Baaghi TV

Category: سیاست

  • دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کا مستقبل،تحریر:کاشف خان

    دہشت گردی کے خلاف جنگ اور پاکستان کا مستقبل،تحریر:کاشف خان

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ اس جنگ میں افواجِ پاکستان، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں، صحافیوں، سماجی کارکنوں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ آج بھی جب ملک کے کسی حصے میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو صرف چند خاندان متاثر نہیں ہوتے بلکہ پوری قوم خوف، بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

    دہشت گردی صرف ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ملک کی معیشت، تعلیم، صحت، سرمایہ کاری، روزگار اور سماجی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ جہاں جان و مال کا تحفظ یقینی نہ ہو وہاں کاروبار کیسے ترقی کرے گا؟ سرمایہ کاری کیسے آئے گی؟ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع کیسے ملیں گے؟ اور سب سے بڑھ کر، آنے والی نسل ایک پُرامن پاکستان کا خواب کیسے دیکھے گی؟

    پاکستان کے مستقبل کے لیے سب سے اہم ضرورت امن اور استحکام ہے۔ بندوق کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ضروری ہے، لیکن صرف طاقت کے استعمال سے مسئلہ ہمیشہ کے لیے ختم نہیں ہوتا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر انٹیلی جنس، مضبوط قانون، فوری انصاف، سرحدی نگرانی، جدید پولیسنگ اور ریاستی اداروں کے درمیان بہتر رابطے کے ساتھ ساتھ ایسے سماجی اور معاشی اقدامات بھی ضروری ہیں جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کے راستے سے دور رکھیں۔

    ایک تعلیم یافتہ، باہنر اور باعزت روزگار رکھنے والا نوجوان کسی بھی انتہا پسند گروہ کے لیے آسان شکار نہیں ہوتا۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ایک اہم محاذ اسکول، کالج، یونیورسٹی اور روزگار کے میدان بھی ہیں۔ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی کا سب سے بڑا مقصد خوف پیدا کرنا ہے۔ اگر ایک واقعہ پورے معاشرے کو مفلوج کر دے، کاروبار بند ہونے لگیں، لوگ اپنے مستقبل سے مایوس ہونے لگیں اور نوجوان ملک چھوڑنے کو ترجیح دینے لگیں تو دہشت گرد اپنے مقصد میں کسی حد تک کامیاب ہو جاتے ہیں۔اس لیے ریاست اور عوام دونوں کو مل کر یہ پیغام دینا ہوگا کہ پاکستان دہشت گردی کے سامنے نہیں جھکے گا۔

    تاہم قومی یکجہتی کا مطلب یہ بھی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتیں، مذہبی رہنما، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام سب کو قومی سلامتی کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن ملکی سلامتی اور انسانی جانوں کے تحفظ پر قومی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔میڈیا کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ دہشت گردی کی خبر عوام تک پہنچانا صحافت کی ذمہ داری ہے، لیکن خوف، افواہ اور غیر مصدقہ معلومات پھیلانا کسی صورت صحافت نہیں۔ ذمہ دار میڈیا دہشت گردی کے خلاف قومی شعور پیدا کر سکتا ہے اور عوام کو حقیقت، احتیاط اور اتحاد کا پیغام دے سکتا ہے۔

    پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں ہوگا۔ یہ فیصلہ اس بات سے بھی ہوگا کہ ہم اپنے بچوں کو کیسا معاشرہ دیتے ہیں، نوجوانوں کو کیا مواقع فراہم کرتے ہیں، قانون کی حکمرانی کس حد تک قائم کرتے ہیں اور عام شہری کو کتنا محفوظ محسوس کراتے ہیں۔آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف فوجی کارروائی نہ سمجھا جائے بلکہ اسے قومی تعمیرِ نو کا مشن بنایا جائے۔

    ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں بازار خوف کے بغیر کھلیں، بچے محفوظ ہو کر اسکول جائیں، مزدور اطمینان سے روزگار کرے، کاروباری شخص سرمایہ کاری کرے، صحافی آزادی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا فرض ادا کرے اور ہر شہری کو یقین ہو کہ ریاست اس کی جان و مال کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ طویل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی بڑے چیلنجز کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی قوم کے پاس قربانی، عزم اور صلاحیت موجود ہے۔

    پاکستان کا مستقبل خوف میں نہیں، امن میں ہے۔پاکستان کی ترقی دہشت گردی کے خاتمے، قانون کی حکمرانی اور قومی اتحاد سے جڑی ہوئی ہے۔اب وقت ہے کہ ہم صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ لڑیں بلکہ ایک ایسا پاکستان تعمیر کریں جہاں دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ ہی باقی نہ رہے۔وعدے نہیں، عملی اقدامات ہی پاکستان کا محفوظ مستقبل بنا سکتے ہیں۔

  • مثبت سوچ، مثبت معاشرہ اور روشن پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    مثبت سوچ، مثبت معاشرہ اور روشن پاکستان،تحریر: انجینیئر علی رضوان چوہدری

    میرے خیال میں ہمارے معاشرہ میں گھٹن اور تنگ نظری کچھ زیادہ اثر دکھا رہی ہے۔معاشرتی بگاڑ کا اثر براہ راست ہمارے رویوں پر پڑ رہا ہے۔ ہمارے معاشرہ میں معاشی اونچ نیچ، معاشرتی تفاوت، سیاسی افراتفری اور تقسیم، غصہ اور جھنجلاہٹ، حسد، بغض اور کینہ ہمہ وقت فروغ پذیر ہیں۔ ان معاشرتی بیماریوں نے ہمارے رہن سہن، ہماری روز مرہ زندگی اور ہمارے رویوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہم نے شاید مثبت سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے۔ آپ کسی دوست سے بات کریں، یا کسی بھی سوشل تقریب میں چلیں جائیں، آپکو مایوسی پھیلانے والی باتیں زیادہ ملیں گی۔ ہر بندہ اپنے حالات سے اور ملکی صورتحال سے پریشان،بلکہ بد دل نظر آئے گا، اسے اس ملک میں ہونے والے بہتر کام نظر نہیں آئیں گے، نہ ہی اپنی حالت پر غور کرے گا، کہ کل وہ کیا تھا اور آج کس مقام پر ہے۔ ناشکری ویسے ہی انسان کی مثبت سوچ کو کھا جاتی ہے۔ ہم جو ہاتھ میں ہوتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے، بلکہ اس کی تمنا کرتے ہیں،جو دوسروں کے پاس نظر آتا ہے۔
    قوموں کی ترقی صرف بلند عمارتوں، کشادہ سڑکوں، جدید ٹیکنالوجی اور معاشی اعداد و شمار سے نہیں ہوتی، بلکہ حقیقی ترقی کا آغاز انسان کے ذہن سے ہوتا ہے۔ جس معاشرے کے افراد مثبت سوچ، برداشت، دیانت، محنت اور احساسِ ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں، وہاں مشکلات کے باوجود ترقی کے راستے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس مایوسی، منفی سوچ، الزام تراشی، عدم برداشت اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا رویہ معاشرے کی اجتماعی قوت کو کمزور کر دیتا ہے۔

    آج ہمارے معاشرے کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، ٹریفک کے مسائل، تعلیمی مشکلات، معاشرتی بے چینی اور باہمی اختلافات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان تمام مسائل کے درمیان ایک بنیادی مسئلہ ہماری سوچ اور رویوں کا بحران بھی ہے۔ ہم اکثر مسئلے کا حل تلاش کرنے کے بجائے مسئلے کو بیان کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کر دیتے ہیں۔ ہمیں ضرورت اس امر کی ہے کہ شکایت کے ساتھ حل بھی پیش کریں اور تنقید کے ساتھ اصلاح کی کوشش بھی کریں۔
    مثبت سوچ کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان مشکلات کو نظر انداز کر دے یا ہر صورتحال کو اچھا سمجھنے لگے۔ مثبت سوچ دراصل مشکلات کو حقیقت پسندانہ انداز میں تسلیم کرتے ہوئے ان کے حل کے لیے امید، حکمت اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ ایک مثبت انسان ناکامی کو اختتام نہیں بلکہ تجربہ سمجھتا ہے، تنقید کو دشمنی نہیں بلکہ اصلاح کا موقع سمجھتا ہے اور مشکلات کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا ذریعہ بناتا ہے۔

