Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • ادھوری محبت  تحریر:   ڈاکٹر نجیب اللہ

    ادھوری محبت تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    یہ اس وقت کی بات ہے جب ھم کالج میں پڑھتے تھے سردیوں کی رات تھی اور دوستوں کے ساتھ ہاسٹل کے کمرے میں بیٹھ کر غمگیں ٹپے سن رہے تھے جبکہ باہر ہر طرف زمین نے سفید چادر اوڑھ لی تھی اور روئی جیسے نرم برف باری ابھی جاری تھی دل کرتا کہ باہر نکل کر خوب کھیلوں لیکن اس وقت ٹیمپریچر مائنس 10 کے قریب تھا تو صحت اور پردیس کا سوچ کر غمگیں میوزک سے محظوظ ہورہے تھے
    اتنے میں موبائل پر کال کی آواز سنی ڈاکٹر شان کی کال تھی ، عموماً میں رات کے وقت کال کا جواب نہیں دیتا لیکن پتہ نہیں اس دن جواب دیا ، ھیلو کے ساتھ ہی جناب چیختے چلاتے ہوئے رو پڑے جیسے برف کی وجہ سے اس کی دنیا ڈوب چکی ہوں، معلوم کرنے کی کوشش کی لیکن معاملہ کچھ آسان نہیں تھا ، جو کال پر سمجھ آتی ، اتنے میں ھم باہر نکل پڑے اور اس کی طرف جانے لگے تھے یہ رات کے 3 بج رہے تھے چاروں طرف برف اور سردی کی راتوں کا خاموش سناٹا ، لیکن اس وقت بھی ایک انسان ہاسٹل کے سامنے والے بینچ پر بیٹھ کر وائلن بجانے کی کوشش کر رہا ہے، وہ چائنیز زبان کا ایک مشہور گانا بجا رہا ہے جو ھمیں توڑی بہت سمجھ آرہی ہے ، ھم اپنے دوست کو لینے کے بجاۓ وہی بیٹھ گئے، اپنے دوست کی کہانی تو معلوم نہیں کر سکے لیکن وہاں تاریک رات میں وائلن بجانے والے کی کہانی ادھوری محبت کی داستان سنے میں دلچسپی لی ، سرکار کو محبوبہ نے آزمانے کی نیت سے یہ ٹاسک دیا تھا کہ روز رات کو ہاسٹل کے سامنے وائلن بجانا ہے اور یہ بچارہ اتنی سردی میں محبت کو حاصل کرنے کیلئے روز وائلن بجانے پہنچ جاتے تھے لیکن ظالمہ محبوبہ کو زرا بھر ترس نہیں آیا ، خیر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی بلکہ شروع ہوتی ہے اتنے میں اپنے ناکام عاشق دوست کی بھی یاد آگئی کہ اتنی رات کو رونا دھونا اور پھر اچانک خاموش ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ سرکار کو پھر سے کوئی دھوکا دے گیا ہے
    کسی نے کیا خوب لکھا ہے
    اسے میں نے ہی لکھا تھا
    کہ لہجے برف ہو جائیں
    تو پھر پگھلا نہیں کرتے
    پرندے ڈر کے اڑ جائیں
    تو پھر لوٹا نہیں کرتے
    اسے میں نے ہی لکھا تھا
    کے شیشہ ٹوٹ جاۓ تو
    کھبی پھر جڑ نہیں پاتا
    جو رستے سے بھٹک جائے
    وہ واپس مڑ نہیں پاتا
    اسے کہنا وہ بے معنی ادھورہ خط
    اسے میں نے ہی لکھا تھا
    اسے کہنا کہ دیوانے
    مکمل خط نہیں لکھتے

    @DrNajeeb133

  • کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    کیا منٹو کو صفیہ سے محبت تھی؟ تحریر:طاہرہ

    منٹو اس معاشرے کے حساس اور نامور لکھاری کہیں نا کہیں اپنی ہی بہتر نصف کے معاشی تقاضوں کو نظر انداز کرتے رہے

