Baaghi TV

Category: سیاست

  • آگ بجھانے والے کہاں ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    آگ بجھانے والے کہاں ہیں؟تجزیہ:شہزاد قریشی

    احتجاج، اشتعال اور قومی ذمہ داری کا امتحان

    احتجاج، اشتعال اور سیاسی قیادت کی خاموشی قومی بحران اور ذمہ داری سے گریز

    جب سیاست مفاہمت کے بجائے محاذ آرائی چنے ریاست، احتجاج اور قیادت کا امتحان

    تجزیہ شہزاد قریشی

    تاریخ گواہ ہے کہ جب معاشروں کو بحرانوں، انتشار اور داخلی کشمکش کا سامنا ہوتا ہے تو ذمہ دار قیادتیں آگ پر تیل نہیں بلکہ پانی ڈالتی ہیں۔ قومی زندگی کے نازک اور حساس لمحات میں سیاسی و مذہبی قوتوں کا اصل امتحان یہی ہوتا ہے کہ وہ جذبات کو بھڑکانے کے بجائے تدبر، حکمت اور تحمل کا راستہ اختیار کریں۔ بدقسمتی سے آج آزاد کشمیر سے لے کر لندن کی سڑکوں تک جاری احتجاجی مظاہروں کے تناظر میں وہ قومی بصیرت اور اجتماعی دانش کم دکھائی دے رہی ہے جس کی ایک ذمہ دار قوم کو ضرورت ہوتی ہے۔

    اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حسن ہے، احتجاج بھی ایک بنیادی سیاسی حق ہے، لیکن جب احتجاج کی فضا الزام تراشی، اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کے خلاف غیر مہذب اور غیر ذمہ دارانہ زبان کے استعمال میں تبدیل ہو جائے تو اس کے اثرات محض سیاسی نہیں رہتے بلکہ قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کے تشخص کو بھی متاثر کرتے ہیں۔

    افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے جس متوازن اور مدبرانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے، وہ نمایاں نظر نہیں آتا۔ قومی مفاد کا تقاضا تھا کہ تمام جماعتیں اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کشیدگی میں کمی، برداشت کے فروغ اور مکالمے کی فضا قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرتیں۔ لیکن عملی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اکثر سیاسی قوتیں قومی مفاد کے بجائے اپنے سیاسی بیانیے، انتخابی مفادات اور اقتدار کی سیاست کو ترجیح دے رہی ہیں۔

    دنیا کی مہذب جمہوریتوں میں سیاسی قیادتیں بحران کے لمحوں میں ریاستی استحکام کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو قانون کے دائرے میں رہنے، اداروں کے احترام اور قومی مفاد کو مقدم رکھنے کی تلقین کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں بعض حلقوں کی جانب سے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر قومی اداروں کے خلاف ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو نہ صرف سیاسی شائستگی کے منافی ہے بلکہ قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔

    یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ہر ادارہ تنقید سے بالاتر نہیں، لیکن تعمیری تنقید اور کردار کشی میں واضح فرق موجود ہے۔ جب تنقید کا مقصد اصلاح کے بجائے نفرت، تقسیم اور تصادم کو فروغ دینا بن جائے تو اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اور مذہبی قیادتیں اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ انہیں جذباتی نعروں کے بجائے مفاہمت، برداشت اور قومی وحدت کا پیغام دینا چاہیے۔ اختلافات کو مکالمے کے ذریعے حل کرنا اور نوجوان نسل کو مثبت سیاسی شعور دینا ہی ایک مہذب اور مستحکم معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

    تاریخ ہمیشہ ان قوتوں کو عزت اور احترام دیتی ہے جو بحران کے لمحوں میں قوم کو جوڑنے کا کردار ادا کرتی ہیں، جبکہ نفرت، اشتعال اور تقسیم کی سیاست وقتی فائدہ تو دے سکتی ہے، مگر قوموں کے مستقبل کو کمزور کر دیتی ہے۔ آج کا سوال یہی ہے کہ کیا ہماری سیاسی اور مذہبی قیادتیں تاریخ کے اس اہم موڑ پر آگ بجھانے والوں میں شمار ہوں گی یا پھر تماشائی بن کر حالات کی شدت میں اضافہ کرتی رہیں گی؟ وقت اس سوال کا جواب ضرور دے گا۔

  • کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے،تحریر:بینا علی

    کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے،تحریر:بینا علی

    "کشمیری سیاسی قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے”بہت طویل انتظار کے بعد نیٹ سروسز بحال ہوئی پہلے تو بے یقینی کی کیفیت رہی اور جب حالاتِ حاضرہ منظرِ عام پہ آئے تو دل جیسے کسی نے چیر کے رکھ دیا ہو۔ آنکھیں نم ہو گئیں، سانس رُک گئی۔ دل چیخ اٹھا کہ یہ کیا ہو گیا؟ یہ وہ منظر نہیں تھا جس کے لیے ہم نے تقریباً دو ماہ انتظار کیا تھا۔جب یہ تحریک شروع ہوئی تو یہ کچھ جائز مطالبات اور عوام الناس کے بنیادی حقوق کی تحریک تھی جس کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا اس کے باوجود اسے کالعدم قرار دیا گیا۔ روٹی اور عزت کی بات کرنے والوں کو ریاست کا دشمن بنا دیا گیا۔ بارہا یہ باور کروایا گیا کہ اس کا پاکستان مخالف بیانیے سے کوئی تعلق نہیں ہے عوام کے بنیادی حقوق کی تحریک ہے، مگر کسی نے نہ سنا۔بار بار اس بات کو مسترد کردیا گیا اور الزامات اپنی ہی کشمیری سیاسی قیادت کی طرف سے تھوپے گئے۔ اپنوں نے ہی پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اپنوں نے ہی اپنے گھر میں آگ لگائی۔بلا وجہ اس معاملے کو طول دے کر ریاست کی عوام کو فوج کے بالمقابل کھڑا کر دیا گیا اور اس میں سب سے اہم کردار ہماری کشمیری قیادت کا ہے جن میں سیاسی بصیرت نام کی کوئی چیز نہیں جو وادی کو جوان لہو سے رنگنے میں سر فہرست ہیں۔ کرسی کی ہوس نے وادی کو خون سے رنگ دیا۔ اقتدار کے لیے جوانوں کی لاشیں بچھا دیں۔ ان کی سیاسی نابالغی نے پوری قوم کو دہشت اور نفرت کی بھٹی میں جھونک دیا۔بڑی بڑی جنگیں اور معاملات مذاکرات سے حل ہوئے ہیں اور یہ کون سا ایسا معاملہ تھا جو تصفیہ طلب نہ تھا ۔ ایک میز، چند باتیں، اور کتنے گھر بچ سکتے تھے۔ کتنی مائیں بچ سکتی تھیں۔ مگر ضد اور انا جیت گئی۔مفاہمت کی سیاست کو نظر انداز کیا گیا۔

