Baaghi TV

Category: سیاست

  • کنٹونمینٹ الیکشن   تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    کنٹونمینٹ الیکشن  تحریر ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر 

    گذشتہ دن ملک میں کنٹونمنٹ کے الیکشن ہوئے جس میں واضع طور پر پاکستان تحریک انصاف کو برتری حاصل ہوئ جبکہ مقابلے میں ذیادہ تر وہی آزاد امیدوار جیت کر آئے ہیں جن کو پارٹی کی طرف سے ٹکٹ نہیں مل سکا اس ساری صورتحال کو دیکھا جائے تو پی ٹی آئ کا مقابلہ اپنے ہی پارٹی کے آزاد امیدواروں سے تھا اس وقت پی ٹی آئ نے جہاں ٦٣ سے زائد سیٹ حاصل ہیں دوسری طرف آزاد امیدوار بھی ۵٦ کے قریب سیٹ جیت چکے ہیں اور یقینی طور پر وہ بھی تقریبا سب پی ٹی آئ میں شامل ہوں گے اس طرح پی ٹی آئ واضع اکثریت سے پہلے نمبر ہوگی 

    دوسری بات جو اس میں واضع نظر آئ ہے کہ پی ٹی آئ اس وقت ملک کی واحد جماعت ہے جو تقریبا تمام صوبوں سے الیکشن جیت کر چاروں صوبوں کی زنجیر بن چکی ہے 

    سندہ میں پپلزپارٹی کی ١٣ سالہ خراب کارکردگی سے تنگ عوام نے بھی پی ٹی آئ کو کراچی سے واضع برتری دلوائ 

    بلوچستان کوئٹہ کی ۵ میں سے ٣ سیٹوں پر پی ٹی آئ جیت چکی 

    اس ساری کامیابی سے ایک بات تو واضع ہوچکی کہ عوام نے اپوزیشن جماعتوں کے جعلی بیانئے وہ چاہے حکومت مخالف ہو یا ریاستی اداروں کے مخالف سب کو عوام نے مسترد کر کے حکومتی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کردیا اور ثابت کردیا کہ پاکستانی عوام کسی صورت ان جماعتوں کی حمایت نہیں کرے گی جو ریاستی اداروں یا پاکستان کو دنیا کے سامنے بدنام کرنے کی پالیسی اپنائیں گی 

    ن لیگ نے نواز شریف کے بیانئے ووٹ کو عزت دو کی بجائے شہباز شریف کے بیانئے کام کو عزت دو کو اپنایا جس وجہ سے ان کو بھی اچھی سیٹیں مل چکی ہیں جسے ن لیگ اپنی بڑی کامیابی سمجھ رہی ہے حالانکہ اس کامیابی سے لگ یہی رہا ہے کہ عوام نے نواز شریف کے بیانئے کو مسترد کرکے شہباز شریف کے بیانئے کو اپنایا ہے 

    دوسری طرف ن لیگ ہمیشہ اسٹیبلشمینٹ پر الیکشن چوری کا الزام لگاتی آئ ہے لیکن کنٹونمنٹ الیکشن جو اسٹیبلشمنٹ کے اپنے گھر کے الیکشن ہیں اس میں جیتنے کے بعد ن لیگ کا یہ بیانیہ کہ اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کرواتی ہے بھی اپنی موت آپ مرتا دکھائ دے رہا ہے 

    اب پاکستانی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اگر اسٹیبلشمنٹ الیکشن چوری کروانے میں ملوث ہوتی تو شائد کنٹونمنٹ الیکشن میں ن لیگ کے ہاتھ ایک سیٹ بھی نا آتی 

    ن لیگ سمیت تمام اپوزیشن کی جماعتوں نے یہ جھوٹ پر مبنی ایک بیانیہ بنالیا کہ جہاں سے جیت جائیں وہ عوام کی جیت اور ہار جائیں تو اسے اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دی جائے 

    لیکن اب پاکستانی عوام اپوزیشن کے اس بیانیے کو مکمل مسترد کرچکی ہے ،پاکستانی عوام عقل و شعور رکھنے والی ہے وہ جانتے ہیں کہ اپوزیشن کی جماعتوں کا کام حکومت میں آکر صرف کرپشن کرنا ہی ہے ملکی تعمیر و ترقی سے ان کو کوئ غرض نہیں 

    اس وقت تک حالات کے مطابق لگ ایسا ہی رہا ہے کہ پی ٹی آئ ٢٠٢٣ میں بھی واضع اکثریت سے حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی اور اپوزیشن ایک بار پھر روتی ہی نظر آئے گی 

    @MajeedMahar4

  • حکومت غلطی پر ہے، تحریر: محمد شعیب

    حکومت غلطی پر ہے، تحریر: محمد شعیب

    یہ حکومت میری سمجھ سے باہر ہے ۔ بیک وقت انھوں نے مختلف لوگوں سے پنگے لے رکھے ہیں ۔ سب سے بڑا پنگا تو اندھا دھند مہنگائی کرکے عوام سے لیا ہوا ہے جس کا اظہار کل عوام نے پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ڈال کر کھل کر کردیا ہے ۔۔ اور آج تو صحافیوں پر پابندی ہی لگا دی ۔ ہوں کچھ یوں کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس تھا ۔ جس سے صدر عارف علوی نے خطاب کرنا تھا ۔ پر حکومت نے اس اہم موقع پر پارلیمنٹ میں داخلے پر صحافیوں پر پابندی لگادی ۔ یعنی جو سرکاری ٹی وی دیکھائے گا اور بتائے گا وہ ہی دیکھانا اور بتانا ہوگا ۔ ۔ یوں صحافیوں کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ احتجاج کرتے اور انھوں نے خوب کیا بھی پارلیمنٹ کی راہ داریوں میں بھی اور پارلیمنٹ کے باہر بھی ۔۔

    پتہ نہیں حکومت کیوں اتنی بضد ہے کہ وہ ڈاکٹرز کو بھی سبق سیکھائے گی ۔ جج بھی اپنی مرضی کے لگوائے گی ۔ الیکشن کمیشن کو بھی اپنی جوتی کی نوک پر رکھے گی اور صحافیوں کو تو ویسے ہی تن کررکھی گی کیونکہ میڈیا نے اس عمران خان اور انکی پارٹی کو سب سے زیادہ سپورٹ کیا تھا ۔ تو بدلہ اتارنا تو بنتا ہے نا ۔۔۔۔۔ میں اس پر بس اتنا ہی کہوں گا کہ جوحکومت نہ مہنگائی کنٹرول کر سکے، نہ قرضے کنڑول کر سکے، نہ کابینہ کنٹرول کر سکے، نہ معیشت کنٹرول کر سکے، نہ ڈالر کنٹرول کر سکے۔اور نہ ہی اپنی زبانیں کنٹرول کر سکے وہ اب خواب دیکھ رہی ہے کہ میڈیا کو کنٹرول کریں ۔ یہ دیوانے کا خواب ہے ۔ ۔ یہ اتنا درد پتہ نہیں کیوں اس حکومت کے دل میں جاگ اٹھا ہے ۔ کہ اس کی نظر کرم صحافیوں پر پڑ گئی ہے اور یہ میڈیا اتھارٹی بل لا کر پتہ نہیں کون سا انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے ۔

    حالانکہ اس دورحکومت میں سب سے زیادہ صحافی متاثر ہوئے ہیں ۔ اس دور میں جتنے صحافی بے روزگار ہوئے ہیں شاید پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ جتنی صحافیوں کو اس دور میں مار پڑی ہے پہلے کبھی نہیں پڑی ۔ جتنے صحافی اس دور میں اٹھائے گئے یا غائب کیے گئے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔۔ جتنے پرچے اس دور میں صحافیوں پر ہوئے ہیں پہلے کبھی نہیں ہوئے ۔ ۔ جتنی پابندیاں اس دور میں صحافیوں پر لگی ہیں پہلے کبھی نہیں لگیں ۔ یہ ہے کھرا سچ ۔۔۔

    کسی اور کیا بات کرنی ۔ جولائی 2018میں یہ حکومت آئی اور دسمبر 2018سے اب تک میں اور میری پوری ٹیم بے روزگار ہے ۔ پی ٹی آئی وہ پارٹی ہے جس کو میڈیا نے سب سے زیادہ سپورٹ دی ۔ اور آج جو پریس گیلری بند کی گئی یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے ۔ دیکھا جائے تو اس وقت ملک میں سول مارشل لاء لگا ہوا ہے ۔ اس پارٹی کی تمام حرکتیں اور زبان ایسی ہے جو کسی فاشسٹ پارٹی کی ہوتی ہیں ۔ آج صحافیوں کے احتجاج میں بلاول ، شہباز اور فضل الرحمان سب ہی باری باری شریک ہوئے اور اظہار یکجہتی بھی کیا ۔ پھر پارلیمنٹ کے اندر بھی اپوزیشن نے صحافیوں کے حق میں احتجاج بھی کیا ۔ پلے کارڈز بھی اٹھائے اور حکومت کے کالے قوانین کے خلاف خوب نعرے بازی بھی کی ۔ ان سب سے لاکھ اختلاف صحیح لیکن ان کا شکریہ کہ یہ حق اور سچ کی آواز کے ساتھی بنے ۔ ۔ پھر آپ دیکھیں اس حکومت سے ایف بی آر کا ڈیٹا تو سنبھالا نہیں جاتا اور زور دے رہے ہیں کہ ان پڑھ اور عام عوام الیکٹرانک مشینوں سے ووٹ ڈالیں۔ کیا حکومت کو معلوم نہیں کہ یہ وہ پاکستان ہے جہاں دن دیہاڑے لوگوں کے ووٹ غائب ہو جاتے ہیں۔

