Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • شاعری تحریر: محمد حماد

    جب ایک دن میں نے کالم لکھنے کے بارے میں سوچا   کہ چلو آج کچھ طبع آزمائی اس میدان میں بھی  ہو تو ذہن لاشعوری  طور پر اس تحریر کی طرف منتقل ہو ا جو میں نے ایک کتاب سے متاثر ہوکر ” اللہ نورُ السمٰواتِ والارض” کے عنوان سے لکھاجو یونی ورسٹی کے لائبریری کے ایک کتاب "خدا موجود ہے سائنسدانوں کی نظر میں”کے مطالعے کے بعد لکھا۔ لیکن اس تحریر نے مجھے اس مخمصے میں ڈال دیا کہ آج تک میں یہ نہیں جان پایا کہ وہ تحریر تبصرہ تھا ، تجزیہ تھا  یا پھر کالم ۔۔۔؟ لیکن خیر آج شاعری پر لکھنا چاہتا ہوں اور بہت گہرائی میں جانا چاہتا ہو اس یقین کہ ساتھ کہ  میرا  عقل  اس متنوع موضوع  کا متحمل کبھی  بھی نہیں ہوسکتا  کیوں کہ صرف موضوع کے بارے   میں سوچ کر ہی احساسات  میں تغیر پیدا ہونا شروع ہوا  ۔ہوسکتا میرا اس کیفیت کی وجہ شایدمیرا شاعری سے جنون کی حد تک لگاؤ کا ہونا  یا پھر اُردو ادب کی طالب کی حیثیت سے میں  شاعری کے ساتھ ایک  ان جانا  ساتھ اور رشتہ محسوس کرتا ہوں۔ قبل اس کے کہ شاعری اور احساسات کا ذکر طول پکڑ لیں  روئے  سخن شاعری کی طرف ہونا چاہئے اگرچہ  شاعری پر لکھا گیا ہے ، لکھا جاتا رہا ہے اور لکھا جائے گا کیوں کہ یہ وہ لفظی احساس ہے  جو ہر دور کے انسانوں کی جذبات کی ترجمان  رہی  ہے ۔ باوجود اس کے  کہ یہ   کہ زمان ومکاں کے حدود و قیود سے آزاد ہے  یہ معلوم نہیں کہ اس کی ابتدا تاریخِ انسانی میں کب کیسے  اور کیونکر ہوئی؟ لیکن جہاں تک اس ناچیز کی  ذہن کا خیال ہے  یہ خدائی ودیعت  تخلیقِ انسانی کے ساتھ  دنیائے فانی میں نازل کی گئی۔ تاریخ کے جھرکوں سے آنے والی  مدھم کرنوں کی روشنی میں یہ کہنا بجا ہے    کہ اس کا وجود ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا  اپنے تمام تر عروج  وزوال سمیت۔۔۔۔ عربی زبان کا کیا ہی خوبصورت قول ہے کہ:
            ” الشعرا    ُ تلامیذ الرحمٰن( شعرا رحمان ( اللہ)  کے شاگرد ہوتے ہیں۔)”
    اگر بات کی جائے شاعری کی تعریف کی  تو ایک بار پھر      یہ بات غیر واضح رہ جائے گی  لیکن جہاں تک عقل ناقص کی رسائی ہے وہاں یہ بات عیاں ہے  کہ ہر چیز کی تعریف کا احاطہ کرنا ممکن نہیں بعض چیزیں  اپنا تعارف خود ہوتی ہے جو خود کو اس قدر تفصیل سے منظر ِ عام پر لاتی ہے کہ اس کے لیےلغت کے صفحات الٹنے پلٹنے کی ضرورت نہیں پڑتی   با ایں ہمہ شاعری کی جو مختلف تعریفیں مختلف  زمانوں میں اس کے حسبِ حل کی گئی ہے سب میں یہ امر مشترک قرار پایا ہے  کہ یہ جذبات اور احساسات  اور ما فی الضمیر کے اظہار  کا وہ  بیان ہے جو  قافیہ اور ردیف کے پیرائے  میں کیا جاتا ہے ۔  یہ بات معقول بھی ہے لیکن میرے خیال میں شاعری کا خوب صورت   توضیحی تصور مارک انڈریو نے پیش کیا ہے ۔ لکھتے ہیں:
            ” شاعری غم کی بہن ہے ، ہر وہ انسان جو دکھ سہتا ہے  اور روتا
            ہےشاعر ہے ، ہر آنسوشعر ہے اور دل ایک نظم ہے۔”
          شاید بہت سوں کو اس با ت سے اختلاف ہو  کہ شاعری کی بہتر سے بہترین تعریفیں کی گئی ہیں، تو بھی وہ اپنے دعوے میں حق بجانب ہیں  لیکن وہ کیا ہے کہ ہر انسان کا اپنا  نکتہ نظر ہوتا  ہے جس کی روشنی میں اسے جو مناسب نظر آتا ہے  اسی کو درست خیا ل کرتا ہے لہذا  آپ کے نظر میں کوئی اور جامع تشریحی تعریف بھی ہوسکتی ہے۔
        اگر کبھی آپ کو بھی شاعری پر لکھنے کی جسارت ہوں تو  تو الفاظ کو اس خیال کے ساتھ احاطہ تحریر  میں لانا  کہ آپ شاعری کے بارے میں جو لکھ رہے ہیں  وہ سمندر کے سینے میں موجود سیپ کے بطن  کے اس پانی کی طرح ہے جس میں جمع قطرے کو نکال باہر کرنے سے سمندر کے پانی پر کچھ فرق نہیں پڑتا ۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شاعری پر ہر زبان میں جو ضحیم کتابیں لکھی گئیں ہیں وہ بھی  اس موضوع کے اصل روح کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
        شاعری صرف ایک فرد کی جذبات کی زیروبم کا نام نہیں  بلکہ اس میں فرد کے ساتھ معاشرہ ، سماج ، روایات ، تاریخ ، فلسفہ ، حالات کے دھارے اور تقاضے ، حدود وقیود کی پابندیاں، زندگی کی نیرنگیاں    اور امید و نا امیدی کے جلتے بجھتے چراغ بہ یک وقت نظر آتے ہیں گویا شاعری تخیل کے بارش کے بعد کا وہ  ست رنگہ دھنک ہے  جس کی ہر رنگ کا اپنا خاص مزہ ہے۔ آخر میں نیئر نسعود کی  دل کو لگنے والی بات یاد آگئی کہ
                    ” شاعری دنیا کی مادری زبان ہے”