    اب بھی ہٹ دھرمی کی انتہا ہے کہ وادی جوانوں کے خون سے رنگی جا رہی ہے اور انہیں جلسے، الیکشن، سلیکشن کی پڑی ہے۔ قبریں ابھی تازہ ہیں اور انہیں ووٹوں کی فکر ہے۔ جنازوں پر سیاست ہو رہی ہے۔ لاشوں پر تقریں ہو رہی ہیں۔اہم معاملے پہ کوئی توجہ ہی نہیں ۔ خون کسی ریاست کے جوان کا ہو یا کسی رینجر کا گودیں ماؤں کی اجڑتی ہیں ۔ ہر لاش کے پیچھے ایک ماں کی چیخ ہے۔ ہر جنازے کے ساتھ ایک بیوی کا اجڑا سہاگ ہے۔ ہر خبر کے ساتھ ایک بچے کا یتیم ہونا لکھا ہے۔جوان لاشے باپ کے کاندھے جھکا دیتے ہیں ۔ باپ جب بیٹے کا جنازہ اٹھاتا ہے تو ان ضمیر فروشوں کو کیا پتہ کتنی اذیت ہوتی ہے۔ کمر ٹوٹ جاتی ہے، امید دفن ہو جاتی ہے۔ بچے یتیم ہوتے ہیں اور عورتوں کے سہاگ اجڑتے ہیں۔ گھر ویران ہو گئے۔ چولہے بجھ گئے۔ بچپن دفن ہو گیا۔ آنگنوں میں صرف ماتم رہ گیا۔بہت ظلم اور بے جا طوالت سے معاملے کو خراب کیا گیا ۔ زخموں پر نمک چھڑکا گیا۔ وقت ضائع کر کے خون بہایا گیا۔ بات چیت کے دروازے بند کر کے بندوق کے دہانے کھول دیے گئے۔خدارا اب بس کر دیں یہ خون کی ہولی دل کمزور پڑ گئے ہیں ۔ اب اور برداشت نہیں ہوتا۔ اب اور لاشیں نہیں دیکھ سکتے۔ اب اور مائیں نہیں رُلا سکتے۔ خدارا رحم کرو۔ خون بہانا بند کرو۔
    "راولاکوٹ ہم شرمندہ ہیں ۔ ”
    ہم تمہارے درد میں شریک نہ بن سکے۔ ہم تمہارے لیے آواز نہ بن سکے۔ ہم تمہارے زخموں کا مرہم نہ بن سکے۔ ہمیں معاف کر دینا۔
    حالات کا تقاضا ہے کہ کشمیری قیادت کو ڈوب مرنا چاہیے ۔ تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہر قطرہ خون تمہارا تعاقب کرے گا۔ ہر یتیم کی آہ تمہارا پیچھا کرے گی۔

  • کھوسہ ہاؤس اقتدار سے بالاتر ایک سیاسی و قبائلی طاقت،تحریر: جواد اکبر بھٹی

    کھوسہ ہاؤس اقتدار سے بالاتر ایک سیاسی و قبائلی طاقت،تحریر: جواد اکبر بھٹی

    پاکستانی سیاست میں کچھ شخصیات اور خاندان ایسے ہوتے ہیں جن کی اہمیت کا پیمانہ صرف اقتدار نہیں ہوتا بلکہ ان کا اثر و رسوخ، عوامی روابط، سیاسی بصیرت اور قبائلی وقار انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔ کھوسہ خاندان بھی انہی چند خانوادوں میں شامل ہے جنہوں نے دہائیوں تک جنوبی پنجاب ہی نہیں بلکہ قومی سیاست میں اپنی ایک الگ شناخت برقرار رکھی۔

    سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کا شمار ملک کے سینئر ترین سیاسی و قبائلی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں وفاداری، ثابت قدمی اور اصول پسندی کی ایسی مثال قائم کی جسے آج بھی احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے مشکل ترین دور میں جب بہت سے سیاسی چہرے راستے بدل رہے تھے، سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنی جماعت کے ساتھ کھڑے رہے اور سیاسی استقامت کی ایک روشن مثال بنے۔

    گزشتہ چند برسوں سے کھوسہ خاندان براہِ راست حکومتی ایوانوں میں نمایاں کردار ادا نہیں کر رہا تھا، جس کے باعث بعض سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ شاید کھوسہ خاندان کا سیاسی سورج غروب ہو چکا ہے۔ تاہم سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے انتقال کے بعد کھوسہ ہاؤس میں ملک بھر کی سیاسی، قبائلی اور مذہبی قیادت کی غیر معمولی آمد نے اس تاثر کو یکسر غلط ثابت کر دیا۔ اور بلکہ چار ماہ گزرنے کے بعد تک یہ سلسلہ نہ تھم سکا۔

    سابق وزیراعظم و چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، سردار عبد الرحمن کھیتران، ن لیگ کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ، سجادہ نشین دربار فرید خوجہ معین الدین محبوب کوریجہ، خواجہ عامر کوریجہ، چیئرمین رویت ہال کمیٹی مولانا عبد الخبیر آزاد، مخدوم احمد محمود خان، وفاقی وزیر توانائی سردار اویس خان لغاری اور مختلف صوبوں کے گورنرز، وفاقی و صوبائی وزراء، قبائلی عمائدین اور سیاسی شخصیات کی مسلسل آمد نے واضح کر دیا کہ کھوسہ خاندان آج بھی قومی سطح پر ایک بااثر اور قابلِ احترام سیاسی مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ بلوچستان سے خیبر پختونخوا، سندھ سے کشمیر تک مختلف مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کا کھوسہ ہاؤس کا رخ کرنا دراصل سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کی شخصیت اور خدمات کا اعتراف تھا۔

    سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کا اصل اثاثہ ان کے وسیع سیاسی تعلقات، عوامی خدمت اور رواداری پر مبنی سیاست تھی، جو آج بھی ان کے خاندان کی سیاسی طاقت کا سرچشمہ ہے۔ ان کے فرزندان اسی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کھوسہ ہاؤس آج بھی جنوبی پنجاب کی سیاست میں ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔

    خصوصاً سردار دوست محمد خان کھوسہ اپنی منفرد شخصیت، وسیع حلقۂ احباب اور سیاسی بردباری کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس مسلسل مختلف لیڈران کے آنے میں سردار دوست محمد خان کھوسہ کا بھی اہم کردار رہا۔ ان کی سیاست ذاتی مفادات کے بجائے انسانی تعلقات، رواداری اور خدمت کے اصولوں پر استوار نظر آتی ہے۔ وہ ان سیاست دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو اختلافِ رائے کو دشمنی نہیں بناتے بلکہ سیاسی عمل کا حصہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چاہنے والے صرف ان کی جماعت تک محدود نہیں بلکہ مختلف سیاسی مکاتبِ فکر میں بھی موجود ہیں۔

    کھوسہ خاندان کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اصل سیاسی قوت صرف وزارتوں اور عہدوں کی محتاج نہیں ہوتی۔ بعض شخصیات اور خاندان اپنے کردار، عوامی اعتماد اور تاریخی خدمات کی وجہ سے ایک ادارے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ کھوسہ ہاؤس بھی ایسے ہی سیاسی مراکز میں شامل ہے جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہوتی دکھائی دیتی ہے۔

    سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور عوامی خدمت کی روایت آج بھی زندہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

    "شخصیات رخصت ہو جاتی ہیں، مگر کردار اور خدمات تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔”