    ۔ انگوٹھوں کے جعلی نشانوں پر موبائل فون کی سمیں مل جاتی ہیں۔ یہ وہی پاکستان ہے جہاں فالودے والے کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکل آتے ہیں لیکن چور پھربھی پکڑے نہیں جاتے۔۔ پھرالیکشن کمیشن کا جو حال یہ حکومت کرنا چاہ رہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس ہار چکی ہے اور اس سے پہلے کے الیکشن کمیشن کوئی فیصلہ سنائے یہ الیکشن کمیشن کو ہی متنازعہ بننے پر تل گئے ہیں ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جو وفاقی وزراء ان تمام معاملوں میں پیش پیشں ہیں ۔ یہ سب کرائے کے کھلاڑی ہیں یعنی یہ جس کی حکومت ہو اس کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ جس کا وقت اچھا ہو یہ اس کے ساتھی ہوتے ہیں ۔ ان کو موقع پرست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ یہ پارٹیاں ایسے بدلتے ہیں جیسے کپڑے بدلے جاتے ہیں ۔ ان میں سے ایک آدھ وزیر موصوف تو ایسے بھی ہیں جو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے قابل تو نہیں ، پر ہر بار اپنے پیسے کے زور پر سینیٹر ضرور بنتے ہیں۔ ۔ یہ صرف پیسے کی چمک کا کمال ہے ورنہ اتنی ہمت کسی میں نہیں ہوتی کہ کسی آئینی ادارہ کو آگ لگانے کی بات کرے۔ ایسا لگتا ہے کہ کچھ وزراء بی جے پی اور شیو سینا کے بیانات بہت غور سے پڑھتے ہیں۔

    ۔ یہاں میں آپکو ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی مثال دیے دیتا ہوں ۔ جنہوں نے اپنے دور کا سب سے تاریخی کام متفقہ آئین بنایا ۔ سب جانتے ہیں کہ بھٹو ایک سخت گیر شخص تھے ۔ اور ایسے کئی واقعات کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جب انہوں نے سیاسی مخالفین کو کچلنے کی کوشش کی۔ ۔ لیکن 1973ء کا آئین منظور کروانے کے لئے وہ ہر کسی کے پاس خود چل کر گئے تھے۔ وہ مولانا مودودی سے ملے اور اس وقت کی اپوزیشن کے تمام راہنماؤں کے پاس بھی گئے۔ سوال یہ ہے کہ اگر حکومت کی نیت بہت اچھی ہے اور ہر حال میں الیکشن ریفارمز کرنا چاہتی ہے ۔ تو وہ دوسروں کی رائے کیوں نہیں لیتی ۔ وہ کیوں ہر معاملہ میں اپنی منوانا چاہتی ہے ۔ پھر چاہے معاملہ صحافیوں کا ہو ، اپوزیشن کا ہو ، وکیلوں کا ہو یا ڈاکٹروں کا ۔۔۔ حکومت صرف یہ کیوں چاہتی ہے کہ اس کی ہی بات مانی جائے ۔ معذرت کے ساتھ ایسا ڈکیٹروں کے دور میں ہوتا ہے جمہوریت میں ایسا کوئی چلن نہیں ہے۔ آخر کیوں وزیراعظم عمران خان اتنی اعلی ظرفی کا مظاہرہ نہیں کرتے کہ وہ چل کر مولانا فضل الرحمان یا شہباز شریف یا بلاول کے پاس جائیں؟عمران خان تو پہلے دن سے ہی ۔۔۔ کسی کو نہیں چھوڑوں گا ۔۔ نعرہ بھی لگا رہے ہیں اور عملی طور پر تمام سیاسی مخالفین سمیت صحافی ، وکلاء ، ڈاکٹرز سب کے خلاف انتقامی کاروائیوں کر رہے ہیں ۔ ذوالفقار علی بھٹو سے سیاسی طور پر ہزار اختلافات ایک طرف ، لیکن یہ ان کی سیاسی بصیرت تھی کہ پارلیمان میں دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انہوں نے آئین کا بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کرنے کی بجائے تمام سیاسی قیادت کو ایک پیج پر اکٹھا کیا اور اسے متفقہ آئین کے طور پر منظور کروایا۔ پتہ نہیں یہ حکومت کیوں سیاسی محاذ آرائی کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ حالانکہ سیاسی اتفاق رائے کی اہمیت اس محاذ آرائی سے زیادہ ہے ۔

    ۔ سچ یہ ہے کہ حکومت اہم سیاسی معاملات پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے تصادم کی طرف جانا چاہتی ہے اور متنازعہ بل پارلیمنٹ میں بلڈوز کر کے یا صدارتی آرڈیننس کے ذریعہ لانا چاہتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہماری موجودہ قیادت کی سیاسی طور پر گرومنگ نہیں ہوئی۔ پتہ نہیں یہ کون سا حکیم ہے جو کپتان کو بھی یہ مشورے دے رہا ہے کہ میڈیا کو کنٹرول اور بیورو کریسی میں آئے دن کی اکھاڑ پچھاڑ سے یہ لولا لنگڑا نظام ہمیں نئے پاکستان میں لے جائے گا۔ حالانکہ کے جو کل کینٹ بورڈ انتخابات کا رزلٹ آیا ہے وہ انکی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہونا چاہیئے ۔ کل یہ دو سو سے زائد سیٹوں پر یہ الیکشن ہوا ۔ جس میں پی ٹی آئی نے 63سیٹیں جیتیں ۔ یعنی آدھی سے بھی کم ۔ میری نظر میں یہ الیکشن کے ساتھ ساتھ حکومت کی popularity کا ایک سروے تھا ۔ لوگوں نے ووٹ کی طاقت سے اظہار کر دیا ہے کہ وہ حکومتی کارکردگی سے کس قدر خوش ہیں ۔ اوپر سے حد تو یہ ہے کہ ہار کو تسلیم کرنے کی بجائے یا وجوہات کو جاننے کی بجائے ۔ کل سے وفاقی وزراء ایسے خوشی منا رہے ہیں۔ جیسے پتہ نہیں کون سا معرکہ مار لیا ہے ۔ ویسے ہار کے خوشی منانے کا طریقہ اگر کسی نے سیکھنا ہو تو پی ٹی آئی کے وزیروں اور مشیروں سے سیکھے ۔ آخر میں بس یہ کہوں گا کہ یہ جو ہم آئے دن حکومت کی گڈ گورننس کا پول کھول دیتے ہیں اور گورننس کا اصل چہرہ کبھی کھلے تو کبھی ڈھکے چھپے انداز میں دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر حکومت کا یہ خیال ہے کہ یہ سلسلہ میڈیا کو بیڑیاں پہنانے سے تھم جائے گا۔ تو حکومت غلطی پر ہے ۔

  • ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی  تحریر : سیف الرحمان

    ‏الیکشن کمیشن یا سیاسی پارٹی تحریر : سیف الرحمان

    آج کل الیکٹرانک مشین کو لے سارے ملک میں  کافی بحث مباحثہ شروع ہے۔ اس بحث میں بیک وقت پانچ فریق حصہ لے رہے ہیں۔ سب کے سب اپنی اپنی رائے اور تحزیے دیتے نظر  آ رہے ہیں۔ یہ پانچ فریق مندرجہ ذیل ہیں۔ 

    1-حکومت

    2- اپوزیشن

    3-میڈیا

    4-الیکشن کمیشن

    5-عام عوام

    حکومت وزیر اعظم کے ویثرن نیوٹرل ایمپائر /فری اینڈ فیئر الیکشن کے خواب کی تعبیر کیلئے جہدو جد کرتی نظر آ رہی ہے۔

    اپوزیشن حسب روایت حکومتی کام میں روڑے اٹکاتی نظر آ رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ بظاہر دھاندلی سے پاک الیکشن جو کافی سارے لوگوں کیلئے باعث فکر اور پریشانی بن سکتی نظر آتی ہے۔

    میڈیا اس بحث میں دونوں فریقوں کی رائے لیتا نظر آ رہا ہے کچھ دانشوروں کے تجزے بھی الیکشن ریفارمز میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔

    عام عوام الیکشن ریفارمز کیلئے خوش اور جذباتی نظر آر  ہی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر الیکٹرانک ووٹنگ مشین آ جائے تو ہم بھی جدید دور میں نا صرف قدم رکھ سکتے ہیں بلکہ دھاندلی جیسی الزام تراشی سے بھی بچت ہو جائے گی۔ 

    الیکشن کمیشن کا کردار الیکٹرانک مشین کو لے کر روز اول سے مشکوک نظر آ رہا ہے۔  سن٢٠١١سے لے کر ٢٠٢١تک الیکشن کمیشن نے الیکشن ریفارمز پر ایک ٹکے کا کام نہیں کیا۔ اب جب حکومت نے الیکٹرانک مشین بنا ہی لی تو سب سے ذیادہ اور سرعام مخالفت بھی الیکشن کمیشن نے ہی کی ہے۔

    اب اصل میچ تین فریقوں کے مابین پڑنے والاہے۔ حکومت, الیکشن کمیشن اور اپوزیشن۔  پہلی باری حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونی چاہئے تھی لیکن الیکشن کمیشن نے خود فرنٹ سے لیڈر کرنے اور حکومتی ریفارمز کیخلاف پنجہ آزمائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے  بیک فٹ پر جا کر الیکشن کمیشن کو سپوٹ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ الیکشن کمیشن نے  گزشتہ ہفتہ حکومتی ٹیم سے ملاقات میں الیکٹرانک مشین کو لے کر 37اعتراضات اٹھائے ۔ ان اعتراضات پہ اگر غور کریں تو ایسا لگ رہا ہے  کہ یہ اعتراضات الیکشن کمیشن کی بجائے کسی سیاسی پارٹی کے بندے نے اٹھائے ہیں۔  آئے پہلے آپ کو ایک ایک کر کے اعتراضات بتاتے ہیں۔ 