    اگر ایک طالب علم یہ سوچے کہ میں محنت سے اپنی قسمت بدل سکتا ہوں، ایک استاد یہ عزم کرے کہ میں اپنے شاگردوں کی زندگی سنوار سکتا ہوں، ایک تاجر دیانت داری کو اپنا اصول بنائے، ایک سرکاری ملازم اپنے منصب کو عوامی خدمت کا ذریعہ سمجھے، ایک ڈاکٹر مریض کو صرف ایک کیس نہیں بلکہ ایک انسان سمجھے اور ایک نوجوان اپنے وقت اور صلاحیتوں کو ملک و قوم کے لیے استعمال کرنے کا فیصلہ کرے تو یہی چھوٹی چھوٹی مثبت سوچیں مل کر ایک بڑے مثبت معاشرے کو جنم دیتی ہیں۔
    معاشرے کی تعمیر میں نوجوان نسل کا کردار سب سے اہم ہے۔ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر تعلیم، ہنر، تحقیق، کاروبار، ٹیکنالوجی، ادب، کھیل اور سماجی خدمت کی طرف متوجہ ہوں تو پاکستان کے مستقبل کو نئی سمت دی جا سکتی ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو صرف ملازمت کے متلاشی بنانے کے بجائے انہیں ہنرمند، باصلاحیت، خود اعتماد اور ذمہ دار شہری بنانے کی ضرورت ہے۔
    اسی طرح سوشل میڈیا نے ہماری زندگیوں کو بہت متاثر کیا ہے۔ یہ ایک طاقتور ذریعہ ہے، جس کے ذریعے علم، شعور اور مثبت پیغام چند لمحوں میں لاکھوں افراد تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی پلیٹ فارم جھوٹ، نفرت، کردار کشی، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہو تو معاشرتی انتشار بڑھ سکتا ہے۔ ہمیں سوشل میڈیا کے صارفین کی حیثیت سے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم معاشرے میں نفرت بانٹ رہے ہیں یا امید، علم اور شعور۔
    مثبت معاشرے کی ایک بڑی علامت برداشت اور اختلافِ رائے کا احترام بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص ہماری رائے سے اتفاق کرے۔ ایک مہذب معاشرے میں اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا جاتا۔ ہمیں دوسروں کی بات سننے، دلیل کو سمجھنے اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنے کا رویہ اپنانا ہوگا۔ اگر ہم اختلاف کو برداشت کرنا سیکھ جائیں تو ہمارے گھروں، اداروں، سیاسی حلقوں اور سماجی تعلقات میں بہت سی تلخیاں خود بخود کم ہو سکتی ہیں۔
    پاکستان کو روشن بنانے کے لیے صرف حکومت کی ذمہ داری کافی نہیں۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داریاں اپنی جگہ، لیکن شہری بھی معاشرے کا بنیادی حصہ ہیں۔ صفائی کا خیال رکھنا، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا، سرکاری و نجی املاک کی حفاظت کرنا، ٹیکس اور قانونی ذمہ داریوں کو سمجھنا، ضرورت مند کی مدد کرنا، خون کا عطیہ دینا، درخت لگانا، تعلیم کو فروغ دینا اور اپنے اردگرد کے لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا بھی پاکستان کی تعمیر میں حصہ ہے۔

    ہم اکثر بڑے انقلاب کا انتظار کرتے ہیں، حالانکہ معاشرتی تبدیلی چھوٹے چھوٹے اقدامات سے شروع ہوتی ہے۔ ایک شخص کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے، دوسرا کسی بچے کی تعلیم میں تعاون کرتا ہے، کوئی خون عطیہ کرتا ہے، کوئی درخت لگاتا ہے، کوئی کسی مایوس انسان کو امید دیتا ہے اور کوئی اپنے کاروبار میں دیانت داری اختیار کرتا ہے۔ یہ بظاہر معمولی کام ہوتے ہیں، مگر یہی اعمال معاشرے کے مزاج کو تبدیل کرنے کی بنیاد بنتے ہیں۔
    ہمیں اپنے گھروں سے مثبت پاکستان کی بنیاد رکھنی ہوگی۔ بچوں کو صرف کامیابی حاصل کرنے کی تعلیم نہ دیں بلکہ اچھا انسان بننے کی تربیت بھی دیں۔ انہیں سچ بولنے، بڑوں کا احترام کرنے، چھوٹوں سے محبت کرنے، محنت کرنے اور دوسروں کے کام آنے کا درس دیں۔ کیونکہ آج کا بچہ ہی کل کا ڈاکٹر، انجینیئر، استاد، صحافی، افسر، تاجر، سیاست دان اور معاشرتی رہنما بنے گا۔
    پاکستان کا روشن مستقبل کسی ایک فرد، ادارے یا طبقے کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہم سب کے اجتماعی کردار سے وابستہ ہے۔ ہمیں اپنی گفتگو میں مثبت، اپنے فیصلوں میں ذمہ دار، اپنے کردار میں دیانت دار اور اپنے رویوں میں انسان دوست بننا ہوگا۔
    آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہر مسئلے پر صرف یہ نہ کہیں کہ "ملک میں کچھ نہیں ہو رہا” بلکہ یہ سوال بھی کریں کہ "میں اپنے حصے کا کیا کر رہا ہوں؟”
    اگر ہر پاکستانی اپنے حصے کا چراغ روشن کر دے تو اندھیرا زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ مثبت سوچ سے مثبت کردار پیدا ہوتا ہے، مثبت کردار سے مثبت معاشرہ تشکیل پاتا ہے اور مثبت معاشرہ ہی ایک مضبوط، خوشحال اور روشن پاکستان کی بنیاد بنتا ہے۔
    پاکستان کا مستقبل صرف امید سے نہیں، مثبت سوچ اور عملی کردار سے روشن ہوگا ۔

  • مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان طوفان باہر ، دیواریں اندر سے مضبوط کرنا ہوں گی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    مشرقِ وسطیٰ کی آگ اور پاکستان طوفان باہر ، دیواریں اندر سے مضبوط کرنا ہوں گی،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہرمز سے اسلام آباد تک بدلتے خطے میں پاکستان کے لیے اتحاد ہی سب سے بڑی ڈھال ہے

    تجزیہ شہزاد قریشی

    آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کی سلگتی ہوئی آگ کی تپش اس کے دروازے تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ خلیجِ فارس سے لے کر باب المندب تک پھیلی ہوئی بے یقینی، تیل کی گزرگاہوں پر منڈلاتے خطرات، اور بڑی طاقتوں کی شطرنج نے پورے خطے کو اضطراب کی کیفیت میں مبتلا کر رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز، بحیرۂ احمر اور سعودی عرب کے توانائی ڈھانچے سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عالمی معیشت کو ایک نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان کا کردار محض ایک تماشائی کا نہیں بلکہ ایک ذمہ دار علاقائی ریاست کا ہے۔ پاکستان کے مغرب میں ایران، شمال مغرب میں افغانستان، مشرق میں بھارت اور جنوب میں بحیرۂ عرب واقع ہے۔ گویا جغرافیہ نے پاکستان کو صرف ایک ملک نہیں بلکہ خطوں کے درمیان ایک پل بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی ہر ہلچل کے اثرات بالآخر پاکستان کی معیشت، سلامتی اور داخلی استحکام پر مرتب ہوتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ کس چیز کی ضرورت ہے؟ میرا جواب واضح ہے: سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی۔ جب دنیا کے گرد و نواح میں بارود کی بو پھیلی ہوئی ہو، جب عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے نئے اتحاد تشکیل دے رہی ہوں، جب توانائی کے راستے خطرات کی زد میں ہوں، تو ایسے وقت میں کسی بھی ملک کے لیے داخلی انتشار سب سے بڑا نقصان بن جاتا ہے۔ احتجاج، محاذ آرائی، الزام تراشی اور سیاسی کشمکش اپنی جگہ، مگر قومی سلامتی کے تقاضے اپنی جگہ ہوتے ہیں۔ آج پاکستان کسی نئے سیاسی معرکے کا نہیں بلکہ قومی یکسوئی کا متقاضی ہے۔ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان گزشتہ برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کے معاملات میں ایک متوازن سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ایران، سعودی عرب، ترکیہ اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ روابط نے پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر ابھارا ہے جو تصادم کے بجائے مکالمے کا داعی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر بیرونی خطرات کے ماحول میں اندرونی محاذ کمزور پڑ جائے تو دشمن کو کچھ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، دانشور اور میڈیا سب مل کر ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیں جس کی بنیاد پاکستان کے قومی مفاد پر ہو، نہ کہ وقتی سیاسی فائدے پر۔ مشرقِ وسطیٰ کی فضاؤں میں گردش کرتے جنگی بادل پاکستان کو ایک خاموش پیغام دے رہے ہیں: "اختلاف رکھو، مگر انتشار مت پیدا کرو؛ سیاست کرو، مگر ریاست کو کمزور مت کرو۔”
    پاکستان کی بقا، ترقی اور عالمی اہمیت کا راز اسی میں پوشیدہ ہے کہ ہم داخلی استحکام کو اپنی پہلی قومی ترجیح بنائیں۔ کیونکہ جب گرد و پیش میں طوفان اٹھ رہے ہوں تو عقل مند قومیں اپنے گھر کی دیواریں مضبوط کیا کرتی ہیں۔

  • گیس، بجلی اور پٹرول،تحریر:خالد شہزاد

    گیس، بجلی اور پٹرول،تحریر:خالد شہزاد

    پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ رہا ہے کہ عوام کو ہمیشہ پُرکشش نعروں، سبز باغوں اور جذباتی وعدوں کے ذریعے بہلایا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے تاریخ ساز نعرے "روٹی، کپڑا اور مکان” نے 1970ء کے عشرے میں عوام کو امید کی ایک نئی کرن دکھائی تھی۔ غریب طبقے نے سوچا تھا کہ شاید اب آٹے کا کنستر خالی نہیں رہے گا، سر پر اپنی چھت ہوگی اور تن ڈھانپنے کے لیے کپڑا میسر ہوگا۔ لیکن دہائیاں گزر جانے کے بعد، بھٹو تو زندہ رہا مگر غریب کی آس ٹوٹ گئی۔بینظیر بھٹو کی حکومتوں میں توانائی کے سنگین بحران کے حل کے لیے معاہدے تو کیے گئے، لیکن بدعنوانی اور دیرپا پالیسیوں کے فقدان نے بجلی کے مسائل کو مزید سنگین کر دیا۔ آصف علی زرداری کے "پاکستان کھپے” کا نعرہ اور عمران خان کے "ریاستِ مدینہ” کا خواب بھی عام پاکستانی کی حالتِ زار بدلنے میں ناکام رہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جو حکومتیں خود کو معاشیات کی ماہر گردانتی ہیں، وہ بھی بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں سیکنڈز کے حساب سے اضافہ کر کے غریب اور متوسط طبقے سے زندہ رہنے کی آخری امید بھی چھین رہی ہیں۔

