Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • سعادت ماہ رمضان         ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان ازقلم :عظمی ربانی

    سعادت ماہ رمضان

    ازقلم :عظمی ربانی

    رحمتوں کا مہینہ رمضان آگیا
    بن کے یہ رب کا مہمان آگیا

    اس کا حصول اے مومنو! سعادت ہے تمہاری
    دن رات کی مشقت ریاضت ہے تمہاری

    لوٹ لو نیکیوں کی سیل ہے لگی ہوئی
    ہر نیکی ستر گنا اجر میں بندھی ہوئی

    وقت آگیا روٹھے رب کو منانے کا
    اپنی التجائیں اور دعائیں رب کو سنانے کا

    کیا اچھا ہے دن بھر روزہ داروں کا صیام
    کیا خوب ہے نیکوکاروں کا رات بھر قیام

    رحمان۔۔۔۔ ماہ مقدس میں رحمتیں ہے دکھا رہا
    منادی دے دے کر اپنی طرف ہے بلا رہا

    احسان مانو رب کا کرو شکر اس کا ادا
    نہ ضیاع کرنا وقت کا وہ رہتا نہیں سدا

    صدقہ خیرات کے بڑھ چڑھ کر کرو کام
    کرو کوشش کار خیر کی ہو سکے تو صبح و شام

    تلاوت قرآن ہے سکونِ قلب و جان
    اس کو سینے سے لگا کر راحت کا پیدا کرو سامان

    اس کی قدر کو جانو اپنے آپ کو پہچانو
    واسطے عبادت کے پیدا کیا اس بات کو تم بھی جانو

    صیام و قیام کرتے اک اور عہد کریں
    بقیہ ایام زندگی بھی ہم سپرد خدا کریں
    *********

  • دستگیری کر میری اے  دستگیر     بقلم:ام شاہد

    دستگیری کر میری اے دستگیر بقلم:ام شاہد

    دعا
    ✍️از قلم ام شاہد
    تجھ سے اے مالک تیری یہ
    نالائق غلام…………..
    چند چیزیں مانگتی ھیــــں
    تجھ سے صبح و شام………
    میری ہر خواہش کو تو ں
    پورا کر ے…………
    اور جو کچھ اے اللّٰــــــہ
    توں دے مجھے…………
    تیری ہی اطاعت میں کام
    آئے مجھے………………
    اور ذرائع تیری مرضی کا بنے……….
    جتنی چیزوں سے ھے
    محبت مجھے……………
    زائل ان میں سے توں کر
    ڈالے جسے……………
    پھر مجھے اس کے عوض
    میں اے اللّٰــــــہ…………
    اپنی مرضی کی توں محبت
    کر عطا مجھے………….
    دے مجھے اپنی محبت
    اس قدر…………..
    ہر اک محبت سے یہی
    ہو بیشتر…………
    اور محبت ہی تیری اے غنی………..
    سب سے بڑھ کر ہو مجھے
    دلبستگی…………..
    دے مجھے خوف اپنا سب سے بیشتر…………
    سب سے بڑھ کر مجھے تیرا ہی ڈر………….
    جب ہو میری عمر کا وقت اخیر…………
    دستگیری کر میری اے
    دستگیر…………..
    میری اچھی عمر عمر اخیر…
    فضل و رحمت سے تیرے
    اے دستگیر…………
    سب سے اچھے ہوں میرے
    پچھلے عمل………..
    سب سے اچھا وقت ہو
    میرا وقت اجل……..
    تیرے ملنے کا شوق ہو اتنا
    مجھے…………
    کر دیں جو دنیا سے بے پرواہ
    مجھے………….
    اور ھیــــں دنیا کی جتنی
    حاجتیں…………..
    بھول بیٹھوں سب کو میں
    اس شوق میں…………
    اور ملوں جس روز تجھ سے
    اے غنی……….
    سب سے روز ہو اچھا
    میرا وہی…………..
    جس طرح دنیا سے دنیا
    دار کی……….
    ٹھنڈی کرتا ھیــــں توں آنکھیں اے غنی……………
    ام شاہد کی کر آنکھوں کو بھی ٹھنڈک عطاء ………..
    بندگی سے اپنی اے رب العالمین………….
    ام شاہد کے دل کو بھی کر
    ٹھنڈک عطاء…………
    محبت سے اپنی رب العالمین……………….