    الیکشن کمیشن کے اعتراضات:

     وقت بہت کم ہے 

    الیکشن کمیشن نے حکومت کی رائے لیئے بغیر ہی فیصلہ کر دیا جبکہ حکومت کہتی ہے کہ ہم چھ ماہ میں مطلوبہ تعدار میں مشینیں بنا کر دے سکتے ہیں۔ مطلب بنانے والا کہہ رہا کہ بنا دوں گا لیکن الیکشن کمیشن کہتا ہے نہیں رہنے دیں 

      الیکٹرانک ووٹنک مشین پہ راز داری نہیں رہے گی

    حقیقت یہ ہے کہ  جب الیکٹرانک مشین سےرسید باہر نکلتی ہے تو اس پہ  صرف بار کوڈ درج ہوتا ہے۔ اس  میں نہ ووٹر کا نام ہے نہ اس کے خاندان کا نام ہے نہ ہی اس کا ایڈریس اور نہ ہی شناختی کارڈ نمبر درج ہوتا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ ووٹر کی راز داری ظاہر ہوتی ہے غلط بات ہے

    ای وی ایم سے ووٹر کی شناخت گمنام نہیں رہے گی

    جیسے کہ پہلے بتاچکا ہوں کہ ای وی ایم  رسیدپہ صرف ٹائم تاریخ اور بار کوڈ کے علاوہ کسی قسم کی کوئی شناخت نہیں ہوتی۔  بار کوٹ صرف الیکشن کمیشن ہی ٹریس کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بندہ نہیں کر سکتا۔

    مشین کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا نہیں جا سکتا

    بندہ پوچھے آپ نے سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھ کر کیا کرنا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن نے کبھی کمپیوٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر دیکھا ہے؟

    ووٹوں کی جمع تفریق کرتے وقت کلکولیٹر کا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کبھی چیک کیا ہے؟

    ای وی ایم کا کم از کم ایک سو پچاس ارب خرچہ آئے گا

    کیا الیکشن کے اخراجات چیف الیکشن کمیشن صاحب کو  اپنی جیب سے ادا کرنے تھے؟

    کیا اس سے پہلے جتنے الیکشن ہوئے وہ فری میں ہوتے آ رہے ہیں؟

      الیکشن کی شفافیت  اور ساکھ مشکوک رہے گی

    اب بندہ پوچھے کہ اس سے پہلے ایسا کون سا الیکشن ہے جو مشکوک نہیں رہا؟

    الیکشن کمیشن اپنی تاریخ کا کوئی ایک عدد الیکشن بتا دے جو مکمل فری اینڈ فیئر کروایا ہوجس پہ کسی نے اعتراض نا کیا ہو۔

      الیکٹرانک مشین کس کی تحویل میں رہے گی

    اس سے پہلے الیکشن بیلٹ کس کی تحویل میں رہتے تھے؟

    ظاہر ہے ای وی ایم بھی الیکشن کمیشن کی تحویل میں ہی رہے گی۔ 

    ویئر ہاؤس اور ٹرانسپوٹیشن میں  مشینوں کے سافٹ ویئر تبدیل کئے جا سکتے ہیں

    یہ منطق سمجھ سے باہر ہے۔ ویئر ہاؤس الیکشن کمیشن کا تحویل بھی الیکشن کمیشن کی پھر تبدیل کون اور کیسے کرے گا۔ مطلب الیکشن کمیشن اتنا نااہل اور نالائق ہے جو الیکٹرانک مشین کی حفاظت تک نہیں کر سکتا۔ 

     بلیک بکس کی شفافیت پر سوال اٹھ سکتا ہے

    یہاں الیکشن کمیشن کو مشین کے رنگ پہ اعتراض ہے۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ کالے رنگ کا ڈبہ جس میں مشین پیک ہو گی مشکوک ہے۔ مطلب چیف الیکشن کمیشن صاحب کو کالا رنگ ہی پسند نہیں۔ 

     ہر جگہ مشین کی صلاحیت پہ سوالات اٹھ سکتے ہیں

    یہاں الیکشن کمیشن مشین بغیر بجلی استعمال پہ سوالات اٹھا رہا ہے۔ حکومت نے گارنٹی دی ہے کہ یہ مشین  بغیر بجلی بیٹری پر ایک لمبے بیک اپ کیساتھ K2 پہ بھی چلے گی اوربحر  الکاہل کے اندر سب سے نچلی سطح پر بھی کام کرے گی۔ لیکن الیکشن کمیشن کی مرضی جب انہوں نے کہہ دیا کہ نہیں چلنی تو سمجھو نہیں چلنی۔

    مشین کی منتقلی اور حفاظت

    سر پہلے جو بندے بیلٹ پیپر کی منتقلی اور حفاظت کرتے تھے یقین مانیں وہی بندے الیکٹرانک مشینوں کی حفاظت بھی کر لیں گے۔ کسی اضافی برگیڈ یا پولیس نفری کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

      ای وی ایم سے شفاف الیکشن ممکن نہیں ہے

    اگر دیکھا جائے تو الیکشن کمیشن کے ہوتے ہوئے بھی شفاف الیکشن ممکن نہیں ہیں تو پھر کیا بندہ الیکشن کمیشن کو تالا لگا دے۔ بہرحال یہ اعتراض بھی سیاسی بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے

    سافٹ ویئر   باآسانی ٹمپر اور بدلہ  جا سکتا ہے

    سیل بند مشین کو کھولنا ہی نا ممکن ہے اگر کھل گئی تو فورا پتا چل جائے گا۔ کیونکہ اس مشین کو کھول کر دوبارہ جوڑنے کی آپشن ہی ختم کر دی گئی۔ اگر کوئی یہ حرکت کرنا بھی چاہے گا تو کھلی مشین سے فورا پتا چل جائے گا

    الیکٹرانک مشین فراڈ نہیں روک سکتی

    الیکشن کمیشن کے اس اعتراض کے بعد ایک عد ہنسی تو بنتی ہے۔ بندہ پوچھے مشین فراڈ کیسے روکے گی۔ فراڈ تو الیکشن کمیشن کے بندوں نے روکنا ہے۔ مشین نے صرف اور صرف شفاف  بیلٹنگ کروانی ہے۔ ایک شناختی کارڈ پہ صرف ایک ووٹ۔  کسی مردے کا ووٹ کاسٹ نہیں ہو گا۔ کوئی ڈبل ووٹ نہیں دے پائے گا۔ کوئی ٹھپہ نہیں لگے گا۔ 

      مشین کی آذادی پہ سوال ہوں گے

    مجھے تو مشین کی آذادی پہ سوال سے مراد شاہد مشین  کی بغیر چائے پانی اور بریک کے اپنی ووٹنگ جاری رکھنے کی صلاحیت سمجھ آئی ہے۔ 

      مشین کو ہیک کیا جا سکتا ہے

    کوئی صاحب عقل یہ بتا دے کلکولیٹر کو کیسے ہیک کیا جا سکتا ہے؟

    الیکٹرانک مشین کی تھیوری بھی کلکولیٹر جیسی ہے نا بلیو ٹوتھ , نا انٹر نیٹ نا ہی کوئی بیرونی ڈیوائس اس کے ساتھ منسلک ہو سکتی ہے ۔

      ای وی ایم کی ایمانداری پہ یقین نہیں کیا جا سکتا

    کوئی بندہ الیکشن کمیشن کو بتائے کہ ای وی ایم  ایک مشین ہے  اور اس کو مشین کی طرح ہی دیکھا جائے۔  

    اتنی ذیادہ مشینوں سے ایک ہی دن میں انتخاب کرانا ممکن نہیں

    اگر مینول کام جلدی جلدی ہوتے ہیں  تو لوگ مشینوں سے کیوں کام لیتے ہیں؟

    جو کام پنسل سے  لکھ کر پانچ منٹ میں ہوتا ہے اگر وہی کام صرف ایک بٹن دبانے سے ہو جائے تو ذیادہ بہتر کون ہے۔ مشین یا مینول طریقہ ؟

      ووٹر کی تعلیم اور ٹیکنالوحی روکاوٹ بننے گی

    یہاں الیکشن کمیشن ساری قوم کو ان پڑھ اور جاہل سمجھ رہا ہے۔ اس وقت تقریبا ہر شخص کے پاس ٹچ موبائل ہے۔ ان موبائلوں میں ایپ دیکھ لیں شاہد اچیف الیکشن کمیشن نے کبھی استعمال نہ کی ہوں جو ان پڑھ لوگ چلارہے ہیں۔

      اسٹیک ہولڈرکا اتفاق نہیں ہے

    الیکشن آپ نے کروانے یا اسٹیک ہولڈرز نے۔ 

    عوام کا اعتماد نہیں

    عوام تو الیکشن کمیشن پہ بھی اعتماد نہیں کرتی۔ پھر کیا کرنا چاہئے؟

    ڈیٹا انٹی گریشن اور ویری فیکیشن

    کوئی چیف الیکشن کمیشنر صاحب کو بتا دے کہ جو رسید مشین سے نکل کر بیلٹ بکس کی ذینت بنتی ہے اس کو آپ ہر طرح سے تصدیق کیلئے پیش کر سکتے ہیں۔ بار کوڈ کے اندر سب کچھ موجود ہوتا ہے۔

      خواتین کے ٹرن آؤٹ کو مشین ذیادہ نہیں کر سکتی

    کیا بیلٹ بکس خواتین کو گھروں سے پکڑ پکڑ کر ووٹ ڈالنے لایا کرتے تھے جو الیکٹرانک مشین سے نہیں ہو پائے گا۔ یہ اعتراض بھی بہت عجیب و غریب ہے۔

