Baaghi TV

Category: سیاست

  • پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    پاکستان اور اقوام عالم .تحریر:کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    آجکل دو اصطلاحات بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہیں۔
    1۔ پہلی Full spectrum deterrence
    2۔ دوسری Minimum level deterrence

    یہلے ہم Deterrence کو سمجھ لیں تو یہ دونوں اصطلاحات سمجھ آ جائیں گی۔ کسی کو خوف میں ڈال کر اس کو اس کے مقاصد سے باز رکھنے کے عمل کو Deterrence کہا جاتا ہے۔ عام طور پر یہ ایسے ہے کہ آپ اپنے ہتھیاروں کے بل پر خوف پیدا کرکے دشمن کو کسی جارحیت سے روکنے کو Deterrence کہیں گے۔
    ١٩٩٨ء سے پاکستان ایٹمی قوت کے طور دنیا کے نقشہ پر ابھرا۔ اگر آپ ٢٨ مئی ١٩٩٨ء سے فورا” پہلے کے زمانے میں بھارتی مشیروں، وزیروں اور میڈیا کی ہرزہ سرائیاں ملاحظہ فرمائیں تو قارئین بآسانی سمجھ سکتے ہیں کہ علاقہ میں اپنی برتری کے زعم میں مبتلاء ہو چکا تھا۔ صرف یہی نہیں بلکہ کھلم کھلا جارحیت کے پیغامات دے رہا تھا۔دوسری جانب کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں بھارتی کاروائیاں عروج پر پہنچ گئیں۔ دنیا ابھی ورطہُ حیرت میں تھی کہ تمام عالمی قوتوں نے پاکستان پر دباؤ پڑھا دیا کہ ایٹمی دھماکے سے باز رہے۔
    ان حالات میں امریکہ تو بہت سی مراعات اور تب کے وزیراعظم (جن کیلئے ایک امریکی جریدہ میں خبر چھپی تھی کہ یہ سب کچھ بیچ سکتا ہے دولت کی خاطر) سے فون پر رابطے اور سفراء کے ذریعہ مختلف حیلہ و بہانوں سے دباؤ بڑھایا گیا۔
    اس وقت ایک پروگرام میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بیان کے مطابق، تمام سیاسی، دانشوروں اور فوجی قیادت اس پر متفق تھی کہ فورا” دھماکے کرکے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور انہی دھماکوں سے بھارتی جارحیت کو رد کیا جا سکتا ہے۔ اس پر بہت بار مشاورت بھی کی گئی لیکن وزیراعظم مُصر رہے کہ انتظار کیا جائے۔ یہ گرچہ الگ پورا باب ہے لیکن یہاں اختصار سے تذکرہ کر دیا تاکہ ذہنوں میں یادیں تازہ ہو جائیں۔ خیر کہ پاکستان نے بھی دھماکے ٢٨ مئی ١٩٩٨ء کو کرکے ایٹمی قوت کے طور پر اپنا لوہا منوایا۔ یہ ایٹمی ہتھیار پاکستان کی سالمیت کی ضمانت قرار پائے۔ ان دھماکوں کے ساتھ ہی اچانک تمام رویے جو بھارتی قیادت کی طرف سے دھمکیوں اور میڈیا کے نفرت انگیز رویوں سے سامنے آ رہے تھے، پیشاب کی جھاگ ثابت ہوئے۔ ہر طرف بشمول سوشل میڈیا، سب کو سانپ سونگھ گیا۔ پاکستان نے اپنی اس طاقت کو ظاہر کیا تھا جو ایک عرصہ سے تیار تو کر چکا تھا لیکن اپنے ہتھیاروں کو مناسب موقع کیلئے ذخیرہ کر رکھا تھا۔
    ان ہتھیاروں اور قوت کا مظاہرہ کر کے پاکستان دنیا میں تو الگ مقام حاصل کر چکا ہی تھا لیکن اسلامی دنیا کیلئے پہلا مسلم ملک تھا جو اب تک واحد ہے ایٹمی قوت کے ساتھ، لہذا مسلم امہ کیلئے خاص طور پر قائدانہ مقام حاصل کر لیا۔

    پالیسی:
    یہاں پاکستان نے واضح کیا کہ پاکستان کی پرامن پالیسی جاری رہے گی اور پاکستان ایک ذمہ دار قوم ہے جو اپنے اثاثوں کی ناصرف حفاظت کر سکتا ہے بلکہ اس قوت کو غیر ذمہ دارانہ طور پر استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس پالیسی کو عام زبان میں Minimum level Deterrence کہا جاتا ہے۔ اس پالیسی کا اعلان کرکے پاکستان نے بہت محتاط اور بینظیر کمانڈ سٹرکچر بنایا اور اپنے اہم اثاثوں کی محافظت اور اس کے استعمال کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے۔ کچھ ہی عرصہ میں دنیا کو مطمئن کر دیا کہ پاکستان انتہائی ذمہ دار ملک ہے اور اس ملک کی قیادت کسی طور پر اپنی سالمیت پر سودا بازی کو قبول نہ کریگی۔
    بعد ازاں پاکستان بھارتی جارحیت کا منہ توڑنے کے بعد اپنی معیشت کی طرف متوجہ ہوا۔ ہر پاکستانی نے اس ضمن میں محنت کی اور پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط کرنے لگا۔ لیکن حکمرانوں نے قرضہ کی لعنت بھری دلدل میں پاکستان کو ڈبو کر تمام معیشت کو عالمی معاشی اداروں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ عام عوام کو قرضوں سے خریدی ہوئی سستی روٹی دیکر خوش رکھا جبکہ دوسری طرف اپنے بینک بیلنس اور جائدادیں دنیا کے مختلف علاقوں میں پھیلاتے رہے۔ وہ تمام یورپی ممالک جو کالے دھن کو لعنت کہتے نہ تھکتے تھے، جانتے بوجھتے اپنی آنکھیں بند رکھے ہوئے تھے تاکہ پاکستان کو معاشی طور پر تباہ کیا جا سکے۔
    ١٩٩٨ء کے بعد اچانک آہستہ آہستہ پاک فوج کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی لیکن وہ اقتدار کی بساط لپیٹتے ہی ختم ہو گئی۔ مشرف دور میں ایسی تمام مہمات کسی مقام پر نظر نہ آتی تھیں۔

    مشرف دور کی واحد غلطی ق لیگ کیساتھ ملکر آمر سے سیاستدان بننے کی خواہش نے جنرل مشرف کو دوراہے پر لاکھڑا کیا اور این آر او کا فیصلہ ان کے اقتدار کے تابوت میں واحد کیل ثابت ہوا۔
    پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی حکومتوں نے مشرف دور کے اکٹھے ہوئے خزانوں کو جن کی مالیت تقریبا” ٦٥ ارب ڈالر سے زائد ذخیرہ کہا جاتا ہے، اپنے مفادات میں استعمال کیا۔ ١٠ سال کی قلیل مدت میں پاکستان کو عملا” معاشی طور پر ایک بار پھر عالمی اداروں کے مرہون منت بنا دیا گیا۔
    امریکی جارحیت افغانستان کے خلاف جاری رہی اور ساتھ ہی امریکہ پاکستان کو بلیک میل کرتا رہا، جبکہ امریکہ نے بھارت سے ہر سطح پر تعلقات کو استوار کیا اور معاشی و دفاعی معاہدے کئے لیکن ایسے نازک وقت میں اپنے پرانے دوست پاکستان کو یکسر نظرانداز ہی نہ کیا بلکہ بعض مقامات پر بھارت کی حمایت کرکے پاکستان کو زدوکوب کرنے کی بہیمانہ کوششیں ہوئیں۔
    پھر زمین و آسمان نے دیکھا کہ بھارت نے اپنے تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر پاکستان کو اندرونی و بیرونی خلفشار میں مبتلا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ لیکن پاکستان کے اداروں نے اپنی بہترین کاوشوں کے ذریعہ ایسی ہر کوشش کو بالآخر ناکام بنا دیا۔ اس تمام جنگی صورتحال میں پاکستان کو بہت خون کی قربانی پیش کرنا پڑی۔ لیکن آخر میں آزادی کا چراغ مزید تیز لو کیساتھ جلتا دکھائی دے رہا ہے۔
    اس وقت تک پاکستان نے پرامن ملک اور تمام عالمی قوتوں کیساتھ دوستانہ رویہ رکھا۔ محتاط پالیسی کو جاری رکھا گیا اور بعض اوقات ثبوت ملنے کے باوجود بھارت پر الزام تراشی سے اجتناب برتا تاکہ دونوں پڑوسی ممالک کے تعلقات کو معمول پر رکھنے کی بھرپور کوشش جاری رہے۔ لیکن بنیا کب انسانیت دکھا سکتا ہے؟ ایسی ہر کوشش کو پاکستان کی کمزوری سمجھ کر بنیے نے اپنی پاکستان مخالف کارروائیوں میں تیزی دکھاتا رہا۔
    یہ صورتحال پاکستان کیلئے ناقابل قبول تو رہی لیکن پاکستان نے کبھی اپنی پالیسی کو نہ بدلا۔ ٢٠٠١ء سے جنرل مشرف نے پہلی بار جارحانہ دفاع کی پالیسی کا اعلان کیا۔اس اعلان کیساتھ ہی پاکستان میں حالات پر سکون ہونا شروع ہو گئے، جبکہ بھارت کی طرف کشمیر میں اور مشرقی پنجاب میں منظم تحریکوں نے زور پکڑ لیا۔ جلد ہی بھارت نے بھی پاکستان میں دہشت گردی کی لہر پیدا کرنا شروع کی جس کیلئے ہمارے اندر موجود بےوقوف پاکستانی جنت کے شوقین پاکستانی طالبان کی صورت میں مارکیٹوں، اہم سرکاری عمارتوں اور مختلف سکولوں میں پھٹتے نظر آئے۔ لیکن امریکہ کی طرف سے پاکستان سے Do More کے مطالبہ نے پاکستان کو عجیب پریشانی سے دوچار کیا۔ امریکہ خود پاکستان میں آپریشن کا خواہاں تھا، لیکن مشرف حکومت سے کمال سمجھداری سے امریکی خواب چکنا چور کر دیا اور اپنا علاقہ ایسے تمام بیرون ملک سے آئے اور پاکستانی دہشتگردی میں ملوث افراد کا صفایا کرنا شروع کر دیا۔ پاک فوج کا کردار اس پورے آپریشن میں قابل ستائش اور قربانیوں کی لازوال داستان بن گیا۔