    صفیہ نے کیا نہیں کیا تھا منٹو کیلئے جب منٹو سے ان کی شادی ہوئی تو منٹو کے پاس سوائے "منٹو”نام کے کچھ نہیں تھا زبردستی حاصل کئے گئے کہانی کے معاوضے جو کہ قریباً پانچ سو روپے تھا صفیہ نے انکے ساتھ زندگی کی شروعات کی. وہ حسین دور کہ جب ایک لڑکی اپنی آنکھوں میں حسین خواب سجاتی ہے صفیہ کو منٹو نے سوائے ادھار کی روٹی کے کیا دیا

    سعادت حسین منٹو کہتے ہیں
    "مگر یہ بھی تو سوچو کہ صفیہ نا ہوتی تو منٹو کیسے ہوتا کیا صابر عورت تھی کہان طعنوں اور نشے سے چورپچیس روپے کا ایک کہانی فروش کہاں صفیہ یہ دس روپے آپ کی بوتل کے پانچ روپے آپ کے آنے جانے کے اور یہ دس اس میں گھر کا خرچا چل جائے گا آپ بلکل پریشان نا ہوں میں ہوں نا……. ”
    آہ منٹو آہ وہ لکھاری جو عورت کے مدوجزر سے لے کر اسکی خواہشات تک پر لکھ لیتا تھا اپنی عورت کا درد اسکی تمنائیں نا سمجھ پایا منٹو کیلئے بوتل عزیز تھی صفیہ نہیں جب معلوم تھا مشکل ہے تو کیا منٹو کا حق بنتا تھا کہ جو پچیس روپے کماتے اس میں سے دس روپے اپنی شراب نوشی پر خرچ کرتے. کیا شراب انکے لئے اپنی تین ننھی پریوں سے زیادہ افضل تھی کیا منٹو کو صفیہ کا ساتھ ایسے نہیں دینا چاہیے تھا جیسے صفیہ نے دیا.
    صفیہ نے کیا نہیں کیا انکو شراب نوشی سے بچانے کیلئے شوہر کو سمجھایا انکی منت ترلے کیلئے گھنٹوں پہرا دیتی کہ شراب نا پئیں حتیٰ کہ مینٹل ہسپتال میں علاج کے غرض سے داخل بھی کروادیا ادبی محفلوں میں انکے ساتھ جاتیں کہ رستہ نا بھٹک جائے مگر منٹو نا بدلے یہاں تک کے صفیہ کے گھر میں غربت اور اداسی نے ڈیرے ڈال دئیے.
    محبت کی معراج تو صفیہ نے پائی منٹو جو اس معاشرے کے ناسور سماج کو دکھاتے اپنی زوجہ کے روح پر لگے زخم نا دیکھ سکے نگہت نصرت اور نزہت کی آنکھوں کی ویرانی نا دیکھ سکے
    منٹو سے مایوس ہوکر ایک ماں نے اپنے بچوں کی تربیت میں پناہ ڈھونڈی صفیہ بہت ہمت اور جرات والی تھی کہ جس نے اپنے مزاج خدا کی نظر اندازی کو اپنی طاقت بنایا اپنی بچیوں کی پرورش کی انکی شادیاں کی اس تمام عرصے میں نا "منٹو” کا نام نا اسکے نام سے ملنے والی رائلٹی اس کے کوئی کام آئی صفیہ منٹو کی محبت نا تھی بس
    آج منٹو کا نام ہر جگہ گونجتا ہے مگر صفیہ کہیں نہیں ہے مگر یہ بات درست ہے کہ اگر صفیہ نا ہوتی تو منٹو نا ہوتا.

    @Chiishmish

  • اندھیروں کا سفر  تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    اندھیروں کا سفر تحریر: ڈاکٹر نجیب اللہ

