ہم ہیں بیٹیاں……!!!
( بقلم: جویریہ بتول).
ہم ہیں بیٹیاں …ہم بہنیں…ہم مائیں ہیں…!!!
جس روپ میں ہوں ہم،ہر صورت ہی وفائیں ہیں…
ہیں پیکرِ صبر و رضا،چٹان سی ہے ہر ایک اَدا…
خوشی و غم کی ہم نوا،ہر موڑ پہ ہم دعائیں ہیں…
ہر انسان ہی پلتا ہے ان رِشتوں کی گودوں میں…
اِن ہاتھوں میں راحت ہے،یہ ہر درد کی دوائیں ہیں…
ہم عزت ہیں…ہم رفعت ہیں…ہم رحمت ہیں…
گھر بھر کی برکت ہم سے،وطن کی ہم ردائیں ہیں…
قوم کا مستقبل ہے وابستہ ہماری فکر و عمل سے…
روشن دیے ہیں ذہن میں یا چھائی دل پہ خزائیں ہیں؟
ان گودوں میں پَل کر ہی شاہین پرواز بھرتے ہیں…
اسی تربیت میں غفلت کی ملتی کڑی سزائیں ہیں…
ہم میں سے ہر ایک کو ملا مقام بلند سے بلند تَر ہے…
جس زاویے سے دیکھیں خود کو جنت کی ہم ہوائیں ہیں…
==============================
Category: شعرو شاعری

خوشی و غم کی ہم نوا، ہر موڑ پہ ہم دعائیں ہیں بقلم: جویریہ بتول

اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یوم وفات
اردو کے سب سے مشہور شاعر، زبان اور لہجے کے چابک دست فنکار، استدلالی اندازِ بیاں، تشکک پسندی، رمز و ایمائیت، جدت ادا اور اردو فارسی کے ممتاز و عظیم شاعر” مرزا اسد اللہ خاں غالبؔ صاحب“ کا 152واں یومِ وفات منایا جا رہا ہے-
باغی ٹی وی :نام مرزا اسد اللہ خاں، تخلّص غالبؔ ، 27؍دسمبر 1797ء کو پیدا ہوئے ۔ غالبؔ کی اولین خصوصیت طرفگئی ادا اور جدت اسلوب بیان ہے لیکن طرفگی سے اپنے خیالتا ، جذبات یا مواد کو وہی خوش نمائی اور طرح طرح کی موزوں صورت میں پیش کرسکتا ہے جو اپنے مواد کی ماہیت سے تمام تر آگاہی اور واقفیت رکھتا ہو۔
میرؔ کے دور میں شاعری عبارت تھی محض روحانی اور قلبی احساسات و جذبات کو بعینہ ادا کردینے سے گویا شاعر خود مجبور تھا کہ اپنی تسکین روح کی خاطر روح اور قلب کا یہ بوجھ ہلکا کردے ۔ ایک طرح کی سپردگی تھی جس میں شاعر کا کمال محض یہ رہ جاتا ہے کہ جذبے کی گہرائی اور روحانی تڑپ کو اپنے تمام عمن اور اثر کے ساتھ ادا کرسکے ۔
اس لیے بے حد حساس دل کا مالک ہونا اول شرط ہے اور شدت احساس کے وہ سپردگی اور بے چارگی نہیں ہے یہ شدت اور کرب کو محض بیان کردینے سے روح کو ہلکا کرنا نہیں چاہتے بلکہ ان کا دماغ اس پر قابو پاجاتا ہے اور اپنے جذبات اور احساسات سے بلند ہوکر ان میں ایک لذت حاصل کرنا چاہتے ہیں یا یوں کہئے کہ تڑپ اٹھنے کے بعد پھر اپنے جذبات سے کھیل کر اپنی روح کے سکون کے لیے ایک فلسفیانہ بے حسی یا بے پروائی پیدا کرلیتے ہیں ۔
