Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • ستمبر ،شاعر:  سمیرا اکرام

    ستمبر ،شاعر: سمیرا اکرام

    ستمبر آ کے چیختا ہے کہ ٹوٹ کر بکھرنا ہے
    گرے گا جو بھی آج یہاں کل اسی نے سنورنا ہے

    درد کی رات کالی ہے مگر امید کا دیا ہے
    اندھیرا جتنا گہرا ہو اجالا اتنا ہی قریب ہے

    شجر سے پتے گرتے ہیں تو جڑیں اور مضبوط ہوں
    زخم جو آج دل پر ہیں کل یہی تیرے فخر ہوں

    نہ رکنا ہے نہ جھکنا ہے اٹھو اور چل پڑو تم
    ستمبر کا یہ پیغام ہے کہ خود سے جیت لو تم

    گرا کے پھر اٹھنے والے ہی تاریخ لکھتے ہیں
    ستمبر سکھا رہا ہے کہ پتھر بھی تراشتے ہیں

  • عالمی ٹھیکیدار،شاعر : زبیر احمد

    عالمی ٹھیکیدار،شاعر : زبیر احمد

    تیرے پیروکار پہ لعنت
    شخصیت کردار پہ لعنت

    وطن کو بیچے تجھ سے کھا کر
    تجھ ایسے حب دار پہ لعنت

    مظلوموں کو خون بہا کر
    تجھ جیسے جرّار پہ لعنت

    راگ الاپے امن کا ھر دم
    تیرے ایسے پیار پہ لعنت

    میں ھوں مسلم امن کا داعی
    اور تیرے شرّار پہ لعنت

    زبیر احمد

  • غزل ،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

    غزل ،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

    نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
    کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا

    خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں
    مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا

    ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن
    کسی سے بھی طبیعت کا کوئی زینہ نہیں ملتا

    لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
    محبت میں کوئی اس سے بڑا درجہ نہیں ملتا

    بہت آواز دیتے ہیں اُسے اہلِ محبت بھی
    جِسے نفرت کے جنگل میں کوئی رستہ نہیں ملتا

    سبھی چہروں پہ ہیں پہرے، سبھی لہجوں پہ تالے ہیں
    کسی کے دل تلک جانے کا دروازہ نہیں ملتا

    زمانے بھر کی رونق بھی سبھی کچھ پاس ہے اپنے
    مِری آنکھوں کو پھر بھی چین کا لمحہ نہیں ملتا

    بہت سے لوگ ملتے ہیں، تعلق بھی نبھاتے ہیں
    مصیبت میں مگر اکثر کوئی اپنا نہیں ملتا

    ہر اِک منبر پہ بیٹھے ہیں یہاں حق بات کہنے کو
    بھرے بازار میں سچ کا کوئی چہرہ نہیں ملتا

    حکومت کے بڑے دعوے ہیں ہر اخبار کی زینت
    غریبوں کو ابھی تک اُن کا حق پورا نہیں ملتا

    بہت لکھتا ہے تُو جاویدؔ ! دل کی وارداتوں کو
    مگر ہر شخص کو یہ درد کا لہجہ نہیں ملتا

  • غزل،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر:جاویدؔ ڈینی ایل

    غزل،نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا ،شاعر:جاویدؔ ڈینی ایل

    غزل
    شاعر: جاویدؔ ڈینی ایل

    نہیں ملتی ہماری سوچ اور نکتہ نہیں ملتا
    کئی برسوں سے مل بیٹھے ، مگر لہجہ نہیں ملتا

    خلوصِ دل کی خوشبو تھی کبھی رشتوں کے گلشن میں
    مگر اِس دَور میں ایسا کوئی جذبہ نہیں ملتا

    ہزاروں لوگ ملتے ہیں سفر میں عمر بھر لیکن
    کسی سے بھی طبیعت کا کوئی زینہ نہیں ملتا