    جلد ہی سول حکومت پیپلزپارٹی کی قیادت میں سامنے آئی اور جنرل مشرف کو وہ NRO جو دیا تھا، ایک پچھتاوا بن کر رہ گیا۔ اب زرداری سٹریٹجی کی بات ہونے لگی۔ زرداری صاحب نے ایک طرف جنرل مشرف کو وردی اتار کر گھر کی راہ دکھائی تو دوسری طرف نواز لیگ کو کمال ہوشیاری سے اپنے ساتھ ملا کر "باریوں” پر راضی کر لیا۔ عام عوام کے سامنے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے سیاستدانوں نے اندرون خانہ اپنے الو سیدھے کرنا شروع کر دئیے۔
    جلد ہی زرداری صاحب کی حکومت کے خاتمہ کے بعد نواز لیگ نے معاہدہ کے تحت حکومت بنائی اور دفاعی پالیسیاں سب کی سب جارحانہ کی بجائے کلی طور پر مدافعانہ بن کر رہ گئیں۔ یہی دور تھا جب بھارت نے ایک جانب کشمیر میں ہاتھ سے نکلتے حالات کو قابو کیا تو دوسری جانب مشرقی پنجاب کی بھی تمام مزاحمتی تنظیموں کی کمر کو توڑ ڈالا۔ اسی زمانے میں فوج کے خلاف عوام میں ابتری پھیلائی گئی اور بدنام کیا جانے لگا۔
    حالیہ افغانستان میں تبدیلیوں اور عالمی قوتوں کے ردعمل کو دیکھتے ہوئے، پاکستان نے بھی اپنی پالیسی کو عالمی قوتوں کی پالیسی، خاص طور پر بھارتی میڈیا اور بھارتی پالیسی کو مدنظر رکھ کر تبدیل کی۔ ہمیشہ امن کی بات کرنے والے ملک کو بزدل یا مجبور سمجھ کر پاکستان میں بدامنی اور عوام میں بےچینی کا سبب بننے والے بھارت اور چند اور پاکستان مخالف ممالک کی سرگرمیاں اس بات پر پاکستان کو مجبور کرتی ہیں کہ اپنی پالیسی کو یکسر بدلا جائے، لیکن پہلی بار پاکستان کے وزیراعظم نے "Absolutely Not” کا نعرہ لگایا جسے بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔
    یہ نعرہ ہی نہیں ہے بلکہ اقوام مغرب اس کو چیلنج کے طور پر ملاحظہ کر رہی ہیں۔وہ قوم جو ایک عرصہ تک ان کیلئے "شرفو” کی حیثیت رکھتی تھی، آج انکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر چیلنج کر رہی ہے جو انکے لئے ناقابل قبول ہے۔ لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ "گھاس” کھا کر زندہ رہنا سیکھ لیا جائے، لیکن قومی وقار اور قومی سلامتی کیلئے سب ایک ہوکر کھڑے ہو جائیں۔ شعب ابی طالب (ع) میں تین سال یا اس سے کچھ زیادہ عرصہ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی درختوں کے پتے، جڑیں اور کم پانی پر گزارا کیا تھا؟ کیوں؟ تاکہ امت مسلمہ کے افراد وقت پڑنے پر اپنے ایمان کو بیچنے پر مشکلات کو، مصیبتوں کو قبول کریں لیکن اپنے ایمان کو مت بیچیں۔
    اس نعرہ کا مطلب ہی اب یہ ہے کہ جیسا تعلق تم رکھو گے ویسا جواب یہاں سے ملے گا۔اب یہی پالیسی رہے گی۔ ارجنٹائن کو JF17 Thunder کو بیچنا پاکستان کی معیشیت کیلئے اہم ہے تو بھلا چند میچ پاکستان کی ترجیح نہیں ہو سکتے۔ آپ کو پاکستان نے کبھی مجبور نہ کیا کہ بھارت کو تو سرخ لسٹ سے نکال دیا تھا ایک عرصہ پہلے جبکہ وہاں کرونا کی تباہ کاریاں ثبوت کیساتھ ظاہر ہیں جبکہ پاکستان کو فقط بھارت کو راضی رکھنے کیلئے سرخ لسٹ میں رکھا گیا۔
    دوسری جانب FATF بھی قابل غور ہے۔ کشمیر میں بھارتی کردار، پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کی کارروائیاں، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی سرحدوں پر کاروائیاں، ۔۔۔۔۔ کیا تمام دنیا اندھی ہے یا دیکھنا نہیں چاہتی؟

    فیصلہ آپ کیجئے۔

    پاکستان زندہ باد

    کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی،لاہور

  • خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    خطے میں قیام امن کے لئے پاکستان کا مثالی کردار .تحریر: ثاقب معسود

    امریکا میں 20 سال قبل پیش آنے والے نائن الیون واقعات کے بعد افغان جنگ میں پاکستان امریکی اتحادی بنا۔ اگرچہ پاکستان نے صرف لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے اور امریکا کے اتحادی افواج کے ساتھ انٹیلی جنس شیئر کرنے پر اتفاق کیا ، لیکن پاکستان نے اس سے کہیں زیادہ حصہ ڈالا۔ پاکستان نے خطے میں دہشت گردی کو شکست دینے کے وسیع تر عالمی مفاد میں اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔افغان جنگ میں شمولیت کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی، پاکستان میں دہشت گردی کانہ ختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوگیا، دہشت گردوں نے حکومتی رٹ کوچیلنج کردیا،ہرطرف بم دھماکے اورافراتفری کاماحول بنادیا گیا،جس پر قابو پانے کے لئے پاک فوج نے بڑے پیمانے پر فوجی اپریشن کرنے کے ساتھ اپنے معاشرے کو ڈی ریڈیکلائزیشن کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مدرسہ اصلاحات ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں(فاٹا)کا انضمام ، کم ترقی یافتہ علاقوں کو قومی دھارے میں لانا ، تعلیمی اصلاحات ، غربت کے خاتمے کے پروگرام اور نیشنل ایکشن پلان جیسے آئینی اقدامات پاکستان میں دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی چند مثالیں ہیں۔ یہ واضح ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شراکت بے مثال ہے اور عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو اس کو تسلیم کرنا چاہیے اور خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے کردار کو سراہنا چاہئے لیکن اس کے برعکس پاکستان شکوک وشبہات اورڈبل گیم کے الزامات لگائے گئے۔

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپنے پہلے فوجی آپریشن میں شمالی وزیرستان میں درہ اکاخیل کے ایک وزیر ذیلی قبیلے کے خلاف کارروائی کی جو جولائی 2003 میں امریکی فوجی کیمپ پر القاعدہ کے زیر قیادت حملے میں ملوث تھا۔ اکتوبر2003ء میں ٹی ٹی پی، القاعدہ عناصراوروزیرستان کے زلی خیل اور کری خیل قبیلوں نے ریاستی اداروں کیسامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیاجن کے خلاف پاک فوج نے اپریشن کرکے ان عناصرکا خاتمہ کیا۔ وانا آپریشن مارچ 2004 میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں چیچنیا اور ازبکستان سے تعلق رکھنے والے 63 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے تھے اس آپریشن کے دوران القاعدہ کے ہاتھوں پاک فوج کے 26 فوجی جوانوں نے مٹی کاقرض اداکرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کیں۔ اپریل 2004محسود قبیلوں کے خلاف شکائی میں آپریشن کیاگیا ۔ ستمبر 2005 اور 23 جنوری 2008 کو شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان میں بھی دہشت گرد عناصر کے خلاف آپریشن شروع ہوا۔

    آپریشن شیردل کا مقصد باجوڑ ایجنسی کوٹی ٹی پی کیدہشت گردوں کے کنٹرول سے بازیاب کرانا تھا اور یہ اپریشن اگست 2008 ء سے 2 فروری 2010 ء تک جاری رہا۔ جس کے نتیجے میں تحریک نفاذ شریعت محمدی(ٹی این ایس ایم)کے سربراہ صوفی محمد اور ٹی ٹی پی سوات کے ترجمان مسلم خان پکڑے گئے۔ یکم ستمبر 2009 ء آپریشن بیا در شروع ہواجس نے نیٹو سپلائی ٹرکوں پر دہشت گرد حملوں کو کم کیا۔ آپریشن راہ نجات 16 ستمبر 2009 کو ڈیرہ اسماعیل خان ، فرنٹیئر ریجن ٹانک اور ژوب سے 90 فیصد دہشت گرد عناصر کا صفایا کر دیاگیا۔ 2011 میں 144 آپریشن کیے گئے جس کے نتیجے میں1016 دہشت گردجہنم کاایندھن بنے۔ 2012 میں پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں امن قائم کیا۔ 2013 میں کراچی اور بلوچستان کو پاکستان رینجرز کی کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گردوں سے نجات ملی۔ آپریشن ضرب عضب شمالی وزیرستان پر مرکوز تھا ، 28 دسمبر 2014 تک اس علاقے میں 2100 دہشت گرد مارے گئے۔ فاٹا کی خیبر ایجنسی میں خیبر 1 آپریشن ٹی ٹی پی اور اس کے ساتھی لشکر اسلام کے خلاف تھا۔ خیبر ٹو آپریشن مارچ 2015 میں وادی تیراہ کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے ارادے سے شروع کیا گیا تھا جو ٹی ٹی پی ، لشکر اسلام اور جماعت الاحرار کے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل ہوچکا تھا۔ 2015 میں نیشنل ایکشن پلان(این اے پی)کے تحت کراچی میں امن واپس لایاگیا۔ 2016 میں بلوچستان توجہ کا مرکز تھا، پاک فوج کے جوانوں اوردیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کالعدم تحریک طالبان سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کی۔ فروری 2017 میں ، آپریشن ردالفسادنے لاہور ، سیہون شریف ، خیبر پختونخواہ اور سابقہ فاٹا سے باقی دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کیا۔ خیبر IV ، وسط جولائی 2017 نے خیبر ایجنسی کی وادی راجگال اور وادی شوال کودہشت گردوں سے صاف کرنے میں مدد کی۔ آپریشن ردالفسادسے ملک میں دہشت گردوں کاخاتمہ ہوا اورپاکستان میں امن کی فضاقائم ہوئی ۔ ابھی تک ملک دشمن عناصر کیخلاف ٹارگیٹیڈاپریشن کاسلسلہ جاری ہے،جہاں ہماری پاک فوج کے جری شیرجوان چھپے دشمنوں کوایک ایک کرکے واصل جہنم کرنے میں مصروف ہیں اوراپنی جانوں کے نذرانے بھی پاک وطن پرنچھاورکررہے ہیں۔اب وقت آگیا ہے کہ دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے اور نہ پاکستان بلکہ خطے کودہشت گردی کے ناسورسے پاک کردیاہے۔

    @isaqibmasood

  • نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ

    نواز شریف کو دیکھ کر عمران خان سبق حاصل کرے، تحریر: نوید شیخ
    سب سے پہلے تو پاپی پاپا کے گرد شکنجہ تنگ ہو گیا ہے ۔ ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف سے آٹھ ملین پاؤنڈ کی برآمدگی کے لیے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کیس میں نواز شریف کو دس سال قید اور آٹھ ملین پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی۔۔ شریک ملزمان میں ملکہ جذبات مریم صفدر کو ساتھ سال قید، دو ملین پاؤنڈ جرمانہ اور کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ نواز شریف پر عائد جرمانے کی رقم کی موجودہ قدر ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کے برابر ہے۔ اب اس سلسلے میں نواز شریف کی جائیدادیں فی الفور فروخت کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو مراسلے بھی جاری ہوچکے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنرز کو نواز شریف کی قابل فروخت جائیدادوں کی تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے نام موجود جائیدادوں میں موضع مانک میں 940کنال زرعی اراضی، موضع بدھوکی ثاہنی 299 کنال، موضع مل 103 کنال اور موضع سلطان میں 312 کنال اراضی شامل ہیں۔ ۔ موضع منڈیالی شیخوپورہ میں 14 کنال زرعی اراضی اور اپر مال لاہور میں قیمتی رہائشی بنگلہ نمبر 135 بھی برائے فروخت پراپرٹی میں شامل ہے۔ نیب لاہور کا کہنا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سابق وزیراعظم سے جرمانہ کی وصولی پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ فروخت شدہ جائیدادوں سے حاصل ہونے والی رقم ملکی تعمیر و ترقی میں استعمال ہو گی۔ جبکہ جرمانہ کی مکمل رقم ریکور نہ ہونے کی صورت میں ملزم کے مزید اثاثہ جات تلاش کیے جائیں گے۔ یوں پاپی نواز شریف اپنے انجام کی جانب گامزن ہیں ۔ آپکو یاد ہو گا کچھ ہفتے پہلے میں ایک وی لاگ میں بتایا تھا کہ نوازشریف اب دوبارہ واپس نہیں آئیں گے چاہے جو بھی جو کچھ مرضی کہیں ۔ پھر کہہ رہا ہوں ۔ یہ ویڈیو کلپ سنبھال کر رکھ لیں ۔ اب نوازشریف کا واپس آنا ممکن ہی نہیں رہا ۔ ۔ ویسے ان کے ساتھ جو ہو رہا ہے یہ تو قدرت کا انصاف ہے مکافات عمل ۔ پر موجودہ حکومت کے تیور اور حرکتیں بھی کچھ ٹھیک نہیں ہیں ۔

    الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تنازعہ اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ اب اس پر اتفاق رائے پیدا ہوتا دور دور تک نظر نہیں آتا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت اس پر کوئی اعتراض سننے کو بھی تیار نہیں۔ بلکہ حکومت نے دوٹوک اعلان کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اپوزیشن کے ساتھ آخری دفعہ مذاکرات ہوں گے۔ یعنی حکومت ڈنڈے کے زور پر الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے زریعے ہی الیکشن کروائے گی ۔ اپوزیشن اور الیکشن کمیشن جائے بھاڑ میں ۔ میں تواس پر یہ ہی کہوں گا کہ زبردستی کے فیصلے آمریتوں میں تو ہوسکتے ہیں جمہوریت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ باقی آپ خود فیصلہ کر لیں کہ اس وقت ملک میں آمریت ہے یا پھر جمہوریت ، قوم یہ تماشا کئی دنوں سے دیکھ رہی ہے۔ حکومتی وزراء کا لہجہ دھمکی آمیز ہے۔ دھمکی آمیز لہجہ اس وقت ہوتا ہے جب دلیل کے ساتھ بات منوانے کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔ چیف الیکشن کمشنز کے پیچھے بھی وزراء ایسے پڑے ہوئے ہیں جیسے انھوں نے حکومت کی کوئی مج چرا لی ہے ۔ اداروں سے اس طرح کا کھلواڑ تحریک انصاف کے وزراء کی پرانی مشق رہی ہے اور بدقسمتی سے اب اس کا نشانہ الیکشن کمیشن بن گیا ہے۔اعظم سواتی ، بابر اعوان اور فواد چوہدری الیکشن کمیشن کو یوں دھمکیاں دے رہے ہیں جیسے کوئی بدمزاج تھانیدار اپنے ماتحتوں کو ڈراتا اور دھمکاتا ہے۔ پھر پیٹرول کے بعد بجلی اب قہر بن کر عوام ٹوٹنے والی ہے ۔central power purschasing agency کی جانب سے نیپرا کو بجلی کی قیمت میں مزید اضافے کی درخواست دے دی گئی ہے ۔ درخواست کی منظوری کی صورت میں بجلی صارفین پر25ارب روپے کا بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔ CPPA کا موقف ہے کہ ڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین پیداوار بجلی مہنگی ہونے کی وجہ ہے۔ یوں اب بجلی کی قیمت میں دو روپے سات پیسے فی یونٹ اضافے کا امکان ہے۔

    پھر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جسے وزیر اعظم کی جانب سے فوراً منظور کرلیا گیا۔ اس کہانی کی اصل اسٹوری یہ ہے کہ تابش گوہر پر مقامی ریفائنریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام ہے جبکہ سی سی او اجلاس میں تابش گوہر نے ریفائنریز کے لئے پیشگی مراعات کی تجاویز بھی دی تھیں ۔ پر آپ دیکھیں ایسے اور بہت سے بہروپیے اس حکومت میں مختلف اداروں میں بڑے عہدوں پر براجمان رہے ہیں جو کہ حقیقت میں مافیا کے ایجنٹ تھے ۔ پر جب یہ پکڑے گئے تو حکومت نے صرف ان کو گھر ہی بھیجا کبھی مکمل انکوئری یا سلاخوں کے پیچھے نہیں بھیجا ۔ اگر حکومت نیب اور ایف آئی اے کو اپوزیشن کے ساتھ ان مافیاز کے ایجنٹوں کے پیچھے لگادیتی تو آج جو اپوزیشن کی آواز اونچی سے اونچی ہوتی جارہی ہے ۔ کبھی نہ ہوپاتی ۔ تابش گوہر جیسے لوگ وہ ایجنٹ ہیں جنہوں نے اداروں اور عام عوام کو اتنے ٹیکے لگوائے ہیں کہ عوام کا تبدیلی پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہے ۔ کیونکہ ہر بار جب شور زیادہ مچتا ہے یا یہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ یہ ایجنٹ استعفی دیتے ہیں موج کرتے ہیں ۔ فائلیں ویسے ہی بند ہوجاتی ہیں ۔ پی ٹی آئی کی نام نہاد حکومت تین سال سے یہ ہی گل کھلا رہی ہے ۔ آپ خود دیکھ لیں کہ ملک میں کون کرپٹ ہے اور کون نہیں ۔ ہر طرف اور ہر سیکٹر میں عوام کی جیبوں پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں ۔ ملک میں کوئی ایسا وزیر نہیں جو کرپٹ نہ ہو ۔ پیسے اور دھونس کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا ہے ۔ جس مرضی سرکاری ادارے میں چلے جائیں پیسے کی چمک کے بغیر آپکو کوئی گھاس تک نہیں ڈالے گا ۔

    حکومت کی نااہلی کی وجہ سے نظام بیٹھ چکا ہے معیشت کے حوالے سے تمام دعوے ختم ہو گئے ہیں ۔ اس وقت شاید ہی معاشرے کا کوئی ایسا طبقہ ہو جو کپتان کی حکومت کے لگائے ہوئے زخموں سے چور نہ ہو۔ تحریک انصاف کے وزیر مشیر ہر چیز کے بارے میں فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کام پاکستان میں پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسا ہی ہے۔ کیونکہ پہلی بار عوام کی بھی بس ہوگئی ہے۔ اس بار کابینہ اجلاس میں دو تین لوگوں نے ہمت کرکے کپتان کے منہ پر ہی کہہ دیا ہے۔ کہ اس بار جو آٹے کی قیمتیں بڑھی ہیں اس کا قصووار آپکا چہیتا عثمان بزدار ہے ۔ نہ کہ سندھ حکومت ۔ پرعثمان بزدار کپتان کی آنکھوں کا تارا ہیں ۔ اسی حوالے سے ایک خبر ہے کہ چوروں اور ڈاکوؤں نے بھی غریبوں کو زیادہ ہٹ کرنا شروع کر دیا۔ جیسے امیروں کو این آر او دے دیا گیا ہو ۔ خبر یہ ہے کہ اس سال کاریں بہت کم اور غریب کی سواری موٹر سائیکلیں بہت زیادہ چوری ہوئیں۔ صرف لاہور میں آٹھ ہزار چھیانوے موٹر سائیکل آٹھ مہینوں میں چوری ہو چکے ہیں۔ یعنی چور ڈاکو بھی ’’تبدیلی‘‘ سے ہم آہنگ ہو گئے۔ تبدیلی کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں۔ اور چوروں کا ٹارگٹ بھی غریب ہیں ۔ ۔ ادارہ شماریات کے مطابق اشرافیہ ایلیٹ کلاس کی آمدنی بڑھی ہے اور بے تحاشا بڑھی ہے۔ جبکہ غریب ، لوئر مڈل کلاس ، مڈل آف دی مڈل کلاس کی آمدنی کم ہوئی ہے اور بے تحاشا کم ہوئی ہے۔ ۔ یہ جو بدزبان ۔ بدکلام اور بد گفتار وزیر اندھا دھند جھوٹ بولتے ہیں کہ پاکستان میں تو بہت موجیں ہیں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں ۔ جس خطے میں ہم رہتے ہیں وہاں مختلف ممالک کی مہنگائی کی شرح چار فیصد سے آٹھ فیصد ہے ۔ مطلب بنگلہ دیش میں چار فیصد اور بھارت میں آٹھ فیصد مہنگائی ہے ۔ جبکہ پاکستان میں 17فیصد ہے۔ یہ میں نے اپنی طرف سے گڑھ کر نہیں بتائے یہ عالمی بینک کے اعدادو شمار ہیں ۔ ایک سے بڑھ کر ایک تحفہ اس حکومت کے پاس ہے۔ شبلی فراز فرماتے ہیں کہ مہنگائی کے علاوہ باقی سارے اشاریے مثبت ہیں۔ اس سے حکومت کی پالیسی پتہ چل جاتی ہے کہ حکومت غربت کی بجائے غریب مٹا رہی ہے۔ ایک اور خوشخبری سن لیں کہ ملکی قرضوں میں ایک مہینے کے دوران بارہ سو ارب کا حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے ۔ اب قرضوں کا حجم جی ڈی پی کے سو فیصد کے برابر ہو چکا ہے۔ میں تو بس اتنا ہی کہوں گا کہ اس حکومت کو نواز شریف کو دیکھ کر سبق حاصل کرنا چاہیے ۔ کیونکہ حساب تو ان کو بھی دینا ہی پڑے گا آج نہیں تو کل ۔۔۔

  • طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    طالبان اور مودی کی نئی سازشیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    افغانستان میں جنگ وجدل اور خانہ جنگی کیوں بھارت اور امریکہ کے مفاد میں ہیں۔ پاکستان برے طریقے سے پھنسا ہوا ہے اور امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کو پاکستان، چین، روس اور ایران کے خلاف استعمال کیا جائے۔ جبکہ مودی ا س سارتے کھیل میں سب سے گندا کرادار ادار کر رہا ہے اوراس کا مقصد صرف اور صرف پاکستان اور چین سے انتقام لینا ہے۔ اور افغانستان میں ایسے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے کہ لوگ سڑکوں پر آکر طالبان کے گریبان پکڑیں ، ایساوہ کیسے کرے گا اور وہ کیوں خطے کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو بہت ہی دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔ آپ نے کوشش کرنی ہے کہ ویڈیو آخر تک ضرور دیکھیں۔ تاکہ آپ کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہو سکے۔

    افغانستان میں طالبان کی فتح کو لے کر پورے پاکستان میں جشن کی سی صورتحال تھی، وزیر اعظم سے لے کر مذہبی جماعتوں کے رہنماوں تک ہر طرف سے طالبان کے حق مین بیان آئے۔ ایسا لگا جیسے طالبان نہیں بلکہ پاکستان نے افغانستان میں اٹھائیس ممالک کی فوج اور بھارت کو امریکہ کی لازوال طاقت سمیت دفن کر دیا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا پاکستان کے گرد دنیا نے گھیرا تنگ کر نا شروع کر دیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کی غلامی کی زنجیریں توڑنے والا بیان ہند سے لے کر مغرب تک زبان زد عام ہے۔ اور اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔اب دنیا یہ کہہ رہی ہے کہ پاکستان نے جو ہاتھی خریدا ہے اسے چارا کیسے ڈالے گا۔ ہاتھی خریدنا آسان لیکن پالنامشکل ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب اس ہاتھی کے پیچھے پوری دنیا لگی ہوئی ہو۔ اور پاکستان کو اس کا مالک سمجھ کر سارا نزلہ بھی اسی پر گرایا جا رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب Defensive دیکھائی دیتا ہے۔ ایک طرف دنیا کا پریشر ہے تو دوسری طرف ہاتھی کے بدکنے کا ڈر۔ پاکستان کے وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ طالبان کو دنیا سے کیے وعدے پورے کرنے پڑیں گے، اور پاکستان کو طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ اگر طالبان خود کو تسلیم کروانا چاہتے ہیں تو انہیں بین الاقوامی رائے اور اقدار کی جانب حساس ہونا ہوگا۔جبکہ امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ کانگریس میں یہ بیان دے چکے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو فوری طور پر طالبان کو تسلیم کرنے سے روک دیا ہے۔ امریکہ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ افغانستان میں خانہ جنگی چاہتا تھا جسے روس، چین اور پاکستان نے ایران کے ساتھ مل کر ناکام بنا دیا۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت ابھی بھی پاکستان سے اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تلا بیٹھا ہے۔اگر طالبان دنیا کی بات نہیں مانتے اورInclusive govt کے سارتھ ساتھ عورتوں کے حقوق پر تعاون نہیں کرتے تو صورتحال بہت گھمبیر ہو جائے گی۔ امریکہ کی اس وقت ایک ہی پالیسی ہے اور وہ ہے کہ چین کا راستہ روکا جائے، چاہے انڈیا سے اتحاد ہو یا اسٹریلیا سے جوہری آبدوزوں کا معاہدہ امریکہ کا ایک ہی مقصد ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے چین کو اسے کے ہمسائے میں ہی مصروف رکھا جائے۔

