Baaghi TV

Category: شعرو شاعری

  • انسانیت کہاں ہے؟؟؟  تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟ تحریر:عشاء نعیم

    انسانیت کہاں ہے؟؟؟
    عشاء نعیم

    انساں کہاں ہیں ؟انسانیت کہاں ہے ؟
    ہمیں نوچتے ہیں درندے ۔
    کیا یہ انسانوں کا جہاں ہے ؟
    مہینوں سے قید کر کے جو ظلم ہم روا ہے ۔
    بیوی بھی رو رہی ہے بہنا بھی رو رہی۔
    کہاں ہےجگر کا ٹکڑا پوچھتی ہر ماں ہے۔
    بیماروں کا علاج ہے نہ بھوکوں کے لئے کھانا
    بس رات دن ادھر چلتی گولیاں ہیں
    پکاریں امت مسلمہ کو یا اہل کفر کو ہم
    بندھے ہاتھ امت کے،بند کفار کی زباں ہے
    سینکڑوں ملک اور اک دہشت گرد ریاست
    سب ہاتھ باندھے کھڑے بن کر ناتواں ہیں۔
    ہمارا حق تو تسلیم کرتے ہو اے دنیا والو!
    دینے کو تیار نہیں ،کہ ہم مسلماں ہیں ۔
    اے دنیا والو ! اے دنیا کے سوداگرو !
    ڈرو اس رب سے جو مالک دو جہاں ہے۔
    ٹکرا گئیں آسماں سےجب ہماری آہیں
    مل جائے گا خاک میں جو تم کو گماں ہے
    ہماری جانیں، ہماری عزت، ہمارے آنسو ۔
    بیکار سمجھتے ہو تو تم جیسے ناداں ہیں
    ذرا یاد کرو فرعون و نمرود کو بھی
    کیسے پلٹائی میرے رب نے بازیاں ہیں
    تم بھی ،ہاں تم بھی ہو جاؤ گے برباد ۔
    جو رقم کر رہے ہو داستان خونچکاں ہے
    ہمیں بھی انتظار ہے اب قاسم و ایوبی کا
    ہوگی ختم جو یہ ظلم کی داستاں ہے

  • ہم جانے کیوں بکھر گئے   بقلم:اقصی عامر

    ہم جانے کیوں بکھر گئے بقلم:اقصی عامر

    ہم بکھر گئے
    بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر
    ہم ہواؤں جیسے بکھر گئے ۔۔!!
    کیا پتا کسی کو کدھر گئے۔۔!!

    ہم بھول کر حرف مسلم کو۔۔!!
    ہم مسلکوں میں یو ں پڑ گئے۔۔!!

    ہم چھوڑ کر اس راہ کو۔۔!!
    جانے کس گلی میں نکل گئے۔۔!!

    ثریا سی تھی مثال اپنی۔۔!!
    خود ہی تاروں کی طرح بکھر گئے ۔۔!!

    اک باغ کے تھے سب ہی شجر۔۔!!
    جانے کس طوفاں میں اجڑ گئے۔۔!!

    دیکھا جو سچے شاہد کو۔۔!!
    ہم شہادت ہی سے مکر گئے۔۔!!

  • جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے  (والد محترم کی یاد میں)  از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    جب پار افق کے آؤ گے ،پھر تم مجھ کو پاؤ گے (والد محترم کی یاد میں) از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    انمول ستارہ،
    (والد محترم کی یاد میں)
    از قلم : مسز ناصر ہاشمی بنت ربانی

    میں نے دیکھا
    پار افق کے۔۔۔۔۔
    جگ مگ کرتا ایک ستارہ
    ہاتھ بڑھا کے پکڑ نا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاتھ چھڑا کےوہ مجھ سےبھاگا

    اک سسکی نکلی۔۔۔۔
    دل سے میرے۔۔۔۔۔۔۔
    کیسےتم تک میں پہنچوں ؟؟؟؟

    میرے کانوں میں آواز یوں اک آئی ۔۔۔۔۔۔۔
    ڈوبتے ہوئے تارے نے۔۔۔۔۔۔۔یہ راہ مجھے دکھائی ۔۔۔۔۔۔۔

    میرے رستے پر تم۔۔۔۔۔
    چل کر۔۔۔۔۔۔
    مجھ تک پہنچ تم پاؤ گے۔۔۔۔۔
    عروج کی بلندیوں کو تم چھو لو۔۔۔۔۔
    سیدھی راہ کبھی نہ بھولو ۔۔۔۔۔۔۔چلتے رہنا صبح شام ۔۔۔۔۔۔۔