  • پچاس برس کی سیاست، گوجرخان کو آخر ملا کیا؟تحریر   : قمرشہزاد مغل

    پچاس برس کی سیاست، گوجرخان کو آخر ملا کیا؟تحریر : قمرشہزاد مغل

    گوجرخان کو برسوں سے راجوں کی تحصیل کہا جاتا ہے۔ مگر آج ایک سوال پورے وقار کے ساتھ کھڑا ہے راج تو بہت ہوئے، مگر رعایا کے حصے میں آیا کیا؟ یہ دھرتی وطن کو غازی بھی دیتی ہے، شہید بھی دیتی ہے، گیس بھی دیتی ہے، ٹیکس بھی دیتی ہے، ووٹ بھی دیتی ہے۔ مگر جب اس کے اپنے بچے تعلیم مانگتے ہیں، مریض علاج مانگتے ہیں، نوجوان روزگار مانگتے ہیں اور مائیں صاف پانی مانگتی ہیں تو جواب میں انہیں وعدے، اعلانات اور سنگِ بنیاد ملتے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ گوجرخان کی بڑی سرکاری شناختیں گزشتہ صدی کی یادگاریں ہیں۔ گورنمنٹ مسلم ہائی سکول 1919ء، گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول 1930ء کی دہائی، سرور شہید کالج 1960ء، خواتین ڈگری کالج 1978ء اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال 1979ء میں قائم ہوئے۔ اس کے بعد سوال صرف ایک ہے گزستہ پچاس برس کی سیاست نے گوجرخان کو ایسا کون سا تحفہ دیا جسے آنے والی نسلیں فخر سے یاد کریں؟ اگر جواب خاموشی ہے تو یہ خاموشی ہی سب سے بڑا الزام ہے۔ آج بھی غریب کا ہونہار بچہ اعلیٰ تعلیم کے لیے راولپنڈی کی طرف دیکھتا ہے، کیونکہ گوجرخان میں کوئی بڑی سرکاری یونیورسٹی موجود نہیں۔ نجی جامعات کے دروازے صرف ان کے لیے کھلے ہیں جن کی جیب بھاری ہے۔ غریب کے بچے کے لیے تعلیم حق نہیں، ایک مہنگا خواب بن چکی ہے۔

    صحت کے شعبے کی تصویر اس سے بھی زیادہ افسوسناک ہے۔ تقریباً نصف صدی قبل قائم ہونے والا تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال گوجرخان آج بھی جدید آئی سی یو، وینٹی لیٹر، کیتھ لیب، مکمل نوزائیدہ نگہداشت اور مؤثر ٹراما سہولتوں سے محروم ہے۔ ایمرجنسی کے نام پر اکثر مریض راولپنڈی ریفر کر دیے جاتے ہیں۔ یہ ریفر صرف ایک طبی اصطلاح نہیں بہت سے خاندانوں کے لیے امید سے مایوسی تک کا سفر ہے۔ زندگی اور موت کے درمیان چند کلومیٹر کا یہی فاصلہ کئی خاندانوں سے ان کے پیارے چھین لیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر تحصیل کے عوام کو بروقت علاج ہی میسر نہ ہو تو ترقی کے دعوے کس کام کے؟ پھر روزگار کی کہانی دیکھیے۔ جی ٹی روڈ پر واقع، اسلام آباد اور راولپنڈی کے دروازے پر کھڑا گوجرخان آج بھی کسی بڑے صنعتی زون کا منتظر ہے۔ نوجوان روزگار کی تلاش میں روزانہ میلوں کا سفر کرتے ہیں یا پردیس کی راہوں میں اپنی جوانیاں کھپا دیتے ہیں۔

    سوال یہ ہے کہ اگر مقام، وسائل اور افرادی قوت سب موجود تھے تو صنعت کیوں نہ آئی؟ المیہ صرف یہ نہیں کہ وسائل نہیں، المیہ یہ ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود عوام محروم ہیں۔ مسا کسوال اور اہدی کی گیس ملک کے دوسرے علاقوں کو روشن کرتی ہے، مگر خود گوجرخان کے کئی علاقے لوڈشیڈنگ کی اذیت سہتے ہیں۔ زیرِ زمین پانی کے مسائل عوام کی زندگی مزید مشکل بنا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو خطہ پورے ملک کو وسائل دے رہا ہو، کیا وہ خود بنیادی سہولتوں کا حق دار نہیں؟ یہ تضاد صرف انتظامی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ یہ تحریر کسی فرد یا جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ اس سیاسی رویے کے خلاف ہے جس میں ہر انتخاب سے پہلے وعدوں کے چراغ جلتے ہیں اور انتخاب کے بعد امیدوں کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ عوام کو نعروں سے نہیں، اداروں سے ترقی ملتی ہے، تصویروں سے نہیں، منصوبوں سے، تقریروں سے نہیں، عملی کارکردگی سے۔ ہر الیکشن میں سڑکوں پر قافلے نکلتے ہیں، جلسوں میں دعوے گونجتے ہیں، بینر بدل جاتے ہیں، چہرے مسکراتے ہیں، وعدے دہرائے جاتے ہیں۔ مگر انتخابات گزرنے کے بعد وہی ٹوٹی سڑکیں، وہی خستہ ہسپتال، وہی بے روزگار نوجوان اور وہی مایوس والدین رہ جاتے ہیں۔ سیاست کا مقصد صرف اقتدار حاصل کرنا نہیں، بلکہ عوام کی تقدیر بدلنا ہوتا ہے۔ اگر نسلیں بدل جائیں مگر مسائل نہ بدلیں، تو پھر احتساب صرف حکومتوں کا نہیں، سیاسی سوچ کا بھی ہونا چاہیے۔ گوجرخان کے عوام کو اب یہ سوال ہر امیدوار، ہر جماعت اور ہر منتخب نمائندے سے پوچھنا ہوگا، کیا آپ نے گوجرخان کو صرف ووٹوں کا گودام سمجھا، یا اسے ترقی کا بھی حق دار مانا؟ کیونکہ تاریخ تقریروں کی گونج نہیں سنبھالتی، تاریخ جدید ہسپتال، یونیورسٹیاں، صنعتیں، روزگار اور خوشحال نسلیں یاد رکھتی ہے۔ اور اگر نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ایک شہر اپنے بیمار کو علاج، اپنے نوجوان کو روزگار، اپنے طالب علم کو اعلیٰ تعلیم اور اپنے شہری کو صاف پانی نہ دے سکے، تو پھر مسئلہ عوام کی قسمت نہیں، حکمرانی کی ترجیحات ہوتی ہیں۔ گوجرخان اب خاموش نہیں، سوال بن چکا ہے۔ اور یاد رکھیے، جب شہر سوال بن جائیں تو تاریخ کے پاس جواب مانگنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی

  • پوٹھوہارکی سرزمین ترقی کے نئے دور میں داخل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پوٹھوہارکی سرزمین ترقی کے نئے دور میں داخل،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آزاد کشمیر کے انتخابی جلسوں میں سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہے اور یہ ہر سیاسی جماعت کا حق بھی ہے۔ تاہم تنقید کی بنیاد حقائق اور زمینی حقائق کے درست ادراک پر ہونی چاہیے۔ اگر حقائق سے صرفِ نظر کیا جائے تو سیاسی بیانیہ کمزور اور عوامی اعتماد متاثر ہوتا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری نے اپنے ایک جلسۂ عام میں پوٹھوہارکے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ترقی کا دائرہ محدود ہے۔ لیکن اگرپوٹھوہارکے خطے کو زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو تصویر اس کے برعکس نظر آتی ہے۔پوٹھوہارمحض راولپنڈی کا نام نہیں بلکہ جہلم، چکوال، راولپنڈی اور اٹک پر مشتمل ایک وسیع خطہ ہے، جہاں حالیہ عرصے میں متعدد ترقیاتی منصوبے عوام کی نظروں کے سامنے ہیں۔