    اس وقت جہاں چین کے خلاف امریکہ میں نفرت ہے وہیں پاکستان کے خلاف بھی غصہ دیکھائی دے رہا ہے اور پاکستان کو اس شکست کا ذمہ دار ٹھرایا جا رہا ہے۔
    پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، دنیا کی سپر پاور کس طرح یہ تسلیم کر سکتی ہے کہ وہ ایک عسکری گروپ کے ہاتھوں ذلیل ہو گی۔اور پاکستان کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ طالبان کو مجبور کیا جائے کہ وہ ازبک، تاجک اور ہزارہ کمیونٹی کو حکومت میں حصہ دیں۔ لیکن ایک سوچنے کی بات ہے کہ اگر ایک عسکری گروہ کو محفوظ پناہ گاہیں دی بھی گئی ہیں تو Thirld world country کے تکنیکی مشوروں کا امریکہ کی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے کاونٹر کرنا کتنا مشکل تھا۔ جبکہ امریکہ دو ٹریلین ڈالر افغانستان میں خرچ کر چکا تھا۔ اس وقت افغانستان میں عدم استحکام کئی عالمی طاقتوں کے مفاد میں ہے۔ سردیاں آنے والی ہیں اور افغانستان میں 93% لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں تعمیراتی پراجیکٹس پر کام رکنے سے مزدور بے روز گار ہیں اور لوگ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہیں۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سردیوں سے پہلے خوراک کی امداد کی ضرورت ہے ، جسے تیزی سے حاصل کرنا ہو گا۔طالبان نے شاید ملک پر آہنی گرفت قائم کر لی ہے لیکن اس پیمانے پر بھوک مایوس کن غصے کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر یہ سڑکوں پر پھیل گئی تو افغانستان کے نئے حکمرانوں کی طرف سے بربریت کی بدترین شکلیں بھی اس پر قابو پانے کے لیے کافی نہیں ہوں گی۔پناہ گزینوں کے ایک اور خروج کے حوالے سے پاکستان کو اس طرح کے کسی بھی دھچکے سے نمٹنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ جسے پاکستان خستہ معاشی حالات میں کسی صورت بھی کنٹرول نہیں کر پائے گا۔وزیراعظم امریکی صدر اور سیکریٹری آف اسٹیٹ کو جاہل کہہ سکتے ہیں ، لیکن ابھی بھی پاکستان کو معیشت چلانے کے لیےآئی ایم ایف پر انحصار کرناہے امریکہ سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف کی تلوار الگ لٹک رہی ہے۔ایسے میں امریکہ چاہے گا کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے چین کے ہمسائے میں پراکسی کے زریعے پاکستان، چین، روس اور ایران کو مصروف رکھے۔ جبکہ چین اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی عمل سے بھارت کسی صورت نہیں چوکے گا۔ جبکہ طالبان نے اگر مطالبات نہ مانے تو چین جیسا دوست بھی اپنا نزلہ پاکستان پر گرانے کی کوشش کرے گا۔

    سب سے پہلے یہ کوشش کی جائے گی کہ پاکستان اور طالبان کے درمیاں دراڑ ڈالی جائے۔ پاکستان کو اتنا تنگ کیا جائے کہ دونوں میں حالات کشیدہ ہو جائیں۔
    افغانستان ہمیشہ سے ہی جنگیIdeology کاBreading ground رہا ہے۔ افغانستان میں بہت سے ایسے گروپ ہیں جو طالبان کی آئیڈیالوجی کے خلاف ہیں، اور وہ بیرونی مدد حاصل کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ اس وقت افغانستان میں عورتوں کی صورت میں Active civil society اور Frustrated urban middle class
    موجود ہے۔ ایسے میں طالبان کے خلاف کوئی بھی سیاسی یا پرتشدد موومنٹ چل سکتی ہے۔ جبکہ Punjsher resistance اس کے علاوہ ہے۔اس وقت طالبان کے پاس
    القائدہ ٹی ٹی پی. داعش اسلامک مومنٹ آف ازبکستان سمیت کئی ایسے ہتھیار ہیں جسے وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ امریکہ اور بھارت چاہیں گے کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان اور چین کی طالبان سے لڑائی کروا کر پورے خطے میں پراکسی شروع کروا دی جائے۔اس سے طالبان کو بیرونی امداد کا لالچ دیا جائے گا۔پاکستان پر تحریک طالبان سے یلغار کروائی جائے گی، داعش خراسان سے ایران پر جبکہ ازبکستان موومنٹ سے چین اور سینٹرل ایشین ممالک سمیت روس کو مشکل میں ڈال دیا جائے گا اور امریکہ اور بھارت دور بیٹھ کر تماشہ دیکھیں گے اور ان کے دشمن ممالک اپنے ہمسائے میں ہی مشکل میں پھنس جائیں گے۔قطر نے طالبان کی سیاسی لیڈر شپ سے اچھے تعلقات بنا لیے ہیں جبکہ سعودی عرب اور عرب امارات کے طالبان کی ملٹری لیڈر شپ سے پرانے تعلقات ہیں۔اس وقت سعودی عرب اور گلف ممالک جہاں امریکہ کے اتحادی ہیں وہیں بھارت کے ساتھ بھی Streategicتعلقات بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے میں کوئی بھی غلط قدم پاکستان کے لیے مصیبت کھڑی کر سکتا ہے، جبکہ چین کی بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ اور سی پیک کا مستقبل بھی خطے میں امن سے وابسطہ ہے۔ اب ایسے میں جب کہ ساری دنیا کو پتا ہے کہ ڈپلومیسی کا اس میں اہم کردار ہے، حکومت اسے عوامی نعروں کے لیے استعمال کر رہی ہے، حکومت اسےAbsolutely notاور قومی وقار سے جوڑ رہی ہے۔ جبکہ درحقیقت یہ سب کچھ Public consumption کے لیے ہے ایک طرف آپ دنیا سے اپنی معیشت چلانے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں، دوسری طرف آپ سر عام انہیں
    Ignorant اور ان کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی چوک چوراہوں پر ترتیب نہیں دیتی اس حوالے سے پاکستان کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ ایک طرف طالبان آپ کے کہنے پر Inclusive govtنہیں بنا رہے، دوسرے طرف آپ مغرب کو بیانات دے کر ناراض کر رہے ہیں۔ یہی نہیں آپ کے وزیر خارجہ ایسے وقت میں جب آپ قومی وقار کی بات کر رہے ہیں دنیا کو بتا رہے ہیں کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں تو آپ چاہتے کیا ہیں۔ آپ کس کے ساتھ ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا۔

    دوسری طرف مودی امریکہ کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے ، اس نے SCO میٹنگ میں طالبان کی نہ صرف قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا بلکہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا اختیار اقوام متحدہ کو مشترکہ طور پر دینے کی بات کی۔ مودی اافغانستان میں ٹانگ اڑا کر امریکہ کے لیے ٹائم حاصل کر رہا ہے تاکہ امریکہ کوئی ایسی اسٹریٹیجی بنائے جس سے امریکہ روس، چین کو افغانستان میں مشکلات سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی عدم استحکام کا نشانہ بنائے اور امریکہ کے اتحادی بھارت کو پاکستان پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع مل جائے۔امریکہ اس وقت طالبان کے فنڈ فریز کر کے، آئی ایم ایف اور اقوام متحدہ کے ذریعے طالبان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکہ کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ اگر وہ امریکہ کی مرضی سے کام نہیں کریں گے تو ان کا کوئی مستقبل نہیں اور امریکہ ان کی افغانستان میں زندگی کو جہنم بنا دے گا افغانستان کے لوگ غربت اور بھوک سے تنگ آکر ان کی بوٹیاں نوچیں گے اور یہ عدم استحکام پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔عمران خان نے RTکو انٹرویو میں کہا تھا کہمیرے خیال میں صرف ایک ہی آپشن ہے کہ طالبان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی مدد کی جائے، تاکہ وہ اپنے وعدو‏ں پر قائم رہیں۔ مشرکہ حکومت کے ساتھ ساتھ عورتوں کو حقوق بھی دیں۔تمام طالبان کو Amnesty دی جائے، یہ حکمت عملی کام کرے گی اور چالیس سال میں پہلی دفعہ افغانستان میں امن قائم ہو گا۔ لیکن مودی کا طالبان کا نام سنتے ہی دماغ بند ہو جاتا ہے وہ انہیں چین اور پاکستان کا ساتھی سمجھتا ہے۔ اس لیے وہ افغانستان میں امریکہ کو دوبارہ لانا چاہتا ہے تا کہ چین اور پاکستان کو کاونٹر کیا جا سکے۔وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، دیکھیں افغانستان میں اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

  • کابل دھماکے میں بھارت ملوث. تحریر: محمد شعیب

    کابل دھماکے میں بھارت ملوث. تحریر: محمد شعیب

    کیا کابل دھماکے میں بھارت ملوث ہے۔فرانس امریکہ اور اسٹریلیا سے بہت ناراض ہے اور سفیر واپس بلانے کے باوجود غصہ ٹھنڈا نہیں ہو رہا۔ اب فرانس کیا کرنے جا رہا ہے۔ جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے حیران کن معلومات لیک ہوئی ہیں کہ وہ چین پر ایٹمی حملہ سمیت کیا کچھ کر سکتے تھے اس پر بھی روشنی ڈالیں گے ہم آپ کو ایک عرصے سے بتا رہے ہیں کہ دنیا بدل رہی ہے، دوست دشمن اور دشمن دوست بن رہے ہیں، امریکہ اور یورپ نے اپنا دشمن ڈونڈھ لیا ہے جبکہ یہ اآپس میں بھی کسمکش میں مبتلا ہیں۔ دنیا کی توجہ اور جنگوں کا مرکز اب مشرق وسطہ سے ہٹ کر Asia- pacific کی طرف آرہا ہے۔

