Baaghi TV

Category: سیاست

  • سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی ! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی ! تحریر:ایڈوکیٹ عبدالمجید مہر

    چند دن پہلے جب وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے اپنی تین سالہ شاندار کارکردگی قوم کے سامنے پیش کی تو ہم نے بزدار حکومت کے تین سالہ کارکردگی کو سندھ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی سے جانچنے کی کوشش کی اس وقت پنجاب حکومت صوبے میں جس طرح بے شمار ترقیاتی کام ،تعلیمی اصلاحات ،پولیس نظام میں بہتری ،صحت کارڈ ،صنعتی انقلاب ،احساس پروگرام ،پناہ گاہیں ،لنگر خانے ،کوئ بھوکا نا سوئے پروگرام ،نیب ریکوریاں ،صحت کارڈ ،پنجاب کے تمام اضلاع میں یونیورسٹیز کے قیام ،لیہ اور رحیم یار خان جیسے پسماندہ علائقوں کی بہتری کے لئے اربوں کے ترقیاتی پیکجز ،کسان کارڈ ،لاری اڈوں کے بہتری ،صفائ ستھرائ ،سڑکوں اور گلیوں کی تعمیر ،ایئر ایمبولینس سروس سمیت سینکڑوں ایسے پراجیکٹ دیکھنے کو ملے جو پنجاب حکومت بغیر کسی تشہیر کے خاموشی کے ساتھ کروارہی پی ٹی آئ کی پنجاب حکومت نے تین سالوں میں پنجاب کو بہتر سے بہترین بنادیا
    جبکہ دوسری جانب پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کی ١٣ سالہ کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو سندہ پہلے سے بھی ذیادہ بدترین حالات میں جاتا نظر آرہا ہے
    شہر کراچی کے حالات دیکھیں تو پپلزپارٹی ترجمان اور نئے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب خود اعتراف کررہے ہیں کہ کراچی کے مسائل بہت ہیں ،سندہ کے کسی ایک شہر یا گاوں میں کہیں کوئ خاص ترقی ہوتی نظر نہیں آرہی صحت کا نظام اس حد تک تباہ ہے کہ کتا کاٹنے کی ویکسین تک دستیاب نہیں،پولیس مکمل سیاسی بنی ہوئ ہے جو پپلزپارٹی مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کا کام انجام دے رہی ہے ،کہیں کوئ نئ سڑکیں ،گلیاں بنتی نظر نہیں آئیں گی
    تعلیمی ادارے تو اس حد تک تباہ ہیں کہ سابق وزیر تعلیم سعید غنی کے اپنے حلقے کی اسکولوں میں گدھے گھوڑے بندھے ہوئے نظر آتے ہیں
    نوجوانوں کے روزگار کے لئے کوئ انتظام نہیں ،غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور سندہ حکومت کے وزراء امیر سے امیر ترین بنتے جارہے ہیں
    تھر میں آئے روز بچے غذائ قلت ،صحت کی سہولیات اور صاف پانی نا ملنے کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں ،خودکشیاں بڑھتی جارہی ہیں ،رات کے وقت اکیلے سڑکوں پر نکل نہیں سکتے کیونکہ ڈاکو لٹیرے آزاد گھومتے نظر آتے ہیں
    جبکہ بلاول زرداری سمیت سندہ حکومت گلی گلی جاکر عوام کو اپنی ١٣ سالہ کارکردگی کا حساب دینے کی بجائے سندہ کی اس تباہ حال صورتحال کا ذمہ دار وفاقی حکومت کو ٹھہراتے نظر آتے ہیں ،لیکن سندہ کی عوام بڑی باشعور ہے وہ سب جانتی ہے کہ ١٨ ترمیم جس کا کریڈٹ ہمیشہ پپلزپارٹی فخر سے لیتی ہے اس کے بعد اس تمام تباہی کی ذمیوار سندہ حکومت ہے ،صوبائ خودمختاری کے بعد صوبوں کو جو بجٹ دیا جاتا ہے وہ اپنی کرپشن کی نظر کرنے کی بجائے سندہ کی عوام پر خرچ کرنا چاہیے
    کبھی کسی دوسرے صوبے نے ١٨ ترمیم کے بعد اپنے صوبے کی بدحالی کا ذمہ دار وفاق کو نہیں ٹھہرایا کیونکہ یہ سب صوبائ حکومت کی ذمہ داریاں ہیں
    اب سندہ کا شعور پنجاب حکومت کے ٣ سالہ کارکردگی کا موازنہ پپلزپارٹی کی سندہ حکومت کے ١٣ سالہ دور اقتدار سے کرچکا اور پپلزپارٹی کی کرپٹ حکومت سے چھٹکارا پانے کے لئے وزیراعظم عمران خان صاحب کی قیادت میں نیا سندہ بنانے کو تیار ہے

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 06) تحریر: محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 5 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح ضمیر کی سودے بازی ہوتی ہے کیسے آدم زاد بکتا ہے کیسے لوگوں نے دھوکے بازی کرکے انسانی زندگی کو مفلوج کیا ہوا ہے یہ ایسا ناسور ہے جو نسل در نسل تباہ کر دیتا ہے  اِسی مقصد کیلئے آج واضع کریں گے کہ کیسے بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا ،شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت ،شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت ، منرل واٹر میں نلکے کا پانی کی ملاوٹ کس طرح سے کر رہے ہیں

    بھینس کو دودھ بڑھانے کے ٹیکے لگانا:

    بھینسوں کو ٹیکہ لگانے کی وجہ سے عورتوں میں ہارمونز کی تبدیلی اور بہت سی دوسری بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ہر جگہ پر ٹیکے کھولے عام دستیاب ہوتے ہیں ٹیکوں سے بھینس کی عمر میں کمی کے ساتھ خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی اور چہروں پر ضرورت سے زیادہ بال اگنے جیسی بیماریوں میں اضافہ ہوا ہے گائے اور بھینسوں میں دودھ کی پیداوار بڑھانے کے لیے انہیں اوکسیٹوسن نامی ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس سے مویشیوں کے دودھ دینے کی پیداوار بڑھ جاتی ہے۔ دوسری جانب زہریلا دودھ پینے سے انسانی جانوں کو شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑھتا ہے حکومت کو چاہیے اس کی روک تھام کیلئے چھاپے مارے جائیں تاکہ جو دودھ دیہات سے شہروں کی طرف جاتا ہے اس میں انسانی جان کے خطرات کم سے کم ہوسکے

    شوارمے میں مرہ جانوروں کا گوشت:

    کھلی جگہوں سے مردہ گاۓ ، بھینس کے گوشت کو اکٹھا کیا جاتا ہے اس کے بعد مختلف جگہوں پر پہنچا دیا جاتا ہے اور وہاں سے سپلائی کرکے مردہ جانوروں کا گوشت سیل کیا جاتا ہے حکومت اس کی روک تھام کےلئے اقدام کر رہی ہے کہ کسی طرح ایسا گوشت جو تلف کرنا چاہیے استعمال کرتے ہیں ان کو پکڑا جا سکے جب ہم ہوٹل میں یا شوارما کھاتے ہیں تو ہمیں اندازہ نہیں ہوتا جو ہم گوشت استعمال کر رہے ہیں وہ حلال ہے یا حرام

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت: 

    شادیوں میں مری ہوئی مرغیوں کا گوشت بہت دفعہ پکڑا گیا ہے لیکن قرار واقع سزا نا ملنے کی وجہ سے دن بدن یہ کام عروج پکڑتا جا رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مرغیاں رکھنے والے صحیح طریقے سے خیال نہیں رکھتے جیسے کہ اگر ناقص  صفائی کا انتظام ہو تو مرغیوں میں بیماریوں کے اثرات واضع ہو جاتے ہیں وہی مرغیاں مارکیٹ میں سستے داموں بیچ کر انہیں ختم کیا جاتا ہے جبکہ شادیوں میں جب گوشت کی ضرورت ہوتی ہے تو ہم آرڈر دے کر چلے جاتے ہیں کہ فلاں وقت آ کر لے جائیں گے حالانکہ ہمیں چاہیے کہ جتنی مقدار میں بھی مرغیوں کا گوشت لینا ہو اسے اپنے ہاتھوں سے زبح کروانا چاہیے لیکن اج کل کے دور میں نفسہ نفسی کے عالم میں وقت کی قلت بہت زیادہ ہے اسی وجہ سے تاجر / دوکاندار اس چیز کا فائد اٹھاتے ہیں اور مردہ مرغیوں کا گوشت سیل کر دیتے ہیں بات رسوائی کی ضرور ہے مگر ہے حقیقت 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ: 