    لٹا دے جان بھی اپنی کسی محبوب کی خاطر
    محبت میں کوئی اس سے بڑا درجہ نہیں ملتا

    بہت آواز دیتے ہیں اُسے اہلِ محبت بھی
    جِسے نفرت کے جنگل میں کوئی رستہ نہیں ملتا

    سبھی چہروں پہ ہیں پہرے، سبھی لہجوں پہ تالے ہیں
    کسی کے دل تلک جانے کا دروازہ نہیں ملتا

    زمانے بھر کی رونق بھی سبھی کچھ پاس ہے اپنے
    مِری آنکھوں کو پھر بھی چین کا لمحہ نہیں ملتا

    بہت سے لوگ ملتے ہیں، تعلق بھی نبھاتے ہیں
    مصیبت میں مگر اکثر کوئی اپنا نہیں ملتا

    ہر اِک منبر پہ بیٹھے ہیں یہاں حق بات کہنے کو
    بھرے بازار میں سچ کا کوئی چہرہ نہیں ملتا

    حکومت کے بڑے دعوے ہیں ہر اخبار کی زینت
    غریبوں کو ابھی تک اُن کا حق پورا نہیں ملتا

    بہت لکھتا ہے تُو جاویدؔ ! دل کی وارداتوں کو
    مگر ہر شخص کو یہ درد کا لہجہ نہیں ملتا