  • پانچ صحبتیں تحریر: عقیلہ رضا

    امام ابو جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
    پانچ لوگوں کی صحبت سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
    1۔جھوٹے سے کیونکہ اس کی صحبت فریب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
    2۔بے وقوف سے کیونکہ جس قدر وہ تمھاری منفعت چاہے گا اسی قدر نقصان پہنچے گا۔
    3۔کنجوس سے کیونکہ اس کی صحبت سے بہترین وقت راٸیگاں جاتا ہے۔
    4۔بزدل سے کیونکہ یہ وقت پڑنے پر ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔
    5۔فاسق سے کیونکہ ایک نوالے کی طمع میں کنارہ کش ہو کر مصیبت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
    امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کی بیان کردہ پانچ صحبتیں حقیقتاً بہت نقصان دہ ہے۔
    پہلی صحبت جھوٹ بولنے والے کی!
    جو شخص جھوٹ بولنے کاعادی ہوگا وہ اپنے ساتھ جڑے ہر شخص کو دھوکہ میں مبتلا کرے گاکیونکہ وہ سچ بولنے کا عادی نہیں اپنی چکنی چپڑی باتوں سے ہر ایک کو پھساۓ گا نتیجتاً وہ لوگ اس کے جھوٹ اور فریب کے باعث مصیبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔بعض و اقات ایسا ہوتا ہے ہماری زندگی میں کہ ہم دوسروں کے جھوٹ بولنے کی عادت کے باعث بہت نقصان اٹھا جاتے ہیں جس کے باعث لڑائی جھگڑا اور فساد پیدا ہوتا ہے تو بہتر ہےکہ ہم پہلے ہی اس فساد سے بچنے کی کوشش کریں۔
    دوسری صحبت بےوقوف کی!
    بے وقوف کی صحبت اگر وقتی طور پر فاٸدہ دے رہی ہےجس کے باعث بہت سے لوگ بہت خوش ہوتے ہیں تو یاد رکھیں اسی قدر نقصان کے لیے بھی تیار رہنا چاہیئے۔
    تیسری صحبت کنجوس کی!
    کنجوس کی صحبت آپ کے بہترین وقت و لمحات کی دشمن ہے۔
    چوتھی صحبت بزدل کی!
    بزدل کی صحبت جب آپ اختیار کرتے ہیں تو ایسا شخص کبھی بھی مشکل وقت میں آپ کے ساتھ نہیں ہوسکتا بلکہ مشکل پڑتے دیکھ کر وہ سب سے پہلے بھاگے گا۔کیونکہ بزدل ہمیشہ اپنی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔
    پانچویں صحبت فاسق کی!
    فاسق شخص ہمیشہ لالچی سے بھرا ہوا ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک نوالے کی لالچ میں مبتلا ہوکر وہ آپ کو مصیبت میں چھوڑ دے گا۔
    ہم میں سے اکثر لوگ ایسے لوگوں کی صحبت یا دوستی کے باعث نقصان اٹھا چکے ہوں گے نتیجتاً نفرت،دشمنی،بغض جیسی براٸیاں پیدا ہوٸیں تو کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم کسی کی صحبت اختیار کرنے سے پہلے اس کی اخلاقی اقدار کو دیکھ لیں نا کہ اس کے ظاہر سے متاثر ہوکر پھر نقصان اٹھا کر اس کو ہمیشہ کوستے رہیں۔ یاد رکھیں اچھی اور بری صحبت انسان پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہے۔
    ہمارے اسلاف کے ارشادات ہمارے لیے بہترین راہنماٸی ہیں اگر ہم اس پر عمل کریں تو نہ صرف یہ کہ ہم خود بہتر ہوسکتے ہیں بلکہ معاشرے کی بہتری میں بھی اپنا اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

  • جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا   تحریر : فضیلت اجالہ

    جو لاکھوں دیپ بجھے ہیں تو یہ چراغ جلا تحریر : فضیلت اجالہ

    آزادی ،جس کی جستجوں میں ناجانے کیسے کیسے کڑیل جوانوں نے جاں کے نزرانے پیش کیے ،کتنی ماؤں کی گود ویراں ہوئ،ان گنت سہاگنوں کے سہاگ اجڑے ،لاکھوں معصوموں کو نیزوں میں پرویا گیا تو لاتعداد بہنوں کی عصمتیں تار تار ہوئ ۔کروڑوں بچوں نے یتیمی کا تاج پہنا تو پھر کہیں جا کہ خوں میں نہائ سحر آزادی طلوع ہوئ ۔

    14 اگست 1947 صرف کیلنڈر پر نقش ایک دن نہی بلکہ لازوال قربانیوں،ازیتوں اور عظم و حوصلے کی داستان ہے جو سننے والوں کے رونگٹے کھڑے کر دیتی ہے
    آزادی کی داستاں ایام،عشروں ،مہینوں یا سالوں پر نہیں بلکہ دہائیوں پر مشتمل ہے ۔
    لاالہ کے نام پر حاصل کی گئ یہ سر زمیں پاک ہمارے اجدا د کی قربانیوں اور وفاؤں کی داستاں ہے جس کا لفظ لفظ لہو سے عبارت ہے جسکی اک اک سطر ہمت و استقلال اور درد کی لامحدود گہرائیوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے

    1862 سے لیکر 1867 تک تایخ بر صغیر کے انتہائ الم ناک سال جس دوران 14 ہزارا علمائے دین کو بے رحمی سے قتل کیا گیا دہلی سے لیکر پشاور تک کوئ شجر ایسا نا ملتا تھا جس پہ ظالموں نے کسی مسلمان کا سر نا لٹکایا ہو ۔
    وہ بادشاہی مسجد جو آج ہمارے لیے صرف تفریح گاہ ہے اس کے صحن میں ایک دن میں اسی ،اسی علماء کرام کو تختہ دار پہ لٹکایا گیا لیکن سلام ان مرد مجاہدوں پہ جن کے سر انگریزوں کے سامنت جھکنے سے انکاری رہے اور لاالہ کا ورد کرتے قربان ہوتے چلے گئے ۔
    جب مسلمانان برصغیر پہ مایوسی کے بادل گھنے ہوتے چلے گئے تو چند عظیم ہستیوں نے انقلاب آزادی کا بیڑا اٹھایا ۔اک طرف اقبال کا خواب آزادی اور مسلمانوں کی بیداری کا جزبہ تھا تو دوسری طرف قائد اعظم کی ولولہ انگیز قیادت جس نے مسلمانوں میں نئ روح اور آزادی کی امنگ پیدا کی ۔23 مارچ کو قرار داد پاکستان کے منظور ہوتے ہی جہاں اک طرف مسلمانوں کی جدو جہد آزادی نے زور پکڑا وہی دشمنان اسلام کی سازشیں بھی کھل کر سامنے آنے لگی ۔آفرین ہے ان بزرگوں پر جنہوں نے اپنے خون سے اس تحریک آزادی کو سینچا اور بلاآخر14اگست 1947 کو لاکھوں قربانیوں کی بانہوں میں ،ہزاروں بہنوں کی عصمتوں کے تار تار آنچلوں کے سائے تلے ،ان گنت شہدا کی آغوش میں سرزمین مقدس پاکستان دنیا کے نقشے پر مانند آفتاب طلوع ہوا ۔

