Baaghi TV

Category: سیاست

  • تم ہی غالب رہو گے ۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    تم ہی غالب رہو گے ۔۔۔ تحریر: آصف گوہر

    ارشاد باری تعالی ہے ۔
    وَلَا تَهِنُواْ وَلَا تَحۡزَنُواْ وَأَنتُمُ ٱلۡأَعۡلَوۡنَ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ
    "تم نہ سستی کرو اور غمگین ہو، تم ہی غالب رہو گے، اگر تم ایماندار ہو.”
    سورة آل عمران 139
    20 سال قبل امریکہ میں دہشت گردی کی مبینہ واردات کے بعد دنیا بدل گئ کل کے مجاہد امریکہ کے منظور نظر وائٹ ہاوس کے مہمان ایک دم سے مجرم اور دہشت گرد ٹھرے۔۔ امریکہ نے دنیا کو پیغام دیا جو ہمارے ساتھ نہیں وہ ہمارا دشمن ہے اور پاکستان کو عجلت میں فون کرکے دھمکا کر ساتھ دینے کا وعدہ لے لیاگیا
    افغانستان میں امارت اسلامی کو سخت پیغام دیے گئے اسلام آباد میں موجود طالبان کے دنیا میں واحد سفارت خانے کو بند کر دیا گیا سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو گرفتار کرکے گوانتا نامو بے کے عقوبت خانے پہنچا دیا گیا ۔
    افغانستان پر جدید ترین بی52 طیاروں سے بمباری کرکے طالبان کی برائے نام دفاعی قوت کو ختم کیا گیا مدرسوں سکولوں اور ہسپتالوں پر بےدریغ بمباری کر کے وسیع پیمانے پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا گیا۔
    جب متوقع مزاحمت مکمل ختم ہونے بارے پختہ یقین ہوگیا تو امریکہ اکیلے زمین پر اترنے کی بجائے نیٹو اتحاد کو اپنے ساتھ لے آیا اور پختون افغانوں پر مظالم کا نیا باب رقم ہوا ۔افغانستان میں اپنا قبضہ مضبوط بنانے کے لئے شمال کے فارسی بولنے والے کرائے کے قاتلوں کو ساتھ ملا کر قلعہ جنگی ننگرہار قندہار ہلمند میں طالبان کا قتل عام ہوا اور بدنام زمانہ عقوبت خانے معرض وجود میں آگئے جبر کے ذریعے طالبان کو پہاڑوں غاروں میں پناہ لی وہاں پر بھی تورا بورا جیسی تباہی مچائی کچھ ہجرت کرکے پاکستان آگئے یہاں پر بھی انکا پیچھا کیا گیا اور پاکستانی سابق حکومتوں کی خاموش اجازت سے قبائلیوں علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے سول آبادی پر آگ اور بارود برسا کر ہزاروں معصوم لوگوں کو قتل کر کے امریکہ نے کابل میں کٹھ پتلی حامد کرزئی عبدالرشید دوستم اور اشرف غنی جیسے کرداروں پر سرمایہ کاری کی اور اپنے قبضے کو مضبوط بنانے کی اپنے تئیں بھرپور کوشش کی لیکن حاصل ضرب کیا ملا ۔
    طالبان نے اپنی بچی کچھی قوت کے بل پر اتحادی فورسز پر حملے شروع کر دیئے وقت کے ساتھ ساتھ ان گوریلا کاروائیوں میں شدت آنے لگی امریکہ نے پاکستان پر الزام تراشی شروع کر دی کے پاکستان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ افغانستان کی کٹھ پتلی حکومت نے بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں ڈالیں پاکستان کے ازلی دشمن کو ڈیورنڈ لائن کے ساتھ ساتھ سفارت خانوں کے نام پر تخریب کاری کے اڈے فراہم کئے گئے جہاں سے پاکستانی سیکورٹی فورسز پولیس اور عوام پر دہشت گردانہ کاروائیوں کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوا۔
    لیکن افغان طالبان نے مسلسل اتحادی افواج پر حملے جاری رکھے اور کٹھ پتلی افغان حکومت کو کابل اور شمال تک محدود کردیا ۔امریکہ نےاس مکمل ناکامی کا الزام پاکستان پر لگانا شروع کیا اور
    پاکستان پر دباؤ ڈالا جانے لگا کے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں آپریشن کیا جائے اور امریکہ اور اتحادی افواج کو پاکستان کے اندر حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی کی اجازت دی جائے۔
    پاکستان دفاعی قیادت نےامریکی مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے پیغام دیا کہ پاکستان اپنے علاقے میں جو کاروائی کر گے خود کرے کسی کو اجازت نہیں کے سرحد پار آئے۔
    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو کردار ادا کیا اور قربانیاں دیں وہ ایک الگ باب ہے اس پر گفتگو پھر کبھی۔۔۔
    پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان نے کئ سال قبل کہا تھا کہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ ایسے نہیں جیتی جا سکتی طالبان سے مذاکرات کرنے کے لیے پشاور میں طالبان کا دفتر کھولا جائے اس وقت لوگوں نے عمران خان کی بات کا مزاق اڑایا اور عمران خان کوطالبان خان کہا گیا۔۔
    لیکن چند ہی سالوں بعد دنیا نے دیکھا کہ عمران خان کی تجویز کے مطابق قطر کے درالحکومت دوحہ میں طالبان کو دفتر کھول کر دیا گیا۔مذاکرات کے کئ ادوار ہوئے طالبان نے کئ دفعہ امریکی بات سننے سے انکار کر دیا پھر پاکستان کی منت سماجت کی جاتی کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے ۔
    پاکستان نے افغانستان میں امن کے لئے ہمیشہ مثبت کردار ادا کیا جسکی دنیا معترف ہے۔
    امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے حکومت میں آتے ہی عندیہ دیا کے سابقہ حکومتوں نے امریکہ کو غیر ضروری جنگوں میں الجھا کر نقصاں پہنچایا ہم افغانستان جنگ سے نکلیں گے ۔
    افغانستان میں طالبان نے مذاکرات کے ساتھ ساتھ اپنے حملے تیز کردیے بتدریج صوبے فتح ہونے لگے ۔امریکہ میں جو بائیڈن حکومت میں آتا ہے اور 31 اگست تک امریکی فوج کے مکمل انخلاء پر مذاکرات کامیاب ہوجاتے ہیں ۔پاکستان کے وزیر اعظم کو رام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے مکمل انخلاء کے بعد پاکستان میں امریکہ کو مستقل اڈا دیا جائے تاکہ بوقت ضرورت طالبان پر فضائی حملے کرکے افغان کٹھ پتلی حکومت کو مضبوط کیا جائے وزیراعظم عمران خان کے تاریخی الفاظ "Absolutely Not ” سے امریکی امید اور خواہش دم توڑ گئ اور اس نے مکمل رخت سفر باندھ لیا ۔
    قصہ مختصر طالبان نے روس دور کی ٹوٹے پھوٹے اسلحہ اور ایمانی قوت کےزور سے دنیا کی سپر پاور اور بڑے فوجی اتحاد کو شکست دی اور امریکہ کی بنائی ہوئی افغان کرایہ کی فوج جو اٹک تک آنے کی پاکستان کو گیدر بھبکی دیتے تھے وہ ریت کی دیوار ثابت ہوئے اور زیادہ تر فوجیوں نے اپنا امریکی اسلحہ طالبان کے قدموں میں ڈھیر کرکے سرنڈر کردیا کچھ دیگر ممالک میں فرار ہوگئے۔طالبان کابل میں بغیر کسی مزاحمت کے داخل ہوئے اور عین 15 اگست بھارتی یوم آزادی کے روز کابل پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا اور بھارت نواز اشرف غنی صدارتی محل چھوڑ کر فرار ہوگیا۔اور بھارت میڈیا میں صفحہ ماتم پچھ گئ۔۔۔
    امریکہ نے اپنے لوگوں کو نکالنے کے لیے تقریبا 4ہزار مزید فوجی بھیجے جو کابل سے فرار ہونے والوں کو سی 130 طیاروں میں بیٹھا کر روانے کر رہے تھے کہ کابل ایئرپورٹ پر خود کش حملہ میں کئ امریکی فوجی اور بےگناہ لوگ مارے گئے امریکہ نے معاہدے کے مطابق 31 اگست کی شب افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کو نکالنے میں ہی عافیت سمجھی اور نکل گیا۔ طالبان ثابت قدمی ہزاروں قربانیوں اور قوت ایمانی کے سبب غالب اور فتح یاب ہوئے۔
    @Educarepak

  • یوم دفاع (۲)  ریاست جموں وکشمیر کے تنازعہ کا تاریخی پس منظر   تحریر: احسان الحق

    یوم دفاع (۲) ریاست جموں وکشمیر کے تنازعہ کا تاریخی پس منظر تحریر: احسان الحق

    روز اول سے ہندوستان برصغیر کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے خلاف تھا. تقسیم برصغیر کے بعد، ہندوستان پاکستان کے خلاف ہو گیا اور مختلف طریقوں سے ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے پاکستان کے وجود کو نقصان پہنچانے میں مصروف عمل رہا ہے.

    برصغیر کی تقسیم کے کچھ دن بعد دونوں ممالک کے درمیان، ریاست جونا گڑھ، رن کچھ، حیدرآباد دکن اور ریاست کشمیر کے قبضے اور الحاق پر جھگڑا ہو گیا. پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کی اہم ترین اور پیچیدہ ترین وجوہات میں سے سب سے بڑی وجہ "مسئلہ کشمیر” ہے. یہ غلط نہ ہوگا اگر میں یہ کہوں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تمام جنگوں کی وجہ بھی مسئلہ کشمیر ہے. مسئلہ کشمیر کو سمجھنے کے لئے اس کے تاریخی پس منظر کو جاننا لازمی ہے.

    14 اگست 1947 کو تقسیم برصغیر کے وقت تاج برطانیہ کا راج ختم ہو گیا. برصغیر میں موجود 562 ریاستوں کو اپنی مرضی سے پاکستان یا ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے یا خودمختار ریاست کی حیثیت سے رہنے کا حق حاصل ہو گیا. ریاست جوناگڑھ کے حکمران نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا. ریاست میں ہندوؤں کی اکثریت تھی اور اسی بنیاد پر ہندوستان نے فوج کشی کرتے ہوئے جونا گڑھ پر ناجائز قبضہ کر لیا. حیدرآباد دکن خود مختار حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھنا چاہتی تھی مگر بھارت نے ستمبر 1948 میں ریاست حیدرآباد دکن پر ناجائز قبضہ کر لیا. ریاست رن کچھ پر کافی سال تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ چلتا رہا، چھوٹی بڑی کافی جھڑپیں بھی ہوئیں. خیر، رن کچھ کا مفصل موضوع ہے جس کی تفصیل یہاں مناسب نہیں.

    ریاست کشمیر کا مسئلہ جونا گڑھ، رن کچھ اور حیدرآباد کی ریاستوں سے مختلف ہے. ریاست کشمیر کا حکمران ہندو تھا مگر یہاں کی 80 فیصد آبادی مسلمان تھی. جغرافیائی لحاظ سے بھی یہ علاقہ پاکستان کے ساتھ ملا ہوا تھا. مذہبی، سیاسی، جغرافیائی اور ثقافتی لحاظ سے ریاست کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ بنتا تھا اسی لئے مہاراجہ کشمیر نے معاہدہ جاریہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا. ریاست کے تمام امور اور فرائض پاکستانی حکومت نے سنبھال لیے. اس معاہدے کے پیچھے ایک سازش تھی کہ وقتی طور پر مسلم اکثریتی آبادی کو کسی قسم کی بغاوت یا تحریک سے باز رکھا جائے تاکہ اندر کھاتے ریاست کشمیر کا الحاق بھارت سے کیا جا سکے. جواہر لال نہرو اور گاندھی کی ملی بھگت سے مہاراجہ کشمیر نے یہ چال چلی تاکہ مسلم اکثریت آبادی مہاراجہ سے اعلان بغاوت نہ کر دے. پاکستان اور کشمیری مسلمانوں کو بیوقوف بناتے ہوئے درپردہ وہ ہندوستان سے الحاق چاہتا تھا. جب کشمیری مسلمانوں پر اصلیت عیاں ہوئی تو مسلمانوں نے اپنی مدد کے بل بوتے پر 24 اکتوبر 1947 کو کشمیر کا کچھ حصہ آزاد کروا لیا. جس کو آزاد کشمیر کا نام دیا گیا اور اس کے پہلے صدر ابراہیم منتخب ہوئے. ہندو مہاراجہ وادی کشمیر سے بھاگ کر جموں میں روپوش ہو گیا جہاں اس نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو خط لکھا کہ بھارتی فوج کی مدد درکار ہے. چونکہ قانونی طور پر کشمیر پاکستان سے ملحق تھی اس لئے بھارتی فوجیں کشمیر میں داخل نہیں ہو سکتی تھیں. مہاراجہ نے لکھا کہ ریاست کشمیر کا الحاق ہندوستان سے کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں. چنانچہ غیر قانونی طور پر 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوج کشمیر میں داخل ہو گئی اور جموں وکشمیر کو مقبوضہ بنا لیا.

    یکم جنوری 1948 کو بھارت نے سلامتی کونسل کے سامنے کشمیر کے مسئلے کو پیش کیا مگر اس سے پہلے مکار ہندوستان کشمیر پر قبضہ کر چکا تھا. 16 جنوری کو پاکستان نے بھی رجوع کر لیا. سلامتی کونسل نے دونوں فریقین کی شکایات سنیں اور حسب روایت ضروری نصیحت کی کہ ایک دوسرے کے خلاف انتہائی قدم اٹھانے سے پرہیز کیا جائے اور ہندوستان کو فوج کے انخلاء کا کہا گیا مگر بھارت کی طرف سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ دیکھتے ہوئے پاکستان نے بھی مئی 1948 کو اپنی فوج کشمیر میں اتار دی. سلامتی کونسل نے ایک کمیشن تشکیل دیا جس کو "کمیشن برائے پاک وہند” کا نام دیا گیا. کمیشن کی کوششوں سے فریقین یکم جنوری 1949 کو جنگ بندی پر راضی ہو گئے.

    جنگ بندی کے بعد ایڈمرل ٹمنز کو ناظم استصواب رائے مقرر کیا گیا، 7 ماہ بعد 27 جولائی 1949 کو خط متارکہ جنگ کا تعین بھی کر دیا گیا مگر بھارت کے مسلسل انکار کی وجہ سے یہ سمجھوتہ بھی سود مند ثابت نہ ہوا.

    مارچ 1949 کو کمیشن برائے پاک وہند نے فریقین کے ساتھ مل کر فوج کے انخلاء پر اتفاق کیا. پاکستان فوجی انخلاء پر راضی ہو گیا مگر بھارت نے پہلے مہلت مانگی اور بعد میں انکار کر دیا. کمیشن نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کی 13 اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کی پاس شدہ قراردادوں پر پیدا شدہ اختلافات کو ناظم رائے شماری ایڈمرل ٹمنز کے سامنے ثالثی کے لئے پیش کیا جائے. امریکی صدر ٹرومین اور برطانوی وزیراعظم اٹیلی نے دونوں فریقین کو مزکورہ تجویز پر آمادہ کرنے کی کوشش کی. اس تجویز کو پاکستان مان گیا مگر بھارت نے ایک بار پھر انکار کر دیا.

    دسمبر 1949 کو اس وقت کے صدر سلامتی کونسل جنرل میکناٹن ریاست جموں وکشمیر سے فوجوں کے انخلاء کی تجویز پیش کی مگر بھارت نے ہمیشہ کی طرح انکار کر دیا جبکہ پاکستان رضامند ہو گیا. مارچ 1950 میں سلامتی کونسل نے ڈکسن کو اپنا نمائندہ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ 5 ماہ کے اندر اندر فوجیوں کے انخلاء کو یقینی بنائیں. ڈکسن فریقین سے ملتے رہے اور آخر کار اپنی تجاویز مرتب کیں اور سلامتی کونسل میں پیش کیں. ان تجاویز کو پاکستان نے قبول کیا مگر بھارت پھر انکاری رہا.

    جنوری 1951 میں دولت مشترکہ کے وزرائے اعظم نے ریاست جموں وکشمیر میں غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے لئے اپنی خدمات پیش کرنے کی پیش کش کی اور مندرجہ ذیل تجاویز پیش کیں.

    1. آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دولت مشترکہ کی طرف سے فوج مہیا کریں گے.

    2. بھارت اور پاکستان کی مشترکہ فوج

    3. مقامی لوگوں کی فوج جسے ناظم رائے شماری تیار کرے.

    پاکستان نے تینوں تجاویز مان لیں اور بھارت نے تینوں تجاویز کو ماننے سے انکار کر دیا. مارچ 1951 میں برازیلی سفیر نے تجویز پیش کی اور اسی دوران سلامتی کونسل نے بھی اپنی قرارداد کے ذریعے فوجوں کے انخلاء کے متعلق تجویز دی مگر اسکو بھی بھارت نے رد کر دیا. 20 مارچ 1951 سے 22 دسمبر 1951 کے درمیان اقوام متحدہ کے نمائندے ڈاکٹر فرینک گراہم نے متعد تجاویز دیں کہ کسی طرح جموں وکشمیر سے فوجوں کا انخلاء ہو اور رائے شماری کرائی جا سکے مگر ہمیشہ کی طرح بھارت ہٹ دھرمی دکھاتا رہا. دسمبر 1951 سے مارچ 1956 تک مختلف اوقات میں مختلف ذرائع اور مختلف طریقوں سے پاکستان کوشش کرتا رہا کہ کسی طرح مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے مگر بھارت مکروہ چہرہ دکھاتا رہا. 

    29 مارچ 1956 کو لوک سبھا میں نہرو نے تقریر کی اور کہا کہ "پاکستان کو امریکی امداد کا حصول، معاہدہ بغداد اور جنوب مشرقی ایشیاء کی رکنیت نے خطے کی سیاست تبدیل کر دی ہے لہذا مسئلہ کشمیر کو ازسر نو دیکھنے کی ضرورت ہے”. اپریل 1956 میں قومی اسمبلی میں مسئلہ کشمیر پر عام بحث ہوئی اور وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ براہ راست مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، مسئلے کے حل کے لئے دوبارہ سلامتی کونسل میں جانے کی ضرورت ہے. مسئلے کو حل کرنے کے لئے پاکستان نے براہ راست آخری کوشش کے طور پر جولائی 1956 میں پاکستانی وزیراعظم نے لندن میں جواہر لال سے ملاقات کی مگر نہرو نے صاف انکار کر دیا. نومبر 1956 سے لیکر اپریل 1958 تک مختلف اوقات میں سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کے حل کرنے کے حوالے سے بات ہوتی رہی.

    1960 میں جب نہرو نے پاکستان کا دورہ کیا تو صدر ایوب خان نے مسئلہ کشمیر پر بات کی مگر ہمیشہ کی طرح بے سود ثابت ہوئی. یکم فروری 1962 کو مسئلہ کشمیر ایک بار پھر سلامتی کونسل میں پیش کیا گیا. روس نے بھارت کے حق میں قرارداد کو ویٹو کر دیا. جون 1962 میں آئرلینڈ کے نمائندے نے قرارداد پیش کی مگر ایک بار پھر روس نے ویٹو کر دیا. فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی کوششوں سے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے 27 اکتوبر 1962 تا 16 مئی 1963 کے دوران، کراچی، راولپنڈی، نئی دہلی اور کلکتہ میں وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت ہوتی رہی مگر بے نتیجہ.

    16 دسمبر 1963 میں بھارتی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ ریاست جموں وکشمیر کے 85000 مربع میل رقبے میں سے 34000 مربع میل کا علاقہ پاکستان کو دینے کے لئے تیار ہیں مگر وزیر خارجہ ذوالفقار بھٹو نے انکار کر دیا. 20 جنوری 1964 کو سلامتی کونسل میں پاکستانی مندوب ظفراللہ خان نے 15 صفحاتی یاداشت جمع کروائی جس میں کہا گیا تھا کہ 30 مارچ 1951 اور 24 جنوری 1957 کی قراردادوں پر عمل کروایا جائے. سلامتی کونسل میں 100ویں مرتبہ مسئلہ کشمیر اٹھایا جا رہا تھا. 1965 میں صدر جنرل ایوب خان نے روس کا دورہ کیا جہاں روس نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے پاکستان کو اپنی مدد اور حمایت کا یقین دلایا.

    (جاری ہے)

    @mian_ihsaan

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 07) تحریر: محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 07) تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 6 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح ضمیر کی سودے بازی ہوتی ہے کیسے لوگ ایمان بیچتے ہے کیسے لوگوں نے دھوکے بازی کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا ہوا ہے یہ ایسا ناسور ہے جو نسل در نسل تباہ کر دیتا ہے  اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کس طرح موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون ، جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ ، 2 نمبر ادویات اصل پیکنگ میں ، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز ، بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ جو چیز ہم استعمال کر رہے ہیں کیا آیا کہ وہ سہی بھی ہے کہ نہیں اسی کو اج بے نقاب کریں گے

    موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون: 

    جب بھی ہمارے ذہن میں سوال آتا کہ ہم نے موبائل فون خریدنا ہے تو سب سے پہلے یہ خیال آتا ہے کہ یہی فون مارکیٹ میں یوزڈ میں بہت عام سیل رہا ہے  جعلی فونز اصل موبائل کی بانسبت بہت عام ہیں اس لیے بہت سے لوگ بہت شوق سے اُن فون کا استعمال کرتے ہیں  لیکن جعلی فونز جلدی خراب ہو جاتے ہیں اور بعد میں ہمیں بہت سے مسائل کا سامنہ کرنا پڑتا ہے   پاکستان میں موبائل فون کا کام بہت عروج پر ہے ملک میں سال 2021 کے پہلے 7 ماہ میں ایک کروڑ 22 لاکھ 70 ہزار موبائل فونز تیار کیے گئے اور اس کے مقابلے 82 لاکھ 90 ہزار موبائل درآمد کیے گئے اگر آپ موبائل فون خریدنے کے خواہش مند ہیں اور آپکو معلومات نہیں ہے کہ اصلی اور جعلی فون کون کونسے ہیں اس بارے میں کچھ چیزوں کا جاننا بہت ضروری ہے 

    جیسے کہ اسکرین کو اچھی طرح چیک کرلیں کہ موبائل کی روشنی مدھم تو نہیں اس کے بعد تمام بٹن چیک کرلیں کیونکہ بعض فونز کے Alphabet اپنی جگہ سے تبدیل ہوتے ہیں اس کے بعد ویلکم سکرین ضرور چیک کریں وہاں لوگو آتا ہے تو اصلی ہے اکثر کاپی فونز میں صرف ویلکم لکھا آتا ہے  کیمرہ سے تصویر بنا کہ دیکھنا چاہیے جعلی فونز میں تصویر دھندلی اور بلر ہوتی ہے اس کے ساتھ سکرین کے دائیں بائیں جانب سکرول کر کے چیک کریں اگر موبائل ہینگ ہو جائے تو اس کا مطلب فون کاپی ہے سب سے خاص بات جب موبائل خریدے تو موبائل کا سیریل نمبر ضرور اونلاین چیک کریں جیسے کے موبائل کے about پہ yes کرکے سیریل نمبر نکال کر جس برانڈ کا موبائل ہے اس کی ویب سائٹ پر  IMEI number چیک کریں اگر ویب سائٹ اسے جعلی قرار دے تو فون جعلی ہے  

    جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ: 

    جعلی سرف اور جعلی شیمپو بنانے والے مختلف قسم کے کیمکل اور سٹیرائڈز استعمال کرتے ہیں جس سے جِلد بہت جلد متاثر ہوتی ہے مارکیٹس میں مختلف قسم کے برانڈ کی صورت میں ملنے والے شیمپو ، کریمیں  جلد کو جلا رہے ہیں اس سے بہت سے اثرات مرتب ہو رہے ہیں ہمیں چاہیے کہ خاص کمپنی کی ایشیاء کو استعمال کریں ان ایشیاء پہ موجود بارکوڈ کو اسکین کرکے تسلی کرنی چاہیے کہ آیا جو برانڈ ہم استعمال کر رہے ہیں  کی اصلی ہے یا جعلی

    ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز: 

    ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز کا دھندہ عروج پر ہے ہمارے معاشرے میں لوگ افس بواۓ کا کام کرتے کرتے ڈاکٹر بن جاتے ہیں ایک واقع میری انکھوں کے سامنے سے بھی گزرا کہ ایک غریب آدمی جو زیادہ پڑھا لکھا نہیں تھا بمشکل میٹرک پاس کی پھر کام کی تلاش کرنے لگا ایک دن ایک دندان ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی اس نے اسے اپنا تمام احوال بتایا اس نے مشورہ دیا کہ میرے پاس آجاؤ آفس بوائے کے ساتھ میری مدد کرتے رہنے اور اپنی اجرت لیتے رہنا ۔ وقت گزرتا گیا وہی لڑکا سب سیکھتا گیا کیسے ڈاکٹر مریض سے گفتگو کرتا ہو کیا میڈیسن لکھ کے دیتا ہے وغیرہ وغیرہ تین سال کے عرصہ کے بعد اس غریب ادمی نے محسوس کیا  کہ اسے اب اپنا کلینک بنا لینا چاہیے اسے کام کی نوعیت کا پتا چل گیا ہے خیر اس نے کلینک بنا کر اپنا کام شروع کردیا 

    اب وہ شخص پیشے سے ڈاکٹر نہیں ہے لیکن ڈاکٹر کا بورڈ لگا کر دن رات لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہا ہے اسی طرح بہت سارے ہسپتالوں میں آپ کو ایسی مثالیں روزانہ کی بنیاد پر ملیں گی اس کی روک تھام کیلئے حکومت کو ہر وقت الرٹ رہنا چاہیے 

    بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے:

    بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے معاشرے کا ایسا ناسور ہے جسے ختم نہیں کیا جا سکتا پہلے وقت اچھے تھے لوگوں میں عزت احترام تھا رشتوں میں تقدس تھا لیکن وقت کے ساتھ ساتھ سب سفید ہو گیا ہر ماں باپ کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے بچے کی اچھی تربیت ہو دن رات محنت کرے اپنے ماں باپ کا نام روشن کرے لیکن آج کل نفسہ نفسی کے دور میں صحبت سے بہت لوگ متاثر ہو رہے ہیں جس انسان میں شعور ہے کہ میں اگر کسی کی بہن ، بیٹی کی طرف بدنگاہی سے دیکھوں گا تو کوئی میرے گھر کی طرف بھی بدنگاہی رکھے گا اسی لئے آج کل تعلیم بہت ضروری ہوگی ہے کہ ہر انسان میں شعور آجاۓ رشتوں کی قدر کا احساس ہو جاۓ ہمارے معاشرے میں 95٪ لوگوں کے جھگڑے بدنگاہی کی وجہ سے جنم لے رہے ہیں اس کی عام وجہ گھر گھر میں موبائل کے غلط استعمال کی وجہ سے مسائل در پیش ہو رہے ہیں موبائل ہر گھر کی اب ضرورت بن گیا ہے لیکن موبائل کا ستعمال صرف گھر کے سربراہ کے پاس ہونا چاہیے نا بچے فحاشی کی طرف گامزن ہوں نا معاشرے میں بدنگاہی عروج پہ ہو

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح امتحانات میں نقل ، مسلمان لڑکیوں میں قرآن پاک کی جگہ فحاشی کے ڈائجسٹ ، ناپ تول میں کمی ، دوستی میں خود غرضی ، محبت میں دھوکہ ، ایمان میں منافقت کیسے ہو رہی ہے بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • حکومت ہر محاذ پر ناکام ، تحریر:نوید شیخ

    حکومت ہر محاذ پر ناکام ، تحریر:نوید شیخ

    اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کی حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔ جلسے جلوسوں، احتجاجوں اور مظاہروں سے نہ تو اسے کوئی فرق پڑتا ہے نہ حکومت ان کو اتنی اہمیت دیتی ہے ۔ کیونکہ حکومت کا کلہ مضبوط ہے ۔۔ اب اس صورتحال میں پی ڈی ایم دوبارہ سے احتجاجی تحریک شروع کرنے جارہی ہے ۔ یہ تھوڑا سمجھ سے باہر ہے ۔

    ۔ کیونکہ آپ دیکھیں ایک جانب وکلاء احتجاجی تحریک کا آغاز کر چکے ہیں۔ ڈاکٹروں کی پولیس سے مڈبھیڑ شروع ہو چکی ہے۔ مہنگائی اور گورننس کی تو کیا بات کرنی ۔ اس کو چھوڑ ہی دیں ۔ یہ ہماری سیاسی اشرافیہ کامسئلہ ہی نہیں ہے ۔ پر اس سب کے باوجود حکومت کو کوئی فرق پڑتا نہیں دیکھائی دے رہا ہے ۔ کسی سے بھی پوچھ لیں حکومت اپنے پیروں پر مضبوط کھڑی دیکھائی دیتی ہے ۔ پر اپوزیشن جماعتوں کے جانب سے کہا جا رہا ہے کہ پی ڈی ایم اپنی تحریک کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ مگر دیکھنے والی بات یہ ہے کہ پی ٹی ایم میں دراڑ تو کافی عرصے پہلے کی پڑی ہوئی ہے ۔ س حوالے سے حکومت کو مریم نواز اور نواز شریف کا شکر گزار ہونا چاہیے ۔ کہ انھوں نے ناممکن کو ممکن کر دیکھایا ۔ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے بغیر پی ڈی ایم ایسی ہی ہے جیسے کھیر میٹھاس کے بغیر ہو۔ اب آپ دیکھیں جہاں حکومت پی ڈی ایم کو آڑے ہاتھوں لیتی ہے تو پیپلزپارٹی والے تو ان کی بینڈ بجاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    ۔ اب پی ڈی ایم کا حالیہ کراچی جلسہ تو کافی بڑا تھا ۔ اسلام آباد مارچ کا بھی اعلان ہوچکا ہے ۔ شہباز شریف ، مولانا فضل الرحمان ، نواز شریف اور دیگر نے بلند و بانگ دعوے بھی خوب کیے ہیں ۔ مگر قوم دوبار پہلے بھی ان کی احتجاجی تحریکوں اور اسلام آباد پر چڑھائی کو دیکھ چکی ہے ۔ اس لیے حکومت سے شکایتیں اپنی جگہ پر اپوزیشن کی کارکردگی بھی کوئی خاص خاطر خواہ نہیں رہی ۔ یوں پی ڈی ایم بارے یہ کہنا کہ آج بھی یہ ایک مقبول سیاسی اتحاد ہے تو مجھے اس پر کچھ خاص بھروسہ نہیں رہا ۔ ایک سیاسی تحریک کے لئے جو ایندھن چاہیے ہوتا ہے ۔ وہ اس وقت موجود ہے اور یہ خود حکمرانوں نے فراہم کیا ہے۔ پر اہم اور بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاست دانوں کے پاس ایک لگثرری ہوتی ہے کہ یہ جب چاہیئں یہ کہہ کر موقف بدل لیتے ہیں کہ سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں ہوتا ۔ تو اس بار بھی ممکن ہے کہ یہ پی ڈی ایم والے سجی دیکھا کر کھبی مار جائیں اور عوام یوں ہی منہ تکتے رہ جائیں ۔ تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ورکرز وغیرہ تو نکلیں گے ۔ خوب ہلہ گلہ بھی ہوگا ، تقریریں بھی ہوں گی ۔ میڈیا پر برینگنگ نیوز کے پھٹے بھی چلیں گے ، تجزیے بھی ہوں گے ۔ مگر حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ حکومت جہاں کھڑی تھی وہاں ہی کھڑی رہے گی اور پانچ سال عزت کے ساتھ پورے کر گی ۔ بلکہ مجھے تو یہ لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس نادر موقع ہے کہ وہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم بن جائیں جو اپنے پانچ سال پورے کرے ۔ اس طرح کرکٹ کے ساتھ ساتھ وہ سیاست میں بھی ایک نیا ریکارڈ بناتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں ۔

    ۔ کیونکہ آپ پراپیگنڈہ کہہ لیں ۔ میڈیا ہینڈلنگ کہہ لیں ۔ عمران خان کی حکومت اس معاملے میں کامیاب ضرور دیکھائی دیتی ہے کہ لوگوں کو اب بھی اس سے امیدیں وابستہ ہیں ۔ چاہے مہنگائی ریکارڈ توڑ رہی ہے ۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے ۔ گورننس کی صورتحال خراب ہے ۔ پر اس سب کے باوجود ابھی تک عوام اپوزیشن کے بیانیے کو own کرتے دیکھائی نہیں دیتی ۔ الٹا سوشل میڈیا پر تو اکثر خوب تنقید کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ یوں لوگ ابھی بھی ملک لوٹنے والوں اور احتساب کے قصے پھنسے دیکھائی دیتے ہیں ۔ حالانکہ احتساب ہوتا کہیں دیکھائی نہیں دیتا ۔ اور شاید لوگوں نے یہ بھی کڑوی گولی سمجھ کر نگل لی ہے کہ جہاں تین سال عثمان بزدار اور محمود خان کے ساتھ گزارا کر لیا ہے اگلے دو سال بھی کر لیں گے ۔ کہ ایک بار اس حکومت کو پانچ سال پورے کر ہی لینے دیں ۔ پھر ان سے کارکردگی کا حساب مانگیں گے ۔ پھر ایک اہم چیز یہ بھی ہے کہ پی ڈی ایم اپنا تمام اخلاقی جواز تب کھو بیٹھتی ہے جب نواز شریف تقریر کرنے آتے ہیں ۔ ان کی توپوں کو جو رُخ اسٹبلشمنٹ کی جانب ہوتا ہے ۔ اس سے ہر بار شہباز شریف کی جانب سے کی ہوئی محنت پر پانی تو پھر ہی جاتا ہے ۔

    دوسرا آپ لاکھ توجیہات دے دیں لوگ یہ ماننے کو تیار نہیں کہ نوازشریف بیماری کا بہانہ کرکے باہر بیٹھے رہیں اور خواہش ان کی ہو کہ وہ دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں یا ان کی پارٹی کو حکومت مل جائے ۔ اس سوشل میڈیا کے دور میں لوگوں کو یوں بے وقوف بنانا ممکن نہیں ۔ میرے خیال میں اگر نواز شریف یوں دن دیہاڑے بیماری کا بہانہ کرکے نہ بھاگتے اور پاکستان میں ہی رہتے تو ن لیگ کی سیاست کو زیادہ فائدہ پہنچتا ۔ باہر جا کر انھوں نے ایک تو حکومت کو موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ سیاسی پوائنٹ سکورننگ کریں ۔ پھر جو وہ کبھی کافی پیتے ، چل قدمی کرتے ، پیزے کھاتے ، پولو میچ دیکھتے اور کبھی نواسے کی شادی پر ہٹے کٹے دیکھائی دیتے ہیں تو پھر لوگوں نے تو سوال کرنے ہی ہیں ۔ یعنی اب نوازشریف کے پاس چاہے کہنے کو بہت کچھ ہو۔ پر لندن میں بیٹھ کر کچھ بھی کہنے کا ہر اخلاقی جواز وہ کھو چکے ہیں۔

    ایک حوالہ مریم نواز کا بھی ہے ۔ آپ دیکھیں جہاں جہاں مریم گئیں ۔ اس چیز کا بیٹرو غرق ہی ہوا ۔ چاہے ن لیگ کی اپنی حکومت ہو ۔ گلگت بلتسان ، کشمیر اور ضمنی الیکشن ہوں ۔ غرض جس جس معاملے میں مریم نواز آگے ہوئیں وہاں وہاں ن لیگ کو سبکی ہوئی ۔ دیکھا جائے تو پی ڈی ایم کا زوال بھی لاہور جلسے سے ہوا ۔ کیونکہ یہ کافی مایوس کن کارکردگی تھی ۔ لوگ بہت کم تعداد میں آئے ۔ جس کا نقصان پی ڈی ایم کی تحریک کو ہوا ۔ لوگوں نے اس وقت ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ مریم نے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے ۔ اب کی بار یہ مریم کو ہٹا کر شہباز شریف کو آگے تو لےآئیں ہیں ۔ پر لگتا نہیں ہے کہ اکیلے شہباز شریف خود کچھ کر پائیں گے ۔ کیونکہ مریم اور نواز شریف نے اپنی spoilerکا کردار ادا کرنے والی جبلت سے رکنا نہیں ۔ پر اس سب میں مولانا فضل الرحمان کی پوزیشن دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس حوالے سے تو سب سے اہم بیان اور حوالہ شیخ رشید کا ہی دیا جاسکتا ہے ۔ جس میں وہ کہتے ہیں کہ افغانستان میں studentsکی آمد سے کسی کا کچھ بنے یا نہ بنے ۔ مولانا فضل الرحمان کو البتہ ریلیف ملتا دیکھائی دیتا ہے ۔ یقیناً ان کے قد کاٹھ میں بھی مزید اضافہ ہوا ہے ۔ جس کا فائدہ ان کو آنے والے الیکشن میں ہوتا دیکھائی دے رہا ہے ۔ کچھ تو یہ کہہ بھی رہے ہیں کہ شاید 2023کے بعد کے پی کے یا بلوچستان میں سے کسی ایک صوبے میں مولانا حکومت بھی بنا لیں ۔ مگر یہ چیز ابھی قبل ازوقت ہیں ۔ پر ایک چیز طے ہے کہ پی ڈی ایم کا اس وقت کوئی چانس نہیں ہے کہ وہ حکومت کوکوئی ڈینٹ ڈال سکے ۔ ہاں البتہ جنرل الیکشن میں شاید یہ کوئی نقب لگانے میں کامیاب ہوجائیں تو علیحدہ بات ہے ۔ اس لیے مجھے پی ڈی ایم کا یہ نیا ریلا حکومت گرانے سے زیادہ الیکشن تیاری لگتا ہے ۔ حکومتی محاذ پر دیکھا جائے تو وزیرِ اعظم عمران خان ،حکومتی وزیر و مشیر اورپی ٹی آئی کے حامی ،سب کے نزدیک ملک ترقی کررہا ہے اور پی ٹی آئی حکومت گذشتہ ادوار میں قائم ہونے والی حکومتوں سے کہیں زیادہ بہتر طریقے سے ملک چلا رہی ہے۔یہ بہت حیران کن بھی ہے اور مایوس کن بھی ہے کیونکہ جب آپ کو ہر چیز ہی ٹھیک دیکھائی دے گی تو آپ بہتری کیا لائیں گے۔ حالانکہ کوئی عوام سے ان کے دل کا حال پوچھے تو وہ بتائیں کہ ان پر کیا گزر رہی ہے ۔

    ۔ یوں اگر موجودہ حکومت کے اِن تین برس کا غیر جانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو حکومت ہر محاذ پر ناکام رہی ہے۔ ایک جو سب سے بڑا مسئلہ اس حکومت کا رہا ہے کہ وہ یہ ہے کہ عمران خان ہر مسئلہ پر تجزیہ تو پیش کرتے رہے مگرمسئلہ کے حل کی جانب بڑھتے دکھائی نہیں دیے۔ پھر جن مسائل کی کی طرف بڑھنے کی کوشش بھی کی تو وہ مسئلہ مزید پیچیدہ ہو کر رہ گیا۔ بعض سماجی سطح پر جنم لینے والے اَلمیوں پر ایسے سخت بیانات اور ایسا ردِعمل دیا کہ خود کو فریق بنابیٹھے۔ اس کی مثال ہزارہ برادری پر ٹوٹنے والی قیامت کی دی جاسکتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اِن تین سالوں میں منصوبے ضرور بنائے ہیں۔ پر ان پر عمل نہیں کرسکے۔ جیسے وزیر اعظم نے ہسپتال تعمیر کیے،سڑکیں بنائیں،پُل بنائے ،ٹرانسپورٹ کا نظام درست کیا، تعلیمی ادارے قائم کیے ،فیکٹریاں کھڑی کیں،زراعت کے شعبے کو ترقی دی ،نوجوانوں کو نوکریاں دیں،بے روزگاری کا خاتمہ کیا،غربت کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب بیانات کی حد تک تو ہوا ہے ۔ گراونڈ پر کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔ دیکھا جائے تو حکومت ہو یا اپوزیشن دونوں ہی اپنی گیم کرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ جبکہ عوام سیاست سے بیزار ہوچکے ہیں۔ یوں حکومت تین سال کاجشن منا چکی ہے اب اگلے دوسال مکمل کرنے پر ’’عظیم کامیابی‘‘کا جشن منایا جائے گا اور اپوزیشن اپنے رٹے جملوں کو دُہرائے گی اور سمجھے گی کہ عوام کی ترجمانی کا خوب حق ادا کیا۔

  • اپوزیشن حکومت کے اقدامات کو بدنام کرنا آسان سمجھتے ہیں    تحریر: زاہد کبدانی

    اپوزیشن حکومت کے اقدامات کو بدنام کرنا آسان سمجھتے ہیں  تحریر: زاہد کبدانی

    بدقسمتی سے یہ رجحان پاکستان میں زیادہ نمایاں ہے جہاں اپوزیشن قومی وجوہات کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے بجائے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے بنائے گئے سیاسی بحرانوں کو بھڑکانے پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

    ایک مدت کے دوران حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے ، کسی کو نقطہ آغاز اور فاصلے کو دیکھنا ہوگا جو طے کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی حکومت نے 2018 میں اقتدار سنبھالا تو معیشت کی حالت پر ایک دیانت دار اور متضاد نظر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مکمل تباہی کا شکار تھی۔ حکومت کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے پیسے نہیں تھے اور زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم تھے۔ اگر سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور چین نے اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے زر مبادلہ کے ذخائر کو بھرنے میں مدد نہ کی ہوتی تو پاکستان اپنے قرضوں میں نادہندہ ہو جاتا اور روپیہ ناقابل برداشت ڈوب جاتا۔ اس صورتحال نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانے پر بھی مجبور کیا۔

    لہذا ، وزیر اعظم کے اس دعوے کو لے کر مشکل ہے کہ جب پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا ، زرمبادلہ کے ذخائر 16.4 ارب ڈالر تھے ، محصولات کی وصولی 3800 ارب روپے تھی۔ اس کے مقابلے میں ، اس وقت کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 1.8 بلین ڈالر ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر 27 بلین ڈالر کے آس پاس ہیں اور ٹیکس محصولات کی وصولی 4700 ارب روپے ہو گئی ہے۔ ترسیلات زر 29.4 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ، صنعت میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے اور تعمیراتی شعبے میں سیمنٹ کی فروخت میں 42 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ زراعت میں کسانوں کو 1100 ارب روپے کی اضافی رقم گئی ہے۔

    فی کس آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح نیب کی جانب سے کرپٹ عناصر سے ریکوری میں زبردست بہتری آئی ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم نے کہا ہے ، 18 سالوں میں جسم کی جانب سے 299 ارب روپے کی وصولی کے مقابلے میں ، پی ٹی آئی حکومت کے تین سالوں میں بازیابی 519 ارب روپے رہی۔ تمام سابقہ ​​اعداد و شمار قابل تصدیق حقائق ہیں۔

    وراثت میں ملنے والی صورتحال اور کرونا وائرس کے حملے کی وجہ سے معیشت نے 2019-20 کے دوران 0.4 فیصد منفی شرح نمو درج کی تھی۔ پی ٹی آئی نے سال 2020-21 کے لیے جی ڈی پی کی شرح نمو 2.1 فیصد کا تصور کیا تھا جبکہ آئی ایم ایف نے شرح نمو 1.5 فیصد کے آس پاس کی پیش گوئی کی تھی۔ لیکن حقیقی شرح نمو 3.4 فیصد نکلی ، جس سے اپوزیشن نے یہ الزام لگایا کہ حکومت نے معیشت کے بہتر نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لیے اعداد و شمار کو دھوکہ دیا ہے۔ تاہم ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے حکومتی دعووں کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے سابقہ ​​اندازوں کو تبدیل کیا اور حکومت کی طرف سے اعلان کردہ اعداد و شمار کو دیکھا۔

    یہ کامیابی یقینی طور پر حکومت کی جانب سے زندگی بچانے اور معیشت کو لات مارنے کے درمیان توازن پیدا کرنے کی حکمت عملی کی وجہ سے ہے۔ اس نے غریب خاندانوں کو 1200 ارب روپے نقد امداد فراہم کرنے کے علاوہ معیشت کو مکمل طور پر بند کرنے کے بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا اقدام تعمیرات اور ہاؤسنگ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دینا اور سرمایہ کاروں کے لیے مراعات کے پیکج کا اعلان تھا۔ تعمیراتی صنعت کم از کم 40 دیگر صنعتوں سے جڑی ہوئی ہے ، اور یہ بجا طور پر سوچا گیا تھا کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کا ان صنعتوں پر کافی زیادہ اثر پڑے گا۔ اس سے کرونا وائرس کے منفی اثرات کو کم کرنے میں کافی حد تک مدد ملی۔

    حکومت غربت کے خاتمے کے لیے قابل اعتماد اقدامات کرنے میں بجا طور پر فخر کر سکتی ہے ، خاص طور پر احساس پروگرام جس کے تحت غریبوں کی مدد کے لیے 134 مختلف اقدامات کیے گئے ہیں۔ کم لاگت والے گھر کی پہل حکومت کا ایک اور مثبت قدم ہے۔ غریب خاندانوں کو ہیلتھ کارڈز کا اجراء اور احساس کیش امداد کے لیے بجٹ میں مختص رقم میں اضافہ 211 ارب روپے سے بڑھ کر 260 ارب روپے ہونے سے بھی حکومت کے حامی ادارے کے طور پر اس کی ساکھ مضبوط ہوتی ہے۔

    موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے لڑنے میں حکومت کا قابل رشک ریکارڈ بھی ہے۔ اس کے 10 ارب درخت لگانے اور نئے جنگلات بڑھانے کے پروگرام نے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے۔

    پاکستان نے ان تین سالوں کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی سفارتی کارروائی کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اس نے افغان صورتحال اور امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے کو آسان بنانے اور تنازع کے افغان قیادت میں اور افغانی ملکیت کے حل کو فروغ دینے میں اس کے کردار کو بڑے پیمانے پر سراہا ہے۔ اب بھی ، یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی حمایت کو اکٹھا کرنے میں ایک فعال کردار ادا کر رہا ہے کہ افغانستان میں ایک جامع حکومت تشکیل پائے اور ملک چار دہائیوں پرانے تنازعے کو الوداع کہتا ہے جس کا پڑوسی ممالک میں بھی اثر پڑا ہے۔

    وزیر اعظم عمران خان کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کے سب سے زیادہ آواز اٹھانے والے بھی رہے ہیں۔ یہ حکومت کی سفارتی کوششوں کی وجہ سے ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں ، بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مودی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائی کی غیر قانونی حیثیت کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو آگاہ کیا جائے۔ اس مسئلے کے بھارتی بیانیہ کو بھارت کا اندرونی معاملہ ماننے سے انکار کر دیا۔ مذکورہ بالا کے پیش نظر ، یہ محفوظ طریقے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے ان تمام چیلنجوں پر قابو نہیں پایا ہوگا جن کا سامنا تھا ، لیکن یہ یقینی طور پر بہتر ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے پرچم بردار معیشت کی بحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کی وجہ سے ، کرونا وائرس، احتساب کے عمل اور خارجہ تعلقات کے انتظام کو مضبوط کریں۔

    @Z_Kubdani

  • پاکستان تحریک انصاف۔۔.۔پیوستہ رہ شجر سے۔۔ امید بہار رکھ!  تحریر   عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    پاکستان تحریک انصاف۔۔.۔پیوستہ رہ شجر سے۔۔ امید بہار رکھ! تحریر عبدالعزیز صدیقی ایڈوکیٹ

    تاریخ عالم کی ورق گردانی کی جائے تو عزم و استقلال کی جتنی ولولہ انگیز داستانیں آپ کو ملیں گی ان کے پس منظر میں کوئ نہ کوئ نظریہ ہی کارفرما ہی نظر آئیگا کیونکہ نظریہ ہی وہ قوت ہے جو کسی تہزیب کو جنم دیتا ہے نظریہ ہی کسی انقلاب کے لئے تحریک کی حیثیت رکھتا ہے۔اور نظریہ ہی کسی فرد یا قوت کے فکر کے انداز ،دستور حیات اور نظام زندگی کا ترجمان ہوتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کا قیام بھی ایک نظریہ کا ہی مرہون منت ہے۔جو کرپشن کے خاتمے اور یکساں انصاف پر قائم ہے۔یہ پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ہے جس کی بنیاد کسی نظریہ پر قائم ہے اور نظریہ بھی ایسا جو اسٹیٹس کو کے خاتمے میں سرکرداں نظر آئے۔تحریک انصاف کی تاریخ پچیس سالہ جدوجہد پر محیط ہے ان پچیس برسوں میں پارٹی نے بڑے اتار چڑھاو دیکھے لیکن مرد آہن جناب عمران خان کے عزم و حوصلے کو سلام ہے جو تمام تر مسائل ،منفی پروپیگنڈہ اور مبینہ سازشوں کے باوجود آہستہ آہستہ حکومت بنانے میں کامیاب ہو ہی گئے۔ایک طویل جہد مسلسل کے بعد 2018کےقومی انتخابات میں اس جماعت نے واضع کامیابی حاصل کی۔تحریک انصاف کی حکومت میں آنے کے ابتدائ ایام تو بہت ہی کٹھن رہے۔جب خان صاحب نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی تو ملک معاشی طور پر ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا، وزیر اعظم عمران خان نے بہترین سفارت کاری کے زریعہ دوست ممالک کی حمایت حاصل کی اور بگڑے ہوئےخارجہ تعلقات کو بہتربنانے میں کامیاب ہوئے۔۔ سعودی عرب، قطر اور چین کی جانب سے معاشی امداد کا حصول ممکن بنایا اور ملک کو ڑیفالٹ ہونے سے بچایا۔۔
    حکومتی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے ساتھ ساتھ فاٹا کا انضمام بھی انکی تاریخی کامیابی ہے اس کے علاوہ ان کی سادگی اور کفایت شعاری مہم نے حکومت کو ایک نئ جہت دی ، کرپشن پر کریک ڈاؤن کیا گو کہ قانونی موشگافیوں میں وہ نتائج نہیں مل پائے جس طرح کےانصاف کی توقع کی جارہی تھی،صحت انصاف کارڈ، غربت کے خاتمے کے پروگرام، ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے شجر کاری مہم،ٹیکس نظام میں اصلاحات اور کئی دیگر کامیابیابیاں ہیں جو نو زائدہ حکومت کے حصے میں آئیں۔ اس کے علاوہ کرتارپور راہداری کو کھولنا اور وزیر اعظم کی جانب سے غربت کے خاتمے کے منصوبے ’احساس‘ اور بے گھر افراد کے لیے ’پناہ گاہ‘ اور کامیاب نوجوان پروگرام کے تحت بلا سود قرضوں کی تقسیم ۔یکساں تعلیمی نصاب جیسے پروگرام کے انعقاد بھی قابل ستائش رہے۔وزیراعظم عمران خان نے اپنے تین سالہ دور میں ہر ہر موقع پر اس عزم کااعادہ کیا کہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گےاور اس کی کوشش بھی کر رہےہیں۔
    اس میں کوئی شک نہیں کہ اچانک آنے والی کورونا وبا کے نے پوری دنیا کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا جس کے باعث دنیا کو نہ صرف بے روزگاری اور غربت میں اضافہ دیکھنے کو ملا بلکہ عوام کو مہنگائی کے طوفان کا بھی سامنا رہا اور پاکستان بھی اس مشکل وقت سے گزرا لیکن پاکستان کا شمار ان چند خوش نصیب ممالک میں ہوتا ہے جہاں بہترین حکومتی پالیسیوں نے اور اللہ کے فضل و کرم سے یہ وبا نہ صرف کم رہی بلکہ اس پر کافی حد تک قابو بھی پا لیا گیا اور حکومت کی کامیاب پالیسی کو نہ صرف پوری دنیا نےسراہا بلکہ عالمی ادارہ صحت نے تو دنیا کو مشورہ دیا کہ وہ پاکستان سے سیکھے کہ اس نے کس طرح کرونا کا مقابلہ کیا اور اپنی معیشت بھی بچائ۔
    گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے تین سالہ کارکردگی پر ایک رنگارنگ تقریب کا انعقاد کیا گیا اس تقریب میں خان صاحب کا کہنا تھاکہ
    ” تبدیلی کا راستہ انتہائی کٹھن ہے، کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ ہے نہ کوئی پرچی پکڑ کر لیڈر بن سکتا ہے، حکومت ملی تو ہماری ٹیم ناتجربہ کار تھی، ملک دیوالیہ ہونے والا تھا، آج زرمبادلہ کے ذخائر 29 ارب ڈالر کی سطح پر ہیں، 4700 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جارہا ہے، سیمنٹ کی فروخت میں 40 فیصد اضافہ ہوا، موٹر سائیکلیں، گاڑیاں اور ٹریکٹر ریکارڈ تعداد میں بیچی گئیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خوشحال ہو رہے ہیں‘‘۔
    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے تین سالہ دور کی کامیابی کے اعداد و شمار کچھ بھی ہوں لیکن وزیر اعظم عمران خان نے جس انداز میں امریکہ کو فوجی اڈہ نہ دینے کا اعلان کیا اور افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کے معاملہ پر جو جراءت مندانہ فیصلے کئے انہیں قوم نے بہت پسند کیا اور جس طرح آزاد کشمیر انتخابات میں حزب مخالف کے منفی پروپیگنڈہ کو اپنے ایک ہی خطاب میں سبو تاژ کیا اور بعد ازاں وہاں ایک بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی جس کے باعث حزب اختلاف کی جانب سے چلائ جانے والی تمام تر حکومت مخالف تحریکوں پر پانی پھر گیا۔
    دوستوں تحریک انصاف کی حکومت کی تین سالہ کاکردگی کا نتیجہ کچھ بھی ہو لیکن اس حکومت نے ہمیں ایک ایسی باعزت اور قابل فخرقوم بنا دیا ہے جو کسی بھی عالمی طاقت سے نہ مرعوب ہو ر ہی ہے اور نہ ہی اپنی سالمیت پر آنچ آنے دے رہی ہے خود عمران خان کا کہنا ہے کہ جس کے پاس لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ کی طاقت ہو اس قوم کو کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں سوائے اللہ کے۔
    اسٹیٹس کو کے اس نظام میں جہاں ہر سطح پر کرپٹ اورماہر ترین دھندے باز سیاست دان ہوں۔اور تیس سال سے بٹھائے گئےان کے آلہ کار خواہ وہ ببیوروکریسی میں ہوں یا کسی اور ادارے میں اور اس کے علاوہ محلاتی سازشیں بھی عروج پر ہوں تو ایسی صورتحال میں حکومت کاتین سال پورے کر لینا بھی کسی معجزے سے کم نہی۔

    @Azizsiddiqui100

  • قائد کا پاکستان اور ہمارا رویہ  تحریر چوہدری عطا محمد

    قائد کا پاکستان اور ہمارا رویہ تحریر چوہدری عطا محمد

    جس جوش اور جزبہ کے ساتھ ہم ہر سال 25دسمبر کو بانی پاکستان ملت کے پاسبان باباۓ قوم قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ کا یوم پیدائش مناتے ہیں کبھی ہم نے یہ بھی سوچا ہے کہہ باباۓ قوم کے جو افکار تھے ان پر کتنا عمل کرتے ہیں ان افکار کو کس حد تک بحیثیت قوم اپناۓ ہوۓ ہیں
    زرا غور کریں تاریخ پر باباۓ قوم نے قیام پاکستان کے لئے جس ہمت و بہادری کے ساتھ مقدمہ لڑا اقوام عالم میں اس کی مثال نہیں ملتی تاریخ کے اوراق سے ہمیں ملتا ہے کہہ پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوۓ باباۓ قوم نے کہا کہہ آپ کا تعلق کسی بھی نسل یا مزئیب سے ہو سکتا ہے یہ آپ سب کا زاتی معاملہ ہے اس سے ریاست یعنی اسلامی جہموریہ پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے باباۓ قوم نے فرمایا میری بات کا یقین کریں کہہ پاکستان اس سے پہلے کا آزاد ہو کا ہوتا اگر ہم نسل فرقہ رنگ اقلیت کے چکر میں نہ پڑتے تو ہمیں اپنی اس تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا
    اسلامی جہموریہ پاکستان یعنی ریاست آپ کو مکمل آزادی کے ساتھ زندگی گزارنے کے مکمل حقوق دینے کی پابند ہے ساتھ انہوں نے کہا کہہ پاکستان کے تمام۔ ہریوں کو مکمل آزادی کے ساتھ اپنے مزائیب اور عقیدوں کے ساتھ اپنی عبادت گاہوں میں جاکر اپنی اپنی عبادات کرنے کی بھی مکمل آزادی ہے
    باباۓ قوم نے کہا تھا کہہ ریاست اسلامی جہموریہ پاکستان ایک نئی جہموری ریاست ہوگی اور اس میں سب سے زیادہ طاقت کا منبہ عوام ہوگی اگر ہم باباۓ قوم کی اس وقت کی تقاریر اور افکار پڑھ اور سن لیں سمجھ لیں تو یقین جانیں آج بھی اسلامی جہموریہ پاکستان کو ترقی کرنے سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی بیشک
    باباۓ قوم کے بعد آنے والے تمام لیڈران نے اپنے نعرہ کی حد تک تو باباۓ قوم کے افکار کو درست کا اور ان پر عمل کرنے کا اپنے آنے والے الیکشن میں منشور دیا لیکن زمینی ہماری بدقسمتی ہی کہہ سکتے ہیں کسی حکمران نے ایسی کوئی سوچ بھی نہیں پائی جاتی
    باباۓ قوم کے زمانہ میں وزراء چاۓ اور بسکٹ کے پیسے بھی اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور آج کے موجودہ وزراء تو دور کی بات ایک وزیز کی پورے کا پورا قبیلہ سرکاری گاڑیاں بنگلے سیکورٹی پروٹوکول انجاۓ کرتا نظر آتا ہے
    اگر ہم آج کے اسلامی جہموریہ پاکستان کے وزیز اعظم کی بات کریں تو وہ جب سے جس دن سے سیاست میں آۓ انہوں نے اپوزیشن سے لے کر وزیز اعظم کے تین سال پورے کرنے تک اپنی زات کی حد تو تو بہت کوشش کی لیکن ان کی کابینہ میں اور مشیر ان اور وزارء میں آج بھی بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن کا باباۓ قوم کے نظریہ افکار سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں
    مجھ سے ہم سب کو فخر ہے اپنے پاکستانی ہونے پر اور ہم ہر موقع پر سب ہی یہی کہتے نظر آتے ہیں کہہ اے قائد اعظم تیرا احسان ہے تیرا احسان ہے
    لیکن آج بھی ہم احسان تو مانتے ہیں لیکن باباۓ قوم کے فرمودات کو بلاۓ طاق میں نہیں لیتے پاکستان اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ہم سب نے بحیثیت قوم باباۓ قوم کے فرمودات کو سمجھ لر پوری ایمانداری اور نیک نیتی سے ان رہنماء اصولوں پر عمل پیرا نہیں ہوں گے ملک کی ترقی مشکل ہے ہم یہ تمام زمہ داری اپنے حکمرانوں پر نہیں ڈال سکتے اور نہ ہی اس زمہ داری سے اس طرح جان چھڑا سکتے ہیں
    اللہ تعالی ہمیں باباۓ قوم اور اپنے آباؤ اجداد جہنوں نے بہت سے تکالیف اور اپنے خون کی ندیاں بہا کر ہمیں یہ آزاد اسلامی ریاست پاکستان کی شکل میں تحفہ دیا اس کی حفاظت اور سلامتی پر اپنی جان بھی ضرورت پڑنے پر قربان کرنے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    پاکستان ہمیشہ زندہ باد

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • سی پیک اور پاکستانی معیشت تحریر : کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    سی پیک اور پاکستانی معیشت تحریر : کرنل ریٹائرڈ افتخار نقوی

    پاکستان اپنے محل وقوع کی بنیاد پر دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ بحرہند پر موجود، گلف کے دہانے پر، گرم پانیوں سے جڑا تمام شمالی ممالک کیلئے حسرت بنا کم سے کم فاصلہ، آسان تجارتی راستہ جہاں سے تمام دنیا کیساتھ رابطہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اس سرزمین کی طرف دنیا کی اقوام اپنے نکتہ نظر سے رویہ بھی اپنائے ہوئے نظر آتی ہیں۔ یاد رہے کہ شاہراہ ریشم جو مشرق میں ممالک کیساتھ تجارت کا اہم ترین راستہ صدیوں سے مانا جاتا ہے اور تمام مغربی اقوام استعمال کرتی رہی ہیں، اب سی پیک کے ذریعہ جوڑ کر سمندری تجارت کو مزید آسان کرے گا۔ یوں دوطرفہ تجارت اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔ بھارت اب تک اپنی منڈی یعنی اپنی آبادی کی وجہ سے تاجروں کیلئے دلچسپی کا مرکز تھا، لیکن شمال مشرق میں چین کی آبادی جو بھارت سے کہیں زیادہ ہے، بہت دشوارگزار راستہ کی وجہ سے کسی ملک کی دسترس میں نہ رہ سکا۔ البتہ سی پیک اسی سلک روٹ کو آسان ترین راستہ بنا کر سمندری راستہ سے جوڑ کر عالمی منڈیوں تک رسائی دینے کی صلاحیت بناتا ہے۔
    سی پیک بنتے ہی، گوادر پورٹ کی اہمیت کے پیش نظر یقین ہے کہ یہ دنیا کی تمام بندرگاہوں کے مقابلہ میں اول مقام حاصل کر لے گا۔ اس طرح دبئی کی بندرگاہ جو اس وقت بین الاقوامی سطح پر مقبول ہے تمام سمندری جہازوں کیلئے، اپنی مقبولیت کھو دیگا یا کم از کم موجودہ اہمیت قائم نہ رکھ سکے۔ یہ چیز عرب ممالک کیلئے سوحان روح ہے۔ تجارت ہی دنیا میں سب کیلئے سیاست، معیشت، جنگوں اور تعلقات کی بنیاد رہی ہے۔
    جہاں ایک طرف سی پیک پاکستان کی معیشیت کو مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں بھارت کا سکون برباد کرنے کیلئے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی دہائیوں میں بھارت کی ہر ممکنہ کوشش رہی ہے کہ ایک طرف عربوں کو پاکستان کے خلاف ابھارے، دوسری جانب ایران میں سرمایہ کاری کے ذریعہ ایران کو پاکستان سے دور رکھے، تیسری جانب افغانستان کے راستے بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور قریبا” تمام پاکستان میں ابتری پھیلاتے ہوئے پاکستانی عزائم کو خاک میں ملانے کی ہر ممکنہ کوشش کر چکا ہے۔ اس کے مقابلہ میں پاکستانی کردار نہ صرف قابل ستائش بلکہ بہت مدبرانہ اور صبر آزما رہا ہے۔ دوسری طرف افغانستان کی بدلتی صورتحال نے تو سونے پر سہاگہ والی کیفیت پیدا کر دی کہ بھارت کی تمام سرمایہ کاری جو افغانستان میں پچھلی دو دہائیوں میں ہوئی تھی وہ یک لخت طالبان کے قبضہ میں چلی گئی۔ طالبان کے طاقت حاصل کرتے ہی وہاں سے بھارت کو اپنا بوریا بستر سمیٹنا پڑ رہا ہے۔ پنجشیر کی وادی واحد بھارت کی امید رہ گئی ہے جسے اس وقت طالبان نہ تو وقعت دے رہے ہیں اور نہ ہی اس طرف توجہ کر رہے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے، پنجشیر میں قابض جتنی دیر کریں گے طالبان سے آن ملنے میں، اتنا نقصان کا اندیشہ قوی تر ہوتا جائے گا۔
    حالیہ کابل کے ائرپورٹ پر دھماکوں کی ذمہ داری گرچہ داعش نے قبول کرلی ہے لیکن اب تو دنیا میں شور مچ گیا ہے کہ داعش کی اس کاروائی کی پشت پر بھارت کا ہاتھ ہے۔ اگر نظر عمیق ڈالی جائے تو سوائے بھارت کے ایسی کاروائی کوئی نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو پر امن افغانستان درکار ہے، امریکہ اپنے معاہدے کا پابند ہے اور انخلاء کو وقت پر مکمل کرنا چاہتا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ امریکہ نے اپنی گرتی ہوئی معیشت کو بچانے کیلئے عجلت میں افغانستان کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو وہ بھی غلط نہیں کیونکہ امریکہ ماضی قریب میں روس کا مشاہدہ کر چکا ہے۔ رہ گئے طالبان جو ہر لمحہ اس کوشش میں ہیں کہ امریکہ اور تمام غیرملکی افواج انکی سرزمین چھوڑ دیں۔ واحد بھارت رہ جاتا ہے جسے افغانستان اس وقت ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر غشی کے دورے پڑ سکتے ہیں۔ اس صورتحال سے بھارت کی بچھائی بساط مکمل طور پر لپیٹ نہیں دی گئی بلکہ تباہ ہو چکی ہے اور ساتھ ہی معیشت کو ایک ناقابل برداشت نقصان پہنچ چکا ہے۔
    یہ سی پیک پاکستان کو مستقبل میں بہت کچھ دے سکتا ہے۔ یہ تو ابتدا ہے ابھی منصوبہ کی، کہ دنیا پوری طرح سے پاکستان کی جانب متوجہ ہے، جب مکمل ہو گیا تو پاکستان دنیا میں منفرد مقام کا حامل ہوگا۔
    اس تمام صورتحال میں پاکستانی افواج اور اداروں کی کارکردگی بہت اہم ہو جاتی ہے۔ ہمارے ادارے عام حالات سے زیادہ چوکنْا اور چاق و چوبند ہیں۔ افواج کے سالار ہمہ وقت افواج پاکستان کو تیار رکھے ہوئے ہیں کہ کسی بھی غیر یقینی اور ناپسندیدہ حالات کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ان تمام حالات کے پیش نظر عوام کو ایک متحد قوم کے طور پر ابھرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا پر ملنے والی ہر بات سچ نہیں ہو سکتی۔ بعض چھوٹ واقعات جو عموما” تمام ممالک میں پیش آتے ہیں انہیں ضرورت سے زیادہ یہاں پذیرائی نہیں دینا چاہئیے کہ اس سے عوام میں بےچینی اور خوف پھیلنے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس سے قوم میں اختلافات اور تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے جو پاکستان کیلئے اچھا نہیں۔
    آئیے مل کر پاکستان کو خوبصورت اور قوم کو باوقار بنائیں۔
    پاکستان زندہ باد

    لاہور
    ٢٩ اگست ٢٠٢١ء

  • ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    ہمارا معاشرہ اور بے روزگار نوجوان طبقہ تحریر:عائشہ عنایت الرحمان

    پاکستان دنیا کے ان ممالک میں
    شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اسے اگر نوجوانان پاکستان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا اگر یہ کہا جائے کہ جس طرح زراعت کسی ملک کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اتنی ہی نوجوان طبقہ ملک کے لیے اہمیت رکھتا ہے، تو غلط نہ ہوگا۔ لیکن ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر دوسرا نوجوان بے روزگار ہے اور اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان طبقہ بھی بے روزگار ہیں۔ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اس لئے بے روزگار ہے کہ سرکاری نوکری کے پیچھے بھاگ رہے ہیں اور حال یہ ہے کہ سرکاری نوکری ہزار میں سے کسی ایک دو کو نصیب سے ملتی ہیں۔

    روزگار کس طرح تلاش کیا جائے؟
    ضرورت اس امر کی نہیں کہ ہر ایک کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا نظام قائم کیا جائے جہاں ہر کسی کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکے جہاں ان کو موٹیویٹ کیا جا سکے جہاں ان کی مائنڈ سیٹ کیا جا سکے جہاں ان میں شعور پیدا کیا جاسکے کے روزگار صرف یہی نہیں کہ آپ کو سرکاری نوکری مل جائے بلکہ روزگاری ہیں کہ اگر آپ کو سرکاری نوکری نہیں مل رہی باوجود لاکھ کوشش کے تو آپ کو یوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھنا نہیں چاہیے اور ڈپریشن کا شکار نہیں بننا چاہیے بلکہ آپ اپنی سیلف اکیڈمی چلا لیں جہاں آپ ہزاروں بچوں کو ٹیوشن پڑھاؤ اور انکو انکی مستقبل کے لیے موٹیویٹ کرو کرو ۔
    جو کیڈمی نہیں بنا سکتے تو کسی دوسرے کی جوائن کرو اور اور اس میں کمال تک پہنچ جاؤں۔ ایسے بہت سے سکالر میں نے دیکھے ہے کہ جب سرکاری نوکری کے پیچھے ناکام ہوجاتے تو پھر یہی سیلف اکیڈمی کھول دیتے ہیں جہاں معاشرے کے ہزاروں بچے انکے مستقبل کے لیے موٹیویٹ کئے جاتے ہیں۔
    اگر آپ well educated نہ ہو تعلیم تھوڑی بہت ہے تو بھی بہت کچھ کر سکتے ہو ,بشرط کہ ارادہ ہو،لگن ہو۔
    ہر انسان میں ضرور کوئی نہ کوئی ٹیلنٹ چھپا ہوا ہوتا ہے اپنے اندر کی ٹیلینٹ کو اجاگر کرو اس میں کمال تک حاصل کرو ۔ روزگار کے لئے اعلی تعلیم یافتہ ہونا شرط نہیں، اور نہ روزگار صرف سرکاری نوکری کا نام ہے۔ آپ ارادہ کرو ،کوشش کرو اپنے ربّ پر کامل یقین رکھو ایک دن انشاللہ ضرور آپکی محنت رنگ لائے گی اور کامیابی آپکی قدم چومے گی۔ قاسم علی شاہ کا قول یاد آیا کہ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ تمہاری کامیابی شور مچادے .
    ضروری نہیں کہ آپ سرکاری ملازم بن جاؤ اب بہت کچھ بن سکتے ہو بشرط کہ جزبہ موجود ہو آپ میں ۔ روزگار کے ساتھ ساتھ نام بھی کماؤ اور اپنے معاشرے کے لیے بھی کچھ ایسا کرو کہ مرنے کے بعد بھی آپکا نام زندہ رہے۔ ہمارے سامنے زندہ مثالیں موجود ہیں جیسے کہ عبدالستار ایدھی جس نے اپنا سب کچھ لٹا کر خالص جذبے کے ساتھ نئے سفر کا آغاز کیا آج اس کے مرنے کے بعد بھی اس کا نام زندہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک، جس نے زندگی لگا دی اپنے فیلڈ میں ، آج انکی بدولت لاکھوں غیر مسلم اسلام سے با مشرف ہوئے۔ قاسم علی شاہ اور اسی طرح اور بھی بہت سارے زندہ مثالیں ہیں ہمارے سامنے ۔
    بیان کرنے کا مقصد یہ تھا کہ کہ اپنے اندر کی آواز کو سنو کہ تم کس لئے پیدا کئے گئے ہو ۔اپنے اندر کی پوشیدہ خوبیوں کو اجاگر کرو۔

    ایک کم ذہنی ہے کہ ہم ہر مصیبت اور مشکل کا ذمہ دار حکومت کو ٹھہراتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ اصل میں ہم میں شعور کی کمی ہے، جب شعور آجاے اور تخلیقی زہن بن جائے تو روزگار کا مسئلہ 50 فی صد حل ہوجائے گا.

    بل گیٹس نے CSS نہیں کیا.
    جیک ما نے CSS نہیں کیا. اسٹیوجابز نے CSS نہیں کیا .
    مارک زکر برگ نے CSS نہیں کیا ۔
    ان کی ایک کمپنی کی قیمت پاکستان کے 70 سال قرض سے زیادہ ہے۔
    اگر وہ CSS کرتے تو آج صرف ڈی سی( DC) لگے ہوتے ۔ایک مشہور دانشور کا کہنا ہے کہ قوم کو افسر نہیں تخلیقی ذہن چاہیے..

    آج کل کے زمانے میں اگر دیکھا جائے تو بے روزگاری کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں،کیونکہ یہ ماڈرن ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، ایسے ہزاروں آپلیکیشنز ہے موبائل فون میں جس کے ذریعے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، لیکن وہی بات کہ ایک تخلیقی زہن کی ضرورت ہے۔

    حکومت سے شکو
    اک تلخ حقیقت کہ اعلی تعلیم یافتہ سرکاری نوکری کے پیچھے خوار ہو رہے ہیں۔ یہ حکومت کی زمہ داری ہے کہ انکو انکی ڈگری کے حساب سے سیٹ دےدیں، ورنہ یہی نوجوان آخر میں دل برداشتہ ہو کر غلط اختیار کر جاتے ہیں۔ یہ صرف ان کی ذات کی حد تک نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لئے بھی تباہی کا ذریعہ بن جاتا ہے ۔اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کرو کہ ہماری ٹیچرز تھی فزکس کی، انکا شوہر نشایئ تھا۔ میں نے ایک دن پوچھا کہ میڈم یہ ماجرا کیا ہے تو کہنے لگی کہ بیٹا میرے شوہر نے انجینئرنگ میں ڈگری کی ہے اور اپنی یونیورسٹی کا ٹوپر رہا ہے پر جب 7 ،6 سال مسلسل کوشش کے باوجود سرکاری نوکری نہیں ملی تو آخر میں دل برداشتہ ہو کر یہ راستہ اپنایا اور نشائ بن گیا ۔اسی طرح میرے جاننے والوں میں سے تعلیم یافتہ نوجوان جس نے 13 14 سال سرکاری نوکری کے پیچھے دھکے کھاے اور ہاتھ کچھ نہیں آیا تو آخر میں زد میں آکر کریمنل بن گیا۔ تو یہ کس کا نقصان ہوا ؟
    اگر حکومت ان کو بروقت روزگار فراہم کرے تو اس طرح جرائم کی نوبت نہیں آ ے گی اور اسی طرح یہ معاشرہ بہت سی برائیوں سے بچ سکتا ہے۔

    @koi_hmmsa_nhe

  • سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی ! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی ! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    چند دن پہلے جب وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے اپنی تین سالہ شاندار کارکردگی قوم کے سامنے پیش کی تو ہم نے بزدار حکومت کے تین سالہ کارکردگی کو سندھ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی سے جانچنے کی کوشش کی اس وقت پنجاب حکومت صوبے میں جس طرح بے شمار ترقیاتی کام ،تعلیمی اصلاحات ،پولیس نظام میں بہتری ،صحت کارڈ ،صنعتی انقلاب ،احساس پروگرام ،پناہ گاہیں ،لنگر خانے ،کوئ بھوکا نا سوئے پروگرام ،نیب ریکوریاں ،صحت کارڈ ،پنجاب کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز کے قیام ،لیہ اور رحیم یار خان جیسے پسماندہ علائقوں کی بہتری کے لئے اربوں کے ترقیاتی پیکجز ،کسان کارڈ ،لاری اڈوں کے بہتری ،صفائ ستھرائ ،سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر ،ایئر ایمبولینس سروس سمیت سینکڑوں ایسے پراجیکٹ دیکھنے کو ملے جو پنجاب حکومت بغیر کسی تشہیر کے خاموشی کے ساتھ کروارہی پی ٹی آئ کی پنجاب حکومت نے تین سالوں میں پنجاب کو بہتر سے بہترین بنادیا
    جبکہ دوسری جانب پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سندہ پہلے سے بھی ذیادہ بدترین حالات میں جاتا نظر آرہا ہے
    شہر کراچی کے حالات دیکھیں تو پپلزپارٹی ترجمان اور نئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب خود اعتراف کررہے ہیں کہ کراچی کے مسائل بہت ہیں ،سندہ کے کسی ایک شہر یا گاوں میں کہیں کوئ خاص ترقی ہوتی نظر نہیں آرہی صحت کا نظام اس حد تک تباہ ہے کہ کتا کاٹنے کی ویکسین تک دستیاب نہیں،پولیس مکمل سیاسی بنی ہوئ ہے جو پپلزپارٹی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کا کام انجام دے رہی ہے ،کہیں کوئ نئ سڑکیں ،گلیاں بنتی نظر نہیں آئیں گی
    تعلیمی ادارے تو اس حد تک تباہ ہیں کہ سابق وزیر تعلیم سعید غنی کے اپنے حلقے کی اسکولوں میں گدھے گھوڑے بندھے ہوئے نظر آتے ہیں
    نوجوانوں کے روزگار کے لئے کوئ انتظام نہیں ،غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور سندہ حکومت کے وزراء امیر سے امیر ترین بنتے جارہے ہیں
    تھر میں آئے روز بچے غذائ قلت ،صحت کی سہولیات اور صاف پانی نا ملنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں ،خودکشیاں بڑھتی جارہی ہیں ،رات کے وقت اکیلے سڑکوں پر نکل نہیں سکتے کیونکہ ڈاکو لٹیرے آزاد گھومتے نظر آتے ہیں
    جبکہ بلاول زرداری سمیت سندہ حکومت گلی گلی جاکر عوام کو اپنی ١٣ سالہ کارکردگی کا حساب دینے کی بجائے سندہ کی اس تباہ حال صورتحال کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہراتے نظر آتے ہیں ،لیکن سندہ کی عوام بڑی باشعور ہے وہ سب جانتی ہے کہ ١٨ ترمیم جس کا کریڈٹ ہمیشہ پپلزپارٹی فخر سے لیتی ہے اس کے بعد اس تمام تباہی کی ذمیوار سندہ حکومت ہے ،صوبائ خودمختاری کے بعد صوبوں کو جو بجٹ دیا جاتا ہے وہ اپنی کرپشن کی نظر کرنے کی بجائے سندہ کی عوام پر خرچ کرنا چاہیے
    کبھی کسی دوسرے صوبے نے ١٨ ترمیم کے بعد اپنے صوبے کی بدحالی کا ذمہ دار وفاق کو نہیں ٹھہرایا کیونکہ یہ سب صوبائ حکومت کی ذمہ داریاں ہیں
    اب سندہ کا شعور پنجاب حکومت کے ٣ سالہ کارکردگی کا موازنہ پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کے ١٣ سالہ دور اقتدار سے کرچکا اور پپلزپارٹی کی کرپٹ حکومت سے چھٹکارا پانے کے لئے وزیراعظم عمران خان صاحب کی قیادت میں نیا سندہ بنانے کو تیار ہے