Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • کب تلک تلخ اوقات رہیں گے بندائے مزدور کے یا رب  تحریر: حفیظ اللہ سعید

    کب تلک تلخ اوقات رہیں گے بندائے مزدور کے یا رب تحریر: حفیظ اللہ سعید

    میری تربت بھی نہ ملے تجھ کو آنسو بہانے کے لیے
    اب تجھے وقت میسر ہوا مجھ کو منانے کے لیے

    تہی دامن کر دیا جب مجھے عشق نے تیرے
    کیا دست سوال دراز پھر مجھے آزمانے کے لیے

    میں اپنے راہ پہ گامزن تو اپنے مدار میں محو گردش
    اب تو مراسم ہیں فقط دنیا کو دکھانے کے لیے

    خطاء ہے گر کوئی میری تو الزام لگایے بھری بزم میں
    یہ مناسب نہیں چپ ہو جائیے تعلق پرانے کے لیے

    کب تلک تلخ اوقات رہیں گے بندائے مزدور کے یا رب
    کب تلک خود کو بیچے گا غریب پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے

    حفیظ اللہ سعید
    #نوائے_حفیظ
    #سچیاں_گلاں

  • والدین قدرت کا ایک عظیم  نشان   تحریر:اخت عمیر

    والدین قدرت کا ایک عظیم نشان تحریر:اخت عمیر

    والدین

    از قلم۔۔۔۔۔اخت عمیر

    ہوں والدین جس گھر میں وہاں جنت کا سماں ہے۔۔۔!!
    جہاں موجود نہ ہوں وہ تو ویران مکاں ہے۔۔۔۔!!
    بخوبی نبھا کر گھر کی ساری ذمہ داریاں امی جان۔۔۔!!
    وہ خبر بھی نہیں ہونے دیتیں کہ ان کو بھی تھکان ہے۔۔۔!!
    ہر ایک غم کو مسرت میں تبدیل کر دیتی ہیں وہ۔۔۔۔!!
    سنا نہ لوں جب تک درد دل ہوتا ہی نہیں اطمینان ہے۔۔۔!!
    سہہ کر اولاد کا ہر ایک دکھ اپنی ذات پر بابا جان۔۔۔۔!!
    مہیا کرتے وہ کس قدر خوبصورت امان ہیں۔۔۔۔!!
    راستے کی ہر ایک اذیت کو ہٹا دیتے ہیں وہ۔۔۔!!
    معاشرے کی ستم ظریفیوں کے سامنے بمثل چٹان ہیں۔۔۔!!
    اولاد کے ہر ایک درد پر تڑپ اٹھنے والے والدین۔۔۔۔!!
    مسکرا کر یہ بھی چھپا جاتے ہیں کہ وہ پریشان ہیں۔۔۔۔!!
    زندگی کی ہر ایک الجھن کو سلجھا دیتے ہیں وہ۔۔۔۔!!
    والدین تو قدرت کا ایک عظیم نشان ہیں۔۔۔!!
    سلامت رکھنا ان کو ہمیشہ یہ التجا ہے تجھ سے یا رب۔۔۔!!
    محبت کا سمندر ہیں وہ ایک عظیم سائبان ہیں۔۔۔۔۔!!

  • پھر تو ایک روشن ستارہ بن جائے  تحریر:اخت شیرازی

    پھر تو ایک روشن ستارہ بن جائے تحریر:اخت شیرازی

    اخت شیرازی
    *دعا*

    خدا تیرا مقدر بدلے
    پھر تو آفتاب سی کرنیں بخشے
    تو اک جرات و بہادری کا نشاں بنے
    اور قاسم و ایوبی کی پہچاں بنے

    تو رہے سلامت ہمیشہ یونہی
    تیری عبادتوں میں کمی نہ آئے
    تیری عزت و رفعت رہے سلامت
    تیرے جذبوں میں یونہی قرار آئے

    پھر یوں ہو اک دن
    تیرے جذبے ابھریں
    تلک ذمین سے فلک تک جائیں
    تیرے خیال حقیقت میں بدلیں
    پھر تو اک روشن ستارہ بن جائے
    *آمین*
    —————————————-