    قر بانیوں کا سلسلی یہیں ختم نہی ہوجاتا بلکہ یہاں سے بھارتی سفاکیت کی اس داستان کا آغاز ہوتا جہاں پہ انسانیت بھی شرمسار ہے ۔پاکستان بننے کے بعد مسلمانوں نے ہجرت اختیار کی تو نہتے مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا گیا ،عصمتوں کو تار تار کیا گیا ،بزرگوں نے کانپتے ہاتھوں سے جوان بیٹو ں کے لاشے اٹھائے ،ماؤں نے دودھ کیلیے بلکتے شیر خواروں کے گلے اپنے ہاتھوں سے گھونٹے تاکہ ان کی آواز سے دوسرے مسافروں کی جان خطرے میں نا آئے ،بہنوں ،بیٹیوں نے عزتوں کی پامالی کے ڈر سے کنویں میں چھلانگیں لگا کہ جانوں کا نزرانہ پیش کیا ۔مال دودلت،زر،زیور ،گھر بار عزتیں لٹائیں قافلوں نے جب سرزمیں پاکستان پر پہ پہنچے تو عجب منظر تھا ،آنکھوں سے اشک رواں تھے ،وطن کی مٹی کو چومتے جاتے تھے اور ایک ہی بات کہتے جاتے تھے پاکستان کا مطلب کیا ،لاالہ اللہ ۔
    پاکستان کو بنے74 سال گزر گئے لیکن قربانیوں کی یہ داستاں آج بھی تازہ اور زبان زد عام ہے ،یہاں تک پہنچتے میرا قلم کئ بار رکا ،میرے اشک بے اختیار صفح قرطاس پہ بکھرے ،اور میں بارہا یہ سوچنے پہ مجبور ہوئ کی کیا ہم اس آزادی کا حق نبھا رہے ہیں ،کیا جس مقصد کی خطر یہ مملکت خداد حاصل کی گئ ہم اس مقصد میں کامیاب ہیں؟ اور ہر دفعہ عرق ندامت میری پیشانی پہ چمکا کہ
    ستم یہ ہے کہ چہتر برسا کا ہو کے بھی
    یہ بچہ پاؤں پہ ہم نے کھڑا نا ہونے دیا

    ۔آج ہم آزادی مبارک تو کہتے ہیں لیکن اسکے مفہوم کو نہی پہچانتے ،ہم گاڑی پہ پاکستانی جھنڈا تو لہراتے ہیں لیکن اس میں گانا انڈیا کا بجاتے ہیں .آج ہمارے لیے پاکستان کی بنی چیزیں گھٹیا ں اور غیر میعاری ہیں
    وہ انڈیا جس نے نہتے مسلمانوں کو بے دریغ قتل کیا ہمارے کچھ حکمران انہیں سے دوستانے نبھاتے نظر آتے ہیں ۔
    ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ،پاکستا صرف زمیں کا اک ٹکڑا نہی ہے اک نام نہی ہے بلکہ پاکستان دو قومی نظریہ کی سر خروئ کا نام ہے ۔پاکستان تو اک گوشہ عافیت کا نام ہے ،پاکستان کاہر زرہ اسلامی روائتوں کا امین ہے۔یہ وہی سرزمین ہے جسکا عشق ہمارے لہوں میں شامل ہے کیونکہ وطن سے محبت تو ایمان ہوتی ہے نا ،یہ ملک ہمارے آبا کی وفائ کا صلہ ہے ۔اسے ہم نے ہی سنوارنا ہے
    اس کی ترقی اور فلاح و بہبود تبھی ممکن ہے جب ہم ملکر صدق دل سے کوشش کریں گے ۔

    اگر چہ تیرا آج لہو رنگ ہے مگر
    میں تیرا کل تو سنوار سکتا ہوں
    اک عمر کیا میں ہزار عمریں آصف
    تیرے سبز ہلالی پہ وار سکتا ہوں
    @_Ujala_R

  • ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟   تحریر : مقبول حسین بھٹی