    یہ مانا کہ عالمی حالات و واقعات اور جیو پولیٹیکل دباؤ نے پاکستان کا موجودہ معاشی اور توانائی کا بحران محض داخلی بدانتظامی کا نتیجہ نہیں، بلکہ عالمی حالات و واقعات نے بھی اس میں پٹرول کا کام کیا ہے، عالمی سپلائی چین کا بحران نے روس-یوکرین جنگ اور مشرقِ وسطیٰ میں پھیلتی ہوئی کشیدگی نے عالمی سطح پر خام تیل اور ایل این جی (LNG) کی قیمتوں کو تاریخی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ تو پاکستان نے توانائی کے لیے غیر ملکی خام مال پر انحصار اپنی بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی ضرورت کے لیے شدید حد تک در آمدی تیل و گیس پر انحصار کرتا رہا،عالمی منڈی میں معمولی تحرک بھی مقامی سطح پر پٹرول، گیس اور بجلی کے بم پھوڑنے کا سبب بنتا ہے۔ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے قرضہ جات اور کڑی شرائط کی وجہ سے پاکستان کا معاشی ڈھانچہ دہائیوں سے ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ (IMF) کے سہارے پر چل رہا ہے۔ لیکن یہ بین الاقوامی مالیاتی ادارے جب قرض دیتے ہیں، تو ساتھ سخت ترین شرائط بھی عاید کرتے ہیں: آئی ایم ایف کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ بجلی، گیس اور پٹرول پر دی جانے والی تمام سبسڈی ختم کی جائے۔ توانائی کے شعبے پر نافذ لیوی اور سیلز ٹیکس میں تسلسل سے اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ حکومت اپنے خسارے کو پورا کر سکے اور حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کی بجائے ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈالتے ہیں۔

    سرکولر ڈیٹ (گردشی قرضہ): توانائی کے شعبے کا گردشی قرضہ کے حساب کتاب سے باہر ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی ادارے حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ یہ قرضہ عوام کی جیبوں سے فی یونٹ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھا کر وصول کرے، حکومت گردشی قرضہ جات واپس کرنے کے لیے پٹرول پر لیوی کی مد میں ناجائز بوجھ عام عوام پر ڈالتی ہے۔ موجودہ حکومت اور تکنیکی ماہرین کا دعویٰ تھا کہ وہ سخت فیصلے کر کے معیشت کو پٹری پر لائیں گے، مگر ان کی اصلاحات زبانی جمع خرچ اور عوام دشمن ثابت ہوئی ہیں۔

    ظالمانہ کیپسیٹی پیمنٹس (Capacity Payments): آئی پی پیز (IPPs) کے ساتھ کیے گئے وہ معاہدے جن کے تحت بجلی استعمال ہو یا نہ ہو، اربوں روپے کی اداؤگیاں ڈالرز میں کی جاتی ہیں، ان کا تمام تر بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا ہے۔

    گیس اور بجلی کی ریکارڈ قیمتیں اصلاحات کے نام پر ٹیرف میں بار بار اضافہ کر کے عام شہری، صنعتکار اور تاجر طبقے کی کمر توڑ دی گئی ہے، جس سے پیداوری لاگت بڑھ گئی ہے اور معاشی پہیہ جام ہو رہا ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان پٹرول اور بجلی کی قیمت بڑھنے سے بنیادی اشیائے خورونوش آٹے، دال اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔

    "روٹی، کپڑا اور مکان” سے شروع ہونے والا سفر آج اس نقطے پر پہنچ چکا ہے جہاں پاکستانی عوام کے لیے بجلی، گیس اور پٹرول کا حصول بھی ایک خواب بن چکا ہے۔ جب تک پاکستان اپنے توانائی کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات نہیں لاتا، در آمدی ایندھن کے بجائے مقامی و تجدید پذیر وسائل (شمسی اور پن بجلی) کی طرف منتقل نہیں ہوتا، اور بین الاقوامی اداروں کی عوام دشمن شرائط پر اندھا دھند عمل درآمد بند نہیں کرتا، تب تک کوئی بھی سیاسی نعرہ غریب پاکستانی کی تقدیر نہیں بدل سکتا۔

  • نئے انتظامی یونٹس اور آبادی کا توازن: مستقبل کے پاکستان کی کلید،تحریر: نعیم خان

    نئے انتظامی یونٹس اور آبادی کا توازن: مستقبل کے پاکستان کی کلید،تحریر: نعیم خان

    کسی بھی ملک کا نظام اس کے شہریوں کی فلاح اور بنیادی حقوق کی فراہمی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ اگر وقت کے ساتھ ساتھ آبادی بڑھ جائے لیکن حکمرانی کا پرانا طریقہ وہی رہے تو پورا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ آج اگر ہم ایک تجربے کار اور حساس انسان کی طرح اپنے ملک کی حالت پر نظر ڈالیں تو واضح دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل پر بڑھتا ہوا آبادی کا بوجھ اور تمام اختیارات کا چند بڑے شہروں میں جمع ہو جانا ہے۔

    اس وقت ہماری آبادی دگنی ہو چکی ہے جبکہ صوبائی حدود اور انتظامی ڈھانچہ وہی دہائیوں پرانا ہے۔ جب 24 کروڑ سے زائد لوگوں کے تمام فیصلے صرف چار صوبائی دارالحکومتوں سے ہوں گے تو دور دراز کے علاقوں میں محرومی کا پھیلنا ایک فطری بات ہے۔ موجودہ حکومت میں نئے انتظامی یونٹس یا 160 بااختیار اضلاع بنانے کی جو تجویز سامنے آئی ہے وہ محض ایک سیاسی بحث نہیں بلکہ عوامی ضرورت ہے۔ آئینی طریقہ کار کے تحت اگر اختیارات اور فنڈز کو نچلی سطح تک منتقل کر دیا جائے تو نہ صرف گورننس بہتر ہوگی بلکہ سالانہ اربوں روپے کی بچت بھی ممکن ہو سکے گی۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیرِ مواصلات عبدالعلیم خان کا ویژن اس معاملے پر بالکل واضح اور حتمی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ جب تک ہم طاقت اور وسائل کو اضلاع کی سطح تک منتقل کر کے عوام کی دہلیز پر نہیں لائیں گے معاشی اور سیاسی استحکام حاصل نہیں ہو سکتا۔

    دوسری طرف آبادی کا بے ہنگم اضافہ ہماری تمام معاشی پیشرفت کو نگل رہا ہے۔ اس وقت آبادی کے بڑھنے کی شرح 2.1 فیصد سے اوپر ہے جسے 2030 تک 1.1 فیصد پر لانا ایک قومی ہدف بن چکا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے مانع حمل ادویات پر ٹیکس ختم کیے ہیں اور خاندانی بہبود کے مراکز کی توسیع کا کام شروع کیا ہے لیکن یہ پروگرام زبردستی کی بجائے مکمل طور پر رضاکارانہ اور عوام میں آگاہی پیدا کرنے پر مبنی ہے۔ اگر ہم نے اس شرح کو کنٹرول نہ کیا تو تعلیم ، صحت اور روزگار کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی۔

    حقیقی اور پائیدار حل یہی ہے کہ ہم نئے بااختیار اضلاع کی تشکیل اور آبادی کے توازن کو ملا کر ایک عملی حکمتِ عملی بنائیں۔ جب ہم 160 اضلاع کو مکمل مالی اور انتظامی اختیارات دیں گے تو وہی بااختیار اضلاع اپنے علاقوں میں تعلیم ، صحت اور خاندانی بہبود کے پروگراموں کو زیادہ کامیابی سے چلا سکیں گے۔ عبدالعلیم خان کی قیادت میں ہمارا پختہ یقین ہے کہ سیاسی تعصبات سے اوپر اٹھ کر اگر ہم طاقت عوام کو سونپ دیں اور آبادی کو قابو کر لیں تو پاکستان اپنے تمام بحرانوں سے نکل کر ایک مضبوط ، خود مختار اور خوشحال ملک بن سکتا ہے

  • قربانی کا ترازو ہمیشہ غریب کی طرف کیوں جھکتا ہے؟تحریر: طارق نوید سندھو

    قربانی کا ترازو ہمیشہ غریب کی طرف کیوں جھکتا ہے؟تحریر: طارق نوید سندھو

    ملک نازک موڑ پر ہے تو پھر قربانی صرف غریب ہی کیوں دے؟
    مہنگائی کا بوجھ عوام پر، مراعات کا سلسلہ اشرافیہ کے لیے کب تک؟
    قوم سے صبر کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی اپنی شاہانہ مراعات پر نظر ڈالنا ہوگی

    پاکستان جب بھی معاشی بحران میں گھرا، ایک جملہ فوراً ہماری سماعتوں سے ٹکرایا: ’’ملک نازک موڑ سے گزر رہا ہے۔‘‘
    یہ جملہ نیا نہیں۔ برسوں سے سنتے آئے ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہیں، حکمران بدلتے رہے، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر ’’نازک موڑ‘‘ وہیں کھڑا رہا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نازک موڑ پر ہر بار سب سے پہلے جس طبقے کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہے، وہ غریب ہوتا ہے۔
    آٹا مہنگا ہو تو غریب پریشان۔
    بجلی کا بل بڑھے تو غریب پریشان۔
    پٹرول مہنگا ہو تو غریب پریشان۔
    گیس مہنگی ہو تو غریب پریشان۔
    ٹیکس بڑھے تو غریب پریشان۔
    دوائی مہنگی ہو تو غریب پریشان۔
    بچوں کی فیس بڑھے تو غریب پریشان۔
    اور جب معیشت کو سہارا دینے کی باری آئے تو بھی کہا جاتا ہے: قوم قربانی دے۔
    مگر یہاں ایک سوال مسلسل جواب مانگ رہا ہے کہ قوم کون ہے؟
    کیا قوم صرف وہ شخص ہے جو صبح سویرے مزدوری کی تلاش میں گھر سے نکلتا ہے؟ کیا قوم صرف وہ کسان ہے جو اپنی فصل کی قیمت کے لیے پریشان رہتا ہے؟ کیا قوم صرف وہ سفید پوش ملازم ہے جو مہینے کی بیس یا تیس تاریخ کو جیب ٹٹولتا ہے کہ اب باقی دن کیسے گزریں گے؟
    اگر قوم یہی لوگ ہیں تو پھر اشرافیہ کون ہے؟