    قبل از اسلام اخلاقی اقدار کے انحطاط کا یہ عالم تھا کہ لوگ زمانۂ جاہلیت میں زنا کا اقرار بھی کیا کرتے تھے اور زنا عربی معاشرے میں بڑے پیمانے پر عام تھا بلکہ بہت سے لوگ عورت کو زنا پر مجبور بھی کیا کرتے تھے۔ مگر
    اسلام نے اسکی ممانعت کر دی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے
    وَ لَا تُکۡرِہُوۡا فَتَیٰتِکُمۡ عَلَی الۡبِغَآءِ اِنۡ اَرَدۡنَ تَحَصُّنًا لِّتَبۡتَغُوۡا عَرَضَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا
    اپنی باندیوں کو دنیوی زندگی کا سازوسامان حاصل کرنے کے لیے بدکاری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ پاک دامنی چاہتی ہوں
    سورۃ النور آیت 33 ترجمہ تقی عثمانی صاحب
    اسلام کی آمد سے قبل عورت بہت مظلوم اور معاشرتی و سماجی عزت و احترام سے محروم تھی۔ اسے تمام برائیوں کا سبب اور قابل نفرت تصور کیا جاتا تھا
    زمانہ جاہلیت میں مردوں نے نکاح کو بھی اپنی مرضی کے سانچے میں ڈال رکھا تھا ، اس زمانے میں زواج البعولتہ،
    زواج البدل ، نکاح متعین ،نکاح الخذان، نکاح شغار، نکاح الاستبضاع ، نکاح البغایا کا رواج عام تھا
    پھر عرب میں آفتابِ اسلام طلوع ہوا ، اسلام نے انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں تاریخ ساز تبدیلی پیدا کی ہے۔ اسلام نے دنیا کے مذہبی و سیاسی، علمی و فکری اور اخلاقی و معاشرتی حلقوں میں نہایت پاکیزہ اور دور رس انقلاب کی قیادت کی ہے۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہیں جہاں تک آفتابِ اسلامی کی کرنیں نہ پہنچی ہوں
    ریاست مدینہ کے بعد اسلام کے نام پر بنے والا ملک اسلام جمہوریہ پاکستان 27 رمضان 1947 کو معرضِ وجود میں آیا، اور تب سے لے کر آج تک یہاں اسلامی قانون نافذ العمل نہیں ہوا لیکن تاریخی اوراق سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں روز اول سے لبرلزم کے نام پر عرب طرزِ زندگی گزانے پر زور دیتے ہیں اور بات یہاں ختم نہیں ہوتی ، زمانہ جاہلیت میں عرب نے زنا کی کیلئے نکاح کے مختلف اقسام بنائیں تھے لیکن آج کل پاکستان میں لبرلزم اور آزادی کے نام فحاشی کو فروغ دے رہے ہیں، 2020-21 میں ھم دیکھے تو بچیوں سے ذیادتی کی واقعات ہو یا عثمان مرزا، ضمیر جعفری جیسے کہانیاں اور واقعات ، ایک سروی کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 خواتین اور 8 بچوں کو ذیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے
    خدارا اپنے بچوں کو اسلامی تعلیمات پڑھائیں اور ان کو زمانہ جاہلیت کے رسومات سے دور رکھے ، کہی ایسا نہ ہو کہ ھم ترقی اور آزاد خیالی کی طرف بڑھتے بڑھتے زمانہ جہالت کے اندھیروں کی طرف نکل جائیں، اللہ ھم سب کا حامی و ناصر ہوں اور ھم سب کو نیک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین
    اسلام ذندہ باد

