Baaghi TV

Category: سیاست

  • عمران احمد خان نیازی کی بائیوگرافی تحریر علی اصغر خان         

    عمران احمد خان نیازی کی بائیوگرافی تحریر علی اصغر خان        

                           

              

    عمران خان کا جنم سنہ 1952 لاہور میں ایک پشتون گھرانے میں ہوا بچپن سے کافی زیادہ محنتی تھے عمران  نے 19 سال کی عمر  1971 میں اپنے انٹرنیشنل کرکٹ کا آغاز کیا اسی دوران سنہ 1975 میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے اپنی گریجویٹ کی ڈگری حاصل کی اپنے کیریئر کے دوران بہت سارے نشیب و فراز ان کے سامنے آئے انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران اس وقت کی بہترین ٹیموں کے  ساتھ کرکٹ کھیلی یہ وہ وقت تھا جب ویسٹ انڈیز کو کالی آندھی کے نام سے جانا جاتا تھا اور بڑے بڑے بولرز ز اس ٹائم ہوا کرتے تھے اور ان بڑے بڑے ناموں میں عمران خان نے اپنا نام بنایا یا اور پاکستان کا نام بھی روشن کیا اس کے علاوہ نیو ٹرل امپائر ر متعارف کروائے  اس کے علاوہ عمران خان سن 1982 سے لے کر سن 1992 تک پاکستان کی ٹیم کے کپتان بھی رہے ہے پاکستان کرکٹ ٹیم نے واحد ورلڈ کپ انیس سو بانوے میں عمران خان کی قیادت میں جیتا انیس سو اکانوے میں عمران خان نے  اپنی والدہ کی یاد میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بنیاد بھی رکھی انیس سو چورانوے میں انہوں نے شوکت خانم کینسر ہاسپٹل لاہور کو کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس کے بعد دوسرا شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال پشاور میں سن 2015 میں بنایا گیا عمران خان نے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد انیس سو چھیانوے میں پاکستان تحریک انصاف پارٹی کی بنیاد رکھی  1996 میں عمران خان کے جلسے بہت بڑے تھے لیکن پاکستان تحریک انصاف بدقسمتی سے سے کوئی بھی سیٹ حاصل نہ کر سکی عمران خان کو کو اپنی سیٹ پر مشہور اینکر طارق عزیز نے شکست دی بعد ازاں ایک پروگرام میں طارق عزیز سے جب پوچھا گیا کہ آپ کو کس پر یقین ہے جو پاکستان کے حالات میں بہتر کر سکتا ہے اس سوال کہ جواب میں طارق عزیز کا جواب تھا جس کو میں نے آپنے پہلے الیکشن ہرایا تھا پھر 1999 اس وقت کے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے  ایمرجنسی نافذ کردی گئی عمران خان جنرل مشرف کی ایمرجنسی کے خلاف تھے( اس کے بعد سن 2001 میں جب امریکا افغانستان میں داخل ہوا اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پکڑنے کے لیے لئے تو واحد لیڈر عمران خان تھے جنہوں نے یہ کہا کہ افغان مسئلے کا حل جنگ  نہیں بلکہ کہ مذاکرات سے ممکن ہے اس کے علاوہ کافی موقع پر انہوں نے یہی بیان د یا آخر کار  20 سال کے بعد عمران خان کا وہ بیان سچ ثابت ہوا اور آج امریکہ افغانستان سے پوری طرح جا چکا ہے ہے)  پھر 2002 میں الیکشن ہوئے 2002 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو (صرف ایک سیٹ ملی اور وہ عمران خان کی اپنی سیٹ تھی اس طرح عمران خان پہلی بار قومی اسمبلی میں میں بطور ممبر نیشنل اسمبلی پہنچ گئے اس کے بعد 2008 کے جنرل الیکشن میں عمران خان نے اور ان کی پارٹی نے مکمل بائیکاٹ کر دیا اس کے بعد عمران خان اپنی پوری سیاسی طاقت کے ساتھ میدان میں اترے اور انہوں نے بہت بڑے بڑے جلسے کرنا شروع کر دیئے 2010 سے لیکر 2018 تک انہوں نے بہت زیادہ محنت کی 2013 کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو پہلی بار پختونخوا میں میں حکومت مل گئی مگر خان کا خواب یہ نہیں  تھا عمران خان نے مزید محنت اور جدوجہد کی اور چار حلقوں کو کھولنے کا کہا ان کا ماننا تھا کہ یہ چار حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے مگر مسلم لیگ نون کی حکومت نے وہ چار حلقے کھولنے سے انکار کر دیا عمران خان کی سیاست شروع کرپشن ختم کرو سےہوتی ہے جو بھی حکومت ہو اس کو انصاف کرنا چاہیے کرپشن اگر اوپر سے لیڈر کرتا ہے تو نیچے والے لوگوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا اس کے بعد آخر کار سال 2018 آیا اور عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف نہ صرف وفاق میں بلکہ پنجاب میں اور پہلی بار ایسا ہوا کہ خیبرپختونخوا میں یکے بعد دیگرے دوسری بار پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آگئی عمران خان وزیر اعظم پاکستان پہنچ چکے تھے کرکٹ میں جب آئے اس کے بعد 22 سال کے لمبے انتظار کے بعد عمران خان نے پاکستان کو ورلڈ چیمپیئن بنوایا اسی طرح 1996 میں جب سیاست میں آئے تو ٹھیک 22 سال کے بعد 2018 میں  پاکستان کے وزیر اعظم بن گئے یہ سفر یہیں پر ختم نہیں ہوا اس کے بعد بھی پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں مزید کامیابیاں سمیٹیں جن میں گلگت بلتستان کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کو فتح ملی اور اس کے بعد حال ہی میں ہوئے آزاد کشمیر کے الیکشن میں بھی پاکستان تحریک انصاف نے سادہ اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی انشاءاللہ 2023 میں پاکستان تحریک انصاف سندھ پنجاب بلوچستان خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان اور آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی 

    Twitter account @Ali_AJKPTI

  • میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا  امتحان، تحریر: نوید شیخ

    میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا امتحان، تحریر: نوید شیخ

    خبریں تو بہت ہیں لیکن اس حکومت کے لیے مسئلہ نمبر ون میڈیا بنا ہوا ہے ۔ آج کی بھی خبریں اور وزراء کے بیانات صرف یہ ہی تھے کہ کیسے بے لگام میڈیا کو لگام ڈالی جائے ۔ یہ حکومت اپنی کارکردگی ، وزراء اور مشیروں کا احتساب کرنے کو تیار نہیں ۔ پر میڈیا کے ہاتھ پاوں باندھا اپنا اولین فرض سمجھتی ہے ۔

    معیشت کو ٹھیک کرنے اور پاکستان کو پتہ نہیں کیا بنانے کے جو دعوے کیے جاتے ہیں اس کی حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی اعلی کارکردگی سے ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 170روپے کے قریب پہنچ گیا ۔ جس سے سٹاک مارکیٹ میں 1کھرب ڈوب گئے ہیں ۔ جی ہاں ایک کھرب روپے ۔ یہ وہ خبر ہے جو حکومت سمجھتی ہے کہ فیک نیوز ہے ۔ ایسے جب پیڑول ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ جاتا ہے تو حکومت سمجھتی ہے کہ یہ بھی فیک نیوز ہے ۔ بجلی آٹے چینی کی قیمتوں میں اضافے کو بھی حکومت فیک نیوز کی نظر دے دیکھتی ہے ۔ حقیقت اور کھرا سچ یہ ہے کہ یہ حکومت ہی فیک ہے۔ اس کے کنڑول میں نہ تو اس کے اپنے وزیر ہیں نہ ہی بیوروکریٹ ۔ اور مافیاز تو اس حکومت کو استعمال کرتے ہیں ۔ ان کو کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس میں نہیں یہ سچ آپ بتائیں گے تو آپکو غداری سے لے کر پٹواری جیالے سمیت پتہ نہیں کیا کیا طعنے دیے جائیں گے ۔ آپکو کہا جائے گا کہ آپ بھارت چلے جائیں ۔ آپ ایجنٹ ہیں۔ آپ بتائیں گے کہ ملک میں بے روزگاری ، مہنگائی اور کرائم بڑھ رہا ہے ۔ آپ کہیں گے کہ عثمان بزدار اورمحمود خان ٹکے کا کام نہیں کررہے۔ تو یہ اپنی سوشل میڈیا ٹیمیں آپکے پیچھے لگا دیں گے جو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر آپکو لعن طعن کریں گے ۔ یہ آپکو لفافہ کہیں گے ۔ یہ آپکو ننگی گالیاں دیں گے ۔ یہ آپکی ایسی کردار کشی کریں گے کہ آپ اپنی ہی نظروں میں گر جائیں گے ۔

    مجھے یہ کہتے ہوئے رتی برابر بھی نہ خوف ہے نہ ڈر ہے کہ سوشل میڈیا کا سب سے پہلے اور سب سے زیادہ غلط استعمال پی ٹی آئی نے کیا۔ بلکہ باقی جماعتوں نے ان کی دیکھا دیکھی میڈیا سیل بنائے ۔ یہ واحد جماعت تھی جس نے کئی سال قبل برطانیہ، امریکہ ،سنگاپور اور یورپ میں خصوصی اور خفیہ سوشل میڈیا سیل قائم کئے تھے جو فیک اکائونٹس سے نقادوں کی کردار کشی کرتے رہے۔ ملک کے اندر مختلف اہم لیڈروں نے سوشل میڈیا کے اپنے اپنے سیٹ اپ بنائے ۔ جبکہ عمران خان اور پی ٹی آئی کی تنظیم کے سوشل میڈیا کے سیٹ اپس اس کے علاوہ تھے ۔ تو اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی فیک ٹرولنگ سے مجھے کوئی فرق پڑے گا تو یہ غلطی پر ہیں ۔ مجھے معلوم ہے کہ سب سے زیادہ فیک نیوز حکومتی پارٹی خود پھیلاتی ہے ۔ میرا کام ہے یہ بتانا کہ لوگ کس حال میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ کن مشکلات کا سامنا کررہے ہیں ۔ کن اذیتوں میں مبتلا ہیں ۔ اور میں اپنے کام سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا لگے ۔ آپ جا کر میری گزشتہ ویڈیوز دیکھیں لیں ۔ کمنٹس پڑھ لیں ساری کہانی آپکو معلوم ہوجائے گی ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اس وقت نواز شریف اور آصف زرداری کے کرپشن اسکینڈلز سے لے کر بری گورننس کو ایکسپوز کیا جب وہ حکومت میں تھے ۔ ہم آج بھی کئی کیس اس دور کے بھگت رہے ہیں ۔ ہم پر حملے ہوئے ۔ ہم نوکریوں سے نکالے گئے ۔ لفافے لینے ہوتے تو نواز شریف سے زیادہ کون دے سکتا تھا ۔ میں نے اور میری ٹیم نے اکیلے مریم کے میڈیا سیل کو ٹکر دیے رکھی ۔ تو میں اور میری ٹیم ان سے نہیں ڈری تو یہ جو جھوٹی ٹرولنگ میری کی جارہی ہے ۔ یا مجھے اور میری ٹیم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے ۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں میں سچ بولوں گا ۔ کیونکہ مجھے ہے حکم اذان