    یہ سوال کسی فرد یا طبقے سے نفرت کا سوال نہیں، بلکہ ریاستی انصاف کا سوال ہے کہ پاکستان کا غریب پہلے ہی اپنی زندگی میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے۔ اس نے اپنی خواہشات قربان کیں، بچوں کے خواب قربان کیے، علاج مؤخر کیا، تعلیم کے اخراجات میں کمی کی، تہوار سادگی سے منائے، سفر محدود کیے اور کئی مرتبہ دو وقت کی روٹی کو بھی ایک وقت تک لانے پر مجبور ہوا۔
    اب اگر اسے پھر کہا جائے کہ ’’ملک نازک موڑ پر ہے، مزید قربانی دو‘‘ تو وہ بے بسی سے صرف اتنا پوچھتا ہے:
    ’’صاحب! میرے پاس اب قربانی دینے کے لیے بچا ہی کیا ہے؟‘‘

    یہ سوال بہت چھوٹا ہے، مگر اس کے اندر ایک پورا معاشی المیہ چھپا ہوا ہے۔
    کیا قربانی صرف جیبِ غریب سے نکلے گی؟
    اگر ملک واقعی مشکل میں ہے تو پھر قربانی کا آغاز بھی اوپر سے ہونا چاہیے۔
    حکمرانوں کے غیر ضروری اخراجات کم ہوں۔ سرکاری سطح پر شاہانہ پروٹوکول کا جائزہ لیا جائے۔ غیر ضروری گاڑیاں، مراعات اور اخراجات کم کیے جائیں۔ ریاستی وسائل کے استعمال میں شفافیت لائی جائے۔
    اور سب سے بڑھ کر ایسا ٹیکس نظام قائم کیا جائے جس میں بوجھ صرف تنخواہ دار اور عام صارف کی جیب پر نہ پڑے کیونکہ عجیب صورتحال ہے کہ جس شخص کی آمدن پہلے ہی محدود ہے، اس سے ہر خریداری پر ٹیکس وصول کرنا آسان سمجھا جاتا ہے، جبکہ بڑی دولت اور بڑے معاشی مفادات رکھنے والوں سے حقیقی استطاعت کے مطابق وصولی ایک مشکل مسئلہ بن جاتی ہے۔
    یہ طرزِ حکمرانی عوام کے اندر صرف غربت نہیں بڑھاتا، احساسِ محرومی بھی بڑھاتا ہے۔قوم کو قربانی سے نہیں، دوہرے معیار سے شکایت ہے، پاکستانی قوم قربانی سے نہیں گھبراتی۔
    ہم نے مشکل وقت میں اپنے وطن کے لیے جانیں بھی دیں، مال بھی دیا اور وقت بھی دیا۔ قدرتی آفات ہوں یا قومی بحران، پاکستانی عوام ہمیشہ آگے بڑھے ہیں۔
    مسئلہ قربانی کا نہیں مسئلہ یہ ہے کہ قربانی کا ترازو ہمیشہ ایک ہی طرف کیوں جھکتا ہے؟
    جب غریب کے گھر کا بجٹ بگڑتا ہے تو اسے صبر کا درس دیا جاتا ہے، لیکن جب مراعات یافتہ طبقے کی سہولتیں کم کرنے کی بات آتی ہے تو نہ جانے کتنے قانونی، انتظامی اور معاشی عذر سامنے آ جاتے ہیں۔
    غریب سے کہا جاتا ہے:
    ’’ملک کے لیے برداشت کرو۔‘‘
    مگر کیا طاقتور سے بھی کبھی اسی لہجے میں کہا جاتا ہے کہ ملک کے لیے اپنی مراعات چھوڑ دو؟‘‘
    اگر کہا جاتا ہے تو پھر عوام کو اس قربانی کے آثار بھی نظر آنے چاہئیں۔

    پاکستان کو صرف پیسہ نہیں، انصاف چاہیے اور معاشی بحران صرف خزانے میں پیسوں کی کمی کا نام نہیں۔ اصل بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ نظام ان کے لیے مختلف اور طاقتور لوگوں کے لیے مختلف ہے۔
    ریاست اگر عوام سے قربانی چاہتی ہے تو اسے پہلے اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔
    عوام کو یقین ہونا چاہیے کہ ان کے دیے ہوئے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں ہو رہا۔
    انہیں یقین ہونا چاہیے کہ قومی وسائل کسی مخصوص طبقے کی آسائش کے لیے نہیں بلکہ اجتماعی بھلائی کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
    انہیں یقین ہونا چاہیے کہ قانون کمزور کی گردن پر ہاتھ رکھنے کے لیے نہیں بلکہ طاقتور کا ہاتھ روکنے کے لیے بھی موجود ہے۔اور سب سے بڑھ کر انہیں یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس ملک میں غریب ہونا جرم نہیں ہے۔
    آخری سوال
    آج سوال یہ نہیں کہ پاکستان مشکل میں ہے یا نہیں۔
    سوال یہ ہے کہ مشکل کا بوجھ کس کے کندھے پر رکھا جا رہا ہے؟
    اگر پاکستان ہمارا مشترکہ وطن ہے تو خوشحالی بھی مشترکہ ہونی چاہیے اور مشکلات کا بوجھ بھی۔
    اگر قوم سے قربانی مانگی جا رہی ہے تو قربانی کی پہلی مثال ایوانوں سے آنی چاہیے۔
    اگر سادگی کا درس دیا جا رہا ہے تو سادگی اقتدار کے ایوانوں میں دکھائی دینی چاہیے۔
    اگر ٹیکس مانگا جا رہا ہے تو ٹیکس کا نظام سب کے لیے منصفانہ ہونا چاہیے۔
    اور اگر احتساب کی بات کی جا رہی ہے تو احتساب کا آغاز کمزور سے نہیں، طاقتور سے ہونا چاہیے۔
    کیونکہ غریب اس ملک سے بھاگنا نہیں چاہتا۔
    وہ صرف اتنا چاہتا ہے کہ اسے اس ملک میں عزت سے جینے کا حق ملے۔
    وہ چاہتا ہے کہ اس کے بچے بھوکے نہ سوئیں۔
    وہ چاہتا ہے کہ بیماری کی صورت میں علاج ممکن ہو۔
    وہ چاہتا ہے کہ بجلی کا بل ادا کرنے کے بعد گھر میں راشن کے لیے بھی کچھ بچ جائے۔
    وہ چاہتا ہے کہ اس کی محنت اسے غربت سے نکال سکے۔
    اور شاید سب سے بڑھ کر وہ یہ چاہتا ہے کہ جب اسے ’’قربانی‘‘ کا کہا جائے تو اسے یہ بھی دکھائی دے کہ دوسری طرف بیٹھے لوگ بھی کچھ چھوڑ رہے ہیں۔پاکستان واقعی نازک موڑ پر ہے تو پھر فیصلہ بھی نازک اور تاریخی ہونا چاہیے،

    قربانی صرف غریب کی نہیں، سب کی۔بوجھ صرف عوام پر نہیں، صاحبِ اختیار پر بھی احتساب صرف کمزور کا نہیں، طاقتور کا بھی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو قربانی کے ساتھ انصاف بھی چاہیے، کیونکہ انصاف کے بغیر مانگی گئی قربانی قوم کو مضبوط نہیں کرتی، اسے اندر سے توڑ دیتی ہے۔یہ وقت غریب کو مزید دبانے کا نہیں، اسے سہارا دینے کا ہے۔کیونکہ جس قوم کا عام آدمی ٹوٹ جائے، وہ معیشت کے اعدادوشمار میں شاید زندہ دکھائی دے، مگر حقیقت میں اس کی بنیادیں کمزور ہو چکی ہوتی ہیں۔اب سوال یہ نہیں کہ غریب مزید کتنی قربانی دے سکتا ہے؛ سوال یہ ہے کہ اشرافیہ ملک کے لیے کیا قربانی دینے کو تیار ہے؟

  • عالمی مہرِ تصدیق اور کشمیر کا مقدمہ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    عالمی مہرِ تصدیق اور کشمیر کا مقدمہ،تحریر:ندیم یعقوب گوہر

    تاریخ کے ایوانوں میں بعض لمحات ایسے خاموش طوفان کی مانند وارد ہوتے ہیں جو صدیوں سے بنے بنائے مصنوعی بیانیوں اور ریاستی ہٹ دھرمیوں کو ایک ہی جھٹکے میں ریت کے محل کی طرح ڈھا دیتے ہیں۔ سفارت کاری کا میدان محض شعلہ بیانی یا کاغذ کے ٹکڑوں کی الٹ پلٹ کا نام نہیں ہوتا، بلکہ یہ اصول، صبر اور تاریخ کے ناگزیر فیصلوں کی وہ بساط ہے جہاں حق کو بالآخر اپنا آپ منوانا پڑتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہال میں صدیوں پرانے استعماری مرکیٹر نقشے کی جگہ رقبے کے درست تناسب پر مبنی نئے معیاری نقشے کی توثیق کے موقع پر ایک ایسا ہی عدیم النظیر منظر دنیا نے دیکھا جس نے جنوبی ایشیا کی جغرافیائی و سفارتی سیاست کے بند کواڑ جھنجھوڑ کر رکھ دیے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ارضیاتی شعبے کی جانب سے جاری کردہ اس مستند عالمی نقشے میں مقبوضہ جموں و کشمیر کو کسی بھی ملک کا اندرونی حصہ تسلیم کرنے کے بجائے بدستور ایک بین الاقوامی متنازع علاقہ قرار دیا گیا ہے، اور پاکستان و بھارت کے زیرِ انتظام حصوں کو ایک واضح نقطہ دار لکیر یعنی ڈاٹڈ لائن سے تقسیم کرتے ہوئے یہ قانونی وضاحت بھی درج کر دی گئی ہے کہ اس خطے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ ابھی ہونا باقی ہے۔ سب سے بڑا تاریخی المیہ یا قدرت کی ستم ظریفی یہ رہی کہ اس نئے عالمی نقشے کی توثیق میں بھارت نے بھی اقوامِ عالم کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے ہی ہاتھ سے اس دستاویز کے حق میں ووٹ ڈال دیا۔