    ‏معاشرے میں اساتذہ کیوں اہم ہیں ؟ تحریر : مقبول حسین بھٹی

    اساتذہ ہمارے معاشرے کے سب سے اہم ممبر ہیں۔ وہ بچوں کو مقصد دیتے ہیں ، انہیں ہماری دنیا کے شہری کی حیثیت سے کامیابی کے لئے مرتب کرتے ہیں ، اور ان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور زندگی میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔ آج کے بچے کل کے قائد ہیں ، اور اساتذہ وہ نازک نکتہ ہیں جو کسی بچے کو اپنے مستقبل کے لئے تیار کرتا ہے۔ اساتذہ کیوں اہم ہیں؟
    بچے پوری زندگی میں جو کچھ انھیں سکھایا جاتا ہے وہ پوری زندگی میں وہی کرتے ہیں جو وہ سیکھتے ہیں ۔ وہ جو کچھ سیکھتے ہیں وہ معاشرے کو متاثر کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ سبھی جانتے ہیں کہ آج کا نوجوان کل کے قائد بن جائے گا ، اور اساتذہ کو ان کے سب سے زیادہ متاثر کن سالوں میں نوجوانوں کو تعلیم دینے کی سہولت ہے – چاہے وہ پری اسکول کی تعلیم ، غیر نصابی تعلیم ، کھیلوں یا روایتی کلاسوں کی تعلیم ہو ۔ اساتذہ یہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ وہ معاشرے کے لئے مستقبل کے رہنماؤں کی تشکیل کے لئے بہترین اور موثر مستقبل کی نسلوں کی تشکیل کریں اور اسی وجہ سے معاشرے کو مقامی اور عالمی سطح پر ڈیزائن کریں۔ حقیقت میں ، اساتذہ کا دنیا میں سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو معاشرے کے بچوں پر اثر ڈالتے ہیں وہ زندگی کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ نہ صرف خود ان بچوں کے لئے ، بلکہ سب کی زندگیوں کے لئے ۔ عظیم اساتذہ کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے کہ وہ زندگی کو بہتر سے بہتر بناسکیں۔ اساتذہ امدادی نظام کی حیثیت سے کام کر سکتے ہیں جس میں طلبہ کی زندگیوں میں کہیں اور کمی نہیں ہے۔ وہ ایک رول ماڈل اور آگے بڑھنے اور بڑے خواب دیکھنے کے لئے ایک تحریک بن سکتے ہیں۔ وہ طلبا کو اپنی کامیابیوں اور ناکامیوں کے لئے جوابدہ ٹھہراتے ہیں اور اچھے اساتذہ اپنے ہونہار طلبا کو اپنی پوری صلاحیتوں کے مطابق نہ رہنے دیتے ہیں۔ ہر شعبہ ہائے زندگی اور مضامین کے اساتذہ قابلیت کی تشکیل کرنے اور معاشرے ، زندگی اور ذاتی اہداف کے بارے میں نظریات کی تشکیل میں مدد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اساتذہ طلباء کی حدود کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنی تخلیقی صلاحیت کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ تعلیم دینا کا ایک مشکل کام ہے ، لیکن یہ وہ جگہ ہے جہاں آپ کسی اور شخص کی زندگی میں سب سے زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔ اساتذہ طلبا کے لئے حتمی رول ماڈل ہیں۔ اس حقیقت کی حقیقت یہ ہے کہ طلباء اپنے تعلیمی کیریئر میں متعدد مختلف قسم کے اساتذہ کے ساتھ رابطے میں آجاتے ہیں اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ امکان نہیں ، ایک ایسا استاد ہوگا جو ان سے بات کرے۔ اساتذہ طلباء کا ربط کچھ طلباء کے لئے انمول ہے ، جن میں دوسری صورت میں استحکام نہیں ہوسکتا ہے۔ اساتذہ اپنے طلبا کے لئے مثبت رہیں گے یہاں تک کہ چیزیں بھیانک محسوس ہوسکتی ہیں۔ ایک عظیم استاد ہمیشہ اپنے طلباء کے لئے ہمدردی ، اپنے طلباء کی ذاتی زندگی کو سمجھنے اور ان کے تعلیمی اہداف اور کامیابیوں کے لئے تعریف کرتا ہے۔ اساتذہ بچوں کے مثبت ہونے ، ہمیشہ زیادہ محنت کرنے اور ستاروں تک پہنچنے کے لئے رول ماڈل ہیں۔ علم اور تعلیم ہی ان تمام چیزوں کی اساس ہیں جو زندگی میں پوری ہوسکتی ہیں۔ اساتذہ آج کے نوجوانوں کو تعلیم کی طاقت فراہم کرتے ہیں ، جس سے انہیں بہتر مستقبل کا امکان مل جاتا ہے۔ اساتذہ کمپلیکس کو آسان بناتے ہیں ، اور خلاصہ تصورات کو طلباء تک قابل رسائی بناتے ہیں۔ اساتذہ بچوں کو ایسے آئیڈیاز اور عنوانات سے بھی روشناس کرتے ہیں جن سے وہ بصورت دیگر سیکھنے میں نہیں آئے تھے۔ وہ مفادات کو بڑھا سکتے ہیں اور اپنے طالب علموں کو بہتر کام کرنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ اساتذہ ناکامی کو قبول نہیں کرتے ہیں ، اور اسی وجہ سے طلباء کے کامیاب ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اساتذہ جانتے ہیں کہ طلبا کو کب دھکیلنا ہے ، کب صحیح سمت میں ہلکا ہلکا انداز دینا ہے اور کب طالب علموں کو خود ان کا پتہ لگانا ہے۔ لیکن وہ کسی طالب علم کو ہار نہیں ماننے دیں گے۔ اساتذہ ہر طرح کے طلباء کو رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ اساتذہ ہر بچے کی طاقت اور کمزوریوں کو دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں اور مدد اور رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں تاکہ یا تو انھیں تیز رفتار سے بڑھایا جائے . یا اس سے زیادہ بلند کیا جاسکے۔ وہ طلبا کی بہترین صلاحیتوں کو ظاہر کرنے اور زندگی کی قیمتی صلاحیتوں جیسے مواصلات ، ہمدردی ، پیش کش ، تنظیم ، مندرجہ ذیل سمتوں اور مزید بہت کچھ سکھانے میں مدد کرتے ہیں۔ وہ تحریک الہامی اور محرک کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ اساتذہ طلبا کو اچھے کاموں کی ترغیب دیتے ہیں ، اور انہیں محنت سے کام کرنے اور اپنے تعلیمی اہداف کو راستے پر رکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تعلیم کسی ملک کی ترقی کا ایک بنیادی پہلو ہے۔ اگر معاشرے کے نوجوان تعلیم یافتہ ہوں تو مستقبل پیدا ہوتا ہے۔ اساتذہ ایسی تعلیم مہیا کرتے ہیں جس سے معیار زندگی بہتر ہوتا ہے ، لہذا مجموعی طور پر افراد اور معاشرے دونوں میں بہت کچھ ہوتا ہے۔ اساتذہ طلباء کی پیداوری اور تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور اس وجہ سے آئندہ کارکنوں کی جب طلبا کو تخلیقی اور نتیجہ خیز بنانے پر مجبور کیا جاتا ہے تو ، ان کا امکان زیادہ ہوتا ہے کہ وہ کاروباری ہوں اور تکنیکی ترقی کریں ، اور آخر کار یہ کسی ملک کی معاشی ترقی کا باعث بنیں۔