    پہلے میں آپ کو تین خلیجی ممالک کے طاقتور ترین لوگوں کی تصویر دیکھانا چاہوں گا۔کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ اس تصویر میں درمیاں میں نیکرپہنے مشرق وسطہ کا سب سے طاقتور شخص اور سعودی عرب کا کراون پرنس محمد بن سلمان ہے۔ جبکہ اس سے بھی حیران کن بات اس کے ساتھ نیکر اور ٹی شرٹ میں کھڑا قطر کا امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی،جبکہ نیلی ٹی شرٹ میں متحدہ عرب امارات کے شہزادے اور قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زید النہیان ہیں۔ یہ تصویر سعودی ولی عہد کے نجی دفتر کے ڈائریکٹر بدر العساکر کی جانب سے ٹوئٹر پر شیئر کی گئی۔عربی زبان میں کی جانے والی اس ٹوئٹ میں بدر العساکر نے لکھا کہ بحیرہ احمر میں ہوئی برادرانہ و دوستانہ ملاقات نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، قطری امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور اماراتی قومی سلامتی کے مشیر شیخ طحنون بن زید النہیان کی قربت کی وجہ بن گئی۔ دوہزار سترہ میں میں سعودی عرب، یو اے ای، بحرین اور مصر نے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کردیے تھے۔لیکن اب اتنے دوستانہ ماحول میں تین ممالک کی اہم شخصیات کی تصویریں یہ پیغام دے رہی ہیں کہ جہاں دنیا بھر میں نئی صف بندی ہو رہی ہے وہاں مشرق وسطی میں بھی اہم تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اور یہ خطے میں امن اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہیں بھارت کو اپنی بڑی مارکیٹ کی وجہ سے ایک Advantageحاصل ہے جس کی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈال رہی ہیں، لیکن آئے روز بھارت کا کوئی نہ کوئی کارنامہ منظر عام پر آجاتا ہے۔ ان ایک بڑا سوال پیدا ہو گیا ہے کہ کیا بھارت کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملےمیں ملوث ہے؟ داعش خراسان کےمیگزین ’صوت الہند‘ کےمطابق گذشتہ ماہ کابل ائیرپورٹ پر خودکش حملہ آور پانچ سال قبل بھارت میں گرفتار ہوا تھا، مگر اسے رہا کرکے افغانستان بھیج دیا گیا تھا مبصرین سوال اٹھا رہےہیں کہ کیا وہ بھارتی ایجنسی سے رابطےمیں تھا؟ جبکہ بھارت کے TTPBLAاورIsis کے ساتھ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بھارت انہی گروپوں کی مدد سے پاکستان میں دہشتگردی کروا رہا ہے۔ کیا امریکہ اس پر تحقیق کرے گا ۔۔ نہیں۔۔ بلکہ امریکہ اپنا سارا غصہ پاکستان پر نکالنے کی کوشش کرے گا اوراس کے لیے امریکہ میں گراونڈ بنایا جا رہا ہے۔ اخباروں کے اداریوں سے لے کر گانگریس تک پاکستان کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان کو غیر معمولی سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کے حملے کو روکا جا سکے۔

    داعش کی 20 صفحات پر مشتمل پروپیگنڈہ میگزین کے نئے شمارے میں لکھا گیا ہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افغان بیورو کریٹ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور اسی دوران عبد الرحمان لوگری نامی خود کش حملہ آور نے 13 امریکی فوجیوں اور ایک درجن سے زائد طالبان جنگجو سمیت 250 کے قریب لوگوں کو ہلاک کیا۔میگزین میں لکھا گیا ہے کہ ’کابل ایئر پورٹ حملے میں ملوث خود کش حملہ آور عبدالرحمان پانچ سال پہلے دہلی میں اس وقت پکڑا گیا تھا جب وہ وہاں پر کشمیر میں مظالم کا بدلہ لینے کے لیے ہندو عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ لیکن اللہ نے کچھ اور فیصلہ کیا تھا ۔ ان کو گرفتاری کے بعد قید میں رکھا گیا تھا اور پھر افغانستان ڈی پورٹ کردیا گیا جہاں پر ایئرپورٹ پر خود کش حملہ کیا۔‘وائس آف ہند میگزین کے بارے میں مختلف رپورٹس میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ میگزین بھارت سے آپریٹ کیا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کے لیے ایک انتہائی اچھی خبر ہے کہ ارجنٹینا نے پاکستان سے 12 جے ایف-17 اے بلاک تھری لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔یہ خبر اس وقت پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بنی جب ارجنٹینا کی حکومت نے اپنی قومی پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے سال 2022 کے بجٹ میں اس مقصد کے لیے 66 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مختص کرنے کی تجویز دی۔فنڈ مختص کرنے کی تجویز کا مطلب یہ نہیں کہ سودا طے پاگیا ہے کیوں کہ فروخت کے معاہدے پر ابھی دستخط ہونے باقی ہیں۔تاہم اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ارجنٹینا نے جے ایف-17 طیاروں کو زیر غور متعدد آپشنز پر فوقیت دی ہے۔ارجنٹینا اس خریداری پر گزشتہ سال سے غور کر رہا ہے جب برطانیہ نے اس کی دیگر ذرائع سے طیارے خریدنے کی سابقہ کوششوں کو روک دیا تھا۔2015 سے سویڈن اور جنوبی کوریا سے لڑاکا طیارے خریدنے کی کوشش کررہا تھا لیکن دونوں فروخت کنندگان برطانوی دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ گئے۔ارجنٹینا نے 2015 میں سویڈش جے اے ایس 39 گرپن لڑاکا طیارے حاصل کرنے کی کوشش بھی کی تھی، بعد میں اس نے جنوبی کوریائی ایف اے-50 فائٹنگ ایگل میں بھی دلچسپی دکھائی۔جے ایف-17 جیٹ طیاروں میں برطانیہ کی تیار کردہ ایجیکٹر سیٹ بھی ارجنٹینا کو طیاروں کی فروخت میں ایک تنازع بنی ہوئی ہے۔اس کے علاوہ ارجنٹینا کی فضائیہ کے لیے لڑاکا طیاروں کی تلاش میں دوسری مشکل مہنگے آپشنز کے لیے فنڈز کی کمی ہے۔خیال رہے کہ ارجنٹینا کی فضائیہ 2015 میں نمایاں طور پر ختم ہو گئی تھی جب اس نے ڈاسالٹ میراج 3 انٹرسیپٹر طیارے کے پرانے بیڑے کو ریٹائر کیا تھا جو اس وقت تک فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا تھا۔جے ایف 17 تھنڈر ایک جدید، وزن میں ہلکا، تمام موسموں، دن، رات ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جس نے مودی کی بے وقوفی اور بادلوں سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی کوشش کے نتیجے میں بھارتی مگ طیارے زمین بوس کر کے دنیا بھر میں شہرت کمائی ۔

    آسٹریلیا کے ساتھ آبدوزیں فراہم کرنے کے 50 ارب آسٹریلوی ڈالرز کا معاہدہ منسوخ ہونے کے بعد فرانس نے امریکہ اور آسٹریلیا پر جھوٹ بولنے اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام لگایا ہےفرانس کے وزیر خارجہ نے کہا: ’جھوٹ بولا گیا، دہرا معیار اختیار کیا گیا، اعتماد کو ٹھیس پہنچائی گئی اور توہین کی گئی۔ ایسے نہیں چلے گا۔‘اب دو اتحادیوں کے درمیان ’سنگین بحران‘ پیدا ہو رہا ہے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا بیان فرانسیسی صدرکے حکم پر تاریخ میں پہلی دفعہ امریکہ اور آسٹریلیا سے فرانس کے سفیروں کو واپس بلانے کے ایک روز بعد سامنے آیافرانسیسی سفیروں کو واپس بلانا ایسا اقدام ہے جس کی پہلے کوئی مثال نہیں اور اس سے معاہدے کی منسوخی پر فرانس میں پائے جانے والے غصے کا اظہار ہوتا ہے۔AUKASآکوس میں برطانیہ بھی شامل ہے۔ لیکن اس حوالے سے فرنسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہہم ان کی مسلسل موقع پرستی کے بارے میں جانتے ہیں۔ اس لیے وضاحت کے لیے اپنے سفیر کو واپس بلانے کی ضرورت نہیں۔‘سکیورٹی معاہدے میں لندن کے کردار کے بارے میں فرانس کے وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ’سارے معاملے میں برطانیہ کی حیثیت کسی حد تک تیسرے پہیے کی ہے۔‘جب فرانس 2022 میں NATO صدارت سنبھالے گا تو یورپی یونین کی سلامتی کے حوالے سے حکمت عملی کی تیاری کو ترجیح دے گا۔جبکہ امریکہ کے مطابق ۔۔ اس دفاعی معاہدے کے ذریعے (ساؤتھ چائنہ سی) میں چینی اثر و رسوخ کم کرنے کی کوشش کی جائے گی

    ڈونلڈ ٹرمپ چین پر ایٹمی حملہ کر سکتے تھے۔؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد کئی کتابیں سامنے آ چکی ہیں جن میں وائٹ ہاؤس میں سابق رپبلکن صدر کے چار ہنگامہ خیز سالوں کے اختتام کے بارے میں ڈرامائی تفصیلات بیان کی گئی ہیں جن میں سے چند ایک کا میں ذکر کر دیتا ہوں۔وائٹ ہاؤس کی ایک میٹنگ کے دوران صدر ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا کہ ان کی بیٹی ایوانکا کے شوہر اور وائٹ ہاؤس کے سینئر مشیر جیرڈ کشنر امریکہ سے زیادہ اسرائیل کے وفادار ہیں اپنے دور صدارت کے اختتام کے قریب اعلیٰ امریکی عہدیداروں کے لیے صدر ٹرمپ کا رویہ اس قدر تشویش ناک ہو گیا تھا کہ انہوں نے سوال کرنا شروع کر دیا کہ کیا 2020 کے انتخابات ہارنے کے بعد ٹرمپ کا ذہنی استحکام اس قدر انتشار کا شکار ہو جائے گا کہ وہ ملک کو جنگ میں دھکیل دیں گے۔ایوان کی سپیکر نینسی پیلوسی ٹرمپ کے حامیوں کے کیپیٹل ہل پر حملے سے اس قدر ناراض ہوئیں کہ انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملے سے کہا کہ وہ صدر کو بغاوت کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا جانا چاہیے۔اور جنرل مارک ملے خود اس بات سے بہت پریشان تھے کہ صدر ٹرمپ کی حرکتیں غیر ملکی حریف کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ امریکی فوج کے سربراہ کو بالآخر اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ بیک چینل کالز کا سلسلہ شروع پڑا تاکہ انہیں یقین دلایا جا سکے کہ امریکی حکومت مستحکم ہے اور صدر ٹرمپ بیجنگ پر حملہ نہیں کریں گے۔جنرل مارک ملے پریشان ہو گئے کہ صدر ٹرمپ’ بدمعاشی پراتر‘ جائیں گے اور 20 جنوری کو عہدہ چھوڑنے سے پہلے کسی بھی وقت چین پر ایٹمی حملہ کر دیں گے۔کیپیٹل ہل پر حملے کے دو دن بعد جنرل ملے نے نیشنل ملٹری کمانڈ سینٹر کے انچارج سینئر افسران کا ایک اجلاس بلایا تاکہ فوجی کارروائی شروع کرنے کے رسمی عمل کا جائزہ لیا جائے جس میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل تھا۔جنرل ملے نے افسران کو بتایا کہ وہ کسی بھی ایسے احکامات کو نظر انداز کر دیں جن میں ان کو بائے پاس کیا گیا ہو۔جنرل ملے نے اجلاس میں موجود ہر ایک افیسر کی آنکھوں میں دیکھنے اور ان سے زبانی تصدیق کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: ’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کو کیا حکم دیا گیا ہے۔ آپ ضابطہ کار پر عمل کریں۔ اور میں اس ضابطہ کار کا حصہ ہوں

  • شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ

    شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ

    شریف…شریف نہ رہے، تحریر: نوید شیخ
    عمران خان سے نوازشریف اور نوازشریف سے میاں منشا تک ۔ پھر اعظم سواتی کے بعد پرویز خٹک بھی خبروں میں ان ہوگئے ہیں۔ ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے ۔ کہ منی لانڈرنگ ، کرپشن ، لوٹ مار کے آل شریف گرو ہیں ۔ اب اطلاعات کے مطابق شریف فیملی کے کارخاص،حصے دار، جانی یار ، منی لانڈرنگ کے بے تاج بادشاہ جسے دنیا میاں منشا کے نام سے یاد کرتی ہے ۔ وہ اس وقت سخت مشکل میں پھنس چکے ہیں۔ کیونکہ ان کے کرتوت ہی ایسے ہیں ۔

    اب یہ کالے کرتوت دنیا کے سامنے آگئے ہیں ۔ ایف آئی اے نے کافی تحقیقات کے بعد ایسی چیزیں اکٹھی کرلیں ہیں کہ جن کے بعد اب نہ تو شریفوں کا بچنا ممکن ہے اورنہ ہی انکے فرنٹ مین اور حصے دار میاں منشا کا ۔ کیونکہ اتنے بڑے ثبوتوں کوٹھکرایا نہیں جا سکتا ہے ۔ رہا معاملہ میاں نوازشریف کا تو وہ پہلے ہی مجرم ہیں‌۔ ایف آئی اے نے جو لیگل نوٹس بھیجوایا ہے ۔ اس کے مطابق رمضان شوگرملز اور دیگرشریف فمیلی کی شوگر ملز میں منی لانڈرنگ کے ذریعہ اربوں روپے ہیرپھیرکرکے قومی خزانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیاہے۔ اس نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہ ےکہ ایف آئی اے کے وہ افسران جن کو اس گینگ نے اس جرم عظیم کو تکمیل کے مراحل تک پہچانے کے لیے استعمال کیا اب وہ بھی کٹہرے میں لائے جائیں گے ۔ اس نوٹس میں ان افسران کے نام اورعہدے بھی بیان کئے گئےہیں۔‌ اس نوٹس میں میاں منشا سے کہا گیا ہےکہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت آپ پرجرم ثابت ہوتا ہے لٰہذا قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ نواز شریف کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد نے تفتیش بھی میں انکشاف کیا تھا کہ غیرملکی اثاثے شہزاد سلیم کے پاس محفوظ ہیں۔ چونیاں پاور، نشاط پاور سے قومی خزانے کو 80 ارب کا نقصان پہنچایا گیا ۔ دونوں پاور پلانٹ نشاط گروپ کی ملکیت ہیں۔ میاں منشا اور اُن کے بیٹوں پرمنی لانڈرنگ کا بھی الزام ہے۔ میاں منشا نے 2010 میں برطانیہ میں سینٹ جیمز ہوٹل اینڈ کلب خریدا، جس کی خریداری کے لیے انہوں نے کروڑوں پاؤنڈز غیر قانونی طریقے سے برطانیہ بھیجے۔۔ میاں منشا کے خلاف پاکستان ورکر پارٹی کے چیئرمین فاروق سلہریا نے گزشتہ برس بھی ایک درخواست نیب میں دائر کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میاں منشا نے 95ملین ڈالر منی لانڈرنگ کرکے پاکستان سے برطانیہ منتقل کئے ہیں۔ ایم سی بی بینک نشاط گروپڈی جی خان سیمن ٹآدم جی انشورنس اور نشاط پاور کمپنیاں میاں منشا کی ملکیت ہیں۔ نیب نے گزشتہ سال جون میں میاں محمد منشا کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع بھی کی تھیں۔ ویسے نیب سے تو مجھے کوئی خاص امید نہیں ہے ۔ ساتھ ہی احتساب کے جتنے نعرے تھے وہ بھی زمین بوس ہوتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ پر میاں منشا مشکل کا ضرور شکار ہیں ۔ مگر اس ملک کی کہانی مجھے سے بہتر آپ جانتے ہیں کہ طاقتور لوگ کسی نہ کسی اسٹیج پر جاکر اس قانون کے جالے کو پھاڑ کر سزاو جزا کے عمل سے بچ ہی نکلتے ہیں ۔ کیونکہ اس ملک کا نظام ہی کچھ ایسا بن چکا ہے ۔ جس بارے طاہر القادری تو بڑی کھلے الفاظ میں کہتے ہیں کہ اس نظام سے کوئی بہتری نہیں آنی ۔ حقیقی تبدیلی نظام کی تبدیلی سے ہی آئے گی ۔

    کیونکہ جو پارٹی اپوزیشن میں ہوتی ہے تو اس کردار وگفتار مختلف ہوتا ہے اور جیسے ہی انکو اقتدار ملتا ہے ۔ یہ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتے ہیں ۔ بھول جاتے ہیں کہ ماضی میں یہ کیا کہا کرتے ہیں اور کیوں کہا کرتے تھے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ تبدیلی سرکار آنے کے باوجود اس ملک میں ایک نہیں دو پاکستان ہیں ۔ ۔اس نئے پاکستان میں حکومت نے وزیراعظم عمران خان کو بیرون ملک سے ملنے والے تحائف کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس چل رہے ہیں۔ ۔ کابینہ ڈویژن نے انفارمیشن کمیشن آف پاکستان کا شہری کو وزیراعظم کے تحائف کی تفصیلات دینے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے ۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عتیق الرحمان صدیقی نے عدالت میں کہا کہ حکومت نے عمران خان کو بطور وزیراعظم ملنے والے تحائف کلاسیفائیڈ ہیں ۔ ساتھ موقف اپنایا کہ سربراہان مملکت کے درمیان تحائف کا تبادلہ بین الریاستی تعلقات کا عکاس ہوتا ہے ایسے تحائف کی تفصیلات کے اجرا سے میڈیا ہائپ اورغیر ضروری خبریں پھیلیں گی بے بنیاد خبریں پھیلانے سے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے جبکہ ملکی وقار بھی مجروح ہو گا۔ ویسے میں نے پہلی بار سنا ہے کہ تحائف بھی کلاسیفائیڈ ہوتے ہیں ۔ دنیا کے کسی اور ملک میں ایسی کوئی مثال ہے تو مجھے ضرور بتائیے گا ۔ مجھے نہیں معلوم کہ تحریک انصاف جوابدہی اور شفافیت سے کیوں ڈر رہی ہے ۔ حالانکہ کے نئے پاکستان کے حوالے سے عمران خان کی جتنی تقاریر میں سن سکا ہوں ۔ ان کے مطابق یہ سلسلہ تو نئے پاکستان میں چل ہی نہیں سکتا ۔ حقیقت میں عمران خان ریاست مدینہ اور فلاحی ریاست کی جتنی باتیں کیا کرتے تھے وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف باتیں ہی ثابت ہورہی ہیں ۔ اب جو کابینہ ڈویثرن کہہ رہی ہے کہ تحائف کی تفصیلات بتانے سے پاکستان کے ملکوں کے درمیان تعلقات متاثر ہونگے۔ ۔ یہ وہی حکومت ہے جس نے گزشتہ سال ماضی کی حکومتوں کو بیرون ممالک دوروں کے دوران ملنے والے تحائف کی نیلامی کا فیصلہ کیا تھا ۔ پتہ نہیں نیا پاکستان بنانے والے احتساب سے اتنا خوفزدہ کیوں ہیں؟ سچ یہ ہے کہ دوسروں کی باری پر یہ انقلابی بن جاتے ہیں ۔ پھر پتہ نہیں وہ کون سے ملک ہیں کہ تحائف کی تفصیلات سامنے آنے سے ہمارے ان ممالک کے ساتھ تعلقات خراب ہوسکتے ہیں ۔ مزے کی بات ہے کہ اعظم سواتی مخالفوں کے رازوں سے پردے تو خوب ہٹا رہے ہیں ساتھ شبلی فراز کو اپوزیشن کی کروڑوں کی گھڑیاں بھی دیکھائی دے رہی ہیں پر اپنا گریبان اس حکومت کو نہیں دیکھائی دیتا وہاں یہ نہیں جھانکتے

    پھر قانون کی بالادستی کی بات کرنے والی تحریک انصاف کے اہم رہنما اور وزیر دفاع خود ہی قانون کی عمل داری کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنتے دکھائی دیئے۔ ۔ دراصل نوشہرہ تحریک انصاف کا گڑھ اور وزیر دفاع پرویزخٹک کا آبائی علاقہ ہے۔ پرویز خٹک ایک روز قبل اپنے حلقہ انتخاب میں جلسہ کررہے تھے۔ جلسے کے اختتام پر ان کے کارکنوں نے آتش بازی کی۔ لیکن پولیس نے آتش بازی سے رکوادی۔ تعجب تب ہوا جب پرویز خٹک نے ورکرز کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سٹیج سے اعلان کیا کہ آتش بازی کیوں روکی گئی۔ آتش بازی کی جائے، کسی افسر کی پرواہ نہ کریں۔ میں یہاں موجود ہوں دیکھتا ہوں ۔ دیکھتا ہوں کیسے آتش بازی کو روکا جاتا ہے۔۔ تو یہ ہے وہ ۔ صاف چلی شفاف چلی ۔۔۔۔ دو نہیں ایک پاکستان ۔۔۔۔ جب آئے گا عمران بنے گا نیا پاکستان ۔۔۔۔ روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے ۔۔۔ آپ انکے ذرا الیکشن سے پہلے کے نعرے دیکھیں اور اب حرکتیں دیکھیں ۔ یہ اپنے ہی لگائے ہوئے نعروں ، کہی ہوئی باتوں ، دیے ہوئے منشور سے مذاق کررہے ہیں ۔ اب جب عوام ان کو جنرل الیکشن میں جھٹکا دے گے جیسے اس عوام نے تبدیلی سرکار کو ہر ضمنی الیکشن اور حالیہ کینٹ بورڈ الیکشن میں دیا ہے ۔ تو یہ دھاندلی دھاندلی کا شور مچانا شروع کر دیں گے ۔ یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کیونکہ ہماری ایک سیاسی تاریخ ہے ۔ جو بتاتی ہے کہ چوتھے سا ل میں نہ چاہتے ہوئے بھی کوئی بھی سویلین حکومت بند گلی میں پھنس جاتی ہے۔ جبکہ یہ حکومت ت ہر کام اپنے ہاتھ سے خراب کر رہی ہے ۔ ۔ محمد خان جونیجو ، یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کو چوتھے سال میں ہی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ۔ ماضی کی تمام سویلین حکومتوں کی طرح اب عمران خان حکومت بھی چوتھا سال شروع ہوتے ہی بند گلی میں پھنستی جا رہی ہے۔ ۔ حکومت کے اہم وزراء ضرورت سے زیادہ اعتماد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کئی سیاسی اور غیر سیاسی محاذ کھول لئے ہیں۔ اس وقت میڈیا اور الیکشن کمیشن کے محاذ غیر سیاسی اور غیر ضروری ہیں۔ ۔ میڈیا کو کنڑول کرنے کے چکر میں الٹا نقصان ہوتا نظر آنا شروع ہوگیا ہے کہ اس معاملے پر حکومت کے حامیوں نے بھی حکومت کے خلاف بندوقیں تان لی ہیں ۔

