Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم   بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمارے لیئے تو کافی ہے بس بات آپ کی…
    ہماری چاہتوں کا مدعا ہے ذات آپ کی…
    ہمارے سفر کی ہر روشنی آپ کے نام سے ہے…
    ہماری فلاح تو آپ کے لائے نظام سے ہے…
    ہمارے شکستہ دلوں کا سکوں آپ کے ذکر میں ہے…
    ہمارا جینا اُمَّت میں آپ کی،ہمارے فخر میں ہے…
    آرامِ جاں ہمارا اس نام کی بدولت ہے…
    کرےجو توہین اس کی سدا اس سے عداوت ہے…
    دشمن آپ کا ہر دور میں بے نام ہی رہے گا…
    ذلتوں سے دوچار وہ ہر گام ہی رہے گا…
    یہ نام تو روشنی ہے،اسے روکو گے کہاں تک؟
    کرے گی پیچھا تمہارا تم پہنچو گے جہاں تک…
    رب کی پکڑ کا کوڑا برسے گا ہر گستاخ پر…
    یہ وعدۂ ربی ہے، ہو گا پورا ہر نفاق پر…
    تمہاری سیاہ کاریوں سے پردہ اُٹھتا ہی رہے گا…
    یہ نامِ محمد تا قیامت اُبھرتا ہی رہے گا…!!!!

  • بے مثل لاجواب میرا  کملی والا صلی اللہ علیہ وسلم    از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    بے مثل لاجواب میرا کملی والا صلی اللہ علیہ وسلم از قلم :عظمی ناصر ہاشمی

    بے مثل۔۔۔۔لاجواب ۔۔۔۔میرا
    کملی والا( صلی اللہ علیہ وسلم )

    از قلم عظمی ناصر ہاشمی

    میرے آقا جیسا جگ میں آ سکتا نہیں
    آپ کی صفات جیسا خلقت میں سما سکتا نہیں

    رب کے بعد رتبہ میرے مصطفی کا تو ہے
    جو نام ہے خدا کے بعد صل علی کا تو ہے

    میرے نبی نے ساری خصلتیں پائیں انبیاء کی
    میرے نبی نے کل خوبیاں پائیں انبیاء کی

    خوب اپنی ذات میں سب سے وہ نرالا
    بے مثل ۔۔۔۔لاجواب۔۔۔۔ میرا کملی والا

    توحید سکھائی ہم کو یہ کہ اک رب کو پکارو
    صراط مستقیم پہ چلو زندگی سنوارو

    کفر کے بتوں کو کر دیا آپ نے پاش پاش
    عرب و عجم پہ چھاکر بدل دی بودوباش

    ہر پارے میں دیتاہے قرآن گواہیاں آپ کی
    مبشر،نزیر ،سراج منیر ہیں صفا ئیاں آپ کی

    مدثر، مزمل، یاسین کیسےپیارے نام ہیں
    خاتم الانبیاء ، امام الانبیاء خاص الخاص کام ہیں

    اپنی امت کا خیال ہر جہاں انہوں نے رکھا
    ہماری خاطر طائف کے پتھروں کا دکھ سہا

    مسلم امہ کی بخشش واسطے روتے تھے رات بھر
    رب سے مغفرت کے طلبگار سوتے نہ تھے رات بھر

    یا الہی! پیارے نبی کے نقش قدم پر ہم کو چلا
    آ بڑی مشکل سے پایا ہے دین اس کشتی کو پار لگا

  • نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم    بقلم:جویریہ بتول

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقلم:جویریہ بتول

    نعت…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    آپ رحمتِ عالم بن کر آئے…
    ہر خلق و بشر کے لیئے…
    آپ نصابِ ہدایت وہ لائے…
    جو سلیقہ بنا سفر کے لیئے…
    دیا وہ کامِل نظام ہم کو…
    سدا جو اثاثہ فخر کے لیئے…
    شبِ تیرگی کی سب حدیں…
    مِٹ گئیں روشن سَحر کے لیئے…
    ہر رِستا زخم مندمل ہو گیا…
    کہ قانون تھا بحر و بر کے لیئے…
    چُن لیئے آپ نےجتنے تھے کانٹے…
    کھِلے پھول ہر رہ گزر کے لیئے…
    وہ آئے تاجِ ختمِ نبوت سجائے…
    ہے دلیل یہ ہر اہلِ نظر کے لیئے…
    آپ کی تعلیم ہے وہ مینارۂ نور…
    بنے روشنی جو ہر رہبر کے لیئے…
    کوئی کون ہے،کہاں ہے اور کہیں…؟
    فیضِ عام ہے ہر طالبِ ثمر کے لیئے…
    میرے دل کا سکون و قرار ہیں وہ…
    جن کا اسوہ کامِل تا حشر کے لیئے…!!!