    @DrNajeeb133

  • وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تحریر : شفقت سجاد دشتی

    وہ اپریل کی ایک خوشگوار سی صبح تھی، میں فیس بک کی تانکا جھانکی میں لگا ہوا تھا کہ میری نظر سے کسی خاتون کی ایک تحریر گزری، میں شاید سکرول کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا، لیکن تحریر کے عنوان نے میرے قدم باندھ دیے، ”وہ کون تھا“ ان کی شاید وہ پہلی نثری تحریر تھی جس کے بیانیے نے مجھے متاثر کیا، نجانے مجھے کیوں اس تحریر میں صاحبہِ تحریر کا عکس نظر آیا کہ جیسے انہوں نے اپنی زندگی کا کوئی گوشہ حوالہ قرطاس کیا ہو۔۔۔۔۔ پھر میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر ان کی تحریریں پڑھنا شروع کر دیں، ہر تحریر مجھے خونِ دل سے سینچی ہوئی لگی، میرا بہت دل چاہا کہ میں ان تحاریر کی خالق سے بات کروں لیکن ہمت ہی نہیں ہوتی تھی، ان کی تحریروں اور تصویروں نے ان کی شخصیت کا ایسا رعب جما تھا کہ میں کئی دن تک بس ان کی تصویر دیکھ کر اور تحریر پڑھ کر خوش ہو لیتا۔ پھر ایک دن ہمت کر کے میں نے ان سے بات کر لی، انہوں نے خوش دِلی سے میری اس جسارت کو قبول کر لیا۔۔۔۔ ان کی کہانیوں پر تبادلہ خیال ہوتا رہا۔ کچھ عرصے بات بعد مجھے محسوس ہونے لگا کہ جس دن میری ان سے بات نہ ہو میرا وقت بے چینی میں گزرتا ہے، میں اپنی اس کیفیت کو کوئی نام دینے سے قاصر تھا۔ عمروں کی تفاوت کے باوجود وہ مجھے اچھی لگتی تھیں۔
    کسی وجہ سے چند دن میری ان سے بات نہیں ہو سکی۔ میں اکثر سوچتا تھا ان کے بارے میں کہ حال میں وہ اتنی من موہنی اور باوقار ہیں تو عین عالم شباب میں کیسی ہوں گی۔؟
    اس کا جواب مجھے ایک رات خواب کی صورت میں ملا
    میں نے خواب میں انہیں دیکھا کہ میں خوابگاہ کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا ہوں، کھلی چاندنی میں ایک لڑکی وہاں کھڑی ہے۔ میں خوابگاہ سے باہر نکل گیا۔ مجھے دیکھ کر میں نے آہستہ آہستہ قدموں سے فاصلہ طے کیا اور جب قریب پہنچا تو دیکھا وہ دراز قد لڑکی سر کو آنچل سے ڈھانکے سر جھکائے کسی ملکہ کی طرح تمکنت کے ساتھ خاموش کھڑی ہے۔ وہ مجھے دیکھی دیکھی سی لگی لیکن سمجھ نہیں آتا تھا کہ کون ہے؟ میں نے پھر بھی اس سے پوچھ لیا ’’کون ہیں آپ اور یہاں کیا کر رہی ہیں؟‘‘ وہ اسی طرح سر جھکائے کھڑی رہی۔ سفید قمیص اور غرارے میں ملبوس، سر پر مہین جالی کا دوپٹہ، روشن پیشانی، ابروئے خمدار، حیا سے بوجھل پلکیں، رنگت جیسے کسی نے کچے دودھ میں سیندور گھول دیا ہو، عارض پر شفق کی ہلکی سی لالی، پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، گویا کلیوں نے کم کم کھلنا ان ہی سے سیکھا ہو۔ صراحی دار گردن، سڈول بازو، مخروطی انگلیاں، حنائی ہتھیلی کہ کبھی اس ہتھیلی میں مصری کی ڈلی رکھ کر پوچھا جائے کہ کون میٹھی تو مقابل سانس لینا بھول جائے۔ آگے کو سینے پر پڑی گندھی ہوئی چوٹی جیسے خزانے پر سیاہ ناگن کا پہرہ۔ میں نے آس پاس چاندنی کو دیکھا، یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ روشنی چاند کی ہے یا اس مہ جبین کی۔ میں مبہوت کھڑا دیکھتا رہا۔ اس وقت تو ہوا بھی ساکت تھی کہ خاموشی کی شہنائی نے گویا سہاگ کے سر میں راگ مالکوس چھیڑ رکھا تھا۔ جب سحر ٹوٹا میں نے اپنے پورے حواس جمع کرکے پوچھا ’’آپ! آپ کون ہیں؟ کیا نام ہے آپ کا؟ کہاں سے آئی ہیں؟‘‘۔ میں نے بیک وقت کئی سوال کردیئے۔ اس کے ہونٹوں پر ہلکا سا تبسم ابھرا، پھر بانسری کا ساتواں سر چھڑا ’’ہم! بس ہم ہیں، آپ کوئی بھی نام رکھ لیجئے، کیا آپ نے مجھے پہچانا نہیں‘‘۔؟ اس نے تحیر سے بڑی بڑی آنکھوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ میں نے سوچا شاید سوال غلط تھا، لیکن جواب بالکل صحیح ہے۔ حسن بس حسن ہوتا ہے، اس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ نام تو بس ایک شناخت ہے، ایک پہچان، جس کی پہچان سب سے الگ ہو اس کا بھلا نام کیا ہوسکتا ہے۔ جس کے لئے ہر تشبیہ ہیچ ہو اس کا نام کیا ہو۔ ’’پھر بھی، پھربھی! آخر کون ہے یہ‘‘ میں سوچتا رہ گیا اور وہ خراماں خراماں چلتے ہوئے اوجھل ہو گئی، جیسے چمبیلی کی خوشبو کو اوس نے ڈھک لیا ہو۔ میں واپس خوابگاہ میں آ کر مسہری پر لیٹ گیا۔ نیند اس وقت پلکوں کی مسہری پر اتر آتی ہے، جب حواس اس کے حوالے کردیئے جائیں۔ لیکن وہ تو جاتے جاتے حواس بھی ساتھ لے گئی تھی، سو نیند بھی روٹھ گئی۔ ابھی صبح نمودار نہیں ہوئی تھی، شب نے کامدانی کی ردا سر پر ڈال لی کہ کہیں آفتاب کو جھلک نہ دکھلائی دے کہ میں برآمدے میں آبیٹھا۔ ابھی ہلکی ہلکی روشنی سی نمودار ہوئی ہی تھی کہ میں پھر اٹھا اور اس جگہ پہنچ گیا، جہاں رات وہ کھڑی تھی۔ میں نے سوچا شاید کوئی نشان، کوئی پتہ، کوئی سراغ ہی مل جائے، لیکن وہ ایک خواب کی طرح سے آئی اور پلک کھلتے ہی غائب ہو گئی۔ پھر میری آنکھ کھل گئی۔
    رات کا خواب فلم کی طرح پردہ بصارت پر اتر آیا۔ اچانک روشنی کا جھماکا سا ہوا، اوہ یہ تو وہی افسانہ نگارخاتون ہیں جنہیں میں ملکہ کہتا ہوں جو دوشیزہ بن کر میرے خواب میں آئی تھیں۔
    میری کفیات اپنی جگہ ایک اٹل حقیقت ہیں اس سے قطع نظر بطور افسانہ نگار میں ان کے حوالے سے بس اتنا کہوں گا کہ ملکہ۔۔۔۔۔۔۔! بہت عمدہ لکھتی ہیں، واقعی ان کے ہاتھ میں قلم روشنی بن جاتا ہے، کہیں طلسم تو کہیں خوشبو بن جاتا ہے ، کہیں فراق تو کہیں نغمہ، کہیں راگ تو کہیں تصویر بن جاتا ہے ، کہیں پربت تو کہیں جھرنا، کہیں شیشے کا خواب نگر بن جاتا ہے، ان کے لفظ ایسے ایسے منظر تراشتے ہیں کہ ، بصارت و بصیرت، شمس و قمر کے مقابل آ جاتے ہیں، ایک با وقار ہستی کی با وقار سی تحریریں جگنو بن کر میرے دل میں روشنی کرتی ہیں
    جن کی نادرتشبیہات ‘خوب صورت استعارے‘ نفیس علامتیں اوران گنت تلمیحات نے ایک سماں باندھ دیتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ انہوں نے ہمیشہ ان چھوئے اور ان کہے لفظوں کو ہی روشن کیا ہے ۔یہی لفظ جب موقع و محل کی مناسبت سے جملوں میں ترتیب پاتے ہیں تو ان لفظوں کے جمال کی دوشیزگی نکھرآتی ہے۔