    جب نیویارک کے وقت کے مطابق ووٹنگ پینل پر سبز بتیاں روشن ہوئیں اور ایک سو چونسٹھ (164 )ممالک کے ساتھ بھارت کی حمایت کا اندراج ہوا، تو درحقیقت نئی دہلی کی جانب سے دہائیوں سے تراشا گیا نام نہاد "اٹوٹ انگ” کا فرسودہ بیانیہ اقوامِ متحدہ کے اسی ایوان میں دفن ہو گیا جہاں سے بھارت کبھی راہِ فرار اختیار کرتا رہا تھا۔ پانچ اگست دو ہزار انیس( 5, اگست 2019 ) کو بھارتی آئین کی دفعہ تین سو ستر اور پینتیس اے(270-45A) پر شب خون مار کر پوری وادی کو کھلی جیل میں بدلنے والے اربابِ اقتدار نے یہ خواب دیکھا تھا کہ جغرافیے کو بندوق کی نوک پر بدلا جا سکتا ہے اور تاریخ کے ماتھے سے کشمیر کا نام کھرچ کر اسے اپنا داخلی معاملہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ مگر اقوامِ متحدہ کے اس نئے نقشے پر بھارتی دستخط نے یہ ثابت کر دیا کہ عالمی قوانین اور بین الاقوامی فریم ورک کسی ملک کے عارضی اندرونی سیاسی جنون کے آگے سرنگوں نہیں ہوتے۔ بھارت چاہے کتنی ہی وضاحتی تاویلیں تراشے یا اسے محض سائنسی رقبے کی درستی قرار دے کر اپنے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی سعی کرے، سفارتی حقیقت کی کڑوی گولی یہ ہے کہ عالمی برادری نے مقبوضہ وادی پر بھارت کے یکطرفہ دعوؤں کو رد کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کو ایک بین الاقوامی تنازع کی عارضی لکیر کے طور پر ہی مانا ہے۔

    اس ہمہ گیر پیش رفت نے دراصل پاکستان کے اس اصولی، نظریاتی اور اخلاقی موقف پر ایک بار پھر بین الاقوامی مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جو وہ پچھلی پون صدی سے ہر عالمی پلیٹ فارم پر دہراتا چلا آ رہا ہے۔ بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح نے یوں ہی کشمیر کو پاکستان کی "شہ رگ” قرار نہیں دیا تھا۔ یہ کوئی روایتی جذباتی جملہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی دور اندیشانہ حقیقت تھی جس کا تعلق پاکستان کے وجود، اس کی آبی حیات، اس کے جغرافیائی استحکام اور نظریۂ پاکستان کی تکمیل سے جڑا ہوا ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے گلی کوچوں میں جب بھارتی فوجیوں کے بوٹوں تلے انسانی حقوق روندے جاتے ہیں، جب وادی کی ماؤں بہنوں کی چادریں تار تار کی جاتی ہیں اور جب حریت پسند نوجوانوں کے سینوں کو پیلٹ گنوں سے چھلنی کیا جاتا ہے، تو اس کا درد ہر اس پاکستانی کے دل میں جاگتا ہے جس کے وجود میں شہ رگ کی طرح کشمیر دھڑکتا ہے۔ پاکستان نے سفارتی تنہائی کے طعنے سہے، اقتصادی دباؤ جھیلے، اور عالمی طاقتوں کی چشم پوشی کے باوجود کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے پرچم کو کبھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔ آج جب اقوامِ عالم کے متفقہ نقشے پر کشمیر ایک متنازع اور حقِ استصواب کے طلبگار خطے کی صورت میں تابندہ نظر آتا ہے، تو یہ دراصل کشمیری شہدا کے بہتے لہو اور پاکستان کی مسلسل سفارتی استقامت کا ثمر ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ہونے والی اس پیش رفت کی علامتی اہمیت سے زیادہ اس کا عملی اور قانونی اثر گہرا ہے۔ اس نقشے کی اشاعت کے بعد اب دنیا بھر کے تعلیمی اداروں، نصابی کتب، بین الاقوامی اٹلسوں اور کثیر القومی اداروں کے دستاویزات میں کشمیر کو اسی تناظر میں دکھایا جائے گا جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی روح ہے۔ بھارت نے برسوں تک دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے اندرونی قوانین کا سہارا لیا، میڈیا سنسرشپ لگائی اور متنازعہ علاقوں کو اپنے نقشوں میں زبردستی سموئے رکھا، لیکن جب بین الاقوامی فورم پر ووٹ ڈالنے کا وقت آیا تو وہ عالمی برادری کی اجتماعی سوچ کے سامنے کھڑا نہ رہ سکا اور اس کے اپنے دستخط نے اس کے اپنے ہی بیانیے کا گلا گھونٹ دیا۔ یہ واقعہ خطے میں امن کی بحالی اور مظلوم کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی بازیابی کے لیے ایک تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔ امن کے لیے ضروری ہے کہ حقیقت پسندی کا دامن تھاما جائے۔ طاقت کے بل بوتے پر قوموں کی شناخت اور ان کا جغرافیہ نہیں چھینا جا سکتا۔ اقوامِ متحدہ کا نیا نقشہ محض لکیروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک نوشتۂ دیوار ہے جس پر صاف لکھا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ زندہ ہے، اس کی متنازع حیثیت اٹل ہے اور جب تک کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا ان کا جائز حق نہیں مل جاتا، جنوبی ایشیا کا یہ زخم مندمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان اپنی شہ رگ کے دفاع اور مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی و سیاسی حمایت کے عہد پر آج بھی اسی طرح قائم ہے جیسا کہ اس کا تاریخی مقدر تھا

  • نئے صوبے: نقشے بدلیں گے، کیا مسائل بھی بدلیں گے؟تحریر: اعجاز راہی

    نئے صوبے: نقشے بدلیں گے، کیا مسائل بھی بدلیں گے؟تحریر: اعجاز راہی

    کسی بھی ملک کی سیاست میں کبھی کبھی ایسے سوال اچانک سر اٹھاتے ہیں جو بظاہر انتظامی ہوتے ہیں، مگر ان کے اندر سیاست، معیشت، شناخت، اقتدار اور مستقبل کے کئی سوال چھپے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث بھی آج کل کچھ ایسی ہی کیفیت اختیار کرچکی ہے۔ جنوبی پنجاب، بہاولپور، ہزارہ اور دیگر ممکنہ انتظامی اکائیوں کا ذکر پھر سے سیاسی گفتگو کا حصہ ہے۔ ٹی وی اسکرینیں آباد ہیں، سیاسی جلسوں میں نعرے لگ رہے ہیں، بیانات جاری ہورہے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پاکستان کے بہت سے مسائل کا حل شاید ایک نئے نقشے میں چھپا ہوا ہے۔

    میں نئے صوبوں کے مطالبے کو یکسر رد کرنے کے حق میں نہیں ہوں۔ بعض علاقوں میں احساسِ محرومی حقیقی ہے، انتظامی فاصلے موجود ہیں اور یہ شکایت بھی اپنی جگہ درست ہے کہ بڑے صوبوں کے دور دراز علاقوں کو وہ توجہ نہیں مل پاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ جنوبی پنجاب کے عوام کا یہ احساس بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ فیصلہ سازی کا بڑا حصہ لاہور میں مرتکز ہے۔ لیکن میرا سوال صرف اتنا ہے کہ کیا اس کا واحد حل نیا صوبہ ہے؟

    ہمیں اس بحث کو جذبات سے نکال کر حقیقت کی زمین پر لانا ہوگا، کیونکہ صوبہ بنانا صرف نقشے پر ایک لکیر کھینچنے کا نام نہیں۔ اس کے ساتھ ایک پوری نئی حکومتی مشینری پیدا ہوتی ہے۔ نئی اسمبلی، نئی کابینہ، نئے محکمے، نیا سیکریٹریٹ، نئی بیوروکریسی، نئی سرکاری عمارتیں، نئی مراعات اور نئے مستقل اخراجات۔ اس لیے اس معاملے کو صرف سیاسی نعرے کے طور پر نہیں بلکہ قومی پالیسی کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

    بہت ضروری ہے کہ سب سے پہلے یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ نیا صوبہ بنانا کوئی سادہ انتظامی فیصلہ نہیں۔ پاکستان کا آئین صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے ایک واضح اور مشکل آئینی راستہ مقرر کرتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت اس نوعیت کی تبدیلی کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی بھی کم از کم دو تہائی منظوری ضروری ہے۔اس کا مطلب بالکل واضح ہے۔ نئے صوبے ٹی وی ٹاک شو میں نہیں بنیں گے۔ کسی جلسے میں نعرہ لگانے سے نہیں بنیں گے۔ اخباری بیان سے نہیں بنیں گے۔ اگر واقعی یہ قومی ضرورت ہے تو اسے پارلیمنٹ کے ایوان میں آنا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ سیاسی قیادت کا امتحان بھی ہونا چاہیے۔ رانا ثناء اللہ ماضی میں جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں منظور ہونے والی قراردادوں کا حصہ رہے ہیں اور حالیہ ٹی وی گفتگو میں انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ ان قراردادوں کو دس سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، اس لیے اب اگر اس عمل کو آگے بڑھانا ہے تو اسے نئے سرے سے آئینی اور پارلیمانی طریقے سے آگے بڑھانا ہوگا۔ یہ بات قابلِ غور ہے۔

