Baaghi TV

Category: سیاست

  • نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    نوکری نہیں، کاروبار وقت کی ضرورت،تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ

    آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ نوجوانوں کو نوکری کی بجائے کاروبار کی طرف وقت کی ضرورت بن چکا ہے ہمارا نوجوان کاروبار کی طرف توجہ کیوں نہیں دے پا رہا آئیں اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کرتے ہیں
    پاکستان اس وقت بے شمار معاشی، سماجی اور انتظامی مسائل سے دوچار ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ لا قانونیت کرپشن اور اقربا پروری ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی، غربت، صنعتی زوال، قرضوں کا بوجھ اور آبادی میں مسلسل اضافہ ایسے چیلنجز ہیں جو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ ان مسائل کا سب سے زیادہ اثر نوجوان نسل اور آنے والے کل پر ، پڑ رہا ہے، جو پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کی تقریباً 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان اگر درست سمت میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تو پاکستان ترقی کی نئی منازل طے کر سکتا ہے، لیکن اگر ان کی توانائیاں ضائع ہو گئیں جیسا کہ ہورہیں ہیں تو یہ قومی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔

    بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں آج بھی سرکاری یا نجی ملازمت کو کامیابی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کسی اچھی سرکاری نوکری میں چلے جائیں۔ ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں مگر ملازمتوں کے محدود مواقع ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیتے ہیں۔ نتیجتاً بے روزگاری، مایوسی اور احساس محرومی میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی کی بھی ایک بڑی وجہ سرکاری سطح پر ناقص منصوبہ بندی مستقبل کی ہے

    حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دور میں صرف نوکریوں کے ذریعے معاشی استحکام حاصل کرنا ممکن نہیں۔ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور کامیاب قومیں اپنے نوجوانوں کو کاروبار، جدت، ٹیکنالوجی اور صنعت کی طرف لے جا رہی ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کی کامیابی کے پیچھے بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ نوجوان ملازمت کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔
    دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کی، وہ ترقی کی بلند ترین منازل تک پہنچ گئیں۔ جنوبی کوریا کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ چند دہائیاں قبل یہ ملک جنگ، غربت اور معاشی تباہی کا شکار تھا، لیکن حکومت نے نوجوانوں کو صنعت، ٹیکنالوجی اور کاروبار کی طرف راغب کیا۔ آج جنوبی کوریا دنیا کی بڑی معیشتوں میں شامل ہے اور اس کی مصنوعات پوری دنیا میں استعمال ہو رہی ہیں۔
    چین کی مثال اس سے بھی زیادہ متاثر کن ہے۔ ایک وقت تھا جب چین کو ایک پسماندہ زرعی ملک سمجھا جاتا تھا، لیکن کاروبار دوست پالیسیوں، صنعت کاری اور نوجوانوں کی حوصلہ افزائی نے اسے دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بنا دیا۔ لاکھوں نوجوانوں نے چھوٹے کاروبار شروع کیے جو بعد میں عالمی سطح کی کمپنیوں میں تبدیل ہوگئے۔

    سنگاپور قدرتی وسائل سے تقریباً محروم ایک چھوٹا سا ملک ہے، مگر وہاں تعلیم، کاروبار، میرٹ اور تجارت کو فروغ دے کر ایسی معیشت قائم کی گئی جو آج دنیا کے لیے مثال بن چکی ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش نے گارمنٹس انڈسٹری، چھوٹے کاروباروں اور برآمدات پر توجہ دے کر اپنی معیشت کو مضبوط بنایا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ قوموں کی ترقی کا راز نوجوانوں کو کاروباری مواقع فراہم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

    پاکستان میں بھی کاروبار کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ زراعت، لائیو اسٹاک، ڈیری فارمنگ، بکری پال، پولٹری، شہد کی پیداوار، ای کامرس، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فوڈ پراسیسنگ، مصنوعی ذہانت (AI) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے روشن امکانات رکھتے ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والے نوجوان جدید زرعی طریقوں، ویلیو ایڈیشن، ڈیری فارمنگ اور بکری پال کے شعبوں میں کامیابی حاصل کرکے نہ صرف اپنی زندگی بدل سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔
    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے، لیکن نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس شعبے سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ اگر جدید ٹیکنالوجی، سائنسی تحقیق اور کاروباری سوچ کو زراعت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو یہ شعبہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے معاشی خوشحالی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ دنیا بھر میں زرعی کاروبار اربوں ڈالر کی صنعت بن چکا ہے جبکہ پاکستان میں بھی اس میدان میں بے پناہ مواقع موجود ہیں۔مگر بدقسمتی سے زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم چینی ،کپاس۔گندم اور دالیں باہر سے منگواتے ہیں کیونکہ ہم کمیشن کو ترجیح دیتے ناکہ اپنے مستقبل کو۔

    حکومت، تعلیمی اداروں، مالیاتی اداروں اور نجی شعبے کی ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں دینے کے بجائے کاروباری تربیت بھی فراہم کریں۔ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں انٹرپرینیورشپ، مالیاتی نظم و نسق، مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مضامین کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ بینکوں کو نوجوان کاروباری افراد کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی یقینی بنانی چاہیے جبکہ حکومت کو ایسا کاروبار دوست ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں نوجوان بلاخوف و خطر اپنے خوابوں کو عملی شکل دے سکیں۔

