Baaghi TV

Category: سیاست

  • اکیسویں صدی اور پاکستان کے چیلنجز  تحریر: زاہد کبدانی

    اکیسویں صدی اور پاکستان کے چیلنجز تحریر: زاہد کبدانی

    پاکستان کی سابقہ ​​حکومتوں کی جانب سے سخت الفاظ اور اعلانات کے باوجود ، موجودہ صدی کے چیلنجوں کو قبول کرنے میں افسوسناک نظرانداز کیا گیا ہے بلکہ صورتحال نے بدترین کوانٹم لیپ لیا ہے۔ دوسری طرف بنی نوع انسان کی ریکارڈ شدہ تاریخ میں پیش رفت کے نقطہ نظر میں انتہائی دلچسپ وقت ہے۔ دنیا کے تمام ممالک زندگی کے تقریبا تمام شعبوں میں ترقی کر رہے ہیں۔ یہ ممالک اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہ انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کی دنیا بن چکی ہے۔ طاقت کے ساتھ دنیا پر حکمرانی کا پرانا تصور پچھلی صدی کی آخری دہائی میں سوویت یونین کے ٹوٹنے سے مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ بہت سے ممالک کی ترقی کی رفتار قابل ذکر ہے۔ چین کو پاکستان کے دو سال بعد آزادی ملی لیکن اس نے اپنی ترقی کی رفتار کو کافی حد تک بڑھا دیا ہے۔ آج چین میو کے بعد دنیا کی دوسری تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کا درجہ حاصل کر رہا ہے ، چین نے 1977 اور 1987 کے درمیان اپنی فی کس آمدنی کو دوگنا کرنے میں ایک ہمہ گیر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ صرف $ 3.0 کھرب سے کم ہے جو امریکہ کے بعد دوسرا بڑا ملک ہے۔ اگر کوئی 1995 کے رینڈ سٹڈی کے تخمینوں کو قبول کر لے تو چین 2010 تک 11.3 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ چین کئی ممالک کی منڈیوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس کی تجارتی صلاحیتوں نے زرمبادلہ کے بڑے ذخائر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب چین ایسی کار بنانے میں داخل ہوچکا ہے جسے نئی صدی کے چیلنجنگ ماحول سے نمٹنے کے لیے بہت اچھی طرح سے تیار ملک سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آج عالمی تجارت کو ریگولیٹ کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی اگر چین سود کی شرحوں میں کم ایکسچینج رسک پریمیم کا حصہ نہیں ہے اور اس نے سرمایہ کاری کے مطالبات میں اضافہ کیا ہے۔ ایک ہی کرنسی کی بازگشت پوری دنیا میں فری ٹریڈ زونز کے ساتھ پھیل گئی۔ یورو کی اس شاندار کامیابی کی وجہ سے ، بہت سے ممالک نے حوصلہ افزائی کی اور انہوں نے بھی اپنی گیند کو اسی سمت میں گھمانا شروع کیا۔ ہالینڈ میں ڈچ لوگوں نے مویشیوں کے لیے ایسی خوراک ایجاد کی ہے جو مویشیوں کو بہت تیزی سے بڑھنے میں مدد دیتی ہے۔ ہالینڈ کے لیے مویشی بہت اہم ہے کیونکہ یہ بہترین معیار کے دودھ ، مکھن اور گوشت کی برآمد میں ایک بڑا مقام رکھتا ہے۔ اس سے ہالینڈ کے لیے بڑی مقدار میں زرمبادلہ کمایا جاتا ہے۔ ڈچ لوگوں نے ایک خاص ٹیلی ویژن پر بھی کامیابی سے کام کیا ہے جو کمپیوٹر کی تمام سہولیات بھی فراہم کرتا ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ ڈچ لوگ موجودہ صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت اچھی طرح تیار ہیں۔

    پاکستان میں عالمگیریت کے مسائل
    دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے۔ فاصلے قابل تعریف حد تک کم کیے گئے ہیں۔ امریکہ میں لوگوں نے ایک نئی مشق شروع کی ہے۔ اعلیٰ حکام دفاتر نہیں جاتے۔
    وہ اپنے زیادہ تر سرکاری معاملات کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ ان کے قیمتی اوقات کو بچانے میں ان کی بہت مدد کرتا ہے جسے وہ سفر میں ضائع کرتے۔