  • یہ نامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم  بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بقلم:جویریہ بتول

    یہ نامِ محمد(صلی اللّٰہ علیہ وسلم)…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    ہمارے لیئے تو کافی ہے بس بات آپ کی…
    ہماری چاہتوں کا مدعا ہے ذات آپ کی…
    ہمارے سفر کی ہر روشنی آپ کے نام سے ہے…
    ہماری فلاح تو آپ کے لائے نظام سے ہے…
    ہمارے شکستہ دلوں کا سکوں آپ کے ذکر میں ہے…
    ہمارا جینا اُمَّت میں آپ کی،ہمارے فخر میں ہے…
    آرامِ جاں ہمارا اس نام کی بدولت ہے…
    کرےجو توہین اس کی سدا اس سے عداوت ہے…
    دشمن آپ کا ہر دور میں بے نام ہی رہے گا…
    ذلتوں سے دوچار وہ ہر گام ہی رہے گا…
    یہ نام تو روشنی ہے،اسے روکو گے کہاں تک؟
    کرے گی پیچھا تمہارا تم پہنچو گے جہاں تک…
    رب کی پکڑ کا کوڑا برسے گا ہر گستاخ پر…
    یہ وعدۂ ربی ہے، ہو گا پورا ہر نفاق پر…
    تمہاری سیاہ کاریوں سے پردہ اُٹھتا ہی رہے گا…
    یہ نامِ محمد تا قیامت اُبھرتا ہی رہے گا…!!!!

  • نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم    بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم بقلم: محمد نعیم شہزاد

    نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم
    محمد نعیم شہزاد

    درود اس پر (یہ) بزمِ ہستی سجائی جس نے
    یادِ باری قلبِ غافل میں بسائی جس نے

    راہ دکھلا کر بھٹکے ہوئے عدم کے راہی کو
    زندگی کیا ہے؟ کٹے کیسے؟ یہ بات سکھائی جس نے

    بے مثل وصف ہیں جس کے وہ ذات گرامی اس کی
    امت وسط کی ہر (اک) شان بڑھائی جس نے

    خُلق قرآں کا مجسم، صدق و صفا کا پیکر
    حسن دنیا کی وہ تمثیل دکھائی جس نے

    پر تبسم ہی رہے جھیل کے ہر ظلم و جفا
    وہ سراپائے رحمت کہ دعا دی جس نے

    ان کی الفت ہی ایماں کا پیمانہ ٹھہری
    زندگی مرضئ مالک پہ بیتائی جس نے

    کیوں نہ خائف ہو ابلیس اس کے چرچے پر
    اس کی تلبیس سے بچنے کی راہ سجھائی جس نے

    عین لازم ہے توقیر اس کی ہر کس و نا کس پر
    بندہ و آقا کی تفریق مٹائی جس نے

    اس کی ناموس پہ اک حرف نہ آنے دیں گےنہ
    بھلایا کسی بھی حال میں ہم کو جس نے

    امتی اس پہ فدا ہوں دل و جاں سے نعیم
    دہر سے نام مٹا دیں گے کی جسارت جس نے

  • پردہ تو مسلمہ عورت کا وقار ہے    بقلم:جویریہ بتول

    پردہ تو مسلمہ عورت کا وقار ہے بقلم:جویریہ بتول

    پردہ…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    مسلمہ عورت کا یہ وقار ہے…
    پردہ تو اسلام کا شعار ہے…
    نکلی جاہلیت کی رسموں سے…
    اُس بنتِ حوّا کا یہ معیار ہے…
    کئی لوگوں کی تھی ملکیت…
    یہ زندگی بھی تھی اک اذیت…
    اُس درد بھری فضا سے نکل کر…
    ملا یہ پردے کا حصار ہے…
    یہ تنگ نظری سے تحفظ ہے…
    یہ ہوس پرستی پر ضرب ہے…
    ہر ایک میلی نظر سے سدا…
    بچتے رہنے کا دل سے اقرار ہے…
    کردار کی ہے یہ پاکیزگی …
    شر سے حفاظت ہے یہ پیشگی …
    حیا کی ترویج کا ہے سامان…
    اخلاقیات کا یہ معمار ہے…
    نہیں یہاں کوئی بے وقعتی…
    نہ ہر اک سے ہے بے تکلفی…
    نہ جھوٹے عہد و بیانِ حلفی…
    سیدھی راہ ہی یہاں گُلزار ہے…
    سدا کرے عطا یہ شان بُلند…
    ہر برائی کے آگے ہے اک بند…
    حدود و قیود ہیں یاں ارجمند…
    یاں ہر گھٹیا سوچ مسمار ہے…!!!
    جو دل سے اس کا کرے احترام…
    فرض سمجھ کر اس کا اہتمام…
    ہو اسی پہ زندگی اور اختتام…
    وہ عظمت کاچمکتا اک مینار ہے…!!!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • اک ذرا سے جھٹکے سے  بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے بقلم:جویریہ بتول