      مشین نتائج میں تاخیر کا سبب بننے گی

    صرف ایک بٹن دبانے کی دیر ہے رزلٹ پرنٹ کی شکل میں باہر نکل آئے گا۔ الیکشن کمیشن کا یہ اعتراض بھی کوئی خاص وزن نہیں رکھتا۔

      میڈیا اور سول سوسائٹی کو بداعتمادی ہو سکتی ہے

    مطلب الیکشن کروانے کیلئے میڈیا اور سول سوسائٹی کو راضی رکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ایسی سوچ ہے تو کر لئے شفاف الیکشن

       مشینوں کی مرمت الیکشن میں دھاندلی کا باعث بن سکتی ہے

    پہلے الیکشن کمیشن سے کوئی پوچھے کہ سیل بند مشینوں کی مرمت کون کرواتا ہے؟ 

    جب حکومت نے کہہ دیا کہ سیل کھول دی تو مشین ضائع تو مرمت کا تو سوال ہی نہیں بنتا۔ خراب مشین تبدیل ہو گی مرمت نہیں ہو گی

      ریاستی اختیارات کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے

    الیکشن کمیشن کو کوئی بتائے الیکشن کے وقت عبوری حکومت ہوگی۔ عبوری حکومت  کا کام الیکشن کرانا ہوتا ہے اس کے علاوہ کوئی خاص اختیارات اس کے پاس نہیں ہوتے

      ووٹ کی خریدو فروخت نہیں رکے گی

    مشین  نے ووٹ خریدنے والوں پہ کیس تو کرنے نہیں لہذا یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے۔ خریدو فروخت بیلٹ کے ہوتے ہوئے بھی ہوتی تھی۔

      مشین میں ووٹ کی کوئی سکریسی نہیں ہے

    صرف بار کوڈ تاریخ اور وقت کے علاوہ رسید پہ کچھ نہیں ہو گا اور کون سی سکریسی چاہئے؟

    الیکشن سے پہلے وقت کی کمی

    سر  ابھی دو سال پڑے ہیں چھ ماہ میں مشینیں بن کر آ جائیں گی آپ بس نیت کریں اﷲ آسانیاں فرمائے گا۔

    یہ تمام اعتراضات پڑھ کر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ اعتراضات کسی الیکشن کمیشن کے بندے نے لگائے ہوں گے؟

    یہ سب کے سب اعتراضات سیاسی نوعیت کے نظر آ رہے ہیں۔ اس کے پچھے کون ہے یہ الگ بحث لیکن اس سے الیکشن کمیشن کی اپنی ساکھ کو بہت نقصان ہوا ہے۔ اس وقت پورے پاکستان میں لوگ الیکشن کمیشن کو  تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو سیاسی پارٹی بننے کی بجائے یا سیاسی وابستگی کی بجائے قومی ادارہ بن کر سوچنا چاہئے۔ اگر کوئی حکومت الیکشن ریفارمز میں سنجیدہ ہو ہی گئی ہے تو برائے مہربانی آپ بھی تعاون کریں اور قومی ادارے کے طور پر بہتری کی معاونت کریں۔

    قانون تو پارلیمان نے بنانا ہے اور شاہد ای وی ایم کے تحت الیکشن کرانے کا قانون بن بھی جائے تو اس کے بعد الیکشن کمیشن کدھر جائے گا۔ کیونکہ آئین میں واضع لکھا ہے جو قانون پارلیمان بنا کر دیں الیکشن کمیشن نے اسی کے مطابق الیکشن کروانے ہیں۔ بطوو ادارہ الیکشن کمیشن کوئی قانون نہ تو بنا سکتا ہے اور نہ  ہی بنے قانون کی مخالفت کر سکتا ہے۔

    ہماری دعا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے حوالے سے ایسا نظام آئے جس سے ایمانداد اور پڑھے لکھے لوگ ہی اسمبلیوں کا حصہ بنیں۔ ایسا نظام جس میں ٹھپہ راج اور رشوت خوری کے تمام دروازے بند ہو جائیں۔  آمین

    ‎@saif__says

  • جمہوریت اور عوام تحریر:سردار ساجد محمود خان

    جمہوریت اور عوام تحریر:سردار ساجد محمود خان

    اسلامی جمہوریہ پاکستان

    یہاں جمہوریت کے نام پر جو کھلا مذاق عوام کے ساتھ مشرف کے بعد سے کھیلا جارہاہے وہ قابل ذکر ہے کہ کسطرح عوام کو بیوقوف بنایا جارہاہے پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو نون لیگ اپوزیشن تھی اور خوب پیپلز پارٹی کو برا اور صرف برا کہا پورے پانچھ سال نون لیگ اسی کام میں لگی رہی کے پیپلز پارٹی تو روز کرپشن کر رہی ہے پیپلز پارٹی عوام کا خون چوس رہی ہے ظلم کررہی ہے مہنگائی انتہا کو پہنچھ چکی ہے عوام کی پہنچ سے روٹی دور کردی گئی ہے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے پیپلز پارٹی کو عوام کا خیال نہیں ہے ہر بجٹ عوام دشمن بجٹ کہا گیا پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں  نون لیگ ہر بجٹ میں کہتی تھی کے اس بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں یہ عوام دشمن بجٹ ہے لیکن بجٹ ہر بار پاس ہوتا رہا عوام صرف ڈرامہ بازی دیکھتی اور پیپلز پارٹی کے لئے آپنے دل میں غصہ پالتی رہی

    خیر وقت کا کیا ہے وقت تو گزرجاتا ہے اب الیکشن کا وقت ہوا تو نون لیگ اور باقی جماعتیں اپنا اپنا چورن بیچنے لگیں خیال رہے یہاں نون لیگ کا نام اس لئے لیا جارہا ہے کیونکہ اس ٹائم میں انکی بڑی واہ واہ تھی  کوئی کہتا کے چھے مہینے میں لوڈ شیڈنگ ختم نہ کی تو نام بدل دینا کوئی کہتا کے پیٹ پھاڑ کر عوام کا پیسہ واپس لینگے کوئی کہتا کہ کرپشن کرنے والوں کو روڈ پر گسیٹینگے 

    2008 سے 2013 تک عوام کے لئے کیا قانون بنا اس سے عوام کو بھی کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی حکومت نے عوام کا دھیان اس طرف انے دیا ہر روز ایک نیا تماشا رہتا تھا اور عوام کا سارا دھیان اس تماشے پر لگا رہتا تھا اور پیچھے سے پاکستان کو پتہ نہیں کتنا قرضہ میں ڈبویا پیپلز پارٹی کی حکومت نے

    اب آیا الیکشن کا وقت الیکشن ہوا نون لیگ جیت گئی اور حکومت بنا لی اور پیپلز پارٹی اپوزیشن میں بیٹھ گئی

    اب میدان میں ایک اور پارٹی آگئ تھی پاکستان تحریک انصاف جو کے پارلیمنٹ میں تیسری بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی وہ بھی اپوزیشن میں بیٹھ گئی لیکن اس جماعت نے آپنا راستہ الگ رکھا

    نون لیگ کا دور شروع ہوا تو پہلے لوڈ شیڈنگ کا مثلہ تھا جس پر عوام نے انہیں ووٹ دیا تھا کیونکہ کے انہوں نے چھے ماہ کے وعدے پر کہ لوڈ شیڈنگ ختم کردینگے پر عوام سے ووٹ لئے تھے اس پر آتے کہ ساتھ وزیراعظم نے کہا تھا اس وعدے کو بھول جائیں یہ جوش خطابت میں کہدیا تھا  حکومت میں اکر پھر وہی تو چور میں سپاہی والا چورن چلنے لگا نون لیگ پیپلز پارٹی پر روز کرپشن کے الزام لگائے اور مزے کی بات ہے کہ حکومت وقت الزام لگا رہی ہے اور نا گرفتار کرسکی ملزم کو اور نہ کوئی الزام ثابت کرسکی اسی دوران پاکستان تحریک انصاف اور قادری صاحب بھی میدان میں اترے ہوے تھے انکے الگ مثائل سامنے آئے عوام پہلے سے ہی نون اور پیپلز پارٹی کے ڈرامائی جھگڑوں میں مصروف تھی یہاں ایک نیا انقلاب کا مثلہ کھڑا ہوگیا تو اب عوام اور زیادہ مصروف ہوگئی 

    انکو یہ فکر نہیں تھی کے مہنگائی کہاں پہنچ گئی ہے عوام کا جینا مشکل کیا جارہا ہے عوام کے لئے یہ لوگ اسمبلی میں ہیں

    لیکن یہ اپنے مثلوں میں عوام کو بیوقوف بنائے جارہے ہیں عوام کا دھیان اس طرف نہ ہو اس بات کا بھرپور خیال رکھا جاتا ہے ہر جمہوری دور میں 

    نون لیگ کے دور میں پہلا سال تو لوڈ شیڈنگ مہنگائی کرپشن کے رونے پر رہا قانون کیا بنا عوام کو فکر نہیں دوسرا سال دھرنے کی نظر ہوا عوام فکر نہیں تیسرے سال سانحہ پشاور ہوا عوام کا دھیان وہاں پھر نواز شریف نااہلی والا دور عوام وہاں مصروف کیا قانون بنا عوام کے لیئے عوام کو اس کی فکر نہیں پھر اسی طرح چوتھا سال آیا عوام مصروف رہی اسکے لئے کیا قانون بنا عوام کو کوئی پرواہ نہیں  اب پھر الیکشن کا وقت آیا عوام پھر مصروف 