    ۔ دوسرا یہ خواہش تو مجھے لگتا ہے کہ حسرت ہی رہ جائے گی ۔ لیکن مان بھی لیا جائے کہ اگر زور زبردستی سے الیکٹرانک ووٹنگ کروا بھی لی گئی تو وہ غدر مچے گا کہ اسے سنبھالنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر مہنگائی اور بے روزگاری نے حکومت کو ان علاقوں میں بھی غیر مقبول بنا دیا ہے۔ جو پی ٹی آئی کی جیت کا نشان سمجھے جاتے تھے ۔ یوں وزیراعظم عمران خان اور ان کے کئی وزراء فرانس کی ملکہ میری بنتے جا رہے ہیں کہ اگر روٹی نہیں ہے تو کیک کھا لیں۔ ۔ بجلی کے بلوں پر ایڈوانس انکم ٹیکس 5 تا 35 فیصد کا صدارتی آرڈیننس عمران خان حکومت کو بہت غیر مقبول بنا دے گا۔ پاکستان اس سے پہلے بھی آئی ایم ایف سے معاہدے کرتا رہا ہے لیکن اتنی ظالمانہ شرائط والا معاہدہ پی ٹی آئی حکومت نے کیا جس کے بعد بجلی اور گیس پاکستانی عوام کے لئے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔ یوں آئی ایم ایف معاہدہ پاکستانی عوام کے سر پر ایٹم بم کی طرح پھٹا ہے۔ مجھے تو لگتا ہے کہ کپتان کو بہت پہلے معلوم ہو گیا تھا کہ اُن کے دورِ حکومت میں عوام کو کبھی کوئی اچھی خبر نہیں ملے گی۔ اِس لئے انھوں نے پہلے ہی نصیحت کر دی تھی کہ آپ نے گھبرانا نہیں ہے۔

  • مہنگائی کا طوفان    تحریر.ہارون خان جدون

    مہنگائی کا طوفان تحریر.ہارون خان جدون

    گزشتہ رات ڈالر کی اڑان سب کی نیندیں اڑا کر لے گئی ہے جس کے سبب پٹرولیم مصنوعات ، اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی دسترس سے دور ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں مزدور بندہ تو پہلے ہی بہت مشکل سے اپنی زندگی گزار رہا ہے اب اوپر سے مزید پٹرول مہنگا ہو جانے سے عام بندے کی زندگی پر بہت اثر پڑے گا

    واقعی حقیقی معنوں میں تو ڈالر کو فریز کر دیا جاتا ہے اور جس کے سبب خاص طور پر ایشیائی ممالک کی معیشت بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہےپاکستان جو کہ پہلے ہی قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے س کی معیشت مزید گرتی ہے اور بدلے میں مہنگائی کا طوفان لے کر آتی ہے۔ پرائس کنٹرول والوں کی اپنی ریٹ لسٹ ہے جبکہ بازار میں فروخت کنندگان کی اپنی لسٹ۔ کچھ تو ان بھائی لوگوں نے بھی مصنوعی مہنگائی کی ہوئی ہوتی ہے جس کا خمیازہ عوام بھگتتی ہے۔ اگر کوئی آگے سے احتیاطاً پوچھ بھی لے کہ اتنی مہنگی چیز کیسے؟ تو جواب سننے کی بجائے وہ اپنے سوال پہ پچھتاتا ہے

    صوبائی اور وفاقی سطح کی پالیسی عام آدمی کی سمجھ سے باہر ہے وہ نہیں جانتا کہ ایکسچینج ریٹ کیا ہے ؟ کرنسی کی ویلیو بڑھی یا گھٹی ؟ افراط زر یا تفریط زر کا مقصد کیا ہے ؟ ڈیولپمنٹ ہو رہی ہے کہ نہیں ؟ ہم گرے لسٹ میں ہیں یا بلیک لسٹ میں؟ نیشنل انکم یا جی ڈی پی کہاں پہ رکے گی؟ وغیرہ وغیرہ اور عام آدمی سمجھنا بھی نہیں چاہتا کیونکہ اسے بس اپنا گھر چلانا ہے۔ وہ ووٹ اسی لیے تو دیتا ہے کہ مجھ سے بہتر لوگ ملک چلائیں۔ 

    اب ہم ملک تو نہیں چلا سکتے کم از کم اپنی اخلاقی اقدار تو بہتر بنا سکتے ہیں تا کہ ایک عام آدمی کی زندگی سہل ہو سکے اب جیسا کہ آج کل مارکیٹ میں شخصیت کو دیکھ کر چیز بیچی جاتی ہے اگر تو تھوڑا پڑھا لکھا ہے مارکیٹ کے اصول و ضوابط جانتا ہے اسے چیز مناسب نرخ پہ بتائی جا تی ہے اگر کوئی بیچارہ سادہ لوح شخص پہلے تو خریداری کی سکت نہیں رکھتا اور اگر بچوں کی خاطر چلا بھی جائے تو اسے مہنگے داموں پہ چیز دی جاتی ہے یا پھر غیر معیاری چیز پکڑا دی جاتی ہے۔ جیسا کہ میڈیکل اسٹور پہ ملٹی نیشنل دوائی کی بجائے کٹ ریٹ والی دوائی تھما دی جاتی ہے۔ 

    دوسری طرف ہماری یہ بھی اخلاقی کمزوری بن چکی ہے کہ جس چیز کا ریٹ موجود نہیں اس میں بے تحاشہ منافع شامل کر لیا جاتا ہے۔ کپڑے کو دیکھیں تو 50 یا 100 کے ہندسے میں ملے گا یعنی یا تو 300 روپے میٹر یا پھر 350 روپے بیچ والی گنتی جیسے بھول گئی ہو, اسیطرح جوتے والے یا پھر جنرل اسٹور اور کراکری والے بھی من مرضی کے ریٹ لگاتے ہیں اور آگے سے پوچھتے ہیں کہ آپ کتنے دیں گے؟ فرنیچر والے اور دیگر اشیائے ضرورت والے تو مت پوچھیں دکان میں پاؤں رکھا نہیں کہ اسی طرح واپس آنے کو دل کرتا ہے۔ 

    میری تمام تاجران سے اور حکومتی عہدیداروں سے اپیل ہے کہ مہنگائی کے طوفان میں اور کچھ نہ سہی تو غریب عوام کی اس طرح بھی مدد ہو سکتی ہے ایک تو ہر چیز کا ریٹ لگا ہو ، جو کہ منظور شدہ ہو ، اور مصنوعی مہنگائی کے خاتمے کو یقینی بنائیں تاکہ عام آدمی کو کسی جگہ تو ریلیف ملے.

    @ItzJadoon 

  • پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کا مستقبل روشن ہے تحریر: فرمان اللہ

    پاکستان کے روشن مستقبل پر بات کرنے سے پہلے میں ماضی پر ایک نظر ڈالنا چاہتا ہوں۔ پچھلے 5 دہائیوں پر اگر نظر ڈالیں تو جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کی بجائے اسے تنزلی کی طرف لے کر گئے، معاشی طور پر پاکستان کو مقروض بنایا، اداروں میں سیاسی بھرتیاں کر کے اداروں کو تباہ و برباد کیا گیا، تعلیم پر توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی صحت کی بہتر سہولیات عوام کو دی گئی۔ سادا لفظوں میں اگر بتاوں تو ملک غریب ہوتا گیا مقروض ہوتا گیا اور حکمران امیر سے امیر تر ہوتے گئے، بیرون ملک جائیدادیں اور کاروبار بناتے گئے۔

    اور مزے کی بات کہ یہ حکمران ملک لُوٹتے رہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں تھا نہ عدلیہ اور نہ باقی ادارے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہر ادارے میں اپنے من پسند کے لوگ بھرتی کیے جو خود بھی کھاتے رہے اور ان چور حکمرانوں کے سہولتکار بھی بنے رہے۔ آج پاکستان کا ہر ادارہ مقروض ہے اور ہر ادارے میں کرپشن عروج پر ہے۔

    ایسے ایک محب وطن پاکستانی اٹھا جس نے ان چور حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کیا اور ایک طویل جدوجہد کے بعد اسے موقع ملا کہ وہ پاکستان پر حکمرانی کرے اس محب وطن اور ایماندار شخص کا نام ہے عمران خان۔ جب اسے حکومت ملی تو پاکستانی دیوالیہ کے قریب تھا دن رات محنت کرنے کے بعد ملک کو ایک بہتر سمت میں ڈال دیا لیکن یہ ممکن نہیں کہ 70-60 سال کا گند 5 سال میں صاف کیا جا سکے۔ عمران خان ایسے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جنکے اثارات کچھ سالوں کے بعد ظاہر ہوں گے اور ان منصوبوں کا فائدہ ہماری آنے والی نسل کو ہو گا جیسے شجرکاری بظاہر تو غیر مقبول منصوبہ ہے لیکن ماحولیات کے لحاظ سے انتہائی اہم جسے سابقہ ادوار میں نظر انداز کیا گیا، ڈیمز جو وقت کی ضرورت ہے ہر سال ہم اربوں روپے کا پانی ضائع کرتے ہیں اور اسے روکنے کا کوئی نظام نہیں ہمارے پاس موجودہ حکومت خاص توجہ دے رہی ہے اس پر اور ڈیمز سے سستی بجلی کی پیداوار میں کافی اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے یونٹ کے ریٹ کو کم کیا جا سکتا ہے اور لوڈ شیدڈنگ پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے۔ زراعت جسے سابقہ ادوار میں تباہ و برباد کر دیا گیا کسان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی کسان کو سہولیات فراہم کی گئی جس سے وہ اپنی پیداوار بڑھا سکے اور نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم ہر قسم کی چیز امپورٹ کرتے ہیں اور مہنگائی کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے۔ موجودہ حکومت نے پہلی بار کسان کو ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور سہولیات بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ زرعی پیداوار میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جا سکے۔ تعلیم جو کسی بھی معاشرے کی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے موجودہ حکومت تعلیمی نظام کی بہتری پر پوری توجہ دے رہی ہے تاکہ ہماری آنے والی نسل جدید تعلیمی نظام حاصل کر سکے۔ سابقہ ادوار میں صحت کی سہولیات نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی تھی لیکن آج ہر پاکستانی کو صحت انصاف کارڈ دیا جا رہا ہے جس کے زریعے اس کا مفت علاج کیا جا سکے گا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک انقلابی اقدام ہے موجودہ حکومت کا۔

    اس کے علاوہ بہت سارے ایسے منصوبے ہیں جو ہیں تو غیر مقبول منصوبے لیکن پاکستان کے بہتر مستقبل اور ترقی میں بہت اہم کردار ادا کریں گے اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنی اس تحریر کا عنوان "پاکستان کا مستقبل روشن ہے” رکھا ہے۔ بس اس کے لیے عوام کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وقتی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن ان شاء اللہ بہت جلد اچھے دن آئیں گے۔

