریب و امیر…
    آؤ کہ کریں نیتوں کے ہم سیدھے رُخ…
    زندگی کے ایام میں نہ دیں کسی کو دُکھ…
    رب کی رضا کو کریں اپنا ایماں…
    وقت ہے بہت کم،جمع کر لیں ساماں…
    سفر ہے طویل اور یہ زندگی ہے قلیل…
    رہیں حق کے ہی داعی اور حق کے مشیر…
    آتے ہوئے ہر خیال سے، قدم نہ ڈگمگائے یہ…
    اُٹھے سدا وہ قدم،کہ مطمئن رہے پھر اپنا ضمیر…
    میرا رب ہے وہ محتسب و بصیر…
    جو رکھتا ہے سارے حساب خبیر…!!!!!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • آسمانِ علم کے ستارے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    آسمانِ علم کے ستارے…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    آسمانِ علم کے یہ ستارے…
    کیوں ڈوب رہے ہیں سارے…
    شیوخ کی برکتوں سے خالی…
    کیوں ہو رہے ہیں دامن ہمارے…؟
    اس امت کو ہے بہت ضرورت…
    ابھی تو پھرتے ہیں مارے مارے…
    میری قوم کے نوجواں کو…
    اور بھٹکے ہوئے ہر انساں کو…
    ابھی دینا ہے شعور روشنیوں کا…
    درس انسانیت سے محبتوں کا…
    محبتوں اور روشنیوں کے پیامبر…
    جا رہے ہیں اک ایک کر کے پیارے…
    جہل کے پھیلنےاورعلم کے اُٹھنے کے…
    بہہ رہے ہیں اندر ہی اندر درد کے دھارے…
    انبیاء کے وارثوں کی خدارا قدر کریں ہم…
    علم کے موتی اپنے دامن میں بھریں ہم…
    اس روشنی سےسینے روشن اپنے کریں ہم…
    کہیں کھو نہ جائیں ہم سے وقت کے اشارے…
    علم کی مجلسوں میں پیدا جو ہوئے خلاء…
    بھر دے وہ رحمتوں سے اے ہمارے الٰہ…
    علم کی راہوں کے سفر پہ چلیں ہم…
    شعور اور عمل کے ماہتاب بنیں ہم…
    لحدیں ہوں پُر نور سب کی…
    وہ جو روشنیاں پھیلا گئے…
    توحید اور رسالت کے مفہوم…
    دین،دنیا کے لیئے سمجھا گئے…
    کھُلیں رحمت و مغفرت کے باب…
    سب کا ٹھکانہ ہو خلدِ بریں…
    محشر کے میداں میں ملے…
    سب کو سایۂ عرشِ بریں…!!!
    ==============================

  • دن منانا جاری و ساری ہے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دن منانا جاری و ساری ہے…!!! بقلم:جویریہ بتول

    دن منانا جاری و ساری ہے…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    واں خون کی ہولی جاری ہے…
    اور سو رہی دنیا ساری ہے…
    زباں بھی گنگ ہے سب کی…
    اور سماعت پہ پردہ بھاری ہے…
    واں جوانیوں کی قربانی ہے…
    اور آزادی جاں سے پیاری ہے…
    اسی نعرے کی گونج ہے واں…
    جو عدو پہ ضرب بہت کاری ہے…
    واں سلسلہ ٹوٹا،تھما نہیں ہے…
    صف بہ صف رزم سے یاری ہے…
    واں نہتوں پہ لاکھوں کا پہرا…
    عقل کی یوں مت ماری ہے…!!!
    یوں حقوق کی گونج تو ہے ہر سُو…
    مگر وہاں سننے سے دنیا عاری ہے…
    واں انسانوں کے چہرے چھلنی ہیں…
    اور انسانیت وہاں بے چاری ہے…
    عورتیں اور بچے سہمے ہوئے ہیں…
    اور دن منانا جاری و ساری ہے…
    واں دیپ آزادی کا تو ہے جل رہا…
    اور اسی خوشی سے سرشاری ہے…
    واں ماؤں کے لعل کٹ رہے ہیں…
    اور جنگ آزادی کی جاری ہے…!!!
    ===============================

  • کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے   از:منہال زاہد سخیٓ

    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے از:منہال زاہد سخیٓ

    شاعری:منہال زاہد سخیٓ

    وہ صبح صبح اٹھ کے جو ہمیشہ ٹھنڈ میں جاتا ہے۔
    نہ اپنا خیال نہ کسی کی سوچ بچوں کیلئے کماتا ہے۔

    دن بھر تھک کر بھی اپنے لئے لیتا نہیں کچھ
    تھکا ماندا گھر پھر بھی خالی ہاتھ نہیں آتا ہے ۔

    پسینے میں شرابور تھکی ٹانگوں کے ساتھ آ لیٹتا ہے۔
    کہیں تھک نہ جائیں بچے وہ ٹانگیں نہیں دبواتا ہے ۔

    کھانے میں چوری چوری کچھ لقمے کھاتا ہے۔
    بچوں کو کھاتا دیکھ اس کا پیٹ بھر جاتا ہے۔

    راتوں کو اٹھ کر دیکھتا ہے کمبل کہیں اتر جائے تو ۔
    تکیے بچوں کو دے کر بن سرہانے سوجاتا ہے۔

    کسی بیماری کا تذکرہ نہیں کرتا بچوں سے
    بچوں کی خاطر ہمیشہ سب آنسو پی جاتا ہے ۔

    بچہ جو سمجھنے آجائے اسکول کا کچھ
    ایک جمع دو کر کے ریاضی بھی سکھاتا ہے ۔

    کہیں میں مر جاؤں تو کون پالے گا ان کو
    بچوں کے بارے میں سوچ کر بہت گھبراتا ہے

    ہمیشہ لمبا سایہ رکھ ہمارے سر پر باپ کا
    کچھ دعائیں مانگ لیں تو ہمارا کیا جاتا ہے-

  • تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے  از : منہال زاہد سخی

    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے از : منہال زاہد سخی

    شاعر : منہال زاہد سخی

    ⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁩⁦❤️⁩(ماں)⁦⁦❤️⁩⁦❤️⁩⁦❤️⁩

    ہمیشہ انتظار میں دروازے کی چوکھٹ پہ رہتی ہے
    میرے خیال میں اپنے خیال سے بھی ہٹ کے رہتی ہے

    چہرے پر وہ جھوٹی مسکراہٹ سجائے رکھتی ہے
    حقیقت میں وہ اندر ہی اندر سے بٹ کے رہتی ہے

    اُس رات ایک چیخ کیا پڑ گئی اُس کے کانوں میں
    اِس رات بھی سُلاتے ہوئے لوری رٹ کے رہتی ہے

    بیٹے کی آئے دن محلہ سے آتی ہیں شکایتیں
    میرا بیٹا نہیں کر سکتا یوں وہ ڈٹ کے رہتی ہے

    کچھ لمحات ہی اضافی گزر جائیں اس کے بن
    ماں تو اپنے سے بھی ناطہ کٹ کے رہتی ہے

    پانچ وقت اس کی آنکھیں نم دیکھتا ہوں سخی
    تیری خاطر ہی وہ سجدوں سے لپٹ کے رہتی ہے