     نئی حکومت اس بار پاکستان تحریک انصاف کی بنی جسنے اتنے سبز باغ دکھائے تھے کے

    عوام نے سوچا تھا کے نوے دنو میں پاکستان آمریکہ سے بھی زیادہ ترقی کرلیگا  

    لیکن مزے کی عمران خان صاحب نے بھی وہی سپیچ پڑھی جو نواز شریف نے پڑھی تھی کے جوش خطابت

    خان صاحب نے کہا کے یو ٹرن لینے والا لیڈر ہوتا ہے

    لیکن مثلہ وہی پرانا رہا یہاں کے تو چور میں سپاہی والا 

    عوام یہاں پھر مصروف ہوگئی

    پہلے سال کیا قانون بنا عوام کو پہلے کی طرح کوئی فکر نہیں

    دوسرے سال کیا قانون بنا عوام کو کوئی فکر نہیں تیسرا سال بھی کیا قانون بنا عوام کو کوئی فکر نہیں

    اللّٰہ پاک کا فرمان ہے کہ جو قومیں اپنا بھلا نہیں چاہتیں

    اللّٰہ پاک بھی انکی مدد نہیں کرتا

    پاکستانی جب تک اپنے حق کے لئے نہیں اٹھے گی اس سے بھی زیادہ برا حال ہوگا پھر

    جتنے مرضی حکمران بدل لیں آپ ترقی نہیں کر سکتے

    کیونکہ کے جو بھی آتا ہے وہ صرف بیوقوف بنانے میں لگا ہوا ہے۔  یہ جمہوریت جب تک رہے گی ملک کا نقصان ہوتا رہیگا

    عوام کو سہی معنوں میں تبدیلی چاہیے تو پہلے خود تبدیل ہوں اور پھر اس جمہوری نظام سے جان چھڑائیں

    ملک کی ترقی کا واحد نظام صدارتی نظام ہے 

    بلکل اسی طرح جیسے امریکہ اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک میں یہ نظام کامیابی سے رائج ہے 

    عوام جاگے اور اپنے منتخب نمائندوں سے سوال کریں کے اپنے حلقے کے لئے کیا کام کیا ہے

    وعدے وفا کیوں نہیں کئے آپ خود دن بدن امیر ہوتے جارہے ہیں اور عوام غریب سے غریب تر کیوں ہو رہی ہے۔    

    @sajid_mehmood

  • کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ کے انتخابات اور کراچی تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات گزشتہ دنوں منعقد ہوئے اس انتخابات کے لئے تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے کراچی میں چھ کنٹونمنٹ بورڈز ہیں جن کو 42 وارڈوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان 42نشستوں کے لیے 354 امیدوار کھڑے کیے گئے تھے۔ جن کے رجسٹر ووٹرز کی مجموعی تعداد 466،522 بنتتی ہے۔
    یہ معرکہ پاکستان تحریک انصاف نے چودہ سیٹوں کے ساتھ سر کر لیا جبکہ گیارہ سیٹوں کے ساتھ پیپلز پارٹی دوسرے نمبر پر رہی۔تیسرا نمبر آزاد امیدواروں نے چھ سیٹوں کے ساتھ حاصل کیا اس کے علاوہ جماعت اسلامی پانچ سیٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر اور ایم کیو ایم پاکستان اور مسلم لیگ نواز تین تین سیٹوں سے پانچویں نمبر پر رہیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن (CBC) کراچی کا سب سے زیادہ آبادی والا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جہاں کی مجموعی آبادی 305،938 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز 190،280 ہیں یہاں 10 وارڈوں میں 104 امیدوار میدان میں تھے۔پیپلز پارٹی چار،تحریک انصاف،جماعت اسلامی اور آزاد امیدواروں نے دو دو نشستیں حاصل کیں۔
    کنٹونمنٹ بورڈ فیصل (CBF) دوسرا سب سے بڑا کنٹونمنٹ علاقہ ہے جس کی زیادہ تر آبادی اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور ایک زمانے میں یہ علاقہ ایم کیوایم کا تصور کیا جاتا تھا یہاں کی مجموعی آبادی296،469 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹر 159،983 ہیں اس علاقے کو بھی 10 وارڈمیں تقسیم کیا گیا ہے جن میں 88 امیدوار کونسلر کی نشست کے لیے انتخاب لڑ رہے تھے۔یہاں تحریک انصاف نے چھ ،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی،مسلم لیگ نواز اور آزاد امیدوار ایک ایک نششست حاصل کی۔
    علاوہ ازیں کنٹونمنٹ بورڈ ملیر کے دس واڈوں کے کونسلر کی نشستوں کے لیے 66 امیدوار میدان میں تھے یہاں کی مجموعی آبادی 139،052افراد پر مشتمل ہے جن میں صرف 36،447 افراد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں۔یہاں بھی پاکستان تحریک انصاف نے اپ سیٹ کیا اور پانچ نششستیں حاصل کیں جبکہ پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی نے دو دو اور ایک سیٹ آزاد امیدوار نے حاصل کی۔
    کورنگی کریک کنٹونمنٹ بورڈز میں پانچ وارڈ ہیں جن کی آبادی 57،745 افراد پر مشتمل ہےاور رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 21,424 ہے اور یہاں 49امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔مسلم لیگ نواز دو نشستوں پر اور ایم۔کیوایم،پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف ایک ایک نشستوں پرکامیاب ہوئے۔
    کراچی کنٹونمنٹ بورڈ KCBکراچی کا قدیم کنٹونمنٹ علاقہ ہے یہاں کی مجموعی آبادی 68,877افراد پر مشتمل ہے اور رجسٹرڈ ووٹر 36,970ہیں اس علاقے کے پانچ واڈوں کے لئے 40امیدوار میں مقابلہ تھا اوریہاں ایم کیو ایم نے دو پیپلز پارٹی نے ایک جبکہ دو آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی۔
    جزیرہ نما کنٹونمنٹ بورڈ منورہ کراچی کا سب سے چھوٹا کنٹونمنٹ بورڈ ہے جہاں صرف دو وارڈ ہیں جن میں7 امیدوار میدان میں تھے ، اس کی آبادی صرف 5،874 افراد پر مشتمل ہے اورجس میں سے صرف 3،544 افراد رجسٹرڈ ووٹر ہیں۔
    یہاں کی دونوں نششستوں پر پیپلز پارٹی کامیاب ہوئ۔
    تحریک انصاف وہ واحد جماعت تھی جس نے تمام 42 نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے یہ بڑی خوش آئیند بات ہے کہ اگر قومی سیاست میں کامیابی کو مضبوط بنانا ہے تو گراس روٹ لیول پر بھی اپنا قبضہ پکا کرنا ہو گا اور رفتہ رفتہ تحریک انصاف اس میں کامیاب ہوتی نظر آرہی ہے ایم کیو ایم کے اندرونی انتشار کے بعد کراچی کی سیاست میں جو خلاء پیدا ہوگیا تھا اسے تحریک انصاف پر کرتی نظر آرہی ہے اور یہاں کا ووٹر مہنگائ پر شکایت تو کرتا نظر آتا ہے لیکن ووٹ صرف تحریک انصاف کو ہی دینا چاہتا ہے۔۔اللہ کرے کراچی کے ووٹرز تحریک انصاف اور عمران خان صاحب سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں وہ جلد پوری ہوں۔

    @Azizsiddiqui100

  • عمر شریف پر سیاست (کدو کٹے گا تو سب میں بٹّے گا)  تحریر ؛ علی خان

    عمر شریف پر سیاست (کدو کٹے گا تو سب میں بٹّے گا) تحریر ؛ علی خان

     

    تصویر کے دو پہلو ۔ 

    زندہ قوموں کی پہچان میں ایک فن سے محبت بھی ہے،،،   کسی بھی دور میں مہذب معاشرے کی  ایک پہچان فن کاروں کی عزت و تکریم رہی ہے،،،  جدید دور کا مغر ب ہو یا  ماضی میں مغل سلطنت، فن کاروں کی قدر و منزلت  اور حوصلہ افزائی  و قدرشناسی  ان ریاستوں کا خاصہ  رہا ہے ،،،  یہ معاملہ ریاست تک محدود نہیں بلکہ  زندہ ضمیر عوام میں بھی یہ عادت بدرجہ اتم پائی جاتی  ہے،،،  اور ایسا ہونا بے جا نہیں کیونکہ فنکار ہی وہ ذریعہ ہے جو دنیا بھر میں اپنے ملک کا نام روشن کرتا ہے اور سافٹ امیج اُجاگر کرتا ہے،،، بہت سے ممالک میں تو شعبہ انٹرٹینمنٹ کو باقاعدہ انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے اور  حکومتی تحفظ بھی فراہم کیا جاتاہے ،،،  ہمسایہ ملک بھارت سب  سے بڑی مثال ہے کہ اسے دنیا بھر میں اپنی فلموں سے پہچان ملی اور بھارتی ثقافت دنیا بھر میں مقبول ہوئی،،، لیکن افسوس کہ وطن عزیز میں الٹی گنگا بہتی ہے،،، ہر مشہور فن کار، گلوکار اور کھلاڑی جب اپنی سار  ی زندگی اور سارا فن  قوم پر نچھاور کردیتا ہے تو اخیر عمر میں کسی کو فاقے نصیب ہوتے ہیں تو کوئی  علاج نہ ہونے کے باعث عدم سدھار جاتا ہے