    آج کا دور علم، ہنر اور ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کو سمجھ کر اپنے نوجوانوں کو جدید علوم اور کاروباری مہارتوں سے آراستہ کر رہی ہیں وہی ترقی کر رہی ہیں۔ پاکستان بھی وسائل، صلاحیتوں اور افرادی قوت کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ نوجوانوں کی توانائیوں کو مثبت سمت دی جائے اور انہیں خود انحصاری کی راہ پر گامزن کیا جائے۔
    پاکستان کا محفوظ اور روشن مستقبل نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے۔ اگر نوجوان ملازمتوں کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کے بجائے کاروبار، صنعت، زراعت، ٹیکنالوجی اور اختراع کے میدان میں آگے بڑھیں تو ملک کی معاشی مشکلات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ جب نوجوان روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار پیدا کرنے والے بن جائیں گے تو بے روزگاری، غربت اور معاشی عدم استحکام جیسے مسائل پر قابو پانا آسان ہو جائے گا۔

    وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی سوچ کو تبدیل کریں اور نوجوانوں کو یہ پیغام دیں کہ کامیابی صرف نوکری میں نہیں بلکہ کاروبار، محنت، جدت اور خود انحصاری میں بھی ہے۔ جن قوموں کے نوجوان بڑے خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں اور خطرات مول لینے کا حوصلہ رکھتے ہیں، وہی قومیں دنیا کی قیادت کرتی ہیں۔ اگر پاکستان کے نوجوان بھی اس راستے کا انتخاب کر لیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان ایک مضبوط، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر دنیا کے نقشے پر نمایاں مقام حاصل کرے گا،مگر حقیقت اس کے برعکس ہے ہم مسلسل 78 سالوں سے ناکام منصوبہ بندی کے تحت اپنے مستقبل کو تاریکی میں ڈبونے کا کام کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں تاریخ گواہ ہے ۔لیکن آج بھی اگر صحیح منصوبہ بندی کی جائے تو سب کچھ ممکن ہے
    ،،امید کا دامن تھامے رکھیں مگر کب تک ،، آج کا نوجوان ہی کل کا پاکستان ہے۔

  • الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    الزام تراشی کی سیاست اور قومی ذمہ داریوں سے فرار،تجزیہ:شہزاد قریشی

    جمہوریت کی اصل روح شکست کو تسلیم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے میں ہے، نہ کہ ہر ناکامی کا الزام دوسروں پر ڈالنے میں

    جو سیاست عوام کی خدمت کے بجائے الزام تراشی کے گرد گھومنے لگے، وہاں مسائل بڑھتے ہیں اور حل دور ہوتے چلے جاتے ہیں

    قومی ترقی تب ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے گریبان میں جھانکیں، کارکردگی کو معیار بنائیں اور جوابدہی کو شعار بنائیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ یہاں اقتدار میں آنے والی جماعت اپنے پیش روؤں کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، جبکہ اقتدار سے محروم ہونے والی جماعت نئی حکومت پر ناکامیوں کا بوجھ ڈالنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ روایت کوئی نئی نہیں بلکہ دہائیوں سے جاری ایک سیاسی طرزِ عمل بن چکی ہے جس نے عوامی مسائل کے حقیقی حل کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ انتخابات کے بعد شکست تسلیم کرنے کا سیاسی ظرف بھی ہمارے ہاں کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ اکثر سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کو قبول کرنے کے بجائے دھاندلی، مداخلت اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کا بیانیہ اختیار کر لیتی ہیں۔ اگر کسی مخصوص انتخاب میں مداخلت کے واضح شواہد موجود نہ ہوں، تب بھی الزامات کی گرد اڑائی جاتی ہے۔ یہ رویہ جمہوری عمل پر عوامی اعتماد کو کمزور کرتا ہے اور سیاسی سنجیدگی کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک مضبوط جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کی پہلی ذمہ داری عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا ہوتی ہے۔ پاکستان برسوں سے بجلی کے بحران، گیس کی قلت، مہنگائی، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور دیگر بنیادی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ مسائل کسی ایک حکومت یا ایک ادارے کی پیداوار نہیں بلکہ طویل عرصے کی پالیسی ناکامیوں اور اجتماعی غفلت کا نتیجہ ہیں۔ اسی طرح خوراک میں ملاوٹ، ادویات میں جعل سازی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری جیسے جرائم بھی قومی زندگی کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ان جرائم کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟ اگر سیاسی جماعتیں واقعی عوامی خدمت کا دعویٰ کرتی ہیں تو انہیں ایسے عناصر کی سرپرستی کے بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے۔ ہر مسئلے کا ذمہ دار صرف اسٹیبلشمنٹ یا کسی ایک ادارے کو قرار دینا نہ تو حقیقت پسندانہ رویہ ہے اور نہ ہی قومی مفاد کے مطابق۔ پاکستان کی مسلح افواج اور دیگر ریاستی ادارے اپنی اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔ اختلافِ رائے ہر شہری اور سیاسی جماعت کا حق ہے، لیکن بلا ثبوت الزامات، مسلسل کردار کشی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈال دینا مسائل کا حل نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی قیادت اپنے گریبان میں جھانکے، اپنی کارکردگی کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے اور عوام کے سامنے جوابدہی کا رویہ اختیار کرے۔ قومیں الزام تراشی، نفرت اور سیاسی ضد سے نہیں بلکہ دیانت دار قیادت، مؤثر حکمرانی اور اجتماعی ذمہ داری کے احساس سے ترقی کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست کا ایک حصہ اب سنجیدہ قومی مباحث کے بجائے سوشل میڈیا کی شوریدہ فضا اور وقتی مقبولیت کے گرد گھومنے لگا ہے۔ ایسے ماحول میں اصل سوالات پسِ منظر میں چلے جاتے ہیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ نعروں کے بجائے کارکردگی کو معیار بنائیں اور سیاسی جماعتوں سے سوال کریں کہ انہوں نے عوامی فلاح، روزگار، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے لیے کیا عملی اقدامات کیے ہیں۔ پاکستان کو آج الزاموں کی سیاست نہیں بلکہ جوابدہی، خدمت اور قومی یکجہتی کی سیاست کی ضرورت ہے۔ جب تک سیاسی قوتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک نہیں کریں گی اور ہر ناکامی کا بوجھ دوسروں پر ڈالتی رہیں گی، تب تک عوامی مسائل اپنی جگہ موجود رہیں گے اور ترقی کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔

  • غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    غرورِ اقتدار اور خدمتِ عوام کا بھولا ہوا راستہ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مٹی کے انسان کا تکبر اور قوم کا زوال عہدے فانی ہیں، کردار امر ہے

    غرور کے محل اور خدمت کے اجڑے راستے جب حکمران عوام سے دور ہو جائیں

    تکبر کی سیڑھی زوال کی منزل قوم کو رہنما چاہیے حاکم نہیں اقتدار امتحان ہے انعام نہیں

    تجزیہ: شہزاد قریشی

    یہ بات آج بھی میری سمجھ سے باہر ہے کہ آخر انسان، بالخصوص سیاست کے ایوانوں میں بیٹھا ہوا انسان، غرور اور تکبر کس بنیاد پر کرتا ہے؟ وہ سیاستدان جو تحصیل کی سطح سے لے کر قومی سطح تک عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ بیوروکریٹ جو ریاستی امور کے نگران ہیں، اور وہ لوگ جو خود کو ممتاز رہنما یا ممتاز شخصیت کہلوانا پسند کرتے ہیں، آخر وہ کس چیز پر فخر کرتے ہیں؟ اگر غرور کرنا ہی ہے تو اپنے کردار پر کریں، اپنی دیانت داری پر کریں، اپنی خدمتِ خلق پر کریں، اپنے اخلاق پر کریں۔ مگر افسوس کہ ہمارے سیاسی ماحول میں کردار سازی کے بجائے کردار کشی کو فروغ دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے کو چور، ڈاکو، لٹیرا اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازنا معمول بن چکا ہے۔ کئی دہائیاں گزر گئیں، لیکن قوم کے کانوں میں یہی الزامات گونجتے رہے ہیں۔

    میری عمر کا ایک بڑا حصہ ان سیاسی مناظر کو دیکھتے اور سنتے ہوئے گزرا ہے۔ چالیس برس سے زائد عرصے میں یہی سننے کو ملا کہ فلاں نے خزانہ لوٹ لیا، فلاں ملک کو نقصان پہنچا گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر سب ہی چور ہیں تو پھر عوام کے مسائل کون حل کرے گا؟ اگر تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں صرف ہوں گی تو ملک آگے کیسے بڑھے گا؟ آج عوام بنیادی مسائل کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ گیس کا بحران، بجلی کی قلت، پانی کی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر بے شمار مسائل عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا اصل حسن تو جمہور کی خدمت میں ہے،لیکن افسوس کہ خدمت کے بجائے اقتدار کی کشمکش نے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ اقتدار کی کرسی کوئی دائمی شے نہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا بھی ہے اور امتحان بھی۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کی حیثیت، طاقت یا عہدہ ہمیشہ اس کے پاس رہے گا، وہ تاریخ کے آئینے میں اپنا انجام دیکھ لے۔ دنیا گواہ ہے کہ غرور اور تکبر نے بڑے بڑے تاجداروں کو مٹی میں ملا دیا۔ انسان مٹی سے بنا ہے اور مٹی ہی میں لوٹ جانا ہے، پھر یہ تکبر کس بات کا؟