    رکنا نہیں چلنا ہے مادام ۔۔۔۔۔۔۔دنیا بھر کو مہکا دینا۔۔۔۔۔۔
    اندھیر نگر کو چمکا دینا۔۔۔۔۔
    دنیا کو گلزار بنا کر۔۔۔۔۔۔
    اپنے آپ کو گہنا کر۔۔۔۔۔۔
    جب پار افق کے آؤ گے۔۔۔۔۔۔۔سمجھو مجھ تک پہنچ چکے تم۔۔۔۔۔
    پھر تم مجھ کو پاؤ گے

  • دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    دنیا فانی ہے …!!!* *بقلم:جویریہ بتول

    *دنیا کی ہر اک شئے…!!!*
    *[بقلم✍🏻:جویریہ بتول]۔*
    ہے باقی جو ذات وہ ہے بس اک الٰہ…
    دنیا کی ہر اک شئے کو ہے فنا …
    عروج والے، زوال والے …
    حقیقتوں کہ خیال والے …
    آ رہے ہیں کئی،اور کئی جا رہے …
    یہ شہرت و نام سب جو کما رہے…
    محبتوں کے سمندر میں ہیں جو…
    سدا جوش و ولولہ ہی پھیلاتے…
    اور نفرتوں کے اسیر ہیں جو…
    انسانیت کی ہیں دھجیاں اڑاتے…
    دائم رہے گا نہ یاں کوئی باقی…
    سمجھنے کو ہر روز یہ نقطہ ہے کافی…
    اک قافلہ خامشی سے ہے رواں…
    کوئی بہانہ ہے چلتا نہ آہ و فغاں…
    چپکے سے مٹی تلے ہیں جو سوئے…
    کیسے تھے گوہر،ہم نے جو کھوئے؟
    وہ چشمِ نم میں آنسو جھلملانے والے…
    وہ دل کی دُنیا میں اُتر جانے والے…
    وہ یادوں کا جو رہ جاتے ہیں خزینہ…
    وہ دعاؤں کی لڑی کا جو دُر ثمینہ…
    اس جہاں میں آنے کا مقصد ہے سمجھنا…
    کتابِ زندگی پہ وہ عمل ہے لکھنا…
    کہ آنے کا مقصد ہو نظر آتا حل…
    اب چل تو جب کہے آ کر اجل …
    واں ملیں اعزاز جب تو ہیں شاد کام …
    جہاں رہنا سدا، اور دائم ہے قیام…!!!
    ==============================

  • کہ یہی تو زندگی ہے بقلم : جویریہ بتول

    کہ یہی تو زندگی ہے بقلم : جویریہ بتول

    دُعا…!!!
    (بقلم:جویریہ بتول)۔
    مِری زندگی کے رنگ سے…
    مرے رشتوں کے دل میں…
    اک قرار جگہ پائے…
    لب اُن کا مسکرائے…
    یہ چشم بھی جگمگائے…
    کہیں سفرِ زندگی میں…
    میری وجہ سے کسی پر…
    کوئی آثارِ رنج نہ آئے…
    کوئی دل دُکھ نہ پائے…
    نہ چشم آنسو بہائے…
    مُجھ سے جڑا ہر وقار…
    کہیں نہ خم کھائے…
    کہیں بھول کوئی پاؤں…
    کوئی غلطی کر بھی جاؤں…
    لہجے میں عاجزی سے…
    معذرت کو اپناؤں…
    خوشبو کے سمندر میں…
    یادوں کے یہ جھونکے…
    اُڑتے ہوئے آئیں…
    دلوں میں اُتر جائیں…
    کہیں کسی دل پر…
    کوئی زخم نہ چِلّائے…!!!
    یہی دُعا ہے مری یا رب…
    اسی کلیہ سے گزرے…
    یہ زندگانی کا سفر…
    بڑھتے ہوئے موت تک…
    کہ نہیں ہےجس سے مفر…
    یہی مقصدِ بندگی ہے…
    میں رہوں وجۂ ہنسی…
    کہ یہی تو زندگی ہے…!!!
    =============================