    ہ مالشیوں اور پالشیوں کی تو ہی دور میں ہی آؤ بھگت ہوتی ہے ۔ معذرت کے ساتھ میں یہ نہیں کروں گا ۔ یہ میں بتادوں کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی پاکستان کے میڈیا کے خلاف ایک بہت بڑی سازش ہے ۔ اگر یہ قانون بن گیا تواس کے بعد حکومت پر تنقید کرنا ناممکن ہوجائے گا۔ صرف اخبار نہیں اور الیکٹرونک چینلز نہیں بلکہ سوشل میڈیا کا کنٹرول بھی حکومت کے ہاتھ میں آجائے گا۔ اس کالے قانون کے لئے عمران خان اور ان کے ترجمان یہ بھونڈی دلیل دے رہے ہیں کہ وہ فیک نیوز کا خاتمہ چاہتے ہیں حالانکہ سب سے زیادہ فیک نیوز خود یہ حکومت پھیلارہی ہے ۔ شائد پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بارعوام نے یہ افسوسناک منظر دیکھا ہے کہ کسی وفاقی وزیر نے بے دریغ اور بلا جھجک الیکشن کمیشن آف پاکستان پر پیسے لینے کی سنگین تہمت عائد کی ہے۔ کیا وفاقی وزیر کے پاس ثبوت ہیں ۔ کیا یہ فیک نیوز نہیں ہے ۔ اپوزیشن سمیت سب عوام اس الزام پر ہل کر رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت اُس سیاسی جماعت کا نام بتائے جس نے الیکشن کمیشن کو بطورِ رشوت پیسے دیے ہیں۔ اس پرحکومتی وزیر کہتے ہیں کہ ہم کو بلیک میل کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خلاف میڈیا پر کمپین چلائی جارہی ہے ۔ سچ یہ ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں آٹا ، چینی ، گھی ، بجلی ، دوائیوں ، پیٹرول مافیا پر اس حکومت کے بیانات اور فیک نیوز کی ایک داستان ہے جس پر اگرکوئی کتاب لکھنے بیٹھے تو صحفے کم پڑجائیں ۔ حکومت اگر فیک نیوز کا خاتمہ چاہتی ہے تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جن لوگوں کے خلاف ہتک عزت کے کیسز چل رہے ہیں ۔ قانون بنا دے کہ ان کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر ہونا چاہئے ۔ آج بھی تمام حکومتی وزیر ڈھٹائی سے کہتے رہے کہ حکومت کو غلط خبر نشر ہونے پر صحافتی ادارے پر 25 کروڑ جب کہ صحافی پر ڈھائی کروڑ روپے تک جرمانے اور تین سال قید تک سزا دینے کا اختیار ہونا چاہیے ۔ سوال یہ ہے کہ آپ یہ پتہ کیسے لگائیں گے کہ فیک نیوز کونسی ہے؟ کیا فیک نیوز وہ ہوگی جسے حکومت کہہ دے کہ یہ فیک نیوز ہے۔ یعنی حکومت جسے سچ قرار دے، وہ ہی سچ ہو گا۔

    ویسے بھی کون سا صحافی ہے جو چاہے گا کہ وہ فیک نیوز دے ۔ اس ملک میں خبر کی حرمت کی خاطر صحافیوں نے صرف ماریں نہیں کھائیں اپنے گلے تک کٹوائے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے دور میں میڈیا کی شکل بگاڑنے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ۔ اُن سے کون واقف نہیں۔ کئی چینل و اخبارات سخت مالی دباؤ کا شکار ہوکر بند ہوگئے ہیں ہزاروں صحافی بے روز گار ہوگئے اور کئی ادارے مقروض ہوگئے۔ پاکستان صحافت کے حوالے سے عالمی رینکنگ میں 138ویں پوزیشن سے145ویں پوزیشن پر چلا گیا ہے ۔ سچ یہ ہے کہ اس حکومت نے خود ایک فیک نیوز کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ اس حکومت میں جو جتنا جھوٹ بولے ۔ جو جتنے اچھےطریقے سے مخالفین کو لتراڑے اس کو اتنا ہی اچھا عہدہ مل جاتا ہے ۔ اس حکومت نے چن چن کر بدتمیز ، اخلاق سے گری گفتگو کرنے والوں ، رنگ بازوں اور نااہلوں کی فوج کو جمع کر رکھا ہے ۔ جس کا کام بس روز دن میں دس دفعہ میڈیا پر آکر لوگوں کی کردار کشی کرنا ہے ۔یعنی جتنا لُچا اتنا اُچا۔ میڈیا پر اس قدر پابندیاں تو شاید ڈکٹیٹر شپ کے دور میں بھی نہیں لگی تھیں جتنی آج لگائی جا رہی ہیں ۔ لہٰذا حکومت، عمران خان اور پی ٹی آئی کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ حد سے آگے نہ بڑھے۔ کیونکہ نہ یہ حکومت صدا رہنے ہے ۔ نہ عہدے صدا رہنے ہیں ۔ نہ کرسی صدا رہنی ہے ۔ دراصل پی ٹی آئی کی حکومت اپوزیشن کے ساتھ ساتھ ملکی میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ اس خواہش کا عملی اظہار پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالتے ہی کر دیا تھا۔ پچھلے تین برسوں کے دوران بھی خان صاحب کی حکومت ملکی میڈیا کو زیرکرنے اور اپنے ڈھب پر کرنے کی لاتعداد کوششیں کر چکی ہے۔ کئی صحافی اور میڈیا ورکرز لمبے حکومتی ہاتھوں کا ہدف بنے ہیں۔ یہ میڈیا ورکرز اور پریس کلبوں کے عزم کا بھی امتحان ہے۔ اپوزیشن کی ساری قیادت اور ملک کی نمایاں وکلا تنظیموں نے بھی میڈیا ورکرز کے اس احتجاج میں شرکت کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ دیکھتے ہیں یہ وعدہ کہاں تک ایفا ہوتا ہے

  • کنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی  تحریر: سیف الرحمان

    کنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی تحریر: سیف الرحمان

    سال 2018کے جنرل الیکشن کے بعد پاکستانی سیاست کا رخ ہی بدل گیا ہے۔ اس وقت پانچ سکنٹونمنٹ انتخاب یا خطرے کی گھنٹی

    تحریر: سیف الرحمانال کے بچے سے لے کر ستر سال کے بزرگ تک ہر شخص کی پاکستانی سیاست پہ نا صرف گہری نظر ہے بلکہ وہ بذاد خود کسی نا کسی صورت حصہ بھی لیتے نظر آ رہے ہیں۔ جنرل الیکشن پانچ سال کیلئے ہوتے ہیں۔ ان پانچ سالوں میں خالی ہونے والی نشستوں پر ضمنی الیکشن اور بلدیاتی الیکشن بھی ہوتے ہیں۔ ضمنی اور بلدیاتی الیکشن سے سیاست کے بدلتے رنگ اور لوگوں کے رجحان کا بھی پتا چلتا  رہتا ہے۔ 

      سابقہ ادوار میں    تمام  سیاسی حکومتوں نے پاور میں  آ کر بلدیاتی اداروں کو  تقریبا مفلوج کئے رکھا ۔ اگر دیکھا جائے تو ڈکٹیٹر شپ میں  نا صرف  باقاعدگی سے بلدیاتی انتخابات کرائے جاتے رہے بلکہ  ان کو اختیارات اور فنڈز بھی  ملتے رہے۔ سیاسی حکومتیں جنہیں سب سے زیادہ توجہ بلدیاتی اداروں پر دینی چاہیے انہوں نے بلدیات کو ہمیشہ پس پردہ رکھا۔ عوامی نمائندوں کو اختیارات اور فنڈز کی ترسیل روکے رکھی۔

    اس وقت دیکھا جائے تو  ایک بار پھر بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں  شروع ہو چکی ہیں۔ اس کا  پہلا مرحلہ کنٹونمنٹ اداروں کے الیکشن سے مکمل ہوا۔کنٹونمنٹ بورڈز کے 206وارڈز میں جنرل ممبر نشستیں جیتنے کیلئےکل 1513امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔

    پنجاب کے انیس کنٹونمنٹ بوڈز کی ایک سو بارہ وارڈز میں 878امیدواروں نے حصہ لیا۔

     سندھ کے آٹھ کنٹونمنٹ بورڈز کی 53وارڈز میں چارسو اٹھارہ امیدواروں نے حصہ لیا۔

     خیبر پختون خواہ  کے نو کنٹونمنٹ بورڈز کی تینتیس وارڈز میں ایک سو ستر واروں امید واروں  نے حصہ لیا۔

      اسی طرح بلوچستان کے تین کنٹونمنٹ بورڈز کی آٹھ وارڈز میں سنتالیس امیدواروں نے حصہ لیا۔

     بعض لوگ اس  الیکشن کے نتائج کو اگلے جنرل الیکشن میں کسی بڑی تبدیلی سے مشروط کر رہے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ کنٹونمنٹ کا علاقہ زیادہ وسیع نہیں ہوتا  یہ چند شہروں تک محدود ہوتا ہے اور  یہاں کا ووٹر بھی  گلی محلے کے ووٹر زسے مختلف ہوتا ہے۔ بہرحال یہ بات تو طے ہے کہ بلدیاتی الیکشن کی ہار جیت سےسیاسی جماعتوں  اور دوراندیش لیڈروں کوآئندہ آنے والے عام انتخابات  کیلئے ایک بار سوچنے پر ضرور مجبور کر دیتی ہے۔

    اس وقت پیپلز پارٹی گراؤنڈ سے مکمل غائب نظر آ رہی ہے۔ سندھ کے علاوہ باقی سارے ملک میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بینک بہت بری طرح متاثر ہوا پڑا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سن دو ہزار   آٹھ سے  دو ہزارتیرہ تک پانچ سال کا طرز حکمرانی  ہے۔  اس دور میں کرپشن  اور بدترین گورننس  جیسے الزامات نے پیپلز پارٹی کو تقریبا سندھ تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔ ایسے تمام خاندان جو ایک وقت میں جیالے ہوا کرتے تھے ان سے مایوس ہو کر تحریک انصاف کے ووٹر بن گئے۔ آپ کہہ سکتے ہوپیپلز پارٹی کا ستر فیصد ووٹر اس وقت تحریک انصاف کا نا صرف ووٹر ہے بلکہ انکی آنے والی نئی نسلوں نے بھی اپنا سیاسی سفر تحریک انصاف اور عمران خان کو بطور لیڈر تسلیم کرتے ہوئے شروع کر لیا ہے۔ 

    اگر بات کی جائے  مسلم لیگ ن  کی تو وہ اس معاملے میں بہت شاطر اور دور اندیش نظر آتی ہے۔ن لیگ کی اعلی قیادت پر کرپشن کے الزامات ثابت ہونے کے باجود  انہو ں  نےکائونٹر کرنے کی بہتر  حکمت عملی بنائی۔ نوجوان ووٹر  کو اپنی طرف متوجہ رکھنے  کے لئے مختلف  حربے اپنائے ۔بڑی ہوشیاری سے  چند  الیکٹ ایبلز کو پی ٹی آئی سے توڑ کر ن لیگ میں شامل کیا۔جس کی مثال  ڈی جی خان کے لغاری خاندان اور ملتان سے سکندر بوسن، جہانیاں گردیزی وغیرہ ہیں۔   اس کے علاوہ شہباز شریف کا پرو فوج گروپ میں رہنا اور نواز شریف اور مریم کا فوج مخالف ہونا بھی سیاسی حربہ اور ووٹر کی کسی دوسری طرف راغب ہونے کی کوشش کو ناکام بنانے کا حربہ نظر آتا ہے۔