    بدقسمتی سے اقتدار کے اردگرد خوشامدیوں کا ایک ہجوم بھی جمع ہو جاتا ہے۔ یہی خوشامد کرنے والے لوگ انسان کو حقیقت سے دور کر دیتے ہیں۔ وہ اسے اس کی کمزوریاں نہیں بتاتے بلکہ اس کے غرور کو مزید بڑھاتے ہیں۔ حالانکہ سچا خیرخواہ وہ ہے جو آئینہ دکھائے، نہ کہ وہ جو تعریفوں کے پل باندھ کر انسان کو حقیقت سے بے خبر کر دے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان، بیوروکریٹ اور تمام بااثر طبقات اپنے اندر جھانکیں۔ وہ سوچیں کہ تاریخ ان کے عہدوں کو نہیں، ان کے کردار کو یاد رکھے گی۔ لوگ ان کی گاڑیوں، لباسوں اور پروٹوکول کو نہیں، بلکہ ان کی خدمت، انصاف اور دیانت کو یاد رکھیں گے۔ پاکستان کو مضبوط بنانے کا راستہ غرور اور تکبر سے نہیں بلکہ عاجزی، خدمت اور کردار سے ہو کر گزرتا ہے۔ عوام کی مشکلات کو اپنا مسئلہ سمجھنا، کمزور کی آواز بننا اور ریاستی ذمہ داریوں کو امانت سمجھ کر ادا کرنا ہی اصل قیادت ہے۔ کاش ہمارے صاحبانِ اقتدار یہ حقیقت سمجھ لیں کہ عزت کرسی سے نہیں، کردار سے ملتی ہے؛ اور جو عزت کردار سے ملتی ہے، اسے نہ وقت چھین سکتا ہے اور نہ تاریخ فراموش کر سکتی ہے۔

  • آئندہ بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان، IMF شرائط ،عوامی ریلیف میں توازن قائم کرنا چیلنج ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آئندہ بجٹ حکومت کے لیے بڑا امتحان، IMF شرائط ،عوامی ریلیف میں توازن قائم کرنا چیلنج ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے انتخابات ملکی سیاست کا رخ متعین کریں گے، بڑی جماعتوں میں سخت مقابلے کی توقع

    معاشی فیصلے اور انتخابی نتائج آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

    تجزیہ شہزاد قریشی

    پاکستان ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں معیشت اور سیاست ایک دوسرے پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔ آئندہ وفاقی بجٹ حکومت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوگا، کیونکہ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں جبکہ دوسری جانب مہنگائی سے پریشان عوام کو ریلیف دینا بھی ناگزیر ہے۔ بظاہر حکومت ایک ایسا بجٹ پیش کرنے کی کوشش کرے گی جو معاشی استحکام اور سیاسی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکے۔

    دوسری طرف گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے متوقع انتخابات ملکی سیاست کا اہم رخ متعین کر سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کی جماعتوں، خصوصاً مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی، کو نسبتاً بہتر پوزیشن حاصل دکھائی دیتی ہے، جبکہ تحریک انصاف بھی ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر مقابلے میں موجود ہے۔ آزاد کشمیر میں بھی تینوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلے کے آثار ہیں۔

    مجموعی طور پر آنے والے چند ماہ پاکستان کی سیاست اور معیشت دونوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت بجٹ کے ذریعے عوامی اعتماد بحال کرنے میں کامیاب رہی تو اس کے سیاسی اثرات انتخابات میں بھی نظر آ سکتے ہیں، جبکہ معاشی دباؤ یا عوامی بے چینی اپوزیشن جماعتوں کے لیے سیاسی مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ اور آئندہ انتخابات کو پاکستان کے سیاسی منظرنامے کے دو اہم ترین امتحانات قرار دیا جا رہا ہے۔

  • دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا آخر کس طرف جا رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    دنیا نازک موڑ پر سفارتی تعطل اور جنگی خطرات میں اضافہ

    امریکہ، ایران اور روس تنازع عالمی امن کو نئے چیلنجز درپیش

    بڑھتی کشیدگی، کمزور سفارت کاری دنیا کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک غیر یقینی، بے اعتمادی اور طاقت کے توازن کی نئی جنگ کی طرف بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات سلجھنے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب روس اور مغرب کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں رومینیا میں روسی ڈرون گرنے کے واقعے نے عالمی سطح پر تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ رومینیا یورپی یونین اور نیٹو کا رکن ملک ہے۔ اگرچہ اطلاعات کے مطابق یہ براہِ راست مکمل جنگی حملہ نہیں بلکہ یوکرین جنگ کے تناظر میں ایک ڈرون واقعہ بتایا جا رہا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔

    میری رائے میں مسئلہ صرف جنگوں کا نہیں، بلکہ قیادت کے بحران کا ہے۔ دنیا کی بڑی طاقتیں اب فوری حل کے بجائے “اسٹریٹجک انتظار” کی پالیسی پر چل رہی ہیں۔ امریکہ، جو خود کو عالمی قیادت کا مرکز سمجھتا ہے، اسے صرف ردعمل نہیں بلکہ پیشگی سفارت کاری، مؤثر مذاکرات اور تنازعات کے مستقل حل پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ ایران کے ساتھ معاہدہ مسلسل تعطل کا شکار ہے، مشرقِ وسطیٰ میں بے یقینی موجود ہے، روس اور یوکرین کی جنگ پورے یورپ کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے، جبکہ خطے کے کئی دیگر تنازعات بھی حل طلب ہیں۔

    حیرت ہے اگر ایک معاملہ حل نہیں ہو رہا تو دوسرا محاذ کھل جاتا ہے۔ یہی صورتحال عالمی نظام کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہیں جنگ بندی پائیدار نہیں، اور کہیں سفارت کاری سیاسی مفادات کی نذر ہو رہی ہے۔ دنیا میں طاقت تو موجود ہے، مگر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔

    لیکن یہاں ایک احتیاطی نقطہ بھی ضروری ہے: ہر واقعہ کو فوری طور پر “عالمی جنگ” کا آغاز سمجھنا شاید درست نہ ہو۔ اکثر اوقات سرحدی یا جنگی سیکیورٹی اور سیاسی تناؤ بڑے بحران کا اشارہ تو ہوتے ہیں، مگر عالمی طاقتیں انہیں قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کرتی ہیں۔ رومینیا کے معاملے پر نیٹو نے سخت ردعمل دیا ہے، مگر ساتھ ہی کشیدگی کو مکمل جنگ میں بدلنے سے بچنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔

    دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ اگر بڑی طاقتیں انا، سیاسی مفادات اور طاقت کے کھیل سے اوپر نہ اٹھیں تو چھوٹے واقعات بڑے تصادم میں بدل سکتے ہیں۔ امریکہ سمیت عالمی قیادت کو سنجیدہ، دوراندیش اور فوری سفارتی حکمتِ عملی اپنانا ہوگی، ورنہ دنیا امن سے زیادہ خوف، غیر یقینی اور تقسیم کی طرف بڑھ سکتی ہے۔

  • سیاسی گلیاروں کا بحران باتیں حسین کی، چلن کوفیوں جیسا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    سیاسی گلیاروں کا بحران باتیں حسین کی، چلن کوفیوں جیسا،تجزیہ:شہزاد قریشی

    باتیں جمہوریت کی سیاست مفادات کی
    پاکستانی سیاسی گلیاروں کا المیہ

    سیاسی گلیاروں میں اصولوں کے دعوے، مگر عملی رویے مفادات کے تابع

    تجزیہ شہزاد قریشی

    بقولِ شاعر:
    چلن سب کا ہے کوفیوں جیسا،
    باتیں حسینؓ کی کرتے ہیں”
    آج اگر پاکستان کے سیاسی گلیاروں پر نظر ڈالی جائے تو یہ شعر محض ایک ادبی اظہار نہیں بلکہ ایک تلخ سیاسی حقیقت محسوس ہوتا ہے۔ ملک کی سیاست میں اصولوں، اخلاقیات اور قومی مفاد کی باتیں تو بہت کی جاتی ہیں، مگر عملی سیاست کا منظر اس کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ الزامات، کردار کشی، ذاتی دشمنیاں، ویڈیو و آڈیو سکینڈلز اور اقتدار کی بے رحم کشمکش نے سیاست کو قومی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کی جنگ بنا دیا ہے۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس تمام سیاسی شور شرابے میں نہ جمہوریت مستحکم ہوئی اور نہ ہی سیاسی کلچر میں پختگی آئی۔ سیاسی جماعتیں عوامی مسائل، قومی معیشت، تعلیم، صحت، خارجہ پالیسی یا ادارہ جاتی اصلاحات پر سنجیدہ مکالمے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست میں الجھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاست کا مقصد قوم کی رہنمائی نہیں بلکہ صرف اقتدار تک رسائی رہ گیا ہے۔

    میرا خیال ہے کہ پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں مؤثر تھنک ٹینک کا شدید فقدان ہے۔ دنیا کی کامیاب جمہوریتوں میں سیاسی جماعتوں کے پاس ماہرین، دانشوروں، معیشت دانوں اور پالیسی سازوں پر مشتمل ٹیمیں ہوتی ہیں جو مستقبل کی حکمتِ عملی، قومی مسائل کے حل اور ادارہ جاتی بہتری کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں اکثر فیصلے وقتی سیاسی فائدے، جذباتی نعروں یا شخصیات کے گرد گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ سیاست میں برداشت کم اور انتشار زیادہ نظر آتا ہے۔ جماعتوں کے اندر جمہوریت کمزور، اختلافِ رائے ناپسندیدہ اور میرٹ اکثر مصلحتوں کی نذر ہو جاتا ہے۔ جب سیاسی قیادت اپنے اندر فکری تربیت، پالیسی سازی اور نظریاتی استحکام پیدا نہیں کرے گی تو جمہوریت محض انتخابات تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔
    پاکستان کو آج الزام تراشی نہیں بلکہ فکری سیاست کی ضرورت ہے؛ ایسی سیاست جو قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرے، نوجوانوں کو مایوسی نہیں بلکہ امید دے، اور اقتدار کے کھیل سے نکل کر قومی تعمیر کا راستہ اختیار کرے۔ ورنہ “باتیں حسینؓ کی” اور “چلن کوفیوں جیسا” والا طعنہ ہمارے سیاسی رویّوں پر مسلسل چسپاں رہے گا۔

  • اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی،تحریر:ملک سلمان

    اے ڈی سی آر کی سپیڈ منی، کتے مارنے کی کمائی اور بے بس عدلیہ،جھاڑو سے پیسے اکٹھا کرتا ستھرا پنجاب