    اگر جنوبی پنجاب اور بہاولپور کا مطالبہ آج بھی سیاسی اور انتظامی طور پر درست سمجھا جاتا ہے تو پھر اسے دوبارہ پنجاب اسمبلی سے منظور کرایا جائے، قومی اسمبلی میں لایا جائے، سینیٹ میں بحث ہو اور قوم کے سامنے پورا مقدمہ رکھا جائے۔ یہ معاملہ ٹی وی اسٹوڈیوز سے نکل کر پارلیمنٹ کے فلور پر آنا چاہیے۔ کیونکہ قوموں کے مستقبل کے فیصلے ٹاک شوز میں نہیں، پارلیمنٹ میں ہوتے ہیں۔

    کیا محرومی کا علاج صوبہ ہے یا اختیار؟ نئے صوبوں کے حامیوں کی سب سے بڑی دلیل گورننس اور انتظامی سہولت ہے، اور یہ دلیل قابلِ فہم ہے۔ اگر حکومت عوام سے بہت دور ہو، اگر ایک عام شہری کو اپنے چھوٹے سے مسئلے کے لیے سینکڑوں میل کا سفر کرنا پڑے، اگر ترقیاتی فیصلے اس علاقے کے لوگوں کی ضرورت کے بجائے دارالحکومت کی ترجیحات کے مطابق ہوں تو احساسِ محرومی پیدا ہونا فطری ہے۔لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ہوگا کہ انتظامی محرومی اور صوبائی محرومی ایک چیز نہیں۔اگر مسئلہ یہ ہے کہ اختیار عوام سے دور ہے تو پھر ہمیں اختیار عوام کے قریب لانا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری نہیں کہ ہر مرتبہ ایک نیا صوبہ بنایا جائے۔

    بڑے صوبوں کے اندر مضبوط انتظامی یونٹس بنائے جاسکتے ہیں۔ ڈویژن اور اضلاع کو زیادہ اختیارات دیے جاسکتے ہیں۔ تحصیل کی سطح پر فیصلہ سازی منتقل کی جاسکتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر مقامی حکومتوں کو حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار دیا جاسکتا ہے۔دنیا میں اچھی حکمرانی کا راز صرف صوبوں کی تعداد میں نہیں، اختیار کی تقسیم میں ہوتا ہے۔

    میرے نزدیک اس پوری بحث کا سب سے اہم اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے نئے صوبوں پر تو بہت گفتگو کی، مگر مقامی حکومت کو تقریباً بھلا دیا۔ آئین کا آرٹیکل 140-A پہلے ہی کہتا ہے کہ صوبوں کو مقامی حکومت کا نظام قائم کرکے سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داری اور اختیار منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرنا ہے۔ پھر ہم اس راستے پر کیوں نہیں چلتے؟ ایک عام شہری کو اپنی گلی کی صفائی، پانی، سیوریج، سڑک، پارک، بنیادی صحت یا مقامی ترقی کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف کیوں دیکھنا پڑتا ہے؟ اسے اپنے منتخب میئر، چیئرمین یا مقامی نمائندے سے جواب کیوں نہیں ملنا چاہیے؟ ہم نے مقامی حکومت کو جمہوریت کی نچلی سطح تو کہا، مگر اسے اختیار اور وسائل دینے سے ہمیشہ گریز کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صوبائی حکومتیں طاقتور ہوتی گئیں اور مقامی حکومتیں کمزور۔ اگر واقعی عوام کو مالی اور انتظامی ریلیف دینا ہے تو پہلے یہ تجربہ کیوں نہیں کیا جاتا کہ اختیار اور وسائل ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل کرکے دیکھا جائے؟

    اس بحث کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں مختلف اوقات میں نئے صوبوں کی حمایت بھی کرتی رہی ہیں اور بعض اوقات اس کے خلاف بھی کھڑی نظر آئی ہیں۔ اس کی وجہ صرف اصولی سیاست نہیں بلکہ سیاسی طاقت کا توازن بھی ہے۔ صوبہ صرف ایک انتظامی اکائی نہیں ہوتا۔ وہ ایک سیاسی طاقت کا مرکز بھی ہوتا ہے۔ نیا صوبہ بنے گا تو نئی اسمبلی ہوگی، نئی نشستیں ہوں گی، نئی قیادت پیدا ہوگی، نئے سیاسی مراکز وجود میں آئیں گے اور وسائل کی تقسیم کا پورا نظام متاثر ہوگا۔ اسی لیے اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کا رویہ ہمیشہ سادہ اور یکساں نہیں رہا۔ سندھ اسمبلی کی حالیہ قرارداد نے بھی اس بحث کی حساسیت واضح کردی ہے۔ سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ محض انتظامی نقشے کا مسئلہ نہیں بلکہ صوبائی شناخت اور سیاسی جذبات سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔

    یہاں میں ان تمام سیاسی قوتوں اور ان کے پسِ پردہ موجود ان تخلیق کاروں سے بھی ایک سنجیدہ سوال کرنا چاہتا ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ نئی صوبائی یا انتظامی اکائیاں بننے سے عوام کو مالی اور انتظامی ریلیف ملے گا۔ ممکن ہے ایسا ہو۔ لیکن اس کے برعکس ہونے کا اندیشہ بھی موجود ہے۔ اگر نئے صوبوں کی اسمبلیوں میں بھی وہی سیاسی جماعتیں، وہی سیاسی خاندان، وہی سیاسی کلچر اور بڑی حد تک وہی لوگ آکر بیٹھ گئے جو آج موجودہ صوبائی نظام کا حصہ ہیں، تو پھر صرف نقشہ تبدیل ہونے سے حکمرانی کیسے تبدیل ہوگی؟ بیوروکریسی بڑی حد تک وہی ہوگی، سیاسی مداخلت کے طریقے وہی ہوسکتے ہیں، ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات بھی سیاسی اثرات سے محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں، اور کرپشن، اقرباپروری اور کمزور اداروں کا مسئلہ بھی اپنی جگہ موجود رہ سکتا ہے۔

    اگر آج ہم موجودہ نظام کی خرابیوں کا ذمہ دار انہی سیاسی قوتوں کو سمجھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ نئی صوبائی اسمبلی میں بیٹھ کر یہی سیاسی قوتیں اچانک مختلف کیسے ہوجائیں گی؟یہی اصل سوال ہے۔ نیا صوبہ پرانے سیاسی کلچر کا نیا پتہ تو نہیں بن جائے گا؟ اگر نئے صوبے کے حامی اس سوال کا جواب دے سکیں تو ان کا مقدمہ مضبوط ہوگا۔

    یہ سوال اس وقت شاید پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کی معیشت ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی جہاں ہم حکومتی اخراجات میں بڑی وسعت کو آسانی سے برداشت کرسکیں۔ چند سال پہلے ملک ڈیفالٹ کے خطرے سے بال بال بچا، آئی ایم ایف کے پروگرام اور مالیاتی نظم و ضبط کی شرائط آج بھی ہماری معاشی پالیسی پر اثرانداز ہیں اور وفاقی حکومت خود اخراجات، قرضوں اور محصولات کے درمیان سخت توازن قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں بھی مجموعی مالیاتی خسارہ محدود رکھنے کے لیے صوبائی سرپلس کو باقاعدہ مالیاتی ہدف کا حصہ بنایا گیا ہے؛ تقریباً 1.79 ٹریلین روپے کے صوبائی سرپلس کو مجموعی مالیاتی خسارے کے حساب میں شامل کیا گیا ہے۔

    یہاں ایک نہایت بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ جب وفاقی بجٹ کے مالیاتی اہداف پورے کرنے کے لیے صوبوں سے سرپلس کی توقع رکھی جارہی ہے، اور آنے والے برسوں میں بھی مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت برقرار رہنے والی ہے، تو نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے مطلوبہ اضافی مالی وسائل کہاں سے آئیں گے؟ اگر صوبوں سے یہ توقع ہے کہ وہ اپنے اخراجات قابو میں رکھیں، سرپلس پیدا کریں اور قومی مالیاتی اہداف میں اپنا حصہ ڈالیں، تو پھر ایک ہی وقت میں متعدد نئے صوبے بنانے کے مالیاتی تقاضے کیا ہوں گے؟ہر نیا صوبہ صرف وزیراعلیٰ کا نیا دفتر نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ اسمبلی، سیکریٹریٹ، کابینہ، محکمے، سرکاری رہائش گاہیں، گاڑیاں، پولیس کا انتظام، نئی عمارتیں اور مستقل اخراجات بھی ہوں گے۔یہ سب کون برداشت کرے گا؟ وفاق؟ صوبے؟ قرض؟ یا پھر وہی محدود ترقیاتی بجٹ جس سے آج اسپتال، اسکول، سڑکیں اور روزگار کے منصوبے بننے ہیں؟ یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ موجودہ صوبوں کو اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے بھی مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں اگر نئے صوبوں کے قیام سے ایک نئی مستقل انتظامی مشینری وجود میں آئے گی تو اس کی مالی پائیداری کا مکمل حساب پہلے سامنے آنا چاہیے۔

    نئے صوبے کا مطالبہ صرف سیاسی نقشہ نہیں، ایک مکمل مالیاتی منصوبہ بھی مانگتا ہے۔یہ منصوبہ قوم کے سامنے آئے کہ نیا صوبہ اپنے انتظامی اخراجات کیسے پورے کرے گا، اس کے محصولات کے ذرائع کیا ہوں گے، این ایف سی پر اس کا کیا اثر ہوگا، وفاق اور موجودہ صوبوں پر اضافی بوجھ کتنا پڑے گا اور عوام کو ملنے والا مالی و انتظامی ریلیف اس اضافی خرچ سے کس طرح زیادہ ہوگا۔اس حساب کے بغیر نئے صوبوں کی بحث جذباتی ضرور ہوسکتی ہے، قومی پالیسی نہیں۔