    راولپنڈی شہر میں راجا بازار، صدر، کچہری چوک اور دیگر اہم شاہراہوں پر جاری تعمیراتی اور ترقیاتی سرگرمیاں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ گوجرخان میں اربوں روپے مالیت کے منصوبے علاقے کی معاشی اور سماجی ترقی کی نئی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ اسی طرح جہلم، چکوال اور اٹک میں سڑکوں کی بہتری، شہری سہولیات، صفائی کے نظام، ٹرانسپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ پٹھوار کا خطہ ترقی کے سفر میں آگے بڑھ رہا ہے۔

    یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ شاید بلاول بھٹو زرداری تک پہنچنے والی معلومات مکمل یا درست نہ ہوں۔ کیونکہ زمینی حقائق کا مشاہدہ کرنے والا ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ وزیراعلیٰ پنجاب کی نگرانی میں مختلف منصوبوں پر مسلسل کام کر رہی ہے اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔
    جمہوریت میں اختلافِ رائے حسن سمجھا جاتا ہے، تنقید سیاسی عمل کا لازمی جز ہے، لیکن حقائق کو نظرانداز کرکے بیانیہ تشکیل دینا عوام کے شعور کے ساتھ انصاف نہیں۔ سیاسی مخالفین پر تنقید کی جا سکتی ہے، ان کی پالیسیوں سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر زمینی حقائق کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔پوٹھوہارکی سرزمین آج بھی اپنے بدلتے ہوئے انفراسٹرکچر، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی سہولیات کے ذریعے خود گواہی دے رہی ہے کہ یہ خطہ ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔

    سیاست میں بیانیے وقتی ہو سکتے ہیں، مگر سڑکیں، تعلیمی ادارے، ترقیاتی منصوبے اور عوامی فلاح کے کام وہ حقائق ہوتے ہیں جو ہمیشہ اپنی موجودگی کا ثبوت دیتے رہتے ہیں۔

  • پاکستان 2034 .جب وقت نے سب کچھ بدل دیا،تحریر:مبشر لقمان

    پاکستان 2034 .جب وقت نے سب کچھ بدل دیا،تحریر:مبشر لقمان

    ایک فرضی فکری اور تخیلاتی منظرنامہ،
    مصنف کی جانب سےیہ تحریر کوئی پیش گوئی نہیں۔یہ کسی سیاسی جماعت، ریاستی ادارے، شخصیت یا مستقبل کے بارے میں کوئی دعویٰ بھی نہیں۔یہ صرف ایک فکری تجربہ ہے۔ایک ایسا سوال جو شاید ہمیں آج خود سے پوچھ لینا چاہیے، اس سے پہلے کہ وقت خود ہم سے اس کا جواب مانگے۔اگر آج سے آٹھ سال بعد پاکستان کی سیاست، ریاست، معیشت، میڈیا، عدلیہ، عسکری قیادت، کاروباری اشرافیہ اور طاقت کے تقریباً تمام مراکز ایک نئی نسل کے ہاتھ میں ہوں، تو کیا پاکستان اس تبدیلی کے لیے تیار ہوگا؟

    یہ تحریر اسی سوال کی تلاش ہے۔

    مبشر لقمان

    آج کی خبروں سے آٹھ سال آگے چلتے ہیں۔ تصور کیجیے کہ سال 2034 ہے۔ ایک عام سی صبح ہے۔ آپ کی آنکھ کھلتی ہے۔ آپ اخبار اٹھاتے ہیں، موبائل فون پر خبریں دیکھتے ہیں، ٹیلی ویژن آن کرتے ہیں، اور اچانک ایک عجیب سا احساس آپ کے دل میں جنم لیتا ہے۔
    پاکستان تو وہی ہے۔
    اسلام آباد وہی ہے۔
    پارلیمنٹ کی عمارت وہی ہے۔
    سپریم کورٹ وہی ہے۔
    سرکاری دفاتر وہی ہیں۔
    شہر، سڑکیں، بازار، دریا اور پہاڑ سب وہی ہیں۔
    لیکن ایک چیز بدل چکی ہے۔

    وہ چہرے، جن کے گرد برسوں تک پاکستان کی سیاست، ریاست، معیشت، میڈیا اور طاقت کا پورا نظام گھومتا رہا، اب اسٹیج پر موجود نہیں۔ ایک پوری نسل اپنا کردار ادا کرکے آگے بڑھ چکی ہے اور اس کی جگہ ایک نئی نسل آ گئی ہے۔

    اب یہاں رک کر خود سے ایک سوال پوچھئے۔
    کیا ہم نے کبھی اس دن کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تھا؟
    یا ہم ہمیشہ یہی سمجھتے رہے کہ آج جو کچھ ہے، وہ ہمیشہ ایسا ہی رہے گا؟
    شاید یہی ہماری سب سے بڑی قومی کمزوری ہے۔
    ہم مستقبل کے لیے منصوبہ نہیں بناتے۔
    ہم صرف حال کے مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔
    ہم اگلے پچیس سال کا پاکستان تعمیر کرنے کے بجائے اگلے پچیس دن کی سیاست کرتے ہیں۔
    ہم ادارے بنانے سے زیادہ شخصیات بنانے میں دلچسپی لیتے ہیں۔
    ہم جانشینی کا نظام قائم کرنے سے زیادہ موجودہ طاقت کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    ہم تبدیلی کو ناگزیر حقیقت کے طور پر قبول کرنے کے بجائے اسے مؤخر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسے وقت کو روکا جا سکتا ہو۔
    لیکن شاید مسئلہ اس سے بھی گہرا ہے۔
    ہم صرف مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں بھولے۔
    ہم نے وقت کی حقیقت کو ہی بھلا دیا ہے۔
    ہم ایسے جیتے ہیں جیسے ہم ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
    ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جیسے ہماری نسل کبھی ختم نہیں ہوگی۔
    ہم ایسے ادارے چلاتے ہیں جیسے انہی چہروں کے گرد دنیا ہمیشہ گھومتی رہے گی۔
    ہم ایسے سیاست کرتے ہیں جیسے کل کبھی آئے گا ہی نہیں۔
    حالانکہ تاریخ چیخ چیخ کر ہمیں ایک ہی سبق دیتی رہی ہے۔
    ہر سلطنت ختم ہوئی۔
    ہر طاقت بدل گئی۔
    ہر نسل نے خود کو ناقابلِ شکست سمجھا۔
    اور ہر نسل ایک دن تاریخ کی کتاب کا صرف ایک باب بن کر رہ گئی۔

    فرق صرف اتنا تھا کہ کچھ قوموں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے مضبوط ادارے چھوڑے، اور کچھ نے صرف مضبوط شخصیات۔

    تاریخ کا شاید سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ دنیا میں کوئی نسل ہمیشہ نہیں رہتی۔ کوئی حکمران، کوئی رہنما، کوئی جج، کوئی جرنیل، کوئی صنعت کار، کوئی صحافی، کوئی دانشور، کوئی ادارہ چلانے والا فرد ہمیشہ موجود نہیں رہتا۔