اگر میرؔ نے چر کے سہتے سہتے اپنی حالت یہ بنائی تھی کہ مزا جو ں میں یاس آگئی ہے ہمارے نہ مرنے کا غم ہے نہ جینے کی شادی تو غالب ؔ اپنے دل و دماغ کو یوں تسکین دیتے ہیں کہ غالب کی شاعری میں غالبؔ کے مزاج اور ان کے عقائد فکری کو بھی بہت دخل ہے طبیعتاً وہ آزاد مشرب مزاج پسند ہر حال میں خوش رہنے والے رند منش تھے لیکن نگاہ صوفیوں کی رکھتے تھے باوجود اس کے کہ زمانے نے جتنی چاہئے ان کی قدر نہ کی اور جس کا انہیں افسوس بھی تھا پھر بھی ان کے صوفیانہ اور فلسفیانہ طریق تفکر نے انہیں ہر قسم کے ترددات سے بچالیا۔(الخ) اور اسی لیے اس شب و روز کے تماشے کو محض بازیچۂ اطفال سمجھتے تھے۔
دین و دنیا، جنت و دوزخ ، دیر و حرم سب کو وہ داماندگئ شوق کی پناہیں سمجھتے ہیں۔(الخ) جذبات اور احساسات کے ساتھ ایسے فلسفیانہ بے ہمہ دبا ہمہ تعلقات رکھنے کے باعث ہی غالبؔ اپنی شدت احساس پر قابو پاسکے اور اسی واسطے طرفگئی ادا کے فن میں کامیاب ہوسکے اور میرؔ کی یک رنگی کے مقابلے میں گلہائے رنگ رنگ کھلا سکے۔
’’لوح سے تمت تک سو صفحے ہیں لیکن کیا ہے جو یہاں حاضر نہیں کون سا نغمہ ہے جو اس زندگی کے تاروں میں بیدار یاخوابیدہ موجود نہیں۔‘‘ لیکن غالبؔ کو اپنا فن پختہ کرنے اور اپنی راہ نکالنے میں کئی تجربات کرنے پڑے۔ اول اول تو بیدلؔ کا رنگ اختیار کیا لیکن اس میں انہیں کیامیابی نہ ہوئی سخیوں کہ اردو زبان فارسی کی طرح دریا کو کوزے میں بند نہیں کرسکتی تھی مجبوراً انہیں اپنے جوش تخیئل کو دیگر متاخرین شعرائے اردو اور فارسی کے ڈھنگ پر لانا پڑا۔
صائبؔ کی تمثیل نگاری ان کے مذاق کے مطابق نہ ٹھہری میرؔ کی سادگی انہیں راس نہ آئی آخر کار عرفیؔ و نظیری کا ڈھنگ انہیں پسند آیا اس میں نہ بیدلؔ کا سا اغلاق تھا نہ میرؔ کی سی سادگی ۔ اسی لیے اسی متوازن انداز میں ان کا اپنا رنگ نکھر سکا اور اب غیب سے خیال میں آتے ہوئے مضامین کو مناسب اور ہم آہنگ نشست میں غالب نے ایک ماہر فن کار کی طرح طرفہ دل کش اور مترنم انداز میں پیش کرنا شروع کردیا ۔
عاشقانہ مضامین کے اظہار میں بھی غالبؔ نے اپنا راستہ نیا نکالا شدت احساس نے ان کے تخیئل کی باریک تر مضامین کی طرف رہ نمائی کی گہرے واردات قلبیہ کا یہ پر لطف نفسیاتی تجزیہ اردو شاعری میں اس وقت تک (سوائے مومنؔ کے ) کس نے نہیں برتا تھا ۔ اس لیے لطیف احساسات رکھنے والے دل اور دماغوں کو اس میں ایک طرفہ لذت نظر آئی ۔
ولیؔ ، میرؔ و سوداؔ سے لے کر اب تک دل کی وارداتیں سیدھی سادی طرح بیان ہوتی تھیں۔ غالبؔ نے متاخرین شعرائے فارسی کی رہ نمائی میں اس پر لطف طریقے سے کام لے کر انہیں معاملات کو اس باریک بینی سے برتا کہ لذت کام و دہن کے ناز تر پہلو نکل آئے ۔
غرض کہ ایسا بلند فکر گیرائی گہرائی رکھنے والا وسیع مشرب، جامع اور بلیغ رومانی شاعر ہندوستان کی شاید ہی کسی زبان کو نصیب ہوا ہو موضوع اور مطالب کے لحاظ سے الفاظ کا انتخاب (مثلاً جوش کے موقع پر فارسی کا استعمال اور درد و غم کے موقع پر میرؔ کی سی سادگی کا ) بندش اور طرز ادا کا لحاظ رکھنا غالب ؔ کا اپنا ایسا فن ہے جس پر وہ جتنا ناز کریں کم ہے اسی لیے تو لکھا ہے ۔