  • برداشت اور درگزر سکونِ روح کا سامان ہے  بقلم:جویریہ بتول

    برداشت اور درگزر سکونِ روح کا سامان ہے بقلم:جویریہ بتول

    برداشت و عفو…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    ذہنوں میں ہمارے یہ خیال جو مچلتے ہیں…
    جب ہوش کے رنگ جنوں میں بدلتے ہیں…
    کوئی سا بدلہ لینےکو،اور سخت جواب دینے کو…
    دلوں میں رہ رہ کر جذبات جو اُبلتے ہیں…
    مگرخود کو کھوجو ناں،اک پَل کو سوچو ناں…
    جوش کے سمندر کی کُچھ لہریں موڑو ناں…
    رب کی رضا کی خاطر، عفو کا دامن تھام کر…
    برداشت کی ردا اوڑھے،کچھ بھی نہ بولو ناں…
    یہ اُس سے کہیں بڑھ کر،اور ذائقہ میں چڑھ کر ہے…
    لفظوں کی توپ میں جو ہم لفظ پروتے ہیں…
    دلوں کے لیئے ہے سقم،یہ ذہنوں کا خلجان ہے…
    اچھی،بھلی قربتوں کے چھوٹنے کا امکان ہے…
    برداشت اور درگزر سکونِ روح کا سامان ہے…
    لفظوں کے یہ وقتی تیر،کر لیں جو کسی کو اسیر…
    سکوں چھین لیتے ہیں،ملامت کرتا ہے ضمیر…
    کسی کے دل پہ لگائے زخم بہت دیر سے بھرتے ہیں…
    اِن واروں کے مجروح ذرا ٹھہر کر سنبھلتے ہیں…
    یہی ایک اندازہ ہے،رویوّں میں تفاوت کا…
    کہیں دل میں بستے ہیں،کُچھ دل سے اترتے ہیں…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤

  • بِن آپ کے اے بابا ملیں گے کیسے کنارے؟؟؟

    بِن آپ کے اے بابا ملیں گے کیسے کنارے؟؟؟

    باپ__!!!
    تری شفقتوں کے سہارے__
    گزرتے ہیں درد سارے__
    راتیں ہیں بھی ہیں سہانی__
    اور دن بھی کتنے پیارے__!!!
    تری چاہتوں کا سمندر__
    سدا رہے میرے سنگ__
    بِن آپ کے اے بابا__
    ملیں گے کیسے کنارے__؟؟؟
    تری رضا میں چھپی__
    مرے رب کی رضا ہے__
    ہوتا ہے وہ بھی ناراض__
    گر تو مجھ سے خفا ہے__!!!
    جنت میں داخلے کا__
    تو میرا دروازہ ہے__
    گر اس کی نہ ہو حفاظت__
    تو راہوں کا ضیاع ہے__!!!
    موسم کے گرم و سرد سے__
    تو مرے لیئے نبرد آزما ہے__
    بچوں کی خوشی کی خاطر__
    تو برسرپیکار ہر بلا ہے__!!!
    سفرِ زندگی میں چلتے__
    تپتی سی دھوپ میں جلتے__
    تو چھایا مثلِ سایہ ہے__!!!
    ترے مضبوط حصار میں__
    محبّت کی گفتار میں__
    مری سانسوں کا سفر__
    زیست کا یہ چکر__
    ہاں سکوں سے بھرا ہے__!!!
    مرے لبوں کی دعا ہے__
    دل سے نکلتی صدا ہے__
    تری خیر خواہی کے جذبوں__
    _کا ساتھ طویل تر ہو_
    یہ زندگی جمیل تر ہو__!!!!![آمین]۔
    ===============================

  • کیوں رو رہے ہیں ہم  بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیوں رو رہے ہیں ہم
    بقلم۔۔۔۔ اقصی عامر

    کیا کھو رہا ہے جو رو رہا ہے۔۔!
    وہی کاٹے گا تو جو بو رہا ہے۔۔!

    کتنی تھی سلطنت سکندر کی۔۔!!
    جو دوگز زمیں میں سو رہا ہے۔۔!!

    بھول چکا ہے اپنے آنے کا مقصد۔۔!!
    تو خواب غفلت میں سو رہا ہے۔۔!!

    جو لکھا ہے نصیب میں وہ مل کہ ہی رہے گا۔۔!!
    کیوں تو اپنا ایمان کھو رہا ہے۔۔!!

    دکھا کر دل مخلوق خدا کا۔۔!!
    تو حرکت پہ اپنی اس خوش ہو رہا ہے۔۔!!