  • اتنا ہنسے کہ کوئی خوشی  نہ رہی باقی       از قلم :ام شاہد

    اتنا ہنسے کہ کوئی خوشی نہ رہی باقی از قلم :ام شاہد

    شاہد کی یاد میں
    ✍️از قلم ام شاہد
    اتنا ہنسے کہ کوئی خوشی
    نہ رہی باقی…………….
    اتنا روئے کہ کوئی آنسو
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا تڑپے کہ کوئی درد
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا ترسے کہ کوئی خواہش
    نہ رہیں باقی………………
    اتنا جاگے کہ کوئی خواب
    نہ رہا باقی…………….
    آنکھیں بھول گئی خوب
    کیا ہوتے ہیں…………….
    اچھا ھے کوئی خواب نہ آئے
    یقین دلائے کہ وہ ھیــــں……
    یہیں ھیــــں……….
    آہ خواب نہیں آتے…
    خیال آتے ھیــــں……
    وہ کب آئے گا…….
    وہ آئے نہ آئے……
    اس کا سایہ تو آئے………
    قلم چلتے چلتے رک گیا…….
    خیالوں نے ساتھ چھوڑ دیا….
    میں خاموش رہیں کوئکہ….
    ساہی نے بھی ساتھ چھوڑ دیا…………..
    کتنی عجیب بات ھیــــں…..
    زندگی دکھ سے بھری پڑی تھی……………
    مگر قلم خالی ہو گیا………
    میں نے گہری سانس لی کیونکہ……………………….. حالات و خیالات اک نیا انداز اپنا رہے تھے…………..
    میں نے خاموشی سے ڈائری
    بند کر دی………….
    ساتھ ہی آنکھیں بند ہو گئی..
    تصورات کے ادھورے سپنے…
    خیالات میں ابھر نے لگے…..
    سنجیدگی سے سوچنے لگیں
    کہ یہ اتفاق ھیــــں…….
    یا قلم کی شرات………
    قلم وہاں رکا جہاں تمناؤں کی………..
    شدت دعائیہ انداز اپنا رہی تھی……….
    خاموشی کے ساتھ آنسوؤں
    کے ساتھ……….
    شدت غم کے ساتھ……..
    آہ جدائی کے ساتھ…….
    آہ جدائی کے ساتھ…….

  • اِک  عہد  جو  کیا  تھا وفا  ہو  گیا      بقلم: جویریہ بتول

    اِک عہد جو کیا تھا وفا ہو گیا بقلم: جویریہ بتول

    اِک عہد جو کیا تھا ،وفا ہو گیا
    بقلم: جویریہ بتول

    یہ اپنا وطن ہے اپنی شان…
    نظریہ اِس کا ہے اپنا ایمان…!

    کیا تھا عہد جب آسماں تلے…
    قافلے وفا کے پھر یوں چلے…
    قدموں سے ایسے قدم وہ ملے…
    روک نہ سکا جنہیں کوئی طوفان…

    وہ جو خواب تھا اقبال کا…
    تھا جواب وہ ہر اِک سوال کا…
    تھا عزم وہ خاتمۂ زوال کا…
    رفعتوں کے سفر کا ہوا تھا اعلان…

    کی قائد نے یوں نظریہ کی وضاحت…
    کہ دنگ کھڑی تھی ہر ایک فصاحت…
    ہار گئی تھی جب ہر سُو شقاوت…
    منہ دیکھتا رہا، عدو ہو کر حیران…

    دامن میں پھر لُہو کے دریا بَھرے…
    سروں پہ بہنوں کی ردائیں اوڑھے…
    وہ بچے، عورتیں اور جواں و بوڑھے…
    بن گئے سب طُلوعِ سَحَر کی اذان…