15؍فروری 1869 کو غالبؔ انتقال کر گئے۔ممتاز عظیم شاعر غالبؔ صاحب کے یومِ وفات پر موصوف کے اشعار جس کی تعداد کافی زیادہ ہے ان میں سے چند اشعار بطورِ خراجِ عقیدت…
آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے
—
آہ کو چاہیئے اک عمر اثر ہوتے تک
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہوتے تک
—
اس انجمنِ ناز کی کیا بات ہے غالبؔ
ہم بھی گئے واں اور تری تقدیر کو رو آئے
—
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
—
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
—
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
کچھ تو ہے، جس کی پردہ داری ہے
—
پلا دے اوک سے ساقی جو ہم سے نفرت ہے
پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
—
ثابت ہوا ہے گردنِ مینا پہ خونِ خلق
لرزے ہے موجِ مے تری رفتار دیکھ کر
—
جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یوں ہے کہ حق ادا نہ ہوا
—
دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں
خاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں
—
دردِ منّتِ کش دوا نہ ہوا
میں نہ اچھا ہوا برا نہ ہوا
—
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
—
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے
—
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
—
کعبہ کس منہ سے جاوگے غالبؔ
شرم تم کو مگر نہیں آتی
—
کوئی میرے دل سے پوچھے ترے تیر نیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی جو جگر کے پار ہوتا
—
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
—
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
—
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
—
دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
—
ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا
—
قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں
میں جانتا ہوں جو وہ لکھیں گے جواب میں
—
ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق
نوحہ غم ہی سہی نغمئہ شادی نہ سہی
—
بس ہجوم ناامیدی خاک میں مل جائے گی
یہ جو اک لذت ہماری سعی لاحاصل میں ہے
—
موت کا ایک دن معیّن ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
—
جوئے خون آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراق
مین يہ سمجھوں گا کہ شمعين دو فروزاں ہو گئیں
—
یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصالِ یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا
—
ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالبؔ کا ہے اندازِ بیاں اور(مرزا غالبؔ)

خصلتِ اسلام ہے حیا تحریر :جویریہ بتول
حیا…!!!
(:جویریہ بتول).