    اک ذرا سے جھٹکے سے…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    اک ذرا سے جھٹکے سے…
    جب دھرتی کاسینہ شق ہوا…
    کئی چاند چہرے چُھپ گئے…
    اور زندگی کا رنگ فق ہوا…
    سب موج میلوں میں گُم تھے…
    کہیں خوشیاں،کہیں غم تھے…
    دلوں میں لیئے کئی ارمان…
    آنکھوں میں کُچھ خواب نم تھے…
    کہ قدرت کے اک اشارے سے…
    کیا خوفناک تھا وہ اُفق ہوا…؟
    سورج کی اُن کرنوں میں …
    گردش کرتی خبروں میں …
    موت کا ہی رنگ نِکھرا…
    ہر سو اک غم بِکھرا…
    اس دنیا کی بے ثباتی کا…
    اور دولت آتی جاتی کا…
    سب پختہ گھر،عمارتوں کا…
    منصب اور وزارتوں کا…
    زعم زمیں بوس ہوا…
    یہ اک جھٹکے کا حال تھا…
    جب بگڑا حسن و جمال تھا…
    وہ بھاری چیز پھر کیا ہوگی؟
    ہیں جس سے غفلت میں سبھی…
    جب پردہ اُٹھے گا رازوں سے…
    نکلیں گے سب حجابوں سے…
    سب گزریں گے حسابوں سے…
    اُس سختی کا عالم کیا ہو گا…؟
    ہر غاصب،ظالم کھڑا ہو گا…!!!
    اُس وقت کو ہر دَم یاد رکھو…
    آخرت کا توشہ آباد رکھو…
    موت کے لیئے ہم تیار رہیں…
    کسی موڑ بھی نہ غدار رہیں…!!!!!
    (8 اکتوبر 2005)۔