    Twitter handle :
    ‎@Maqbool_hussayn

  • زمانہ نازک ہے تحریر: آفاق حسین خان

    زمانہ نازک ہے” یہ فقرہ غالبا ہر صدی اور دہائی میں اپنے عروج پر رہا ہے- ہم نے اپنے بزرگوں سے اور بڑوں سے ہمیشہ یہی کہتے سنا- ہرعمرمیں ہرانسان یہ فقرہ دہراتا رہا- ہو سکتا ہے ہردورمیں زمانہ نازک رہا ہوں- یا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہردورکا ہر انسان فرشتہ ہو اور زمانہ ان کے لئے خراب ہو- اس دنیا میں تقریبا سات ارب لوگ ہیں- سات ارب کی اس دنیاوی آبادی میں تقریبا ہزاروں کی تعداد میں ثقافتی روآیآت پائی جاتی ہیں- چھ ہزارسے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں- اوراگرپاکستان کی بات کی جائے تویہاں تقریبا اکیس کروڑ لوگ رہتے ہیں- سترسے زائد مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں- مختلف علاقے میں مختلف زبانیں اور مختلف روایات پائی جاتی ہی- جیسے ایک گھر میں رہنے والے اورایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے والے بچوں کی سوچ عادت ذہنیت اور پیشہ مختلف ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر جگہ کی ثقافت اور روایات مختلف ہیں- ہرانسان دوسرے انسان سے مختلف ہے- ہر انسان کی سوچ , طرز زندگی دوسرے سے مختلف ہوتی ہے- یہاں تک کہ اگرایک گھرمیں رہنے والے سب بہن بھائیوں کے کمرے دیکھنے کا اتفاق ہو توسب کمروں میں آپ کو مختلف ماحول دیکھنے کو ملے گا- ہرانسان خود میں ایک ثقافت ہے لیکن ظاہر ہے بہت سی چیزیں انسان پیدا ہونے کے بعد اپنے بڑوں سے, استاد سے اورارد گرد کے ماحول سے سیکھتا ہے- لیکن ان سب سے بڑھ کر بہت سی صلاحیتیں ایسی ہوتی ہیں جو خدا کی طرف سے انسان کو دی جاتی ہیں جو کہ پیدائشی کہلاتی ہیں مثلا بہت سے لوگ قابل دماغ ہوتے ہیں بہت سے لوگ دلیر ہوتے ہیں, بہت سے لوگ محنتی ہوتے ہیں اور یہ سب صلاحیتیں انسان میں پیدائشی پائی جاتی ہے- ہرانسان کا زمانے کودیکھنے, سوچنے اورسمجھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے- زمانہ نازک کیوں ہے ایسی کون سی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے ہرعمرکے شخص کی زبان پر اکثریہ جملے سننے کو ملتے ہیں کیا واقعی زمانہ نازک ہے یا یہ محض ایک سنی سنائی بات ہے –
    آج کے جدید دورمیں سوشل میڈیا ہرانسان کی ضرورت بنتا جا رہا ہے اورہر شخص اس پر مصروف دکھائی دیتا ہے- زمانہ روزبروزبدل رہا ہے ہرچھوٹی سے چھوٹی بات بھی جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے- ہرچیز کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک اچھا اورایک برا, بلکل اسی طرح جہاں سوشل میڈیا کے بہت سارے فوائد ہیں وہاں چند نقصانات بھی پائے جاتے ہیں- سوشل میڈیا بالاخرکیا چیزہے جواس ہرانسان اپنا قیمتی وقت دینے کو تیارہے- اس میں ایسا کیا ہے جوہرشخص اپنی مصروف زندگی سے وقت نکال کراس پروقت گزارتا ہے- میرے نزدیک سوشل میڈیا کے تین طرزہیں- کچھ لوگ اس کوصرف انٹرٹینمنٹ کے لیےاستعمال کرتے ہیں ایک پرانا محاورہ ہے “نیکی کر دریا میں ڈال” جس کو اگرہم آج کے دورمیں موڈیفائیڈ کریں تو بن جائے گا جو بھی کر سوشل میڈیا پر ڈال- سوشل میڈیا کے دوسرے پہلوکی بات کی جائے جو سب سے بہترین پہلو ہے تو وہ ہے سوشل میڈیا کا مثبت استعمال جبکہ سوشل میڈیا کا تیسرا روخ دیکھا جائے تواس میں کچھ عناصرایسے ہیں جوسوشل کا منفی استعمال کرتے ہیں جوکہ انتہائی افسوسناک بات ہے –
    چندہ دہائیاں پہلے کسی کے گھرمیں ٹیلی ویژن کا ہونا ایک بہت بڑی بات سمجھی جاتی تھی یہ زیادہ پرانی بات نہیں محض تیس چالیس سال پرانی بات ہے اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس زمانے میں انٹرٹینمنٹ نہیں تھی- بالکل تھی لوگ اپنے فارغ وقت میں پارک وغیرہ یا سینما گھروں کا رخ کرتے تھے- لیکن آج کل کہیں جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم سب کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا سنیما موجود ہے جس کو آپ اپنی مرضی سے استعمال کرسکتے ہیں اورانٹرٹینمنٹ سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں- پرانے وقت میں لوگ خود مطالعہ کرنا پسند کرتے تھے جس میں اخبارات, کتابیں اور میگزین شامل ہیں لیکن آج کل بڑی تعداد میں لوگ سنی سنائی بات پرعمل کرلیتے ہیں اورخود سے اس کہانی یا آرٹیکل کو پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے- سوشل میڈیا آج بہت بڑا پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے جہاں ہر کوئی آزادی سے اپنے خیالات کا اظہارکرسکتا ہے جو کہ ایک اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ چند عناصرایسے ہیں جو غلط انفارمیشن کو پرموٹ کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے چونکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول کسی ایک کے ہاتھ میں نہیں اسی وجہ سے ایسے غلط مواد کی روک تھام کرنا ایک مشکل عمل بن جاتا ہے- دوسری طرف اگردیکھا جائے توسوشل میڈیا کے ان گنت فوائد بھی ہیں- ہرعام شہری اپنے مسائل یا اپنی رائے کا اظہار باآسانی کرسکتا ہے اورلوگوں تک پہنچا سکتا ہے- بہت سے لوگوں کو سوشل میڈیا پرنیوکسٹمرملتے ہیں جس کی بدولت ان کا کاروباردن دگنی رات چگنی ترقی کرتا- سوشل میڈیا آج کے دور کی ایک بہترین سہولت ہے جس کے مثبت استعمال سے ہم سب کو فائدہ اٹھانا چاہیے –

    Twitter: @AfaqHussainKhan

  • کچھ نے کہا چاند اسے کچھ نے تیرا چہرہ  تحریر :  وسیم اکرم

    کچھ نے کہا چاند اسے کچھ نے تیرا چہرہ تحریر : وسیم اکرم

    ہم سے تقریباً تین لاکھ چوراسی ہزار چار سو دو کلو میٹر دور موجود ایک آسمانی جسم جسے ہم چاند کہتے ہیں اتنا قریب ہے کہ تین سے چار دن میں ہم سپیس کرافٹ کے ذریعے پہنچ سکتے ہیں اور اتنا دور کہ ہم چاند اور زمین کے فاصلے کے درمیان تیس زمینیں رکھ سکتے ہیں۔۔۔

    یہ وہ گول پتھر ہے جو لاکھوں سال سے انسانوں کا حسین ترین تصور ہے اور ہمارے پچپن میں یہاں بڑھیا چرخا کاٹا کرتی تھی اور آج بھی ہر انسان اپنی محبوبہ کی خوبصورتی کو چاند سے ہی تشبیہ دیتا ہے لیکن بیس جولائی انیس سو انہتر کو جب نیل آرمسٹرانگ اور بز ایلڈرن نے چاند پر قدم رکھا تو انہیں کوئی بڑھیا نظر آئی نہ ہی چاند اپنی محبوبہ جیسا خوبصورت نظر آیا۔۔۔

    اس کے بعد بھی جتنے مشن چاند پر گئے انہیں کوئی بڑھیا نہیں ملی اور یوں سائنس نے ہم سے ہمارا خوبصورت بچپن ہمیشہ کیلئے چھین لیا۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں چاند سے متعلق مختلف کہانیاں مشہور ہیں اور ہر انسان کو اپنی مرضی کا چہرہ بھی چاند میں نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں یہ چاند پر پھیلا ہوا لاوا اور راکھ ہے۔۔۔

    اکاون سال پہلے آرمسٹرانگ کی ٹیم اپنے ساتھ جمے ہوئے سرد لاوے کے کچھ ٹکرے زمین پر لائی تھی جس پر تحقیق سے پتہ چلا تھا کہ تین سے ساڑھے تین ارب سال پہلے چاند پر بےشمار آتش فشاں پٹھے تھے جنکا لاوا ہزاروں میل تک پھیل گیا تھا اور یہ جما ہوا لاوا زمین سے دھبوں کی شکل میں نظر آتا ہے۔۔۔

    چاند پر موجود راکھ پر جب سورچ کی روشنی پڑتی ہے تو یہ چمک اٹھتی ہے اور ہر طرف چاندنی پھیل جاتی ہے۔ نیل آرمسٹرانگ نے جب نصف صدی پہلے چاند پر پہلا قدم رکھا تھا تو اس قدم کے نشاں آج بھی اس راکھ میں نقش ہیں جیسے ابھی کی بات ہو کیونکہ چاند پر ہوا، بادل یا بارش بلکل نہیں ہوتی کیونکہ وہاں چاند کے گرد ہماری زمیں کی طرح گیسوں کا غبارہ نہیں ہوتا۔۔۔

    چاند کا اپنا کوئی اٹماسفیئر نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ چاند پر انسانوں کے قدموں کے نشان لاکھوں، کروڑوں سال تک قائم رہیں گے لیکن ان قدموں کے نشان کے ساتھ ساتھ چاند پر ایک نام بھی نقش ہے۔ افسانوں میں بہت سے لوگ اپنی محبوبہ سے چاند تارے توڑ کے لانے کا وعدہ تو کرتے ہیں لیکن حقیقت میں ایک شخص نے اپنی بیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا نام چاند پر لکھ کر آؤں گا اور اس نے یہ وعدہ پورا بھی کیا۔۔۔