    منرل واٹر میں نلکے کے پانی کی ملاوٹ بہت عام ہے اس کی خاص وجہ جو ملاوٹ روکنے والے ادارے ہیں ان کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ملاوٹ عروج پر ہے منرل واٹر کی جگہ نارمل پمپ کا پانی استعمال کیا جارہا ہے جبکہ پانی کو فلٹر کرکے پھر پیکنگ کرنا چاہیے لیکن مارکیٹس میں مختلف قسم کے برانڈ کی شکل میں بہت سی پیکنگ دستیاب ہیں کسی بھی برانڈ کو جانچنا کے صحیح کونسا ہے کیا ہم پینے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں کہ نہیں ۔ بہت مشکل ہے جانچنا

    حدیث میں آتا ہے "جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں”

    دن رات ہر چیز میں ملاوٹ ہو رہی کے اور ہم بخوشی سے استعمال کر رہے ہیں اس ملاوٹ کی روک تھام کیلئے حکومت وقت کو چاہیے متحرک ہوکر کاروائیاں کرے اور پکڑے جانے والے کو قرار واقع سزا دلوائیں تک جا کر یہ قوم سدھرے گی

    اگلی قسط میں شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح موبائل مارکیٹ میں جعلی اور کاپی فون ، جعلی سرف جعلی شیمپو سب اصل ٹیگ کے ساتھ ، 2 نمبر ادویات اصل پیکنگ میں ، ہسپتالوں میں جعلی ڈاکٹرز ، بازاروں میں بد نگاہی اور جھگڑے ہو رہے ہیں بتانے کا مقصد یہ ہے کہ عوام باخبر ہو کہ جو چیز ہم استعمال کر رہے ہیں کیا آیا کہ وہ سہی بھی ہے کہ نہیں ۔ اگر سہی نہیں ہے تو اس کی جانچ پڑتال کیسے کرنی ہے اب آپ فیصلہ کریں کہ کیا ملک میں اصل گڑبڑ ہم کر رہے ہیں ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

     

  • وطن کا محافظ عمران خان تحریر: نعیم عباس

    وطن کا محافظ عمران خان تحریر: نعیم عباس

    20 سال قبل جب امریکہ طاقت میں بدمست نے افغانستان پر حملہ کیا تو مرد قلندر نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اس کا فوجی حل نہیں اس بات پر ساری دنیا نے اس کا مذاق اڑایا اسکو مختلف ناموں سے پکارا طالبان خان وغیرہ وغیرہ !

    اس نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں مشرف کو خبردار کیا کہ اس جنگ میں حصہ مت لو یاد نہیں جب 1935 میں انگریزوں نے پورے ہندوستان سے قبائیلی اضلاع اور افغانستان سائیڈ میں ڈپلائے کی ۔۔ یہ بندوق کی لڑائی ہرگز نہیں۔تاہم پارلیمنٹ میں اس کا ٹھٹہ اڑا اور کوئی اس کے حق میں نہیں بولا !

    اس نے زداری دور میں ڈرون اٹیکس کے خلاف لانگ مارچ کیا کہ اس کو بند کروا دو تو سب نے اسکا مذاق اڑایا کہ امریکہ کو کون منع کرسکتا ہیں یہ سب تو امریکہ کے ہاتھ میں ہیں (کیونکہ انہوں نے جو بوری بھر کر ڈالر لیے تھے اب اپنے آقا خوش کرنا تھا) معصوم لوگ مارے گئے قبائیلی علاقوں میں (وزیرستان) معصوم لوگوں کے گھر 🏠 اجڑ گئے لوگوں بے گھر کردیا تھا!

    مشرف سے لیکر گیلانی تک زرداری سے لیکر نواز تک سب کو سمجھایا کہ ہم امریکہ کی غلامی نہیں بلکہ برابری چاہتے ہیں اس پر سب ہنسے کہ امریکہ کے ساتھ برابری کیسے ممکن ہیں کیونکہ یہ سب تو پیسوں کے پجاری تھے (چند ٹکڑوں پر بھیکنے والے لیڈرز ہیں) ان سب کو پیسے عزیز تھے !

    پھر دنیا نے دیکھا اس نے اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی سپر پاور کی نیٹو سپلائی روکر دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا اس نے قوم کو سبق دیا کہ زمینی خداؤں سے الجھنا اتنا مشکل نہیں جتنا غلامی کے زنجیروں سے جکڑا ہوا سوچ رہے ہیں اور اگست 2018 میں آخری ڈرون گرا کر آج تک اس کی حکومت میں سپر پاور نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی اس نے ایبسلیوٹلی ناٹ (Absolutely Not) کہا اور سپر پاور کو اس کی اوقات دکھا کر برابری کے باتوں کو سچ ثابت کردیا بیس سال بعد بھی افغانستان میں اس کی پیشنگوئی سچ ثابت ہورہی ہیں کل دنیا نے دیکھا افغانستان کا اعلی سطحی وفد سب سے پہلے اسے ملنے پہنچا کل تک پاکستان کو اپنے جوتے کے دھول سمجھنے والوں کو اپنے فیصلے سے قائل کرکے پاکستان کے برابر ہونے کا ثبوت دیا کل تک دنیا میں تنہاء ہونے والے پاکستان کے فیصلوں کا آج ساری دنیا منتظر رہتی ہیں !
    ‏برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کی وزیراعظم عمران خان کو کال
    ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن کی عمران خان کو کال
    جرمن وزیراعظم اینگلا مرکل وزیراعظم خان کو کال کریں گی۔
    ترک وزیر اعظم کی وزیر اعظم خان کو کال

    کیا یہ وہی پاکستان نہیں ہے جو پچھلی حکومتوں میں دنیا میں تنہا ہو گیا تھا۔۔۔
    جی ہاں میں بات ہمارے وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کا کررہا ہوں جنہوں نے دنیا کے سامنے پاکستان کا شان و شوکت بڑھایا!
    ماضی میں پاگل /طالبان خان / کرکٹر / جزباتی خان / یہودی ایجنٹ کہلانے والے کی فیصلوں سے آج پوری دنیا اس کی دیوانی ہوچکی ہیں

    ایک ملک میں ویسے تو لاکھوں کڑوروں لوگ رہتے ہیں اور سب ہی اپنے ملک سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔ بہت سے اپنی جان تک نچھاور کر دیتے ہیں ۔ لیکن کچھ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو صرف اور صرف انسانیت ہی کے لیے جیتے ہیں ۔ ایسے لوگ صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں پاکستان کی سرزمین پر عمران خان جیسے عظیم انسان نے جنم لیا جس نے زندگی کا آغاز ایک عام سے کرکت کھلاری سے کیا لیکن آخر پاکستان کو وہ دے گیا جو نا پہلے اور نا ہی اس کے بعد آج تک کوئی پاکستانی دے سکا ، وہ تھا کرکٹ ورلڈ کپ 1992. اس ورلڈ کپ کو جیتنا شائد عمران خان کے ایک خواب کی تعبیر کی طرف پہلا قدم تھا ۔عمران خان نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کا خواب دیکھا جب اس نے اپنی والدہ محترمہ کو کینسر کہ مرض میں مبتلا ہوتے دیکھا اور پھر اسی مرض کی وجہ سے زندگی کی بازی ہارتے دیکھا ۔ جو درد عمران نے محسوس کیا اپنی ماں کے لیے جب وہ کینسر جیسے مرض سے لڑ رہی تھی اسی درد کا نتیجہ تھا کہ پاکستان جیسے غریب ملک میں کینسر کا مکمل اور غریب کے لیے بغیر کسی پیسے کے علاج مہیا کر دیا ۔ آج لاکھوں اس ملک کے غریب اور بے سہارا لوگوں کا مسیحا ہے عمران خان ۔
    یہی جب عمران نے دیکھا کہ میانوالی جیسے پسماندہ علاقے میں تعلیم کا حصول کتنا مشکل ہے تو میانوالی کے لوگوں کو بڑیدفورڈ کی ڈگری بغیر پیسوں کے اسکالرشپ پر مفت تعلیم مہیا کر دی . عمران کی زندگی انسانیت سے شروع ہوتی ہے اور ختم بھی انسانیت پر ہوتی ہے نہیں جب عمران خان نے حکومت سنبھالی تو احساس پروگرام جیسے کام شروع کیے جس سے غریب آدمی کو 2 وقت کا کھانا مل رہا ہے رہنے کے لیے چھٹ مل رہی ہے ۔غریب لوگوں کو کاروبار کے مواقع مل رھے ہیں ۔ ہمیشہ سے عام آدمی کا درد عمران خان نے دل میں محسوس کیا ہے ۔ ایسے اللہ والے لوگ جو انسانیت کا درد رکھتے ہیں صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ۔ اس عظیم انسان کی زندگی ایسی بہت سے مثالوں سے بھری پڑی ہے اور ہمیشہ اسے یاد رکھا جاۓ گا ۔ داستانیں اور بھی ہیں اس عظیم وطن کے بیٹے کی جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں ۔ سب کو انسانوں کی خدمت ، مدد اور انکا احساس کرنے کی توفیق دے ۔ اللہ آمین
    پاکستان ذندہ باد
    عمران خان پائندہ باد
    @ZaiNi_Khan_NAK