    اِک عہد جو کیا تھا ،وفا ہو گیا…
    بچے بچے کی زباں پہ صدا ہو گیا…
    نغمۂ آزادی کی پھر جو نَوا ہو گیا…
    جہاں میں بن گئی اپنی یہ پہچان…

    یہ دھرتی ہی نہیں ایک عقیدہ تھا…
    حقیقت کا کُھلا جو جریدہ تھا…
    مقابل جس کے باطِل سَر بریدہ تھا…
    تھاصدیوں کاسینے میں مچلتا ارمان…

    آج بھی ہے ضرورت اُسی اتحاد کی…
    ترقئ علوم و فنون اور ایجاد کی…
    کردارِ انسانیت کی پختہ بنیاد کی…
    خزاں کی زَد میں ہو نہ کبھی گُلستان…

    یہ اپنا وطن ہے اپنی شان…
    نظریہ اس کا ہے اپنا ایمان…!
    ==================================

  • کوئی خواہش نہ رہی باقی  از قلم: ام شاہد

    کوئی خواہش نہ رہی باقی از قلم: ام شاہد

    کوئی خواہش نہ رہی باقی…!
    ✍️از قلم: ام شاہد
    اتنا ہنسے کہ کوئی خوشی
    نہ رہی باقی…………….
    اتنا روئے کہ کوئی آنسو
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا تڑپے کہ کوئی درد
    نہ رہا باقی……………..
    اتنا ترسے کہ کوئی خواہش
    نہ رہی باقی………………
    اتنا جاگے کہ کوئی خواب
    نہ رہا باقی…………….
    آنکھیں بھول گئی خوب
    کیا ہوتے ہیں…………….
    اچھا ھے کوئی خواب نہ آئے
    یقین دلائے کہ وہ ھیــــں……
    یہیں ھیــــں……….
    آہ خواب نہیں آتے…
    خیال آتے ھیــــں……
    وہ کب آئے گا…….
    وہ آئے نہ آئے……
    اس کا سایہ تو آئے………
    قلم چلتے چلتے رک گیا…….
    خیالوں نے ساتھ چھوڑ دیا….
    میں خاموش رہیں کیونکہ….
    سائے نے بھی ساتھ چھوڑ دیا…………..
    کتنی عجیب بات ھیــــں…..
    زندگی دکھ سے بھری پڑی تھی……………
    مگر قلم خالی ہو گیا………
    میں نے گہری سانس لی کیونکہ……………………….. حالات و خیالات اک نیا انداز اپنا رہے تھے…………..
    میں نے خاموشی سے ڈائری
    بند کر دی………….
    ساتھ ہی آنکھیں بند ہو گئی..
    تصورات کے ادھورے سپنے…
    خیالات میں ابھر نے لگے…..
    سنجیدگی سے سوچنے لگیں
    کہ یہ اتفاق ھیــــں…….
    یا قلم کی شرات………
    قلم وہاں رکا جہاں تمناؤں کی………..
    شدت دعائیہ انداز اپنا رہی تھی……….
    خاموشی کے ساتھ آنسوؤں
    کے ساتھ……….
    شدت غم کے ساتھ……..
    آہ جدائی کے ساتھ…….
    آہ جدائی کے ساتھ…….