ہے راحتِ روح،یہ راحتِ جہاں اِسے راہ کا سامان رکھنا…
خصلتِ اسلام ہے حیا، یہی اپنی اک پہچان رکھنا…
آنکھوں کی چمک سےجھلکے،لبوں کی جنبش سے ٹپکے…
جلوت و خلوت میں بس خیال یہ ہر آن رکھنا…
زندگی کی راہ میں چڑھو فراز کہ نشیب میں اُترو…
حیا کو ہر گام سنبھال کر،بلند اپنی پہچان رکھنا…
پیامِ رفعت ہے زادِ جنت، اسی کی خاطر سبھی محنت…
اِسی پہ چلنا،اِسی پہ رُکنا،دُور خود سے شیطان رکھنا…
حیا ہے خیر ساری کی ساری،اس کی جزا ہے بہت پیاری…
نسلوں کی پہچان ہے یہ،مقام اپنا ذی شان رکھنا…
یہ اخلاق کی تشکیل ہے ،یہ ایمان کی تکمیل ہے…
حیا کی جانب رواں دواں،بھاری اپنی میزان رکھنا…
پھول لگا ہو جب ٹہنی سے تو رہتی ہے تازگی باقی…
توڑ کر خود کو خوشبو سے خود کو نہ نیلام کرنا…
گناہ بنیں نہ اپنے بھاری،یوں گزرے نہ زندگی ساری…
بچا کر خود کو آگ سے، راہِ جنت آسان رکھنا…
حیا ہی ہو راہ کی روشنی،نہیں اس کا کوئی ثانی…
دے حدود سے آگہی،کردار رفعت کا آسمان رکھنا…!!!
فیض احمد فیض کا 110 واں یوم پیدائش
معروف اور عالمی شہرت یافتہ شاعر فیض احمد فیض کا آج 110 واں یوم پیدائش منایا جارہا ہے۔
باغی ٹی وی : فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے انہوں نے تعلیم آبائی شہراورلاہورمیں مکمل کی، اپنے خیالات کی بنیاد پر1936 میں ادبا کی ترقی پسند تحریک میں شامل ہوئے۔
بعد ازاں درس و تدریس چھوڑ کردوسری جنگ عظیم میں انہوں نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیارکی لیکن بعد میں ایک بار پھرعلم کی روشنی پھیلانے لگے جوزندگی کے آخری روزتک جاری رہی۔
فیض احمد فیض کی شاعری کے انگریزی، جرمن، روسی، فرنچ سمیت مختلف زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں ان کے مجموعہ کلام میں ’نسخہ ہائے وفا، نقش وفا، دست صبا، سر وادی سینا، زنداں نامہ‘ اور دیگر قابل ذکر ہیں۔
فیض احمد فیض وہ واحد ایشیائی شاعر تھے جنہیں 1963 میں لینن پیس ایوارڈ سے نوازا گیا -فیض کی شاعری مجازی مسائل پر ہی محیط نہیں بلکہ انہوں نے حقیقی مسائل کو بھی موضوع بنایا۔
فیض کا کلام محمد رفیع، ملکہ ترنم نور جہاں، مہدی حسن، آشا بھوسلے اورجگجیت سنگھ جیسے گلوکاروں کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا جبکہ انہوں نے درجنوں فلموں کے لئے غزلیں، گیت اورمکالمے بھی لکھے –
تاہم انقلابی شاعر 20 نومبر 1984 کو 73 برس کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

ضمیر کی قید تحریر: جویریہ بتول
ضمیر کی قید…!!!
(جویریہ بتول).
اُلجھتی رہی لہریں بھی،طوفان بھی اُٹھتا رہا…
آتی رہی رکاوٹیں،راہِ در بھی مگر کُھلتا رہا…
قدم قدم کی ٹھوکروں نے بارہا کی گِرانے کی جستجو…
یقین تھا ایسا مگر جو گِر گِر کر سنبھلتا رہا…
شدت کے لمحات میں کہیں آنسو بھی چمک پڑے…
حوصلوں کی آغوش میں پھر دل یہ مچلتا رہا…
خطاؤں کے غبار تھے،کہیں بھول کے انبار تھے…
ہٹی نظر نہ رحیم کی،ابرِ رحمت سدا برستا رہا…
دنیا کی رنگینیوں نے کہیں حصار میں جو لے لیا…
ضمیر کا قیدی ضرب سے مسلسل ہی پلٹتا رہا…
جمی رہیں نظریں یہ امتحاں کے سود و زیاں پر…
ناکامی کا خوف تھا،جو اندر ہی اندر بڑھتا رہا…
نہیں ہو گی کچھ ناقدری ہر ایک اچھے عمل کی…
پڑھتا رہا پیغام یہ نفس،اور اُمید میں ڈھلتا رہا…!
احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی سینیٹر شبلی فراز
اسلام آباد: احمد فراز قومی ادبی سیمینار میں سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات کا کہنا ہے کہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی پروفیسر فتح محمد ملک نے کہا کہ احمد فراز کو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک نے کہا کہ احمد فراز نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کا کام لیا ہے۔
باغی ٹی وی : احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی،ا ن خیالات کااظہارسینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام احمد فراز ٹرسٹ کے اشتراک سے اردو کے عہد سازشاعر احمد فراز کی 90ویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقدہ ”احمد فراز قومی ادبی سیمینار“ میں کیا۔
شبلی فراز اس تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔ مجلس صدارت میں پروفیسر فتح محمد ملک اور محمد اظہار الحق شامل تھے۔ ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ابتدائیہ پیش کیا۔ محمد حمید شاہد، خواجہ نجم الحسن، اختر عثمان، عائشہ مسعود، ڈاکٹر عابد سیال، ڈاکٹر روش ندیم اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے اظہار خیال کیا۔
حسن عباس رضانے منظوم خراج پیش کیا۔ عدنان رضا ، بانو رحمت اور زاہد علی خان کلامِ فراز ساز و آواز کے ساتھ پیش کیا۔ نظامت محبوب ظفر نے کی۔
سینیٹر شبلی فراز،وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ، نے کہاکہ احمد فراز نے انسانیت کا پیغام دیا اور مظلوم اقوام کے حق میں آواز بلند کی۔
انھوں نے کہاکہ احمد فرازایک بااُصول انسان تھے، وہ کبھی اپنے نظریات اور آدرش سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ انھوں نے مظلوم کشمیریوں، فلسطینیوں اور افریقہ کے محکوم اقوام کے لیے شاعری کی صورت میں جدوجہدکی ۔ وہ محبت اور انسانیت کے شاعر تھے ۔ وہ پاکستان کی طرف سے محبت اور دوستی کے سفیر تھے۔
شبلی فراز نے کہا کہ احمد فرازنے کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لیے نہ صرف شاعری کے ذریعے جدوجہد کی بلکہ عملی طور پر بھی شریک رہے۔دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اردو سمجھی اور بولی جاتی ہے ،احمد فرازکانام عزت اور احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ وہ اپنی شاعری کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین ،اکادمی ادبیات پاکستان نے استقبالیہ کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترقی پسند تحریک کے نامور شعراءمیں شامل احمد فراز کی نظم اس فکر واحساس سے ترتیب پاتی ہے، جو ہمارے ماضی اور حال سے جُڑا ہوا ہے۔احمد فراز کی غزلیہ شاعری کا کمال یہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی شاعری سے دلوں کو جوڑنے کاکام لیا۔