    چاند پر جانے والے آخری مشن اپالو سیونٹین کا کمانڈر یوجین سرنن تین دن چاند پر رہا اور واپسی کے دوران اس نے چاند پر اپنی بیٹی ٹریسی کا نام لکھا یہ اس کیلئے ایک اعزاز تھا لیکن اس اعزاز کے ساتھ اسے اس بات کا دکھ بھی تھا کہ وہ اس وقت تصویر نہ بنا سکا۔۔۔

    سچ بتائیے گا آپ میں سے کتنے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کبھی غور کیا کہ ہم کتنے سالوں سے چاند کی ایک ہی سمت کیوں دیکھ رہے ہیں؟ چودھویں کا چاند بھی ہر بار ایک ہی جیسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند زمین پر گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور کے گرد بھی گردش کرتا ہے لیکن زمین اور اپنے گرد ایک چکر پورا کرنے میں ایک جتنا ہی وقت لگاتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمیں چاند کی دوسری سمت نظر نہیں آئی اور اس عمل کو فیس لاک کہتے ہیں۔۔۔

    لیکن چین کا روبوٹنگ سسٹم اب چاند کی دوسری سمت بھی لینڈ کرچکا ہے اور دوسری سمت اس سمت سے بہت ہی پیاری اور چمکدار ہے یعنی اگر کوئی شاعر چاند کی دوسری سمت کو دیکھ لے تو وہ ہمیشہ اپنی محبوبہ کو چاند کی دوسری سمت سے تشبیہ دے گا۔۔۔

    @Waseemakrm_

  • اظہار محبت تحریر : شفقت سجاد دشتی

    یقیناً محبت اظہار مانگتی ہے مگر افسوس کہ ہم خالی اقرار کو اظہار سمجھ لیتے ہیں۔

    دراصل دور حاضر میں کوئی ایسی عام یا خاص درس گاہ نہیں جہاں محبت کا سبق کم از کم پڑھایا ہی جاتا ہو۔

    بلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ فلموں ڈراموں اور قصہ کہانیوں میں جو ہوس دکھائی دے رہی ہے ہم اسی کو محبت مان کر چل رہے ہیں۔ اس وجہ سے شاید معاشرے میں بگاڑ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔

    مگر محبت تو بڑا جذبہ ہے۔ یہ بے لوث عقیدت ہے۔
    محبت چاہے والدین سے کی جائے یا اولاد سے، خواہ اساتذہ سے خواہ اپنے روزگار و کاروبار سے، خواہ کسی محبوب یا محبوبہ سے یا پھر حقیقی محبت حق تعالٰی اور اسکے محبوب مصطفٰی صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی ذات پاک سے کی جائے۔ اس میں بے لوث ہونا تو فرض ہے۔

    یعنی محب اپنے لیئے کچھ نہ چاہے اور ہر اس حال میں کلمہ شکر پڑھے جس حال میں اسکا محبوب اس سے راضی ہو۔ اور وہ خود محبوب کے لیئے ہر طرح سے خیر بن جائے۔

    بیدم شاہ وارثی فرما گئے
    "یہاں ہونا نہ ہونا ہے نہ ہونا عین ہونا ہے
    جسے ہونا ہو کچھ خاک در جانانہ ہو جائے”

    مطلب محب کے لیئے محبوب کے در کی خاک بن جانا ہی بڑی عزت، تسلی اور تشفی کا مقام ہے کہ جب محبوب وہاں سے گزرے تو اپنے قدم مجھ پر رکھ کر گزرے۔

    اب بھائی اس کے بعد تو مجھے نہیں لگتا کہ میں نے جاگتی آنکھوں سے کچھ زیادہ محبت کرنے والے دیکھے ہیں۔ ہاں بہت قلیل بے حد قلیل دیکھے ہیں۔

    افسوس کہ اس جہاں میں بے انتہا اکثریت خود پرست باقی ہیں۔ تو پھر انہیں خدا کیسے سمجھ میں آ سکتا ہے۔

    بابا بلہے شاہ علیہ رحمتہ فرما گئے کہ
    "”جیں دل وچ پیار دی رمز نہیں، بس اوں دل کوں ویران سمجھ،””
    یعنی اندھیرا اور تاریکی ہے ایسے دل میں اور روشنی و نور کی گنجائش ہی نہیں۔

    آگے فرماتے ہیں،
    "”جیں کوں پیار دی جانڑ سنجانڑ نہیں، اوں بندے کوں نادان سمجھ،””
    نادان کا مطلب تو دانائی سے عاری۔ تو واقعی ظلمت اور حکمت ایک ہی بت میں یکجا تو نہیں ہو سکتی ہے۔

    "”ایہو پیار ہے درس ولی یاں دا، اے مسلک پاک نبی یاں دا،””
    اب اس شعر کی اس سے زیادہ آسان تشریح میں کیا کروں؟ بھائی یہ محبتیں بانٹنا اللہ والوں کا کام ہے۔

    "”انمول پیار دی دولت ای یہ، ایں کوں عقبا دا سامان سمجھ،
    ہیں پیار دی خاطر عرش بنڑے، ہیں پیار دی خاطر فرش بنڑے،
    خد پیار خدا وچ وسدا ہے، میں سچ اہداں قران سمجھ،”
    یہاں تو میری عقل کی حد ختم ہی سمجھیں، محبت کو عاقبت کی تیاری بھی کہہ دیا گیا اور اسکو تخلیق جہاں کی وجہ بھی بتا دیا اور یہ بھی فرما دیا کہ اللہ پاک خود بھی پیار اور محبت کرنے والا رب ہے کہ یہی سبق قرآن بھی دے رہا ہے۔

    "”ناں چاونڑ پیار دا سوکھا اے، ہیں کوں طوڑ نبھاونڑ اوکھا ہے،
    معراج تھیندن ایندے سولیاں تے، کئی چڑھدے نوک سنان سمجھ،””
    ہاں یہ بات بالکل درست ہے کہ محبت کا نام لینا یا دعوی کرنا تو واقعی بہت آسان ہے لیکن نبھانے والے مر مر کے جیتے اور کٹ کٹ کر مرتے ہیں۔

    "”ایہو پیار تاں رب ملوا ڈیندے،
    سُتے لیکھ نظیر جگا ڈیندے،””
    فرماتے ہیں کہ یہی محبت بالآخر رب ذالجلال سے جوڑ دیتی ہے اور خوشبختی و خوش نصیبی کی آمد کا ذریعہ بنتی ہے۔

    "”جیں دل وچ پیار دے دیرے ہن، بس ہوں دل کوں عرفان سمجھ،””
    اچھا اب عرفان تو کہتے ہیں معرفت رکھنے والے کو، یعنی کہ جو اللہ کو پہچاننے والا ہو۔ گویا محبت و سوز رکھنے والا دل یقیناً اللہ کا عارف ہے۔

    اب بھلا ایسے بزرگوں کے عارفانہ کلام سے ہٹ کر کوئی کیا سیکھے یا سکھائے گا عشق و محبت کے اسرار و رموز۔

    اللہ اکبر!