  • یقین اک صدا ہے  بقلم:جویریہ بتول

    یقین اک صدا ہے بقلم:جویریہ بتول

    یقین…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔

    یقین اک صدا ہے…
    یقین تو وفا ہے…

    دل کی سر زمیں پر…
    جڑ جو پھیلائے…
    شجرِ طیبہ بن کر…
    عمل سے کھلکھلائے…
    یقین تقاضۂ محبّت…
    یقین تو دوا ہے…
    وہ بھی سخت لمحے…
    جو لگتے ہوں محال…
    خیال میں بھی اپنے…
    گزر جاتے ہیں خود پر…
    تو یقین پکار ہے اُٹھتا…
    یہی تو راہِ رضا ہے…!!!
    یاں حوصلے چٹانوں جیسے…
    نہیں ریت کے مکانوں جیسے…
    نشیب کہیں فراز ہیں…
    سوز ہیں کہیں ساز ہیں…
    راہوں کا شکوہ ہے نہ…
    موسموں پہ کوئی خفا ہے…
    درد کی چوٹ سے جب…
    اُٹھتی ہیں کئی ٹیسیں…
    شدت کی دوڑتی ہوئی…
    محسوس ہوتی ہیں لہریں…
    ہر ایسی بے چینی میں…
    بنتا یقین ہی شفا ہے…
    رضا کی تلاش میں پھر…
    یہ اور وہ نہیں ہے…
    جو جو بھی ہے ملتا…
    جسم و روح اُسی کے…
    تابع ہیں ہو کے چلتے…
    پھولوں کی ہو خوشبو…
    یا راستہ کانٹوں بھرا ہے…
    یقین کی راہوں پر کبھی…
    ہوتی نہیں کثرتِ سوال…
    نہ اگر مگر کا کچھ وبال…
    شکوہ فضا کی ناسازی…
    نہ نفس کی کوئی در اندازی…
    اطمینان کا بنتا ہے سَمندر…
    کہ یہ سکون کی برکھا ہے…
    جو دل کی دھرتی پر…
    برستے ہوئے رم جھم…
    دیتی ہے اِک قوت جنم…
    مایوسیوں کو بہا کر…
    اُداسیوں سے بچا کر…
    جو چہرے کو مسکرائے…
    پھر حوصلے کی جِلا ہے…
    اَجر کی اُمید کا دائرہ…
    بڑھتا ہے یہاں مسلسل…
    آنکھوں سے چھلکتی چمک…
    ہے راستوں کی رونق…
    مگر سفر کا اِک تسلسل…
    اس شاہراہ کا تقاضا ہے…
    یقین کا سفر منزل کے…
    ستونوں سے جڑا ہے…
    کہیں راحتوں کے سائے…
    کبھی امتحاں بھی کڑا ہے…
    وسوسہ ہے نہ بہکاوا مگر…
    کہ یہاں شان ہی جُدا ہے…!!!
    ===============================

  • سلام محافظِ نسواں   بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں بقلم:جویریہ بتول

    سلام محافظِ نسواں…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    نہ کر تہذیبِ غیر پر نظر تیرے اپنے دامن میں نور ہے…
    کر نگاہ اپنے نصیب پر،جو شعور تھا وہ شعور ہے…
    ہر اِک تہذیب کے درمیاں،ہے تیرا مقام کِھلا ہوا…
    ہر دَور ہے تازہ دَم تیرا،نہ تھکن سے کہیں یہ چُور ہے…
    تو حصارِ عظمت پہ ناز کر جو چہار جانب سے ہے کھڑا…
    تیرے حُسن پر کوئی مَیل ہے،نہ کوئی عبرتوں کا ظہور ہے…
    اُنہیں مان عزت کو بیچ کر،تجھے ناز حفظ و اماں پر ہے…
    اِسی منفرد سی پہچان سے تو عالمِ دیّار میں مشہور ہے…
    تیرے دشتِ جاں کو سنوار کر تیرے چمنِ دل کو نکھار دیں…
    جنہیں جاں سے بھی تو عزیز ہے وہ مقام تیرا غرور ہے…
    یہ جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری اندر سے ہے جو شکستہ تَر…
    کُچھ کر سکے گی نہ رہبری،جو خود راہ سے مفرور ہے…
    تیرے حقوق کی انمٹ تحریر قرآن و حدیث کی صورت…
    یہی نامہ ہے ابدی بہار کا،ہر خزاں یہاں رنجور ہے…
    نقشِ عائشہ و فاطمہ تیری زندگی کے ہیں راہ نما…
    جنت میں اُن کی سرداری میں گر رہنےکو دل یہ مسرور ہے…؟
    ==========================

  • بزم جاناں      بقلم:محمد نعیم شہزاد

    بزم جاناں بقلم:محمد نعیم شہزاد

    بزم جاناں
    محمد نعیم شہزاد

    بزم آرائی میں اے جان جہاں فرحاں ہیں
    تیری آواز کے نغمے ترے ہونٹوں کے گلاب
    بزم آرائی میں قربت کے شب و روز ڈھلے
    جی رہیں ہیں تیری قربت میں صنم مثل حباب