    Article by: Farman Ullah
    Twitter ID: @ForIkPakistan

  • ‏آخر پٹرول اور ڈالر کی اتنی اونچی اڑان کیوں؟  تحریر: چودھری عرفان رانا

    ‏آخر پٹرول اور ڈالر کی اتنی اونچی اڑان کیوں؟ تحریر: چودھری عرفان رانا

    گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر دو چیزیں بہت زیادہ گردش کررہی ہے، جن میں سے ایک پٹرول اور دوسرا ہے ڈالر، لفظ پیٹرولیم لاطینی زبان کا لفظ ہے جس میں پیٹرا کے معنی چٹان اور اولیم کے معنی تیل کے ہیں، یعنی چٹانوں سے حاصل والی تیل، اور یہی تیل کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے تیل کو "کالا سونا” بھی کہا جاتا ہے پاکستان اپنے ضرورت کا 70 فیصد سے زائد تیل درآمد کرتا ہے، حکومت نے گزشتہ چند ماہ سے  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کافی حد تک اضافہ کیا، جس سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوا، ہر کوئی حالیہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے کافی پریشان ہے،ایسے میں جب ملک میں شرح مہنگائی پہلی ہی 11 فیصد سے تجاوز کر گئی، اس اضافے سے عوام پر کافی بوجھ بڑھ گیا ہے اور عوام ایک کمر توڑ مہنگائی کے نیچے دب گیا ہے، اگر ہم پٹرول کی بنیادی قیمت اور ان پر لگے ٹیکسز پر نظر دوڑائیں تو اس وقت ملک میں پٹرول کی قیمت 123.3 روپے ہے، جس میں پیٹرولیم لیوی 5.62 اور سیلز ٹیکس 11.76 ہے یعنی کل ٹیکس 17.38 اور پٹرول کی بنیادی قیمت 105.92 ہے، اس طرح کل بنیادی قیمت 123.3 روپے بنتا ہے، ن لیگ کی حکومت میں یہ ٹیکس کی شرح 52 فیصد تھا، کسی بھی ملک کی حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کی حساب سے طے کرتی ہیں، گزشتہ سال عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کافی گر چکی تھی، جس کی وجہ سعودی عرب اور روس کے درمیان تیل کی جنگ قرار دے دی گئی، یاد رہے سعودی عرب تیل نکالنے پر سب سے کم خرچ کرتا ہے اس لیے اس نے روس کی معیشت کو کمزور کرنے کے لیے عالمی منڈی میں ضرورت سے زیادہ تیل کی رسد شروع کی، جس کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں کافی گر گئی، جس کا زیادہ فائدہ چین کو ہوا کیونکہ چین تیل درآمد کرنیوالا دنیا کا پانچواں ملک ہے، تاہم روس کی معیشت پر تیل کی اتار چڑھاؤ کا زیادہ اثر نہیں ہوتا، 

    اب آتے ہیں ڈالر کی اونچی اڑان پر، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ڈالر کی اونچی اڑان ہے دنیا میں زیادہ تر تجارت ڈالر اور سونے میں ہوتا ہے، ہر ملک میں اوپن مارکیٹ ڈالر کی قیمت متعین کرتا ہے، جو قومی ریزرو اور ڈالر کی رسد اور کمی کو دیکھ کر متعین کیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ڈالر کا ریٹ  دو طریقوں سے متعین کیا جاتا ہے جسمیں سے ایک انٹر بینک اور دوسرا اوپن مارکیٹ ہے، انٹر بینک اپنے انڈر تمام بینکوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کرتا ہے، اور اسی طریقے سے بینکوں کے درمیان ڈالر کی خریدوفروخت ہوتی ہے، دوسرا طریقہ اوپن مارکیٹ ہے جہاں عام لوگوں کیلئے ڈالر کا ریٹ متعین کیا جاتا ہے، اس وقت پاکستان میں ڈالر کی قیمت 168 روپے کے آس پاس ہے،ڈالر کی قیمت میں اس اضافے سے بیرونی قرضوں میں 1170 ارب روپے کا اضافہ ہوا، اس طرح ڈالر کے بڑھنے سے شرح مہنگائی بھی بڑھ جاتی ہے، ڈالر کے معاملے میں سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ کیلئے اپنے ہدایات جاری کر سکتا ہے، لیکن سٹیٹ بینک حکومت کے پابند نہیں ہے, ڈالرکی ریٹ تب بڑھتا ہے جب ڈالرکی رسد کم اور ڈیمانڈ زیادہ ہوجاتا ہے، اس کی عمدہ مثال میلے میں ٹماٹر کی قیمت ہے، جب میلے میں ٹماٹر کم ہوجاتی ہے تو ریٹ زیادہ ہوجاتا ہے، اور جب باہر سے زیادہ ٹماٹر کی سپلائی میلے میں آجائیں تو پھر ٹماٹر کی قیمت کم ہوجاتی ہے، یہی مثال ڈالر کی بھی ہے، جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر کم ہو جاتے ہیں تو اس کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے سٹیٹ بینک اوپن مارکیٹ میں ڈالر بھیجتے ہیں،جس سے ڈالر کی قیمت کنٹرول ہوجاتی ہے  لیکن حکومت کے پاس ڈالر کا سٹاک جسے  فارن ریزرو کہا جاتا ہے کم پڑ جاتے ہیں، یہی طریقہ ڈالر کی مصنوعی قیمت برقرار رکھنا بھی کہلاتی ہے، یاد رہے اسحاق ڈار پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا، ڈالر کے ریٹ بڑھنے کی ایک وجہ افغانستان کی صورتحال ہے، جن کے ساتھ ہمارے برآمدات رک گئے ہیں اور یہاں کے ڈالر وہاں منتقل ہونا شروع ہو گئے ہیں، دوسری وجہ سٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے مطابق اس سال پاکستان کا 20 ارب ڈالر قرض کی واپسی ہے، اس لیے کرنسی ڈیلر ڈالر کی کمی اور قیمت بڑھنے سے بچنے کیلئے پہلے سے ڈالر خرید لیتے ہیں، تیسری وجہ درآمدات ہے جن میں کرونا ویکسین، گندم، چینی کپاس ، تیل اور مشینری جیسی درآمدی اشیاء شامل ہیں،اور یہی وجہ ہے کہ پچھلے ماہ پاکستان کی درآمدات 4 بلین ڈالرز سے بڑھ کر 6 بلین ڈالرز ریکارڈ کی گئی ہے، یاد رہے سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے ایک انٹرویو میں ڈالر اور شرح سود بڑھانے کی اصل وجہ درآمدات کو کنٹرول کرنا قرار دیا تھا،  چوتھی وجہ ڈالر کی بلیک مارکیٹ ہے، پانچویں وجہ ذخیرہ اندوزی ہے، چھٹی وجہ 30 جون کو ایمنسٹی اسکیم کی بندش ہے، اس اسکیم کے ذریعے بھی زیادہ ڈالر پاکستان منتقل ہوئے، یہ ہے کچھ وجوہات، پٹرول اور ڈالر کی ڈالر کی اونچی اڑان کی،یہ سارے وجوہات مہنگائی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں

    Chaudhry Irfan Rana Twitter

    ‎@Ipashtune

  • عالمی تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت  تحریر: محمد عمران خان

    عالمی تناظر میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت تحریر: محمد عمران خان

    کسی بھی ملک کی جغرافیائی حیثیت اس کو دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ کیونکہ جغرافیہ ہی واحد ایسی چیز ہے جو سماجی، معاشی اور علاقائی فوائد کا مظہر ہے۔ ہر ملک کسی نہ کسی بنیاد پر اپنے جغرافیے کی اہمیت رکھتا ہے۔ 

    جنوبی ایشیاء میں پاکستان کی جغرافیائی حیثیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان نے جب اپنے جغرافیے کے خطوط و نقوش کو دیکھا تو یقیناً یہ خداوند کریم کا ایک عظیم تحفہ تھا جو پاکستانی قوم کے حصے میں آیا۔ پاکستان کے مشرق میں روایتی حریف بھارت، مغرب میں افغانستان، شمال مشرق میں چین، شمال مغرب میں ایران اور جنوب میں بحیرہ عرب واقع ہے۔ چین کا ہمسایہ ہونا پاکستان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کیونکہ مستقبل قریب میں چین ایک نئی سپر پاور کے طور پر ابھرنے والی ریاست ہوگا اور دنیا کے تمام فیصلے یہیں ہوں گے۔ پاکستان کے برادر ممالک ایران اور افغانستان سے تعلق کچھ اچھے نہیں رہے۔ ایران سے اکثر و بیشتر پاکستان کے خلاف بیانات سننے کو ملتے رہتے ہیں۔ افغانستان کی سرزمین پاکستان میں بدامنی اور دہشتگردی کا باعث بنتی رہی ہے۔ 

    وسطی ایشیائی ممالک اور روس کو سمندر کے ایسے ساحل کی ضرورت ہے جو بارہ مہینے تجارت کے لئے موزوں ہو۔ پاکستان کے پاس کراچی اور گوادر کے شاندار ساحل موجود ہیں جو پورا سال آپریشنل رہتے ہیں۔ اسی طرح روس اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو تجارت کے لئے پاکستان کی بندرگاہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب روس نے 70 کی دہائی میں افغانستان پر حملہ کیا تھا تو تب بھی اس کا واحد مقصد افغانستان کو فتح کرکے پاکستان کے ساحل پر قبضہ جمانا تھا مگر پاکستانی ایجنسیوں نے بروقت ایکشن لیا اور روس کو افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیا۔ اسی طرح افغانستان کی سمندری تجارت بھی پاکستان کی بندرگاہوں سے ہوتی ہے۔ وسطی ایشیائی ممالک گیس کی پیداوار سے مالامال ہیں لہٰذا پاکستان نے بھی گیس درآمد کرنے کے لیے ان ممالک کا انتخاب کیا ہے جس میں تاجکستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا شامل ہیں۔ یہ گیس پائپ لائن خطے کے ممالک کے درمیان انتشار اور دشمنی کو ختم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ 

    جب 9/11 کا واقعہ ہوا تو امریکہ کو افغانستان میں جنگ کے لیے افغانستان کے قریبی ممالک سے ہوائی اڈے درکار تھے۔ تب بھی پاکستان نے اپنے ہوائی اڈے امریکہ کو فراہم کرنے کی غلطی کی۔ مگر امریکی آج تک اڈے فراہم کرنے پر پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے تاکہ خطے کو دہشتگردوں سے پاک کیا جاسکے۔ 

    اسی طرح چین کو سمندر کی تجارت کے لئے پاکستان کی بندرگاہوں کی ضرورت ہوئی تو پاکستان نے سی پیک جیسا منصوبہ شروع کرکے پرانی دوستی کو مزید مضبوط کرنے کا سامان کرلیا۔ سی پیک میں روس سمیت خطے کے کئی ممالک شرکت کے خواہش مند ہیں تاکہ وہ اپنی تجارت کو بڑھا سکیں۔ پاکستان نے بھی فراخدلی سے خطے کے دوست ممالک کو اس عظیم الشان منصوبے میں شامل کرنے کے سگنل دیے ہیں۔ حال ہی میں امریکہ کے افغانستان سے انخلاء کے بعد خطے میں پاکستان کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں پھنسے عالمی برادری کے سفیروں، آفیشلز اور باشندوں کو نکالنے کے لیے دن رات محنت اور جانفشانی سے کام لیتے ہوئے محفوظ طور پر ان کا انخلا مکمل کیا۔ دنیا کے کئی ممالک کے سربراہان نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح افغانستان کی عوام کے لیے پاکستان نے راشن اور ادویات باہم پہنچانے کا بندو بست کیا ہے تاکہ عوام کو انسانی ہمدردی کے تحت ہر ممکن مدد فراہم کی جاسکے۔ امریکی بھی پاکستان کے تعاون پر شکر گزار نظر آئے۔

    پاکستان کی جغرافیائی اہمیت پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے۔ دنیا کو پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کو تسلیم کرنا ہوگا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانا ہوگی تاکہ نیو ورلڈ آرڈر جو کہ چین ترتیب دے گا اس میں پاکستان کی حمایت کے ساتھ وہ ممالک اپنا اچھا وقار حاصل کرکے چین کی مدد کے حق دار بن سکیں