    دعا کریں خدا محبت کرنے والا بنا دے تاکہ مرنے سے پہلے ہم بھی اللہ کو پیارے ہو جائیں۔ آمین

    @balouch_shafqat

  • شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں تحریر: ماہی لطیف

    شاعر اور ادیب دلوں میں ہمشہ زندہ رہتے ہیں۔
    یہ تھا 1964ء کا ایک خوشگوار دن شام کا وقت تھا کہ عبد الرزاق کے آنگن میں ایک بچے نے جنم لیا۔ گھر میں خوشی کا سماں تھا کہ عبد الرزاق کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے لیکن کسی کو علم نہیں تھا کہ صرف بیٹا نہیں بلکہ اردو اور پنجابی ادب کے ایک درخشاں ستارے نے جنم لیا ہے۔ یہ جنم اردو اور پنجابی ادب کے مشہور شاعر اور ادیب محمد لطیف سیف کا تھا۔
    محمد لطیف سیف نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں سوک خورد سے حاصل کی۔ اس کی کل تعلیم میٹرک تک تھی۔ زیادہ تعلیم نہ کرنے کی وجہ غربت تھی۔ وہ گھر کا بڑا بیٹا تھا اس وجہ سے گھر کی ساری زمہ داری ان کے کندھوں پر تھی۔ کم عمری میں روزی روٹی کی تلاش میں نکلے اور ایک شہر سے دوسرے شہر روزگار کے لیے دھکے کھائے۔ اس سفر میں انھیں سعودی عرب جانا بھی پڑا۔ لیکن اپنے ملک سے محبت نے انھیں واپس بلوایا۔ اور یہاں دوبارہ روزی کی تلاش میں رہے۔ اپنی زندگی کے زیادہ عرصہ غربت اور محنت مزدوری میں گزارنے کی وجہ سے طبیعت میں عاجزی اور انکساری تھی۔ لطیف، انسان تو انسان جانوروں کے درد پر بھی دردمند ہونے والے انسان تھے۔ ان کے عاجزانہ طبیعت کا انکی شاعری پر بڑا گہرا اثر ہے۔ ان کی شاعری میں درد و آہ زیادہ پائی جاتی ہے۔ ان کی شاعری میں ہمیں محبت اور محبوب کا رنگ بھی ملتا ہے ان کے اشعار میں محبوب کے آگے انداز بھی عاجزانہ ہے وہ محبوب کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ لیکن ان کی شاعری میں ہمیں درد اور غربت کا زیادہ زکر ملتا ہے۔
    ("غریبوں کو ہر دم ستاتی ہے دنیا

    ستم اس طرح بھی یہ ڈھاتی ہے دنیا”)

    محمد لطیف سیف کی شاعری میں حمدیں، نعتیں، غزلیں نظمیں وغیرہ شامل ہیں۔
    ان کے کلام مشہور گلوکاروں نے گائے ہیں، جن میں ملکہ ترنم میڈم نور جہاں بھی ہیں۔ میڈم نور جہاں نے ان کا پنجابی کلام "جدوں دیاں تیرے نال لڑ گیاہ اکھیاں” گایا ہے۔ ان کے کلام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ ان کے کلام کو سخن شناس پوری دنیا میں سنتے ہیں۔ پاکستان اور ہندوستان کے مختلف گلوکاروں نے ان کے کلاموں کو اپنی آوازوں میں گایا ہے ۔
    ان کی شاعری کی دو کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ پہلی کتاب "اشک بہاتی تنہائی” جو کہ اردو زبان میں اس کی زندگی میں پبلیش ہوچکی تھی،
    ("میں بھول ک دنیا والوں سے اک بار بھی شکوہ کیوں کرتا

    گر سیف میری بربادی پر نا آشک بہاتی تنہائی”)
    جبکہ دوسری کتاب پنجابی زبان میں ہے "مٹی ملیاں سوچاں” اس کے وفات کے بعد پبلیش ہوئ تھی۔ دوسری کتاب مکمل ہوچکی تھی لیکن پبلیش کرنے ابھی نہیں دیا تھا کہ 6 دسمبر 2016 کو اس فانی دنیا سے رخصت ہوئے اور رب کائنات خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی وفات کا دن نہ صرف ان کے گھر والوں کے لیے بلکہ سب سخن شناس لوگوں کے لیے تکلیف کا دن تھا۔
    اس کے وفات ہونے کے بعد ان کے چاہنے والوں نے ان کے گھر والوں کے ساتھ مل کر ان کی دوسری کتاب شائع کی۔ ان کے چاہنے والے آج بھی ان کے نام کو بڑے احترام سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے چاہنے والے اور اردو اور پنجابی ادب کو پسند کرنے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ ان کی جگہ کبھی کوئی پورا نہیں کر پائے گا۔ ان کی شاعری ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔ اللّٰہ ان کی آخری منزل آسان فرمائے۔ اللّٰہ ان کی شاعری کو ہمیشہ زندہ رکھے۔ (امین)

    ("جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے”
    جو ملا بن کے غمگسار مجھے
    کر گیا وہ بھی اشکبار مجھے

    زندگی کس طرح کروں گا بسر
    غم کی دلدل میں مت اتار مجھے

    جان دوں گا میں اس ادا سے اسے
    موت دیکھے گی بار بار مجھے

    میں خزاں کو دوش دیتا رہا
    د
    زخم دیتی رہی بہار مجھے۔

    ہے عبث سیف یہ مسیحائی
    اب نزع کا ہے انتظار مجھے۔” )

    ________________________
    twitter.com/MahiLatief1

  • حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری  تحریر: مجاہدحسین

    حالات حاضرہ اور نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری تحریر: مجاہدحسین

    تازہ خبریں: تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر سے 25 نشستوں پہ کامیابی سمیٹی، عمران خان نے اگلا ہدف سندھ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا۔
    اور تاریخ گواہ ہے کہ جب عمران خان کسی چیز یا کام کے بارے میں فیصلہ کر لے تو پھر وہ اسے پورا کر کے رہتا ہے۔

    ووٹ چرانے والوں کو استعفی مانگتے وقت شرم آنی چاہیئے۔ مریم اورنگزیب
    یاد آیا، کچھ دن پہلے ایک ٹی وی شو میں بیٹھے ن لیگ کے سینئر سیاستدان اور پاکستان کے سابق وزیراعظم یہ فرما رہے تھے کہ جتنا ووٹ چوری کرنے کا تجربہ ہمارا ہے اتنا کسی کا بھی نہیں۔ سوچ رہا ہوں کہ کیا موصوف اور موصوفہ بھی شرم محسوس کرتے ہونگے یا ان کی شرم والی حس مر چکی ہے؟