    اٹھ رہی ہے کہیں فرحت سے تری سانس کی آنچ
    تیری خوشبو میں بسی پرنم ہر دم
    دور افق پار برستی ہوئی لمحہ لمحہ
    گر رہی ہے میری دلدار کرم کی رم جھم

    اس قدر پیار سے اے جان تجھے چاہا ہے
    دل دھڑکتا ہے مرا اب تیری دھڑکن کے ساتھ
    یوں گماں ہوتا ہے گرچہ ہے ابھی صبح عدم
    ڈھل گیا فانی جہاں آ بھی گئی خُلد کی رات

  • شگفتہ لہجہ لذیذ چائے کبھی بلائے تو لوٹ آنا     شاعری :سفیر اقبال

    شگفتہ لہجہ لذیذ چائے کبھی بلائے تو لوٹ آنا شاعری :سفیر اقبال

    لوٹ_آنا

    شگفتہ لہجہ لذیذ چائے کبھی بلائے تو لوٹ آنا
    وہ شوقِ پرواز گر دوبارہ کبھی ستائے تو لوٹ آنا

    وہ گھونسے تھپڑ وہ سب چپیڑیں جو بھول جاؤ تو غم نہیں ہے
    مگر میری جاں تمہیں وہ عزت نہ راس آئے تو لوٹ آنا

    ابھی نئے منظروں نئی مستیوں میں جی لو مگر کبھی بھی
    وہ خودکشی کا دوبارہ جب کوئی حکم آئے تو لوٹ آنا

    شاعری :سفیر اقبال

  • اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا    بقلم:جویریہ بتول

    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا بقلم:جویریہ بتول

    مسلمان عورت…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول).
    اے مسلمان عورت تو پہچان لے مقام اپنا…
    وقار اپنا……کردار اپنا……انعام اپنا…

    جب تیرا وجود بھی زمیں پر باعثِ آزار تھا…
    انداز بے رحم تھا بہت،نہ حقوق کا معیار تھا…
    پیدائش پر بیٹی کے باپ سوچتا کئی بار تھا…
    اسلام نے جو آ کر دیا، سمجھ وہ اِکرام اپنا…

    بیٹی ہو بہن ہو تم بیوی اور پھر اک ماں…
    جس صورت میں بھی ہو تم مہکاؤ یہ گلستاں…
    تمہیں عطا رب نے کیا ہے حقوق کا اِک آسماں…
    بہت خاص ہو اب تم ،وجود سمجھو نہ عام اپنا…

    مومنہ ہو تم مسلمہ ہو، قانتہ ہو تم تائبہ ہو…
    عابدہ ہو تم ساجدہ ہو،راکعہ ہو تم خاشعہ ہو…
    تاریخ کے سینے میں سیرتِ خدیجہ و آسیہ ہو…
    کیوں بھولی ہو صفات یہ،بھولا ہے کیوں نام اپنا…؟

    عمارہ کے نقشِ پر میدانِ جنگ میں صف آراء…
    صفیہ کی ہو تم وارث رکھ سکتی ہو دل بڑا…
    ماں عائشہ کی سیرت بنائے تمہیں علم کا دریا…
    راستوں کو پہچان لو اب، گر کرنا ہے کام اپنا…

    جنسِ بازار ہو نہ تہذیبِ مغرب کا معیار تم…
    جن راہوں کی ہیں وہ راہی،ہو گی یقینًا بیزار تم…
    حقوق کے نام پر استحصال کے وار پر رہو بیدار تم…
    آشیاں سے کرکے بغاوت،کھو نہ دو زادِ تمام اپنا…

    حیا کی تم پر چادر ہے،غیرت کا ملا ہے غازہ بھی…
    ہر دَور میں ہے کردار تمہارا،رہے یہ عزمِ تازہ بھی…
    تمہاری حفاظت کا ہے مکان ،نکلنے کا دوازہ بھی…
    حصارِ عظمت گنوا نہ دینا،حصار رکھنا دوام اپنا…!
    ================================