  • ہدیہ بحضور بانیِ پاکستان محمد علی جناح،شاعر:صفدر بھٹی

    ہدیہ بحضور بانیِ پاکستان محمد علی جناح،شاعر:صفدر بھٹی

    دبلا سا آسرا تھا محمد علی جناح
    پر کام وہ کیے تھا محمد علی جناح

    زندہ رہے گا نام ترا جب تلک جہان
    اس شان سے جیا تھا محمد علی جناح

    بندہ تھا صاف گو وہ نڈر اور با اصول
    مقبول ہو گیا تھا محمد علی جناح

    باندھا تھا جس نے رختِ سفر قوم کے لیے
    بے مثل رہ نما تھا محمد علی جناح

    اغیار کے شکنجوں کو توڑا بہ زورِ عقل
    ہم کو وطن دیا تھا محمد علی جناح

    جتنے عدو تھے پیار سے سب رام کر لیے
    کب زور آزما تھا محمد علی جناح

    تعمیل چاہیے کہ کریں اس کے حکم کی
    ارشاد جو کیا تھا محمد علی جناح

    افسوس بے حسی سے دروغوں کی مر گیا
    جو شخص با صفا تھا محمد علی جناح

    باتیں بناتے پھرتے ہیں اب بھی چہار لوگ
    یہ شخص دوغلا تھا محمد علی جناح

    عالم مگر سمجتا ہے سب صدق اور دروغ
    آئینے سا صفا تھا محمد علی جناح

    مغفور رحمتوں میں رکھے تجھ کو اے حبیب
    مالک کا مدعا تھا محمد علی جناح

    صفدر بہ گلستانِ جناں راحتیں ملیں
    سب کا وہ دلربا تھا محمد علی جناح

  • نظم ، ثروت کی تلاش ،شاعر : عرفان خانی

    نظم ، ثروت کی تلاش ،شاعر : عرفان خانی

    ساکت لمحوں میں ہلچل
    ہوا کے تماچوں کا شور مسلسل کسی دہلیز کے سامنے سے دبے پاؤں گزر جاتا ہے
    یہ جانتے ہوئے بھی کہ
    اس دہلیز پر کبھی نہیں ابھی بھی کسی کے لمس کی خوشبو کے نشان باقی ہیں
    عشق کے امتحان باقی ہیں
    وہ ثروت بھری مسکراہٹ
    ثروت کی تھی
    ثروت کی ہی ہے
    مگر ثروت کو یہ معلوم نہیں
    کہ اب اس کی یہ مسکراہٹ
    چار دیواروں میں بھٹکتی پھرتی ہے اور اس چار دیواری میں مقید راز ثروت
    کی تلاش میں نجانے کتنی روحیں جھلملاتی پھرتی ہیں دل کے ویران آنگن میں
    نئے پھول کھلاتی پھرتی ہیں
    مگر ان نئے پھولوں کی خوشبو ثروت کے جیسی نہیں ہے نئی صبحوں کی روشنی بھی ثروت جیسی نہیں ہے اور شام تو بلکل ثروت جیسی نہیں ہے
    شام تو ٹھہر ہی جاتی ہے
    ثروت کے چھوڑے ہوئے آنگن میں مگر کب تک یہ شام ٹھرے گی کیوں ٹھرے گی
    کب ٹھہرے گی کیسے ٹھرے گی تم ہی بتاؤ ثروت جب
    ثروت جیسے لمحات ہی نہ ہوں تو
    صبح
    دن
    شام
    رات
    ساون
    کیسے ثروت کے لمحات لے کر آئیں گے
    ویرانے میں مسکرائیں گے
    ویرانہ ویرانہ ہے خانی
    ثروت ملتی نہیں ہر کسی کو
    جو ملی تو بچھڑ گئی
    بچھڑی ہوئی ثروتوں کی
    تلاش میں زیست بیتانی ہے
    بس یہ ثروت کی کہانی ہے

  • وہ عشق ہی کیا جو وقت سے ہار جائے،شاعر:شمسہ رانی

    وہ عشق ہی کیا جو وقت سے ہار جائے،شاعر:شمسہ رانی

    وہ عشق ہی کیا جو وقت سے ہار جائے

    محبت کبھی فنا نہیں ہوتی
    یہ دل کی راکھ میں دبی چنگاری ہے
    جو بجھتی نہیں، سلگتی رہتی ہے

    ہر سانس میں کہیں اتری ہوئی ہے
    کوئی یاد جب کسی لمحے میں صدا دیتی ہے
    تو یہ خاموشی میں بھی چیخ اٹھتی ہے

    وہ لمحے جو گزر گئے صدیوں پہلے
    آج بھی سینے میں کانٹوں کی طرح چبھتے ہیں
    برسوں کے فاصلے بھی اسے مٹا نہیں سکتے
    یہ آنکھ کی نمی میں کہیں زندہ رہتی ہے

    رات کے اندھیرے میں جب نیند نہیں آتی
    تو یہی یادیں چراغ بن کر جلتی ہیں
    کچھ رشتے وقت کے ساتھ فنا نہیں ہوتے
    وہ روح بن کر دلوں میں بسے رہتے ہیں

    جن سے ملنا نصیب نہ ہو دوبارہ
    ان کی خوشبو ہوا میں رچی بسی رہتی ہے
    وہ عشق ہی کیا جو وقت سے ہار جائے
    یہ وہ آگ ہے جو بجھتی نہیں، راکھ میں بھی جلتی ہے

    جو کہنا چاہا، کہہ نہ سکے کبھی
    وہ باتیں دل کی دیواروں پر بھی لکھی رہتی ہیں
    شمسہ، کچھ لوگ بچھڑ کر بھی بچھڑتے نہیں
    انہی کا خیال عمر بھر ساتھ نبھاتا ہے