    کوریا ، ملائیشیا ، تھائی لینڈ اور ویت نام جیسے ممالک بہت محنت کر رہے ہیں۔ اس محنت نے انہیں موجودہ ہزار سالہ چیلنجوں کا انتہائی باوقار طریقے سے مقابلہ کرنے کے قابل بنایا ہے۔ ان ملکوں نے اس حد تک ترقی کی ہے کہ پاکستان کے لیے اپنے موقف کو جوڑنا دور کی بات بن گیا ہے۔ کوریا نے کاروں اور دیگر گاڑیوں کے برآمد کنندگان میں بھی نمایاں مقام حاصل کر لیا ہے۔ 1960 میں ملائیشیا کی معیشت بہت خراب تھی لیکن محنت کے ذریعے انہوں نے اپنی معیشت کو کافی حد تک مضبوط کیا ہے۔ ملائی ٹیلی ویژن اور دیگر الیکٹرانک آلات نے واقعی بہت سے ممالک کی مارکیٹوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان ممالک نے اپنی مناسب معاشی حکمت عملیوں ، اچھی تعلیمی پالیسیوں ، حب الوطنی کے جذبے اور بہترین خارجہ پالیسیوں کے ذریعے استحکام کی یہ پوزیشن حاصل کی ہے۔
    شرح ترقی۔
    نئی صدی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ترقی کی شرح پاکستان کے مقابلے میں بھارت میں بھی بہت زیادہ ہے۔ ہندوستانی عوام نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں واقعی حیرت انگیز کام کیا ہے۔ ہندوستانی سافٹ وئیر انجینئرز نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے اس میدان میں غیر معمولی اختراعات کی ہیں۔ بھارتی حکومت نے اپنے لوگوں کو ہر ممکن مدد فراہم کی ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے مدراس میں سلیکن ویلی قائم کی ہے۔ سافٹ ویئر پروگراموں کی برآمد کے ذریعے ہندوستان بہت زیادہ زرمبادلہ کما رہا ہے جس نے ہندوستان میں معاشی بدحالی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستانی معیشت بہت مضبوط ہو چکی ہے۔ ملک میں خواتین کے روزگار کے تناسب سے بھی ہندوستان کو فائدہ ہوا ہے۔ خواتین بھی تقریبا تمام پیشوں میں مردوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔
    ملک کی قیادت میں مسلسل تبدیلی تمام شعبوں میں ترقی کے لیے بہت مؤثر ثابت ہوئی۔ 1990 کی دہائی کے آغاز میں نواز شریف کی حکومت نے ملک کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے کچھ اقدامات کیے۔ انہوں نے مواصلات کے ذرائع کو بہتر بنانے کے لیے ڈائیو کمپنی کے ساتھ مل کر موٹروے پراجیکٹ قائم کیا۔ انہوں نے نارووال کے لوگوں کو ایک نئے ٹیلی فون ایکسچینج کی سہولت بھی دی انہوں نے "ییلو ٹیکسی” کی شکل میں سیلف ایمپلائمنٹ سکیم متعارف کرانے کی کوشش کی جس میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ٹیکسی کاریں بہت آسان اور سستی اقساط پر فراہم کی گئیں۔ اس کا مقصد ملک میں روزگار کے تناسب کو بڑھانا تھا لیکن یہ اسکیم بھی ناکامی سے دوچار ہوئی کیونکہ ان کی پارٹی کے کئی اراکین نے اس اسکیم کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔

    @Z_Kubdani

  • تبدیلی سرکار بھی تبدیل نا لاسکی تحریر راحیلہ عقیل

    تبدیلی سرکار بھی تبدیل نا لاسکی تحریر راحیلہ عقیل

    پاکستان تحریک انصاف کی جیت کے ڈنکے جتنے زور شور سے بجے تھے لگتا تھا بس خان صاحب وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھتے ہی جادو کی چھڑی گھمائیں گے اور فورا نیا پاکستان وجود میں آجاے گا جتنے خواب پاکستان تحریک انصاف نے عوام کو دکھائے تھے وہ سارے تو کچھ ماہ میں ہی چکنا چور ہوئے سو ہوئے مزید عوام مہنگائی بوجھ تلے دب گئی۔۔۔۔۔۔۔

