Baaghi TV

Category: سیاست

  • مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    مہنگائی کا وار ذلت کا کردار،تحریر:غنی محمود قصوری

    اس بات میں کافی سچائی ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے پاکستان اور خاص کر پنجاب میں جرائم میں واضع کمی آئی ہے،پنجاب میں اس وقت 90 فیصد جرائم میں کمی واقع ہو چکی ہے جس کا کریڈٹ سی سی ڈی کو پنجاب کو جاتا ہے،تاہم یہ بات بھی سو فیصد سچ ہے کہ اس وقت ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان بھی آیا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،معاشرے میں جرائم تب ہی بڑھتے ہیں جب قانون کمزور پڑ جائے اور سزا کا خوف ختم ہو جائے، بے روزگاری، مہنگائی اور تعلیم کی کمی لوگوں کو غلط راستوں پر دھکیل دیتی ہے، اوپر سے رشوت، سفارش اور پولیس و عدالتوں کی کمزور گرفت مجرموں کو کھلی چھٹی دے دیتی ہے،منشیات، گینگ کلچر، اور سوشل میڈیا فراڈ نئی نسل کو تیزی سے جرم کی طرف لے جا رہے ہیں جس کا سدباب بہت ضروری ہے
    جب زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی عام آدمی کی پہنچ سے بہت دور نکل جائیں جیسے کہ آٹا مہنگا ہو جائے گیس غائب رہے بجلی کے بل پہنچ سے دور ہو جائیں اور بجلی کا بلب گھر میں روشنی دینے کی بجائے ایک لمبے چوڑے بل کی مد میں گھر میں قبر جیسی وحشت بپا کر جائے،
    نوجوانوں کیلئے روزگار کا کوئی سیدھا راستہ نا ہو تو پھر معاشرہ آہستہ آہستہ سلگنے لگتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے چہروں سے سکون اُڑ جاتا ہے گھروں میں جھنجھلاہٹ اور بے چینی ڈیرے جما لیتی ہے
    جب پیٹ خالی ہو اور جیب میں چند روپئے بھی نہ ہو تو انسان کا صبر بھی جواب دے دیتا ہے
    پھر وہی ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے

    ایسے عالم میں چھوٹے موٹے جھگڑے بڑے فساد بن جاتے ہیں اور چوری چکاری بڑھتی ہے تب نوجوانوں کا اعتماد، خواب اور حوصلہ سب کمزور پڑنے لگتے ہیں
    جب وڈیرے اور امیر سرعام قانون کی دھجیاں اڑائیں اور جب دل چاہے غریب کو چیونٹی کی طرح روند دیا جائے اور اوپر سے جب کہیں سے انصاف نہ ملے، ادارے بھی اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں تو لوگوں کا نظام پر سے یقین اٹھ جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک ایسا خلا بنتا ہے جس میں غصہ، مایوسی اور جرائم پلتے ہیں اور پھر چند افراد،اداروں کی نااہلی سے جنت جیسا قطعہ ارض جہنم جیسا روپ دھار لیتا ہے

    سو باتیں کر لو، لکھ لو مگر سچ یہی ہے کہ بنیادی ضرورتیں جب مشکل ہو جائیں تو معاشرہ خاموشی سے بیمار ہونے لگتا ہےاور اس کا اثر ہر گھر، ہر گلی، ہر بندے پر پڑتا ہے اور یوں جرائم بڑھنے لگتے ہیں
    گورنمنٹ نے سی سی ڈی جیسا ادارہ بنا کر بہت اچھا کیا جس نے فوری رزلٹ دیا تاہم گورنمنٹ کو چائیے کہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے بنے اداروں سے بھی ایسے ہی رزلٹ لیا جائے جیسے سی سی ڈی سے لیا ہے
    واضع رہے کہ پنجاب پولیس کی تعداد 2 لاکھ 22 ہزار کے قریب ہے تاہم محض 4300 سی سی ڈی اہلکاروں نے وہ کام کیا جو لاکھوں پنجاب پولیس کے اہلکار نا کر سکے تھے
    موجودہ حالات میں غریب کو ریلیف دینا اور شاہی پروٹوکول اور افسری،مراعات کو محدود کرنا وقت کی بہت بڑی ضرورت ہے،گورنمنٹ تھوڑا سا طریقہ بدلے اور سوتیلی ماں کی بجائے سگی ماں جیسا کردار ادا کرے،ہیلمٹ چالان پر 2 ہزار لینے کی بجائے موٹرسائیکل کے پہلے چالان پر اس موٹرسائیکل کو ایک ہیلمٹ دیا جائے اور اگر پھر بھی اس کے باوجود اسی موٹر سائیکل سے ہیلمٹ نا پہننے کی غلطی ہو تو جرمانہ کیا جائے،گورنمنٹ بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ سے اوپر کے استعمال ہونے والے جن لوگوں کو اگلے 6 ماہ کیلئے پھانسی لگاتی ہے اسے ختم کیا جائے،سرکاری و پرائیویٹ سکولوں میں ایک نصاب کیا جائے اور چھوٹے چھوٹے دکانداروں کی بجائے بڑے بڑے ان ڈیلروں کو سرعام چوکوں میں ٹھڈے مارے جائیں جو بلیک مارکیٹنگ کرکے لوگوں کو ضروریات زندگی سے محروم کرتے ہیں،سرکاری ہسپتالوں کو فعال کیا جائے اور عدالتی نظام بہتر کیا جائے،محکمہ عشر و زکوٰۃ کو فعال کرکے ایسا پابند کیا جائے کہ وہ لوگوں کو ان کا حق دیں تاکہ لوگوں این جی اوز سے 500 روپیہ کی ملنے والی امداد کے عیوض اخبارات میں اپنے چہروں کی نمائش نا کروائیں
    ایسے کام جب تک نہیں کئے جائنگے جرائم بڑھتے رہیں گے اس لئے گورنمنٹ فوری اقدامات کرے

  • عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عاجزی ،کامیابی کی سیڑھی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قرآن کریم میں اللہ تعالٰی بار بار انسان کو یاد دلاتا ہے کہ دولت، شہرت اختیار اور طاقت یہ سب آزمائشیں ہیں۔ کوئی شخص اگر بلند منصب پر فائز ہے اگر اسکے پاس دولت کی ریل پیل ہے، اگر اسکے نام کے چرچے ہیں تو یہ اُسکی کامیابی کا ثبوت نہیں یہ اُسکے امتحان کا آغاز ہے، سورہ توبہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم جسکو دنیا کی سہولتیں دیتے ہیں وہ اس لیے نہیں کہ وہ ہمارا خاص بن گیا ہے بلکہ اس لیے تاکہ اسکی آزمائش ہو سکے، دنیاوی نعمتیں اصل میں ذمہ داریاں ہیں، انعام نہیں۔ لیکن افسوس کہ آج کا انسان خاص طور پر وہ جو اختیار کی کرسی پر بیٹھ جائے وہ اپنی حقیقت بھول بیٹھتا ہے۔ وطن عزیز کا معاشرہ اسکی ایک زندہ مثال ہے، عام آدمی سے لیکر صاحب اقتدار تک، دفاتر ہوں، یا تھانے ہوں، یا انصاف دینے والے ہوں، یا وزارتیں ہوں، ہر جگہ ایک عجیب قسم کا تکبر، رعونت اور طاقت کا خمار بکھرا پڑا ہے۔ کسی کو کرسی ملی تو لہجہ بدل گیا، کسی کے پاس دولت آئی تو انسانیت چھن گئی، کسی کو سیٹ ملی تو اس نے اپنے ہی قدم زمیں پر ہوتے محسوس نہ کیے۔ حالانکہ رب نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے کہ انسان کو غرور کے لیے نہیں بلکہ عاجزی کے لیے پیدا کیا گیا ہے، انسان کی اصل عزت اسکے عہدے میں نہیں بلکہ اسکے اخلاق میں ہے، اصل بلندی اسکی دولت میں نہیں اسکی عاجزی میں ہے۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے منصب کو عبادت کی جگہ رکھ دیا ہے اور عبادت کو رسم بنا دیا ہے۔ یہ وہی تکبر ہے جسے اللہ تعالٰی نے ناپسند فرمایا، یہ وہی غرور ہے جس نے شیطان کو شیطان بنایا معاشرے میں سرمایہ داروں، مذہبی رہنماؤں، بیوروکریسی کے افسران حتی کہ عام لوگوں تک میں یہ ایک بیماری پیدا ہو چکی ہے۔ ہر شخص اپنی جگہ خود کو سچا، سب کو کم تر اور اپنے دائرے میں اپنے اپکو ایک علیحدہ مخلوق سمجھنے لگا ہے۔ لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ سخت ترین حساب انہی لوگوں کا ہو گا جنہیں دنیا میں سب سے زیادہ اختیار دیا گیا تھا ہمارے معاشرے کی بدحالی کی اصل وجہ یہی اخلاقی زوال ہے۔ وہ معاشرے نہیں ٹوٹتے جن کے پاس کم وسائل ہوں وہ ٹوٹتے ہیں جہاں تکبر سستا اور انصاف مہنگا ہو جائے، وہ قومیں نہیں مرتیں جن پر غربت ہو، وہ مٹتی ہیں جہاں ضمیر مر جائے۔ ہمیں بلند عمارتیں نہیں بلند اخلاق درکار ہے ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ ہر اختیار ایک دن چھن جاتا ہے، ہر طاقت فنا ہو جاتی ہے، ہر اقتدار ختم ہو جاتا ہے لیکن جو انسان عاجزی اپناتا ہے وہ تاریخ دِلوں اور اللہ تعالٰی دونوں میں باقی رہتا ہے۔ آئیں خود سے یہ سوال کریں کیا ہم آزمائش میں کامیاب ہو رہے ہیں؟ یا ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہو چکے ہیں جو رب کی نعمتوں کو تکبر کی چابی بنا لیتے ہیں؟ اللہ تعالی ہمیں سچائی انصاف اور عاجزی کیساتھ جینے کی توفیق دے کیونکہ انسان کا اصل قد اسکی کرسی سے نہیں اسکی جھکی ہوئی گردن سے ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ طاقت، دولت اور شہرت کبھی بھی انسان کو عظیم نہیں بناتیں یہ صرف اسکی آزمائش کو بڑا کرتی ہیں۔ کاش ہمارا معاشرہ اس سادہ حقیقت کو سمجھ سکے اصل مسلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں اصل خرابی یہ ہے کہ اختیار ملتے ہی انسان چھوٹا ہو جاتا ہے اور انا بہت بڑی۔

  • مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    مریم نواز کی نیت، ویژن قابل تعریف مگر ..تجزیہ:شہزاد قریشی