    وقت سب کو بدل دیتا ہے۔لیکن کامیاب قومیں وہ ہوتی ہیں جو چہروں کے بدلنے سے پہلے نظام مضبوط کر لیتی ہیں۔وہ نئی قیادت تیار کرتی ہیں۔وہ نئے خیالات کو جگہ دیتی ہیں۔وہ آنے والی نسلوں کو صرف تقریریں نہیں بلکہ مضبوط ادارے ورثے میں دیتی ہیں۔اب ذرا اس فرضی پاکستان 2034 کو مزید غور سے دیکھتے ہیں۔
    سوال یہ نہیں کہ وزیراعظم کون ہے۔سوال یہ بھی نہیں کہ کون سی جماعت اقتدار میں ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے اپنی اگلی نسل کی قیادت تیار کر لی تھی؟اگر ایک پوری نسل ایک ہی دہائی میں عملی میدان سے باہر ہو جائے تو کیا ہمارے پاس ایسی سیاسی جماعتیں ہیں جن کے اندر دوسری، تیسری اور چوتھی صف موجود ہو؟کیا قیادت پیدا کرنے کا کوئی منظم نظام موجود ہے؟یا پھر ہم ہر بار اسی امید پر رہتے ہیں کہ حالات خود کسی نئے چہرے کو سامنے لے آئیں گے؟یہ سوال صرف سیاست تک محدود نہیں۔سوچیے، 2034 میں شاید ریاست کے مختلف اداروں کی قیادت بھی نئی ہوگی۔میڈیا کی دنیا بھی بدل چکی ہوگی۔کاروباری حلقوں میں نئی نسل ہوگی۔ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے نام سامنے آ چکے ہوں گے۔جامعات سے نکلنے والے نوجوان اب فیصلہ سازی کے مراکز تک پہنچ رہے ہوں گے۔یعنی صرف حکومت نہیں بدلے گی۔طاقت کے پورے ماحولیاتی نظام کی تشکیل نو ہو چکی ہوگی۔

    لیکن کیا ہم آج اس تبدیلی کی تیاری کر رہے ہیں؟یا ہم صرف آج کے معرکوں میں مصروف ہیں؟ہم نے اپنی تاریخ سے کیا سیکھا؟ہماری تاریخ میں کئی بار ایسے مواقع آئے جب بڑی شخصیات منظر سے ہٹ گئیں، مگر ان کے بعد پیدا ہونے والا خلا برسوں تک محسوس کیا گیا۔اس سے ایک بنیادی سبق ملتا ہے۔اگر ادارے مضبوط نہ ہوں تو شخصیات کے جانے کے بعد غیر یقینی پیدا ہوتی ہے۔اگر ادارے مضبوط ہوں تو چہرے بدلتے رہتے ہیں مگر نظام چلتا رہتا ہے۔اسی لیے شاید اصل سوال یہ نہیں کہ کون کتنا طاقتور ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ طاقت کس چیز میں ہے؟کیا طاقت کسی ایک فرد میں ہوتی ہے؟یا ایسے نظام میں جو افراد کے بدلنے کے باوجود اپنا کام جاری رکھ سکے؟ہم اکثر اپنے آج کے اختلافات میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ کل کی ضرورتوں پر غور ہی نہیں کرتے۔ہم اپنے بچوں کے لیے کون سا سیاسی کلچر چھوڑ رہے ہیں؟کیا ہم انہیں ایسی سیاست دے رہے ہیں جہاں نئے لوگ آگے آ سکیں؟یا ایسا ماحول جہاں ہر نئی نسل کو ابتدا ہی سے ایک بند دروازہ ملے؟

    2034 کا یہ فرضی منظرنامہ شاید ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔
    اس آئینے میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وقت نے اپنا کام کر دیا ہے۔اس نے کسی سے اجازت نہیں لی۔اس نے کسی سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا وہ تیار ہے یا نہیں۔وقت نے صرف صفحہ پلٹا اور ایک نئی نسل سامنے آ گئی۔تاریخ ہمیشہ یہی کرتی ہے۔وہ کسی کے لیے نہیں رکتی۔وہ کسی کی مقبولیت سے متاثر نہیں ہوتی۔وہ کسی کے عہدے سے مرعوب نہیں ہوتی۔وہ صرف آگے بڑھتی ہے۔اور ہر نسل سے ایک ہی سوال پوچھتی ہے۔تم نے اپنے بعد آنے والوں کے لیے کیا چھوڑا؟کیا تم نے مضبوط ادارے چھوڑے؟کیا تم نے ایسی روایات چھوڑیں جن پر آئندہ نسلیں اعتماد کر سکیں؟کیا تم نے اختلافِ رائے کو برداشت کرنا سیکھا؟کیا تم نے نوجوان قیادت کو موقع دیا؟کیا تم نے علم، تحقیق اور پالیسی سازی کو اہمیت دی؟یا تم نے اپنی تمام توانائی صرف آج کی لڑائیوں پر خرچ کر دی؟شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر خود کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

    قومیں صرف اس لیے کمزور نہیں ہوتیں کہ ان کے وسائل کم ہوتے ہیں۔اکثر قومیں اس لیے کمزور ہوتی ہیں کہ وہ مستقبل کی تیاری نہیں کرتیں۔وہ ہر بحران کے بعد صرف فوری حل تلاش کرتی ہیں۔وہ ہر نئی مشکل کو الگ واقعہ سمجھتی ہیں، حالانکہ وہ ایک ہی طرزِ فکر کا نتیجہ ہوتی ہے۔آج ہم اگر آٹھ سال بعد کے پاکستان کا تصور کرنے سے بھی گھبراتے ہیں تو شاید اس کی وجہ یہ نہیں کہ مستقبل غیر یقینی ہے، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی عادت ہی نہیں ڈالی۔ہم منصوبہ بندی کم کرتے ہیں۔ردِعمل زیادہ دیتے ہیں۔ہم تعمیر کم کرتے ہیں۔مرمت زیادہ کرتے ہیں۔ہم نظام کم بناتے ہیں۔ہنگامی انتظام زیادہ کرتے ہیں۔اور شاید اسی لیے ہر چند سال بعد ہم پھر وہی سوال پوچھتے ہیں۔اب کیا ہوگا؟لیکن شاید صحیح سوال یہ نہیں۔صحیح سوال یہ ہے۔ہم نے ایسا کیا کیا کہ ہر چند سال بعد ہمیں یہی سوال دوبارہ پوچھنا پڑتا ہے؟

    ہوسکتا ہے 2034 کا پاکستان آج سے کہیں زیادہ مضبوط ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ وہ نئے مسائل سے دوچار ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ نئی نسل وہ کام کر دکھائے جو پرانی نسل نہ کر سکی۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ کچھ پرانی غلطیاں نئے چہروں کے ساتھ دوبارہ دہرائی جائیں۔یہ سب امکانات ہیں۔لیکن ایک حقیقت یقینی ہے۔وقت کسی کے ساتھ معاہدہ نہیں کرتا۔ہر نسل کو لگتا ہے کہ اس کے بغیر دنیا نہیں چل سکتی۔پھر خاموشی سے ایک دن تاریخ صفحہ پلٹ دیتی ہے۔اور دنیا چلتی رہتی ہے۔شاید پاکستان کے لیے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ مستقبل کسی ایک فرد، کسی ایک جماعت یا کسی ایک ادارے کا انتظار نہیں کرتا۔