    @balouch_shafqat

  • اداس کیوں تحریر:حسن قدرت

    پہلے زمانے کے لوگ بہت خوش و خرم زندگی گزارتے تھے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ یہ بات بالکل درست ہو انکے بھی مسائل ہوتے ہوں گے ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہو انسان اور مسائل کے بغیر زندگی گزار کے جائے ناممکن!
    موجودہ نسل میں اداسی بڑھتی جارہی ہے اور وہ بانٹ کر بھی خوشی حاصل نہیں کر پاتے جو خوشی اس دور کے لوگ ملکر کھانے میں محسوس کرتے تھے
    جیسے جیسے زمانہ گزرا ویسے ہی حالات بدلے اور مسائل وہی رہے شاید مگر نوعیت بدل گئی پہلے لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے تھے کہ شدید موسمی حالات کا مقابلہ کیسے کریں گے اب لوگ اس بات پہ پریشان ہوتے ہیں رشتوں میں چھپی اس حسد اور نفرت کی شدت کا مقابلہ کیسے کریں گے
    اب لوگ اداس کیوں ہیں؟ اسکی وجہ جو میں نے جانی ہے وہ آپ لوگوں کو بتاتی ہوں اگر
    اگر آج ہم کسی کو ایک روپیہ بھی دیتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا شکریہ ادا کرے جبکہ ہم اپنے رب کے بھی شکرگزار نہیں ہوتے ، ہم لوگ اتنی شدت کے خودپسند ہوچکے ہیں کہ اگر ہم کسی کو محبت دیتے ہیں ،کسی کو شفقت سے نوازتے ہیں یا کسی کی خدمت کرتے ہیں تو لاشعوری طور پر ہم چاہتے ہیں وہ بندہ ہمارے آگے سر جھکا کے رکھے آخر کیوں؟
    ہم یہ سب انسانوں کو اپنے آگے جھکانے کے لیے کیوں کرتے ہیں؟ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں کہ ہم نے تو اتنا کچھ کیا اسکے لیے لیکن اس بندے نے مجھے کیا صلہ دیا

    اگر آپ اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو آپ اسکے بندوں سے بھی بے لوث ہوکر محبت کریں انسانیت کی خدمت کریں اور یہ بات ذہن میں رکھیں یہ سب آپ نے اپنے مالک کے لیے کیا ہے اللہ تعالیٰ کی محبت میں کیا ہے پھر آپ کو غیب سے اسکا صلہ ملے گا اور اتنا اچھا کہ آپ نے سوچا بھی نہیں ہوگا
    اپنی ترجیحات میں جب ہم اپنے بنانے والے کو اور اسکے حکم کو شامل نہیں کرتے تو ہم روتے ہیں چیختے ہیں اور خود سے کہتے ہیں کہ میں *”اداس کیوں”*؟ آخر میں ہی کیوں ؟

    Twitter: @HusnHere

  • ماں میری پیا ری ماں        ازقلم :عظمی ربانی

    ماں میری پیا ری ماں ازقلم :عظمی ربانی

    ماں۔۔۔۔۔میری پیا ری ماں

    ازقلم :عظمی ربانی

    پیاری ما ں تیرے شفیق چہرے کی چمک
    دل نے تو کیا روح نے بھی………

    تجھ سے ہی محبت کی ہے

    میں جہاں بھی جاؤں تیری دعائیں ساتھ چلتی ہیں
    رب نے ماں کی صورت میں……..

    مجھ پہ عنایت کی ہے

    تیری صورت نگاہوں سے ہوتی نہیں اوجھل
    میری نظروں نے ہر آن اس کی….

    حفاظت کی ہے

    میری ماں پہ ہزاروں رحمتیں ہوں نچھاور
    دل سے نکلی دعاؤں نے یہی….

    چاہت کی ہے

    میرے پیاروں پہ ماں کاسا یہ رہے سلا مت
    اس کی خدمت نے تو ہمیں جنت کی ۔۔۔ ۔۔

    بشا رت دی ہے

  • عنوان:میرا عشق وی توں تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    عنوان:میرا عشق وی توں تحریر:حبیب الرحمٰن خان

    یار کو ہم نے جابجا دیکھا

    کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا

    کہیں وہ بادشاہ تخت نشیں

    کہیں کاسہ لیے گدا دیکھا

    عشق کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اس کے وجود کو واضح کیا گیا