    اس لمبی تمہید کی وجہ لیجنڈ ایکٹر عمر شریف  کی خراب طبیعت اور  اس پر بننے والا تماشا ہے ،،، عمر شریف نے جس کام کو ہاتھ ڈالا سونا کر دیا،،، مزاح کے بادشاہ نے  پاکستان کے علاوہ بھارت اور دنیا بھر میں  اپنے فن کا لوہا منوایا اور پاکستان کا سافٹ امیج متعارف کروایا  لیکن اب جب انہیں اس ملک کی، اس قوم کی اور اس حکومت کے ساتھ کی ضرورت ہے تو  عجیب سی بے حسی طاری نظر آرہی ہے ،،، اس عظیم فنکار کے نام پر باقاعدہ سیاست شروع ہوچکی  ہے،،، ریٹنگ کے لیے وسیم بادامی نے اپنے شو میں عمر شریف کی امداد کے لیے جو سرگرمی کی وہ پس پردہ زیادہ اچھے سے ہوسکتی تھی،،، اسی طرح دیگر فنکار اور ٹی وی اینکرز اگر ٹی وی پر واویلا کرنے کی بجائے سنجیدہ کوششیں کریں تو سب کے حصے میں شاید نہایت معقول رقم آئے جسے دے کر عمر شریف کا علاج ہوسکے 

    حکومتوں کی بات کریں تو معاملہ نشستن گفتن برخواستن  تک محدود ہے ،،، جب میڈیا میں معاملہ آیا تو وزیراعظم ہاؤس  کا ٹیلی فون حرکت میں آیا لیکن امید کے باوجود کچھ خاص پیش رفت نہ ہوسکی،،،  شہباز گل، فواد چودھری  نے ٹوئٹر پر بیان داغے تو  وزیراعلیٰ سندھ بھی  میدان میں آئے اور عمر شریف کو اثاثہ قرار دیتے ہوئے  سندھ حکومت کے پیچھے نہ ہٹنے کا بیان دے دیا،،،  یہ بیان دے کر مراد علی شاہ اسی امریکہ کی ٹکٹ کٹوا کر روانہ ہوگئے  اور بھول گئے کہ عمر شریف اسی  ملک  بھیجے جانے کے منتظر ہیں تاکہ انکا علاج ہوسکے،،، مطلب عمر شریف کا کدو کٹے گا تو سب میں بٹے گا چاہے  اس چکر میں مریض کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے،،، 

    یہاں کچھ حلقوں کی جانب سے یہ اعتراض بھی سننے کو ملا کہ ساری عمر کمایا اور آخر عمر کے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھا تو حضور والا فن کار اور صنعت کار میں یہی فرق ہوتا ہے کہ فن کار جیسے اپنا فن لٹاتا ہے ایسے ہی اسے دولت سنبھال خرچ کرنا نہیں آتی،،،  اگر یہ لوگ دو جمع دو چار اچھی طرح جانتے تو اسٹیج اور اسکرین پر اپنا ہی مذاق اڑا کر ہمیں تفریح مہیا نہ کرتے بلکہ   دماغ لڑا کر کوئی بڑی کرپشن کرتے اور پھر اسی پیسے میں سے کچھ خرچ کرکہ  صاف بچ جاتے اور معززسرمایہ کار کہلاتے

  • کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    کنٹونمنٹ بورڈ کا معرکہ تحریر عقیل احمد راجپوت

    پورے پاکستان میں کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے سندھ میں بھی کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات کے لئے گہما گہمی دیکھنے میں آرہی ہے ہر جماعت جلسے جلوسوں اور انتخابی مہم کے ذریعے عوام کو اپنے امیدوار کو ووٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے مگر انتخابات میں حصہ لینے والی جماعتوں میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جو اس وقت بھی حکومت اور وزارتوں کے باوجود سندھ کے کسی بھی ایک ضلع کو مثالی ضلع بتانے کی پوزیشن میں نہیں وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت کو تین سال پورے ہوچکے اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاق کا صوبوں پر صرف ٹیکس لینے کی اور وفاقی ماتحت اداروں کے زریعے اپنی کارکردگی دکھانے کا کام رہ گیا ہے مگر وہ کام بھی وفاقی حکومت سے عوام کو کوئی ریلیف دلانے سے قاصر ہے کیونکہ وفاق کے زیرِ انتظام بجلی کی تقسیم کرنے والی کمپنیوں نے عوام کا جس طرح جوس نکالا ہے وہ کوئی بھی پاکستانی اپکو بخوبی بتا سکتا ہے چینی سے لیکر ایل پی جی تک اور ڈالر سے لیکر ڈالڈا تک ہر چیز وفاقی حکومت کو منہ چڑھاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر وفاقی حکومت کا کہنا ہے آپ کو گھبرانا نہیں ہے 

    وفاق کی ناکامیوں کو دیکھنے کے بعد صوبہ سندھ کی جانب رخ کرتے ہیں جہاں پچھلے 13 سالوں سے پیپلز پارٹی کی بلا شرکت غیر لگاتار حکومت جاری ہے بلکہ یوں کہیے کہ سندھ کی عوام پر 13 سالوں سے وہ بھٹو حکومت کررہا ہے جو کبھی دکھائی ہی نہیں دیتا لیکن پھر بھی عوام مر گئی لیکن بھٹو آج بھی ذندہ ہے پیپلز پارٹی نے 13 سالوں میں سندھ کی وہ حالت کردی ہے کہ روشنیوں کا شہر کراچی اب موئنجودڑو کا منظر پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے کیونکہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے اور جب زیادہ بارش آتا ہے تو زیادہ پانی آتا ہے جیسے لوگ جب پاکستان کو ٹیکس کی مد میں 65 پرسنٹ ریونیو دینے والے صوبے پر حکمرانی کریں گے تو بس پھر ملک اور قوم کا اللہ ہی مالک ہے

    ویسے ایک نہایت ہی قابل انسان کا کہنا ہے کہ ملک اس وقت آٹو پر چل رہا ہے 

    میرے آرٹیکل کا مین مدا بھی یہی ہے کہ میرا پیارا ملک بیقدروں اور نااہلوں کے ہاتھوں میں ہونے کے باوجود بھی اللہ کے فضل سے چل رہا ہے جس میں پورے پاکستان کی ہر جماعت حکمرانی اور اپوزیشن دونوں ہی مزے لوٹ رہی ہیں سوائے ایک جماعت کے جس کا ذکر بعد میں کرونگا فلحال سندھ کی حکمران جماعتوں کا جائزہ لیتے ہیں تو پیپلز پارٹی تو سب کو معلوم ہے کہ ووٹ تو نکل آتا ہے ہے پولنگ بوتھ سے مگر بھٹو کسی کو نظر نہیں آتا 13 سالوں سے اقتدار میں ہے وفاق میں اپوزیشن میں بھی ہے تحریک انصاف وفاق میں حکمران اور سندھ میں اپوزیشن جماعتوں میں شامل ہے جب کہ انکے بیشتر وفاقی وزیر اور ملک صدر پاکستان کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ کا عہدہ آج بھی ان کے پاس ہے لیکن وہ بھی گیارہ گیارہ سو کے ناجانے کتنے ٹیکے اپنے جلسوں میں کراچی والوں کو لگا کر جاچکے مگر وہ تو نا آئے عوام کو کورونا کا ٹیکہ لگ گیا 

    تیسری اور سب سے زیادہ اقتدار میں رہنے والی جماعت جو ہر حکومت میں وفاقی یا صوبائی حکومتوں کا حصہ رہی لوکل الیکشن کے پچھلے بیس سالہ دور میں سے 15 سال انکا مئیر منتخب کروا کر دینے والے کراچی کے شہری ایک سید مصطفیٰ کمال کے دور کے علاؤہ کسی بھی وزیر میئر اور گورنر سے آج تک کوئی فوائد حاصل نہیں کرسکے سوائے انکی جائیدادوں اور بینک بیلنس میں اضافے کے علاؤہ لیکن حد تو یہ ہے کہ سندھ کے کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں آج بھی یہ جماعت عوام کو ووٹ کے بدلے اچھے کل کی تصویر دکھا کر ووٹ مانگ رہے ہیں جو پچھلے چالیس سالوں سے ووٹ لیتے آرہے ہیں اور صرف اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے کے سوا کچھ نہیں کر سکے 

    اب آتے ہیں پاک سر زمین پارٹی کی جانب جو اس بار پہلی مرتبہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اس کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال اپنے پارٹی کے منتخب نمائندوں کی الیکشن مہم بہت زور ؤ شور سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور عوام کی جانب سے تمام جماعتوں کی کارکردگی دیکھنے کے بعد اب مصطفیٰ کمال کو آزمانے کے علاؤہ کوئی آپشن موجود نہیں پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین کی جس بات پر عوام سب سے زیادہ متوجہ وہ یہ نعرہ ہے کے میرے نمائندوں کو ووٹ دیکر آپ اپنے گھروں میں سونا میں اور میرے نمائندے راتوں کو جاگ کر تمہارے صبح کو بہتر بناتے ہوئے نظر آئینگے 

    12 ستمبر کو کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں سندھ سے کونسی جماعت کامیاب ہو گی اس کا تو کسی کو علم نہیں مگر عوام کو اپنے ووٹ کا لازمی اور اچھے نمائندوں کو منتخب کرنے کا عمل ہی انکو انکی حالت میں بہتری لانے کا سبب بن سکتا ہے تو عوام کو چاہیے کہ اچھے اور کام والے نمائندوں کو منتخب کروا کر اپنا اور اپنے علاقوں کا مستقبل بہتر بنانے کیلئے ووٹ ضرور دیں اور اچھے کو دیں 

  • لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان – محمد نعیم شہزاد

    لاہور کنٹونمنٹ بورڈ بلدیاتی انتخابات اور تبدیلی کا نیا پاکستان
    محمد نعیم شہزاد