    وزیراعلی نوبل انعام لے سکتی تھیں لیکن نااہل بیوروکریسی کی وجہ سے انہیں بد دعائیں مل رہی ہیں۔ہر ضلع میں پبلک ویلفیئر فنڈز سمیت دیگر مدات سے رقم نکال کر روزانہ کی بنیاد پر ایک لاکھ سے 20 لاکھ روپے کتے مارنے پر لگائے جا رہے ہیں مجموعی طور پر اربوں روپے کتے مارنے پر اجاڑے جا چکے ہیں لیکن ویکسینیشن کے لیے پیسے نہیں ؟سینٹری ورکرز اور درجہ چہارم کے ملازمین سمیت پرائیویٹ افراد کو کتے مارنے پر لگا دیا گیا، ایک ہزار سے لے کر دو ہزار تک فی کتا پیسے چارج کیے جا رہے ہیں جب کتے مارنے پر پیسے ملیں گے تو قاتل گھروں میں گھس کر بھی زہر دے دیں گے۔ اس کتا مار مہم میں بھی بیوروکریسی اربوں روپے ڈکار رہی ہے۔
    کرپشن میں غرق افسران، صرف پیسہ لوٹنے کے لیے وحشی درندے بن گئے ہو، ظالمو، سفاک قاتلو یہی پیسہ تم ویکسینیشن اور شیلٹر ہوم کی کرپشن سے بھی کما سکتے تھے۔ ساری گیم تو پیسے کی ہے ڈی سیز کو خدشہ تھا کہ Strychnine زہر کی طرح ویکسینیشن میں بھی سینٹرل پرچیز والے کما جائیں گے اور ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ ریونیو میں تھوڑا پیسہ کما رہے ہو جو ان معصوموں کو قتل کر کے نوچ رہے ہو، مجھے سمجھ نہیں آتی کہ کتنا پیسہ چاہیے تمہیں، چھوٹی سے چھوٹی تحصیل اور ضلع میں بھی کچھ نہ کر کے بھی "آٹو سیٹ” رقم اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ دنوں میں امیر ہو جاتے ہو، ضلعی جوڈشری کو مفلوج کر کے اے ڈی سی آر کو فائنل اتھارٹی بنانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ "سپیڈ منی” ریٹ 20 فیصد سے لے کر 50 فیصد تک چل رہا ہے۔

    اے ڈی سی آر کے منہ کھل گئے ہیں فوری کیس کا حل چاہتے ہو تو اتنے فیصد لاؤ، ساتھ دھمکاتے بھی ہیں کہ یاد رکھو میرا فیصلہ ہی آخری فیصلہ ہے۔

    میڈیا پر فخر سے ڈرامہ کرتے ہیں کہ ایک ہفتے میں اتنے فیصلے کیے جبکہ حقیقت میں کیسز کے فوری حل کے پیچھے "سپیڈ منی” کا فگر اتنا بڑا ہے کہ لوکل کیلکولیٹر پر پورا نہیں آ سکتا اہم ضلع کے اے ڈی سی آر کا ڈائلاگ مشہور ہو چکا ہے کہ یہاں کام کروانا ہے تو حصہ دینا ہوگا پچھلا ایماندار تھا تو اس نے دو سال میں کسی کا کام بھی نہیں کیا۔

    اے ڈی سی آر کو عدالتی اختیارات دینا بنیادی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی ہے۔ غریب کی کمائی کا 20 سے 50 فیصد تو "سپیڈ منی” میں اے ڈی سی آر لے جاتا ہے کمائی کا یہ عالم ہے کہ پنجاب کے تین بڑے اضلاع کے اے ڈی سی آر مل کر پی آئی اے خرید سکتے ہیں۔ اختیارات میں اضافے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور ڈپٹی کمشنر معزز شہریوں سے انتہائی بدتمیزی اور حقارت سے بات کرتے ہیں۔
    ایسے میں چند لاکھ کی کرپشن کرنے والے اے ڈی سی جی کو مال بنانے کے لیے کچھ تو چاہیے تھا ایم سی ایل والے بھی ریڑی اور تجاوزات سے پیسہ اکٹھا کر کے تھک گئے تھے اس لیے کتے مارنے کی کمائی کا نیا راستہ آسان منزل لگا، ویسے ستھرا پنجاب والے صفائی کریں نہ کریں لیکن جتنا مال بنا رہے ہیں انہوں نے جھاڑو کے ساتھ پیسہ اکٹھا کرنے والی مثال سچ کر دکھائی تفصیلات اگلے کالم میں۔

    سارے افسران کرپٹ اور بدتمیز نہیں ہوتے بہت سارے اچھے افسران بھی ہیں چند کو میں ذاتی طور پر بھی جانتا ہوں جو واقعی دیانت اور اخلاقی اقدار میں قابل تقلید ہیں۔