    اگر دیکھا جائے تو تحریک انصاف کیلئے  موجودہ کنٹونمنٹ الیکشن کے  نتائج خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت  کو یقین تھا کہ  کام کرو نہ کرو لوگ عمران خان کے نام پہ ضرور ووٹ دیں۔مگر حقیقت تلخ ہے۔عوام سمجھدار ہو چکی ہے۔ آپ اندازہ لگائیں تحریک انصاف نے اپنے کئی مضبوط علاقوں سے شکست کھائی ہے اور بعض جگہوں پر تو بہت ہی  بدترین شکست ہوئی ہے۔ راولپنڈی میں تحریک انصاف نے پچھلے انتخابات میں ایک طرح سے سوئپ کیا تھا اور  اس بار چکلالہ پنڈی سے انہیں بہت بری طرح  شکست ہوئی ہے۔ آپ  واہ کینٹ  کو دیکھ لیں وہاں بھی  تحریک انصاف کو اچھا خاصہ ڈنٹ پڑا ہے۔ اگر لاہور  کی بات کی جائے تو وہاں انکی قیادت خواب خرگوش میں شادیانے بجاتی نظر آ رہی تھی ۔ میں نے الیکشن سے پانچ دن پہلے بلدیات کے ایک فوکل پرسن کو بتایا کہ لاہور میں تحریک انصاف کیلئے کچھ اچھے حالات نظر نہیں آ رہے تو انہوں مجھے جواب دیا کہ ہم آدھی سے ذیادہ سیٹیں آسانی سے جیت لیں گے۔ مجھے اس وقت بھی ان کی یہ بات بہت عجیب لگی لیکن پھر یہ سوچ کر بات دوبارہ سوال نہیں کیا  کہ شاہد ان لوگوں نے اندر کھاتے کچھ بہتر سوچ رکھا ہو گا۔

    لاہور کینٹ کے علاقے میں پی ٹی آئی کا ووٹ کافی ذیادہ ہے۔ اندرون لاہور  کی اگر بات کی جائے جس میں باغبان پورہ اور اچھرہ وغیرہ کے علاقے شامل ہیں کم ہے۔ لاہور کینٹ میں ن لیگ نے جتنا ووٹ لیا اس کی امید شاہد خود تحریک انصاف کو  بھی نہیں تھی ۔

      اگر بات کی جائےملتان  کی تو تحریک انصاف کو بہت بری طرح  شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ملتان میں ذیادہ طرح آذاد  امیدواروں نے میدان مارا ہے۔ اس پہ شاہ محمود قریشی کے سیاسی مستقبل پر بھی سوالیہ نشان اٹھ  رہا ہے کیونکہ ملتان شاہ صاحب کا حلقہ ووٹ اور پہچان سمجھا جاتا ہے۔

    بعض لوگ کہتے پھر رہے ہیں کہ جو آذاد امیدوار جیتے ہیں وہ بھی ہمارے ہی لوگ تھے تو یہاں ٹکٹ دینے والوں پہ سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو ٹکٹ ہی کیوں دیتے ہو جن کا ووٹ بینک ہی نہیں ہوتا۔ کیا یہ مقامی تنظیم کی ناکامی نہیں؟

     اگر بات کی جائے  کھاریاں کینٹ اور بہاولپور  کینٹ کی تو یہاں  تحریک انصاف نے عزت بچا لی ۔ اگر ان دو علاقوں کا رزلٹ بھی ویسا ہی آتا جیسا باقی  پنجاب کی جگہوں سے آیا تو پھر  پنجاب میں ان کا صفایا ہوجانا تھا۔ کھاریاں میں تحریک انصاف نے توقع سے ذیادہ اچھا رزلٹ دیا ۔

     اگر بات کی جائے پشاور کی تو یہاں  پی ٹی آئی  کوکلین سویپ کرنا چاہئے تھا  کیونکہ  عام انتخابات میں تحریک انصاف  نے پشاور  سے سوئپ کیا تھا۔ اس بار پشاور میں تحریک انصاف ذیادہ اچھا رزلٹ نہ دے سکی۔ پشاور کے علاوہ  نوشہرہ میں بھی تحریک انصاف کو بہت  نقصان ہوا۔ اتنے اچھے رزلٹس نہیں آئے جتنے کے پی سے توقع کی جا رہی تھی۔ بہر حال کے پی نے  تحریک انصاف کو سہارا دیا ہےورنہ پنجاب  میں ن لیگ نے تحریک انصاف کو شکست دی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہو کہ پنجاب میں عمران خان کیلئے خطرے کی گھنٹی بچ چکی ہے۔ 

     اب آتے ہیں کراچی کی طرف کراچی نے ایک بار پھر تحریک انصاف پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا ۔ کراچی میں تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کو کافی ٹف ٹائم دیا۔ مجموعی طور پہ کراچی کے رزلٹ تحریک انصاف کیلئے بہت اچھے رہے ہیں۔ سندھ میں مجموعی طور پر ان کی نشستیں ذیادہ ہیں، مگر کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ جہاں سے تحریک انصاف کو جیتنا چاہیے تھاوہاں سے ہار گئی۔ یاد رہے  کلفٹن سے پی ٹی آئی  عام انتخابات میں بھی  نشستیں نکالتی رہی ہے اور یہاں پر پارٹی کے اہم لیڈروں کے گھر بھی ہیں۔ عمران خان کو سوچنا ہو گا کہ کسی کمزور  کپتان کی قیادت میں کبھی ٹیم جیت نہیں  سکتی۔ پنجاب میں کنٹونمنٹ بورڈ کے نتیجہ نے پنجاب کے مستقبل پر سوالیہ نشان چھوڑ دیا۔اگر کسی کو کوئی شکوک و شہبات ہیں تو آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں کلیئر ہو جائے گا۔

     عمران خان نے پنجاب ٹیم  کیلئے جو کپتان چن رکھا ہے لگ رہا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں اس کپتان(عثمان بزدار ) نے ساری تحریک انصاف کو دیوار میں چن کے رکھ دینا ہے۔ شرافت اور ایمانداری کیساتھ بندے کی سیاسی ساخت اور قدکاٹھ ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جو بدقسمتی سے ابھی تک بزدار صاحب کے اندر نظر نہیں آ رہا۔

    اگر ہم بات کریں مسلم لیگ ن کی تو اسکی  مجموعی نشستیں تحریک انصاف سے کچھ کم  ہیں لیکن  ن لیگ  کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں واضح طور پر اپنی برتری ثابت کردی۔ رہی سہی کثر آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں پوری ہو جائے گی۔دیکھا جائے تو  ن لیگ کی درجہ اول اور درجہ دوئم کی  قیادت  اس وقت سخت دباؤمیں ہے۔یہ سب کے سب مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ نواز شریف تاحیات ناہل اور عدالتی مفرور ہے۔ مریم نواز خود نااہل اور سزا یافتہ مجرم ہیں۔ ایسے برے حالات میں بھی  اتنی اچھی کارکردگی دکھانا قابل تحسین ہے۔اس سے یہ بھی  ثابت ہوا کہ عمران خان اور ان کے حامی اپنی تمام تر کوششوں  کے باوجود ن لیگ کو پنجاب سے آؤٹ نہیں کر سکے۔ن لیگ کی  راولپنڈی کی  اچھی کارکردگی بونس پوائنٹ کے طور پر دیکھی جا رہی ہےگوجرانوالہ اور کھاریاں کی شکست نے  ن لیگ کو سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہو گا۔ کیونکہ گجرانوالہ ن لیگ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے ہار کا مطلب ن لیگ کی بنیادیں کھوکھلی ہونے کے معترادف ہے۔ن لیگ نے اس بار کراچی میں نشستیں لے کر سب کو حیران کر دیا۔کیونکہ سندھ میں ن لیگ کا کوئی خاص ووٹ بینک نہیں ہے۔ن لیگ بھی پی پی کی طرح صوبائی جماعت بنتی جا رہی ہے   ۔ کے پی ,  سندھ اور بلوچستان میں ن لیگ کو بہت محنت کرنی پڑے گی۔

    اگر دیکھا جائے تو پیپلزپارٹی کے لئے یہ موجودہ الیکشن  سخت مایوس کن ثابت ہوئےہیں۔ لگ رہا ہے کہ   پیپلزپارٹی صرف سندھ کی جماعت بن کر رہ گئی ہے۔ بلاول بھٹو ذرداری نے پنجاب میں محنت بھی کی ۔ کافی جلسے وغیرہ بھی کئے ۔ جنوبی پنجاب میں یوسی لیول تک جلسوں سے خطاب بھی کئے لیکن رزلٹ صفر جمع صفر برابر صفر ہی آیا۔اگلے عام انتخابات سے پہلے انہیں قومی سطح پر تاثر جمانے کے لئے بہت محنت کرنا ہوگی۔ کوئی نیا منشور پیش کرنا ہوگا۔ اپنے اوپر سے کرپشن کے لیبل ہٹانے ہوں گے۔ سب سے اہم بات سندھ میں گورننس بہتر کرنی ہو گی۔ اگر سندھ میں طرز حکمرانی بہتر کر لی تو شاہد باقی صوبوں میں بھی ووٹ بینک بن پائے۔ تحریک انصاف نے وفاق سے پہلے کے پی میں حکومت کی اپنا لوہا منکوایا ۔ لوگوں کو اعتماد دیا کہ ہمیں ووٹ دو ہم تبدیلی لے کر آئیں گے۔ بلاول کو بھی سندھ سے شروعات کرنا ہو گی۔  جس دن عوام نے سندھ میں تبدیلی محسوس کی بلاول کو ووٹ مانگنے میں دشواری نہیں ہو گی۔

    اگر بات کی جائے مولانا فضل الرحمان صاحب کی جماعت کی تو جے یو آئی کیلئے یہ الیکشن بہت ہی برا رہا۔ ایسا لگ رہا ہے کہ مولانا صاحب کی پارٹی صرف رینٹ اے  جلسہ کی حد تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔  مولانا فضل الرحمن  صاحب کی جماعت کو سب سے ذیادہ نقصان پی ڈی ایم کی وجہ سے ہوا ہے۔

    اگر  بات کی جائے اے این پی  کی تو انہوں نے اس  بلدیاتی  الیکشن میں بہت  محنت کی اور پشاور میں بہترین کارکردگی دکھائی۔  اب آئندہ بلدیاتی انتخابات میں دیکھنا ہوگا کہ اے این پی کہاں کھڑی ہے اور اسے کتنے ووٹ ملتے ہیں؟ اگر اے این پی آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں بھی بہتر کارکردگی دیکھانے میں کامیاب ہو  جاتی ہے  تو تحریک انصاف کی قیادت کو اپنے طرز حکمرانی  پر بیٹھ کر سوچنا پڑے گا۔

    کنٹونمنٹ بورڈ الیکشن میں سب سے ذیادہ حیران  جماعت اسلامی نے کیا۔ طویل عرصے بعد اس نے کراچی میں بہت اعلی کارکردگی دیکھائی ہے۔  جماعت اسلامی  نے کراچی سے پانچ ,  چکلالہ پنڈی سے دو   , دو جبکہ مردان اور نوشہرہ سے  ایک ایک نشست نکالی  ہے۔ اگر بات کی جائے  کراچی  کی تو یہاں جماعت اسلامی  تیسرے نمبر پر رہی اور اس کے ووٹوں کی شرح بھی  بہت اچھی رہی۔آپ کہہ سکتے ہو کہ  جماعت اسلامی نے کراچی میں ایم کیو ایم، ن لیگ اور پی ایس پی کے مجموعی ووٹوں سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کئے ہیں۔  اس کارکردگی پر کراچی کے امیر حافظ نعیم مبارکباد کے مستحق ہیں۔ اگر کراچی میں  مزید محنت کی جائے تو جماعت اسلامی کراچی میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔  