    عشق حقیقی
    عشق مجازی
    عشق حقیقی :اپنی زات کے اندر پاۓ جانے والی ہستی سے دل لگا لینا۔ اس عشق کے لیے ظاہری جسم کا ہونا ضروری نہیں ہے
    اسی لیے اس عشق کی پاکیزگی اس کے نام سے عیاں ہے۔
    یہ عشق اپنی زات سے آگے کی نشان دہی کرتا ہے
    اسی عشق کو صوفیاء کرام نے اپنا محور بنایا اور اپنی زات کی نفی کی۔
    اور یہی وہ عشق ہے جس میں موسی علیہ السلام کے دور میں ایک گڈریے کو مبتلا پایا کہ جس کو یہ بھی خبر نہیں کہ کپڑے کے ساتھ اپنے جسم کو بھی سی رہا ہے۔
    اسی عشق میں رابعہ بصری، بابا بلھے شاہ، بابا فرید گنج شکر جیسی شخصیات نے محو ہو کر خود کو فنا فی اللہ کے سپرد کیا
    اور یہاں اگر حضرت جنید بغدادی ، علی ہجویری کا نام نہ لیا جاۓ تو عشق حقیقی سے زیادتی ہو گی کہ جنھوں نے شریعت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا کر رب کل کائنات کی اطاعت میں خود کو اس ذات باری تعالٰی کے سپرد کر دیا اور تاریخ میں خود کو امر کر دیا۔
    عشق مجازی: جسے عمومی طور پر انسانی جسم کے میلان کو کہتے ہیں
    یہ خالص انسانی جذبہ ہے جو کسی مادی شے سے مغلوب ہو کر اس کے حسن کے حصار میں آ جاتا ہے۔ عشق مجازی میں لفظ مجاز عربی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معانی جاہز ہیں

    اور عشق کے معانی پھٹ جانے کے ہیں
    سو جب انسان کسی مادی شے کے لیے اپنے دل میں اتنی شدید خواہش رکھتا ہے کہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بناء وہ زندہ نہیں رہے گا تو اسی کو عشق مجازی کہتے ہیں۔ لیکن عرف عام میں کسی مرد کا کسی عورت یا کسی عورت کا کسی مرد پر فریفتہ ہونے کو عشق مجازی تسلیم کیا جاتا ہے۔
    ہمارے یہاں ایسے بہت سے قصے کہانیاں اور شاید کچھ حقیقی واقعات بھی مشہور ہیں جن سے عشق مجازی کو منسوب کیا جاتا ہے
    لیلیٰ مجنوں جو موجودہ سعودیہ اور یمن کے متعلق منسوب قصہ ہے۔
    جس کی انتہا موت پر ہوئی
    پھر سوہنی مہینوال اور دیگر ایسی بہت سی کہانیاں اس عشق کی داستان بیان کرتی ہیں
    لیکن اس عشق کا مطمح نظر یا تکمیل اس جسم کا حاصل کرنا ہی تھا۔
    کچھ احباب کا خیال ہے کہ ایسے عشق میں شہوت کا عنصر بھی ہوتا ہے
    لیکن آج کے دور میں ہر دو عشق ناپید ہو گۓ
    عشق حقیقی تو شاید کہیں گم ہی ہو کر رہ گیا
    لیکن عشق مجازی فلموں ، ڈراموں سوشل میڈیا اور ہاتھ میں تھامے موبائل نے اپنے ہاتھ میں لے کر احباب کے خیال کو تقویت دی
    اہم ترین پہلو یہ ہے کہ عشق مجازی کا دین حق میں کوئی وجود نہیں
    البتہ عشق حقیقی دین میں تسلیم کیا جاتا ہے
    متفق ہونا ضروری نہیں

  • نہ یہ عمران کا پاکستان نہ یہ نواز کا پاکستان نہ یہ زرداری کا پاکستان،تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    نہ یہ عمران کا پاکستان نہ یہ نواز کا پاکستان نہ یہ زرداری کا پاکستان،تحریر: محمد حنظلہ شاہد

    نہ یہ عمران کا پاکستان نہ یہ نواز کا پاکستان نہ یہ زرداری کا پاکستان

    نہ یہ عمران کا پاکستان ہے
    ۔۔۔۔نہ یہ نواز کا پاکستان ۔
    ۔نہ یہ زرداری کا پاکستان ۔
    ۔۔ یہ ہے قاٸد پاکستان ۔
    ۔یہ ہے اقبال رح کا پاکستان ۔۔
    ۔یہ ہے اس کسان کا پاکستان۔۔۔
    یہ ہے اس مزدور کا پاکستان ۔۔۔۔
    یے ہے اقبال کہ شاھین کا پاکستان ۔
    ۔یہ ہے میرا پاکستان ۔۔۔
    ۔یہ ہے تیرا پاکستان ۔۔۔۔۔