  • قانون امیر کا 

    قانون امیر کا 

    اس کائنات کا نظام تو خدا چلا رہا ہے مگر اس دنیا کا سماجی نظام امیروں کے ہاتھ میں آچکا ہے، اور وہ اس نظام کو اپنے فائدے کے لئے ہی چلا رہے ہیں۔ صرف پاکستان نہیں بلکہ اس دنیا کا قانون امیروں نے خود بنایا ہے، تو کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی امیر ایسا قانون بنائے گا جو اس کے نہیں کسی غریب کے فائدے میں ہو؟

    یقینا نہیں کوئی سرمایہ دار کسی مزدور کے لیے اچھی اجرت منتخب نہیں کرے گا۔ یہ تمام پارلیمنٹ میں امیر لوگ اپنے فائدے کے لیے ہی بناتے ہیں پاکستان کا قانون بھی امیروں کے فائدے کے لئے ہی بنا ہے۔
    اس قانون میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ جو پیسا باہر گیا ہے اسکا کوئی ثبوت نہ ہو۔ بلکہ اس میں کالے پیسے کو سفید کرنے کے لئے گنجائش رکھی ہوئی ہے۔
    اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب اکثر قانون کے دائرے میں رہ کر ہوتا ہے۔ اور اسکو عدالت میں ثابت کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ اس لیے زرداری، نواز شریف، جانگیر ترین وغیرہ وغیرہ جیسے کرپٹ لوگ پکڑے نہیں جاسکتے۔ سب سے مزیدار بات عمران خان سمیت یہ سب امیر لوگ اس قانون کو بدلناہی نہیں چاہتے، کیوں کہ یہ قانون ان کے فائدے میں ہے، غریب کو غریب تر امیر کو امیر تر بنانا اس قانون کا ہی کمال ہے۔ عمران خان نے یہ نعرے صرف عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے لگائے اور کیونکہ اکثر لوگ اس بات کو نہ سمجھتے ہیں اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں،اور بار بار بیوقوف بنتے ہیں۔ عمران خان کے اپنے ساتھیوں پر کرپشن کا الزام لگے ،انہوں نے کیا کیا؟

    کچھ نہیں، یہ صرف پاکستان کا مسلہ نہیں، جیسا کہ یہ قانون پوری دنیا کے امیروں نے بنایا ہے اور اسکا مقصد انکے پیسے کو بڑھانا اور محفوظ کرنا ہے۔ تیسری دنیا کے اکثر ممالک اس کا شکار ہیں ۔ اور ایسی مثالیں ملنا بہت کم ہے کہ دنیا میں کبھی بھی کسی ملک کا لوٹا ہوا پیسہ واپس ملا ہو۔جیسے کہ عمران خان سے نہ آج تک پاکستان کا لوٹا ہوا پیسہ واپس لایا گیا نہ ہی چور پکڑے گئے، اور نہ ہی پکڑے جائیں گے یہ عوام کو پاگل بنانے کا ایک طریقہ ہے، جو عمران خان جیسے حکمران عوام کو بیوقوف
    بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ 2018 میں 300 کنال کے بنی گالہ میں بیٹھ کر ریاست مدینہ کا نعرہ لگا اور ہماری مظلوم عوام بھی اس پر ایمان لے آئی, کیوں کہ ان حکمرانوں نے عوام کا شور ختم کردیا ہے۔

    جب تک عوام اپنا شعور اجاگر نہیں کرے گی اور اپنے حق کے لیے کھڑی ہوکر پارلیمنٹ میں نہیں جائے گی، تب تک اسے مہنگائی غربت اور مفلسی میں ڈوبی زندگی گزارنی پڑے گی۔

  • پاکستان تحریک انصاف کے تین سال دوسروں سے مختلف کیوں ۔۔؟؟؟  تحریر چوہدری عطا محمد

    پاکستان تحریک انصاف کے تین سال دوسروں سے مختلف کیوں ۔۔؟؟؟ تحریر چوہدری عطا محمد

    گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف نے اپنے تین سال مکمل ہونے پر ایک تقریب کا انعقاد کیا جس میں پارٹی عہد داران سمیت پارلمنٹریز اور سینٹر وزیز اعلی اور کشمیر کے وزیز اعظم اور صدر اور صحافی برادری اور اور کچھ کارکنوں نے شرکت کی
    اگر عام حالات کا جائزہ لیا جاۓ تو تقریباً تمام سیاسی جماعتیں ہلکی پھلکی تقاریب تو ہر سال منعقد کرتیں رہی ہیں
    تو اس تقریب میں کیا مختلف چیز تھی اگر کارکردگی کی بات کی جاۓ تو پاکستان تحریک انصاف کے جو بڑے بڑے اور دوسروں سے مختلف کارنامے ہیں وہ زیادہ تو بیشک نہیں لیکن جو ہیں وہ بہت مختلف ہیں
    جیسا کہہ انصاف صحت کارڈ جو کہہ پہلے پاکستان تحریک انصاف نے اپنے سابقہ کے پی کے کے دور حکومت میں ادھر سے شروع کیا اسکو وسیع کر کے کے پی کے کے ہر خاندان تک پہنچایا
    اور اب پنجاب میں اس پر پورے زور شور سے کام جاری ہے اور امید کی جاسکتی ہے کہہ رواں سال کے آخر تک پنجاب کے ہر خاندان کو صحت انصاف کارڈ مل جاۓ گا صحت انصاف کارڈ شاید امیروں جن کے بینک میں لاکھوں روپے موجود ہوتے ہر وقت بلکہ گھروں میں بھی لاکھوں روپے موجود ہوتے ہیں ان کے لئے تو شاید اس کی ویلیو نہ ہو لیکن صحت کارڈ کی ویلیو پوچھیں آپ اس غریب خاندان سے جس کے گھر میں رات کو بارہ بجے کوئی بیماری آجاۓ اور اس کے پاس اتنے پیسے بھی نہ ہوں کہہ وہ اپنے مریض کو کسی ہسپتال ہی لے جاسکے اگر تحریک انصاف کی حکومت پنجاب میں ہر خاندان کو صحت کارڈ دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ اس کی بہت بڑی کامیابھی ہوگی
    اور کیا خاص مختلف ہے غریبوں کو گھر شیلٹر روم کو بھوکا نہ سوۓ کسان کارڈ غریبوں کے لئے بلا سود قرضے کی فراہمی پاکستان میں گزشتہ چار سے پانچ دہائیوں کے بعد دس ڈیمز پر بیک وقت کام تیزی سے جاری بیلین ٹری منصوبہ اپنی نوعیت کا مختلف منصوبہ ہے جس کی تعریف اقوام عالم بھی کرتا نظر آتا ہے اگر ہم ان سب پروگرامز کی بات کرتے ہیں تو ہوسکتا ہے اپوزیشن کی جماعتیں بھی اپنے ادوار میں اس طرح تو نہیں لیکن ان میں سے کچھ پروگرامز پر پانچ دس فیصد کاکام کا دعوہ کرتی نظر آئیں
    اس میں زیادہ مختلف کیا ہے تو میرے تجزیہ کے مطابق سب سے ہٹ کر جو چیز مختلف ہے وہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین جناب وزیز اعظم عمران خان کی زات وہ ان سب روایتی سیاست دانوں اور اس سارے سیاسی ماحول سے بلکل مختلف ہیں
    آپ اگر بغور جائزہ لیں تو عمران خان صاحب کی زات کسی طرح بھی ان روایتی سیتاستدانوں میں فٹ نہیں بیٹھتی عمران خان نہ تو روایتی سیاستدانوں کی طرح کسی سے اپنی حکومت بچانے کے لئے ڈرتے ہیں چاۓ وہ طاقت ملک کی اندر سے ہو یا ملک سے باہر یا انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ وہ ان تین سالوں میں کسی کے دباؤ میں نہیں آۓ
    پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں سمیت گیارہ جماعتوں کی شکل میں ایک بہت بڑا اتحاد بنا جو دعوہ کرتا رہا کہہ فلاں تاریخ کو عمران خان سے استعفی لے لیں گے کبھی فلاں تاریخ کو لے لیں گے حتی کے وزیز اعظم عمران خان کی کابینہ اور قریبی ساتھیوں نے بھی عمران خان سے کو مشورے دئیے کہہ ان سے بات چیت کر لی جاۓ ورنہ یہ حکومت گرا دیں گے۔ سب ایک طرف لیکن اکیلا عمران خان ایک طرف ڈٹا رہا کہہ می کسی کو این آر او نہیں دوں گا یہ میرا کچھ نہیں بھاڑ سکتے اور بالآخر وہ کامیاب ہوۓ آج اس سیاسی اتحاد کا کوئی نام ونشان بھی نہیں ہے
    کرونا کی شکل میں ایک اور مشکل آئی پورے پاکستان کے سیاست دان صحافی اور جتنے بھی دانشور ہیں وہ سب لاک ڈاؤن کی ضد کرتے رہے انٹرنیشنل لیول پر بھی یہ کہا جاتا رہا کہہ پاکستان ایک بڑی مشکل کی طرف جا رہا ہے لاک ڈاؤن نہ لگا کر پھر اکیلا کپتان ایسا تھا جس نے کہا کہہ میں لاک ڈاؤن لگا کر اپنے غریبوں کو بھوکا نہیں مار سکتا اور کپتان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا طریقہ آزمایا اور اللہ پاک نے اسے کامیابھی دی آج پوری دنیا میں کرونا سے بچنے کاجو طریقہ پاکستان کا ہے اسی ماڈل کو کامیاب ترین کہتی ہے اور اللہ نے عمران خان کو سرخرو کیا
    سعودی عرب کے پرنس محمد سلمان پاکستان تشریف لاتے ہیں اور وہ چونکہ شہزادے ہیں تو پہلی حکومتوں کو بھی وہ ہمیشہ آفرز کرتے رہے ہیں کہہ مانگیں جو مانگتے ہیں وہ آپ کو عطا کیا جاۓ گا اس دفع بھی جب اسی طرح شہزادے نے پاکستان کے وزیز اعظم سے کہا مانگے آپ کو کیا چائیے تو دونوں طرف سے ہی تاریخ رقم ہوگئ وزیز اعظم صاحب نے مانگا بھی تو اپنے غریب مزدور پاکستانی جو کسی جرم میں سعودی جیل میں ہیں ان کے لئے رہائی مانگی جس پر سعودی ولی عہد نے کمال کے تاریخی الفاظ دہ راۓ جو پاکستانی ہمیشہ یاد رکھیں گے پرنس محمد سلمان نے نہ صرف قیدی چھوڑنے کا وعدہ کیا بلکہ اس سے بڑھ کر کہا مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں یہ وہ الفاظ تھے جو سونے کے اوراق پر تاریخ ہمیشہ لکھے گی جب کبھی بھی اس بات کا زکر ہوگا شہزادے کے الفاظ یاد رکھے جائیں گے
    تو جناب یہ ہیں عمران خان اس طرح کی باتین اس طرح کے کام آپ کو گزشتہ حکومتوں میں یا سابقہ وزاءاعظم کے ادوار میں دیکھنے کو نہیں ملیں گے تو جناب یہ ہے فرق سابقہ ادوار کا اور اس حکومت کا جو کہہ میرے خیال میں اس حکومت کی بہت بڑی طاقت بھی ہے

    اللہ پاک پاکستان کو اور تمام پاکستانیوں کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین ثمہ آمین
    سدا سلامت پاکستان تاقیامت پاکستان ان شاءاللہ

    @ChAttaMuhNatt

  • عمران خان کے تین سال اور انتخابی وعدے تحریر:حسان خان

    عمران خان کے تین سال اور انتخابی وعدے تحریر:حسان خان

    25 جولائی 2018 کی رات جب دیر گئے تک انتخابی نتائج واضح پو گئے تو عوام کی اکثریت میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کیونکہ 23 سال کی طویل جدوجہد کے بعد بلآخر تحریک انصاف کے الیکشن میں کامیاب اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہو گئی
    پھر دن آیا 18 اگست کا جب عمران خان قومی اسمبلی سے 178 ووٹ لے کر وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ عمران خان نے اپنی انتخابی مہم کے 29 اپریل 2018 لاہور جلسے میں قوم سے 11 وعدوں پر مبنی اپنا منشور پیش کیا تھا۔ آج ہم جائزہ لینگے وہ وعدے کیا تھے اور تین سالوں میں ان میں سے کتنے وعدے پورے ہوئے

    عمران خان کا پہلا وعدہ یکساں نصابِ تعلیم کا تھا جس پر عملدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے سوائے سندھ کے باقی تمام صوبے ایک نصابِ تعلیم پر متفق ہو چکے ہیں اور 2 اگست 2021 سے تمام سکولوں میں نافذ ہو چکا ہے۔ یوں پہلا وعدہ بااحسن طریق پورا ہوا

    عمران خان کا دوسرا وعدہ صحت کے متعلق تھا اور اس ضمن میں عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت نے وہ کر دکھایا ہے جو بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک بھی نہیں کرپائے یعنی صحت سہولت کارڈ کے زریعے تمام آبادی کو فی خاندان سالانہ 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس پنجاب کے دو ڈویژن ساہیوال اور ڈیرہ غازی خان کے شہریوں کو بھی یہ سہولت میسر آ گئی ہے 2023 تک یہ سلسلہ سارے پنجاب تک وسیع کیا جائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی عوام کیلئے بھی صحت کارڈ کا اعلان کر رکھا ہے۔ یوں دوسرا وعدہ بھی پورا ہوا

    تیسرا وعدہ ٹیکس کلکشن کے متعلق تھا ، ٹیکس اصلاحات کی وجہ سے سال 2020-21 میں ریکارڈ 4732 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا یوں تیسرا وعدہ بھی پورا ہوا

    چوتھا وعدہ تھا کرپشن کے متعلق ، عمران خان کی حکومت میں نیب نے کھل کر بڑے چھوٹے اپنے پرائے چوروں کے خلاف کاروائیاں کیں۔ سال 2017 سے 2021 تک نیب نے چوروں سے 528 ارب روپے کی ڈائریکٹ اور انڈائریکٹ ریکوریاں کیں۔ کرپشن پر عمران خان نے کوئی کمپرومائز نہیں کیا بارحا کہتے رہے چاہے میری حکومت چلی جائے مگر کسی چور کو این ار او نہیں دونگا۔۔ یہ وعدہ بھی اچھی طرح نبھایا گیا

    پانچواں وعدہ ملکی و غیرملکی سرمایہ کاری کے متعلق تھا جہاں سی پیک سے لے کر ایمازون تک کثیر سرمایہ پاکستان آ رہا ہے موبائل فون کمپنیاں پاکستان آ رہی ہیں روشن ڈیجیٹل اکاونٹس کے زریعے بیرون ملک پاکستانی کثیر سرمایہ پاکستان بھیج رہے ہیں یوں یہ وعدہ بھی اچھے سے نبھایا گیا

    چھٹا وعدہ ٹیکنیکل تعلیم اور کم آمدن والے طبقے کیلئے گھروں کے متعلق تھا۔ حکومت نے ای روزگار سکیم کے تحت ہزاروں نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم سے مستفید کیا جا رہا ہے اسکے علاوہ سی پیک کے تحت ٹیکنیکل کالجز کی تعمیر سے مقامی لوگوں کو ٹیکنیکل تعلیم دی جا رہی ہے یوں یہ وعدہ بھی وفا ہوا جبکہ کم آمدن والے افراد کیلئے نیاپاکستان ہاوسنگ سکیم شروع ہوئی جس کے تحت پنجاب میں منظورشدہ 24,404 پراجیکٹس جنکی مالیت 373 ارب روپے ہے اس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار بھی ملے گا جبکہ سندھ میں 267 ارب روپے سے 8736 پراجیکٹس ، کے پی میں 74 ارب مالیت کے 4839 پراجیکٹس اور اسلام آباد میں 175 ارب روپے سے 5986 پراجیکٹس پر کام شروع ہو چکا ہے

    ساتواں وعدہ سیاحت کے متعلق تھا جس میں پاکستان نے اس حد تک ترقی کی کہ مشہور امریکی جریدے نے سال 2020 کیلئے پاکستان کو سیاحت کیلئے بہترین قرار دے دیا کروںا بندشوں کے باوجود اندرون ملک سیاحت بھی پورے عروج پر جا پہنچی ہے وزیراعظم خود مختلف سیاحتی مقامات کا وزٹ کر کے انکی تشہیر کرتے پائے جاتے ہیں یوں یہ وعدہ بھی وفا ہوا

    آٹھواں وعدہ زراعت کے متعلق تھا جہاں کسانوں کو کسان کارڈ کا اجراء کیا گیا جس سے کھاد ، بیجوں اور زرعی آلات پر سبسڈی ڈائریکٹ کسان کے اکاونٹ میں پہنچا کرے گی ، حکومت نے گندم اور کپاس کی امدادی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا جس سے کسان خوشحال ہوا اور فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ ہوا

    نواں وعدہ بلدیات کے متعلق تھا اس میدان میں بھی تحریک انصاف ایک شاندار بلدیاتی نظام لے کر آ رہی ہے جس سے پنجاب کا 33٪ ترقیاتی بجٹ بلدیاتی اداروں کو دیا جائے گا۔ الیکشنز بھی جلد متوقع ہیں

    دسواں وعدہ ماحولیات کے متعلق تھا جہاں پاکستان دنیا کو ماحولیات کے شعبے میں لیڈ کر رہا ہے ، پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ بلین ٹری سونامی منصوبے سے متاثر ہو کر سعودیہ عرب بھی ایسا منصوبہ شروع کرنا چاہ رہا ہے عمران خان کے #Clean Green Pakistan وژن کے تحت پوری قوم اپنا مستقبل سرسبز کرنے کیلئے گلی گلی درخت لگا رہی ہے یوں یہ وعدہ بہت زیادہ نبھایا گیا

    گیارواں وعدہ عدالتی ریفارمز کے متعلق تھا یہاں حکومت مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ بوسیدہ عدالتی نظام جوں کا توں بلکہ مزید مخدوش حالت میں ہے اس حوالے سے حکومت کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے

  • پاکستان میں موجودہ سیاسی منظر نامہ   تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں موجودہ سیاسی منظر نامہ تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان میں 1952 میں پیدا ہونے والا، برطانیہ میں تعلیم یافتہ، مغربی ثقافت سے بہت اچھی طرح واقف ، پھر بھی مضبوط روایتی اقدار سے آراستہ ، پاکستان کے 22 ویں وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ وہ اپنی ایمانداری ، انسانیت سے محبت اور عظیم قائدانہ خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے آپ کو بین الاقوامی برادری میں ایک بصیرت مند عالمی رہنما کے طور پر پیش کیا ، خاص طور پر 2019 میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر کے بعد ، جس نے انہیں بین الاقوامی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی۔

    انہوں نے پاکستان کے وزیر اعظم بننے کے لیے 22 سال جدوجہد کی۔ وہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بھی ہیں-ایک سیاسی جماعت جو انہوں نے 1996 میں بنائی تھی۔ عام انتخابات 2018 کے نتیجے میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں 270 میں سے 116 نشستیں جیتیں اور سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیا۔

    اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد پی ٹی آئی نے ممکنہ مستقبل کی حکومت کے لیے 100 دن کے ایجنڈے کا اعلان کیا۔ ایجنڈے میں حکومت کے تقریبا تمام شعبوں میں وسیع اصلاحات شامل ہیں ، بشمول جنوبی پنجاب میں ایک نیا صوبہ بنانا ، وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں کا خیبر پختونخوا میں انضمام ، کراچی میں امن و امان کی صورتحال کی بہتری اور بہتری بلوچ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات اپنی پہلی وضاحت میں ، اس نے اعلان کیا کہ جیسا کہ وہ چین سے متاثر ہے ، انہوں نے غربت اور بدعنوانی کو کیسے ختم کیا ، وہ چینی تجربے سے سیکھنا چاہیں گے۔

    پی ٹی آئی کو ایک تحریک کے طور پر تصور کیا گیا تھا کہ وہ اس نظام کی بنیاد پر ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کے لیے لڑے جو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ چارٹر میں رکھا تھا ، جو ماڈل اسلامی ریاست کی بنیاد تھی ، قانون کی حکمرانی پر مبنی ایک مساوی معاشرہ اور معاشی انصاف انسانی تاریخ کی پہلی فلاحی ریاست ہے۔ یہ انصاف اور مساوات کے اصول ہیں جو قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کا تصور کیا ، اور یہی اصول پی ٹی آئی کی بنیاد ہیں۔

    اپنی انتخابی مہم کے دوران ، اس نے پاکستانی عوام کے ساتھ کئی وعدے کیے ، اور عوام نے اس پر اعتماد کیا اور اسے ووٹ دیا۔ پاکستان میں یہ ایک بہت ہی غیر معمولی الیکشن تھا ، روایتی سیاست کے خلاف ، اکثریت نے اسے ووٹ دیا ، خاص طور پر متوسط ​​طبقے ، پڑھے لکھے لوگوں اور نوجوانوں اور خواتین نے۔ وہ بانی پاکستان اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے بعد پاکستان کی تاریخ میں تیسرے مقبول ترین رہنما کے طور پر ابھرے۔

    پاکستان کے لوگوں کو ان سے بہت زیادہ توقعات تھیں کہ وہ انہیں ووٹ دیں اور ان پر اعتماد کریں۔ بدقسمتی سے ، زیادہ تر توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ زندگی کی قیمت بڑھ گئی ہے ، آٹا ، چینی ، پٹرول کی قلت ، مہنگائی ، کرنسی کی قدر میں کمی ، بے روزگاری ، بجلی کی قلت وغیرہ عام مسائل ہیں جو عام آدمی کو مار رہے ہیں۔ پھر بھی ، اسے مقبولیت حاصل ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا ماننا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان مخلص ہیں اور اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں ، لیکن ان کی ٹیم اسی پیج پر ان کے ساتھ نہیں ہے۔ عوام اب بھی اس پر الزام نہیں لگاتے بلکہ اپنی ٹیم پر الزام لگاتے ہیں۔

    درحقیقت ، یہ مانا جاتا ہے کہ اگرچہ عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم ہیں ان کی کچھ نیکیوں کی وجہ سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے پسند کیا اور انہیں پاکستان کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کیا۔ لیکن یہ پی ٹی آئی کی قیادت والی حکومت نہیں ہے۔

    ان کی ٹیم میں غیر منتخب ممبران ، غیر ملکی امپورٹڈ ممبرز ، دوہری قومی ممبران ، الیکٹ ایبل ایلیٹ شامل ہیں ، جو حال ہی میں ان کی حکومت میں بہتر عہدے حاصل کرنے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوئے۔ سخت گیر ، پی ٹی آئی کارکنان اس کی حکومت سے باہر ہیں یا کچھ غیر اہم عہدوں پر بہت کم فیصد۔ مثال کے طور پر ، سب سے اہم فنانس ہے ، غیر پی ٹی آئی کی قیادت میں ، گورنر اسٹیٹ بینک ، غیر = پی ٹی آئی کی قیادت میں ، اسٹریٹجک پلاننگ ، غیر پی ٹی آئی کی قیادت میں ، وزارت داخلہ ، ایک بار پھر پی ٹی آئی کی زیر قیادت ، کامرس ، دوبارہ ایک غیر پی ٹی آئی کی قیادت ، وغیرہ۔

    پی ٹی آئی کے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ سابقہ ​​حکومتوں نے اپنے دور میں درآمد شدہ ، غیر منتخب اور دوہری شہریت حاصل کی۔ یہ سچ ہے ، پچھلی حکومت نے بھی اسی طرح کے کام کیے ، لیکن ان کا کیا ہوگا؟ کیا پاکستان کے لوگ ان کے عمل کو پسند کرتے ہیں؟ انہیں دوبارہ ووٹ دیا؟ اگر وزیر اعظم عمران خان بھی ان کے راستے پر چلیں اور انہیں اسی نتائج کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    ہم نے پی ٹی آئی کو تبدیلی ، اصلاحات ، میرٹ کریسی ، انصاف ، مساوات ، جمود کی تبدیلی اور مکمل تبدیلی کے لیے ووٹ دیا۔ پاکستان کے لوگ بہت قربانیاں دے سکتے ہیں لیکن پی ٹی آئی کو ایک مقصد کے لیے ووٹ دیا ہے۔ یہ خوفزدہ ہے کہ اگر وجہ پیش نہ کی گئی تو پاکستان کے لوگ مختلف سوچ سکتے ہیں۔ پاکستان مزید بحرانوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تیزی سے ابھرتا ہوا جیو پولیٹیکل منظر نامہ ہمیں اندرونی طور پر کوئی پریشانی نہیں ہونے دے گا۔

    تاہم پاکستان میں غیر جانبدار ، دانشور یہ سمجھتے ہیں کہ کیا وہ اتنا بے بس ہے؟ کیا اس کی ٹیم بنانا اس کی اپنی پسند نہیں تھی؟ اس کی پسند کی ٹیم بنانے کے لیے کیا دباؤ تھا؟ اور اسی طرح کے بہت سے سوالات۔ کم از کم ، لوگ اس پر الزام لگا سکتے ہیں کہ وہ اپنی ٹیم کو میرٹ ، ایمانداری ، اخلاص ، پاکستان کے ساتھ وفاداری کی بنیاد پر نہیں بنا رہا۔ یہ تجویز کیا جاتا ہے ، وزیر اعظم عمران خان کو سوچنا چاہیے کہ بہت دیر ہونے سے پہلے عوام کو کیسے مطمئن کیا جائے۔

    @Z_Kubdani

  • وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    وزیراعظم عمران خان کی کارکردگی کےپہلے تین سال تحریر فرزانہ شریف

    خان صاحب نے جیسے ہی اعلان کیا تھا کہ قوم سے خطاب کریں گے اور اپنی تین سالہ کارکردگی اپنی قوم کے سامنے رکھیں گے اس سے پہلے ہی مریم نواز کا میڈیا سیل حرکت میں آگیا تھا عوام کا دل عمران خان سے کھٹا کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا رہا تھا کہ لوگ خان صاحب سے بد ظن ہوجائیں لیکن عوام اب جان چکے ہیں جس مشکل حالات میں گورنمنٹ خان صاحب کو ملی تھی سرکاری خزانہ منہ چڑھارہا تھا پاکستان بینک کرپٹ ہونے کے نزدیک پہنچ چکا تھا شہباز شریف نے اپنی حکومت کے آخری دن تقریر کرکے کہا تھا کہ اب عوام جانے اور عمران خان جتنی بھی لوڈشیڈنگ ہوگی ہم ذمہ دار نہیں مطلب اتنی بھی بجلی ملک میں نہیں تھی کہ وہ دعوے سے کہہ کر جاتے ہم نے اتنی بجلی ملک میں پیدا کردی ہے کہ 6 ماہ تک کم ازکم لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی ۔پھر خان صاحب نے جیسے ہی حکومت سنبھالی ایک طوفان بدتمیزی آگیا ان پر کہ نیازی نے یہ کردیا وہ کردیا ابھی تین ماہ حکومت کے مکمل بھی نہیں ہوئے تھے کہ "حکومت فیل ہوگی ہے کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا گیا تھا ان کرپٹ پارٹیوں کی طرف سے جھنیں ملک نوچتے ہوئے 30 سال ہوگے تھے وہ خان صاحب سے 90 دن کا حساب مانگنے میدان میں آچکے تھے اور ان کے کرائے کے سپوٹرز نے دن رات سوشل میڈیا پر طوفان بدتمیزی اٹھائے رکھا اور کچھ بکاو چینلز نے بھی خان صاحب کی کارکردگی پر سوال اٹھانے شروع کردیے جن کو نون لیگ اور زرداری کی حکومت میں سانپ سونگا ہوا تھا لیکن خان صاحب کے ساتھ اللہ کی مدد اور ماوں بہنوں اور قوم کی دعائیں تھی جتنا کرپٹ مکس اچار پارٹیوں نے خان صاحب کو بدنام کرنے کی کوشش کی اللہ تعالی نے انھیں اتنی ذیادہ عزت عطا فرمائی۔اور خان صاحب اور ان کی ٹیم نے مل کر ملک کی ترقی کے لیے دن رات محنت کی خاص طور پر شاہ محمود قریشی کی کامیاب خارجہ پالیسی ۔اسد عمر ۔حماد اظہر ۔فواد چوہدری ۔مراد سعید جیسے مضبوط ستون کے ساتھ خان صاحب دنیا کو دکھا دیں گے کہ جذبہ اگر سلامت ہو ہر مشکل کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے جہاں وفاقی وزراء نے دل جمعی سے
    دن رات دل لگا کر کام کیا سوائے کچھ صوبائی وزراء کے جن کی رپورٹس کچھ اچھی نہیں۔ اس پر جلد خان صاحب کا ایکشن پاکستان عوام دیکھے گی ان شاءاللہ
    خان صاحب نے چھٹی کے دن بھی کام کیا اور ایک انسان مسلسل کام کرنے سے جب تھک گے صرف تین دن کے لیے نتھیا گلی کیا چلے گے نون لیگ بشمول بکاو میڈیا نے چیخنا چلانا شروع کردیا یہ نہ سوچا کہ اپنے دور حکومت میں نواز شریف پورے ٹبر سمیت سرکاری خزانے کے خرچ پر ہر ملک کا دورہ کرتے تھے جبکہ خان صاحب اپنے کسی بچے کو تو کیا خاتون اول تک کو ساتھ لیکر کبھی نہیں گے ایک دورہ بھی انھوں نے خاتون اول کے ساتھ نہیں کیا پاکستان کے کروڑوں ڈالرز بچائے ہر دفعہ اپنے دورے پر سرکاری پیسہ کم سے کم خرچ کر کے ۔اور کارکردگی اتنی اچھی کہ پاکستان دشمن قوتیں انتہا پسندوں اور دہشتگردوں کے دن کا چین اور راتوں کی نیندیں اڑ گئیں اور پاکستان میں موجود کرپٹ پارٹیوں نے بیرونی طاقتوں سے مل کر آخری زور لگایا کہ حکومت چلی جائے کسی طرح سے بھی اور کچھ ماہ پہلے تو ہم انصافین کو بھی یقین ہوگیا تھا کہ شائد اب حکومت ذیادہ نہ چل سکے لیکن جس کے ساتھ اللہ کی طاقت ہو اسے پھر کوئی قوت شکست دے سکتی ہی نہیں اور آج پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے۔۔
    اپنے اس دورے حکومت کے پہلے تین سال میں جہاں خان صاحب نے اور بہت سے منصوبے شروع کیے وہاں سب سے بڑا منصوبہ وہ دس ڈیم ہیں جن پر کام تیزی سے شروع ہے جنرل ایوب کے بعد یہ پہلی دفعہ ہورہا ہے کہ پاکستان میں ڈیم بن رہے ہیں جو 2028 تک مکمل ہوجائیں گے ان شااللہ ۔۔
    امریکہ کے ڈو مور کو خان صاحب نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر
    ‏‎ ‎AbsolutelyNot میں بدلا تو امریکہ کے ساتھ ساتھ باقی پوری دنیا کے لوگ بھی حیران رہ گے خان صاحب کی جرات پر ۔۔
    امریکہ سے امداد مانگا کرتے تھے جو اب ماضی کا حصہ بن گیا کیونکہ خان صاحب نے ان کو منہ توڑ جواب دے کر ثابت کردیا کہ ہم اپ کی مدد کے بغیر بھی ملک چلا سکتے ہیں
    ہر صوبے میں صحت کارڈ کا حصول ممکن بنایا کہ غریب لوگ اپنا مفت علاج کروا سکیں بےگھروں کے لیے پناہ گاہیں بنائی اور ان کو چھت کے ساتھ کھانا مہیا کرنے کا بھی انتظام کیا
    جنوبی علاقوں پر آج تک توجہ نہی دی گئی تھی اب وہاں بھی تیزی سے کام ہو رہے ہیں
    احساس پروگرام کے تحت ہر غریب گھرانے کو پہلے 12ہزار روپے اب 13 ہزار روپے مقرر کردیے گے ہیں بزرگ لوگوں کی پینشن میں اضافہ کیا ۔گرین پاکستان کا منصوبہ کامیاب کیا پرویز رشید جیسے بےشرم لوگ جو کہتے تھے خان صاحب ایک ارب درخت نہیں کروایا اب وہ بھی مان رہے ہیں کہ پاکستان میں اتنے درخت لگ چکے ہیں کہ اب انھیں ڈر لگنے لگا ہے کہیں پاکستان چنگل ہی نہ بن جائے ایسے ایسے مضیحک خیز باتیں کرتے ہیں کہ عام انسان بھی حیران رہ جاتا ہے یہ ہمارے ماضی کے وزیر مشیر رہے کہ پہلے خان صاحب کے جلسے کی کرسیاں گنتے تھے اب درخت ۔۔
    پاکستان پر اچھا وقت آچکا ہے اب ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے گامزن ہے مہنگائی ہے لیکن ان شاءاللہ بہت جلد اس پر بھی قابو پالیا جائے گا چین سپر پاور ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے اب وہ دن دور نہیں پاکستان سپر پاور ممالک کی دوڑ میں شامل ہوجائے گا اور ہر پاکستانی اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کرے گا ان شاءاللہ

  • پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    پاکستان پر معاشی جنگ مسلط اور ریاست کے اقدامات .تحریر: امان الرحمٰن

    ففتھ جنریشن وار میں انوائرنمٹ یعنی کہ ماحول اور جتنی بھی اُس سے متعلق جزیات ہیں یہ سب اِ س نہ نظر آنے والی جنگ کا بہت بڑا حصہ ہوتی ہیں، مثلاَ اگر کسی فرقہ کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے تو اُس نفرت کو استعمال کر کے دُشمن اپنا کام نکالتا ہے اِسی طرح اگر کسی کیلئے کسی کی محبت پائی جاتی ہے تو محبت کو استعمال کر کہ اپنا کام کیا جاتا ہے۔
    ہائبرڈ وار فیئر میں دشمن ملک کی معیشت کو گرانا بھی ایک ہتھیار ہےجیسے اِس وقت پاکستان میں دن بہ دن بڑھتی مہنگائی جس طرح کنٹرول سے باہر ہوتی نظر آرہی ہے ، ایسی حالت میں موجودہ حکومت کو ایک وقت میں کئی محاذ پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔

    ہر سرکاری اِدارے کا نظام متاثر ہوتا ہے ، عوام میں غصہ، بے یقینی بڑھتی ہے حکومت پر اعتماد کم ہونے کے ساتھ ساتھ موجودہ حکومت کیلئے ہمدردی کی بجائے مخالفت پیدا ہو رہی ہے ، یہ معاشی جنگ انتہائی خطرناک ہے اور اِس وقت پاکستان جیسے ہی افغانستان کی بدلتی صورتحال اچھے سے سنبھالنے کے ساتھ اپنی مغربی سرحدوں کو محفوظ بنا رہا ہے ۔
    ساتھ ملک کی معاشی صورتحال کو خراب کرنے والےدشمن پاکستان پر مسلط معاشی جنگ کو تیز کرتے نظر آرہے ہیں ایسے حالات میں حکومت کو چاہئے کہ اپنی عوام میں آگہی کے ساتھ مکمل لائحہ عمل ترتیب دیتے ہوئے وزیرِ اطلات کی ذمہ داری لگائے میڈیا پر جس طرح پبلک سروس میسیج دیا جاتا ہے بالکُل اُسی طرح اپنی عوام کو بتائے کے ہم حالتِ جنگ میں ہیں اور اِس جنگ میں کیا کیا مشکلات آسکتی ہیں اور ہمیں کیسے اِن آنے والی مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے ،

    یہ صرف سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلانے سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ، وزیراعظم جناب عمران خان صاحب کو گراؤنڈ کے حالات بتانے والے اُنہی کے وزیر اور مشیر ہی ہیں ناں۔۔۔! جو پہلے اُنہیں دو خاندانی سیاسی پارٹیوں میں سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے ہیں تو کیا تحریکِ انصاف اِن کرپٹ سیاسی رہنماؤں کو صاف سُتھرا بنانے کی لانڈری ہے ؟ جبکہ عمران خان صاحب کو علم ہے مگر جیسا کے کئی بار وہ اپنی لاتعداد تقاریر میں خُود بھی کہہ چُکے ہیں مجھے معلوم ہے کون کیا کر رہا ہے مگر نظام خراب ہے ، تو وزیرِاعظم صاحب یہی صحیح وقت ہے ایکشن لینے کا اور عوام کو تیار کرنے کا کے آپ22 کروڑ لوگوں کو حقائق سے اگاہ کریں ، آپ کی ٹویٹ 22کروڑ لوگ نہیں دیکھتے وہ کیا سمجھیں گے پاکستان پر معاشی جنگ مسلط ہے ، یہ بات عام پاکستانی تک پہنچانا بہت ضروری ہے ، پچھلی 3 سالہ کارکردگی میں عوام کو ترقیاتی کام نظر نہیں آئیں گے اُنہیں نظر آئے گا تو گھی، چینی، دال، آٹا ، یہ مہنگائی یہ معاشی جنگ کا شکار پاکستانی کیا جانے پاکستانی کرنسی کیوں گری کیسے گری ، اسٹیٹ بینک ڈالر کیوں گرنے دے رہا ہے ایک عام پاکستانی جو ریڑھی چلاتا ہے روزانہ دھاڑی کر کے شام کو گھر جاتا ہے اُسے کیسے بتائیں گے کہ ہم معاشی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں کس وجہ سے یہ مہنگائی ہو رہی ہے۔؟ نہیں ایسے نہیں آپ کو اِس معاشی جنگ کو شکست دینے کیلئے ایک اور حل بھی ہے مگر اُس کے لئے بہت بڑا جگر چاہئے بلکہ یوں کہا جائے کے تاریخ رقم کرنا ہوگی آپ کو ایک مثال قائم کرنا ہوگی اور وہ دیکھا جائے تو مشکل بھی نہیں لیکن اُس کے لئے آپ کو ایک دلیر ٹیم درکار ہے جو کہ آپ کے پاس اِس وقت ساتھ نہیں ۔ اور وہ ہے آپ کا معاشی نظام آج اگر آپ اپنی تجارت ڈالر کی بجائے سونے میں کریں تو آپ چند دنوں میں اپنی معیشت بہتر کر سکتے ہیں لیکن ایسا کرنے کے لئے آپ کے ساتھ ساتھ آپ کی ٹیم کا ہر ممبر ایک سوچ ایک نظریئے کا مالک ہو تب ممکن ہو سکتا ہے اِس کہ علاوہ اور کوئی حل نظر نہیں آتا آپ لاکھ چین، ترکی، ایران، سعودی عرب ، کا بلاک بناتے رہیں دشمن آپ کو اسلحے سے نہیں اِس وقت معیشت کی مار ،ماررہا ہے اور اِس کے لئے دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ مستند اور جری ،دلیر رہنماؤں کی ضرورت ہے جو آپ کی ٹیم میں دور دور تک نظر نہیں آرہے،

    تو بجائے اِس کے کہ آپ اِن ویزروں مشیروں سے پلان بناتے بگاڑتے رہیں آپ عوام کے درمیان آئیں اپنے ویڈیو کلپ بنائیں خاص طور پر مہنگائی کی وجہ بتائیں اگاہی مہم چلائیں نوجوان آپ کے ساتھ ہیں آپ یہ مہم چلانے کے ساتھ ساتھ اِس نظام کی خرابی بھی بتائیں اِس لنگڑے لولے جمہوری نظام میں اب دم خم نہیں یہ نظام ہائبرڈ وار فیئر اور ففتھ جنریشن وار جیسی نہ نظر آنے والی جنگوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا اِس میں کمزوریاں ہیں جو دشمن کو فائدہ اور اِس ملک کو مسلسل نقصان پہنچا رہی ہیں ۔
    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین
    پاکستان زندہ باد
    @A2Khizar

  • کپتان کے تین سال _ بے مثال .تحریر : فضیلت اجالہ

    کپتان کے تین سال _ بے مثال .تحریر : فضیلت اجالہ

    شیروانی کا بٹن نہیں دیں گے ،وزیر اعظم بننے کا خواب ،خواب ہی رہے گا،
    عمران خان کو سیاست نہیں آتی الیکشن کیسے جیتے گا اپوزیشن کی اس طرح کی لاتعداد خواہشات پر پانی پھیرتے ہوئے اور ان کے مزموم مقاصد کو مٹی میں ملاتے ہوئے اگست 2018 میں عمران خان نے پاکستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا
    اور اپوزیشن کی بے حد مخالفت ،یہ حکومت نہیں چلے گی ،دو سالوں میں حکومت ختم،جنوری میں حکومت گرائیں گے ، مارچ میں حکومت توڑ دیں گے ،تحریک عدم اعتماد لائیں گے جیسے کھوکھلے نعروں کے دباؤ میں نا آتے ہوئے عزم و ہمت سے ریاست مدینہ کے ہم آہنگ نئے پاکستان کی تکمیل کا سفر جاری و ساری رکھا ہوا ہے
    دور اقتدار کے تین برسوں میں تحریک انصاف نے کون کون سی کامیابیاں سمیٹی ان کی ایک جھلک پیش خدمت ہے

    پاکستان تحریک انصاف کی سب سے بڑی کامیابی کامیاب خارجہ پالیسی ہے جس میں سب سے اہم مسئلہ کشمیر کی بہترین سفارت کاری ہے ۔یہ عمران خان کی کوششوں کا اثر تھا کہ پہلی دفعہ مغربی دنیا نے بھارتی مظالم پر لکھا ،یہ میرے قائد عمران خان کا ہی حوصلہ اور جراءت تھی کہ انہوں نے مودی کے ہٹلر پن اور آر ایس ایس کے نازی پن کو دنیا میں اجاگر کیا ۔

    کشمیر کے بعد افغانستان معاملہ بھی عمران خان کی دور اندیشی اور باکمال ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔عمران خان کی کہی بات کہ افغانستان میں سب سے بڑا لوزر بھارت ہے بلکل درست ثابت ہوئی ۔پاکستان نے افغانستان اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے افغانستان کو لےکر پاکستان میں ہونے والی خانہ جنگی کے مسلے کو انتہائی بہترین انداز میں حل کیا۔

    تحریک انصاف نے خارجی تعلقات میں ایک نئے دور کی بنیاد رکھی ۔ وہ ملک جس کے حکمران ہمیشہ ” جیسے آپ کا حکم” کہنے کے عادی تھے اسکا حکمران امریکہ جیسے ملک کو "”Absolutely not”” کہہ کر دنیا کو بتاتا ہے کہ پاکستان ایک آزد ملک ہے اور اب دنیا کو اس نئے خود مختار پاکستان کی عادت ڈالنی ہوگی

    تحریک انصاف حکومت میں پاکستان نے پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھایا اور اس میں کامیاب بھی ہوا۔یہ عمران خان کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ انتہائی دباؤ کے باوجود انہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا اور دنیا کو بتایا کہ ہر مظلوم مسلمان کے چاہے وہ کشمیری ہو ،فلسطین ہو یا دنیا کے کسی بھی کونے میں ہو پاکستان اس کے حق کیلیے کھڑا ہوگا ۔

    ماضی کے حکمرانوں نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات ہمیشہ زاتی مفادات کیلیے رکھے عمران خان وہ واحد حکمران ہے جس نے اپنے لیے کوئ فائدہ کوئی چور راستے کا تقاضہ نہیں کیا بلکہ دیار غیر میں پھنسے مظلوم پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور سلیکٹڈ حکمران کہنے والے بغضیوں کو بتایا کہ عمران خان اپنے زاتی مفادت کی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی فلاح و بقا کی جنگ لڑ رہا ہے

    پاکستان تحریک انصاف نے روس اور چائنہ کے ساتھ اعتماد کا رشتہ قائم کیا۔
    عمران خا ن کی ماحول دوست سرگرمیوں کو اقوام عالم نے سراہا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان کو عالمی ماحولیاتی دن کی سربراہی کا اعزاز حاصل ہوا۔

    خارجہ کے بعد اگر اندرونی معاملات کو دیکھیں تو ان تین سالوں میں سب سے پہلہ مسلہ covid-19 ہے جس نے بڑے بڑے ترقی یافتہ مما لک سمیت پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ۔ لیکن خدائی نصرت کے بعد یہ عمران خان کی فہم و فراست کی دلیل ہے کہ جب پوری دنیا گھروں میں محصور تھی تحریک انصاف نے سمارٹ لاک ڈاؤن متعارف کروایا جس کو عالمی سطح پر سراہا گیا ، اور آج الحمدللہ پاکستان اپنی ویکسین بنا رہا ہے ۔
    جو بھارت کو پاکستان سے بہتر قرار دیتے ہیں ان ضمیر فروشوں کو آئینہ دکھاتی چلوں کہ کورونا کے لحاظ سے 50 بدترین ممالک کی فہرست میں بھارت تیسرے نمبر پہ جبکہ پاکستان کرونا پر بہترین انداز میں قابو پانے والے ممالک کی لسٹ میں تیسرے نمبر پر ہے

    وزیر اعظم عمران خان ناموس رسالت کے محافظ بن کر ابھرے اور مغربی ایوانوں میں لاالہ اللہ کی دھاڑ پہلی دفعہ سنی گئی ،
    تحرک انصاف کے تین سالوں میں وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کے ہر فورم پر اسلام فوبیا کے خلاف جنگ لڑی اور دنیا کو بھارت کے سفاک چہرے سے روشناس کروایا

    ماضی کی حکومتوں اور اداروں کے درمیان ہمیشہ ایک تناؤ کی کیفیت رہی پہلی مرتبہ پاکستان حکومت اور ادارے ایک صف میں کھڑےہیں جو ملک دشمن عناصر کیلیے خاصی پریشان کن صورتحال ہے

    تحریک انصاف کے تین سالہ دور حکومت میں نیب نے پانچ سو ارب روپے کی ریکوری کی جو کہ ماضی کی حکومتوں کے اٹھارہ سالہ دور حکومت میں کی گئ 290 ارب کی ریکوری سے دوگنا ہے
    معیشت میں استحکام ایک بڑی کامیابی ہے ،آٹے ،چینی پیٹرول مافیا کے خلاف کاروائ کرتے ہوئے ان تمام بحرانوں پر قابو پایا گیا جو ماضی کی حکومتوں نے کبھی نہیں کیا۔

    بیس ارب ڈالر اکاؤنٹ خسارے کے ساتھ شروع ہونے والی حکومت اس کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو 25 ارب ڈالر کے ریکارڈ سر پلس پر لیکر گئ
    وزیرا اعظم احساس پروگرام کا آغاز غریب اور مزدور طبقے کیلیے عمران خان کے احساس و فکر کی علامت ہے
    علاج غریب کی پہنچ میں ‘ کے تحت تحریک انصاف حکومت نے تمام صوبوں میں مفت علاج کی فراہمی کیلیے صحت کارڈ کا اجراء کیا
    کامیاب جوان پروگرام کے انعقاد سے تحریک انصاف نے نوجوانوں میں عزم و ہمت کو استحکام بخشا اور نوجوان صلاحیت کو اگے بڑھنے کا موقع دیا
    عمران خان حکومت کے تین سالوں میں کورونا کے باوجود
    ٹیکسٹائیل شعبے میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ، آٹو موبائل، کنسٹرکشن انڈسٹری، اسٹاک ایکسچینج میں بھی نمایاں ترقی نظر آئی

    تحریک انصاف کے تین سال کسانوں اور زراعت کیلیے ہر لحاظ سے انتہائی مفید رہے ،زراعت کے شعبے کو ترقی دی گئی اور کسان کارڈ کے اجرا سے چھوٹے کسانوں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع میسر آئے ۔
    تحریک انصاف نے عورتوں اور اقلیتوں کو مساوی اور آزادانہ حقوق دیے ۔
    پاکستان کی 74 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ تحریک انصاف حکومت نے خواجہ سراؤں کے حقوق کیلیے عملی طور پر کام کیا اور ان کیلیے تعلیمی اداروں کا قیام عمل میں لایا گیا ۔
    پناہ گاہوں کا قیام تحریک انصاف کا لازوال قدم ہے جس نے لاکھوں بے گھروں کو رہنے کیلیے چھت مہیا کی
    کوئی بھوکا نا سوئے پروگرام کے تحت ملک گیر لنگر خانوں کا قیام اور موبائل لنگر خانے وزیرا اعظم عمران کے ریاست مدینہ کی تکمیل کے نظریہ کی جانب اہم پیش رفت ہے

    تحریک انصاف نے ان تین سالوں میں سستا گھر سکیم کے تحت ہزاروں بے گھروں کو اپنا گھر بنانے میں معاونت فراہم کی۔
    گزشتہ تین سالوں میں تحریک انصاف حکومت نے تعلیمی اصلاحات پر بھی کام کیا جہاں ای لائبریریز کا قیام تعمیر و ترقی کی جانب پیش رفت ثابت ہوئ وہیں یکساں نصاب تعلیم کے نفاز نے بہت سے طالب علموں کو احساس کمتری سے نجات دلا کر وزیر اعظم کے دو نہیں ایک پاکستان کے نظریہ کو تقویت بخشی
    ان تین سالوں میں جہاں تحریک انصاف نے بے شمار کامیابیاں سمیٹی وہیں روزگار کے مواقع بڑھنے کے باوجود مہنگائ کے عفریت نے عوام کو اپنی لپیٹ میں رکھا ۔امید ہے آنے والے دو سالوں میں عمران خان اس پر قابو پانے میں کامیاب ہونگے اور غریب عوام کو ریلیف فراہم کریں گے
    انشاء اللہ تعالی آنے والے دو سال پاکستان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی جبکہ اپوزیشن کی بد حالی کے سال ثابت ہونگے ۔اللہ اور عوام کا سلیکٹ کردہ یہ وزیر اعظم نا صرف یہ حکومتی مدت پوری کرے گا بلکہ اگلے پانچ سالوں کیلیے بھی منتخب ہوگا ۔انشاءاللہ ۔
    @_Ujala_R