  • اے کالی سہمی سی راتو   تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو تحریر:ثمرین اختر اصباح

    اے کالی سہمی سی راتو!
    کچھ ٹھہرو سورج نکلے گا
    کچھ ٹھہرو اے زنجیر مری
    ہے آزادی تقدیر مری
    یہ آگے بڑھتے ظالم ہاتھ
    اب کاٹے گی شمشیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    کچھ ٹھہرو، تھام کے دل دیکھو
    اے قاتل ! اے بزدل! دیکھو
    یہ خون کا دریا بہتا ہے
    یہ تم سے بھی کچھ کہتا ہے
    اب بچہ بچہ وادی کا
    برہان سا بن کے نکلا ہے
    تم روک سکو گے کتنوں کو
    تم خون کرو گے کتنوں کا
    یہ خون محبت والوں کا
    آزادی کے متوالوں کا
    سب شرق پہ جمتا جائے گا
    اور آزادی کا سورج پھر
    اس اور نکل کے آئے گا
    یہ خون تو ہے توقیر مری
    ہے وادیِ کشمیر مری

    تم دیکھو گے ،ہاں دیکھو گے
    اب خون سے لپٹے سب لاشے
    اس سبز ہلالی پرچم میں
    یہ سبز ہلالی پرچم ہی
    اب وادی میں لہرائے گا
    کہ وادی میں ہے آئی جاں
    اب جاگ اٹھا کشمیر میاں
    سب بچے بوڑھے اور جواں
    صبح شام پکاریں ایک زباں
    کشمیر بنے گا پاکستاں
    کشمیر بنے گا پاکستاں

    قلمِ خود
    ثمرین اختر اصباح

  • حقیقت کا رنگ …!!! بقلم:جویریہ بتول

    حقیقت کا رنگ …!!! بقلم:جویریہ بتول

    حقیقت کا رنگ …!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    اس راہ زندگی میں چلتے ہوئے…
    ان پگڈنڈیوں پہ مچلتے ہوئے…
    کہیں صحراؤں کی آغوش میں…
    کبھی تند ہواؤں کے دوش میں…
    کہیں دریا کی لہروں کا نظارہ کرتے…
    کبھی رفعتوں پہ چمکتا ستارہ دیکھتے…
    کبھی مسکرانا چاند کی چاندنی سے…
    یا کہیں کھلکھلانا گلشن کی جوانی سے…
    کوئی سمجھ سکا یا بھُلا گیا…
    رہا سدا کا وفادار کہ کردغا گیا…
    موسم کے سرد و گرم سے…
    حالاتِ خوشی و غم سے…
    حسن اخلاق کے سفرِ پیہم میں…
    رویوں کی نرمی و خم سے…
    کوئی دل کے تار ہلا گیا…
    لہجے کی تلخی و ضرب سے…
    سرِ بزم کوئی نیچا دکھا گیا…
    کوئی رازِ دل کا امین ہوا…
    دل کی گہرائی کا مکین ہوا…
    کوئی ظاہر کی مسکراہٹ میں…
    جوش کی اُٹھتی آہٹ میں…
    وفاداری کے روپ میں…
    تپتی،تڑپتی دھوپ میں…
    کوئی کر جب وارِ جفا گیا…
    ہاں جگا گیا…
    کُچھ سکھا گیا…
    آنکھوں کے سامنے آئے…
    پردے سب ہٹا گیا…
    قدموں پہ اپنے چلنے کا…
    سلیقہ بھی بتا گیا…
    کہ اس جہاں میں سب سہارے…
    عارضی ہیں…
    بیوپاری ہیں…
    مداری ہیں…
    مخلصی کی پانیوں میں…
    بے غرض سی روانیوں میں…
    حقیقی چہرہ دکھانے والے…
    اندر باہر مسکرانے والے…
    حقیقت کی رہ دکھانے والے…
    _بہت کم ہیں__
    جو چلچلاتے زخموں کا…
    ہوتے دیرپا مرہم ہیں…
    ان رنگ برنگی راہوں پر…
    طغیانی کہ ساحلوں پر…
    ہیں تماشائی بہت…
    اور جو گہرا زخم ہیں…!!!
    حقیقت کے روپ میں چہرے…
    یاں بہت کم ہیں…
    ہاں بہت کم ہیں…!!!!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں؟   بقلم:جویریہ بتول

    وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں؟ بقلم:جویریہ بتول

    کہاں ہیں…؟؟؟
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    قربتوں میں قیمت کے پیام کہاں ہیں…؟
    میسر چیزوں میں چاہت کے کام کہاں ہیں…؟
    گزر ہی جائے گی یہ حبس کی رُت بھی…
    زندگی میں موسموں کو دوام کہاں ہیں…؟
    یہ زندگی حسیں ہے اب اک حد اور فاصلے سے…
    اُلفتوں کے مشروب کے وہ جام کہاں ہیں…؟
    اخلاص کو دیکھتی ہے دنیا مطلب کے آئینہ میں…
    مخلصی و خیرخواہی کے اب نام کہاں ہیں…؟
    سوچوں کی وسعتوں نے کیوں سمیٹ لیئے دامن…
    شعور کی بلندی کے قدر و دام کہاں ہیں…؟
    ہر اک مسافر چلتا ہے اب اپنی ہی راہوں پر…
    وہ اتفاق کے قافلے کے آثار و گام کہاں ہیں…؟
    ظاہر کی آزادی نے کر لی ہے باطن پہ گرفت کڑی…
    دل کی سیاہیوں کے اب درد و آلام کہاں ہیں…؟
    شہرت کے ہوئے ہم رسیا،اور داد و تحسین کے حریص…
    وہ دورِ عمر جیسے خواص و عوام کہاں ہیں…؟
    چھپ چھپ کر جو اپنے عمل و فرض ادا کریں…
    وہ دیرپا اثرات اور سکون کے انجام کہاں ہیں…؟
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں    بقلم:اخت عمیر

    ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں بقلم:اخت عمیر

    بیٹیاں…!!!
    بقلم:اخت عمیر
    بابا کا مان ہیں یہ بیٹیاں
    ماوں کی شان ہیں یہ بیٹیاں
    والدین پر جان نچھاور کرنے والی…
    جنت میں لے جانے کا سبب یہ بیٹیاں…
    گھروں میں رونق کا سبب ہیں یہ
    چھوٹی چھوٹی باتوں پر آنسو بہاتی یہ بیٹیاں
    ہوتی ہیں کس قدر نازک یہ کلیاں…؟
    ذرا سی چوٹ پہ مرجھا جاتی ہیں یہ بیٹیاں
    نکاح کے بندھن میں جب یہ بندھ جاتی ہیں
    کر جاتی ہیں بابا کا گھر ویران یہ بیٹیاں
    نیا گھر گلستان بنانے کی خاطر…
    دل و جان وار دیتی ہیں یہ
    ہوتی ہیں کس قدر وفادار یہ بیٹیاں…
    لیکن افسوس ہے اس معاشرے کی بے حسی پر
    دل غمگین ہے بیٹیوں کی بے بسی پر
    ہیں ناکردہ گناہوں کی بھی ذمہ دار یہ بیٹیاں
    جہیز کی کمی پر طعنوں کا شکار ہیں
    لڑکیوں کی پیدائش پر بھی یہ قصوروار ہیں
    اپنی بیماریوں کی بھی خود ہی ذمہ دار ہیں یہ بیٹیاں
    کہیں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں…
    کہیں بے جا پابندیوں میں جکڑ دی جاتی ہیں یہ بیٹیاں
    وہ سب حق جو لڑکوں کے لیے ہیں جائز…
    ان پر نا حق رہتی ہیں یہ بیٹیاں…
    بیٹیاں رحمت ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا…
    پھر کیوں ان کو زحمت معاشرے نے بنایا ؟
    ہیں کیوں اس دور میں پریشان یہ بیٹیاں؟
    الہی دعا ہے کہ لکھ دے تو ہر بیٹی کا نصیب اچھا
    یا رب ہمیں کر دے تو پھر سے اسلام پر عمل پیرا
    پھر خوش رہیں، سدا مسکراتی رہیں یہ بیٹیاں…!!!!!!

  • قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان    بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان بقلم : قرأةالعين عینیہ شاہین

    درد امت
    ظلم و ستم کی انتہا ہے وادئ کشمیر میں
    سسک رہی ہےانسانیت وادئ کشمیر میں

    کیوں خاموش ہے اس سربریت پہ سارا جہان
    قوت گویائی تیری ہوئی سلب کیوں اے انسان

    حقوق انسانی کے دعویدار بھی خموش ہیں
    یا سب دعویدار ہی یاں ضمیر فروش ہیں

    ان معصوموں پہ ڈھایا گیا ظلم کا کوہ گراں
    ان کو بھی ملے دنیا میں ان کے درد کا درماں

    کوئی تو کرے بلند صدا بنے ان کا غمگسار
    کہ جل گئے سب کھیت گھر گلستان و گلزار

    پنجئہ جبر میں اذیتیں، مصیبتیں، صعوبتیں
    ہیں کس قدر کٹھن ان کی حیات کی مسافتیں

    خواب خرگوش میں گم ہوئے ہیں دنیا کے حکمران
    یو۔این سمیت سعودیہ، انڈونیشیا و پاکستان

    ہیومن رائٹس و میڈیا کا بھی یاں فقدان ہے
    ہر باضمیر فردا اس جبر پہ ہاں پریشان ہے

    سلامتی کونسل اور مسلم اتحاد کا کیا کمال ہے
    شاہین کا انسانیت کے نام لیواؤں سے یہ سوال ہے

    قرأةالعين عینیہ شاہین

  • مجھے کشمیر کہتے ہیں    بقلم:مریم وفا

    مجھے کشمیر کہتے ہیں بقلم:مریم وفا

    کشمیر…!!!
    [بقلم:مریم وفا]۔
    میں دنیا کا ایک خطہ ہوں،مجھے کشمیر کہتے ہیں…
    میری جنت سی دھرتی پر دریا خون کے بہتے ہیں…
    میرے پھولوں کے چہروں پر،وحشت رقص کرتی ہے…
    کہ میرے گلشن کے آنگن میں درندے راج کرتے ہیں…
    میں اپنوں کا بھی ستایا ہوں،مجھے غیروں سے کیا شکوہ؟
    میرے اپنے بھی اب تو دمِ اغیار بھرتے ہیں…
    میری ماؤں کی چیخوں کو نہیں سنتا کوئی اب تو…
    وہ جن ماؤں کے بیٹوں کے لاشے روز ہی گرتے ہیں…
    میرے گلشن کے پیڑوں پر بسیرا ہے خزاؤں کا…
    مگر میرے مکین اب بھی اُمیدِ بہار رکھتے ہیں…!!!!
    ==============================

  • بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے    بقلم:جویریہ بتول

    بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے بقلم:جویریہ بتول

    بھُلا کر…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    بھُلا کر تلخیوں کے ہیں جو حصار سارے…
    راہوں میں چلتے، ہوئے چھپے جو وار سارے…
    کہیں نفرتوں کے طوفان میں لی تھیں جو سانسیں…
    کہیں طنز کے لپٹے تھے جو طومار سارے…
    صرف دُکھ کی چادر تان لینے سے کیا ہو گا ؟
    کیجیئے معاف انہیں،انتقام کے تھے جو سزاوار سارے…
    صرف منفی سوچوں کو ہی نہ گِنا کرو سدا …
    کبھی ہوں مثبت لمحے بھی شمار سارے…
    جہاں میں ہر طرف اضطراب کے سائے ضرور ہیں…
    پھر بھی کئی لہجوں میں ملتے ہمیں لطف و پیار سارے…
    ہم صرف دیکھتے ہیں اکثر،سمجھتے نہیں کبھی…
    جہاں میں لوگ بہت ہیں اعلٰی ظرف،نہیں بیمار سارے…!!!
    یہ زندگی رکنے کا نہیں،آگے بڑھنے کا ہے نام…
    یاں اتارنے پڑتے ہیں،ہوتے ہیں دل پہ جو غبار سارے…!!!!
    ===============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