  • اس دیس کی ساری ماؤں کو ، اسلام سکھانا واجب ہے  شاعری:  فاخرہ تبسم

    اس دیس کی ساری ماؤں کو ، اسلام سکھانا واجب ہے شاعری: فاخرہ تبسم

    جس دیس کی مائیں بچوں کو

    مغرب کے سبق سکھاتی ہوں

    جس دیس کی مائیں بچوں کو

    گانوں کی دُھن پہ سلاتی ہوں

    جس دیس کی مائیں بچیوں کے

    فحا شی کے نام پہ اترائیں

    جس دیس کی مائیں مغرب کی

    دلدل میں خود ہی گر جائیں

    جس دیس کے چوراہوں پر

    تصویریں ہو ں عریانی کی

    وہاں زنا کی شرح بڑھ جائے

    تو پھر بات ہے کیا حیرانی کی

    جس دیس کے علماء بھی

    باتوں کو خوب گھماتے ہوں

    اور اپنی انا کی خاطر

    نفرت کے بیج اگاتے ہوں

    ووٹوں کے نام پہ لوگوں کی

    عقلوں سے کھیلا جاتا ہو

    شعور اُڑا کے ذہنوں کے

    اس قوم کو بیچا جاتا ہو

    جس دیس میں جوہر تربیت کے

    ناپید ہو جائیں بچپن سے

    جان چُھڑائیں گے پھر وہ

    تہذیب کے ہر اک بندھن سے

    جس دیس میں تربیت بچوں کی

    نیٹ اور کیبل کرتے ہوں

    اس دیس کے مستقبل کے معمار

    پھر کیوں نہ آوارہ پھرتے ہوں

    اس دیس میں قاتل میڈیا پر

    آواز اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کے ہراک باسی پر

    سوال اٹھانا واجب ہے

    اس دیس کی ساری ماؤں کو

    اسلام سکھانا واجب ہے

    اس دیس کی مکتب گاہوں میں

    قرآن پڑھانا واجب ہے

    انسان بنانا واجب ہے

    شعور جگانا واجب ہے

    شاعری: فاخرہ تبسم

  • نبی کا یارِ غار  بقلم:جویریہ بتول

    نبی کا یارِ غار بقلم:جویریہ بتول

    نبی کا یارِ غار…
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    نبی کو جس سے پیار تھا…
    سب سے پہلے قبول کر کے…
    جو اسلام کا وفادار تھا…
    لقب صدیق کا تھا پایا…
    سچائی کو ہرسو پھیلایا…
    حلقۂ اسلام میں جس نے…
    کئی معتبر لوگوں کو لایا…
    صداقت جس کا شعار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    ہر اک ستم کے سامنے…
    جو ڈٹا ہوا اک پہاڑ تھا…
    سفر،حضر میں ساتھ رہا…
    نہ ادھر گیا، نہ اُدھر گیا…
    ہجرت کی راہوں پر بھی…
    ساتھ ساتھ چلا تھا جو…
    جسم پہ ڈنگ کھا کر بھی.
    ذرا بھی نہ ہلا تھا جو…
    وفا کا جو شہ سوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…!!!
    جو مصلٰی امامت پہ رہا…
    نبی کی زندگی میں کھڑا…
    جنت کے ہر دروازے سے جائے گا بلایا…
    صدیق کے بارے نبی نے یہ فرمایا…
    ہر لمحہ جو غم خوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    بند کر دو ساری کھڑکیاں…
    ایک مگر کھُلی رہے…
    صدیق کے گھر کی طرف سے…
    وفاؤں کی خوشبو گھُلی رہے…
    فتنۂ اتداد پر جو ننگی تلوار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    ہر ایک کا بدلہ چکا دیا ہے…
    احسانات کا بار اتار دیا ہے…
    مگر اک صدیق کا ہے باقی…
    جو بہت جزاؤں کا حقدار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…
    جو واسطے شجرِ اسلام کے…
    تا قیامت رہتی فصلِ دوام کے…
    لا الہ الا اللہ کے پھیلتے پیام کے…
    کیاخوب صداقت کی بہار تھا…
    وہ نبی کا یارِ غار تھا…!!!
    نبی کو جس سے پیار تھا…!!!
    (رضی اللّٰہ عنہ)۔
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان   بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی شان بقلم:جویریہ بتول

    حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ…!!!
    (بقلم جویریہ بتول)۔
    پیارے نبی کا پیارا…
    ریحان حسین ہیں…
    علی و فاطمہ کے دل کا…
    اک ارمان حسین ہیں…
    جنہیں گود میں بٹھا کر…
    پیارے نبی نے چوما…
    آنکھوں کی ہیں ٹھنڈ…
    اور جان حسین ہیں…
    کندھوں پر بٹھا کر…
    جھولا جنہیں جھُلایا…
    بانہوں میں جنہیں سمیٹا…
    وہ ذی شان حسین ہیں…
    حسین مجھ سے ہے…
    اور میں حسین سے ہوں…
    کہا نبی نے جنت میں…
    سردارِ نوجوانان حسین ہیں…
    علمی کمالات سے تھے جو مزین…
    دلائل وحق کی زبان حسین ہیں…
    جرأت و شجاعت کے پیکر…
    سخاوت کا بحرِ بیکراں حسین ہیں…
    صحابہ کے حصار میں…
    محبتیں جنہوں نے پائیں…
    ہر اہلِ ایمان کے دل کا…
    قرار و ایمان حسین ہیں…
    نانا کے نقشِ قدم پر…
    چلتے ہوئے اک سفر ہے…
    وقتِ کرب میں وفاؤں کا…
    بھاری سامان حسین ہیں…
    کوفی تھے جو لا یوفی…
    سازش تھی جو اندر…
    دکھائی نہ تھی کوئی…
    گرمی صحرا کی تھی…
    اور پریشان حسین ہیں…
    لبِ فرات پہ جو تھی…
    پیاس اور تشنہ لبی…
    چٹیل میدان میں کھڑے…
    کوہِ ہمت کا نشان حسین ہیں…
    قاتلوں کے تھے جو خنجر…
    وہ دل تھے کیسے بنجر…؟
    نبی کی گود میں پالے…
    نشانہ جہاں حسین ہیں…!
    وہ جاں نثار سا قافلہ…
    جو قلیل سا تھا کھڑا…
    کیسی بے مثل اطاعت تھی…؟
    واں قیادت کی داستان حسین ہیں…
    کیا چلتے ہوئے جو عزم تھا…!!!
    اور جو نرمی کا رنگِ رزم تھا…
    دمِ آخر تک صلح کی کاوشیں…
    رحم و مودت کا اک پیمان حسین ہیں…
    دھوکے سے تھا جو بلایا…
    غلط فہمیوں سے ستایا…
    اُن سازشیوں کے سامنے…
    بنے اک چٹان حسین ہیں…
    کربلا کی خاک پر ہےرقم…
    اک مظلومیت کی داستاں…
    اُس داستان کا روشن…
    عنوان حسین ہیں…
    شہادت کا تاج پہن کر…
    وہ جنت مکین ہوئے…
    مومنوں کے دلوں میں…
    آج بھی تاباں حسین ہیں…!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