    مستقبل ان قوموں کا ہوتا ہے جو اپنی آنے والی نسلوں کو تیار کرتی ہیں، اختلاف کے باوجود اداروں کو مضبوط بناتی ہیں، اور یہ مان لیتی ہیں کہ طاقت ہمیشہ عارضی ہوتی ہے، مگر اصول اور ادارے دیرپا ہو سکتے ہیں۔اگر 2034 کا پاکستان ہم سے آج صرف ایک سوال پوچھے، تو شاید وہ یہی ہوگا۔”جب تم جانتے تھے کہ وقت سب کچھ بدل دے گا، تو تم نے آنے والے وقت کے لیے کیا تیاری کی؟ کیا تم نے صرف آج کو بچایا، یا کل کو بھی بنایا؟”کیونکہ قوموں کی اصل آزمائش انتخابات سے نہیں ہوتی۔قوموں کی اصل آزمائش اس دن ہوتی ہے جب ایک پوری نسل اسٹیج سے اترتی ہے، اور نئی نسل اسٹیج پر آ کر یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کیا وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرائے گی، یا ان سے سبق لے کر ایک مختلف مستقبل تعمیر کرے گی۔

    اور شاید…
    یہ سوال پاکستان کے 2034 سے زیادہ، پاکستان کے آج کے لیے ہے۔

  • رات بارہ بجتے ہی گوجرخان اندھیرے میں، آخر عوام کا جرم کیا ہے؟تحریر  : قمرشہزاد مغل

    رات بارہ بجتے ہی گوجرخان اندھیرے میں، آخر عوام کا جرم کیا ہے؟تحریر : قمرشہزاد مغل

    تحصیل گوجرخان میں ایک طویل عرصے سے روزانہ رات بارہ بجتے ہی بجلی کی بندش نے عوام کی زندگی عذاب بنا دی ہے۔ شدید حبس اور گرمی میں معصوم بچے بلکتے ہیں، بزرگ بے بسی سے پسینہ بہاتے ہیں، مریض ساری رات تڑپتے ہیں اور محنت کش طبقہ، جو دن بھر روزی روٹی کے لیے مشقت کرتا ہے، رات کو بھی سکون کی ایک سانس لینے سے محروم رہتا ہے۔ یہ صرف لوڈشیڈنگ نہیں، بلکہ عام شہری کے بنیادی حقِ زندگی اور سکون پر کاری ضرب ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عوام سے بجلی کے بھاری بھرکم بل، فیول ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز اور نت نئے ٹیکس تو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر وصول کیے جاتے ہیں، لیکن جب عوام کو ان کا بنیادی حق دینے کی باری آتی ہے تو پورا نظام خاموش دکھائی دیتا ہے۔ آخر یہ کیسا انصاف ہے کہ عوام ادائیگی بھی کریں، مہنگائی بھی برداشت کریں اور پھر راتیں بھی اندھیرے اور اذیت میں گزاریں؟ اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو مقامی سیاسی قیادت اور منتخب نمائندوں کی خاموشی ہے۔ گوجرخان کے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر ان کے منتخب نمائندے کہاں ہیں؟ اگر یہ مسئلہ مہینوں سے جاری ہے تو اسمبلیوں میں اس پر کتنی بار آواز بلند کی گئی؟ کتنی بار متعلقہ اداروں سے جواب طلب کیا گیا؟ کتنی بار عوام کے حق میں مؤثر مؤقف اختیار کیا گیا؟ اگر عوام کو آج بھی جواب نہیں مل رہا تو یہ خاموشی خود ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے۔ شہریوں میں یہ احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ انتخابات کے بعد عوامی مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جب ووٹ درکار ہوتے ہیں تو گلی گلی دستک دی جاتی ہے، لیکن جب انہی لوگوں کے گھروں میں اندھیرا، گرمی اور بے بسی اترتی ہے تو ان کی آواز سننے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ گوجرخان کے عوام اپنے منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ صرف بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات سے اپنی نمائندگی ثابت کریں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بجلی کوئی عیاشی نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ عوام اب وعدوں، دعوؤں اور تصویری بیانات سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ وہ جواب بھی چاہتے ہیں، ذمہ داری بھی چاہتے ہیں اور فوری ریلیف بھی چاہتے ہیں۔ اگر اربوں روپے کے بل اور ٹیکس وصول کرنے کے باوجود بھی ایک شہری کو رات کے وقت پنکھے کی ہوا نصیب نہ ہو تو پھر یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر اس نظام کی کامیابی کا معیار کیا ہے؟ رات بارہ بجے ہونے والی روزانہ کی لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، اس کی وجوہات عوام کے سامنے لائی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور منتخب نمائندے خاموش تماشائی بننے کے بجائے اسمبلیوں اور متعلقہ فورمز پر اپنے لوگوں کے حق کی مؤثر آواز بنیں۔ عوام مزید اندھیرے نہیں، جواب اور انصاف چاہتے ہیں۔

  • تنقید یا احتساب؟ پسرور اسپتال کے دورے نے صحت کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ۔تحریر: سعدیہ مقصود

    تنقید یا احتساب؟ پسرور اسپتال کے دورے نے صحت کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ۔تحریر: سعدیہ مقصود

    سرکاری اداروں میں انتظامی احتساب کبھی آسان عمل نہیں ہوتا۔ جب بھی کسی غفلت پر کارروائی کی جاتی ہے تو اس پر مختلف آراء سامنے آتی ہیں، لیکن بنیادی سوال یہی ہوتا ہے کہ اگر عوامی وسائل کے تحفظ اور سرکاری ذمہ داریوں کی ادائیگی پر بھی جوابدہی نہ ہو تو نظام میں بہتری کیسے آئے گی؟

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے وژن کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں شفافیت، مؤثر نگرانی، عوامی وسائل کے تحفظ اور مریضوں کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی وزیرِ صحت و آبادی پنجاب خواجہ عمران نذیر پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں کے مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ٹی ایچ کیو اسپتال پسرور کا حالیہ دورہ بھی تھا، جس نے صحت کے نظام میں احتساب اور انتظامی ذمہ داری پر نئی بحث چھیڑ دی۔

    وزیرِ صحت نے اچانک دورے کے دوران اسپتال کے مختلف شعبوں، ادویات کے ذخیرے اور انتظامی امور کا جائزہ لیا۔ معائنے میں سامنے آیا کہ ادویات کے اسٹور میں مطلوبہ ایئر کنڈیشننگ موجود نہیں تھی، جس سے قیمتی ادویات کے خراب ہونے کا خدشہ تھا، جبکہ بعض خالی کمروں میں ایئر کنڈیشنرز حکومتی ہدایات کے برخلاف 26 ڈگری سینٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت پر چل رہے تھے۔ ایمبولینس کی عدم دستیابی اور صفائی و سکیورٹی عملے کی تنخواہوں میں تاخیر کا بھی نوٹس لیا گیا، جس پر فوری اصلاحی اقدامات کیے گئے اور متعلقہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔

    اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر تنقید سامنے آئی، جس پر خواجہ عمران نذیر نے واضح کیا کہ ان کا مقصد کسی ڈاکٹر کی پیشہ ورانہ صلاحیت یا طبی خدمات پر تنقید نہیں تھا، بلکہ معاملہ صرف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کی انتظامی ذمہ داریوں سے متعلق تھا۔ ان کے مطابق ایم ایس صرف ایک معالج نہیں بلکہ اسپتال کے انتظام، وسائل کے تحفظ اور مؤثر گورننس کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے، اس لیے انتظامی غفلت پر جوابدہی ناگزیر ہے۔

    اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹس اور ٹویٹس بھی سامنے آئیں، جن میں بعض افراد نے اس کارروائی کو سیاسی تناظر میں پیش کرتے ہوئے اسے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناقدین کے برعکس یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ اصلاحی اقدامات کو ان کے اصل مقصد اور نتائج کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ بعض اوقات مثبت اقدامات کو بھی سیاسی مقاصد کے تحت منفی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔

    یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صوبائی وزیرِ صحت و آبادی خواجہ عمران نذیر متعدد مواقع پر ڈاکٹرز، نرسز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی بہترین کارکردگی کو سراہتے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ وہ مختلف مواقع پر محکمۂ صحت کے طبی عملے کا دفاع بھی کرتے نظر آئے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جو ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور دیگر افسران اپنی ذمہ داریاں دیانتداری اور محنت سے ادا کرتے ہیں، وہ تعریف اور شاباش کے مستحق ہیں۔ تاہم جہاں نااہلی، انتظامی غفلت یا سرکاری وسائل کے ضیاع کی نشاندہی ہوگی، وہاں وہ کسی دباؤ، بلیک میلنگ یا مصلحت کو خاطر میں نہیں لائیں گے بلکہ قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی کریں گے۔

    وزیرِ صحت کا کہنا تھا کہ اگر لاکھوں روپے مالیت کی ادویات مناسب درجہ حرارت نہ ہونے کے باعث خراب ہونے کے خطرے سے دوچار ہوں اور دوسری جانب غیر ضروری طور پر بجلی ضائع کی جا رہی ہو تو خاموش رہنا عوامی مفاد کے خلاف ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب کے ڈاکٹرز نظامِ صحت کا قیمتی سرمایہ ہیں اور ان کا احترام ہمیشہ مقدم رہے گا، تاہم انتظامی غفلت کسی بھی عہدے پر قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔

    حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی انتظامی فیصلے کو چند وائرل ویڈیوز یا سوشل میڈیا پوسٹس کے بجائے اس کے مکمل تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ اگر مقصد عوامی وسائل کا تحفظ، اسپتالوں میں نظم و ضبط اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی ہو تو ایسے اقدامات کا اصل معیار ان کے نتائج ہونے چاہییں۔ پسرور کا واقعہ بھی یہی پیغام دیتا ہے کہ صحت کے نظام میں پائیدار بہتری مؤثر نگرانی، بروقت فیصلوں اور شفاف احتساب سے ہی ممکن ہے۔

  • انتظامی کرائسز کا شکار پنجاب چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا منتظر۔ تحریر:ملک سلمان

    انتظامی کرائسز کا شکار پنجاب چیف سیکرٹری کی تبدیلی کا منتظر۔ تحریر:ملک سلمان

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے بیوروکریسی کی ٹرانسفر پوسٹنگ میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کرتے ہوئے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو مکمل اختیارات دے کر تاریخی کارنامہ تو کر دیا لیکن مذکورہ صوبائی سربراہان نے”میرٹ“ کا وہ قتل عام کیا جس کی نظیر تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ سنئیر اور قابل افسران کھڈے لائن جبکہ جونئیر اور من پسند افسران پر عہدوں کے ایسی نوازشات ہوئی کہ ہر کوئی حیران و پریشان ہوگیا۔بہت سارے کرپٹ بزداری افسران اہم عہدوں پر لگا دیے گئے ہیں ثبوت کے طور پر پی ٹی آئی دور حکومت کی پوسٹنگ نکال کر موازنہ کرلیں، پی ٹی آئی دور میں ”اہم پوزیشن“ انجوائے کرنے اور کرپشن کے ریکارڈ توڑنے والے موجودہ حکومت میں پہلے سے بھی اچھی سیٹ پر ہیں۔

    چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان کے دور میں چند ”بلیو آئیڈ“ ایک سے بڑھ کر ایک اہم سیٹ پر نوازے جاتے ہیں تو دیگر ایک ہی سیٹ پر کھڈے لائن ہیں تو کچھ ناکردہ گناہوں کی سزا پر او ایس ڈی”گل سڑ“ رہے ہیں۔

    پک اینڈ چوز کی وجہ سے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس اور پی ایم ایس سمیت کوئی بھی مطمئن نہیں ہے سوائے ان کے جن کو آؤٹ آف دی وے جا کر نواز ا گیا۔
    چیف سیکرٹری نے ایک طرف ڈپٹی کمشنرز کیلئے خود ساختہ میرٹ اور بیرئیر لگادیے ہیں جبکہ سجی دکھا کر کھبی مارنا کے مترادف گریڈ بیس لیول کی اربوں کھربوں روپے والی
    CEO IDAP, CEO PECTAA، پراجیکٹ ڈائریکٹر ورلڈ بینک سمیت اہم سیٹوں اور اٹھارٹیز پر 42,43,44کامن کے کنسیپٹ کلئیر بچوں کو لگادیا ہے۔ اسی طرح چند گریڈ 19 والوں کو گریڈ 21 کی سیٹوں پر آل ان آل بنا دیا گیا۔ کرپٹ افسران نے ستھرا پنجاب، پیرا، سیاحت اور بیوٹیفیکیشن جیسے فلیگ شپ پروگرامات کو مال لوٹنے کا زریعہ بنایا ہوا ہے۔
    چیف سیکرٹری کی انتظامی کمزوری ہے کہ انٹی کرپشن میں اسی فیصد سے زائد کیسز کا تعلق ریونیو سے ہوتا ہے لیکن اہم ترین محکمے کو پولیس کے حوالے کیا ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر مضحکہ خیز بات کیا ہوگی کہ پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم ساجد ڈال کے بھائی سمیت دیگر ڈی ایس پیز کو ڈویژنل ڈائریکٹر انٹی کرپشن لگایا گیا ہے، احتساب کا دعوی اور تمام امیدیں یہیں ختم ہوجاتی ہیں جب گریڈ بیس تک کے افسران کے احتساب کی ذمہ داری گریڈ 17کے ڈی ایس پی کو دے دی جائے۔
    ایک ڈی ایس پی اپنے سنئیر ایس پی، ایس ایس پی یا ڈی آئی جی کا احتساب تو درکنار گردن جھکائے بن ان کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتے کیونکہ انہی سنئیر سے اس نے اپنی اے سی آر لکھوانی ہے۔