    اس وقت پورے پاکستان میں بیالیس کنٹونمنٹ بوڈ ز کی دوسو انیس وارڈز ہیں۔ لیکن الیکشن صرف  انتالیس کنٹونمنٹ بورڈز کی دوسو چھ  نشستوں پر ہی ہو پایا ہے۔  اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو مجموعی طور پر پی ٹی آئی نے 60 نشستوں کے ساتھ سر فہرست

      ن لیگ 57 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر

     جبکہ آذاد امید وار 43نشستوں کے  ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔ 

    پیپلز پارٹی 14سیٹوں کے ساتھ چوتھےنمبر پر

    ایم کیو ایم پاکستان 10نشستوں کیساتھ پانچوے نمبر پر

     جماعت اسلامی 6سیٹوں کیساتھ چھٹے نمبر پر

     بلوچستان عوامی پارٹی 3نشستوں کے ساتھ ساتویں نمبر پر ہے۔

    ان رزلٹس سے ایک بات تو کلیئر ہے کہ آئندہ آنے والے بلدیاتی الیکشن ہوں یا جنرل الیکشن مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان ہی ہو گا۔ خان صاحب کو پنحاب بارے ایک بار پھر تسلی سے بیٹھ کر سوچنا  پڑے گا۔ اگر پنجاب ہاتھ سے نکل گیا تو وفاق میں بیٹھنے کو کوئی فائدہ نہیں۔ 

    ن لیگ پنجاب کی حد تک کلیئر ہے اب بس وفاقی میں آنے کیلئے کے پی اور بلوچستان میں محنت کرنی پڑے گی جو باآسانی ممکن  ہے کیونکہ ان صوبوں میں ن لیگ کا اچھا خاصہ  ووٹ بینک موجود ہے جبکہ خان صاحب کو صرف اور صرف پنجاب کی حد تک محنت کرنی پڑے گی۔ اس مقصد کیلئے  ٹیم کی کمان بدلنی پڑے گی  تو بھی خان صاحب کو دیر نہیں کرنی چاہئے۔  عمران خان اگر پنجاب کلیئر کر گئے تو 2023کا جنرل الیکشن جیت کر دوبارہ وزیراعظم بننا کوئی مشکل کام نہیں  ہے۔

    @saif__says

  • ڈاکٹر صفدر محمود: پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ،تحریر: ملک رمضان اسراء 

    ڈاکٹر صفدر محمود: پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ،تحریر: ملک رمضان اسراء 

    سابق وفاقی سیکرٹری، معروف کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر صفدر محمود کئی ماہ سے علیل تھے اور اس دوران امریکہ میں زیرعلاج رہے جسکے بعد وہ وطن واپس آئے اور اپنے آخری ایام میں ان کی یاداشت چلی گئی تھی، ڈاکٹر صاحب 30 دسمبر 1944 کو ضلع گجرات ڈنگہ میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا تھا کچھ عرصہ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ رہنے کے بعد 1967ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا اور 1974ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر صفدر محمود متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ مرحوم کی تصانیف میں "سچ تو یہ ہے، مسلم لیگ کا دور حکومت، پاکستان کیوں ٹوٹا، پاکستان:تاریخ و سیاست، درد آگہی اور سدابہار” شامل ہیں۔  ڈاکٹر صفدر محمود کو انکی خدمات پر حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی عطا کیا۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ایک العربیہ اردو کی تحریر میں لکھتے ہیں کہ: "استاد ٹھیک ہی کہتا تھا کہ اگر آج علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ پیری اور ’’ملّائی‘‘ کی بجائے سیاست کو عیاری کہتے۔ علامہ اقبال کے دور میں شاید سیاست اتنی عیار نہیں ہوتی تھی بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ علامہ اقبال کے دور میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے قومی رہنما قائد اعظم اور نہرو دونوں اصولی،قومی اورنظریاتی سیاست کے نمائندے اور ترجمان تھے۔ سیاست میں عیاری قیام پاکستان کے بعد آئی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے پوری طرح چھا گئی۔ کم و بیش یہی حال ہندوستان میں بھی ہوا لیکن ہندوستان کے مقابلے میں پاکستان میں لوٹ مار کا غدر قدرے زیادہ مچا کیونکہ مسلمانوں کے معدے وسیع، ہاضمے مضبوط اور شان و شوکت کا شوق تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔”

    ڈاکٹر صاحب روزنامہ جنگ کے آخری کالم جن کا عنوان ہے "بندگی اور بے بندگی” میں لکھتے ہیں کہ: "مرض اور قرض اچانک حملہ آور ہوتے ہیں لیکن جاتے جاتے وقت لیتے ہیں۔ اللہ پاک کا کرم ہے، اُس کی کس کس نعمت کا شکر ادا کروں کہ شاید شکر ادا کرنا ممکن ہی نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے زندگی بھر مالی قرض سے خاصی حد تک محفوظ رکھا لیکن جہاں تک دوستوں، بہی خواہوں کی محبتوں کے قرض کا تعلق ہے وہ ادا نہیں ہو سکتا۔ محبتوں کے قرض سے کہیں زیادہ اہم اور وزنی قرض احسانات کا ہوتا ہے کیونکہ میرا تجربہ ہے جو شخص آپ پر احسان کرتا ہے آپ اُس کا قرض کسی صورت بھی نہیں چکا سکتے چاہے آپ جواباً اُس پر درجنوں احسانات کریں۔ احسان صرف وہی شخص کرتا ہے جو بھلائی، نیکی، مدد، خدمت میں یقین رکھتا ہو اور اپنی ذات سے اور اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر سوچنے کی صلاحیت اور اہلیت رکھتا ہو۔ میں نے زندگی کے سفر میں کئی ایسے لوگ دیکھے جو کسی مصیبت زدہ کو مشکل سے نکال کر احسان کا ثواب کما سکتے تھے لیکن وہ اپنے مفادات، جمع، تفریق اور سود و زیاں کی پیچیدگیوں میں اُلجھ کر کنارہ کش ہو گئے۔ مطلب یہ کہ جو انسان ہمیشہ اپنی ذات کو مقدم رکھتا ہو اور اپنے مفادات کو ہر شے پر ترجیح دیتا ہو، وہ کسی پر احسان کرنے کا اہل نہیں ہوتا کیونکہ احسان کرنے کی صلاحیت اُنہیں ملتی ہے جن کے ظرف اور قلب وسیع ہوتے ہیں، جن میں ایثار کا جذبہ ہوتا ہے اور جو دوسرے انسانوں کو نہ صرف اہمیت دیتے ہیں بلکہ اُن کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔ میں نے زندگی میں بہت کم ایسے لوگ دیکھے جو دوسروں کے مفادات کو اپنے مفادات پر فوقیت دیتے تھے لیکن زندگی کے طویل سفر میں اپنی ذات کی نفی کرنے والے فقط چند حضرات ملے جنہیں میں صحیح معنوں میں اللہ کا دوست سمجھتا ہوں کیونکہ اپنی ذات کی نفی اللہ سے دوستی کئے بغیر حاصل نہیں ہوتی۔ یہ بلند رتبہ صرف اُنہیں ملتا ہے جو اِس کے مستحق ہوتے ہیں۔”

    مورخ ڈاکٹر صفدر محمود 13 ستمبر 2021 کو بقصائے الہی تقریبا 77 سال کی عمر میں خالق حقیقی کو جا ملے اس حوالے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیعہ رحیلہ قاضی نے لکھا:” ‏ڈاکٹر صفدر محمود تحریک پاکستان کے ایسے نادر تاریخ دان جو صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کے محافظ تھے۔ ان سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس ہمیشہ رہے گا۔ اللہ ان سے راضی ہوجاۓ۔

    ایک ٹوئیٹر صارف محمد طاہر لکھتے ہیں  کہ:

    ڈاکٹر صفدر محمود کا انتقال نظریاتی جہتوں سے مطالعہ پاکستان کے شوقین حضرات کے لیے انتہائی افسوس ناک خبر ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے پاکستان کی تاریخ و سیاست کے حوالے سے قابل ذکر کام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کامل مغفرت فرمائے۔

    معروف صحافی انصار عباسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ‏نظریہ پاکستان کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے ایک بااثر آواز محترم صفدر محمود انتقال فرما گئے۔ اللہ تعالی اُن کی مغفرت فرمائے اور اُن کی اسلام اور اسلامی پاکستان کے لیے کوششوں کو قبول فرمائے۔ آمین

    لکھاری نجمہ منصور ڈاکٹر صاحب کی وفات پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ: "میری کتاب "رشحات قائد” کا دیباچہ انہوں نے لکھا تھا، بہت نستعلیق شخصیت کے مالک اور مستند تاریخ دان تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)

    پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے مرحوم ڈاکٹر صفدر محمود کے خاندان سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ: "ڈاکٹر صفدر محمود نے مختلف میدان ہائے علم اور شعبہ صحافت میں نہایت بلند پایہ خدمات سر انجام دیں۔ دعا ہے، اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔”

    یقینا ڈاکٹر صاحب ایک عظیم تاریخ دان تھے ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جن کے چلے جانے کا خلا کبھی پر نہیں ہوتا لیکن آئیندہ نسل کیلئے ایسے منصف کی تحاریر، تصانیف اور تحقیق ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہ جاتی ہے لہذا نوجوان نسل کو چاہئے کے انہیں پڑھیں اور پھر اپنی تحقیق اور مطالعے کی بنیاد پر اختلاف یا اتفاق کا اظہار کریں کیونکہ ہم سب کو حق ہے کہ علم کی بناء پر شائستہ طریقے سے اپنی رائے کا اظہار کریں اور ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کی یہی خوبی تھی کہ وہ اگر کسی سے اختلاف رائے کا اظہار بھی کرتے تھے تو ان میں بے انتہاء حد تک شائستگی ہوتی تھی جس سے ظاہر ہوتا کہ اہل علم  لوگوں کا بحث مباحثہ یا اختلاف رائے رکھنا بھی نئے علوم کے دریچے کھولتا ہے۔

  • آپ  نے  گھبرانا  نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    آپ نے گھبرانا نہیں، تحریر: راؤ اویس مہتاب