    جہاں الیکشن سے پہلے عوام نواز شریف، آصف علی زرداری کو کوستی تھی وہی عوام دوسالوں میں نوازشریف، زرداری کی حکومت کی تعریفیں کرنے لگی انکو یاد کرنے لگی
    خان صاحب نے تو جیسے قسم کھائی ہوئی تھی کہ حکومت آتے ہی سیاسی انتقام لینا ہے پھر کیوں نے دوسری جماعتوں سے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر حکومت بنانی پڑے ۔۔۔۔۔۔۔ جگری دوست کو جہاز کے ساتھ روانہ کردیا جہاں جو بکا خریدا حکومت بنائی اور پھر شروع کردیا احتساب ۔۔۔۔۔بڑے بڑے دعوے وعدے سارے ایک طرف دو سالوں تک تو عوام کو یہی سنایا گیا نواز شریف ،زرداری چور سب کچھ لوٹ کر لے گئے ہمارے پاس کچھ نہیں ملک کیسے چلے گا ۔۔۔ خودکشی کرلونگا قرضہ نہیں مانگو گا ! یوٹرن جو نہیں لیتا وہ لیڈر نہیں چلیں جی !آپ نے گھبرانا نہیں ہے! خطابات عوام کو سنا سنا کر دو سالوں تک خوش کرتے رہے عوام مہنگائی بوجھ تلے دب کر خان صاحب کو کوستی رہی۔ تمام تر کرپشن کے غربت مہنگائی بےروزگاری ، عدالتی ناکام نظام، پولیس کی کارکردگی، سب گزری حکومتوں پر ڈال کر اپنے وزیروں کو آگے کردیتے وزیر بھی ماشاءاللہ ہر جمعے تو خان صاحب کی کابینہ میں تبدیلی ہوتی جو وزیر جتنا میڈیا پر آکر خان صاحب کی کھل کر تعریف کرتا وہ اگلے جمعے اہم وزارت پر ہوتا ۔۔۔۔۔۔

    کراچی کے لیے بڑے بڑے پیکچ صرف اعلانوں تک محدود کراچی میں سب سے زیادہ سیٹیں جیتیں پاکستان تحریک انصاف نے کیسے جیتی اس بات سے کراچی والے باخوبی واقف بتانا ضروری نہیں ، اتنی سیٹیں ملنے کے بعد بھی وزیراعظم کو کراچی نظر نا آیا نا ہی انکے نکمے ایم پی اے ، ایم این اے ، کو خیال آیا، جوش آیا تھا علی زیدی کو کراچی کا کچرا صاف کرینگے لاکھوں روپیہ ہضم کرکے بیٹھے ہیں کراچی جوں کا توں ہیں

    پاکستان تحریک انصاف کے وہ کارکن جنہونے کراچی میں اس جماعت کو بہت سپورٹ کیا آج وہ بھی تنگ ہیں تو سوچیں عوام کا کیا حال ہوگا کہیں کوئی کام ہوتا نظر نا آیا سوائے ایک دو علاقوں میں ،

    کرپشن کرپشن کا شور کرکے ووٹ تو مل گیا لیکن چلائیں کیسے حکومت ؟
    دوسروں جماعتوں سے جمع کیے لوٹے حکومتی مدت ختم ہوتے ہی کہیں اور نکل جائیں گے خان صاحب آپ عوام کو کیا جواب دینگے کس بنیاد پر دوبارہ ووٹ مانگیں گے ؟ یا پھر نے 2018 والا طریقہ دھرایا جاے گا ؟؟
    اپنی ہی حکومت کے خلاف کنٹینر پر چڑھ کر ووٹ مانگا جاے گا ؟ یا پھر عوام کو یہ کہہ کر پاگل بنایا جاے گا کے ہماری تو پہلی حکومت تھی جناب کہا گیا بائیس سال کا تجربہ دکھائیں عوام کو اپنی کارکردگی بنائیں نیا پاکستان ختم کریں مہنگائی، بےروزگاری نوکریوں کے جو ٹرک بھر بھر کر نکلے تھے وہ ابھی تک پہنچے نہیں ! ہوسکتا ہے پیٹرول ختم ہوگیا ہو آپ نے مہنگا جو اتنا کردیا ہے ۔۔۔۔ ماڈل ٹاؤن کے لیے انصاف مانگے والے سانحہ ساہیوال پر گونگے بہرے بنے رہے اس وقت آپکو انصاف یاد نہیں آیا یا کرسی پر بیٹھ کر انسانیت ختم ہوجاتی ہے ؟ طاقتور کے لیے قانون مذاق غریب کے لیے قانون سخت زینب کے قاتل کو پھانسی ہوئی آپ کی حکومت میں کتنے ذیادتی کے مجرمان کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ؟
    روزانہ ریپ کیسز سامنے آرہے کیوں سختی سے کام نہیں لیا جارہا ؟ تاریخ میں یاد رکھا جاے گا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صرف اور صرف کرپشن کرپشن کرپشن کا شور کرنے سے شروع ہوئی اور اسی پر ختم ۔۔۔۔۔۔۔عوام ایک بار پھر سوچ سمجھ لیں کرپشن کے نعروں سے آپکے بچوں کا پیٹ نہیں بھرے گا