    نہ ہم عمران کہ ہیں ٹاٸگر
    ۔۔۔۔۔نہ ہم ہیں نواز کے شیر ۔۔۔۔
    نہ ہم ہیں زرداری کے سپاھی ۔۔۔۔۔نہ ہم ہیں بھٹو کے جیالے ۔۔۔
    نہ ہم جمعت والے ۔۔۔
    ۔نہ ہم جماعت والے ۔۔۔۔۔۔

    ہم آج کے دور کہ اقبال ہیں
    ۔۔۔ہم پاکستان ہیں ۔۔۔۔۔۔

    اپنے صوبون سے محبت کرو ۔۔۔پر پاکستان کی قیمت پر نہیں ۔۔۔۔
    اپنی قومیت سے محبت کرو ۔۔
    ۔پر پاکستان کی قیمت پر نہیں ۔۔۔
    اپنے پارٹی سے محبت کرو
    ۔۔۔۔پر پاکستان کی
    قیمت پر نہیں۔۔۔۔
    ہاں!!!
    اپنے پسندیدہ پارٹی کو سپورٹ کرو ۔۔
    ۔پر ہرگز لاحق نہیں ۔۔۔
    ۔اگر وہ غلط ہے تو اسے غلط کہو۔۔۔
    ہاں اپنے قاٸد سے محبت کرو ۔۔۔
    ۔پر پاکستان کی قیمت پر نہیں ۔۔۔

    تم فخر سے کہتے ہو عمران کا ٹاٸگر ہوں ۔۔۔
    نواز کا شیر ہوں ۔۔
    زرداری کا سپاھی ہوں ۔۔
    بھٹو کا میں جیالا ہوں ۔۔
    جعمیت والا ہوں میں ۔۔۔۔
    جماعت والا ہوں ۔۔۔۔۔۔

    تم کیوں نہیں کہتے کہ پاکستانی ہوں ۔
    ہاں ہم پاکستان ہیں ۔۔۔۔۔ہم اقبال رح ہیں ۔
    ۔ہم ہی ہیں پاکستان
    ۔۔۔ہم ہی ہیں پاکستان ۔۔
    ۔۔ہم ہی ہیں پاکستان ۔۔۔۔۔!!!

    پاکستان زندہ باد۔۔۔
    پاکستان پائندہ باد

    حنظلہ ملک

  • ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے ، ثروت نجمی

    ڈھونڈتے ہیں اُسے
    ہر گلی ، ہر نگر
    کھو گیا ہے مرا
    وہ فقیرِ شہر

    جِس کی باتوں میں تھی
    کس قدر سادگی
    اُس نے اُمید کی
    ہم کو دی روشنی

    بے کسوں کے لئے
    آسرا تھا وہی
    بے گھروں کا فقط
    آشیاں تھا وہی

    جس کا جھولا بنا
    زندگی کا سبب
    آدمی تھا عجب
    جانتے ہیں یہ سب

    وہ فرشتہ نُما
    گر نہیں ہے تو کیا
    چھوڑ کر ہے گیا
    ایک جلتا دیا

    آو ہم بھی کوئی
    کام ایسا کریں
    نام ایدھی کا سب
    مل کے روشن کریں

    ڈھونڈنا کیا اُسے
    ہر گلی ہر نگر
    کر چکا ہے مری
    دل کی بستی میں گھر

    وہ فقیرِ شہر
    وہ فقیرِ شہر

    ثروت نجمی

  • تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے  ازقلم:محمد یوسف واصفی

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے ازقلم:محمد یوسف واصفی

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے
    ازقلم:محمد یوسف واصفی

    محبت کا دعوٰی محبت نہیں ہے

    تشدد کا رستہ شریعت نہیں ہے

    محبت نبی ؐ کی خدا کی عطا ہے

    فقط نعرے بازی کی وقعت نہیں ہے

    مسلماں کا قاتل مسلماں ہوا ہے

    یہ ختم نبوت ؐ کی خدمت نہیں ہے

    کسی امت کا قتل توبہ توبہ

    یہ عشق نبی میں اجازت نہیں ہے

    جلاؤ، گھیراؤ یہ دھرنے ،رکاوٹ

    سیاست گری ہے عقیدت نہیں ہے