    پنجاب کی انتظامی تاریخ کا پہلا موقع ہے کہ جونئیر ترین ڈی پی او لگائے گئے ہیں۔ 44اور 43کامن کے ایس پیز کو ڈی پی او لگانا انتہائی غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے۔
    سانحہ ماڈل ٹاؤن سے لیکر جتنے بھی بڑے سانحات ہوئے انکی ”جے آئی ٹی” رپورٹ اٹھا کر دیکھ لیں ہر جگہ ناکامی کی ایک ہی وجہ ملے گی کہ جونئیر آفیسر ہونے کی وجہ سے مس ہینڈلنگ اور فیصلہ سازی کی کمی۔
    محکمہ صحت سمیت لگ بھگ درجن محکموں کے سیکرٹری گریڈ انیس کے جونئیر افسران ہیں۔ اسی طرح سی ای او، ڈی جی اور ایم ڈی لیول کی اہم سیٹوں پر بھی گریڈ بیس کی بجائے گریڈ انیس اور حتیٰ کہ گریڈ اٹھارہ کے افسران تعینات ہیں۔ گریڈ 18سے گریڈ21تک کے 58افسران او ایس ڈی ہیں جبکہ لاڈلوں کو ڈبل اور اضافی چارج دیے ہوئے ہیں۔

    کسی نے کبھی سنا کہ آرمی میں گریڈ سترہ کے کپتان کو گریڈ انیس کے لیفٹنٹ کرنل کی جگہ یونٹ کمانڈ پر لگا دیا گیا؟ گریڈ اٹھارہ کے میجر کو گریڈ بیس کے برگیڈئیر کی جگہ برگیڈ کمانڈر تعینات کردیا؟ سننا تو درکنار آرمی میں ایسی بیہودگی اور لاقانونیت کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ میرٹ اور احتساب یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج دنیا کی نمبر ون آرمی ہے اور بیوروکریسی دنیا کے 200 ممالک میں آخری نمبروں پر۔

    نگران حکومت سے شروع ہونے والے گینگ آف سیون” کے بیوروکریٹک مارشل نے جہاں حکومت سے عوام کا اعتماد خراب کیا وہیں سینکڑوں افسران بھی شدید تحفظات کا شکار ہیں۔ ”گینگ آف سیون” کا کمال ہے کہ وہ افسران جو اخلاقی اور مالی لحاظ سے بدنام زمانہ کرپٹ ترین ہیں، بزدار اور پرویز الٰہی دور کے بڑے بینیفشریز تھے انکو اہم ترین سیٹوں پر لگایا ہوا ہے۔
    دسمبر 2022سے سیکرٹری فنانس کی سیٹ پر آل ان آل مجاہد شیر دل پنجاب کی ٹرانسفر پوسٹنگ کا اہم ترین ستون ہیں۔ زبان زد عام ہی نہیں گزشتہ 42ماہ کی ٹرانسفر پوسٹنگ دیکھ لیں اہم ترین سیٹوں پر آنے اور جانے کیلئے فنانس ڈیپارٹمنٹ اور سیکرٹری فنانس ”راستہ“ ہیں۔

    خاص طور پر IDAPاور بیرونی فنڈنگ والی تمام پوسٹوں کا آڈٹ کروایا جائے کیونکہ زبان زد عام ہے کہ وہاں حصے بانٹے جاتے ہیں۔
    ہر وقت key Posting والے احساس برتری کی وجہ سے اور OSD رہنے والے احساس کمتری میں مبتلا ہو کر دونوں نفسیاتی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
    موجودہ چیف سیکرٹری کے دور میں سوائے نگران وزیراعلیٰ کے لاڈلوں اور کارخاص کے پنجاب کے پی ایم ایس افسران کا اچھی پوسٹنگ حاصل کرنا مشن امپاسبل بنا دیا گیا۔ پنجاب کی صوبائی سیکرٹریز کی 42 سیٹوں میں سے 6/7سیکرٹریز کی سیٹیں بامشکل پی ایم ایس افسران کو دی گئی ہیں۔ پنجاب کی 10 میں سے صرف 2 ڈویژن میں صوبائی سروس کے افسران کمشنر لگائے گئے ہیں جبکہ 41 میں سے صرف 9 اضلاع میں صوبائی سروس کے ڈپٹی کمشنر ہیں۔ اسی طرح ڈی جی،ایم ڈی سے لیکر تمام اہم سیٹوں پر بھی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے جونئیر ترین افسران براجمان ہیں۔
    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے گزارش ہے کہ جس صوبے کی آپ وزیراعلیٰ ہیں اسی کے صوبائی افسران بے یارومددگار دہائیاں دے رہے اور کوئی پرسان حال نہیں۔

    ملک سلمان
    maliksalman2008@gmail.com

  • آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر،تجزیہ:شہزاد قریشی

    آبنائے ہرمز کا بحران دنیا ایک بار پھر خطرناک موڑ پر

    امریکہ، ایران اور مشرقِ وسطیٰ جنگ نہیں، مذاکرات وقت کی ضرورت

    تیل، تجارت اور تنازع ایران امریکہ کشیدگی کے عالمی

    ہرمز میں تناؤ، دنیا میں بے چینی
    امریکہ ایران کشمکش نقصان سب کا، فائدہ کسی کا نہیں

    جنگ کے سائے میں عالمی معیشت
    مشرقِ وسطیٰ پھر بارود کے ڈھیر پر

    آبنائے ہرمز سے اٹھتے خطرات اور دنیا کا مستقبل

    مذاکرات یا محاذ آرائی؟ امریکہ اور ایران کے سامنے بڑا سوال

    تجزیہ شہزاد قریشی

    امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال کی طرف دھکیل رہی ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والے تنازع نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اسی وجہ سے جب بھی اس آبی راستے میں تناؤ پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات براہِ راست عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر مرتب ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بھی امریکی اور ایرانی مؤقف میں سختی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور سرمایہ کاروں میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر یہ تنازع ختم کیوں نہیں ہوتا؟ امریکہ خطے میں اپنے مفادات، اتحادی ممالک اور عالمی تجارتی راستوں کے تحفظ کو اپنی ترجیح قرار دیتا ہے، جبکہ ایران آبنائے ہرمز کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی اثر و رسوخ کا اہم حصہ سمجھتا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی اس حد تک گہری ہو چکی ہے کہ مذاکرات کی میز پر ہونے والی پیش رفت بھی اکثر میدانِ سیاست یا میدانِ جنگ میں جا کر متاثر ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی جنگ بندیوں اور معاہدوں کے باوجود کشیدگی دوبارہ سر اٹھا لیتی ہے۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کردار قابلِ ذکر رہا ہے۔ پاکستان نے ماضی قریب میں امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی اور دونوں ممالک کو بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر آمادہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے وقتی طور پر امید پیدا کی کہ شاید خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھی جا سکے، لیکن بنیادی اختلافات، خصوصاً آبنائے ہرمز اور سکیورٹی معاملات پر، اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں۔ اگر امریکہ اور ایران تصادم کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اس کا نقصان صرف انہی دو ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورا خطہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔ خلیجی ممالک، ایشیائی معیشتیں، یورپی منڈیاں اور ترقی پذیر ممالک سب متاثر ہوتے ہیں۔ تیل اور گیس مہنگی ہوتی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تجارتی راستے متاثر ہوتے ہیں اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ آج دنیا کو طاقت کے مظاہرے سے زیادہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کے شعلے بھڑکانا آسان لیکن انہیں بجھانا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اگر دونوں ممالک مذاکرات، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کو ترجیح دیں تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے بچ سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر آبنائے ہرمز کا ہر نیا بحران عالمی معیشت کے لیے ایک نئے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ بندوق کی زبان کو خاموش کر کے مذاکرات کی زبان کو فروغ دیا جائے، کیونکہ امن ہی وہ راستہ ہے جو خطے کے عوام، عالمی معیشت اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