    امریکہ پاکستان سے سخت ناراض ہے، اور پاکستان سے اپنے تعلقات کے حوالے سے از سر نو جائزہ لے رہا ہے۔امریکہ کی ناراضگی پاکستان کو کتنی مہنگی پڑے گی۔ اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے میں آپ کو ایک بات کہنا چاہوں گا کہ سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں۔ پاکستان کے سامنے دو آپشن تھے ایک پاکستان کی تباہی اور اس کے ٹکڑے اور دوسرا اپنے مفادات کا تحفظ۔۔ لیکن اس سے پہلے میں چاہوں گا کہ Antony blinkinنے گانگریس کے سامنے وہی کچھ کہا جو آپ کو بتایا جا رہا ہے یا صرف گفتگو میں سے ایک فقرہ لے کر پیش کیا جا رہا ہے۔اس کے بعد میں آپ اصل حقائق سے آگاہ کروں گا کہ پاکستان نے جس راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا اس کے نقصان کے ازالے کا پہلے ہی بندوبست کیا ہو گا۔Antony blinkinجو امریکہ کے سیکرٹری آف اسٹیٹ ہیں نے کانگریس کی ایک کمیٹی کے سامنے پانچ گھنٹے تک تند و تیز سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ آنے والے چند روز یا ہفتوں میں پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لے گا۔ اور نئے تعلقات کے تعین کے لیے امریکہ پاکستان کا افغانستان میں گزشتہ بیس سال کا کردار دیکھے گا جبکہ یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ پاکستان افغانستان میں وہ کردار ادا کرتا ہے جو ہم اس سے مستقبل میں چاہتے ہیں۔جب ٹونی بلنکن سے پوچھا گیا کہ کیا اسے پتا تھا کہ اشرف غنی بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے تو ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ چودہ اگست کی رات کو اس کی اشرف غنی سے بات ہوئی تھی اور اس نے کہا تھا کہ Fight to the death
    اس لیے امریکہ کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ بھاگنے کی تیاری کر رہا ہے۔ اور وہ پندرہ اگست کو بھاگ گیا اور امریکہ کے افغانستان کے انخلا سے دو ہفتے پہلے ہی طالبان نے کابل پر قبضہ کر لیا۔کانگرس مینBill Keatingنے کہا کہ پاکستان نے دو ہزار دس میں طالبان کوبنایا، انہیں نام دیا اور انہیں ری گروپ ہونے میں مدد دی۔ حقانی گروپ جو امریکیوں کی موت کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے گہرے تعلقات ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی فتح کوCelebrate
    کیا اور کہا کہbreaking the shackles of slaveryجبکہ کانگریس مینScott Perryکا کہنا تھا کہ پاکستان نے امریکی Tax payer کے پیسے سے طالبان کو مدد دی، امریکہ کو پاکستان کو مزید رقم نہیں دینی چاہیے اور اس کا Non-Natto ally status کینسل کرنا چاہیے۔

    اس گفتگو میں امریکہ میں بھارت کے سفیرTaranjit Singh Sandhuکی بڑے پیمانے پر امریکی کانگریس مین سے ملاقاتوں کا ذکر بھی آیا۔ اور ایک ریپلکن کانگریس مین
    Mark Greenکا کہنا تھا کہ کیونکہ Isi نے طالبان اور حقانی گروہ کی مدد کی ہے اس لیے امریکہ کو بھارت سے مضبوط تعلقات کے بارے میں سوچنا چاہیے۔
    امریکی کانگریس کے ان ارکان کی گفتگو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت نے امریکیوں کو اپنا موقف پہنچانے میں کتنی محنت کی ہے ، اور پاکستان کتنے گانگریس مین سے ملا۔کیا امریکہ میں پاکستان کے سفیر نے وہاں پاکستان کے امیج اور مجبوریوں کے حوالے سے کچھ نہیں کرنا تھا۔ انہیں افغانستان میں بھارت کے کالے کرتوتوں سے اآگاہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی۔ بہر حال آپ نے گھبرانا نہیں۔۔ کیوں میں آپ کو آگے چل کے بتاتا ہوں۔امریکہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے وہ بھی ٹونی بلنکن نے اس سوال جواب کے سیشن میں بتا دیا ہے۔امریکہ نے پاکستان کو کہہ دیا ہے کہ طالبان کو تسلیم کرنے کی کوشش ہرگز مت کرے۔دنیا کے زیادہ تر ممالک کے ساتھ Line up
    کرے، اور طالبان کو فورس کرے کہ وہ افغان عوام کے Basic rightsکا خیال رکھے، عورتوں اور بچوں کے حقوق کو شامل کرے، Humanitarian aid کی اجازت دے اور حکومت میں تمام حلقوں کو شامل کرے۔

    ایک گانگرس ممبر نے کہا کے ہمیں اکثر بتایا جاتا ہے کہ پاکستا ن کے ساتھ امریکہ کے تعلقات Complicated ہیں لیکن یہ اکثرDuplicitiousہوتے ہیں جس پر ٹونی بلنکن نے کہا کہ میں اس سے اتفاق کرتا ہوں جو کانگریس مین نے پاکستان کے گزشتہ بیس سال یا اس سے بھی پہلے کے کرادار پر تبصرہ کیا ہے۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پالیسیاں کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے خلاف ہیں اور کئی جگہ پر امریکہ کے مفادات کے مطابق ہیں۔یہ پاکستان ہی ہے جو مسلسل افغانستان کے مستقبل پر Bets لگا رہا ہے، یہی طالبان کے ممبر اور حقانی گروپ کی دیکھ بھا ل کر رہا ہے، یہ پاکستان ہی ہے جو مختلف مقامات پر امریکہ کی مدد اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن میں Involveرہا ہے۔ پاکستان کا افغانستان میں کردار زیادہ تر بھارت کے خلاف خدشات کی صورت میں ترتیب پاتا ہے۔ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ تمام ممالک بشمول پاکستان، انٹر نیشنل کمیونٹی کی طالبان سے امیدوں پر پورا اترنے کے لیے اپنا اچھا کردار ادا کرے۔اور ہم اسے پاکستان کے ساتھ مستقبل کے تعلقات کے حوالے سے دیکھ رہے ہیں۔بھارت، امریکہ اور دیگر ممالک نے کہا ہے کہ طالبان کو دنیا تسلیم کر سکتی ہے اورمالی مدد بھی کر سکتی ہے اگر وہ اس بات کی گارنٹی دیں کہ وہ اپنے شہریو ں کو Basic right دیں، جس میں خاتون،بچے اور اقلیتیں شامل ہیں۔ٹونی بلنکن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے انٹرنیشنل کمیونٹی سے بڑے پیمانے پر Line up کرے، اور ان کی امیدوں کو پورا کرے۔ یہ تو وہ باتیں تھی جو امریکی کہہ رہے ہیں لیکن پاکستان کا موقف کون پہنچائے گا۔ کیا 2004تک پاکستان کی مدد سے امریکہ نے طالبان کی کمر نہیں توڑ دی تھی۔ افغانستان مِن الیکشن کے بعد جمہوری حکومت قائم ہو چکی تھی۔اس وقت طالبان کا کہیں نام و نشان بھی نظر نہیں آرہا تھا پھرامریکہ نے دوہزار پانچ میں بھارت کے ساتھ سول نیوکلیر ڈیل کا فریم ورک سائن کیا، جب پاکستان نے یہ مطالبہ کیا تو پاکستان کو کہا گیا کہ وہ اس ڈیل کے لیے قابل اعتبار نہیں ہے۔ اپنے ہزاروں لوگ مروا کر، افغانستان میں اپنے مفادات کی قربانی دے کر بھی اگر پاکستان امریکہ کی دوستی کے معیار پر پورا نہیں اترتا تو پھر پاکستان کے پاس امریکہ کی مزید باتیں ماننے کا کیا مقصد رہ جاتا ہے۔ یہی نہیں امریکہ بھارت کو دوبارہ افغانستان لایا، جس کی پاکستان نے جڑین اکھاڑ دی تھی۔ پھر اس بھارت نے افغانستان میں آکر پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونک دیا۔ امریکہ کی افغانستان میں بنائی ہوئی حکومت صبح شام پاکستان کے خلاف زہر اگلتی تھی، بھارت نے پاکستان کی سرحد کے قریب افغان شہروں میں درجنوں کونسلیٹ کھولے ہوئے تھے جو Raw کے ایجنٹوں سے بھرے پڑے تھے۔ بھارت کے66ٹریننگ سینٹر حال ہی میں بند ہوئے ہیں، بھارتی کونسلیٹوں سے اربوں روپے پاکستانی کرنسی کی صورت میں ملے ہیں۔ اسے روکنا کس کی ذمہ داری تھی۔

    امریکہ نے Counter terrorism کے نام پر ہر رات افغانوں کی چادر اور چار دیورای کا تقدس پامال کیا اور افغانوں کے دل میں طالبان کے لیے ہمدردی پیدا کی ۔ کیا یہ پاکستان کا قصور ہے۔کیا پاکستان طاقت ہونے کے باوجود اتنا بے بس ہو جاتا کہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں دھکیل دیتا۔بھارت پاکستان کے ٹکڑے کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ پشتونستان کا مسئلہ کھڑا کر رہا ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی تحریکیں چلوا رہا ہے۔ تو پاکستان ہاتھ پر ہاتھ دھر کے امریکہ بہادر کی جی حضوری میں کھڑا رہتا۔ یہ امریکہ کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ماضی میں بھی روس کو ہرا کر ایک دم سے نکل گیا تھا اور پاکستان میں کلاشنکوف کلچر پھیل گیا تھا۔ پھر الٹا پاکستان پر پابندیاں لگا دی گئی۔ یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنے مفادات کا تحفظ کرے، جب روس کے خلاف جہاد تھا تو اس وقت پاکستان اور امریکہ کے مفادات ایک تھے تو دنیا نے رزلٹ دیکھ لیا۔ پاکستان کو زبردستی اس جنگ میں گھسیٹا گیا، پاکستان بلیک واٹر اہلکاروں کی جنت بن گیا۔امریکہ اپنے اٹھارہ بلین ڈالر کو رو رہا ہے کیا پاکستان ان پیسوں کے لیے پاکستان کے ٹکڑے کروا لیتا۔ پاکستان کا نفراسٹرکچر تباہ ہو گیا، پاکستان کی معشیت تباہ کر دی گئی، ایک سو پچاس بلین ڈالر کا پاکستان کو نقصان ہوا اور اسی ہزار لاشیں پاکستانیوں نے اٹھائی۔ کیا اٹھارہ بلین ڈالر اس کی قیمت چکا سکتا تھا۔ اس جنگ میں پاکستان نے اپنے جرنیل تک دہشت گردی میں کھودیے، اس کے بعد بھی کیا پاکستان کے پاس کوئی اور آپشن بچا تھا۔پاکستان کے امریکہ کو چھوڑ کر اپنے مفادات کے تحفط کی کئی وجوہات ہیں‏۔ امریکہ نے ہمیشہ پاکستان کو دھوکہ دیا ہے۔ مشرقی پاکستان میں بھارت سے جنگ کے دوران امریکی مدد کبھی نہ پہنچی۔ پاکستان کو روس کے خلاف جہاد میں استعمال کر کے نہ صرف امریکہ یہاں سے چپ کر کے نکل گیا بلکہ پاکستان کو الٹا پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ اور پھر جب دوہزار ایک میں واپس آیا تو بات کو سمجھنے کی بجائے دھمکیاں دی کہ۔ You r with us or against us. پاکستان کو پتا تھا کہ دوبارہ امریکہ اپنا مطلب نکال کر یہاں سے نکل جائے گا اور پھر وہی ہوا چین کے خلاف امریکہ نے بھارت سے نا صرف ہاتھ ملا لیا بلکہ بھارت کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کرنے کی اجازت بھی دے دی۔امریکہ اس خطے میں بھارت کو اپنا اتحادی بنا کر چین کے خلاف استعمال کر رہا ہے ایسی صورت میں ایک میان میں دو تلواریں کسی صورت نہیں رہ سکتی۔ امریکہ نے افغان سر زمین افغان طالبان کے لیے تو تنگ کر دی لیکن پاکستانی طالبان کے لیے وہ Safe heaven
    بن گیا۔ پاکستان بڑے عرصے سے شور مچا رہا ہے کہ امریکہ اپنی زلت آمیز شکست کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کرے گا۔ کیا عراق، شام اور دنیا بھر میں امریکی شکست کا ذمہ دار بھی پاکستان ہے۔ میرا امریکہ کو مشورہ ہے کہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لے۔ امریکہ پاکستان کی مدد کے بغیر افغان سر زمین پر قدم بھی نہیں رکھ سکتا تھا۔ جب پاکستان نے طالبان کی مدد ختم کی تو ان کا بھی وہی حال ہوا تھا جو افغان حکومت کا امریکہ کی مدد کے بغیر ہوا ہے۔ سوچنے کی بات ہے۔