    جھٹلاتا رہا جس مکافات عمل کو۔۔!!
    تیرے سامنے آج وہ سچ ہو رہا ہے۔۔!!

    زمانے میں اب تو جو خوار ہو رہا ہے۔۔!!
    کوئی تیرا نام لے کہ رب کہ آگے رو رہا ہے۔۔!!

  • کبھی ہم مسلمان بھی تھے از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    کبھی ہم مسلمان بھی تھے از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    کبھی ہم مسلمان بھی تھے
    از قلم ۔۔۔۔ اقصٰی عامر

    دنیا کو روشن کیا جس نعرہ تکبیر نے۔۔!!
    اس نعرہ پر ایمان رکھنے والے انسان تھے ہم۔۔!!

    کفر و شر بھی لرز جاتے تھے جس کے نام پہ۔۔!!
    اس مذہب سے تعلق رکھنے والے مسلمان تھے ہم۔۔!!

    وہ جو عشق تھا بلال کا محبت کی اذان میں۔۔۔!!
    مذہبی احیا کی خاطر کرتے تھےجان تک قربان ہم۔۔۔!!

    پھر یوں ہوا کہ فرقوں میں پڑ گئے ۔۔۔!!
    ایک ہی رب کو لے کر ٹکڑوں میں بکھر گئے۔۔۔!!

    ذکر رہتا تھا جاری پیاسے ہونٹوں سے بھی۔۔!!
    نیزے پر بیٹھ کر پڑھتے تھے قرآن ہم۔۔!!

    اہل حدیث تھے اہل سنت تھے اہل قرآن تھے ہم۔۔!!
    یہ فرقے نہیں تھے جب تو مسلمان تھے ہم۔۔۔!!

  • فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!!  بقلم:جویریہ بتول

    فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!! بقلم:جویریہ بتول

    ہ لفظِ دُعا…!!!
    [بقلم:جویریہ بتول]۔
    رب سے ملتی ہے یہ کال…
    دُعا کے لفظوں کے ہیں جو جال…
    دل کے یہ سب احساسات…
    کبھی اشکوں میں بہتے جذبات…
    دل کھول کر کبھی سب بتانا…
    کبھی خاموشی سے کُچھ کہنا…
    وہ جانتا ہے سبھی خیال…
    خوش کریں جو رہیں محال…
    اسے پھر بھی بلانا اچھا ہے لگتا…
    ایسے بندوں کی وہ دیتا ہے مثال…
    اُن کے لفظوں کو بنا کر چراغِ رہ…
    منزلوں کے حصول کی دلاتا ہے چاہ…
    میں تو شہ رگ بھی ہوں قریب…
    میں سنتا ہوں دعائیں اور مجیب…
    کرتا ہوں مقدر جو خیر ہو…
    پسند ہے مجھے دُور شر سے رہو…
    کبھی تو ملتا ہے ہمیں فائدہ فوری…
    کہیں کر دی جاتی ہے شر سے دوری…
    کہیں بنتی التجا ہے ذخیرۂ آخرت…
    جان سکے نہ نہیں یہ بندۂ حضرت…
    دعا تو نام ہے اک پکار کا…
    مجیب سے تعلق کی مہکار کا…
    بندے کا کام ہے کرنا التجا…
    اپنے معبود کو ہی پکارنا سدا…
    اُسے اچھی لگتی ہے یہ ادا…
    وہ دعاؤں کا ضرور دیتا ہے صلہ…
    یہ لفظوں کے جال نہ ٹوٹنے پائیں…
    دعا کے اثرات نہ چھوٹنے پائیں…
    پاس آئے نہ کبھی اپنے مایوسی…
    یہ دُعا ہی درد سے دیتی ہے خُلاصی…
    یہ نسخہ تجویز کردہ مالکِ شفا کا…
    جو باعثِ قرار،دلوں کی صدا کا…
    اس تعلق و ربط میں…
    اشک و ضبط میں…
    کبھی آئے نہ کوئی خلل…
    سفرِ رواں کی کہانی میں…
    لمحات مشکل آئیں یا کہ سہل…!!!!!
    بس جاری رہے یہ لفظِ دُعا…
    کہ یہی تو ہے اندازِ وفا…
    جو بے قراریوں کی ہے دوا…!!!
    کہ کسی مشکل کے حل میں…
    فاصلہ ہوتی ہے فقط اک دُعا…!!!
    ==============================
    [جویریات ادبیات]۔
    ¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤¤