Baaghi TV

Category: سیاست

  • مخالفت حکومت کی یا ریاست پاکستان کی ؟؟؟ تحریر: محمد مبین اشرف

    جہاں جمہوری حکومتیں ہوتی ہیں وہاں اپوزیشن بھی ہوتی ہے۔ جمہوریت کے نظام حکومت میں اپوزیشن کا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ اپوزیشن ہی اصل میں حکومت پر ایک دباؤ ہوتا ہے جو حکومت کو صحیح فیصلے لینے پر مجبور کرتا ہے۔ جمہوری نظام میں اپوزیشن سوالات کرتی ہے اور حکومت جواب دیتی ہے۔ پاکستان میں ہر جمہوری حکومت کو اپوزیشن کا سامنا کرنا پڑا کچھ حکومتوں کو کمزور اپوزیشن اور کچھ حکومتوں کو مضبوط اپوزیشن کا سامنا رہا ۔یاد رہے اپوزیشن کے بغیر جمہوری نظام کسی قابل نہیں ہوتا۔ 

    اب بات کرتے ہیں موجودہ پاکستانی اپوزیشن کی کیا یہ اپوزیشن اپنی ذمہ داریاں پوری کررہی ؟؟

    جیسے ہی تحریک انصاف کی حکومت بنی پہلے ہی دن سے اپوزیشن نے شور مچانا شروع کردیا اور انتخابات میں دھاندلی کا بھی الزام لگا دیا جبکہ ثبوت نہیں پیش کیے ۔پہلے سال تو اپوزیشن کا سارا زور حکومت کو کمزور کرنے پر لگا ۔کبھی حکومت کے اتحادیوں سے ملاقاتیں کرکے کبھی جلسے جلوس کرکے مگر حکومت یہ سارا کچھ برداشت کرگئ ۔

    پھر کیا ہوا ؟؟

     ہاں یہ میں ضرور کہوں گا کہیں نا کہیں حکومت نے بھی سمجھوتا کیا جیسے نواز شریف کا بیرون ملک جانا اور بھی بہت سی مثالیں ملتی ہیں ۔

     جیسے ہی نواز شریف بیرون ملک گیا اور شہباز شریف واپس آئے پھر شروع ہوئی وہ مخالفت جو حکومت کے خلاف نہیں ریاست پاکستان اور ریاستی اداروں کے خلاف تھی ۔جمیعت علماء اسلام کے اہتمام پر ایک پی ڈی ایم بھی تشکیل دی گئی ۔جس کی کہانی آپ سب جانتے ہیں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہوں گا کہ پی ڈی ایم کا کیا بنا ۔

     جیسے ہی ن لیگ کی قیادت مریم نواز کے پاس آئی شہباز شریف سے نکل کر تو ن لیگ مکمل مزاحمت کے موڈ میں آگئی اور باپ بیٹا دونوں نے پوری طرح سے ریاستی اداروں پر دباؤ دیا ۔یہاں تک کہ موجودہ آرمی چیف اور ڈی جی آئ ایس آئی پر براہ راست الزامات لگائے گئے ۔

     جس سے پاکستان کا امیج انٹرنیشنل لیول پر خراب ہوا ۔مگر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ن لیگ ہو پیپلز پارٹی ہویا جمیعت علماء اسلام ہو یہ تمام پارٹیاں عوام میں تو ریاستی اداروں پر الزامات بھی لگاتے ہیں مگر جب بھی ان کی ملاقات ہوتی ہے ان ریاستی اداروں کے سربراہوں سے تو یہ وہاں بالکل معصوم اور مہذب بننے کی کوشش کرتے ہیں ۔اور ایک اعلی قسم کی خوشامد کرتے ہیں ریاستی اداروں کے سربراہان کی ۔تو یہ بھی ایک دو رویہ طریقہ کار ہے اپوزیشن کا ۔

    اب بات کرتے ہیں حالیہ حالات کی جب مریم نواز نے آزاد کشمیر کی الیکشن کمپین میں ریاست پر شدید ترین الزامات لگائے ۔افغان سفیر کی بیٹی کے معاملے پر بھی ریاست پاکستان سے مطالبہ کردیا معافی مانگنے کا ۔ جو کہ بہت مضحکہ خیز بات تھی عوام کیلے ۔اس سے قبل کارگل معاملے پر نواز شریف بھی عسکری اداروں پہ بلاجواز تنقید کر چکے ہیں جو بھی حالات ہوں ریاست کی تعظیم کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جاتی ہے مگر ہماری اپوزیشن تو ریاست پاکستان کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

    مجھے لگتا ہے مریم نواز صاحبہ بھول گئی ہیں کہ اپوزیشن حکومت کی کرنی تھی ریاست کی نہیں ۔

    مسئلہ اس وقت ہوتا ہے جب انہی کی باتوں کو انٹر نیشنل لیول پر پاکستان کا امیج خراب کرنے کیلے استعمال کیا جاتا ۔

    چاہے کھلبوشن یادیو معاملہ ہو یا کوئی اور ریاستی معاملات ہوں مریم نواز ہمیشہ ریاست پر الزامات لگاتی ہیں ۔

    موجودہ اپوزیشن ریاست کی مخالفت میں تو بہت اچھی جارہی ہے مگر اپنی اصل ذمہ داریاں نہیں نبھا پا رہی ان کا حکومت سے ایک ہی مطالبہ چل رہا ہے کہ ہمارے کیسز ختم کریں تب ہم کوئی عوامی مفادات کی بات کریں گے۔ مزے کی بات یہ مقدمات ذیادہ تر ان دو بڑی جماعتوں نے ایک دوسرے پر بنائے تھے اب مطالبہ عمران خان سے یہ دونوں (پی پی پی اور ن لیگ) مل کر کرہے ہیں کہ ہمارے مقدمات ختم کریں جوکہ ایک مضحکہ خیز بات ہے ۔

    عوام اپوزیشن سے بھرپور اپیل کرتی ہے کہ اپنا حقیقی کردار ادا کریں اور حکومت کو صحیح فیصلے لینے اور مہنگائی کم کرنے اور بےروزگاری ختم کرنے میں مدد کریں ۔آپ سب پاکستانی ہیں کیا ہوا اگر اقتدار آپ کے پاس سے چلا گیا ۔

    کیا آپ صرف اس وقت ہی پاکستان کی خدمت کریں گے جب آپ اقتدار میں ہوں گے ؟؟

    سارے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ حکومت کی مخالفت کریں ریاست پاکستان کی نہیں آپ سب نے چلے جانا ہے ریاست پاکستان نے انشااللہ قائم رہنا ہے ۔

    شکریہ

    @MubeenAshraf26 

  • رنگیلاالیکشن کمیشن  تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    لگتا ہے الیکشن کمیشن شفاف اور منصفانہ انتخابات ،نئی انتخابی اصلاحات اور اوورسیز پاکستانیوں کے حق راۓ دہی کے خلاف دم ٹھونک کے میدان میں آگیا ہے۔

    الیکٹرونک ووٹننگ مشین کے خلاف قائمہ کمیٹی میں پیش کئے 37 اعتراضات ،اعتراضات کم اور لطیفے زیادہ لگتے ہیں۔

    خاص طور پر یہ اعتراض تو تاریخی پزیرائ کا باعث بن چُکا ہے۔جس میں الیکشن کمیشن نے کچھ زیادہ ہی دور کی کوڑی لاتے ہوۓ کہا کہ اس مشین کو ایلفی ڈال کر جام کیا جا سکتا ہے۔اس اعتراض پر تو اگرارسطو بھی زندہ ہوتا تو شائد خود کُشی کو ترجیح دیتا۔

    کل سے اس ایلفی والی بات کو لیکر الیکشن کمیشن کی جو دُرگت سوشل میڈیا پر بن رہی ہے،وہ شائد اس کمیشن خور کمیشن کے لئے کافی ہو۔

    ایلفی کی بحیثیت ایک پراڈکٹ کے،جتنی مشہوری کمیشن والوں نے کروادی ہے،اتنی شائد وہ کروڑوں کے اشتہارات چھپوا کر بھی نہ کر پاتے۔

    ایلفی والے ماوراۓ عقل اعتراض کے علاوہ دیگر اعتراضات بی اسی طرح چُوں چُوں کا مُربہ ہی ہیں۔

    ان اعتراضات کو تو اعتراض براۓ اعتراض کہنا بھی مناسب نہیں لگتا۔

    کسی ایک اعتراض میں بھی عقل و شعور کی ہلکی سی رمق بھی نہیں ہے۔

    بس لگتا ہے کہ موجودہ حکومت کو نیچا دکھانے کے لئے کسی کے اشارے پر کھیل تماشا کیا جا رہا ہے۔

    الیکشن کمیشن میں بیٹھی کٹھ پُتلیوں کی ڈوریاں کہاں سے ہل رہی ہیں،

    سب کو پتہ ہے۔یہ گٹھ جوڑ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

    اس گٹھ جوڑ کو خونی لبرلز کی حمایت سب کچھ واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔

    الیکشن کمیشن اپنی پوری توانائیاں اس بات پہ صرف کر رہا ہے کہ کسی طرح آئندہ انتخابات کو شفاف انعقاد سے روک کر اسی دقیانوسی طریقے سے منعقد کروایا جاۓ،

    جس میں مُردے بھی ووٹ ڈالنے آجاتے ہیں۔

    پرانے سسٹم میں جعلی ووٹوں کا اندراج اب کوئ راز والی بات نہیں۔

    پنجاب میں ن لیگ اور سندھ میں پی پی امیدواران بیس سے پچیس ہزار بوگس ووٹوں کا تحفہ لیکر گھر سے نکلتے ہیں،

    جس کے بعد انہیں مدمقابل امیدوار تو ہرانے کی پوزیشن میں آہی نہیں سکتا،

    ہاں اگر بدقسمتی آڑے آجاۓ تو الگ بات۔

    کمیشن نے صرف الیکٹرونک ووٹننگ مشین میں ٹانگ نہیں اڑائ ہوئ بلکہ انتخابی اصلاحات کی شدید مخالفت کا بیڑہ بھی اُٹھارکھا ہے۔

    کمیشن اس وقت ن لیگ ،پی پی اور فضل الرحمن کی جماعت کی طرح پی ڈی ایم کا باقاعدہ حصہ نظر آتا ہے۔

    انوکھے لاڈلے کمیشن کی ایک اور ضد یہ بھی ہے کہ حکومتی کوششوں کے برعکس اوورسیز پاکستانیوں کو بھی حق راۓ دہی سے محروم رکھا جاۓ۔

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،جنہیں وزیر اعظم پاکستان عمران خان ملک کا اثاثہ کہتے نہیں تھکتے،

    یہ وہی اوورسیز پاکستانی ہیں،

    جن کے بھیجے گئے زرمبادلہ کے باعث ملک معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے۔

    جبکہ کمیشن والے ان سے سوتیلی ماں والا سلوک کرنے پر تُلے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کو تو بس اتنا کسی نے بتا دیا ہے کہ اگر اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دے دیا جاۓ تو پی ٹی آئ کو فائدہ ہوگا،

    کیونکہ بعض تجزیوں کے مطابق بیرون ملک پاکستانیوں کی اکثریت عمران خان کے وژن کی حامی ہے۔

    اسی ایک مفروضے کی بدولت کمیشن والے سر دھڑ کی بازی لگاۓ ہوۓ ہیں کہ کسی طرح بھی،

    اوورسیز پاکستانیوں کو اس حق سے محروم رکھ کر ن لیگ اور پی پی کو اس سیاسی نقصان سے بچایا جاۓ۔

    الیکشن کمیشن کے 37 اعتراضات میں نہ تو کوئ ٹھوس دلیل ہے اور نہ ہی کوئ ایسی وجہ،

    جو الیکٹرونک ووٹننگ مشین کی افادیت کو کم کر سکے۔

    پاکستان میں روایت بن چکی ہے کہ ہر الیکشن میں ہارنے والا نہ تو اپنی شکست تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی آئندہ پانچ سال وہ جیتنے والے کو دلجمعی سے کام کرنے دیتا ہے۔

    دھاندلی کا رونا روتے روتے پانچ سال گزر جاتے ہیں اور پھر نئے رونے دھونے کی بنیاد رکھنے کے لئے نئے بوگس،غیر شفاف اور ایک اور متنازعہ انتخابات کا انعقاد کروا دیا جاتا ہے۔

    یہ سارا گورکھ دھندا الیکشن کمیشن کی چھتر چھایا میں ہوتا ہے۔

    پھر بھی وہ دھاندلی زدہ الیکشن کروانے پر بضد ہے۔

    سب کچھ جانتے بوجھتے ہوۓ بھی وہ انجان بنے بیٹھے ہیں۔

    وہ بے قرار ہو کر پیچ وتاب کھاۓ جا رہے ہیں کہ آئندہ انتخابات بھی اُن کے آقاؤوں کی خواہش کے عین مطابق کرواۓ جا سکیں،

    اتنی بے قراری ظاہر ہے،

    بے سبب تو نہیں ہوتی،

    جاننے والے اس بے قراری کا سبب جانتے بھی ہیں اور اس سبب کو دور کرنےکی تدبیر کرنا بھی جانتے ہیں۔

    اس تدبیر کا استعمال الیکشن کمیشن کے مکمل ایکسپوز ہونے کے بعد یقینا” کیا بھی جاۓ گا،

    کیونکہ ملک کی تقدیر زیادہ دیر ان کمیشنوں کی نظر نہیں کی جا سکتی۔

    پہلے ہی بہت دیر ہو چُکی،

    مُلک کا ہر ادارہ تباہ کیا جا چُکا۔

    اگر مُلک کو چلانا ہے تو ان کمیشنوں کو ہر صورت راہ راست پہ لانا ہو گا۔

    ان سے بغیر کمیشنوں کے فرائض سرانجام دلوانا ہوں گے۔

    انکی مادر پدر آزادی نے ان کے پیٹ تو بھر دئے ہیں مگر ملک کی جڑیں کھوکھلا کر دی ہیں۔

    الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی زور زبردستیوں،

    من مانیوں اور بدمعاشیوں سے لگتا ہے کہ ملک ان جیسے اداروں کا ماتحت ہے نا کہ یہ ادارے اس ملک کے ماتحت۔

    ہر بار متنازعہ انتخابات کی شرمناک تاریخ رکھنے کے باوجود الیکشن کمیشن اپنا وطیرہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    بے شمار اور بے حساب لعن طعن کے باوجود کمیشن اپنا قبلہ بدلنے کو تیار نہیں۔

    مگر اب یہ زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔

    اس قسم کے جانبدار کمیشنوں اور مافیاز کو مزید اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

    اب ان اداروں کو قانون کے تابع لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    یہی وہ وقت ہے،

    جب ان بگڑوں تگڑوں کو سیدھا کیا جا سکتا ہے۔اداروں کا اس وقت ایک پیج پر ہونا اس ملک کی خوش قسمتی ہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس ملک کو بنانا سٹیٹ بنانے والوں کو نتھ ڈالنی چاہیے۔

    عمران خان اللہ کے بعد اس ملک کے محب وطن عوام کی آخری امید ہے۔

    اگر عمران خان کے دور میں یہ بوسیدہ نظام درست نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو گا،

    خدانخواستہ بالخصوص اگر ن لیگ یا پی پی برسر اقتدار آگئیں تو اس بوسیدہ نظام کے ٹھیک ہونے کی اُمید ہمیشہ کے لئے دم توڑ جاۓ گی،

    پھر یہ نظام سدھرنے کے بجاۓ مزید اُجڑے گا،

    کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں بذات خود اس بوسیدہ اور فرسودہ نظام کی معمار ہیں۔

    یہ کمیشن نما مافیاز انہیں کے لگاۓ ہوۓ ہوۓ بُوٹے ہیں۔

    ان پارٹیوں نے خود انہیں حرام کھلا کھلا کے ایسے کمیشنوں کی آبیاری کر رکھی ہے۔

    اپنے ہاتھوں سے لگاۓ گئے پودے کون اپنے ہاتھوں سے تلف کرتا ہے؟

    خاص طور پر کرپشن کے وہ پودے،

    جو ان کی کرپشن پر شجر سایہ دار کی طرح چھاؤں بنا کے رکھتے ہوں #

    تحریر ۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

  • معاہدہ تاشقند   تحریر: احسان الحق

    معاہدہ تاشقند تحریر: احسان الحق

    پاک بھارت جنگ کے بعد پہلی بار دونوں ممالک کے سربراہان کی روس کے وزیراعظم کی میزبانی میں ملاقات ہوئی. اس ملاقات اور مزاکرات کا اہتمام اس وقت کے روسی شہر تاشقند میں کیا گیا. روس کے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان مزاکرات کروانے میں اہم کردار ادا کیا.

    تاشقند روانگی سے قبل یکم جنوری 1966 کو صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

    "اگر روس کی کوششوں سے مسئلہ جموں وکشمیر حل ہو جائے تو صرف برصغیر کی ساٹھ کروڑ لوگ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا روس کی احسان مند ہوگی کہ انہوں نے ایک ایسے مسئلے کو حل کروا دیا جو عالمی امن کے لئے خطرہ بنا ہوا ہے”

    صدر پاکستان یکم جنوری 1966 کو راولپنڈی سے تاشقند کے لئے روانہ ہوئے. صدر ایوب خان اسی سلسلے میں ظاہر شاہ کی دعوت پر پہلے کابل گئے. 2 جنوری کو ظاہر شاہ اور اس کی کابینہ کے ساتھ ملاقات کی. صدر ایوب خان نے پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے بارے میں آگاہ کیا. ایک روزہ دورے کے بعد اگلے روزہ تاشقند روانہ ہوئے.

    پاکستانی وفد 3 جنوری 1966 کو تاشقند پہنچا جہاں روسی حکومت نے شاندار استقبال کیا. روسی وزیراعظم کی سربراہی میں دونوں ملکوں کے سربراہان نے اپنی اپنی تقریروں میں اپنے اپنے ملک کا نقطہ نظر پیش کیا. صدر ایوب خان نے اپنی تقریر اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے ساتھ ملاقات میں واضح انداز اپناتے ہوئے کہا کہ جنگ کی اصل وجہ مسئلہ کشمیر ہے، جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک دیرپا امن ممکن نہیں.

    بھارتی وزیراعظم نے اپنی تقریر اور مزاکرات میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے صاف صاف انکار کر دیا اور مستقبل میں جنگ نہ کرنے پر زور دیا.

    پاکستان کی طرف سے کانفرنس کے لئے تیار شدہ ایجنڈا.

    1. مسئلہ کشمیر 2. فوجوں کی واپسی 3. دیگر متنازعہ معاملات

    بھارت کا ایجنڈا پاکستانی ایجنڈے کے برعکس تھا.

    1. جنگ نہ کرنے کا معاہدہ 2. کشمیر پر بات نہیں ہوگی، یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے 3. دیگر متنازعہ امور

    5 جنوری 1966 کو دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مزاکرات ہوئے. بھارت نے مسئلہ کشمیر کو ایجنڈے میں شامل کرنے سے انکار کردیا. دونوں ممالک کسی بھی متفقہ ایجنڈا بنانے میں ناکام رہے کیوں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا حل چاہتا تھا جبکہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات بھی نہیں کرنا چاہتا تھا. وفود کے بعد صدر پاکستان ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم شاستری کے درمیان طویل بات چیت ہوئی مگر اس ملاقات میں بھی فریقین کسی نتیجے پر نہیں پہنچے کیوں کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم تھا اور پاکستان اپنے موقف پر ڈٹا ہوا تھا. روسی وزیراعظم نے بھارتی وزیراعظم سے ملاقات کرکے مسئلہ کشمیر کو شامل ایجنڈا کرنے کے لئے کہا مگر بھارت نہیں مانا پھر پاکستان کے ساتھ ملاقات کی اور پاکستان کو منانے کی کوشش کی کہ آپ مسئلہ کشمیر کو شامل نہ کرنے پر لچک دکھائیں.

    6 جنوری کو کوئی پیش رفت نہ ہو سکی اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہوا. اسی روز روس نے پھر کوشش کرتے ہوئے دونوں فریقین سے ملاقات کی اور اپنے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرنے کی درخواست کی. پاکستان نے اس بات پر کچھ لچک دکھانے کا عندیہ دیا مگر بھارت مسلسل چھوٹے بچے کی طرح ضد پر اڑا ہوا تھا. 7 جنوری کو ایجنڈا تیار کرنے کی کوششیں ترک کر دی گئیں. پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل کو ایجنڈا میں شامل کئے بغیر اور کسی بات پر معاہدہ کرنے سے صاف انکار کر دیا.

    8 جنوری کو پاکستان نے بھارتی پیش کش کو مسترد کر دیا جس میں بھارت نے کہا تھا کہ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ کیا جائے. اس روز بھی دونوں سربراہان مملکت کے درمیان کوئی ملاقات نہ ہو سکی. 9 جنوری کو بھارت کے پیش کردہ اعلامیہ کو پاکستان نے مسترد کر دیا کیوں کہ اس میں مسئلہ کشمیر شامل نہیں تھا.

    9 جنوری کو تاشقند کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کر دیا گیا. روسی وزیراعظم کی ساری کوششیں رائیگاں جا رہی تھیں. روسی وزیراعظم نے آخری کوشش کے طور پر دونوں راہنماؤں سے ایک بار پھر ملاقات کی اور دباؤ ڈالتے ہوئے کہا کہ اپنے اپنے موقف میں تھوڑی لچک دکھائیں اور کسی نتیجے پر پہنچیں. اس بار روسی وزیراعظم کی کوششیں رنگ لے آئیں.

    آخر کار روس کی کوششوں سے 10 جنوری 1966 کو پاک بھارت معاہدہ طے پا گیا. اس معاہدے کے اہم نکات یہ تھے.

    ۱۔ دونوں ممالک نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے ہائی کمشنرز اپنا اپنا عہدہ سنبھالتے ہوئے سفارتی تعلقات بحال کریں.

    ۲. معاہدے کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجیں 25 فروری تک واپس اس مقام پر آجائیں جہاں وہ 5 اگست کو تھیں.

    ۳. معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ تمام مسائل کا حل بات چیت سے کریں گے اور آئندہ طاقت کا استعمال نہیں کریں گے.

    ۴. ایسی کوئی بھی کارروائی نہ کرنے پر اتفاق کیا گیا جس میں لوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑے.

    ۵. مہاجرین، ضبط شدہ مال اور جائیداد کی واپسی.

    ۶. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈہ نہ کرنے کا معاہد کیا.

    ۷. دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون اور بات چیت کرنے کے لئے ٹیموں کے قیام کی تجویز بھی منظور کی گئی.

    ۸. دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کو پروان چڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا.

    ۹. دونوں ملکوں نے فوجوں کی واپسی پر اتفاق کیا.

    ملک واپسی پر صدر مملکت ایوب خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے مبارکباد دی اور بتایا کہ جب ہم مقبوضہ کشمیر میں سرپیکار تھے تب 4 ستمبر کو روس کی جانب سے ہمیں دعوت نامہ ملا جس میں امن معاہدے کے لئے روس آنے کہ دعوت دی گئی تھی. 6 ستمبر کو بھارت کے حملے نے روس جانے سے روک دیا تھا. پورے اٹھارہ سال سے ہم برابر کوشش کر رہے ہیں کہ بھارت کشمیریوں سے کیا گیا رائے شماری والا اپنا وعدہ پورا کرے. جب بھارتی فوج نے بار بار آزاد کشمیر کے علاقوں پر حملے کرنا شروع کئے تو پاک افواج کے پاس جوابی کارروائی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھا. روسی وزیراعظم اور حکومت نے پاک بھارت مزاکرات کامیاب بنانے کے لئے بہت کوششیں کی ہیں، پرتپاک استقبال کیا اور ہماری خوب مہمان نوازی کی، جس پر ان کے شکر گزار ہیں.

    ابھی ہماری مشکلات آسان نہیں ہوئیں، آزمائش ابھی باقی ہے. اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے حضور اپنا سر جھکائیں اور اپنے اور پاکستان کے لئے ترقی اور نصرت کی دعا طلب کریں. پاکستان پائندہ باد!

    @mian_ihsaan

  • وزیراعظم ہاؤس  میں کفایت شعاری،تحریر:ام سلمیٰ

    وزیراعظم ہاؤس میں کفایت شعاری،تحریر:ام سلمیٰ

    کبھی سنا کسی کو فکر ہوئی ہو کے وزیر اعظم ہاؤس کے اخراجات کتنے ہیں عجیب سا سوال ہے ؟
    کوئی وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات کی بھی فکر کر رہا ہے قائد اعظم کے بعد.

    عمران خان کی قیادت والی حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں کفایت شعاری کے ذریعے وزیراعظم ہاؤس کے 49 فیصد اور وزیراعظم آفس کے 29 فیصد اخراجات کو کم کیا ہے اب تک. سابقہ ​​حکومتوں کے ساتھ اخراجات کا موازنہ کرتے ہوئے دستاویز پر اگر روشنی ڈالی جائے تو آپکو وزیر اعظم اور صدر بلکے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے علاوہ کیمپ آفس بھی ملیں گے ان سابقہ حکومتوں کے اخراجات میں یہ تمام کیمپ آفس بھی شامل ہیں پیپلز پارٹی کی حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری کے دو کیمپ دفاتر تھے جن کی قیمت تقریبا 3.6 ارب روپے تھی.

    دوسری طرف ، مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران ، سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لیے رائے ونڈ کیمپ آفس پر حکومت کو 4.3 ارب روپے خرچ ہوئے. جبکہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اپنے دو کیمپ دفاتر کے لیے 572 ملین روپے استعمال کیے.

    سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنے پانچ کیمپ دفاتر پر 570 ملین روپے خرچ کیے جبکہ موجودہ وزیراعظم عمران خان کے پاس کوئی کیمپ آفس نہیں ہے یہ بھی انہونی رہی جب حکومت ان کیمپ آفس کے بغیر چل سکتی ہے تو کیوں عوام کا پیسہ اس طرح کے اخراجات میں استعمال ہو؟ سرکاری دستاویزات یہ بھی بتاتی ہیں کہ آصف علی زرداری نے اپنے دو کیمپ دفاتر پر 3.6 ارب روپے خرچ کیے ، جبکہ 245 سرکاری گاڑیاں اور 656 سیکیورٹی اہلکار بھی ان کے ساتھ تعینات تھے۔

    دستاویزات کے مطابق نواز شریف نے رائے ونڈ کو اپنا کیمپ آفس بنایا اور سیکیورٹی کے لیے 2،717 پولیس اہلکار تعینات کیے ، جس سے قومی خزانے کو 4.3 ارب روپے کا نقصان ہوا۔

    2018 میں 590 ملین روپے سے 2020 میں 280 ملین روپے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات 2018 میں 590 ملین روپے تھے جو 2019 میں 339 ملین روپے اور 2020 میں 280 ملین روپے رہ گئے۔ پی ایم او کے اخراجات جو 2018 میں 514 ملین روپے تھے ، 2019 میں 305 ملین روپے اور 2020 میں 334 ملین روپے رہ گئے۔

    دستاویزات کے مطابق وزیراعظم ہاؤس کا سالانہ اخراجات 180 ملین روپے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس سے کوئی صوابدیدی گرانٹ ، گفٹ اور کیش ایوارڈ نہیں دیا۔سب کو سرکاری کھاتے میں جمع کروا دیا جو کے وہ بہت کم قیمت ادا کر کے اپنے پاس رکھ سکتے تھے سب کو نیلامی پے لگوا دیا.

    سرکاری دورے اورعمران خان کی کفایت شعاری
    پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 48 سرکاری دورے کیے جن پر سرکاری خرچہ 572 ملین روپے آیا جبکہ ان کے جانشین راجہ پرویز اشرف نے 9 سرکاری دورے کیے جن کی مالیت 107 ملین روپے تھی۔ جب کے نواز شریف نے 92 سرکاری دورے کیے جن پر قومی خزانے کو 1.8 ارب روپے لاگت آئی جبکہ ان کے جانشین شاہد خاقان عباسی نے 19 سرکاری دورے کیے جن پر 260 ملین روپے خرچ ہوئے۔

    دوسری طرف ، وزیر اعظم عمران خان نے 26 سرکاری دورے کیے پی ٹی آئی حکومت کی کفایت شعاری مہم میں پی ایم او کے اخراجات 46 ملین روپے رہ گئے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے حکومتوں کے اخراجات کو دیکھتے ہوئے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم صرف 46 ملین روپے استعمال کیے گئے.سب سے اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان صاحب نے اس پے توجہ دی پاکستان تحریک انصاف کی زیرقیادت وفاقی حکومت کی کفایت شعاری مہم نے قومی خزانے کو لاکھوں روپے بچانے میں مدد کی ہے۔

    ایک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعظم آفس کے اخراجات میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ خرچ آدھے سے بھی کم کر دیا اخراجات کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ مالی سال میں 218 ملین روپے مختص کیے گئے تھے ، تاہم ، صرف 46 ملین روپے استعمال ہوئے۔ اسی طرح سرکاری دوروں کی مدد میں خرچ ہونے والے قومی خزانے کو بھی مختص بجٹ میں سے 10 ملین روپے کی کافی رقم بچائے گئے.

    اس کے علاوہ ، تفریح ​​اور تحائف کے عنوان کے تحت بجٹ میں واضح کمی دیکھی جا سکتی ہے جو کہ 1.5 ملین روپے سے صرف 1000 تک ہے۔ وزیر اعظم کے دورے کے اخراجات میں ایک اور بڑے پیمانے پر کمی دیکھی گئی۔ ایک نا قابل یقین کمی 20 ملین روپے کے مختص بجٹ کے مقابلے میں صرف 1.2 ملین روپے خرچ کیے گئے۔

    عمران خان نے ثابت کیا سوچ آجائے تو سب کیا جا سکتا ہے اور انہوں نے ثابت کیا کے قومی خزانے کا غلط استعمال نہں ہونے دیں گے اس کے ثبوت آپ کے سامنے ہیں.

    @aworrior888

  • افغان افیئرز تحریر: فروہ نذیر

    افغان افیئرز تحریر: فروہ نذیر

    افغانستان سلطنتوں کا قبرستان ہے۔ 1842 میں اس وقت کے سپر پاور برطانیہ کو کابل چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔ 1989 میں اس وقت کی سپر پاور بدمست ہاتھی سوویت یونین کو بھی آخر کار افغان سرزمین چھوڑ کر اپنی اشتراکیت سمیت واپس جانا پڑا، اور 2021 میں چودھری امریکہ بھی اپنا بوری بستر شریف گول کر کے افغانستان میں اپنی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے بعد شکست خوردہ حالت میں واپس بھاگ گیا۔
    اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کونسے عناصر ہیں جن کی بدولت افغانستان پر کوئی بھی حملہ آور قبضہ نہیں کر سکا۔
    سب سے بڑی وجہ افغانستان کی جغرافیائی حیثیت ہے۔ افغانستان ایک پہاڑی ملک ہے اور اکثر راستے تنگ دروں اور پہاڑی بھول بھلیوں کی صورت میں ہیں۔ زمینی راستے سے ٹارگٹ تک پہنچنا گویا شیر کے پنجرے میں گھسنے کے مترادف ہے۔ کیونکہ پہاڑوں میں موجود گوریلا جنگجو تاک میں بیٹھے ہوتے ہیں اور آنے والا ہر شخص اور گاڑی ان کی کلاشنکوف کے نشانے پر ہوتی ہے۔
    افغان قوم کی جنگجویانہ طبیعت بھی اس عمل میں ایک اہم کردار رکھتی ہے۔
    امریکہ کی شکست سے جہاں خطے میں امریکی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا وہیں ہمارے پڑوسی انڈیا کی بلند و بانگ چیخیں بھی ان کی انویسٹمنٹ کے ضیاع کی طرف اشارہ کر رہی ہیں۔ انڈیا کی افغانستان میں بنائی گئی سڑکیں اور ڈیمز اب طالبان حکومت کے پاس ہیں اور اشرف غنی کے ساتھ بڑھائی گئی پینگیں بھی ٹوٹ چکی ہیں۔ اس پوری لڑائی میں بھارت کی چھترول خواہ مخواہ ہو گئی۔
    طالبان نے اب پنج شیر سمیت پورے افغانستان پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس وقت پورا افغانستان لا الہ الااللہ کے علم کے زیرنگیں ہو چکا ہے۔ امریکہ بھاگتے ہوئے اربوں ڈالر کا اسلحہ بھی یہیں چھوڑ گیا جو کہ اب طالبان کے قبضے میں ہے۔ ویسے تو پوری دنیا افغانستان کی عوام کی فکر میں انتہائی پریشان ہے لیکن کسی نے بھی ابھی تک کسی قسم کی کوئی امداد نہیں بھیجی۔ دنیا کا دوغلا چہرہ دیکھئے کہ یورپی بینکوں میں موجود افغان حکومت کی ساری رقم امریکہ نے فریز کر دی۔ افغانستان میں موجود سرمایہ اشرف غنی اپنے ساتھ طیارہ بھر کر منی لانڈرنگ کے ذریعے اڑا لے گیا۔ اس وقت افغانستان کو آٹے سے لے کر ادویات تک ہر چیز کی کمیابی کا سامنا ہے لیکن کسی بھی انسانی حقوق کے نام نہاد علمبردار ملک نے امداد نہیں کی۔
    کتنی خود غرض ہے نا یہ دنیا۔
    طالبان پھر بھی افغانستان کو ایک مثالی اور اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لئے پرامید ہیں۔
    طالبان کی فتح کے ساتھ ہی سمجھ میں آئی کہ جس اسلامی بلاک کی باتیں ہو رہی تھیں وہ کیسے بنے گا۔
    پاکستان میں موجودہ حکومت کے آتے ہی ریاستِ مدینہ کی پیروی کی باتیں ہونا شروع ہو چکی تھیں۔ اب افغانستان، پاکستان، ایران اور ترکی مل کر ایک عظیم الشان طاقت بن سکتے ہیں۔ بلاشبہ امریکی دشمنی میں روس اور چین بھی ان کا ساتھ دیں گے جس سے طاقت کا توازن بڑھ جائے گا اور امریکہ کی چودھراہٹ خطرے میں پڑ جائے گی۔ بہت جلد امریکی اجارہ داری کا خاتمہ ہونے والا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں اسرائیل کے اثر و رسوخ پر بھی خاصا اثر پڑے گا۔
    خیر مندرجہ بالا باتیں تو پھر کبھی سہی، یہاں بتانے والی اصل بات یہ ہے کہ
    "ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹلیجنس لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید آنے والی افغان حکومت کے قیام کے لائحہ عمل سے متعلق اہم فیصلوں میں شرکت کے لئے افغانستان پہنچ چکے ہیں”
    یہ ایک لائن ہی امریکی اور روسی شکست کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے
    مارخور اپنا شکار کبھی بچنے نہیں دیتا!!!!
    پاکستان ہمیشہ زندہ باد

  • کابل جو میں نے دیکھا اور سنا۔۔۔ تحریر  شاہد خان

    کابل جو میں نے دیکھا اور سنا۔۔۔ تحریر شاہد خان

    کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد 19 اگست کو میری اور میرے ساتھ خاتون صحافی سمیرا خان کی کابل آمد ہوئی۔ پچھلی بار 27 مئی 2021 کو ہم آئے تو ایک الگ سا نظام، سسٹم، ماحول اور حکومت تھی اس بار ہماری آمد ایک الگ فکر کے ساتھ تھی۔

    پاکستان کی جانب سے طورخم کراس کرکے زیرو پوائنٹ پر افغان طالبان کی جھنڈے لہرائے دکھائے دئیے۔ ایک طرف پاکستان کے فرنٹیئر کور کے جوان اور دوسری طرف طالبان کے جنگجو کھڑے تھے البتہ فرق یہ تھا کہ طالبان کے جنگجو کرسیوں پر بیٹھے تھے جب کہ پاکستانی ایف سی کے اہل کار الرٹ کھڑے تھے۔ تاہم اس دوران ہم سے کسی قسم کی زیادہ تفتیش نہیں کی گئی۔

    جلال آباد کی طرف سفر کے دوران ڈرائیور سے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک نقشہ ہمارے ذہن میں موجود ہو۔ ڈرائیور سے جب ہم نے طالبان کے کنٹرول کے بارے میں پوچھا تو ان کا کہنا تھا کہ طالبان ہو یا کوئی اور اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا ہمیں امن اور ترقی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں طالبان کی جانب سے سیکیورٹی کی پریشانی نہیں ہے تاہم معاشی مستقبل کی فکر ضرور ہے۔ بہر صورت وہ طالبان کی آمد سے خوش دکھائے دے رہے تھے۔

    صوبہ لغمان میں ایک ریسٹورنٹ پر رکیں ریسٹورنٹ کی باہر طالبان کی بکتر بندی گاڑی، جو انہوں نے افغان فورسز سے قبضے میں لی تھی، کھڑی تھی طالبان کے سیکیورٹی کے اہل کار اندر کھانا کھا رہے تھے ان سے میں نے کچھ معلومات لینے کی کوشش کی تاہم انہوں نے زیادہ معلومات دینے سے گریز کیا کہ ہمیں اجازت نہیں ہے۔
    جلال آباد شہر میں داخل ہوئے تو طالبان مین بازار میں مختلف جگہوں پر کھڑے نظر آئے۔ سمیرہ خان نے مائک اٹھایا اور رپورٹ بنانے لگی۔ طالبان اہل کاروں کی جانب سے ہمیں کچھ نہیں کہا گیا البتہ جب لوگ ہمارے ارد گرد زیادہ ہوگئے تو تو ٹریفک جام ہوا جس کے بعد طالبان کی جانب سے ہمیں جلد ختم کرنے کا کہا گیا۔

    طورخم بارڈر سے کابل تک طالبان مختلف جگہوں پر کھڑے تھے تاہم ہم سے زیادہ پوچھ گچھ نہیں کی گئی طالبان سیکیورٹی کے اہل کار جب ہمارے ساتھ خاتون کو دیکھتے تو روکنے کے بجائے جانے کا اشارہ کرتے تھے۔

    کابل شہر پہنچے تو جگہ جگہ طالبان کھڑے نظر آئے سیکیورٹی بھی سخت تھی ہر طرف طالبان کی سفیڈ جھنڈے دکھائی دے رہے تھے طالبان اہل کار بڑی گاڑیوں میں گشت کرتے نظر آئے۔
    پچھلی بار جب ہم کابل آئے تھے تو جگہ جگہ افغان سیکیورٹی فورسز کی چیک پوائنٹس ہوتے تھے کابل کے ہر روڈ پر سفر کرنا مشکل تھا تاہم اب کی بار تمام راستے کھلے ہیں عام لوگ ہر راستے سے کابل میں گھوم پھر سکتے ہیں چیک پوائنٹس ہٹا دئیے گئے ہیں تاہم مختلف جگہوں پر طالبان نے ناکے لگائے ہوئے ہیں اور لوگوں سے پوچھ گچھ بھی ہوتی ہے البتہ طالبان کی جانب سے ان ناکوں پر رویہ بہت نرم رکھا جا رہا ہے۔

    کابل کی صورت حال کے حوالے سے میں بات کروں تو اس کو میں دو کیٹیگریز میں تقسیم کروں گا۔

    کابل اور افغانستان کے عوام :

    کابل اور افغانستان کے عوام کے حوالے سے میں بات کروں تو جب سے طالبان نے کابل کا ٹیک اوور کرلیا ہے لوگ سیکیورٹی سیچویشن کو کافی بہتر محسوس کررہے ہیں کیوں کہ ان پندرہ دنوں میں کرائم ریٹ بہت کم ہوگیا ہے کابل اور افغانستان کی عوام کو چوروں سے سب سے زیادہ خوف رہتا ہے تاہم ان دںوں میں اس میں بہت زیادہ کمی آچکی ہے۔ تاہم افغان عوام مستقبل کے حوالے سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں جن لوگوں کی نوکریاں ہیں وہ اپنے نوکریوں کے حوالے سے پریشان ہے باوجود یہ کہ طالبان نے ان کو ان کی نوکریوں کے حوالے سے تسلی دی ہے لیکن اس کے باوجود عوام مستقبل کے حوالے سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

    لوگوں کو ایک اہم ایشو اس وقت طالبان کی جانب سے حکومت کا باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ کھڑا نہ کرنے کا بھی ہے کیوں کہ طالبان اس وقت سیکیورٹی کے حوالے سے منظم نہیں ہے طالبان کی سیکیورٹی اہل کاروں کی کوئی مختص یونیفارم نہیں ہے جس سے طالبان اور دوسرے لوگوں کے درمیان تفریق نہیں کی جاسکتی ہے اس بنیاد پر کوئی بھی طالبان کے نام کا استعمال کرکے لوگوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ اس بنا پر افغان عوام چاہتی ہے کہ لوگوں کو ان کے نمائندے بتائے جائے جس کے سامنے وہ اپنے مسائل لے کر جائے۔

    اسی طرح اب تک بینک، اسکولز، کالجز، کمپنیاں باقاعدہ نہیں کھلی ہیں جس کی وجہ سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    افغانستان اور کابل کی صورت حال۔

    کابل کی سیکیورٹی سیچویشن کافی بہتر ہے لوگ خود کو محفوظ تصور کررہے ہیں کابل ائیرپورٹ کی صورتحال اس وقت خراب ہے۔ بنیادی طور پر ائیرپورٹ کے حالات کے زمہ دار اگر میں امریکہ پر عائد کروں تو میں غلط نہیں ہوں گا۔

    امریکہ نے سب سے پہلے اپنے ساتھ لوگوں کو بیرون ملک لے جانے کا اعلان کیا۔ لوگوں کو ایمیلز کیے۔ تاہم ان لوگوں کو جنہوں نے ان کے ساتھ کام کیے ہیں لے جانے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔
    اس کا نقصان یہ ہوا کہ ہزاروں لوگ ائیرپورٹ کی طرف گئے ائیرپورٹ پر لوگوں کا ہجوم بنا امریکہ نے بغیر تصدیق کیے لوگوں کو طیارے میں ڈالا اور ان کو باہر لے جایا گیا اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ہر ایک نے باہر جانے کی کوشش کی اور اب تک ان کو امید ہے کہ ہمیں بھی باہر جانے کا موقع ملے گا۔ اس وجہ سے ائیرپورٹ کی صورتحال انتہائی خراب ہوگئی اور داعش کو اس صورت حال سے فایدہ اٹھانے کا موقع ملا۔

    ایک اور مسئلہ جو اس وقت طالبان کو درپیش ہے اور افغانستان میں امن کے حوالے سے ایک چیلنج دیکھا جا رہا ہے وہ پنجشیر کی صورتحال ہے۔ پنجشیر کی صورتحال اس وقت یہ ہے کہ طالبان اور احمد مسعود کے درمیان اب تک مذاکرات جاری ہے طالبان کی کوشش ہے کہ پنجشیر بھی سرنڈر کریں اور کوئی خون خرابہ نہ ہو۔ میرے اطلاعات کے مطابق کافی حد تک مذاکرات کامیابی کی طرف جا رہے ہیں امید ہے دونوں طرفین مذاکرات کے ذریعے اس مسئلے کو حل کریں گی۔

    طالبان کی ڈاکٹرعبداللہ عبداللہ اور حامد کرزئی کے ساتھ بھی اس وقت مذاکرات جاری ہے ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کے ساتھ ملاقات میں معلوم ہوا کہ دونوں رہنماؤں کو ان کی سیکیورٹی کے حوالے سے تسلی دی گئی ہے طالبان کی جانب سے ان کو سیکیورٹی بھی دی گئی ہے تاہم وہ اس وقت انتہائی مایوس دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ ان کو ان کے مستقبل کے حوالے سے، حکومت میں شمولیت کے حوالے سے تسلی نہیں ملی ہے کہ ان کو حکومت میں شامل کیا جائے گا یا نہیں۔

    حزب اسلامی کے سرابراہ جناب گلبدین حکمتیار صاحب سے ہم نے ایک ملاقات میں حکومت میں ان کی شمولیت کے حوالے سے پوچھا تو ان کا کہںا تھا کہ ہم نے خود طالبان سے حکومت میں حصہ کا مطالبہ نہیں کیا ہے تاہم افغان عوام کے لیے ہم سے جو بھی خدمت لیا جائے گا ہم اس کے لیے تیار ہوں گے۔
    حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار کا کہںا تھا کہ ہم کابل میں نئی تبدیلیوں کی حمایت کرتے ہیں گلبدین حکمتیار نے طالبان کے خواتین اور حجاب کے حوالے سے اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ مغرب ہم پر اپنا حجاب مسلط نا کریں پردہ ہماری روایت اور اقدار کا حصہ ہے۔ انہوں نے بھارت پنجشیر کے حوالے سے بھارت کی موقف اور کردار کی مخالفت کرتے ہویے کہا کہ بھارت کو مثبت رول اپنانا چاہیے جس طرح پاکستان نے امن کی بات کی ہے اس طرح بھارت کو بھی جنگ کی بجائے امن کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

    ہم پہلے پاکستانی تھے جنہوں نے طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ساتھ آزاںہ طور پر ملاقات کی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے صحافیوں کی تحفظ کے حوالے سے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ایک باقاعدہ کمیٹی بنائی جائے جو صحافیوں کے تحفظ حوالے سے کام کریں گی۔ انہوں نے انتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ تمام ممالک کے ساتھ ہم اچھے تعلقات چاہتے ہیں پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم اسے اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔

  • آخری معرکہ تحریر : سیف الرحمان

    افغانستان میں حالیہ تبدیلی اورافغانستان میں طالبان کی اشرف غنی اور اسکے اتحادیوں   کو شکستِ فاش دینا تاریخ میں  ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا اور یاد کیاجائے گا۔  امریکہ اب شاہد براہ راست  اس جنگ کا حصہ نا بننے لیکن ضرورت پڑنے پر  پراکسی وار جاری  رکھ سکتا ہے۔

    افغان جنگ میں بھارت سب سے بڑا لوزر نظر آتا ہے۔بھارت نے پاکستان دشمنی میں اپنے مورچے افغان سرزمین پر بنا ئے۔ وہاں  بیٹھ کر بھارت نے  BLAاور TTPجیسی دہشتگر تنظیمں بنائی اور پاکستان پر حملے کرواتا رہا۔  بھارت نے  افغانستان میں  اچھی خاصی سرمایہ کاری کی۔ افغان پارلیمنٹ کا سارا خرچہ بھارت نے اٹھایا۔ ڈیم بنایا۔ اس سب کا مقصد افغان سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال کرنا تھا لیکن طالبان کے آنے سے یہ سب کچھ مٹی میں مل گیا۔

    طالبان نے تقریبا 90فصد افغانستان سر زمین  بغیر جنگ کے ہی فتح کر لی لیکن وادی پنجشیر اب بھی احمد ولی مسعود کے پاس ہے۔ وادی پنجشیر اس وقت سار ی دنیا کی نظروں کا محور  بنا ہواہے۔ امن دشمن طاقتوں کی آخری امید بھی وادی پنجشیر ہی ہے۔ اگر طالبان یہ معرکہ بھی جیت گئے تو زمینی جنگ 100فیصد طالبان جیت جائیں گے۔

    تاجکستان کا وادی پنجشیر کی ہار جیت میں بہت اہم رول ہو گا۔  پنجشیر ایک طویل ، گہری اور پہاڑوں کے درمیان  وادی ہے۔ اس کا کل رقبہ تقریبا 120کلو میٹر بنتا ہے -یہ کابل کے جنوب مغرب سے شمال مشرق  میں واقع ہے۔ یہ اونچی پہاڑیوں کی چوٹیوں سے محفوظ ہے – یہ پہاڑ وادی سے 9،800 فٹ بلند ہیں ۔ تاریخی طور پر وادی پنجشیر کان کنی کے لیے بھی مشہور ہے۔وادی میں ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ افراد کے رہنے کی اطلاعات ہیں۔یہاں  ذیادہ طر لوگ دری بولتے ہیں جو کہ افغانستان کی اہم زبانوں میں سے ایک ہے اور تاجک نسل سے ہیں ۔

    اس وادی میں داخلے کیلئے ایک راستہ ہے جو ایک تنگ سڑک  ہے  ۔ یہ سڑک بڑے بڑے پتھریلے راستوں اور دریائے پنجشیر کے درمیان سے ہو کر نکلتی ہے۔ جس کو اگر بند کر دیا جائے تو  خوراک اور ادویات کی فراہمی بند ہو جائے گی۔   اب  وادی پنجشیر کے باسیوں کی زندگی کا دارومدار تاجکستان کے راستے خوراک ادویات  اسلحہ بارود پر منحصر رہ جاتاہے۔ طالبان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر پنجشیر میں بغاوت کا آغاز ہو گیا تو شمال کے صوبوں تک پھیل جائے گا۔اس لئے وادی پنجشیر کو حاصل کرنا طالبان کیلئے بہت ضروری ہے۔ 

    دوسری طرف تاجکستان میں بھارت کا اثرورسوخ  غیر معمولی نظر آتا ہے جس کی مثال بھارت کا  تاجکستان میں ایک فوجی اڈے کی موجودگی ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ دوشنبہ ہوائی اڈے کی عمارت میں داخل ہوتے ہیں تو  وہاں بھارتی اداکاروں کی بڑی بڑی  تصاویر لگی نظر آتی ہیں۔اس سے تاجکستان اور بھارت دوستی کا پتہ چلتا ہے۔   پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بار بار تاجکستان کے دورے بھی کر رہے ہیں کہ کہیں بھارت کی دوستی کی وجہ سے تاجکستان افغان امن کی راہ میں روکاوٹ نہ بنے۔

    تاجک حکمران  یہ سمجھتے ہیں کہ اگر طالبان مستحکم ہو گئے اور اسلامی نظام نافذ کر لیا تو عین ممکن ہے کہ نشاہ اسلامیہ کی اسلامی تحریک islamic renaissance partyپھر سے نا سر اٹھانے لگ جائے۔ احمد مسعود کے بہت سے کمانڈروں کی حلاکتوں کی بھی تصدیق ہو رہی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق طالبان نے آدھے سے ذیادہ علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور باقی پر پیش رفت  جاری ہے۔  عرب میڈیا کےمطابق طالبان نے  تاذہ دم دستے 3اگست کو وادی پنجشیر کی طرف روانہ کر دیئے ہیں۔ اس وقت پنجشیر میں موبائل اور انٹر نیٹ مکمل بند ہے ۔   بعض اطلاعات کے مطابق احمد مسعود اور امرﷲ صالح تاجکستان فرار ہو گئے ہیں۔  اگر ایسا ہے تو پنجشیر میں طالبان کی فتح کو کوئی بھی نہیں روک پائے گا۔   

    حال ہی میں بھارت کے ایک ریٹائر فوجی جس کا نام میجر گوروآریا ہے اس نے احمد مسعود کو مودی حکومت کی طرف سے ہر ماہ 200ارب دینے کی آفر کروائی۔ اس آفر کا  مقصد افغانستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروانا ہے۔ بھارت کی مثال اس وقت اس بزدل لومڑی  جیسی بنی ہوئی ہے جو چاہتی ہے کسی طرح کوئی شیر شکار کرے اور وہ اس مردہ گوشت پر جا کر منہ مار لے۔ لیکن حالات یکسر بدلے نظر آ رہے ہیں۔ شاہد بھارت کا یہ خواب کبھی پورا نا ہو پائے کیونکہ افغانستان میں  ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر لگ رہا ہے۔ امن و امان کی صورت حال بھی کافی بہتر نظر آ رہی ہے۔ طالبان کی   موجودہ  قیادت اس وقت کافی سمجھدار اور دور اندیش نظر آ  رہی ہے۔

    طالبان کے مطابق وادی پنجشیر کا حصول ان کے لئے بہت اہمیت کا حامل ہےوہ اس وادی کو ہر صورت فتح کریں گے۔ اس آخری معرکہ کی فتح افغان امن و امان  کیلئے بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف طالبان نے باقاعدہ طور پر سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا بھی اظہار کر دیا ہے۔ طالبان کو افغانستان کا مستقبل نظر آ رہا ہے وہ کسی بھی قیمت پر وادی پنجشیر ہاتھ سے نہیں جانے دیں گے۔  

    @saif__says

  • اور پی ٹی ایم نے چہرہ بدل لیا .تحریر: امان الرحمٰن

    اور پی ٹی ایم نے چہرہ بدل لیا .تحریر: امان الرحمٰن

    ریاستِ پاکستان، ایک ایسی ریاست جس نے آزادی حاصل کرتے ساتھ ہی بیشمار مشکلات کا ایک ڈھیر اپنے سامنے پایا اور محدود وسائل ہونے کے باوجود دن بہ دن سنبھلنے لگی ابھی آزادی کو ایک سال اور ایک ماہ ہی گُزرا تھا کے بانیِ پاکستان قائدِ اعظم مُحمد علی جناح اِس لاالاالله محمدرسول الله کے نام پر بننے والی ریاست کو اللہ کےسپرد کر گئے اور وہ پاکستان جسے آزاد کرنے والے یہی سوچتے تھے کے یہ ملک نہیں چل پائے گا کیوں کے وہ سب جانتے تھے پاکستان کے اندر وہ کیا کیا سازشیں کرنے والے ہیں، اور وہی دشمن روزِ اول سے پاکستان میں 74 برس سے پاکستان کو مستحکم نہیں ہونے دیتے اور کبھی سیاسی طور پر نقصان پہنچاتے ہیں کبھی معاشی طور پر اور یہ وجوحات ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہیں، اور وجہ میری نظر میں صرف ایک ہی ہے کہ جس ریاست کو ہم نے اسلامی بنانا تھا اُس میں اسلامی قوانین کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔

    کوئی بھی ریاست تب تک مستحکم نہیں ہوسکتی جب تک اُس کا نظامِ عدل سو فیصد انصاف پر مبنی فیصلے نہ کرے اور یہی وجہ ہے کے پاکستان میں غدار پیدا ہوتے رہے ہیں کیوں کے اُنہیں معلوم ہے جو چاہے جیسے چاہے اِس ریاست کو نقصان پہنچا لیں اُن کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اور ایسی بیشمار مثالیں ہمارے ماضی میں ہمیں نظر آتی ہیں، اب پی ٹی ایم کو دیکھ لیں اِس تنظیم نے جو کچھ ماضی میں کیا وہ سب کے سامنے ہے مگر یکم ستمبر کو محسن داوڑ اپنے ناجائز باپ افغانستان اور بھارتی خُفیہ ایجنسی کی مدد سے چلنے والی تنظیم کو یتیم ہوتا دیکھ کر اب نئے چہرے سے کام کرے گی، سوال یہ ہے کیا ریاستی اِدارے نہیں جانتے اِن کی حرکات کا کسے علم نہیں، کیا الیکشن کمیشن سو رہا ہے؟

    الیکشن کمیشن کیسے اجازت دے سکتا ہے اِنہیں نئی جماعت بنانے کی؟
    اِس ریاست کا کوئی قانون ہے جو ایسے لوگوں کو نکیل ڈال سکیں؟
    اگر نہیں ہے تو یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے عوام کو کیوں کیا یہی سیاست ہے پاکستان کی کہ کسی نہ کسی طرح مصروف رکھا جائے عوام کو اور ریاست کا کیا۔؟

    ریاست تو ایسے ہے جیسے کھلونا ہو اِن مُٹھی بھر لوگوں کے لئے جس کا جب دل چاہے جیسے چاہے کھیلے اور بیوقوف بنی رہے عوام جسے نہ پہلے ہوش تھا اور نہ ہی اب ہے،
    خُدارا ہوش کے ناخُن لیں یہ وہی سُرخے ہیں جو لال لال تحریک پہلے پی ٹی ایم اور اب ایک بار پھر چہرہ بدل کر نیشنل ڈیموکریٹیو مومنٹ کے نام سے سامنے آئی ہے۔
    اِس پارٹی کا اعلان کرنے والوں نے دھڑلے سے اپنا پروگرام کیا اور ریاستِ پاکستان کا مزاق اُڑاتے ہُوے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا ہے۔ حکومت کے اُن تمام اِداروں کے مُنہ پر،
    اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی اِدارے اپنی بے بسی ظاہر کرتے ہیں یا کوئی اقدام کرتے ہیں اپنے لُولہے لنگڑے نظام سے، ویسے سچی بات تو یہ ہے کے ہمارے نظام میں ایک نہیں بہت زیادہ بیشرمی کُوٹ کُوٹ کر بھری ہے کسی کو کوئی فکر نہیں کہ اِس ریاست کے ساتھ اگر کوئی بُرا سلوک کرتا ہے تو کرتا رہے ہمیں کیا ہم نے تو سرکاری اِدارے میں نوکری کرنی ہے تنخواہ کے ساتھ ساتھ اُوپر کا مال بھی بنانا ہے اب چاہے وہ مال ہمیں سُرخے دیں یا سُرخوں کو پالنے والی غیر ملکی ایجنسیاں۔
    ایسے بے ضمیر افسران اور حکامِ بالا کو یہ چُھوٹ بھی نظامِ عدل کی خرابیوں کی وجہ سے ہیں جب کسی کو کوئی ڈر خوف ہی نہیں کے مجھے جواب دینا ہوگا یا سزا ہوگی تو ایسے میں کوئی کیوں ڈرے گا کیسے کسی افسر کو اپنے فرائض کہ خلاف جانے سے روکیں گے۔؟
    اکثر لوگوں کو بات کرتے سُنا ہے کے بھائی "پاکستان تو اللہ توکل ہی چل رہا ہے” باخُدا صحیح کہتے ہیں۔
    اللہ پاکستان کو ہر چُھپے اور ظاہر دُشمن سے محفوظ رکھے۔
    اللہ کریم ہم سب کا اور ہمارے پیارے پاکستان کا حامی و ناصر ہو آمین۔
    @A2Khizar

  • حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    حکومتی لاپرواہی ،تحریر:بسمہ ملک

    گزشتہ کئی عرصے سے کئی صحافیوں کے اوپر جانی حملے ہوئے جس کی ایف آئی آر بھی کاٹی گئی لیکن نا تو حکومت کی طرف سے اور نا ہی تفشیشی اداروں کی جانب سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور نا ہی صحافی حضرات کو یقین دہانی کرائی گئی اس حوالے سے چند دن پہلے سٹینڈنگ کمیٹی اف انفارمیشن & ٹیکنجالوجی کے اندر بہت ہی سینئر صحافی ائے تھے جس میں حامد میر، عاصمہ شیرازی، اسد طور وغیرہ شامل تھے تاکہ صحافی حضرات جان سکے کہ حکومت صحافیوں کو انصاف فراہم کرنے کے لئے کتنے سنجیدہ ہے لیکن بدقسمتی سے ناں تو فیڈرل منسٹرز ائے اور نا ہی چیف منسٹر موجود تھے

    کہا جارہا تھا کہ پرائمنسٹر کسی فنکشن میں بزی ہیں اور وزراء اسی وجہ سے نہیں آئے تھے پہلی بات یہ کہ یہ ایک سیرئیس قسم کا معاملہ ہے اور ان میں سے اگر فیڈرل منسٹرز اور چیف منسٹز اگرآدھا گھنٹہ بھی دے دیتے تو معاملہ حل ہوتا دوسری بات یہ کہ جو ادارے والے آئے تھے ان میں سے جونئیر افیسرز کو بھیجا گیا تھا جن کے پاس کسی قسم کے نا کوئی ثبوت تھے اور نا ہی شواہد تھے کہ یہ معاملہ کس طرح حل کیا جائے گا تیسری بات یہ کہ جو ہمارے سینئر جرنلسٹ آئے تھے ان کو زیادہ پتہ اور معلومات ہیں اپنے کیسز کا اپنے انویسٹیگیشن اور اپنے فنگرپرنٹس کا ،اکثر کے CCTV فوٹیج میں گاڑیوں کے نمبر تک واضح نظر ائے ہیں لیکن جو اداروں کے لوگ آئے تھے ان کے پاس کسی قسم کی کوئی انفارمیشن نہیں تھی اور نا ہی انہوں نے کوئی پیش رفت کی تھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کمیٹی کا استحقاق ہے؟ کہ جس منسٹر کو بلائے وہ بالکل اتا ہی نہیں اور نا ہی وہ کمیٹی کو سیرئیس لیتا ہے

    چوتھی بات یہ ہے کہ جو رپورٹ ہے اس کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے تاکہ پوری قوم کو پتہ چلے کہ حکومت کہاں تک صحافیوں کی تحفظ کرنے میں کامیاب رہی ہے تحریک انصاف والے اقتدار میں انے سے پہلے صحافتی ازادی اور صحافیوں کی تحفظ کی فراہمی کے تو بڑے دعوے سے کررہے تھے اب دیکھتے ہیں کہ اب جب تحریک انصاف برسراقتدار ائی تو کیا وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہونگے؟ کیا تحریک انصاف صحافیوں کے گلے شکوہ دور کرنے میں کامیاب ہوپائے گی؟ یا تحریک انصاف کی باقی وعدوں جیسے صحافیوں والی بات بھی بس صرف باتوں کی حد تک محدود تھی اگے اگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟

    Tweeter ID Handel
    @BismaMalik890

  • زیر عتاب صدور  شہباز اور بائیڈن   تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    زیر عتاب صدور شہباز اور بائیڈن تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    دو صدور اس وقت خاصے زیر عتاب ہیں

    ایک تو امریکی صدر،جنہیں آجکل افغانستان سے امریکن فوج کے انخلا کی وجہ سے ان کی اپوزیشن نشانہ بنارہی ہے۔

    جو بائیڈن پر گرجنے برسنے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہی سنبھالے نہیں جا رہے۔

    امریکی صدر نے اپوزیشن کی طرف سے آڑے ہاتھوں لیے جانے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں دل کی بھڑاس نکالتے ہوۓ بتایا ہے کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ صرف اس کا نہیں تھا،

    اس فیصلے سے پہلے دیگر تمام سٹیک ہولڈرز بشمول فوجی جرنیلز اور وزیر دفاع کے،

    ہر ایک سے بات کی گئی اور تب باہم رضامندی سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

    امریکی صدر کے لئے تو چلیں اسکی اپوزیشن وبال جان بنی ہوئ ہے مگر ایک صدر ایسا بھی ہے،

    جسے اُس کی اپنی ہی پارٹی نے آجکل تتے توے پر بٹھایا ہوا ہے۔

    جی آپ ٹھیک سمجھے !

    میری مراد پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف سے ہے،

    جن کی زندگی ان کی اپنی بھتیجی مریم صفدر نے اجیرن کر رکھی ہے۔

    یہی سیاست کی بے رحم فطرت ہے کہ اس میں اقتدار کے لالچی لوگ خون کے رشتے تک فراموش کر دیتے ہیں۔

    جب سے نوازشریف سب کو چُونا لگا کر لندن گیا ہے،

    اُس وقت سے شہباز شریف کو بطورڈمی صدر سامنے لایا گیا مگر مریم اینڈ کمپنی نے شہباز شریف کی ایک نہیں چلنے دی۔

    شہباز شریف کی کہی گئی ہر ایک بات کو مریم اور اسکے ہمنوا جوتے کی نوک پر رکھے ہوۓ ہیں۔

    مگر حیران کن طور پر شہباز شریف کی صدارت کا سفر جاری ہے۔

    لگتا یہی ہے کہ سیاست کے سینے میں درد کے ساتھ ساتھ شرم بھی نہیں ہوتی،

    وگرنہ جس طرح شہباز شریف کے ساتھ ہو رہا ہے،

    ایسے میں عہدہ صدارت سے چمٹے رہنا ڈھیٹ بن کر کسی درخت سے لٹکنے کے مترادف ہے۔

    گندی سیاست کے رنگ و روپ پر غور کریں تو صاف پتہ چلے گا کہ شہباز شریف کی مریم اور اسکے حواریوں کی طرف سے دُرگت بناۓ جانے میں بڑے میاں ساب کا بھی ہاتھ ہے۔

    ورنہ اگر نواز شریف نہ چاہے تو شہباز شریف کو یوں رسوا کیسے کیا جا سکتا ہے؟

    شہباز شریف کو صدر بھی رکھا جا رہا ہے اور ساتھ ہی اسے اسکی اوقات میں بھی رکھا جا رہا ہے۔

    شہباز شریف کی کہی گئی زیادہ تر باتوں کی برملا تردید کا فریضہ شاہد خاقان عباسی ادا کر رہا ہے۔

    شہباز شریف اگر دن کہے تو عباسی مریم کے اشارے پر رات کہہ دیتا ہے،

    حتی کہ ایک دفعہ تو شاہد خاقان عباسی نے شہباز شریف کو وارننگ کے انداز میں سوچ سمجھ کر بات کرنے کو بھی کہہ دیا تھا۔

    اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی عہدہ صدارت سے چمٹے رہنے ہی میں شہباز شریف کی بقا ہے۔

    اسی میں اسکی عافیت ہے۔

    کیونکہ جتنے سنگین قسم کے کرپشن کیسز اس پر چل رہے ہیں،

    اسے مسلم لیگ ن کے شیلٹر کی سخت ضرورت ہے۔

    کیونکہ پاکستان کے تمام بدعنوان سیاستدان اپنی اپنی کرپشن کو چھپانے اور بچانے کے لئے اپنی اپنی پارٹیوں کو بطور ڈھال استعمال کرتے ہیں۔

    شہباز شریف کی بھی مجبوری ہے کیونکہ وہ تو ویسے ہی مع اہل وعیال مبینہ طور پر کرپشن کے گڑھے میں گردن تک دھنسا ہوا ہے،

    اور پھر اسے پتہ ہے کہ ابھی تک ن لیگ میں نواز شریف کی چلتی ہے۔

    ایسے میں وہ پارٹی چھوڑ کے کہاں جاۓ گا؟

    نواز شریف نے پاکستان سے باہر ہونے کے باوجود پارٹی پر اپنی گرفت مضبوط رکھی ہوئ ہے،

    یہی وجہ ہے کہ اسکے نام نہاد بیانیوں سے اختلاف کرنے والوں کو کارنر کر دیا جاتا ہے۔

    شہباز شریف کو نواز شریف اور مریم کے ریاست مخالف بیانیے سے بھی شدید اختلاف ہیں مگر وہ اپنی سیاسی اور زاتی مجبوریوں کے آگے بے بس ہے۔

    کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ ن لیگ کو تباہ کرنے میں مریم کا کلیدی کردار ہے۔

    مریم کی ان تباہ کاریوں پر شہباز شریف کئی دفعہ نواز شریف کو شکایت بھی لگا چکا ہے مگر نواز شریف کا ووٹ ہمیشہ مریم کے ملک دشمن بیانیے کی حمایت میں ہوتا ہے،

    کیونکہ نواز شریف کو پتہ چل چُکا ہے کہ نہ تو عمران خان اور نہ ہی اسٹیبلش منٹ اسے کسی قسم کا ریلیف دینے کو تیار ہے۔

    ہر طرف اندھیری رات دیکھتے ہوۓ نواز شریف نے سیاست کی آڑ میں ملک و قوم کے خلاف جوڈرٹی گیم شروع کر رکھی ہے،

    بظاہر شہباز شریف اپنے آپ کو اس غلیظ بیانیے سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہوۓ اپنے آپ کو ریاست کے سامنے اچھے بچے کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے،

    مگر ہر بار اسکی یہ کوششیں ناکام کرنے کے لیے اسکی اپنی بھتیجی دم ٹھونک کر میدان میں آجاتی ہے۔

    اور شہباز شریف ایک بار پھر شوباز بن کے رہ جاتا ہے۔

    ویسے شہباز شریف کی یہی بھتیجی،

    جو باپ سمیت اپنے آپ کو کشمیری اور کشمیر کی بیٹی کہتے نہیں تھکتی،

    اُس کی زبان بزرگ حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی مرحوم و مغفور کے انتقال پُرملال پر کیوں گنگ ہے؟

    کیا تعزیت کرنے سے مودی چچاکی ناراضگی کا ڈر ہے؟

    ویسے تو شہباز شریف اور مودی دونوں ہی مریم کے چچا ہیں۔

    مگر سگے والےکو اتناٹف ٹائم دینا اور مونہہ بولے کا اتناخوف کہ

    کشمیریوں کی تحریک آزادی کے ایک عظیم بانی راہنما سید علی شاہ گیلانی کی وفات پر تعزیت تک ندارد

    کیا یہ کُھلا تضاد نہیں ؟

    تحریر۔سید لعل حسین بُخاری

    @lalbukhari

    Sent from my iPhone