  • عمران خان ، پاکستان اور افغانستان تحریر ملک منیب محمود

    ۔ افغانستان جو 1980 کی دہائی سے جنگ زدہ ملک ہے ، طالبان کے ایک اور ممکنہ قبضے کی طرف بڑھ رہا ہے ، جیسا کہ اس نے 1996 میں کیا تھا۔ پاکستان نتائج اور ایک اور ممکنہ خانہ جنگی سے پریشان ہے۔ دوحہ معاہدے کے بعد امریکی اور نیٹو افواج تیزی سے افغانستان سے نکل رہی ہیں۔ امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ اگست تک اپنی فوجیں نکال لے گا۔ یہ موقع دیکھ کر طالبان نے بڑی تعداد میں اضلاع پر تیزی سے قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ امریکہ طالبان اور افغان حکومت کے مابین سیاسی تصفیہ کے بغیر افغانستان سے نکل رہا ہے جسے جلد شروع کیا جانا چاہیے جو کہ افغانستان میں ممکنہ خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے۔
    پاکستان اس صورتحال سے پریشان ہے اور پرامن اور سیاسی طور پر مستحکم افغانستان چاہتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے افغان جنگ میں امریکہ کے ساتھ شراکت داری کی ، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار سے زائد جانیں گنوائیں ، اور تین دہائیوں تک 30 لاکھ افغان مہاجرین کی خدمت کی۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اپنی کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے مہاجرین کی ایک اور لہر کو برداشت نہیں کر سکتا۔ پاکستان افغانستان میں کیا چاہتا ہے اور عمران خان کیا سوچتے ہیں ، ہم بات کریں گے۔ پاکستان کیا چاہتا ہے؟ بھارت ، ایک انتہا پسند وزیر اعظم کی سربراہی والا ملک ، پاکستان میں دہشت گردی کا ذمہ دار ہے اور پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کرسکتا۔ یہ ایک وسیع حقیقت ہے کہ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔ قندھار اور کابل میں بھارتی قونصل خانے درحقیقت پاکستان میں دہشت گردوں کی نگرانی کے مراکز ہیں۔
    پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین خطے میں اپنے مفادات کے خلاف استعمال ہو اور نہ ہی اس کے لوگوں کے خلاف کسی کے ہاتھوں۔ پاکستان دو دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کو برداشت کر رہا ہے اور کئی فوجی کارروائیوں کے بعد بالآخر امن بحال ہوا ہے۔ پاکستانی چاہتے ہیں کہ یہ امن قائم رہے اور کسی کی سرزمین سے کسی کو نقصان نہ پہنچے۔ اگر طالبان لڑائی کے ذریعے کابل پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان کو خدشہ ہے کہ یہ افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے جو کہ اس کے دشمنوں کے لیے ایک موقع ہو گا کہ وہ افغانستان کی زمین کو پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرے۔ دراصل پاکستان اپنے لوگوں اور اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔ افغانستان میں کون حکومت کرے گا یہ پاکستان کا کاروبار نہیں ہے۔ پاکستان افغانستان میں ایسی حکومت چاہتا ہے جو افغان عوام کے لیے قابل قبول ہو۔
    اگر طالبان افغانستان پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ممکنہ طور پر خانہ جنگی کا باعث بن سکتا ہے جو کہ ماضی کی طرح خطے میں پناہ گزینوں کے بحران کا باعث بنے گا۔ پاکستان اپنی کمزور معاشی صورتحال کے باوجود تقریبا 3 30 لاکھ مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔ اور مہاجرین کی ایک اور لہر ، جو کہ تقریبا 7 7 سے 8 لاکھ لوگ ہیں ، پاکستان برداشت نہیں کرے گا۔ عمران خان کا افغانستان کے بارے میں نظریہ امریکہ ایک سیاسی معاہدے کے ذریعے افغانستان سے نکل رہا ہے ، جو 2001 کے بعد پرامن حل کا پہلا آپشن ہونا چاہیے تھا۔ جب امریکہ جنگ میں گیا تو یہ تباہ کن تھا کیونکہ پورے خطے کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔ پاکستانی حکومت نے امریکہ کو فضائی اڈے دیے جس سے افغان آبادی میں نفرت پیدا ہوئی جس کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی کی لہر دوڑ گئی۔
    عمران خان پاکستان کی واحد سیاسی شخصیت تھے جنہوں نے 2001 سے فوجی آپریشن کے بجائے سیاسی تصفیے کا مطالبہ کیا۔ اس وقت عمران خان کو سیاسی تصفیے سے متعلق اپنی پوزیشن کے لیے "طالبان خان” کہا جاتا تھا ، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ عمران خان صحیح تھے۔ وزیر اعظم بننے کے بعد ، خان نے امریکیوں اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے اپنی نشست کا استعمال کیا۔ عمران خان سیاسی طور پر مستحکم اور پرامن افغانستان چاہتے ہیں۔ ماضی کے برعکس ، بطور وزیراعظم عمران افغانستان پر حکمرانی کے حق میں نہیں ہیں۔ عمران جو چاہتے ہیں وہ افغانستان میں حکومت ہے جو افغانوں کے لیے قابل قبول ہے۔ کون ہوگا ، یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر یہ طالبان کی حکومت ہے تو یہ پاکستان کے لیے قابل قبول ہوگا اگر افغان عوام اسے قبول کریں۔
    عمران افغانستان میں شورش اور خانہ جنگی کی مخالفت کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ اگر طالبان تشدد کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گے تو پاکستان اپنی سرحد بند کر دے گا۔ یہ مہاجرین کی ایک اور لہر کو خانہ جنگی سے ابھرنے سے روکنا ہے۔ کمزور معاشی صورتحال کی وجہ سے پاکستان پناہ گزینوں کے ایک اور بحران کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عمران خطے میں معاشی روابط بڑھانے کی کوشش میں پاکستان کو جیو پولیٹکس سے جیو اکنامک پالیسیوں میں بھی منتقل کر رہے ہیں۔ عمران وسطی ایشیا کو پاکستان کے لیے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو پاکستانی بندرگاہوں سے جوڑنے کے لیے ایک بڑی منڈی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک وژن بھی رکھیں جو ان ممالک کے درمیان مضبوط معاشی بندھن بنائے گا اور یہ پورے خطے کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند ہوگا۔ لیکن اس کا انحصار افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر ہے۔ جب اشرف غنی افغان امن عمل میں پاکستان کے "منفی کردار” کے بارے میں بات کرتے ہیں تو عمران نے موقع پر ہی واضح کر دیا کہ منفی کردار پاکستان کے مفاد میں نہیں ہے ، پھر ہم اس کے بارے میں کیسے سوچ سکتے ہیں؟ پاکستان طالبان اور دیگر گروہوں کے ساتھ سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے افغان حکومت کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ عمران یہ بھی چاہتا ہے کہ جو بھی افغانستان پر حکمرانی کرے وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کرے۔ خاص طور پر بھارت کو پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری پر۔ وہ ایک سیاسی طور پر مستحکم اور پرامن افغانستان چاہتا ہے ، جو تجارتی اور اقتصادی تعلقات اور ترقی پر توجہ دے۔ اور یہ خطے میں کسی کے مفادات کے لیے نقصان دہ نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان کو افغانستان میں ایک اور خانہ جنگی کے لیے تیار رہنا چاہیے اور خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا چاہیے۔ پاکستان کے لیے ایک مشکل دن آگے ہے ، اور ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ہمیں یقین ہے کہ عمران خان کا افغانستان کا وژن مثبت سمت میں آگے بڑھے گا اور افغانستان اور پاکستان کے درمیان مضبوط معاشی اور سیاسی تعلقات بنائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہوگا ، ورنہ یہ خطے میں ایک نئی تباہی کا آغاز ہوگا۔