    پنجاب کی سیاست میں آجکل جو ہلچل ہے وہ کسی سے چھپی نہیں، وزیر اعلٰی پنجاب مریم نواز شریف کے اقدامات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کیا واقعی صوبہ پنجاب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے یا یہ بھی وہی روایتی دعوے ہوں گے جو ہر حکومت کے آغاز میں سننے کو ملتے ہیں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز کے ناقدین بھی اب یہ تسلیم کرنے لگے ہیں کہ صوبے میں پالیسی سازی کی رفتار تیز ہوئی ہے۔ چاہے معاملہ صحت کا ہو، صفائی کا ہو، تعلیم کا ہو، جدید ٹریفک نظام کا ہو یا سیف سٹی کا ہو یہ شفاف ترقیاتی منصوبوں کے فیصلے کم از کم ہوتے تو نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں پالیسی سازی کبھی مسلہ رہی ہی نہیں۔ ہمارے یہاں مسائل ہمیشہ عملدرآمد پر گرتے ہیں اور یہی وہ نقطہ ہے جو اس پورے معاملے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ مریم نواز نے میرٹ، شفافیت اور زیرو ٹارلنس جیسے نعرے لگا کر پنجاب کے انتظامی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مگر یہ ڈھانچہ کوئی تختی نہیں جو بدل دیا جائے، یہ درجنوں برس کے اعداد، مفادات، رویوں اور ساخت کا مرکب ہے، اسے بدلنے کے لیے حکم سے زیادہ حوصلہ اور ادارہ جاتی دباؤ چاہیے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بیوروکریسی ہر حکومت کا اصل ستون ہوتی ہے، سیاست دان فیصلہ کرتے ہیں، لیکن ان فیصلوں کی روح بیوروکریسی ہی میں پھونکی جاتی ہے۔ اگر افسران میں وہی پرانی سست روی، وہی فائلوں کے گِرد اور وہی کل دیکھ لیں گے والا انداز رہا تو تبدیلی کا خواب حقیقت کا رخ نہ دیکھ سکے گا۔ مریم نواز نے میرٹ کی بات کی ہے، بہت اچھی بات ہے، لیکن میرٹ پر ایسا افسر بھی چاہیے جو صرف قابلیت نہیں رکھتا بلکہ جرآت بھی رکھتا ہو، جو سیاسی دباؤ، مقامی طاقتوروں کے اثرات اور اندرونی مزاحمت کو خاطر میں نہ لائے۔ پنجاب پولیس کا ذکر آتے ہی عوام کے ذہن میں تھانہ کلچر ابھرتا ہے وزیر اعلی نے ٹیکنالوجی، جدید ٹریفک سسٹم اور رول آف لاء کی بات کی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب پولیس اس ظاہری تبدیلی کے لیے تیار ہے۔ اصلاحات کا سب سے بڑا امتحان پولیس میں ہی ہوتا ہے کیونکہ پولیس وہ دروازہ ہے جہاں عوام روزانہ ریاست سے ملتے ہیں۔

    اگر تھانے وہی پرانے خوف اور سفارش کے مرکز رہے تو اوپر سے آیا ہوا انقلاب صرف سوشل میڈیا کی حد تک محدود رہ جائے گا۔ وزیر اعلی پنجاب لاھور میں بیٹھ کر بہترین منصوبہ بنا سکتی ہیں، مگر لاھور سی سی پی او آفس سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں اس پر عمل وہی ضلعی افسران کرے گا جو دل سے کام کرے گا یا رسمی خاکوں سے کام چلائے گا۔ کامیاب حکومتیں وہی ہوتی ہیں جو نچلی سطح کے افسران کو حوصلہ، اختیار اور جوابدہی تینوں چیزیں ایک ساتھ دیتی ہیں۔ اگر پنجاب میں واقعی تبدیلی لانی ہے تو فارمولا بہت سادہ ہے۔ اچھے افسر مضبوط نگرانی، سیاسی مداخلت سے مکمل آزادی، پائیدار اصلاحات اس فارمولا میں اگر ایک چیز بھی کمزور ہو تو پوری عمارت ہل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں اصل معرکہ وزیر اعلی کے دفتر میں نہیں بلکہ پنجاب کے کمشنرز، ڈپٹی کمشنر اور سی پی او، ڈی پی او اور ماتحت عملے کی میز اور پٹواری کے دفتر میں ہے۔ مریم نواز کی نیت، ویژن اور رفتار تعریف کے لائق ہیں مگر پنجاب جیسے بڑے صوبے میں اصلاحات کا سفر بہت لمبا، مشکل اور مزاحمت سے بھرپور ہوتا ہے۔ اگر بیوروکریسی اور پولیس میں وہی انقلابی افسر آ گے، جنکی وزیر اعلی بات کر رہی ہیں، تو یقین کریں کہ چند برسوں میں پنجاب واقعی ہی پاکستان کا سب سے ترقی یافتہ صوبہ بن سکتا ہے۔ لیکن اگر پالیسی سازی اور فائل ورک میں ہی تبدیلی پھنس گئی تو یہ بھی ماضی کی اصلاحاتی داستانوں کی طرح صرف ایک اور کوشش بن کر رہ جائے گی۔ چاہے مریم نواز ہوں یا کوئی اور حکمران پائیدار تبدیلی اس وقت آتی ہے جب نظام بدلتا ہے، لوگ بدلتے ہیں اور ادارے بدلتے ہیں، سیاست دان سمت دکھاتے ہیں لیکن راستہ بیوروکریسی ہی بناتی ہے۔ اب یہ بیورکرویسی پر ہے کہ وہ پنجاب کو واقعی بدلنا چاہتی ہے یا صرف نئے نعروں کیساتھ پرانی روش پر چلتی رہنا چاہتی ہے۔

  • سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    سوشل میڈیا،فیک نیوز،بیانیے کی جنگ

    آج کا پاکستان صرف معاشی، سیاسی یا انتظامی چیلنجز کا شکار نہیں؛ ملک اپنی تاریخ کی سب سے بڑی پروپیگنڈہ، فیک نیوز اور ڈیجیٹل بیانیے کی جنگ کے بیچوں بیچ کھڑا ہے۔یہ جنگ روایتی نہیں۔ نہ اس میں توپیں گولے چل رہے ہیں، نہ سرحدوں پر محاذ گرم ہیں۔ اس جنگ کا میدان سوشل میڈیا ہے، اس کے ہتھیار گمراہ کن معلومات، جعلی بیانیے، آڈیو، ویڈیو ایڈیٹنگ، بوٹس، ٹرول فیکٹریاں اور ڈیجیٹل مہمات ہیں، جبکہ نشانہ عوام کا شعور اور ریاستی استحکام ہے۔

    دنیا بھر میں معلومات کی جنگ ایک نئی حقیقت ہے، مگر پاکستان میں اس کا حجم اور اثر کئی گنا بڑھ چکا ہے۔اب جھوٹی خبروں کی تخلیق ایک صنعت بن چکی ہے،ہر سیاسی، سماجی یا ریاستی مسئلہ صرف چند منٹوں میں "ٹویٹر ٹرینڈ” بن جاتا ہے،لاکھوں اکاؤنٹس بغیر شناخت کے گمراہ کن مواد پھیلا رہے ہیں،قومی سلامتی کے بیانیے مسلسل چیلنج ہو رہے ہیں،نوجوان نسل تیز ترین مگر غیر مصدقہ معلومات کی زد پر ہے،پاکستان آج ایک ایسی صورتحال میں ہے جہاں "خبر” اور "پروپیگنڈہ” میں فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بیانیے کی اس جنگ میں اندرونی انتشار پھیلانے والے عناصر،بیرونی مفادات کے سہولت کاراور بے نامی ڈیجیٹل اکاؤنٹس سب اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ متحرک ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی ادارے، میڈیا، تعلیمی حلقے اور باشعور شہری غیر مصدقہ، اشتعال انگیز یا گمراہ کن مواد کی نشاندہی کریں، اس کا تجزیہ کریں اور عوام کو حقائق سے آگاہ رکھیں۔