    ایک انگریزی اخبار نے اگست میں یہ خبر شائع کی کہ شائد ً12 یا 32 صوبے بننے جا رہے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ زیادہ صوبے کبھی بہتر حکمرانی نہیں دے سکتے۔ ممکن ہے بعض علاقوں کے لیے نئی انتظامی اکائی واقعی زیادہ موزوں ہو۔ لیکن یہ فرض کرلینا کہ صوبہ چھوٹا ہوگا تو حکمرانی لازماً اچھی ہوجائے گی، درست نہیں۔ خراب نظام کو بارہ یا بتیس حصوں میں تقسیم کرنے سے بارہ یا بتیس اچھے نظام پیدا نہیں ہوتے۔ اگر ادارے کمزور ہیں تو چھوٹا صوبہ بھی کمزور ہوگا۔ اگر سیاسی مداخلت موجود ہے تو نئی اسمبلی بھی اس سے محفوظ نہیں ہوگی۔ اگر وسائل کی تقسیم شفاف نہیں تو نیا صوبہ بھی محرومی کا شکار ہوسکتا ہے۔ اگر مقامی حکومت بے اختیار ہے تو نیا صوبہ بھی عام آدمی کو اپنے دروازے پر اختیار نہیں دے گا۔ اس لیے اصل سوال صوبوں کی تعداد نہیں، حکمرانی کا معیار ہے۔

    میری نظر میں اس وقت سب سے ضروری قدم یہ ہے کہ نئے صوبوں کا معاملہ ٹی وی پروگراموں اور عوامی اجتماعات سے نکال کر قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں بحث ہو۔ تمام جماعتیں اپنا مؤقف دیں۔ پنجاب اسمبلی اور دیگر صوبائی اسمبلیوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ آئینی ماہرین، معاشی ماہرین اور انتظامی ماہرین کو سنا جائے۔ یہ دیکھا جائے کہ نئے صوبوں کی ضرورت کہاں ہے، ان کی مالی استطاعت کیا ہوگی، این ایف سی پر کیا اثر پڑے گا، انتظامی اخراجات کتنے ہوں گے اور سب سے بڑھ کر عوام کو اس سے کیا حاصل ہوگا۔ اگر بحث کے بعد یہ ثابت ہوتا ہے کہ نئے صوبے واقعی بہتر حکمرانی کا راستہ ہیں تو پھر انہیں آئینی طریقے سے ضرور بنایا جائے۔ لیکن اگر معلوم ہو کہ اصل مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے تو پھر صوبے بنانے کے بجائے انتظامی اکائیوں اور بلدیاتی اداروں کو مضبوط کیا جائے۔

    میری ترجیح بہت سادہ ہے۔ پہلے مقامی حکومت کو مضبوط کیا جائے۔ اسے سیاسی اختیار دیا جائے۔اسے مالی وسائل دیے جائیں۔ اس کے انتخابات باقاعدگی سے ہوں۔ اس کی مدت محفوظ ہو۔ صوبائی حکومتیں اس کے فنڈز اپنے پاس رکھ کر اسے بے اختیار نہ کریں۔ ضلع کو اپنے مسائل حل کرنے کا اختیار ہو، شہر کو اپنی ترجیحات طے کرنے کا حق ہو اور عام شہری کو اپنے منتخب نمائندے سے جواب لینے کا موقع ملے۔ اسلام آباد سے اختیار صوبوں کو، صوبوں سے اضلاع کو اور اضلاع سے مقامی حکومتوں تک منتقل کیا جائے۔ اگر اس کے باوجود کسی علاقے کو محسوس ہو کہ اس کے مسائل موجودہ صوبائی ڈھانچے میں حل نہیں ہوسکتے تو پھر نئے صوبے کا مطالبہ پوری سنجیدگی سے زیرِ بحث آنا چاہیے۔لیکن فیصلہ سیاسی نعرے سے نہیں، قومی مفاد سے ہونا چاہیے۔

    آخرکار ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم پاکستان کو نئے صوبوں سے مضبوط کرنا چاہتے ہیں یا مضبوط اداروں سے۔ نئے نقشے شاید انتظامی فاصلے کم کرسکتے ہیں، لیکن صرف نقشے بدلنے سے سیاسی کلچر نہیں بدلتا، ادارے مضبوط نہیں ہوتے اور عوام خوشحال نہیں ہوجاتے۔ اس لیے نئے صوبوں کے مطالبے کو نہ تعصب کے نام پر دفن کرنا چاہیے اور نہ اسے ہر مرض کی دوا سمجھنا چاہیے۔ اس پر کھلی، آئینی، پارلیمانی اور مالیاتی بحث ہونی چاہیے۔ اور اگر ہم واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس شخص کو ریلیف دینا ہوگا جو ہر روز اپنے معمولی سے کام کے لیے کسی بڑے شہر، بڑے افسر یا بڑے سیاسی دروازے کا محتاج ہے۔ کیونکہ ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ اس کے کتنے صوبے ہیں۔ریاست کی کامیابی کا پیمانہ یہ ہے کہ اس کا عام شہری اپنے حق کے لیے کتنا کم محتاج ہے۔

    اور آخر میں شاید پوری بحث کا خلاصہ ایک ہی جملے میں کیا جاسکتا ہے کہ آج کا بڑا صوبہ کل چھوٹے صوبوں میں تقسیم تو ہوجائے گا، مگر آج کے مسائل بھی انہی چھوٹے صوبوں میں تقسیم ہوجائیں گے۔ اگر ہم نے ادارے نہ بدلے، حکمرانی کا طریقہ نہ بدلا اور اختیار واقعی عوام تک نہ پہنچایا تو کل ہمارے پاس شاید نئے صوبوں کے نئے نقشے ہوں گے، مگر عوام کے ہاتھ میں وہی پرانے سوال ہوں گے۔پاکستان کو نئے نقشوں سے زیادہ نئے نظامِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔

  • یونین کونسل سے محلے کی بدمعاشی تک،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    یونین کونسل سے محلے کی بدمعاشی تک،تحریر:سید ضیغم حسن عابدی

    بلدیاتی انتخابات کا شور دوبارہ سنائی دے رہا ہے۔ یونین کونسلیں بنیں گی، کونسلر منتخب ہوں گے، ناظم اور نائب ناظم آئیں گے اور ایک بار پھر یہ دعویٰ ہوگا کہ اب اختیار عوام کے قریب آگیا ہے۔ بظاہر یہ جمہوریت کی خوبصورت تصویر ہے، لیکن پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں سیاست ابھی تک برادری، دھڑے اور ذاتی اثر و رسوخ سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہوسکی، وہاں اختیار کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے ساتھ ایک اور خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے بننے والے یونین کونسل کے دفاتر محلے کی نئی طاقت، دھڑے بندی اور بدمعاشی کے مراکز بن جائیں۔

    ہمارے ہاں الیکشن اکثر نظریے سے زیادہ برادری کا الیکشن بن جاتا ہے۔ جٹ برادری کس کے ساتھ ہے، گجر برادری کس کے ساتھ ہے، راجپوت کس امیدوار کے پیچھے کھڑے ہیں، آرائیں کس کو ووٹ دے رہے ہیں، کون سا محلہ کس دھڑے میں ہے۔ یوں ایک معمولی سا مقامی الیکشن بھی عزت، انا اور طاقت کی جنگ بن جاتا ہے۔ امیدوار جیتنے کے بعد صرف منتخب نمائندہ نہیں رہتا، وہ اپنے ساتھ ایک پورا حلقہ، ایک گروہ اور ایک سماجی طاقت لے کر یونین کونسل کے دفتر میں داخل ہوتا ہے۔ اصل خطرہ اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔

    ناظم یا کونسلر کا دفتر عوام کے مسائل سننے کی جگہ ہونا چاہیے، لیکن اگر وہ دفتر محلے کے نوجوانوں اور کالج کے لڑکوں کی روزانہ کی بیٹھک بن جائے تو وہاں سیاست کے ساتھ ایک دوسرا کلچر بھی جنم لیتا ہے۔ کالج سے بنک کرکے لڑکے ناظم صاحب کے دفتر میں بیٹھے ہیں، محلے کے نوجوان وہاں آتے جاتے ہیں، گھنٹوں گپیں لگتی ہیں، سگریٹ کے دھوئیں میں محفلیں سجتی ہیں اور آہستہ آہستہ ایک ایسا حلقہ بن جاتا ہے جسے لگتا ہے کہ ناظم صاحب کے دفتر میں بیٹھنا خود ایک طاقت ہے۔ یہ نوجوان ناظم نہیں بن رہے، لیکن ناظم کے دفتر سے طاقت کا ذائقہ ضرور سیکھ رہے ہیں۔

    پھر کسی گلی میں دو لڑکوں کا جھگڑا ہو تو دفتر میں بیٹھے نوجوان فریق بن جاتے ہیں۔ کسی دکاندار سے تلخ کلامی ہو تو برادری درمیان میں آجاتی ہے۔ کسی مخالف گروپ نے آواز اٹھائی تو اسے دبانے کے لیے نوجوان اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ آج گالی اور دھمکی ہے، کل ہاتھا پائی، پرسوں اسلحہ اور پھر یہی معمولی سی مقامی سیاست پورے علاقے میں دشمنیوں کا سبب بن سکتی ہے۔

    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بدمعاشی ہمیشہ اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ایک ماحول بنتا ہے۔ پہلے طاقتور آدمی کے گرد نوجوان جمع ہوتے ہیں، پھر اس کے دفتر میں بیٹھنا فخر سمجھا جاتا ہے، پھر مخالف کو دھمکانا معمول بن جاتا ہے، پھر پولیس اور سرکاری اہلکاروں سے تعلق کو اپنی طاقت سمجھا جاتا ہے اور آخرکار پورا محلہ جانتا ہے کہ فلاں ناظم کے دفتر میں بیٹھنے والے لڑکوں سے الجھنا اچھا نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں بلدیاتی نظام کی خوبصورتی ایک خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔

    ہم نے تعلیمی اداروں میں بھی طاقت کے ایسے کلچر کے اثرات دیکھے ہیں۔ لاہور کے ایم اے او کالج اور دیال سنگھ کالج سمیت کئی اداروں کی تاریخ میں طلبہ گروہ بندی اور لڑائی جھگڑے کے ایسے واقعات رہے ہیں جنہوں نے یہ سوال پیدا کیا کہ نوجوانوں کی سیاسی تربیت اگر دلیل اور خدمت کے بجائے طاقت اور گروہ بندی سے ہو تو اس کے اثرات کالج کی چار دیواری سے باہر بھی جاتے ہیں۔ مسئلہ کسی ایک کالج یا کسی ایک نسل کا نہیں؛ مسئلہ اس ذہنیت کا ہے جو نوجوان کو یہ سکھاتی ہے کہ تعداد، گروہ اور تعلقات قانون سے بڑی طاقت ہیں۔

    اگر یہی ذہنیت یونین کونسل کے دفاتر تک پہنچ گئی تو نقصان کہیں زیادہ ہوگا، کیونکہ وہاں صرف چند طالب علم نہیں بلکہ عوامی وسائل، سرکاری اختیار اور مقامی سیاست موجود ہوگی۔ اور پھر سوال صرف بدمعاشی کا نہیں رہے گا، عوام کے پیسے کا بھی ہوگا۔ دفتر عوام کے لیے ہے یا دوستوں کی بیٹھک کے لیے؟ سرکاری گاڑی عوامی کام کے لیے ہے یا ذاتی محفلوں کے لیے؟ ترقیاتی رقم گلی بنانے کے لیے ہے یا سیاسی وفاداریاں خریدنے کے لیے؟ اگر عوام کا پیسہ ان نمائندوں کی محفلوں، عیاشیوں اور ذاتی اثر و رسوخ بڑھانے پر خرچ ہونے لگا تو بلدیاتی نظام عوام کو اختیار دینے کے بجائے چند لوگوں کو عوام پر اختیار دینے کا ذریعہ بن جائے گا۔

    اس لیے بلدیاتی انتخابات سے پہلے ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون جیت رہا ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جیتنے کے بعد اس کے دفتر میں کون بیٹھے گا۔کیونکہ ناظم ایک شخص ہوتا ہے، مگر اس کے دفتر کے گرد جمع ہونے والے بیس، پچاس یا سو نوجوان ایک پورا مقامی کلچر بنا سکتے ہیں۔

    ہمیں ایسے یونین کونسل دفاتر چاہییں جہاں صبح سے شام تک عوام اپنے مسائل لے کر آئیں، نہ کہ ایسے اڈے جہاں نوجوان کالج سے بنک کرکے بیٹھیں، سگریٹ کے دھوئیں میں محفلیں سجیں، برادری کے فیصلے ہوں، مخالفین کو دھمکانے کی منصوبہ بندی ہو اور سرکاری وسائل ذاتی شان و شوکت پر خرچ ہوں۔

    اختیار عوام تک ضرور پہنچنا چاہیے، مگر اختیار کے ساتھ قانون بھی پہنچنا چاہیے، احتساب بھی اور ذمہ داری بھی۔

    ورنہ خطرہ یہ ہے کہ ہم جمہوریت کو محلے تک پہنچانے کے نام پر محلے کی بدمعاشی کو سرکاری دفتر دے بیٹھیں گے۔

  • بابائے قوم کا داغ مفارقت اور ہمارا پاکستان،تحریر :  عقیل خان

    بابائے قوم کا داغ مفارقت اور ہمارا پاکستان،تحریر : عقیل خان

    11 ستمبر 1948ء ہماری قومی تاریخ کا وہ المناک اور سنگین موڑ ہے جب برصغیر کے مظلوم مسلمانوں کو آزادی کی منزل تک پہنچانے والا عظیم معمار، بانیِ پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح اپنے کروڑوں سوگواروں کو چھوڑ کر دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔ قائدِ اعظم صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے، بلکہ وہ بصیرت، اعلیٰ اخلاقی قدروں، اور فولادی عزم و ہمت کے مجسمہ تھے۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں قوم کی قیادت سنبھالی جب انگریز سامراج کی چالاکیاں اور ہندو اکثریت کی متعصبانہ پالیسیاں مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے پر تلی ہوئی تھیں۔ اس شدید نا مساعد ماحول میں قائدِ اعظم نے بغیر کسی ہتھیار، گولی یا تشدد کے، صرف اور صرف قانون، ٹھوس دلائل اور آئینی جدوجہد کے زور پر دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک نقشے پر ابھار کر دکھایا۔
    قائدِ اعظم کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ انہوں نے بکھری ہوئی، مایوس اور نظریاتی انتشار کا شکار قوم کو "ایمان، اتحاد اور تنظیم” کے ایک بنیادی نقطے پر متحد کر دیا۔ وہ ایک ایسے راست باز لیڈر تھے جن کی ایمانداری اور اصول پسندی کا لوہا ان کے بدترین مخالفین بھی مانتے تھے۔ ان کا جینا، مرنا، اوڑھنا اور بچھونا صرف اور صرف پاکستان تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعد اپنی گرتی ہوئی صحت اور موذی مرض (تپِ دق) کو چھپا کر جس طرح انہوں نے دن رات محنت کی، وہ ان کی بے مثال حب الوطنی اور ایثار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ جانتے تھے کہ نئی مملکت کو بے شمار انتظامی اور معاشی مسائل کا سامنا ہے، اسی لیے انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آخری سانس تک ریاست کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں صرف کر دی۔
    11 ستمبر کا دن جہاں بابائے قوم کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے، وہیں یہ دن بحیثیت قوم ہمارے لیے ایک گہرے اور شدید احتساب کا تقاضا بھی کرتا ہے۔ قائدِ اعظم نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا، وہ ایک ایسا ملک تھا جہاں آئین اور قانون کی بالا دستی ہو، عدل و انصاف کا نظام بلا تفریق قائم ہو، ہر شہری کو یکساں حقوق میسر ہوں، اقلیتیں خود کو محفوظ محسوس کریں، اور کرپشن و سفارش جیسے ناسووروں کا نام و نشان نہ ہو۔
    مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ آزادی کے سات دہائیوں بعد بھی ہم قائد کے بتائے ہوئے اصولوں سے کوسوں دور ہیں۔ ہم نے ان کے زریں افکار کو پسِ پشت ڈال کر ملک کو لسانیت، فرقہ واریت، اور ذاتی و سیاسی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ آج اگر ہماری معیشت دباؤ کا شکار ہے، ہمارے ادارے تنزلی کی طرف جا رہے ہیں، اور معاشرے میں عدم برداشت بڑھ رہی ہے، تو اس کی بنیادی وجہ قائد کی تعلیمات اور ان کی امانت سے انحراف ہے۔
    قائد کا پاکستان بمقابلہ آج کا پاکستان
    قائد اعظم ایک ایسے پاکستان کی تشکیل چاہتے تھے جہاں قانون کی حکمرانی ہو: جہاں غریب اور امیر کے لیے ایک ہی ترازو ہو۔رواداری اور اقلیتوں کا تحفظ ہو: جیسا کہ انہوں نے 11 اگست 1947 کی تاریخی تقریر میں فرمایا تھا کہ ریاست کے سامنے تمام شہری برابر ہیں۔میرٹ اور دیانت داری کا دور دورہ ہو: جہاں کسی قسم کی رشوت، سفارش يا اقربا پروری کی گنجائش نہ ہو۔لیکن آج اگر ہم اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں تو سوال اٹھتا ہے کہ ہم نے اپنے بابائے قوم کے اس خواب کا کیا حشر کیا؟ ہم سیاسی و لسانی بنیادوں پر تقسیم ہو چکے ہیں، اداروں کا نظم و ضبط ناپید ہے اور بدعنوانی معاشرے کے رگ و پے میں سرائیت کر چکی ہے۔
    ایک افسوس کا مقام یہ بھی ہے کہ نئی نسل کو قائداعظم کی وفات کے دن کا بھی علم ہی نہیں۔ ان کو پیدائش کا دن تو یاد ہوتا ہے مگر وفات کے دن کسی کو نہیں پتا اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ یوم پیدائش پرسکولوں کی چھٹی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں یہ دن رہتا ہے مگر وفات کے دن کا نہ تو اساتذہ اکرام کلاس میں یا اسمبلی میں ذکر کرتے ہیں اور نہ بچوں کے ذہن میں یہ دن رہتا ہے۔
    قائدِ اعظم محمد علی جناح ہم سے جسمانی طور پر ضرور جدا ہو چکے ہیں، مگر ان کا فکر، ان کے بنیادی اصول اور ان کا دیا ہوا آزاد پاکستان آج بھی ہمارے پاس ایک عظیم امانت ہیں۔ 11 ستمبر کو محض رسمی تقاریب یا جذباتی بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے، ہمیں یہ پختہ عزم کرنا ہوگا کہ ہم قائد کے نظریات کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔ پاکستان کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے، آئین کی حکمرانی قائم کرنے
    اور اس ملک کو ایک واقعی باوقار اور خوددار اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ہمیں دوبارہ "ایمان، اتحاد اور تنظیم” کی طرف لوٹنا ہوگا—یہی ہمارے قائد کے لیے سب سے سچا اور حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