    12 ستمبر 2021 کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی انتخابات کا دن ہے۔ گزشتہ ایک ماہ سے انتخابی مہم زوروں سے جاری ہے۔ انتخابات میں اپنی کامیابی کے بعد عوامی خدمت کے دعویداروں نے اپنی انتخابی مہم سے عوام کو خوب پریشان کی رکھا۔ گزشتہ دو دن لاہور میں بارش بھی ہوئی اور اس بارش کے دوران پانی سے بری گلیوں میں محلے کی دکانیں اور راستے بند کروا کر عوامی خدمت کے خوب وعدے کیے گئے ۔ اس بار کے انتخابات میں ہونے والے چند اہم مشاہدات قارئین کی نظر کرتا ہوں۔

    لاہور میں خصوصاً کینٹ کے علاقے میں زیر زمین پانی پینے کے قابل نہیں ہے جس کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ نے ہر ٹیوب ویل کے ساتھ واٹر فلٹریشن پلانٹ لگا رکھا ہے۔ فلٹریشن پلانٹ کے کارٹریج ہر تین مہینے بعد تبدیل ہونا ہوتے ہیں اور اس کی تاریخ کا باقاعدہ چارٹ فلٹریشن پلانٹس پر آویزاں کیا جاتا ہے۔ الیکشن سے پہلے تقریباً دو ماہ کا عرصہ کارٹریج کی تبدیلی کے بغیر گزرا ہے اور کسی عوامی نمائندے نے اس بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دی کیونکہ وہ تو ان پلانٹس کا پانی استعمال نہیں کرتے یہ تو علاقے کے غریب مکینوں کے لیے ہے۔ ورنہ جگہ جگہ فلٹریشن پلانٹس قیمتاً پانی بیچ رہے ہیں۔

    دوسرا ایک اہم مشاہدہ ہوا وہ نون لیگ کے حوالے سے تھا۔ گزشتہ قومی انتخابات میں ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والی اس جماعت نے نعرہ تبدیل کر لیا اور ووٹ کی عزت کی بجائے کام پر ووٹ مانگنا شروع کر دیا۔ اب ان کا نعرہ ہے کام کو ووٹ دو۔ گویا ووٹ کی عزت یہی ہے کہ ووٹ کام کو دیا جائے تو کام تو حقیقت میں کوئی بھی نہیں کرتا تو کیا ووٹ کو ضائع کر دیا جائے؟ جواب سوچ کر دیجیے گا۔

    پاکستان تحریک انصاف کی بات کریں تو کمال حیرت کی بات ہے کہ مرکز اور ایک صوبے کے علاوہ باقی صوبوں میں حکومت کرکے تبدیلی نہ لا سکنے والی جماعت اب بھی تبدیلی کے نام پر ووٹ مانگ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں پنجاب کے صوبائی وزیر تعلیم نے گزشتہ دو برس کی حکومت کی تعلیمی سرگرمیوں کو سراہا ہے جبکہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں تعلیمی ادارے بہت کم عرصہ کھلے رہے اور طلباء خوش جبکہ والدین، اساتذہ اور نجی تعلیمی اداروں کے مالکان پریشان رہے۔

    امیدواروں کی ایک بڑی تعداد آزاد حیثیت سے بھی الیکشن لڑ رہی ہے۔ لاہور کینٹ کی وارڈ نمبر 6 میں ایک آزاد امیدوار ایسے ہیں جو گزشتہ الیکشن پی ٹی آئی کی طرف سے لڑتے رہے ہیں مگر اس بار وہ پارٹی کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں۔ گزشتہ شب ان کے مرکزی دفتر کے سامنے ان کا انتخابی جلسہ تھا جس میں ایک مضحکہ خیز واقعہ پیش آیا۔ پنڈال سپورٹرز سے بھرا ہوا تھا اسٹیج پر معززین علاقہ کو مدعو کیا گیا تھا۔ پرجوش خطابات ہو رہے تھے۔ جب اسٹیج سے امیدوار کے حق میں زندہ باد کے نعرے لگوائے جا رہے تھے عین اسی وقت نامعلوم کہاں سے ایک گدھا پنڈال میں داخل ہو گیا۔ اور عوام میں کی بھیڑ میں گھستا چلا گیا۔

    گلیاں پانی سے بھری ہیں ۔ بعض سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ علاقے کے ٹیوب ویل اکثر خراب رہتے ہیں اور بیشمار عوامی مسائل کا ڈھیر ہے مگر الیکشن تو ہو گا۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا کام کو عزت ملتی ہے یا عوام اب بھی تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ جو بھی ہو فیصلہ رات تک ہو جائے گا۔

  • پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان    تحریر : علی خان

    پاکستانی سیاست کی پھوپھی جان چوہدری نثار علی خان   تحریر : علی خان

    چوہدری نثار پاکستانی سیاست کا بڑا نام ہے پر اس کے ساتھ یہ وہ پھوپھی ہے جو کسی سے خوش نہیں چاہیے وہ نواز شریف ہو، شہباز شریف ہو ذرداری یاں عمران خان ۔ 

    ہم دیسی لوگوں میں  کیونکہ رشتوں کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اس لیے زندگی کے ہر  سنجیدہ و تفریحی شعبے میں  معروف شخصیات سے مختلف رشتے منسوب کردئیے جاتے ہیں۔ چاچائے کرکٹ۔۔ بابائے قوم۔۔۔ مادر ملت۔۔۔ برادران  ملت۔۔۔ دختر مشرق وغیرہ وغیرہ۔ سیاسی رشتوں میں بہن ،بھائی، بیٹا بیٹی وغیرہ تو ہم سب نے ہی سن رکھے ہیں۔۔۔  سیاسی اتحاد بنتے ہی مختلف نسبی رشتے بھی وجود میں آجاتے ہیں۔۔۔ کچھ سیاستدانوں  میں یہ نام کے رشتے بعد میں باقاعدہ رشتہ داریوں میں بھی تبدیل ہوجاتے ہیں

    روزمرہ زندگی میں بھی والد کے دوستوں کو چاچا  اور والدہ کی دوستوں کو خالہ کہنا عام سی بات ہے لیکن  سگی پھوپھو کے علاوہ کسی کو پھوپھو بنانے کی ریت شاید ہی کسی نے سنی ہو۔ پھوپھی کا رشتہ سب  رشتوں سے منفرد ہوتا ہے۔   سب سے زیادہ خیال بھی پھوپھو رکھتی ہے اور ناراض بھی رہتی ہے۔ ناراض ہوتے ہوئے بھی سب کی خبر رکھنا پھوپھو کا ہی کمال ہوتا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ پھوپھی کسی رشتے کا نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے تو  غلط نہ ہوگا۔ پھوپھو کے ناراض ہونے کے لیے کوئی خاص وجہ درکار نہیں ہوتی۔ گھر میں کوئی  بھی خوشی ہو سب سے پہلے پھوپھو کو دعوت دی جاتی لیکن پھر بھی  ناراضی کا سامنا ہوتا کہ دعوت دینے آگئے ہم کوئی غیر تھے۔ ہم سے کوئی صلاح ہی لے لیتے۔ اگر صلاح لے لی جائے تو یہ گلہ کہ مشورہ دینے کا کیا فائدہ کرتے تو تم لوگ اپنی ہی مرضی ہو وغیرہ وغیرہ 

    پاکستانی سیاست میں بھی ایک ایسے کردار ہیں جن پر آج کل پھوپھی والی کیفیت طاری ہے۔ ماضی میں ایک ہی جماعت سے طویل تر وابستگی کے باوجود بھی ہر معاملے میں اپنی علیحدہ رائے رکھی اور اپنی بات مانے نہ جانے پر پارٹی قیادت سے نالاں بھی  رہے۔  اپنی علیحدہ رائے کو انقلابی سمجھا یہ اور بات کہ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ ڈیڑھ انچ کی مسجد تھی۔ پارٹی کے اندر اور باہر کسی سے ناراض ہوئے تو یوں ہوئے کہ سالوں بات کرنے سے بھی گئے۔ اپنی سنیارٹی کا زعم اتنا کہ پارٹی سربراہ کو جونیئر ہونے کے طعنے دیتے رہے۔ اپنی جماعت سے طویل عرصہ ناراضی پر دوسری جماعت نے شمولیت کی دعوت دی تو گومگو کی کیفیت سے نہ نکلے اور وزارت اعلیٰ کا ممکنہ منصب گنوا بیٹھے۔ الیکشن میں ضد کے باعث قومی اسمبلی کی نشست نہ جیت سکے تو خودساختہ ناراضی سے صوبائی اسمبلی کی رکنیت کا حلف تک نہ لیا اور گھر بیٹھ رہے۔ عرصہ اڑھائی سال بعد اچانک خود ہی سے خیال آیا تو اسمبلی پہنچ کر حلف اٹھا لیا۔ اس بات پر اس بڑھیا کی یاد آئی  بار بار لڑائی کرکہ گھر سے نکل جاتیں  اور سامنے میدان میں بیٹھ کر نخروں سے مانتیں۔ اب روز نکلیں تو بار بار کی لڑائی سے تنگ آئے گھر والے منانے نہ آئے۔ بھوک کی ماری خاتون  کو اور کچھ سمجھ نہ آیا تو چراگاہ سے واپس آئے بچھڑے کی پونچھ پکڑی اور یہ کہتی گھر میں داخل ہوئیں کہ "مینوں چھڈ میں نئیں جانا گھر نوں”۔

      پاکستانی سیاست کی یہ پھوپھو آج کل تحریک انصاف پر بہت نثار ہیں اور تحریک انصاف والے بھی  سینئر سیاست دان  سے پینگیں بڑھنے پر نہال ہیں۔ اللہ کرے یہ پیا ر محبت بڑھتا رہے اور   سب شیر و شکر رہیں لیکن پھوپھی والی کیفیت کچھ بھی کروا سکتی ہے۔  ایسی ہی ایک پھوپھی کو مشکل سے منا کر بھتیجے کی شادی کے لیے لایا گیا۔ پھوپھی صاحبہ کو  کچھ دیر میں پرانی رنجش یاد آئی لیکن لڑائی کا بہانہ نہ سمجھ آیا تو چھت پر جاچڑھیں اور کچھ کھٹر پٹر کی۔ اہل خانہ نے بچوں کا شور سمجھ کر پوچھا ” کون اے چھت تے” موقعے کی منتظر پھوپھی نے نیچے اتر فوری بچے سنبھالے اور شادی چھوڑ روانہ ہوگئیں کہ "ہن اسی کون ہوگئے؟؟؟”