احمدفراز زمانے کی پیدا کردہ ناہمواریوں کے خلاف اورقیام امن کے لیے مستقل لکھتے رہے۔احمد فراز اپنی غزلوں میں خیالات اور الفاظ کو ایک دوسرے کی طاقت بنا کر سامعین و قارئین کے دلوں کے اندر اُترنے کا فن جانتے تھے۔ یہ اُن کی شاعری کا کرشمہ ہے کہ وہ آج بھی عوام اور خواص دونوں سطح کے لوگوں میں یکساں مقبول ہیں۔ بلاشبہ اُن کی شاعری رومان اور مزاحمت کا حسین امتزاج ہے ۔
پروفیسر فتح محمد ملک نے صدارتی خطاب میں کہا کہ احمد فرازکو اپنی مٹی سے والہانہ محبت تھی، اُنہوں نے بہت سے ملی ترانے لکھے، جو مٹی کی خوشبوں اور وطن کی محبت سے مملو ہیں۔ وہ جس شدت سے محبت کرتے، اُسی شدت سے لکھتے تھے۔ وہ سچے اور کھرے انسان تھے وہ ادب اور شاعری کو سچائی کا محور سمجھتے تھے۔
لہٰذا اُنہوں نے ہمیشہ محبت اور انسانیت کی بات کی، اور ظلم وجبر کے خلاف زبردست مزاحمت کی، رومان اور مزاحمت دونوں صورتوں کی شاعری میںاحمد فراز نے کمال مہارت سے ندرت اور انفرادیت قائم کی ۔ جواُنہی کا خاصا ہے ، احمد فراز اپنی مثالی شاعری کی وجہ سے ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے ہیں۔
محمد اظہار الحق نےا اپنے خطاب میں خصوصیت کے ساتھ فراز صاحب کے ابتدائی مجموعوں اور درد آشوب کا ذکر کیا، جب ملکی سیاست میں انخطاط کا زمانہ تھا، اور علمِ احتجاج بلند کرنے والا کوئی نہ تھا، فرازصاحب نے اُس زمانے میں اُردو کو ایسے کمال اشعار عطا کیے جو انہی کا حصہ ہیں۔
محمد حمید شاہدنے کہا کہ احمد فراز نے اپنا مقام کسی بھی سیاسی یا عہدے کے سہارے کے بغیر اپنا مقام پیدا کیا –
خواجہ نجم الحسن نے کہا کہ میڈم نور جہاں ، سلمی آغا اور دیگر فنکار احمد فراز سے دلی محبت و ان کا احترام کرتے تھے-
اختر عثمان نے احمد فراز کو ہر دور کے شاعر قرار دیا –
عائشہ مسعود نے کہا احمد فراز سچے شاعروں کی حوصلہ افزائی کرتے اور ان سے شفقت کا رویہ رکھتے تھے-
ڈاکٹر عابد سیال نے کہا کہ احمد فراز مشہور ہونے کے ساتھ مقبول شاعر بھی تھے-
ڈاکٹر روش ندیم نے کہا احمد فراز اپنے ہمعصر کے ساتھ نوجوان شعرا کے لیے راہ نما شاعر ہیں اور رہیں گے اور ڈاکٹر حمیر ا اشفاق نے احمد فراز کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فراز کی شاعری اپنی خوبصورتی اور سچائی سے لوگوں کے دلوں کو گرماتی رہی گیاحمد فراز اپنی لاجواب شاعری کیوجہ سے رہتی دنیا تک لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔
پروگرام کے آخر میں فراز کی شاعری کو گلوکاروں نے گا کر نشست کو گل رنگ کر دیا ۔

ابن انشاء کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے
معروف شاعر اور مزاح نگار ابن انشاء کو مداحوں سے بچھڑے 42 برس بیت گئے۔
باغی ٹی وی :ابن انشاء کا اصل نام شیر محمد خان تھا وہ 15 جون 1927ء کو ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے، کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا، ان کی شاعری میں ’اس بستی کے ایک کوچے میں، چاند نگر، دل وحشی، بلو کا بستہ، کلام شامل ہیں۔