    ہمیں یہ حقیقت سمجھنی ہوگی کہ فیک نیوز حقیقی دنیا میں حقیقی نقصان پہنچاتی ہے۔جھوٹے بیانیے اداروں پر اعتماد کم کرتے ہیں، سماجی تقسیم بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔اسی لیے اس ڈیجیٹل یلغار کا مقابلہ جرأت سے،ثبوت کے ساتھ،مسلسل آگاہی کے ذریعےاور سنجیدہ مکالمے کے ساتھکرنا ہوگا۔بحث ضرور کیجیے ،اختلاف بھی کیجیے، مگر ذمہ داری کے ساتھ۔ نہ جذباتیت میں آئیں، نہ بغیر تحقیق کے کسی بیانیے کا حصہ بنیں۔

    پاکستانی سیاست میں ایک واضح تقسیم موجود ہے۔عمران خان کا سیاسی طرزِ عمل، بیانیہ، اور پھر اسے سوشل میڈیا پر جس شدت کے ساتھ پھیلایا جاتا ہے، ایک ایسے ماحول کو جنم دیتا ہے جو ریاستی اداروں سے ٹکراؤ،سیاسی انتہا پسندی،اور قومی بیانیے میں انتشارجیسے عوامل کو بڑھا دیتا ہے۔پاکستان کی استحکام کی ضرورتیں اور عمران خان کی سیاسی حکمتِ عملی ایک ہی سمت میں نہیں چل سکتیں،حقیقت یہ ہے کہ “پاکستان اور عمران ساتھ نہیں چل سکتے”

    پاکستان کو اس جنگ میں کامیابی کے لیے چند بنیادی اقدامات ضروری ہیں عوام میں ڈیجیٹل لٹریسی بڑھائی جائے،لوگ سیکھیں کہ خبر کی تصدیق کیسے کرتے ہیں، کس چیز کو شیئر نہیں کرنا چاہیے، اور کونسی معلومات مشکوک ہو سکتی ہے۔سوشل میڈیا قوانین کا مؤثر اور متوازن نفاذہونا چاہئے،ریاست اور عوام دونوں کو آزادیِ اظہار برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی سلامتی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کی ذمہ دارانہ ڈیجیٹل حکمتِ عملی ترتیب دینی ہو گی،سیاسی بیانیہ اختلاف پر ہو، نفرت، گالی یا گمراہی پر نہیں۔ نوجوان نسل کی تربیت کرنی ہو گی،انہیں یہ سمجھانا کہ آن لائن دنیا اصل دنیا سے الگ نہیں یہاں پھیلایا گیا جھوٹ کسی کی زندگی بدل سکتا ہے۔

    پاکستان آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے۔بیانیے کی یہ جنگ ہمارے معاشرتی مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جھوٹ کو چیلنج کریں،سچ کی حمایت کریں،اور کسی بھی سیاسی اختلاف کے باوجود پاکستان کو مقدم رکھیں،کیونکہ آخر میں ریاست، ادارے اور قوم ہی اصل حقیقت ہیں، بیانیے نہیں۔

  • بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    بدلتی عالمی صورتحال پر توجہ کی ضرورت، تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں شور شرابے سے باہر نکل کر بدلتی ہوئی عالمی صورتحال پر توجہ دیں۔ ریاستوں کے تعلقات، معاشی تعاون اور علاقائی توازن نئی سمتوں میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ داخلی ہم آہنگی کو مضبوط بناتے ہوئے باہمی احترام، مکالمے اور تعاون پر مبنی حکمت عملی اپنائیں۔ عالمی، تبدیلیاں ان ممالک کے لیے مواقعے پیدا کرتی ہیں جو اتحادِ فکر، استحکام اور دوراندیش سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ملک کی اصل ضرورت یہ نہیں کہ کون کس کا ذمہ دار ہے، اصل ضرورت یہ ہے کہ اجتماعی دانش کو بیدار کیا جائے، پالیسیوں میں تسلسل لایا جائے اور سماجی رویوں میں اعتدال پیدا کیا جائے۔ جب تک قوم جذبات کے بجائے بصیرت کو اپنا رہنما نہیں بناتی ترقی کے امکانات محدود ہی رہیں گے۔ دنیا میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں مگر افسوس کہ ہم اب تک یہ طے نہیں کر پائے کہ ہم تبدیلیوں کا حصہ بننا چاہتے بھی ہیں یا نہیں۔ دنیا اس وقت ٹیکنالوجی، جدید معاشی طریقے کار اور سائنسی تحقیق کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ اقوام اپنے مستقبل کی سمت متعین کر رہی ہیں، معیشتوں کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کر رہی ہیں اور ذہنی صحت کو سماجی پالیسی کا بنیادی حصہ بنا رہی ہیں۔ اس کے برعکس وطن عزیز اب بھی توانائی، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کے گرد ہی گھوم رہا ہے۔ نتیجتاً ہم ترقی یافتہ دنیا کی رفتار سے مسلسل پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے صورتحال کو مزید بگاڑا ہے، تحقیق، دلیل اور تنقیدی شعور کمزور پڑ گیا ہے۔ جبکہ جذباتی ردعمل، سطحی رائے اور غیر سنجیدہ گفتگو عام ہوتی جا رہی ہے۔ یہ رجحان معاشرے کی فطری کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔

    سیاسی جماعتوں کا طرز عمل بدستور محاذ آرائی اور الزام تراشی کے گرد گھوم رہا ہے۔ قومی مسائل کے حل کے لیے اجتماعی لائحہ عمل اختیار کرنے کے بجائے سیاسی بیانیے، ذاتی مفادات اور جماعتی ترجیحات غالب ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کے پاس ملک کو سمت دینے کی سکت کم اور مخالفین کو زیر کرنے کی خواہش زیادہ ہے۔ اسی سبب عوام میں شدید بےچینی اور بداعتمادی جنم لے رہی ہے۔ وطن عزیز اس وقت جس پیچیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے اس پر سنجیدہ اور بامعنی غور و فکر کی ضرورت ہے۔ توانائی بحران، مہنگائی، اقتصادی ابتری اور حکومتی بے سمتی اپنی جگہ موجود ہے۔ مگر حالیہ ایام میں جو بحث غیر ضروری طور پر زور پکڑ رہی ہے وہ معاشرتی رویوں کی وہ کیفیت ہے جسے عمومی طور پر ذہنی بے سمتی یا نفسیاتی انتشار کہا جا رہا ہے۔ تاہم قوم میں جذبہ بہت ہے، بس سمت کی کمی ہے۔ ہمارا بحران صلاحیت کا نہیں ترجیحات کا ہے اگر ہم جذباتی فیصلوں کے بجائے فکری و اجتماعی ذمہ داری کی طرف آئیں تو آج بھی بہت کچھ بہتر ہو سکتا ہے۔ وطن عزیز کے بدنصیبی یہ نہیں کہ دنیا بدل رہی ہے بدنصیبی یہ ہے کہ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر پا رہے کہ ہم بدلنا بھی چاہتے ہیں یا نہیں۔

  • فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    فوج جو نہ کسی فرد، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی ہے بلکہ 25 کروڑ عوام کی .تجزیہ:شہزاد قریشی

    جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں

    آج فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکھانے میں مصروف ہے

    آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی ہے ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں

    جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے، اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں، بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا

    اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں سیاستدان اپنی پالیسیوں زبان اور رویوں پر اَزسرِنو غور کریں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    وطن عزیز دنیا میں ایک ایسا ملک ہے جو آزمائشوں میں گِھرا رہا دہشتگردی، انتہا پسندی، بیرونی دباؤ، داخلی انتشار مگر ایک ستون ایسا تھا جو ہر وقت کھڑا رہا۔ ایک ادارہ ایسا جو راتوں کی نیندیں چھوڑ کر قوم کی نیند محفوظ بناتا رہا وہ ادارہ ہے پاکستان کی فوج جو نہ کسی فرد کی ہے، نہ کسی پارٹی، نہ کسی سوچ کی، یہ 25 کروڑ لوگوں کی فوج ہے۔ اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی، اس کی ڈھال، اس پہچان مگر افسوس آج اسی فوج کو سیاست کے شور میں کھڑا کرکے نشانے پر رکھا جا رہا ہے۔ بیانیے ایسے بن رہے ہیں جیسے فوج دشمن ہو اور سیاست دان ریاست کے ٹھیکیدار سوشل میڈیا نے نفرت کو ایسے پروان چڑھایا جیسے آگ کے سامنے خشک گھاس رکھ دی جائے۔ ہر کوئی اپنے مفاد کی آگ بھڑکانے میں مصروف ہے مگر سوچ کوئی نہیں رہا کہ اس آگ میں آخر جلتا کون ہے؟ (پاکستان) وطن عزیز کی فوج دنیا کی چند سب سے ڈسپلن اور موثر افواج میں شمار ہوتی ہے۔ امریکہ سے لیکر یورپ تک طاقت ور ملک اس پروفیشنل ازم کو تسلیم کرتے ہیں ہم جس فوج کو روز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہی فوج آج بھی دنیا بھر میں ایک مضبوط فورس کے طور پر جانی جاتی ہے۔ یہ وہی فوج ہے جس نے اپنی جانوں کی قربانی دیکر دہشتگردی کا وہ طوفان روکا جس نے ملک کو جکڑ لیا تھا یہ وہی فوج ہے جس نے ماؤں کے بیٹے کھوئے مگر پاکستان اور قوم کو بچائے رکھا۔ آج سیاسی جماعتوں اور اداروں کے درمیان بڑھتے فاصلوں نے صورتحال خطرناک بنا دی یے۔ ایک طرف سیاست اپنے بیانیوں کے نشے میں ہے دوسری طرف ادارے ریاست کو سنبھالنے کی کوشش میں، لیکن ریاستیں بیانیوں پر نہیں اتحاد پر چلتی ہیں اور جب کوئی قوم اپنی ہی فوج پر انگلیاں اٹھانے لگے تو وقت ثابت کرتا ہے کہ قومیں اندر سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ اگر سیاست اور فوج ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوں تو نقصان صرف ایک کا نہیں پورے پاکستان کا ہوتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ اختلاف رائے دشمنی نہیں ہوتا مگر اداروں کو متنازعہ بنانا یہ دشمنی ہے وطن سے بھی اور اپنے مستقبل سے بھی۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں کو لمحہ فکریہ لینا ہو گا کہ ہم اپنے ہاتھوں سے کیا آگ لگا رہے ہیں؟ کیا ہم دوبارہ اس ملک کو انتشار کے اس گڑے میں دھکیلنا چاہتے ہیں جس سے نکلنے میں ہمیں دہائیاں لگیں؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاست دان اپنی پالیسیوں، اپنی زبان اور اپنے رویوں پر اَز سرِ نو غور کریں جو ادارہ ہمیں دہشتگردی سے نکال کر لایا جو اس ملک کے ہر انچ کی حفاظت کرتا ہے اس کے ساتھ ٹکراؤ کا راستہ نہیں بات چیت، احترام اور ذمہ داری کا راستہ اپنانا ہو گا۔ وطن عزیز کو مزید لڑائیاں نہیں چاہیں اسے امن چاہیے، اتفاق چاہیے، ترقی چاہیے یہ ملک ہم سب کا ہے اور فوج بھی۔ اب وقت ہے کہ ہم سب ملکر اسی ایک سچ کو پہچانیں اگر فوج سلامت ہے تو پاکستان سلامت ہے اور اگر پاکستان سلامت ہے تو ہم سب سلامت ہیں۔

  • کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی پھر ماتم کناں ہے.تحریر: شازیہ عالم شازی

    کراچی ایک بار پھر ماتم کناں ہے ایک ایسا ماتم جو صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ سارے شہر کے ضمیر کا ماتم ہے تین سالہ ابراہیم کا کھلے مین ہول میں گر کر جان گنوا دینا کوئی حادثہ نہیں، یہ اس بوسیدہ نظام کا کھلا اعتراف ہے جو شہریوں کی زندگیوں کو محض اعداد و شمار سمجھ کر نظر انداز کرتا ہے۔یہ سانحہ ایک معصوم بچے کی موت نہیں بلکہ ہمارے بلدیاتی ڈھانچے کی سنگین نا اہلی اور شہری حکومت کی شرم ناک بے حسی کا نوحہ ہے ،یہ واقعہ صرف ایک معصوم بچے کی جان کا سانحہ نہیں، بلکہ ہمارے بلدیاتی نظام کی سنگین نااہلی اور شہری حکومت کی مجرمانہ بے حسی کا نوحہ ہے۔ نیپا چورنگی جیسے مصروف مقام پر کھلا مین ہول کئی دنوں، بلکہ ہفتوں سے شہریوں کے لیے موت کا پھندا بنا ہوا تھا، مگر جسے صرف متعلقہ ادارے ہی نہ دیکھ سکے، نہ کسی کی فریاد سن سکے، نہ ہی حرکت میں آئے۔ تین سالہ ابراہیم کا اندوہناک موت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہمارے شہر میں جان کی قیمت صفر ہے اور ذمہ داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں، بلدیاتی ادارے جن کا کام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، وہ خوابِ غفلت میں ڈوبے رہتے ہیں، اور ہر حادثے کے بعد صرف میڈیا پر ان کے بیانات کی بازگشت سنائی دیتی ہے ،تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے کمیٹیوں کے قیام کی خبریں چلتیں ہیں اور دھیرے دھیرے معاملے کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے اوت پھر مکمل خاموشی، شہری حکومت کی یہ بے حسی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا کراچی کے لوگوں کی زندگیوں کو حقیقی معنوں میں کوئی اہمیت حاصل بھی ہے یا نہیں؟

    ایک کھلا گٹر، ایک چھوٹا سا مین ہول ڈھکن، اور ایک لمحہ کی کوتاہی ، اتنی معمولی سی چیزیں اگر زندگی اور موت کا فیصلہ بن جائیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست اپنے شہریوں سے اپنا بنیادی فرض ادا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ ابراہیم کی موت نظام کی ناکامی کا ایسا ثبوت ہے جسے کوئی بھی صفائی، کوئی بھی بیان، اور کوئی بھی سیاسی جواز نہیں چھپا سکتا۔یہ وقت ہے کہ شہری حکومت سامنے آئے اور عوام کو جواب دے تاکہ واقعہ کے ذمہ داروں کا تعین ہو، اور کراچی کے لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کی زندگیاں کسی کے سفارشی نظام، نااہلی، یا غفلت کی بھینٹ نہیں چڑھیں گی۔ورنہ کل کا ابراہیم کوئی اور ہوگا اور اس شہر کی ماتم کن آوازیں یونہی گونجتی رہیں گی۔

    کراچی آج صرف حادثوں کا نہیں، بے حسی کا شہر بن چکا ہے۔ سانحات پر آنسو خشک ہونے سے پہلے ہی حکمرانوں کی رعونیت بھری گفتگو زخموں پر نمک چھڑک دیتی ہے۔ میئر کراچی کی حالیہ پریس کانفرنس اسی تکبر، اسی حددھرمی اور اسی سنگدلی کا کھُلا اعلان تھی جیسے وہ شہریوں کے منتخب نمائندے نہیں، بلکہ کسی اونچے تخت پر بیٹھے خود ساختہ فرمانروا ہوں ، پریس کانفرنس سن کے یوں لگا جیسے یہ لوگ اپنے آپ کو جوابدہی سے ماورا، تنقید سے بالاتر اور خدائی دعوے کے قریب سمجھ بیٹھے ہیں۔اس پریس کانفرنس میں ایسا زعم، ایسی برتری، اور ایسا تکبر جھلک رہا تھا کہ گویا گردن میں سریا گاڑھ دیا گیا ہو نہ جھکنے کی گنجائش، نہ سننے کی صلاحیت، نہ ماننے کی ضرورت، یہ طرزِ گفتگو کسی خدمت گزار عوامی نمائندے کا نہیں، بلکہ اس ایلیٹ کلاس وڈیرہ شاہی کا ہے جو صدیوں سے عوام کو رعیت سمجھنے کی عادت میں مبتلا ہے۔یہ لوگ قوم کے خیرخواہ نہیں بن سکتے، کیونکہ خیرخواہی کے لیے دل میں درد چاہیے، اور درد وہاں ہوتا ہے جہاں اختیار کے بجائے احساس ہو۔

    کراچی کا شہری آج بدترین بلدیاتی بداعمالیوں، غفلتوں اور بدانتظامیوں کے بوجھ تلے کراہ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم فریاد لے کر کس کے پاس جائیں؟ کون ہے جو سنے؟ کون ہے جو بولے؟ کون ہے جو جائے وقوعہ تک قدم رکھے؟ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں شہرِ کراچی کے لوگ روزانہ جنازوں جیسے راستوں سے گزرتے ہیں سڑکوں پر ابلتے گٹر، گندگی کے ڈھیر، ٹوٹی پگڈنڈیاں، تعفن زدہ ماحول، اور کھنڈرات میں بدلتے محلے یہ وہ شہر نہیں جسے کبھی روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا۔