    لیکن جیسے میں نے آپ کو شروع میں کہا تھا کہ آپ نے گھبرانا نہیں، افغانستان میں طالبان اس وقت مغرب کے لیے وہ کڑوا گھونٹ بن چکے ہیں جسے وہ نہ نگل سکتے ہیں اور نہ اگل سکتے ہیں۔ اگر مغرب طالبان اور پاکستان پر پابندیاں لگائے گا تو انہیں تحفظ فراہم کرنا، اور افغانستان کو دہشت گردوں کی جنت بننے سے روکنا ہمارے بس میں نہیں رہے گا۔ ابھی کئی مہینے تک تو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیےاپنے شہریوں کی افغانستان سے evacuationکے لیے بہت اہم ہے، اس کے بعد دشت گردی کے خلاف آپریشن بھی پاکستان کی مدد کے بغیر ممکن نہیں اور طالبان کواس بات پر راضی کرنا کہInclusive govtبنائیں شائد پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہ کر سکے تو اس لیے ابھی پاکستان دنیا کے لیے بہت اہم ہے اور ایک نیوکلیئر اسٹیٹ کو دنیا اس طرح تنہا نہیں چھوڑ سکتی۔ اس لیے امریکہ دھمکیاں دے گا لیکن اتنا ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جتنا ہم ڈر رہے ہیں۔

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 08) تحریر:محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 08) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 7 تحریروں میں بتایا کہ ملک میں اصل گڑ بڑ ہم لوگ کر رہے ہیں جب تک ہم خود ٹھیک نہیں ہوں گے اس وقت تک ملک میں گڑ بڑ ختم نہیں ہوگی اسی لئے جیسی عوام ہے ویسے ہی حکمران ہمارے اوپر مسلط ہوں گے اس حقیقت کو واضع کرنے کیلئے آج ہم واضع کریں گے کہ  کس طرح امتحانات میں نقل ، مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ ، ناپ تول میں کمی ، دوستی میں خود غرضی ، محبت میں دھوکہ ، ایمان میں منافقت کیسے ہو رہی ہے 

    امتحانات میں نقل: 

    امتحانات میں نقل ہر جگہ عام ہے لوگ ضمیر بیچ کر نقل کروا دیتے ہیں یہ کام سب کی ملاوٹ سے کیا جاتا ہے یہی بچے جب بڑے ہوکر جاب کیلئے رشوت دیتے ہیں اس وقت اُن کے خون میں حرام رَچ چُکا ہوتا ہے اس لئے جب جاب مل جاتی ہے تو رشوت خوری لے کر ہی کام کرتے ہیں اب خود فیصلہ کریں کہ ہم کیا کر رہے ہیں کیا ملک کو ٹھیک کرنے کا ذمہ صرف وزیراعظم کا ہوتا ہے؟ یا ہم بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں یاد رکھیں جس بچے کی تربیت جھوٹ فریب سے کی جاۓ وہ بچے بڑے ہوکر وہی کرتے ہیں جس کی تربیت دی جاتی ہے اس لئے ہمیں چاہیے ہم اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں ان 

    مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ پڑھنا: 

    آج کل ہر جگہ فحاشی بہت عام ہو گئ ہے اس کی خاص وجہ آج کل نفسہ نفسی کے تیز دور میں ہر گھر میں موبائل انٹرنیٹ ہے جس کی وجہ سے معاشرہ متاثر ہو رہا ہے اسلام ہمیں امن کا درس دیتا ہے لیکن آج کل بے حیائی اور فحاشی کی وجہ سے ریپ کیسز بہت بڑھ رہے ہیں اس کا زمہ دار ہمیشہ ہم ملک کی حکومت کو ٹھہراتے ہیں لیکن در حقیقت جن ہاتھوں میں قرآن پاک ہونا چاہیے اب موبائل آگئے ہیں رشتوں میں تقدس ختم ہوگیا ہے اس لئے کسی کو قصور وار ٹھہرانے سے بہتر ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں ۔ اپنے اعمال اور کردار دیکھیں ہم سب سارا دن کیا کرتے ہیں اور کیا کر رہے ہیں اِنہیں ڈائجسٹوں کی وجہ سے رشتوں میں سسپنس آگیا ہے بچے کہانیاں پڑھ کر بہت سمجھدار ہوگے ہیں اُن کے لئے رشتہ ایسا ہی ہے جس پر وہ پاؤں رکھ کر وہ آگے نکل جاتے ہیں اِس لئے بچوں کیلئے قرآن کی تعلیم ضروری ہے   جس سے ہمیں راہِ ہدایت ملتی ہے ہمیں چاہیے قرآن مجید کو ترجمہ کے ساتھ پڑھیں اور اس پر عمل کریں علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب کہا تھا 

    کہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی، جہنم بھی

    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

    اس لئے عمل ہی ایک ایسی واحد شے ہے جس سے انسان اپنی زندگی کو کامیاب ، خوشگوار اور پرآشوب بناسکتا ہے

    ناپ تول میں کمی:

    ناپ تول ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ غریب ہی مرتا ہے ایک طرف مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے دوسری طرف جو لوگ مصنوعی مہنگائی کرکے بیٹھے ہیں ان کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے جب تک مصنوعی مہنگائی کرنے والے یا ناپ تول میں کمی والوں پر حکومت کوئی ایکشن نہیں لیتی تب تک پاکستان کا غریب چکی میں آٹے کی طرح پیستا ہی رہے گا آج کل چھوٹے پٹرول پمپوں کی وجہ سے لوگ بہت پریشان ہیں منہ مانگے پیسے وصول کرتے ہیں اور ناپ تول میں کمی کی وجہ سے لوگ بہت متاثر ہو رہے ہیں حکومت کو چاہیے اس پہ جلدی قابو پائیں تاکہ غریب عوام خوشحال ہو سکیں

      دوستی میں خود غرضی: 

    آج کل کے دور میں معاشرہ جیسے جیسے تیزی کی طرف جا رہا ہے اسی طرح لوگوں میں خود غرضی عام ہوتی جا رہی ہے پہلے وقت میں لوگ اکٹھے بیٹھتے تھے اپنے دکھ سکھ شئیر کرتے تھے لیکن آج کل ہر دوسرا شخص مفاد پرست ہے اگر اُس کو اپکی ضرورت ہے تو وہ اپ کے ساتھ ایسے مخلص ہوگا جیسے آپ کو لگے گا کہ اس جیسا با اعتماد شخص اور کوئی نہیں لیکن جب ضرورت پوری ہوجاتی ہے تو لوگ اصلیت دیکھانا شروع کردیتے ہیں اُن کے لئے دوستی ایسے ہی ہے جیسے وہ سیڑھی پہ پاوں رکھ کر آگے نکل جاتے ہیں لیکن دوستی ہمیشہ مفادات سے ہٹ کہ ہونی چاہیے جب ملیں اچھے لفظوں میں یاد کریں اچھے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کریں دوستی ایسا رشتہ ہوتا ہے جو اللہ پاک آپ کے دل میں محبت پیدا کرتا ہے کہ یہ انسان بہت اچھا ہے تو اپکا دل تسلیم کرتا ہے باقی تمام رشتے اللہ پاک اوپر سے بنا کے بھیجتا ہے اس لئے جس کے ساتھ بھی رہیں ایسے رہیں جیسے پھول کانٹوں کے ساتھ رہتا ہے باقی رہی بات وقت گزر جاتا ہے کوئی کسی کو اچھے لفظوں میں یاد کرتا ہے کوئی برے الفاظ میں ۔ ہر چیز کا نعم البدل اللہ تعالیٰ کی پاک ذات نے دینا ہے اس لئے خود غرضی سے بنی دوستی اور منہ کے نکلے الفاظ کا کوئی مول نہیں ہوتا

    محبت میں دھوکہ:

    محبت ایک پاکیزہ رشتہ ہوتا ہے جو کسی بھی انسان کسی بھی جانور ، پرندے سے ہو سکتی ہے آج کل کے دور میں محبت حوس کا دوسرا نام ہے جیسے لوگ ٹشو کو استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں ویسے ہی محبت میں دھوکا دے کر اگلے شکار کی طرف نکل جاتے ہیں ہمیں چاہیے کہ محبت اللہ پاک کی ذات سے ہو جو واحد لا شریک ہے جس کی محبت میں کوئی خود غرضی نہیں کوئی دھوکے بازی نہیں ہے وہ ذات بن مانگے عطا کرتی ہے اس لئے کوشش کریں کہ ہمیشہ رشتے کو پاکیزہ اور مخلص رکھیں تاکہ دنیا میں لوگ آپ کو یاد کریں اور گزر جانے کے بعد میں لوگ اچھے لفظوں میں یاد کریں

    ایمان میں منافقت:

    آج کے اس موبائل دور میں لوگوں کے ایمان کمزور ہوگے ہیں لوگوں میں تقوی پرہیز گاری ، عاجزی ختم ہوتی جا رہی ہے ہمیں ہمیشہ دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ پاک ہمیں منافقت سے ، زبان کے جھوٹ سے ، آنکھوں کی خیانت سے پاک کردے ہم سب تیرا شکر ادا کرتے ہیں ہمیں عبادت کرنے والا بنا اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ "جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے (سب) اللہ ہی کا ہے، وہ یقیناً جانتا ہے جس حال پر تم ہو (ایمان پر ہو یا منافقت پر)، اور جس دن لوگ اس کی طرف لوٹائے جائیں گے تو وہ انہیں بتا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے”۔ (سورۃ النُّوْر، 24 : 64)

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کیسے ٹوکری میں ناجائز سفارش اور رشوت ، بجلی میں ہیرہ پھیری ، باریش چہرے بے نمازی پیشانیاں ، خواتین کی کسے ہوۓ کپڑے ننگے لباس ، ابایوں میں فیشن  ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں یا حکومت اصل گناہگار کون ہے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • "‏کینٹونمنٹ الیکشن میں جیت وزیراعظم عمران خان کے نظریے کی جیت تحریر فرزانہ شریف