    #SAKHI

  • مسلمان بیٹی کی پہچان …!!!  بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان بیٹی کی پہچان …!!! بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان بیٹی…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    ہے مسلمہ بیٹی۔۔۔۔
    کی پہچان۔۔۔۔
    حنیفہ و ضو افشاں
    تعلیمِ اسلام ہے۔۔۔
    جس کی شان۔۔۔۔
    چراغِ رہ ہیں۔۔۔
    نبی کے فرمان۔۔۔۔
    حیا ہوتی ہے۔۔۔۔
    جس کی چادر۔۔۔۔
    حجاب بنتا اپنا ایمان۔۔۔۔
    باپ کی وہ چشمِ نور
    شوہر کی آنکھ۔۔۔
    کا سرور۔۔۔۔۔
    کردار اُس کا۔۔۔
    ہوتا ہے ازکیٰ۔۔۔۔
    چال رہتی ہے۔۔۔
    جس کی ذکریٰ۔۔۔۔
    آزمائش کی ۔۔۔۔
    گھڑی میں بھی۔۔۔
    آسودگی و۔۔۔
    خوشی میں بھی۔۔۔
    رب کی یاد میں۔۔۔
    رطب اللسان۔۔۔۔
    صوم و صلوۃ کی
    روشنی سے۔۔۔
    صدقہ و خیرات کی
    چاشنی سے۔۔۔۔
    ڈھونڈتی ہے وہ
    اپنی امان۔۔۔۔
    فحاشی کی سب
    راہوں سے۔۔۔۔
    بے حیائی کی
    آماجگاہوں سے۔۔۔
    خود کو بچاتی ہے
    سدا۔۔۔
    حیا کے حسنِ لازوال۔۔۔۔
    سے وہ خود کو۔۔۔
    بناتی ہے با وفا۔۔۔
    ظلمت کی لہریں جب
    سفیدی پر آ لگتی ہیں
    میلاہٹ سی آ جاتی ہے۔۔۔؟
    اکتاہٹ سی ستاتی ہے
    اوصاف کو۔۔۔۔
    دھندلاتی ہے۔۔۔؟؟؟
    ان سب سے۔۔۔۔
    بچ بچا کر وہ۔۔۔۔
    حسن اپنا بڑھاتی ہے۔۔۔ !!!
    بن کر جو رہ کی شمع…
    اوروں کو رستہ دکھاتی ہے…
    نہیں ہوتی ظلمتوں کی پیامبر…
    نہ اوروں کو بھٹکاتی ہے…
    اسلام کی ایسی بیٹی۔۔۔
    ہی آگے۔۔۔۔
    جب بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔ !!!
    اور ماں جب یہ کہلاتی ہے۔۔۔
    اس کی باوفا گود میں…
    پھر ہیرے ایسے پلتے ہیں۔۔۔
    کردار ایسےکھِلتے ہیں۔۔۔۔
    کہ جن کے عمل کی
    روشنی میں۔۔۔۔
    اک دنیا سنورتی ہے۔۔۔
    رنگ رفعت کا بھرتی ہے۔۔۔
    ایسی ہی مسلمہ ۔۔۔۔
    بیٹی پر۔۔۔۔
    زمانہ ناز کرتا ہے۔۔۔۔
    خود کو اک جہاں۔۔۔
    اس کے ہم انداز۔۔۔
    کرتا ہے۔۔۔ !!!!!
    ایسی ہی بیٹیاں۔۔۔
    بہت نادر ہوتی ہیں۔۔۔
    بہت نایاب ہوتی ہیں۔۔۔
    قوموں کی وہ آبرو۔۔۔۔
    عزت مآب ہوتی ہیں۔۔۔ !!!
    یہی ہوتی ہیں تابندہ۔۔۔
    یہی تاباں ہوتی ہیں۔۔۔۔
    یہی ہوتی ہیں تاجور۔۔۔۔
    یہی دُر افشاں ہوتی ہیں۔۔۔۔ !!!!!
    =========================

  • رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!! بقلم:جویریہ بتول

    رمضان کے بعد…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    رمضان کے بعد اب اے بندۂ مسلماں…
    کہیں کھو نہ جائے تجھ سے فلاح کا ساماں…
    غفلتوں کے سائے تُجھے لپیٹ میں نہ لیں…
    نیکیوں کے دل میں ہی رہ نہ جائیں ارماں…
    آنکھوں اور کانوں کی حفاظت بھی ہے لازم…
    دل و زباں پہ بھی رہیں عمدہ پیماں…
    جھوٹ و برائی سے کر لیں سدا کی آڑ…
    تقویٰ کے حجرے کو کر لیں اپنا ایماں…
    نفرتوں کے عداوتوں کے کاٹنے نہ اُبھرنے پائیں…
    محبّت و وفا کے پھولوں کی رہے ہر سو مسکان…
    عبادات کے اوقات بھی کہیں چھوٹنے نہ پائیں…
    سجدہ و دعاؤں کے مہکتے رہیں گُلستاں…
    دل کی دنیا کے اندر بہاروں کا رہے ڈیرہ…
    باہر کی دنیا پہ چاہے بیت جائے خزاں…
    صبر و شکر کی تربیت جو رمضان کر گیا ہے…
    اسی رنگ میں گزریں یہ جو سانسیں ہیں رواں…
    اس کی عطا و روک پہ دل یہ رہے مطمئن…
    کسی راہ،کسی موڑ پر رہیں ہم نہ شکوہ کناں…!!!
    =============================
    [جویریات ادبیات]
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • یہ دنیا_!!! بقلم:جویریہ بتول