    ہم صبح گھروں سے نکل کر جس اذیت ناک منظر اور تعفن سے گزر کر دفتر پہنچتے ہیں، یہ صرف ہم ہی جانتے ہیں اور شام کو جب تھکن زدہ جسم گھر آتا ہے تو کئی گھنٹوں تک اس قابل نہیں ہوتا کہ زندگی کی کوئی اور ذمہ داری نبھا سکے۔ یہ تھکن جسمانی سے زیادہ ذہنی ہےایک شہر کی حالت دیکھ کر پیدا ہونے والی مایوسی کی تھکن، حکمرانوں کے رویے سے جنم لینے والی بے بسی کی تھکن۔یہ شہر ٹیکس سب سے زیادہ دیتا ہے، مگر بدحالی سب سے زیادہ سہتا ہے۔یہاں سانحات بھی عوام کے نصیب میں ہیں، اور حکمرانوں کا تکبر بھی کراچی کے شہریوں کا صبر اب آخری حدوں کو چھو رہا ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکمران تخت و تاج والی ذہنیت کو ترک کریں، زمین پر آئیں، عوام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیں، ذمہ داری قبول کریں، اور اس شہر کو اس کے بنیادی حقوق فراہم کریں۔اگر ایسا نہ ہوا تو کراچی کی چیخیں صرف ایک بچے کی موت پر نہیں، نظام کے ہر زخم پر بلند ہوں گی اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی شہر چیخیں، تخت لرز جاتے ہیں۔

  • شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    شور نہیں شعور کا راستہ چنیں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز اس وقت جن حالات سے گزر رہا ہے انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی قوم کا اجتماعی شعور تھکا ہوا ہو۔ دل بوجھل ہو اور نظر دھندلا گئی ہو ملک کے سیاسی منظرنامے پر جو شور، الزام تراشی، بدزبانی اور عدم برداشت چھایا ہوا ہے، اسے دیکھ کر شائبہ ہوتا ہے جیسے کہ ہم ایک ایسی کھائی کے کنارے کھڑے ہیں جہاں سے واپس پلٹنے کے لیے بہت مضبوط ارادہ درکار ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں اداروں پر تنقید ہوتی ہے مگر وہ تنقید دلیل کے ساتھ اور تہذیبی دائرے میں کی جاتی ہے۔ مگر وطن عزیز میں حالیہ برسوں میں جو زبان، جو لہجہ اور طرز بیان اختیار کیا گیا ہے وہ ریاستی اداروں سمیت ہر اس ستون کے لیے مایوس کن ہے جو کسی قوم کی بقا کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ یہ محض زبان کا بگاڑ نہیں ایک گہری سماجی بے چینی کی علامت ہے۔ اصل مسلہ یہ ہے کہ ملک میں قیادت کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں میں برداشت، بردباری، حکمت اور وقار کم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ جذباتیت اور ردعمل نے وسعتِ نظر کی جگہ لے لی ہے۔ سیاست دلیل سے ہٹ کر نعروں تک محدود ہوتی جا رہی ہے۔ وہ چند لوگ جو تحمل اور وقار سے بات کرنا جانتے ہیں انکی آواز شور میں دب کر رہ گئی ہے۔

    یہ بحران صرف سیاست تک محدود نہیں معاشرتی رویے بھی اسی انتشار کی جھلک دکھاتے ہیں۔ اختلاف رائے کو دشمنی سمجھ لیا گیا ہے۔ گفتگو کا معیار گر گیا ہے عوام مہنگائی، بیروزگاری اور غیر یقینی کے بوجھ تلے مایوسی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ اور جب قوم کے دل میں امید کم ہو جائے تو زبان میں سختی اور رویوں میں تلخی بڑھ جایا کرتی ہے۔ مگر یہ تصویر پوری نہیں حقیقت یہ ہے کہ وطن عزیز میں آج بھی بیشمار سمجھدار، معتدل، باشعور اور سنجیدہ افراد موجود ہیں۔ سیاست دان، دانشور، صحافی، سرکاری افسران، نوجوان اور عام شہری جن کی سوچ میں توازن اور دل میں ملک کے لیے اخلاص موجود ہے مگر انکی آوازیں کمزور ہیں جبکہ جذباتی بیانیہ زیادہ زور سے بولا جا رہا یے۔ وطن عزیز کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ دلیل پر مبنی مکالمہ، شائستگی کی بحالی اور ایسی قیادت جو قوم کو تقسیم نہیں، جوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہو، قیادت وہی جو صرف سیاسی قوت نہ رکھتی ہو بلکہ اخلاقی قوت بھی رکھتی ہو جو قوم کے زخموں کو پہچانے اور ان ہر مرہم رکھ سکے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ قومیں بحران سے گزرتی ہیں مگر جو قومیں بحران کو اپنا استاد بنا لیں وہ ٹوٹتی نہیں سنورتی ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ شدید ضرور ہے مگر ناقابل حل ہرگز نہیں بس ضرورت اس امر کی ہے ہم بطور قوم فیصلہ کر لیں کہ ہمیں شور نہیں شعور کے راستے پر چلنا ہے۔

  • آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے غلط رویہ.تجزیہ:شہزاد قریشی

    ملک کے سیاسی ماحول میں ایک خطرناک رجحان تیزی سے پنپ رہا ہے۔ سیاسی اختلافات، ذاتی مفادات اور سستی شہرت کی دوڑ نے کچھ عناصر جن میں یوٹیوبرز، غیر ذمہ دار سوشل میڈیا اور دوسرے ویلاگرز نے اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف من گھڑت افواہیں پھیلانا اپنا معمول بنا چکے ہیں۔ یہ طرز عمل نہ صرف اخلاقی انحطاط کا مظہر ہے۔ بلکہ قومی سلامتی پر براراست حملہ بھی ہے۔ پاکستان کی سلامتی کے ادارے خصوصا عسکری قوت اس ملک کی دفاعی دیوار ہے۔ یہ وہ ادارے ہیں جنکے افسران اور جوان ہر لمحہ اپنی جان کو داو پر لگا کر ملک کی سرحدوں کے محافظ بنے کھڑے ہیں۔ ان میں سے کئی وطن کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کرتے ہیں ایسے میں ان کے خلاف جھوٹے الزامات اور بے بنیاد پروپیگنڈہ نہ صرف شہداء کے خون کی توہین ہے بلکہ معاشرے میں انتشار اور بداعتمادی کو جنم دیتا ہے۔