    جو چلے گئے، وہ جاتے جاتے بھی نہ گئے
    ہر دھڑکن میں ان کا نام گونجتا رہتا ہے

  • اک ہم تھے مگر تان کے جذبات کھڑے تھے،شاعر:صفدر بھٹی

    اک ہم تھے مگر تان کے جذبات کھڑے تھے،شاعر:صفدر بھٹی

    دنیا کے خرابے میں مَیں افلاس کو لے کر
    بیٹھا ہوں بڑی دیر سے اک آس کو لے کر

    سینے میں جو پیوندِ گنہ گاری لگا ہے
    کچھ کیجے مداوا بھی اسی یاس کو لے کر

    جب حبس بڑھی شہرِ ستم گار میں یارو
    سب چل دیے احباب تو انفاس کو لے گر

    اک ہم تھے مگر تان کے جذبات کھڑے تھے
    بے حسی کے سیلاب میں احساس کو لے کر

    کہتی تھی بہو لکھوں گی مظلوم کہانی
    شوہر کو سسر اور مری ساس کو لے کر

    اور ساس کہ دیتی تھی دہائی مرے مالک
    ہم لوگ تو غارت ہوے خنّاس کو لے کر

    صفدر نہ رہے بیلے نہ لسی ہے نہ چُوری
    اب ہیر بھی آئے گی تو تھرماس کو لے کر

    صفدر بھٹی

  • غزل ،جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے ،شاعر :عرفان خانی

    غزل ،جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے ،شاعر :عرفان خانی

    جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے
    دیوار کہاں ورنہ کوئی قد سے بڑی ہے

    تیرے ہی لئے سر پہ بٹھایا ہے وگرنہ
    دنیا تو کبھی کی مرے قدموں میں پڑی ہے

    لگتا ہے کسی روز دھماکے سے گرے گی
    دیوار جو تنکے کے سہارے پہ کھڑی ہے

    یونہی تو نہیں میرے چراغوں میں اجالا
    اک روشنی سی دل کے فواروں سے جھڑی ہے

    خانی یہ کہاں دیکھنے دیتی ہے کسی کو
    جو گرد کسی آنکھ کے شیشے پہ پڑی ہے

  • وہ معصوم تھی ، از قلم : عَائِشَہ گُل

    وہ معصوم تھی ، از قلم : عَائِشَہ گُل

    وہ معصوم تھی
    روند دی گئی
    اس کی فریاد سنی نہ گئی

    بارہا پکارتی رہی
    مدد کو
    لیکن اس کی آواز دبا دی گئی

    درندوں کی بھیڑ میں
    وہ اکیلی ہوئی قید
    پھر وہ شکار ہونے لگی

    بارہا چیخی بچا لو
    لیکن انسانیت تک آواز نا گئی

    وہ لڑکھڑاتی تھی
    گرتی تھی
    سنبھلتی تھی
    لیکن اپنی جان بچا نا سکی۔

    خاک آلود پیشانی لیے
    آسمان کی طرف
    نظر اٹھاتی تھی

    وحشت بھری نظروں سے
    اک موت اس پر طاری ہوئی
    بقیہ جو سانسیں بچی تھیں
    وہ درندگی کی نذر کر دی گئیں

    بند ہوتی آنکھوں سے
    دل سے فریاد کرنے لگی
    اے ربِ کعبہ کیا
    اسی لیے میں بچائی گئی”

    "دورِ نبی میں تھی جو جہالت
    وہ پھر سے ظاہر ہونے لگی

    زندہ بچانے والی بچیاں قبروں
    میں سلائی جانے لگی

    وہ معصوم تھی
    روند دی گئی
    پکارتے پکارتے
    وہ مر ہی گئی

    اس پر رحم نہ کیا گیا
    اس کی بات
    نظر انداز کر دی گئی

    آج "ایزل”
    مٹی کے نیچے ہے
    آج "آیتِ نور”
    خاموش ہے

    اس کی فریاد
    ادھوری رہ گئی

    مگر ایک دن آئے گا
    ضرور آئے گا
    جب سوال ہو گا
    "بتاؤ
    کس گناہ کی پاداش میں
    معصومیت روندھی گئی

    بنت حوا بے مول ہو گئی
    عمر کی قید اب کہاں رہی
    اس آباد دنیا میں
    وہ اکیلی خوفزدہ جینے لگی

    وہ معصوم تھی
    کچل دی گئی
    مسل دی گئی
    اور اس کی سسکی
    سنی نہ گئی۔

    وہ معصوم تھی
    اس کی فریاد سنی نا گئی
    وہ روند دی گئی
    وہ معصوم کلی تھی
    جو کھلنے سے پہلے
    مسل دی گئی۔