انہوں نے یونیسکو کے سفیرکی حیثیت سے یورپی اور ایشیائی ممالک کے دورے بھی کیے، آوارہ گرد کی ڈائری، ابن بطوطہ کے تعاقب میں، چلتے ہو تو چین کو چلیے، دنیا گول ہے اور نگری نگری پھرا مسافر‘ جیسے سفرنامے مزاحیہ انداز تحریر کیے۔
ابن انشاء نے چینی نظموں کے اردو میں تراجم کیے، مختلف اخبارات میں کالم لکھے، پاکستان ریڈیو اور ثقافتی اداروں سے بھی وابستہ رہے۔
ابن انشاء کی کئی غزلوں کو مختلف گلوکاروں نے گایا مگر ان کی ایک غزل ’’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ کو عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔
ابن انشاء کو تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا ابن انشا کا 11 جنوری 1978ء کو لندن میں انتقال ہوا۔

معروف شاعراور افسانہ نگار ایزد عزیزانتقال کرگئے
اردو اور پنجابی کے ممتاز شاعر اور افسانہ نگار ایزد عزیز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔
باغی ٹی وی : ایزد عزیز صوبہ پنجاب کے شہر ساہیوال میں اگست 1954 میں پیدا ہوئے ان کے والد پولیس ملازم تھے جب کہ ان کے اہل خانہ کے دیگر افراد بھی ادب سے وابستہ رہے ہیں۔
ایزد عزیز کا پیدائشی نام عثمان عزیز تھا تاہم ادبی دنیا میں انہوں نے ایزد کے نام سے الگ پہچان بنائی ایزد عزیز نے محض 17 برس کی عمر میں شاعری شروع کی تھی جب کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ "غروب شب” 1989 میں شائع ہوا تھا۔
ایزد عزیز کا شمار ملک کے ممتازشعرا اور افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا، ان کی تصانیف میں پنجابی شعری مجموعہ ’کلے رُکھ دا وین‘، سلام و منقبت پر مشتمل مجموعہ ’تسلیم‘ اور افسانوں پرمشتمل مجموعہ ’عالم ارواح کے مال روڈ پر‘ شامل ہیں۔
ایزد عزیز کی شادی ان کی تایا زاد کے ساتھ 1985 میں ہوئی ان کے دو بیٹے ابوذر عزیز، حمزہ عزیز اور ایک بیٹی زینب عزیز ہے۔
انہوں نے بینک میں ملازمت کرنے سمیت ریڈیو پاکستان میں بھی ملازمت کی اور بیرون ملک بھی گئےایزد عزیز زندگی کے آخری ایام تک ادب سے وابستہ رہے اور چند ماہ قبل تک وہ ادبی سرگرمیوں میں فعال دکھائی دیے جبکہ ان کا ایک شعری مجموعہ ان دنوں اشاعت کے مرحلوں میں تھا
ایزد عزیز کے انتتقال پر وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے بھی افسوس کا اظہار کیا جب کہ ادب سے وابستہ شخصیات نے ان کی موت کو ادبی دنیا کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا۔
ایزد عزیز کو ان کے آبائی ضلع ساہیوال کےماہی شاہ قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
سارہ خان کا مرحوم والد کے لئے جذباتی پیغام
سارہ خان کے والد انتقال کر گئے

مداح آج جون ایلیا کی 18 ویں برسی منا رہے ہیں
مداح آج ہر دلعزیز اور معروف شاعر جون ایلیا کی 18 ویں برسی منا رہے ہیں-