    "‏کینٹونمنٹ الیکشن میں جیت وزیراعظم عمران خان کے نظریے کی جیت تحریر فرزانہ شریف

    مخالفین خان صاحب سے جتنی بھی نفرت کریں لیکن یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے اب خان صاحب کو ہرانے کے لیے ان کے مقابلے کا لیڈر لانا ہوگا ان شکست خوردہ پارٹیز میں دم خم نکل چکا ہے ۔
    ‏کینٹونمنٹ الیکشن میں کامیابی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ عوام نے خان صاحب کے نظریے پر لبیک کہہ دیا ہے ایک مہنگائی چھوڑ کر خان صاحب کی حکومت نے ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹی ہیں عوام کو ریلیف دینے کے لیے یوٹیلٹی سٹورز ہر شہر میں کھولے ہیں اگر مافیا حق داروں کے پاس ان کا حق نہیں پہنچنے دے رہا تو اس میں خان صاحب کا قصور نہیں ہر علاقے کے نمائندے کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا رزق حلال کرکے کھائے اور محنت کرے اس مافیا کو کنٹرول کرے خان صاحب کی محنت پر پانی نہ پھیریں
    کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن میں پی ٹی آئی نے پنجاب میں تقریبآ کلین سویپ کیا گوجرانوالہ جہاں ہمیشہ سے نون لیگ کا ہولڈ رہا۔ عام زبان میں ہم کہتے تھے گوجرانوالہ نون لیگ کا گڑ ہے ویاں سے بھی پی ٹی آئی کو تاریخی کامیابی ملی ۔ نون لیگ کو صرف دو سیٹیں ہی مل سکیں ۔لاہور اور ملتان میں نون لیگ کی پوزیشن مضبوط رہی وہ بھی پی ٹی آئی کے اندر روائتی لڑائی جھگڑے اور ٹکٹ کے غلط استعمال کی وجہ سے اور آزاد امیدوار دوسرے نمبر پر رہے پورے الیکشن میں ۔ پہلے نمبر پر پی ٹی آئی رہی ۔۔
    جن علاقوں سے پی ٹی آئی ہاری خان صاحب کو وہاں بہتر سے بہتر حکمت عملی استمال کرنی ہوگی اور وہاں کے نمائندوں کو جگانا ہوگا کام کرو گے تو 2023 کا الیکشن جیت پاو گے۔۔سوشل میڈیا پر یہ کہہ دینا کہ پی ٹی آئی کا مقابلہ پی ٹی آئی (آزاد امیدواروں )کے ساتھ تھا یہ کہنا ایسے ہی ہے جیسے بلی کبوتر کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیتی ہے ان باتوں سے ہم اپنے دل کو تسلی تو دے لیں گے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیوں وزرا کا ملتان ۔لاہور جیسے شہروں پر اپنا ہولڈ کمزور رہا؟
    راولپنڈی جس نے خان صاحب کو جنرل الیکشن میں کلین سویپ جیسا تحفہ دیا تھا وہاں سے پی ٹی آئی ہار گی ہم تو اسلام آباد اور پنڈی کو پی ٹی آئی کا گڑ سمجھنے لگ گے تھے لیکن آج کے الیکشن نے بتادیا کہ کام کرو گے تو عوام بھی آپکو پھولوں کے ہار پہنائے گی ورنہ پھر خدانخواستہ پی پی والا حساب ہوجائے گا اگر وزراء ابھی بھی نہ جاگے تو ۔۔۔
    فواد چوہدری اچھا کام کررہا ہے سوشل میڈیا پر بھی الیکٹرونک میڈیا پر بھی اور اپنے علاقے میں بھی یہی وجہ ہے جہلم میں پی ٹی آئی نے کلین سویپ کیا ۔۔
    راولپنڈی میں اب پنڈی بوائے کو جاگ جانا چاہئیے وزیرداخلہ آپکو اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ہم اپنی جیتی ہوئی سیٹیں بھی ہار جائیں اپنے علاقے میں لوگوں کے مسائل حل کریں صرف پریس کانفرنس کرلینے سے الیکشن نہیں جیتا جاتا ۔۔
    ‏ پشاور کوئٹہ حیدرآباد سیالکوٹ ٹیکسلا سے پی ٹی آئی کی شکست پر خان صاحب کو ایکشن لینا ہوگا وہ کون سے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا چلیں سیالکوٹ تو ہے ہی نون لیگ کا گڑ ۔لیکن پشاور میں شکست ہونا ہم سب کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔۔
    اب وقت کم ہے کام بہت ذیادہ ۔۔دو سال چٹکیوں میں گزر جائیں گے پی ٹی آئی ورکر کو ابھی سے الیکشن کمپئن شروع کر دینی چاہئیے اپنے اپنے علاقوں میں ۔۔اور جو لوگ مہنگائی کے ستائے ہوئے ہیں خان صاحب سے سخت بد ظن ان کو دلائل سے پیار سے اصل حقائق بتائیں کہ اصل مہنگائی کی کیا وجہ ہے کس طرح کرپٹ سیاستدانوں نے ملک کا دیوالیہ نکالا اگر خان صاحب بروقت نہ آجاتے پاکستان بینک کرپٹ ہوجاتا اب خان صاحب نون لیگ کے لیے ہوئے قرض بھی واپس کررہے ہیں اور ملک میں ترقیاتی کام بھی کروا رہے ہیں 30 سال کا گند تین سال میں ختم نہیں ہو سکتا تھوڑا سا وقت دیں ۔اپ کا لیڈر آپکے ملک کی ایسے حفاظت کر رہا ہے اللہ کی کرم نوازی سے جیسے گھر کو بڑا سربراہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے بس آپ نے ہمت نہیں ہارنی صرف تھوڑا سا اور صبر کرلیں ایک روشن چمکتا ہوا پاکستان آپ دیکھیں گے ان شاءاللہ
    اللہ میرے ملک کو شاد آباد رکھے اس کے لیے بہتر سوچنے والوں کو جزائے خیر دے اور میرے ملک میں رہنے والوں کی اللہ خیر کرے آمین ثمہ آمین

  • کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات گزشتہ دنوں منعقد ہوئے اس انتخابات کے لئے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے کراچی میں چھ کنٹونمنٹ بورڈز ہیں جن کو 42 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان 42نشستوں کے لیے 354 امیدوار کھڑے کیے گئے تھے۔ جن کے رجسٹر ووٹرز کی مجموعی تعداد 466،522 بنتتی ہے۔
    یہ معرکہ پاکستان تحریک انصاف نے چودہ سیٹوں کے ساتھ سر کر لیا جبکہ گیارہ سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔تیسرا نمبر آزاد امیدواروں نے چھ سیٹوں کے ساتھ حاصل کیا اس کے علاوہ جماعت اسلامی پانچ سیٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ نواز تین تین سیٹوں سے پانچویں نمبر پر رہیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (CBC) کراچی کا سب سے زیادہ آبادی والا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جہاں کی مجموعی آبادی 305،938 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز 190،280 ہیں یہاں 10 وارڈوں میں 104 امیدوار میدان میں تھے۔پیپلز پارٹی چار،تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ فیصل (CBF) دوسرا سب سے بڑا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جس کی زیادہ تر آبادی اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور ایک زمانے میں یہ علاقہ ایم کیوایم کا تصور کیا جاتا تھا یہاں کی مجموعی آبادی296،469 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹر 159،983 ہیں اس علاقے کو بھی 10 وارڈمیں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 88 امیدوار کونسلر کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔یہاں تحریک انصاف نے چھ ،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،مسلم لیگ نواز اور آزاد امیدوار ایک ایک نششست حاصل کی۔
    علاوہ ازیں کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے دس واڈوں کے کونسلر کی نشستوں کے لیے 66 امیدوار میدان میں تھے یہاں کی مجموعی آبادی 139،052افراد پر مشتمل ہے جن میں صرف 36،447 افراد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔یہاں بھی پاکستان تحریک انصاف نے اپ سیٹ کیا اور پانچ نششستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے دو دو اور ایک سیٹ آزاد امیدوار نے حاصل کی۔
    کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈز میں پانچ وارڈ ہیں جن کی آبادی 57،745 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 21,424 ہے اور یہاں 49امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔مسلم لیگ نواز دو نشستوں پر اور ایم۔کیوایم،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ایک نشستوں پرکامیاب ہوئے۔
    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ KCBکراچی کا قدیم کنٹونمنٹ علاقہ ہے یہاں کی مجموعی آبادی 68,877افراد پر مشتمل ہے اور رجسٹرڈ ووٹر 36,970ہیں اس علاقے کے پانچ واڈوں کے لئے 40امیدوار میں مقابلہ تھا اوریہاں ایم کیو ایم نے دو پیپلز پارٹی نے ایک جبکہ دو آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
    جزیرہ نما کنٹونمنٹ بورڈ منورہ کراچی کا سب سے چھوٹا کنٹونمنٹ بورڈ ہے جہاں صرف دو وارڈ ہیں جن میں7 امیدوار میدان میں تھے ، اس کی آبادی صرف 5،874 افراد پر مشتمل ہے اورجس میں سے صرف 3،544 افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔
    یہاں کی دونوں نششستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئ۔
    تحریک انصاف وہ واحد جماعت تھی جس نے تمام 42 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ اگر قومی سیاست میں کامیابی کو مضبوط بنانا ہے تو گراس روٹ لیول پر بھی اپنا قبضہ پکا کرنا ہو گا اور رفتہ رفتہ تحریک انصاف اس میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ایم کیو ایم کے اندرونی انتشار کے بعد کراچی کی سیاست میں جو خلاء پیدا ہوگیا تھا اسے تحریک انصاف پر کرتی نظر آرہی ہے اور یہاں کا ووٹر مہنگائ پر شکایت تو کرتا نظر آتا ہے لیکن ووٹ صرف تحریک انصاف کو ہی دینا چاہتا ہے۔۔اللہ کرے کراچی کے ووٹرز تحریک انصاف اور عمران خان صاحب سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں وہ جلد پوری ہوں۔

    @Azizsiddiqui100

  • کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں پی ٹی آئ کی کارکردگی تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    کنٹونمنٹ انتخابات میں بحیثیت ایک سیاسی جماعت کے،

    اگرچہ پی ٹی آئ نے پورے ملک میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نشستیں لی ہیں،

    مگر پنجاب میں اسے شدید دھچکہ لگا ہے۔

    یہاں پر نواز لیگ سیٹوں کے لحاظ سے آگے ہے۔

    راولپنڈی،ملتان اور لاہور میں بھی 

    پی ٹی آئ کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

    اگرچہ خیبر پختونخواہ ،بلوچستان اور سندھ میں نتائج اچھے رہے،

    جس کے باعث مجموعی برتری تو 

    پی ٹی آئ کو ملی مگر پنجاب میں شکست بہت زیادہ الارمنگ ہے۔

    اسکے آئندہ انتخابات پر خطرناک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    آئندہ عام انتخابات میں پی ٹی آئ کے لئے مرکز میں حکومت بنانا پنجاب میں کامیابی سے مشروط ہو گا۔

    عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی واجبی سی کارکردگی کی جھلک ان انتخابات میں بھی نظر آئ۔

    بُزدار پر ہر طرف سے تنقید کے باوجود کپتان کا اعتماد اُس پر قائم ہے۔

    یہی اندھا اعتمادکپتان کی اننگز کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔

    عمران خان کو حقیقی بنیادوں پر بُزدار کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے،

    وگرنہ یہ کیسے ممکن تھا کہ پنجاب میں حکومت ہونے کے باوجود اسی طرح نواز لیگ پھرجیت گئی،

    جس طرح کئی ضمنی انتخابات میں اس نے پی ٹی آئ کو ہرا کر اپنے میدان میں ہونے کا ثبوت دیا۔

    نہ تو ان ضمنی انتخابات کی شکستوں سے سبق سیکھا گیا اور نہ ہی کنٹونمنٹ الیکشن کی پنجاب میں اس ہار  سے سبق سیکھنے کی کوئ امید ہے۔

    وجہ اسکی یہ ہے کہ عمران خان کے ارد گرد بھی کچھ خوشامدیوں کا حصار ہے،

    جو ہر تباہی کے بعد خود ساختہ دلائل سے سب اچھا کی رپورٹ دے دیتے ہیں۔

    موجودہ کنٹونمنٹ انتخابات میں اپنی خراب کارکردگی پر پردہ ڈالنے کے لئے جو سب سے بڑالولی پاپ دیا جا رہا ہے،