    تحریر ؛ علی خان    

    @hidesidewithak

  • ‏مشن نیوٹرل ایمپائر  تحریر: سیف الرحمان

    ‏مشن نیوٹرل ایمپائر تحریر: سیف الرحمان

    ملکی تاریخ میں آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے تقریبا سب میں دھاندلی اور الیکشن چوری کا الزام لگتا آ رہا ہے۔ مشرف کے مارشل لاء کے اختتام پہ جب پی پی اقتدار میں آئی تو ن لیگ سمیت باقی سب نے دھاندلی الیکشن قرار دیا۔ پھر جب ن لیگ 2013میں الیکشن جیت کر پاور میں آئی تو تحریک انصاف سمیت باقی سب سیاسی جماعتوں نے دھاندلی زدہ  الیکشن قرار دیا۔  اس دھاندلی زدہ الیکشن کے خلاف 

    14-08-2014 میں  عمران خان کی قیادت میں باقاعدہ تحریک شروع کی  جو لانگ مارچ کی صورت میں لاہور سے  اسلام آباد ڈی چوک روانہ ہوا۔ یہ احتجاج دھرنے کی صورت اختیار کر گیا اور تاریخ کا سب سے ذیادہ دن دیئے جانا والا پر امن سیاسی دھرنا بن گیا ۔ یہ دھرنا 126دن کا تھا۔چودہ   اگست سے  شروع ہونے والا دھرنا 17دسمبر 2014کو اختتام پزیر ہوا۔ اس دھرنے کو اے پی ایس حملہ ہونے کی وجہ اور ملکی حالات کے پیش نظر ختم کیا گیا۔ لیکن دھاندلی کے خلاف شروع کی گئی تحریک اپنی جگہ کسی نا کسی صورت چلتی رہی۔ 

    عمران خان جب 2018میں وزیر اعظم بننے تو انہوں اپنی پہلی تقریر میں ہی اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر  کہا تھا کہ میں واحد بندہ تھا جس نے کرکٹ کی تاریخ میں نیوٹرل ایمپائر لائے اور میں پاکستان کی سیاسی  تاریخ میں بھی انشاءﷲ پہلا بندہ ہوں گا جو ایک ایسا سسٹم لاؤں گا جس کو الیکشن ہارنے  والا بھی مانے گا اور جیتنے والے کو بھی دھاندلی  یا رشوت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ اب جب عمران خان اپنی کی ہوئی بات کو عملی جامہ پہنانے نکلے ہیں  تو راستے میں اپوزیشن  اور  الیکشن کمیشن  رکاوٹ بننے نظر آ رہے ہیں۔

    بظاہر لگ تو ایسے رہا ہے کہ اپوزیشن   عمران خان  کی مخالفت میں اس حد تک  آگےچلی گئی ہےکہ  اگر  عمران  خان کہے  سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں غروب ہوتا ہے تو اپوزیشن شاید اس کی بھی مخالفت کر دے۔ لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان جو ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے کو حکومت کیساتھ ملکر الیکشن ریفارمز پر سہولت  کاری فراہم کرنی چاہئے۔ اپنی تجاویز اور الیکٹرانک مشین میں موجود خامیاں اور ان کا حل نکالنے کیلئے کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے لیکن بدقسمتی سے الیکشن کمیشن کے اب تک کئے گئے اقدامات سے عوام کو یہی تاثر مل رہا ہے کہ شاہد الیکشن کمیشن الیکشن ریفارمز کیلئے ذہنی طور پہ تیار ہی نہیں۔ 

    اس سلسلے میں   وزارت سائنس اور الیکشن کمیشن کی تکنیکی ٹیم کے درمیان  الیکٹرانک مشین پر تفصیلی تبادلہ خیال بھی ہوا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ٹیم نے 37اعتراضات اٹھاکر اس مشین کو فلحال رد کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پہ الیکشن کمیشن   کے صاف انکار پر بہت تنقید دیکھنے کو مل رہی ہے۔اسی دوران  کسی صارف نے سوشل میڈیا  پر یہ خبر شیئر کر دی کہ  الیکٹرانک مشین پر الیکشن کمیشن کے 37اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ

     "مشین کے بٹن میں ایلفی ڈال کر اسے غیر فعال کیا جا سکتا ہے” کو نا صرف آڑے ہاتھوں لیا گیا  بلکہ خوب مزاخ بھی اڑایا گیا۔ یہ خبر سچ ہے یا جھوٹ بہرحال اس کی تصدیق یا تردید الیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے۔لیکن اگر دیکھا جائے تو  الیکشن کمیشن کے زیادہ تر اعتراضات واقعی "ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا”  دیکھائی  دیتے ہیں۔  مثلاً بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ نہیں ہوئی، قانونی ترامیم ضروری ہیں، تربیت یافتہ سٹاف کی کمی  ہے, مشین ہیک ہو سکتی ہے, مشین چوری ہو سکتی ہےوغیرہ وغیرہ۔

     اگلےجنرل الیکشن  میں ابھی  دو سال پڑے ہیں ۔ شفاف انتخابات کی   تمام ذمہ داری نا صرف الیکشن کمیشن کی ہے بلکہ  اس کی خواہش تمام سیاسی جماعتوں کی بھی  ہے۔ اگر دیکھا جائے تو   اگلے جنرل الیکشن سے پہلے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ اور سٹاف کی تربیت ممکن ہے اور قانونی ترامیم کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔حکومت کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں اکثریت ہے وہ ان اعتراضات کو حل کر سکتی ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن الیکٹرانک مشینوں پر الیکشن کروانے کے لئے ذہنی طور پہ  تیار بھی ہے یا نہیں؟

    الیکشن کمیشن کے کچھ اعتراضات جائز بھی  ہیں ۔

    مثلاالیکشن کمیشن کے مطابق ایسے  ووٹر جن کو ٹچ موبائل کااستعمال تک نہیں آتا وہ خود سے ووٹ کیسے ڈالیں گے؟

     پولنگ بوتھ پر ازخود الیکٹرانک مشین سے بیلٹ پیپر کیسے نکالیں گے؟

     ایسے ان پڑھ  ووٹر جن کو الیکٹرانک  مشین چلانی ہی نہیں آتی ان کو کسی نا کسی کی سہورت درکار ہو گی۔ اس سے ووٹر کی شناخت اور اس کی راز داری متاثر ہو سکتی ہے۔ ووٹ کی راز داری کا اہتمام اور ووٹر کی شناخت کو خفیہ رکھنے کا انتظام  کیسے کیا جائے گا؟

    مشین کی منتقلی اور اس کی حفاظت کون اور کیسے کرے گا؟

     الیکشن کمیشن کا یہ  کہنا  کہ شفافیت کی کمی کی وجہ سے جرمنی اور ہالینڈ , آئر لینڈ,اٹلی اور فن لینڈ نے مشینی ووٹنگ چھوڑ دی ہے۔ 

    اس طرح کے اعتراضات کو حکومت دوبارہ دیکھے اور حل نکال لے تو عین ممکن ہے آنے والا الیکشن الیکٹرانک ووٹٹنگ مشین سے ہو جائیں۔

    اب دیکھنا ہے کہ  حکومت  کیسے   الیکشن کمیشن   اور سیاسی جماعتوں کومطمئن  کر تی ہے۔اگر حکومت  الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ  مشین پر آمادہ کر لیتی ہے  تو پھر سیاسی جماعتوں کو مطمئن کرنا بھی آسان ہو  جائے گا۔  کیونکہ شفاف , آزادانہ اور غیر جانبدارانہ الیکشن  کرانے کی ذمہ داری  الیکشن کمیشن کی ہوتی ہے۔

    اب یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں جن کا جواب آنے والا وقت ہی دے پائے گا۔

    کیا وزیراعظم عمران خان اپنے دور اقتدار میں فری اینڈ فیئر الیکشن کیلئے راہ ہموار کر پائیں گے؟

    کیا وزیراعظم عمران خان   نیوٹرل ایمپائر لانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا وہی پرانا دھاندلی ذدہ سسٹم ہم پر مسلط رہے گا؟

    کیا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے آنے کے بعد دھاندلی جیسے الزامات ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دفن ہو پائیں گے یا نہیں؟

    اور سب سے ہم سوال کیا الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے حصول کے بعد ہمارے کچھ سیاستدان جو ایک  مخصوص ایجنڈے کے تحت فوج کو بدنام کرتے  آ رہے ہیں کیا وہ سلسلہ رُک  پائے گا یا نہیں؟

    پاکستان وجود میں آئے تقریبا 74برس ہو گئے ہیں۔ اب تو  جدید ٹیکنالوجی  کا دورہے۔ ہمیں الیکشن کیلئے کم از کم ایسا سسٹم باہمی اتفاق سے مرتب کر لینا چاہئے جس سے ہارنے والا اپنی ہار مان لے اور جیتنے والے کو رشوت اور دھاندلی کی ضرورت ہیں نا پڑے۔

    دنیا چاند پہ جانے کی باتیں  کررہی ہے اور ہمارے لیڈر ابھی تک دھاندلی ہوئی یا نہیں ہوئی جیسی نابالغ  بحث  میں  پھنسے ہوئے ہیں۔

    ‎@saif__says