    عدالتی احکامات کے باوجود سرعام کتوں کے قتل پر توہین عدالت کی کاروائی کیوں نہیں ہو رہی ؟
    روز قیامت ان معصوم و مقتول کتوں کی قاتل کے طور پر صرف ڈپٹی کمشنر اور میونسپل کمیٹی والے ہی نہیں ہوں گے بلکہ انصاف میں تاخیر کرنے والے ججز ظالم کا ساتھ دینے اور حمایت کرنے والے دیگر افسران و افراد شدید عذاب میں جبکہ اس ظلم کے خلاف خاموش رہنے والے بھی کسی حد تک اللہ کی پکڑ میں ضرور آئیں گے۔
    اگر معصوم کتوں کو قتل کرنے کی بجائے اینیمل قوانین کے مطابق ویکسینیشن کر کے سوسائٹی کا حصہ بنایا جاتا، پنجاب میں "مریم کے مہمان” کے نام سے شیلٹر ہوم بنائے جاتے جہاں پر ان بے گھروں کو گھر اور کھانا ملتا تو آج نہ صرف مریم نواز کو کروڑوں دعائیں ملتی بلکہ انہیں اس نیک کام کی وجہ سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر سراہا جانا تھا، کتوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے تنظیمیں وزیراعلی کے خلاف احتجاج کرنے کی بجائے جانور دوست پالیسی پر مریم نواز زندہ باد کے بینرز لگاتیں۔

    بے زبان و بے گھر جانوروں کی آواز اور سہارا بننے پر مریم نواز کو یقینی طور پر نوبل انعام ملنا تھا، دنیاوی عزت و اکرام کے ساتھ ساتھ اطمینان قلب اور اللہ کا خصوصی کرم بھی شامل حال ہونا تھا لیکن بدقسمتی سے بزدار زدہ بیوروکریسی نے وزیراعلی کو ہیرو بنانے کی بجائے معصوم کتوں کی ملزم بنا کر رکھ دیا۔ ڈی سی سرعام کہہ رہے ہیں کہ ہم وزیر اعلی کے حکم پر کتے مار رہے ہیں۔ میڈم وزیراعلی جانوروں پر ظلم بند نہ کیا گیا تو ان بے گناہوں کی سسکیوں سے دنیاوی اور عارضی بادشاہت کا تخت سرکنے لگے گا، ابھی بھی وقت ہے قتل عام کی بجائے ان کو ویکسینیشن کریں، سایہ دیں، روٹی کھلائیں اور ان کی دعائیں لیں مظلوموں کی آہ اور دعا دونوں ہی عرش سے فرش اور فرش عرش پر پہنچا دیتی ہیں۔

    جناب فیلڈ مارشل قوم پر جب بھی کوئی آفت آتی ہے تو آپ کا ادارہ محافظ بن کر سامنے آتا ہے آج ان بے زبانوں کو سہارے اور تحفظ کی ضرورت ہے ان معصوم کتوں کا سہارا بنیں، ان کی حفاظت کو یقینی بنائیں اس سرزمین پاک کو بے گناہ کتوں کا مقتل نہیں مسکن بنائیں۔

  • خدا کے لیے اب پاکستان کا سوچیں، کالا باغ ڈیم اور نئے صوبوں پر فیصلہ کن وقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    خدا کے لیے اب پاکستان کا سوچیں، کالا باغ ڈیم اور نئے صوبوں پر فیصلہ کن وقت،تجزیہ:شہزاد قریشی

    قوم کب تک قیمت چکائے گی؟ قومی مفاد کے منصوبوں کو سیاست کی نذر نہ کریں

    پاکستان کی خوشحالی کا راستہ ذاتی مفادات نہیں، قومی فیصلے چاہئیں

    تجزیہ شہزاد قریشی

    کالا باغ ڈیم محض ایک منصوبہ نہیں تھا بلکہ پاکستان کے آبی، زرعی اور توانائی کے مستقبل سے جڑا ایک اہم قومی معاملہ سمجھا جاتا رہا۔ اس پر سیاسی اختلافات اپنی جگہ، مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ قومی نوعیت کے منصوبوں کو صرف سیاسی کشمکش اور وقتی مفادات کی نذر کر دینا قوموں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ آج پانی اور بجلی کے بحران پر بحث کے دوران کالا باغ ڈیم کا ذکر پھر شدت سے سامنے آتا ہے۔ اسی طرح مجوزہ اٹھائیسویں ترمیم اور نئے صوبوں کے قیام کا سوال بھی محض سیاست نہیں بلکہ انتظامی بہتری، عوامی سہولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے انتظامی اکائیاں بڑھائیں، کیونکہ عوام تک اختیارات اور سہولیات کی رسائی ترقی کی بنیاد بنتی ہے۔ اگر فیصلے ذاتی یا جماعتی مفادات کے بجائے قومی بہتری کو سامنے رکھ کر کیے جائیں تو پاکستان اپنے وسائل اور صلاحیت کے اعتبار سے ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بن سکتا ہے۔

    پاکستان ایک عظیم ملک ہے، جسے قدرت نے بے شمار وسائل، زرخیز زمین، نوجوان آبادی اور بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ قومی معاملات میں ضد، انا اور وقتی سیاست کے بجائے وسیع تر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ جب قیادت اور سیاسی قوتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر سوچتی ہیں تو قومیں ترقی کی نئی منازل طے کرتی ہیں۔ پاکستانی قوم نے ہمیشہ قربانی دی ہے، اب وقت اس بات کا ہے کہ فیصلے بھی قوم کے بہتر مستقبل، خوشحالی اور استحکام کو مدنظر رکھ کر کیے جائیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، خوشحال اور باوقار پاکستان دیکھ سکیں۔

    شعر:

    وطن کی خیر میں جو اپنی خواہشیں ہارے،
    وہی چراغ ہیں جو قوم کے مقدر سنوارے۔

  • امریکہ چین تعلقات، مفادات کی سیاست اور دنیا کا مستقبل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ چین تعلقات، مفادات کی سیاست اور دنیا کا مستقبل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    امریکہ چین تعلقات: دوستی نہیں، مفادات کی سیاست کا نیا باب

    عالمی کشیدگی کے دور میں امریکہ اور چین کی قربت دنیا پر کیسے اثر انداز ہوگی؟

    واشنگٹن اور بیجنگ مستقل دوستی نہیں بلکہ مفاداتی تعاون کی حقیقت

    تجزیہ شہزاد قریشی

    دنیا اس وقت ایک نازک دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، دوسری جانب مختلف خطوں میں جنگیں، تجارتی تنازعات اور جغرافیائی کشیدگی نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔ ایسے ماحول میں امریکہ اور چین جیسے دو بڑی معاشی اور عسکری طاقتوں کے تعلقات پوری دنیا پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے یا اعلیٰ سطحی سفارتی روابط بڑھتے ہیں تو اس کے مثبت اثرات عالمی معیشت، تجارت اور امن پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں استحکام آ سکتا ہے، سرمایہ کاری کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے اور سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں کم ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی نظریں ہمیشہ واشنگٹن اور بیجنگ کے تعلقات پر مرکوز رہتی ہیں۔ تاہم ایک حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ اور چین کے تعلقات خالصتاً اعتماد پر نہیں بلکہ مفادات پر استوار ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے معاشی شراکت دار بھی ہیں اور اسٹریٹجک حریف بھی۔ تجارت میں تعاون موجود ہے، مگر ٹیکنالوجی، دفاع، بحیرہ جنوبی چین اور تائیوان جیسے معاملات پر اختلافات بھی شدید ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلقات میں وقتی گرمجوشی مستقل دوستی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔

    بین الاقوامی سیاست میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے بلکہ قومی مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ امریکہ اپنی عالمی برتری برقرار رکھنا چاہتا ہے جبکہ چین ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان تعلقات میں کبھی تعاون اور کبھی مقابلہ جاری رہنا ایک فطری امر ہے۔ اگر امریکہ اور چین تعلقات میں توازن پیدا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو دنیا کو معاشی اور سیاسی استحکام مل سکتا ہے، لیکن اس تعلق کو مستقل دوستی کے بجائے مفاداتی تعاون کہنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا، کیونکہ عالمی سیاست جذبات سے نہیں بلکہ مفادات سے چلتی ہے۔

  • کیا پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    کیا پاکستان میں سیاسی تبدیلیوں کی آہٹ سنائی دے رہی ہے؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں خاموش ہلچل: کیا بڑی تبدیلی کی تیاری ہو رہی ہے؟

    افواہیں یا حقیقت؟ صدر زرداری، عدم اعتماد اور سیاسی گٹھ جوڑ پر بڑا سوال

    تجزیہ: شہزاد قریشی
    پاکستان کے سیاسی افق پر ایک بار پھر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سیاسی گلیاروں میں مختلف چہ مگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ کیا ملک میں کوئی بڑی سیاسی تبدیلی متوقع ہے؟ مبینہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم، صدر آصف علی زرداری کی ناراضی یا ممکنہ استعفیٰ، اور پاکستان پیپلز پارٹی و تحریک انصاف کے درمیان مبینہ سیاسی رابطوں کی خبریں بحث کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ تاہم اگر زمینی حقائق کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو ابھی تک ایسی کسی بڑی پیش رفت کے واضح شواہد سامنے نہیں آئے۔ مبینہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کے حوالے سے نہ کوئی باضابطہ مسودہ سامنے آیا ہے اور نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی واضح اعلان ہوا ہے۔ زیادہ تر باتیں سیاسی قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ اطلاعات تک محدود دکھائی دیتی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے بھی یہ خبریں زیر گردش ہیں کہ وہ بعض معاملات پر ناخوش ہیں، مگر ان کے استعفے یا ہٹائے جانے کی باتیں فی الحال محض سیاسی افواہیں محسوس ہوتی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کی اہم اتحادی ہے اور اس کے بغیر حکومتی سیاسی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ جہاں تک وزیراعظم شہباز شریف کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا تعلق ہے تو یہ صرف سیاسی خواہش یا افواہوں سے ممکن نہیں۔اس کے لیے پارلیمانی نمبرز، مضبوط سیاسی ہم آہنگی اور بڑی سطح پر سیاسی مفاہمت درکار ہوتی ہے۔

    پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان ماضی کی تلخیاں اور سیاسی اختلافات کو دیکھتے ہوئے فوری گٹھ جوڑ آسان دکھائی نہیں دیتا، اگرچہ سیاست میں کسی امکان کو مکمل رد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت ضرور بڑھا ہوا ہے، اتحادیوں میں اختلافات بھی موجود ہیں، لیکن فوری طور پر کسی بڑی سیاسی تبدیلی، حکومتی الٹ پھیر یا صدر کے استعفے کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ یہ صرف سیاسی افواہیں تھیں یا واقعی تبدیلی کی کوئی خاموش تیاری جاری ہے۔