    وہ یہ ہے کہ اچھی خاصی تعداد میں جیتنے والے آزاد امیدوار بھی ہمارے ہیں۔

    یہ بات انتہائ مضحکہ خیز ہے،

    اس بات میں کوئ دم نہیں،

    کیونکہ یہ لوگ اگر پی ٹی آئ کے تھے تو پی ٹی آئ کے ٹکٹ پر کیوں نہیں جیتے؟

    اگر انکا تعلق پی ٹی آئ سے تھا تو انکو ٹکٹ کیوں نہیں دئیے گئے؟

    یہ بھی ایک طرح سے پی ٹی آئ کے کرتا دھرتا افراد کی نااہلی ہے۔

    مطلب یہ ہوا کہ زمہ دارلوگ ٹکٹوں کی منصفانہ تقسیم میں بھی ناکام رہے؟

    ٹکٹوں کی غیر منطقی اور غیر منصفانہ تقسیم ماضی میں بھی اکثر پی ٹی آئ کی کامیابیوں کے آڑے آتی رہی ہےہے۔

    عمران خان کو ٹکٹ تقسیم کرنے والے افراد کے محاسبے کی بھی سخت ضرورت ہے۔

    انتخابی نتائج کو ان افراد کی کارکردگی کا معیار بنایا جاۓ۔

    انہیں اس فارمولے کے پیچھے چھپنے کی اجازت نہ دی جاۓ کہ آزاد بھی ہمارے ہیں۔

    اگر آزاد تمہارے ہیں تو تم کس کے ہو؟

    کیا تم لوگ عمران خان کے بجاۓ کسی اور کے لئے کام کر رہے ہو،

    جو تمہارے ٹکٹ یافتہ ہار جاتے ہیں اور جنہیں تم ٹکٹ نہیں دیتے،

    وہ جیت جاتے ہیں،

    کیوں ؟

    کیا یہ نااہلی نہیں ہے؟

    کیا یہ کپتان کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے برابر نہیں ہے؟

    اس ناقص کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جاۓ تو بہت سے وزرا،مشیر اور ممبران اسمبلی اپنے اپنے علاقوں سے لاتعلق ہو چکے ہیں،

    ان لوگوں کے عام آدمی سے رابطے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    ن لیگی دور کی طرح پی ٹی آئ کے ان زمہ داران کے رابطے علاقہ میں اپنے ان خاص ٹاؤٹوں سے ہیں،

    جو اپنی غلط کاریوں اور مال بناؤمہم سے نام کپتان کا بدنام کر رہے ہیں۔

    انہیں اس سے غرض نہیں کہ لوگ خان کے نظریے سے دور ہوجائیں گے،

    انہیں اگر مطلب ہے تو اپنی اپنی دیہاڑیوں سے،

    جو وہ خوب کھری کر رہے ہیں۔

    عمران خان کو اپنے ان ریلو کٹے ٹائپ وزرا اور مشرا کی گردنوں میں آیا ہوا سریا نکال کے عوام میں بھیجنا ہو گا،

    جو ٹیگ کئے جانے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوتے۔

    عوامی مسائل حل کرنا تو دور کی بات،

    یہ ایسی باتوں کا نوٹس تک نہیں لیتے،

    سوشل میڈیا ٹیمیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اپنا سر دیوار سے ٹکرا کر انہیں مسائل سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں،

    مگر یہ ایسے ہی ثابت ہوتا ہے،

    جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔

    ابھی نور مقدم کیس کو ہی لے لیں۔اس کیس میں جو بربریت ہوئ،

    اُس پر سوشل میڈیا پر ٹرینڈز پر ٹرینڈز کئے جا رہے ہیں،

    مگر حکومتی نمائندگان مجرمانہ خاموشی کا شکار ہیں،

    حالانکہ نور مقدم کا بیہمانہ قتل ایک انسانی المیہ ہے،

    جس پر متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی حکومت وقت کا فرض ہے۔

    جب تک حکومتی نمائندےعوام میں جا کر اپنے کلف والے کپڑے خراب نہیں کریں گے،

    اس وقت تک پی ٹی آئ وہ زور نہیں پکڑ پاۓ گی،

    جس کی اُسےاگلے عام انتخابات میں فتح کے لئے ضرورت ہے۔

    اب آجاتے ہیں اُس بڑی وجہ کی طرف جو ہر موقع پر پی ٹی آئ کی کارکردگی کو گہنا رہی ہے۔

    وہ ہے مہنگائ۔

    یہ مہنگائ جینوئن ہے،

    خود ساختہ ہے یا مافیاز کے کچھ حربوں کی بدولت۔

    اس مہنگائ کے دفاع میں کم ازکم میرے پاس کوئ ایک لفظ بھی نہیں ہے۔

    ہم تھک گئے ہیں لوگوں کو طفل تسلیاں دیتے ہوۓ۔

    اب لوگ مزید لوریاں سُننے کو تیار نہیں ہیں،

    وہ ہر لحاظ سے اس مہنگائ کی کمر پر حکومت کی طرف سے لگائ جانے والی ضرب کاری دیکھنا چاہتے ہیں۔

    مہنگائ کے ستاۓ لوگوں میں اب مزید خواہ مخواہ کی تسلیاں سننے کی سکت نہیں رہی۔

    مزید جھوٹی تسلیاں لوگوں کو پی ٹی آئ سے دور اور ن لیگ اور پی پی جیسے مافیاز کے نزدیک کرنے کا باعث بنیں گی۔حکومت کو کچھ کرنا ہوگا۔

    لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا،

    مہنگائ نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے۔

    اب انہیں کسی قسم کا نیا لولی پاپ دینے کے بجاۓ مہنگائ کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ آئندہ کے انتخابی معرکوں میں پی ٹی آئ اور کپتان کی سوچ سُرخرو ہو سکے۔

    اگر مہنگائ کے خاتمے اور کرپٹ افراد سے لوٹی دولت کی واپسی کے لئے اقدامات نہ کئے جا سکے تو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی جیسی نحوستوں کو دوبارہ اقتدار میں آنے سے نہیں روکا جا سکے گا۔

    لوگوں کو بیوقوف بنانا انہیں خوب آتا ہے،

    انکی اب بھی کوشش ہے کہ مہنگائ کی اس موجودہ لہر کو کیش کروا کے اپنے دہائیوں کے گناہ اور کرپشن معاف کرواکر لوٹ مار کا سلسلہ پھر سے شروع کیا جا سکے۔

    عوام مہنگائ کے ہاتھوں تنگ ہونے کے باوجود عمران خان کا ساتھ دینا چاہتے ہیں،

    مگر اس ساتھ کو حاصل کرنے کے لئے حکومت کو بھی کچھ نہ کچھ سیر حاصل کرنا ہو گا#

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • پاکستان کا موجودہ نظام تحریر: محمد عمران خان

    وقت نے ثابت کر دیا کہ کرپٹ نظام کو جب تک جڑ سے نہیں اکھاڑ پھینکا جاتا پاکستان مصائب کی دلدل سے نہیں نکل پائے گا۔ عوام کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ آج تک اپنا نجات دہندہ آئین پاکستان کے حقیقی نفاذ کے بجائے کرپٹ عناصر میں ہی تلاش کر رہے ہیں۔ حالات یہ ہیں کہ عوام قاتلوں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں، منی لانڈرنگ کرنے والوں، بھتہ مافیا، قبضہ مافیا اور کرپشن کے شہنشاہوں میں ہی اپنا مسیحا تلاش کرنے پر بضد ہے۔ عوام کی بیوقوفی کا یہ عالم ہے کہ مسئلہ کشمیر پہ سالہاسال سے نعروں اور درحقیقت کشمیر کیس کو کمزور سے کمزور ترین کر دینے والے کرپشن کے دلدادہ سرمایہ دار وڈیرے حکمرانوں سے ابھی تک امیدِ خیر لگائے بیٹھے ہیں جن کا بزنس، جائیداد اولاد سب تو بیرون ملک ہیں بس کرپشن کا بازار گرم رکھنے کیلئے اقتدار کے ایوانوں پہ قابض رہنا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے لازم و ملزوم سمجھتے ہیں۔ جو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے نہتے پر امن شہریوں تک پہ ظلم کے پہاڑ توڑنے سے گریز نہیں کرتے اُن سے کیسے امید رکھی جا سکتی ہے کہ کشمیر میں بلکتے بچوں، تار تار چادر لیے سسکتی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی فریاد کوئی خاص اہمیت رکھتی ہو گی۔ بینظیر، نواز شریف، مشرف، زرداری، عمران کے ادوار کو ہی لے لیں کوئی ایک حکمران ایسا نہیں آیا جس نے اقتدار سے ہٹ کے عوامی مسائل کا سوچا ہو۔ ایسے میں اگر کسی نے آئین کے حقوق کی پُر امن آواز بلند کی، بزور کچلنے کیلئے ریاستی محافظوں کو ہی دہشتگرد بنا کے سامنے لا کھڑا کیا۔ ماڈل ٹاؤن ہو یا انقلاب مارچ کیلئے نکلنے والے پُر امن قافلوں کا احوال یا 30، 31 اگست 2014 کی درمیانی رات ہر جگہ بربریت کی اِک نئی داستان رقم کی گئی۔ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ ہاؤس، پریزیڈنٹ ہاؤس اور اردگرد کی عمارتوں کے درو دیوار گواہ ہیں کہ کس طرح اقتدار کے نشے میں بدمست نواز شریف اینڈ کمپنی نے ماڈل ٹاؤن میں ناحق قتل ہونے والے چودہ معصوم لوگوں کا انصاف مانگنے والے پُرامن ہزار ہا مرد و زن کو وزیراعظم ہاؤس کے سامنے سڑکوں پہ نشان عبرت بنا کر فرعون، نمرود، یزید تک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ تاریخ گواہ رہے گی جیسے فرعون نمرود یزید رہتی دنیا کیلئے نشان عبرت بن گئے ویسے ہی سلاخوں کے پیچھے وی آئی پی پروٹوکول انجوائے کرنے والے سابقہ حکمرانوں کیلئے کڑی سزا لکھی جا چکی ہے۔ اسی دنیا میں وہ آنے والوں کیلئے نشان عبرت بنیں گے۔

    اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو وہاں بھی بھیانک قسم کے کھیل دیکھنے کو ملتے ہیں کہ کس طرح بے دردی سے پاکستان کی عزت و آبرو اور وقار کے ساتھ کھلواڑ کیا جاتا رہا ہے۔ قیام پاکستان سے ہی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے قدم مضبوطی سے جما کر سیاست دانوں سمیت دیگر ملکی اداروں کے اختیارات میں ناجائز طریقے سے مداخلت شروع کردی۔ نتیجتاً ملکی ادارے اتنے کمزور ہوگئے کہ ان کو یا تو گروی رکھوا کر قرض لے لیا گیا یا پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کردیے گئے۔ جس ملک کے ادارے کسی دوسرے ملک کے پاس گروی ہوں اس ملک کا عالمی برادری میں کیا وقار رہ جاتا ہے؟

    اس کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے پر فوجی افسران و ججز کو زمینیں الاٹ کی جاتی رہیں جو آج ایک روایت بن چکی ہے۔ قانوناً ہر ادارے کے ملازمین برابر حقوق رکھتے ہیں مگر یہ انفرادیت صرف اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہاتھ میں رکھ کر ملک کا خوب دیوالیہ نکالا ہے۔ 

    میرے وطن عزیز میں بسنے والے پیارے پاکستانی ہمیشہ سے سبز باغ دکھانے والوں کی مکاریوں کے جھانسے میں آکر لٹتے رہے ہیں۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم نسل در نسل اسٹیبلشمنٹ کے غلام بن گئے ہیں۔ اب چاہتے ہوئے بھی موجودہ فرسودہ، استحصالی، کرپٹ، دھن، دھونس اور بدمعاشی پر مبنی نظام کو تبدیل کرنا ممکن نظر نہیں آتا