باغی ٹی وی : سید حسین جون اصغر نقوی جون ایلیا کے نام سے مشہور ہیں جو 14دسمبر سن 1931کو بھارت کے شہر امروہہ میں پید ا ہوئے جون ایلیا کو انگریزی،عربی اور فارسی پر مکمل عبور حاصل تھا ان کا پہلا شعری مجموعہ ’شاید‘کے نام سے شائع ہوا جس کو اردو ادب کادیباچہ قراردیا گیا اردو ادب میں جون ایلیا کے نثر اور اداریے کو باکمال تصور کیا جاتاہے۔
جون ایلیا کے شعری مجموعوں میں ’یعنی گمان ،لیکن ،گویا اور امور‘ شامل ہیں، بیشتر تصانیف کو پذیرائی ملی الگ تھلگ نقطہ نظر اور غیر معمولی، عملی قابلیت کی بنا پر جون ایلیا ادبی حلقوں میں ایک علیحدہ مقام رکھتے تھے-
جو ن ایلیا اپنی نوعیت کے منفرد شاعرتھے انہوں نے انگاروں پر چل کر شاعری کی ادب سے جڑے شعرا کا ماننا ہے کہ جون اپنی منفرد شاعری میں اکیلا تھا ان جیسے کی اب دوبارہ توقع نہیں کی جاسکتی۔
ان کی شاعری نہ ختم ہونے والے درد کی وجہ سے مشہور ہے۔ انہوں نے درد اور دکھ کا اظہار اس طرح سے کیا کہ کوئی بھی ان کی شاعری سے متاثر ہوسکتا ہے۔
ان کی شاعری میں درد کا بہاؤ ملتا ہے جس کی ہم منصبوں کی شاعری میں کمی ہے۔ جون ایلیا نحل پسند اور انتشار پسند تھے اسی طرح ان کی شاعری میں محبت کا ایک ممتاز فلسفہ تھا۔ ان کے مطابق ، محبت کی اعلی سطح در حقیقت عاشق سے علیحدگی کا آغاز ہے۔ جیسا کہ وہ کہتے ہیں: بہت نزدیک آتی جا رہی ہو ۔۔بچھڑنے کا ارادہ کرلیا کیا؟ اور یہ بھی: کیا کہا محبت جاودانی ہے؟آخری بار مل رہی ہو کیا؟
انہوں نے محبت ، فلسفہ محبت زندگی کے بارے میں بھی شاعری لکھی ، لیکن وہ درد کے شاعر کے طور پر مشہور ہیں-
علاوہ ازیں جون ایلیا ان نمایاں افراد میں شامل ہیں جنھوں نے قیام پاکستان کے بعد جدید غزل کو فروغ دیا وہ جون ایلیا کو میر اور مصفی کے قبیل کا انسان قراردیتے ہیں۔
جون ایلیا کی شاعری کو معاشرے اور روایات سے کھلی بغاوت سے عبارت کیا جاتا ہے اسی وجہ سے ان کی شاعری دیگر شعراسے مختلف دکھائی دیتی ہے انھیں معاشرے سے ہمیشہ یہ شکایت رہی کہ شاعر کو وہ عزت وتوقیر نہیں دی جاتی جس کا وہ حقدار ہے زمانے میں الگ شناخت رکھنے والے جون ایلیا 8نومبر 2002کو انتقال کرگئے تھے۔

نبیﷺ محترم ہمارے بقلم:جویریہ بتول
نبیﷺ محترم ہمارے…!!!
(بقلم:جویریہ بتول)۔
ہمیں جاں سے بھی پیارے…
ہیں نبیﷺ محترم ہمارے…
یہ جو مال و منال سارے…
اور خواہشات و خیال سارے…
سب اُن پہ فدا ہوں گے…
اب عہد یہ وفا ہوں گے…
کھولیں گے جو زبانیں اپنی…
لہرائیں گی یہ بانہیں آہنی…
ہم تن من یہ واریں گے…
سرِ عام یہ پکاریں گے…
فداک ابی و امی و جسدی…
پیارے نبی اے پیارے نبیﷺ…
قدرت کا کوڑا برسے گا اِن پر…
ہو جائے سر یہ بوجھل تن پر…
نہ کم روشنی مہ کی ہو گی…
نہ دمک رستوں کی کھو گی…
یہ نامِ ارفع رفعت پہ رہے گا…
ہر اک شاتم خود ہی کہے گا…
میں ذلیل تھا، بے دلیل تھا…
یہ نامِ محمد کتنا جمیل تھا…!!!
وہ جو اپنے اور پرائے کے…
سب بے سہارا و سرائے کے…
جو عارفوں اور منکروں کے…
سب دوستوں اور دشمنوں کے…
یکساں ہی محافظ و رہبر ہیں…
وہ بہاروں کے ہی پیام بر ہیں…!!!
(ﷺ،ﷺ،ﷺ،ﷺ ،ﷺ)۔