    کرونا کے کیسسز میں خطرناک اضافہ، مئی کے بعد کیسسز بلند ترین سطح پر۔
    ہم اس قوم کو بار بار اس وائرس سے احتیاط کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں جو یہ بات شوق سے کہتے ہیں کہ جو رات قبر میں ہے وہ دنیا میں نہیں۔ ان پہ خاک کسی دلیل کا اثر ہونا ہے۔ لیکن اس وقت تک جب ہر ایک کے گھر سے کوئی رشتہ دار اس بیماری سے جانبحق نہ ہو تب تک کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔

    پی ٹی آئی نے آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی اور تشدد کا سہارا لیا۔ بلاول زرداری
    قارئین! آپ کو بتاتے چلیں کے انہیں کی پارٹی کے عہدیداروں کے خلاف الیکشن والے دن تحریک انصاف کے دو نوجوانوں کو سیدھی گولیاں مار کے شہید کرنے کا پرچے ہو رہے ہیں۔

    بھارت سے مدد مانگنے کے بیان کا معاملہ، ن لیگ نے اسماعیل گجر کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا۔
    یہ سن کے یاد آیا کہ ہمارے ہاں ایک محاوہ بہت مشہور ہے کہ "وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں رولا پائی جائی۔ مطلب پہلے اپنے لوگوں چاہے وہ نہال ہاشمی ہو، جاوید لطیف یا پھر اشرف گجر۔ یہ لوگ اتنے بڑے سیاستدان نہیں کہ اپنی مرضی سے کوئی بھی بیان دے دیں، قوی امکان ہے کہ ان کی پشت پناہی ن لیگ کی سیاسی وارث اور شاہی خاندان کی ولی عہد مریم صفدر ہی فرما رہی ہونگی۔

    اور اب نوشی گیلانی صاحبہ کی شاعری

    ‏یہی نہیں مرے سرکار جھوٹ بولتے ہیں
    یہاں کے کوچہ و بازار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ میرے شہرِ خرابی میں بسنے والے لوگ
    عجیب ہیں کہ سر دار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏دیئے جلائے ہوئے شام کی حویلی میں
    تمام ریشمی کردار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏کمال یہ ہے ترے چشم و لب کے آئینے
    بڑے یقین سے ہر بار جھوٹ بولتے ہیں
    ‏یہ باب عشق، اسے روشنی سے نسبت ہے
    یہاں تو صرف سیاہ کار جھوٹ بولتے ہیں۔

    اور اب آخر میں ایک مطلع:

    ‏قرار دل فسانہ ہو گیا ہے
    تمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

    @Being_Faani

  • خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک   تحریر:یاسرشہزادتنولی

    خون کے آنسو بھی ہوگئے خشک تحریر:یاسرشہزادتنولی

    ۔

    قلم جب جب اٹھے گا
    سیاہی سچائی کی ہوگی
    میں نے زندگی کے اتار چڑھاؤ کی تمام بہاریں دیکھی ہیں۔اللہ نے خوشیاں دی تو سنبھالی نہ گئیں تو دوسری طرف دکھوں کا ایک سمندر بھی برداشت کیا۔میرے کاندوں نے باپ کے جنازۓ کو اٹھایا ۔مگر دل اس قدر افسردہ اور خون کے آنسو نہیں رویا یوں سمجھے کہ آج صبح کے واقعہ کو دیکھنے کا موقع ملا تو خون کے آنسو بھی خشک ہوگئے۔میں نے آج تک اس قدر رونما ہوا واقعہ کو نہیں دیکھا۔کل حسب عادت گھر سےمانسہرہ پریس کلب جانے کے لئے ۹ بجے گھر سے نکلا اور گاڑی میں سوار ہوا مسافر چڑھتے گئے کیری ڈبہ میں چلنے والی قوالیوں نے ایک سحر باندھ دیا۔میں اسی میں غرق تھا کہ اچانک میری نظر سڑک پر بیھٹے اس بچہ پر پڑی جو گردن جھکائے دنیا و جہاں سے بے خبر تھا وہ شین باغ بفہ کی سڑک کے بیچو بیچ فٹ پاتھ پر بیٹھا تھا اور ٹریفک کا ہجوم،لوگوں کی چلنے کی آہٹ،گاڑیوں کا دھواں،سب سے بڑھ کر وہ ایک زندہ لاش کی مانند تھا اسے یہ تک نہیں پتہ تھا کہ اس کے کپڑے کہا ں کے کہاں جا رہے ہیں۔اس کی عمر۱۲سے ۱۳ سال تھی،چہرہ جھکا ہوا ہونے کے باوجوداس کی گوری رنگت کو ظاہر کر رہا تھا بال کلر میں رنگے ہوئے تھے اور گولڈن کلر صاف واضح ہورہا تھا۔

    وہ ہیروئن کے نشے میں دھت تھا۔میں نے ہیروئن کے نشے میں دھت بہت سے نوجوان دیکھے ہیں جوکہ پکھل مانسہرہ کے مختلف ایریا میں پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کوئی نشے کی حالت میں کھڑے کا کھڑا رہے گا گھنٹوں، تو کوئی سر جھکائے سجدے کی حالت میں ساکن جسم کے ساتھ دکھائی دے گا،کسی کو اتنا ہوش تک نہیں ہوتا کہ وہ کچرے میں پڑا ہوا ہے اور مکھیاں اس کے گر د چکر لگا رہی ہیں اور وہ اس بدبو دار کچرے کو نرم بستر سمجھ کر سو رہا ہوتا ہے۔بات ہو رہی تھی اس بچہ کی اسے اس حالت میں دیکھ کر میری روح تک کانپ گئی وہ کس گھر کا ہوگا،کس کے گھر کا چراغ ہوگا،کس ماں باپ کا بیٹا ہوگا،کس بہن کا بھائی ہوگا یا پھر یتیم۔۔۔۔
    کیری ڈبہ میں سوار تمام لوگوں نے استغفار کہا اور میری آنکھوں سے گرنے والے آنسوؤں کو میں نے اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے رومال سے اس دنیا سے ایسے چھپایا جسے وہ میرا کوئی اپنا ہو اور اس کے لئے دل سے خون کے آنسوں جاری ہوگئے ہو۔اسی وقت میرے دل سے ایک بد دعا اس وقت کے حکمراں ضیاء الحق کے لئے نکلی کہ جس نے اس غلیظ وباء کو افغان روس وار میں پاکستان میں داخل کیا آج اس انسان کی اس حرکت کا خمیازہ میری نسل کے میری قوم کے نوجوان ہی نہیں بچے،بوڑھے،جوان مرد و عورت سب ہی بھگت رہے ہیں ہمارے ملک کے ہونہار،نونہال اور مستقبل کے چمکتے ستارے اس نشے میں لگ کر اپنی دنیا برباد کر رہے ہیں۔اس نشے کو پروموٹ کرنے والوں تمھاری نسلیں بھی اس میں مبتلا ہوں گی جب معلوم ہوگا کہ قبر کا حال مردہ جانے۔۔۔۔۔
    اللہ پاک میرۓ پیارۓ پاکستان کے مستقبل ستاروں کو اس موذی نشے کی عادت سے چھٹکارا عطاء فرماۓ۔آمین
    https://twitter.com/YST_007?s=09