    بلاشبہ اظہار رائے ہر شہری کا بنیادی حق ہے مگر اس آزادی کی آڑ میں ریاستی اداروں پر حملے کرنا انکی ساکھ مجروح کرنا اور عوامی اعتماد کو متنززل کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ دنیا کی ذمہ دار ریاست میں ایسی منفی سرگرمیوں کے خلاف سخت قوانین موجود ہوتے ہیں اور ان قوانین کا نفاذ قومی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاو کو روکنے کے لیے واضح اور سخت حکمت عملی وضع کی جائے ساتھ ہی عوام کو معلومات کی تصدیق اور ذمہ دارانہ رویے کی اہمیت سے آگاہ کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت مدنظر رکھنا چاہیے کہ ریاست ہمیشہ مقدم رہتی ہے سیاست بعد میں۔ اگر سیاسی فائدے یا ذاتی شہرت کے لیے اداروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو اسکے اثرات قوم کی اجتماعی وحدت، سلامتی اور استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔

    وطن عزیز اس وقت جن چیلنجز سے دوچار ہے وہ ہم سے زیادہ ذمہ داری، اتحاد اور سنجیدگی کا تقاضا کرتے ہیں۔ افواہوں کی سیاست کے خلاف اجتماعی شعور اور ریاستی سطح پر مضبوط کاروائی ہی ملک کو اس خطرناک رجحان سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

  • جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جماعت اسلامی کا پنجاب میں ایک نیا آغاز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاست کے بدلتے ہوئے تناظر میں جماعت اسلامی ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ گزستہ دنوں لاھور میں ہونے والا جماعت اسلامی پنجاب کا تاریخی اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت اسلامی ایک بار پھر اپنی تنظیمی طاقت بحال کرنے اور عوامی سیاست میں نئی روشنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ لاہور کا اجتماع صرف ایک تنظیمی تقریب نہیں تھا بلکہ یہ جماعت کی سیاسی سمت کے تعین میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کی حالیہ مقبولیت اس اسکے سیاسی مستقبل کا سب سے نمایاں پہلو ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت نے جس موثر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اس نے نہ صرف شہری طبقات میں اسکی ساکھ کو مضبوط کیا بلکہ یہ تاثر بھی قوی ہوا کہ جماعت اسلامی ابھی صرف نظریاتی ووٹرز تک محدود نہیں بلکہ شہری مسائل کے حل کے لیے ایک سنجیدہ متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ کراچی میں ٹرانسپورٹ، پانی، نکاسی، تجاوزات اور شہری سہولیات جیسے مسائل پر جماعت کی مسلسل مہم نے اسے دیگر جماعتوں کے مقابلے میں عملی سیاست کا نیا چہرہ فراہم کیا۔ یہ وہ کریڈٹ ہے جو اب پنجاب سمیت دیگر صوبوں تک منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پنجاب تاریخی طور پر مذہبی اور نظریاتی سیاست کے لیے زرخیز رہا ہے مگر گزشتہ دہائیوں میں جماعت اسلامی جہاں مطلوبہ انتخابی نفوس پیدا نہ کر سکی تاہم لاھور میں حالیہ اجتماع نے یہ تاثر بدلا ہے۔ اس اجتماع میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت سے یہ واضح ہوا کہ جماعت اب پنجاب میں ایک نئے بیانیے اور نئی تنظیمی حکمت عملی کیساتھ میدان میں اتر رہی ہے۔ جماعت کی نئی حکمت عملی تین اہم نکات ہر مبنی دکھائی دیتی ہے۔ تنظیمی ڈھانچے کی بھرپور بحالی۔ بلدیاتی سطح پر فعال موجودگی۔ عوامی مسائل کے حل کو نظریاتی سیاست کیساتھ جوڑنا۔ اگر جماعت اپنے بیانیے کو برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئی تو پنجاب میں اسے پہلے سے بہتر عوامی پزیرائی مل سکتی ہے۔ جماعت اسلامی کا نوجوان منظر نامہ، مواقعے اور چیلنجز دونوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک طرف عوام کی نظریاتی سیاست سے مایوسی جماعت کے لیے جگہ پیدا کر رہی ہے، تو دوسری طرف روایتی بڑی جماعتوں کا دباؤ اس کے لیے سخت امتحان بھی ہے۔ سیاسی منظر نامے میں جماعت اسلامی کا مستقبل چند باتوں پر منحصر ہو گا۔ کیا جماعت اسلامی کراچی ماڈل کو پنجاب میں دہرا سکے گی؟ کیا قیادت نوجوان ووٹرز تک رسائی برھا سکے گی؟ کیا جماعت اپنی عوامی سیاست کو جدید میڈیا اور تنظیمی اسٹرجیٹی کے مطابق ڈھال سکے گی؟ اگر یہ تینوں سوالات کے جوابات مثبت ہوئے تو جماعت اسلامی نہ صرف پنجاب میں بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی سیاسی حیثیت بہتر بنا سکتی ہے۔ جماعت اسلامی ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے افق پر نئی توانائی کیساتھ ابھر رہی ہے۔ لاھور کا اجتماع اس سفر کا نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ کراچی کی کامیابی جماعت کے لیے اعتماد کا سب سے مضبوط سہارا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر جماعت اپنی پالیسیوں میں یکسوئی برقرار رکھتی ہے تو وہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اہم کردار ادا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی سیاست بدلتے موسموں کی کہانی کی طرح ہے۔ کبھی کوئی جماعت مرکز نگاہ بنتی ہے، تو کبھی کوئی تحریک دھڑکنوں میں اتر آتی ہے۔ تاہم پاکستان کی سیاست میں خلا موجود ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جماعت اسلامی اس خلا کو کیسے اور کس حد تک پر کرتی ہے۔ جماعت اس جگہ کو عملی سیاسی قوت میں بدل سکے گی یا نہیں۔ پنجاب کا سیاسی نقشہ فیصلہ کن رہا ہے یہاں کے ووٹر کا رحجان ملک کی مجموعی سیاست کی سمت تعین کرتا ہے۔ لاھور کے حالیہ اجتماع نے یہی پیغام دیا کہ جماعت اسلامی پنجاب میں ایک نیا آغاز چاہتی ہے اور شاید کر بھی چکی ہے۔