    یہ دنیا_!!! بقلم:جویریہ بتول

    یہ دنیا_!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    کیا کریں کہ دنیا یہ ہر حال میں لا دوا ہے__؟
    بولو تو بھی جرح ،نہ بولو تو بھی خفا ہے__!!!
    گُل پاشی کے ہمراہ یاں سنگ بازی کی بھی بارش__
    دیکھتے ہیں ہم کہ اکثر وفا کا بدلہ جفا ہے__!!!
    رُک جاؤ تو آتی ہے دنیا ہمدردی کے بول لے کر__
    جو بڑھو ذرا تو قدموں میں یہی کڑی زنجیر نما ہے__
    کہتے ہوکیا، ملے تمہیں بدلہ اسی جہاں میں__؟
    کیسی ہے یہ بے خبری، کسے ملا صلہ ہے…؟
    جفا کی ہر اک ادا کو تبسم کا دے کر تحفہ__
    جانو کہ گھور شب کے بعد ہی سویرا ہے__!!!
    حقوق اللّٰہ کہ حقوق العباد،جب اُسی کی رضا کے واسطے…
    تو پھر کسی کی بےرُخی کا،کیسا کوئی گِلہ ہے…؟؟
    دنیا کے پیچ و خم سے اُلجھ کر رہنے والے__
    مانے گا اک دن، کہ اس کا تو یہی خاصہ ہے__!!!
    خامشی کی ردا اوڑھے،درگزر کا عصا تھامے__
    جو بڑھ رہا ہے آگے، سچ کہ وہ کتنا بھَلا ہے__!!!!!
    ==============================
    {جویریات ادبیات}
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • خود سے بھی مسکراؤ_!!! بقلم: جویریہ بتول

    خود سے بھی مسکراؤ_!!! بقلم: جویریہ بتول

    خود سے بھی مسکراؤ_!!!
    [بقلم: جویریہ بتول]۔
    کبھی الجھنوں سے نکل کر تم خود سے بھی مسکراؤ…
    کبھی دل پہ لگے زخموں کو خود مرہم لگاؤ…
    کیا ملے گا صرف رد عمل کے غم میں کھپ جانے سے…؟؟
    دور اندیشی و حواس سے ہر درد کو سہلاؤ…!!
    آتے ہر اک تیر کو تم قابو میں کر کے اپنے…
    اپنے صحیح وقت پر ترکش میں اُسے لوٹاؤ…!!!
    کبھی ردِّ عمل کے غم سے باہر بھی نکل کر…!!!
    اک حاوی مسکراہٹ سے تم چیخوں کو ہراؤ…!!!
    کبھی اپنے دل کے درد بھی خود سے بانٹ لو…
    کبھی دل کے سارے بوجھ تنہا بھی ہٹاؤ…
    اس زندگی کے سفر میں ہے ہوتی قدم قدم پہ رکاوٹ…
    کبھی رکاوٹوں سے ٹکرا کر رہ گزر تو بناؤ…
    سچ ہے کہ سفرِ زندگی تھکا دیتا ہے اکثر…
    مگر تم بھی خود کو خود ہی اُمید سے بہلاؤ…!!!
    ذرا سی رنجش و لغزش پر یہ دل نہ ملول ہو…
    مختصر سی زندگی میں تُم خود نہ اسے مرجھاؤ…!!!
    =============================
    {جویریات ادبیات}
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