  • مہنگائی اور حکومت تحریر:محمد وقاص شریف

    کہا گیا تھا کہ مہنگائی حکومت میں بیٹھے مافیا کی وجہ سے ہوتی ہے۔ جو اپنے مفاد کی خاطر ذخیراندوزی کرتے ہیں اور پھر قلت کا فائدہ اٹھا کر منہ مانگے داموں پر اشیاء فروخت کرتے ہیں
    کہا گیا تھا کہ قرض کرپشن کک بیک اور بھتہ خوری کے لیے لیا جاتا ہے۔
    کہا گیا تھا کہ بیروزگاری ناقص حکومتی پالیسوں کی وجہ سے ظہور پذیر ہوتی ہے۔
    کہا گیا تھا کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینا غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل ہے تاکہ ملک غیروں کا ہمیشہ کے لئے محتاج رہے اور ان کی ڈکٹیشن پر چلے
    کہا گیا تھا کہ بجلی گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو تو سمجھو حکمران کرپٹ ہیں
    کہا گیا تھا اسٹاک ایکسچینج گرجائے تو اس کی وجہ حکومتی ناقص معاشی پالیسی ہوتی ہے
    کہا گیا تھا کہ میٹرو اور اورنج ٹرین سفید ہاتھی منصوبے ہیں۔
    کہا گیا تھا کہ موٹروے انڈرپاس اس اوورہیڈبرج اور فلائی اوور سے قوم نہیں بنتی
    کہنے والے جب یہ سب کہہ رہے تھے تو شاید ان کو یہ پتہ نہ تھا
    کہ بہت جلد ان کا کہا انہیں کے گلے کی ہڈی بن جائے گا۔ اور انہیں اپنے ایک ایک کہے پہ ندامت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ درج بالا نکات میں سے ایک نکتہ بھی ایسا نہیں جن کو دو یا چار سے ضرب دیکر
    عوام کے آگے نہ رکھا گیا ہو۔ اقتدار سے باہر رہ کر زبان چلانا بہت آسان ہوتا ہے۔ ملک خالہ جی کا گھر نہیں ہوتا یہاں سو طرح کے حقیقی مسائل ہوتے ہیں
    اور ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش میں نئے مسائل بھی جنم لے لیتے ہیں۔ حکومت ایسا جال ہوتا ہے جس میں سانس تو لی جا سکتی ہے۔ مگر باہر نہیں آیا جا سکتا۔ پی پی پی اور مسلم لیگ پر لعن طعن کرنے والوں کو اقتدار میں آکر پتہ چل گیا ہے۔ کہ اگر ہم سچے تھے تو جھوٹے یہ بھی نہیں تھے۔ پچھلی دونوں حکومتیں اتحادیوں کے زور بازو پر ضرور بنیں۔ مگر ان کے پاس سادہ اکثریت ذاتی طور پر موجود تھی۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک ایک دن گن کے گزارا اور جیسے تیسے مدت پوری کی۔ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو ذاتی طور پر سادہ اکثریت ہے۔
    اور نہ ہی ایسے اتحادی ہیں جو کسی بھی لحاظ سے ان کے لیے فطری حثیت رکھتے ہو ں ایک اتحادی بھی سلپ ہوگیا تو خان منہ کے بل گر جائے گا۔ مہنگائی کا طوفان ان کے اپنے لوگوں نے برپا کیا ہوا ہے۔ تیاری اگلے الیکشن کی ہو رہی ہے اگر مافیا کو من مرضی نہ کرنے دی گئی
    تو جہانگیر کا تیز ترین جہاز نہیں اڑ سکے گا۔ اور اگلا الیکشن خطرے میں پڑ جائے گا۔ آنکھیں بند کرکے مہنگائی کی اجازت چند ہفتوں کے لیے دی گئی ہے۔ تاکہ اگلے الیکشن کے لیے فنڈز کا مسئلہ حل ہو جائے۔ یہ مسئلہ حل ہوتے ہی ستمبر کے آخر تک
    روزمرہ استعمال کی گیارہ اشیاء کو معمول پر لایا جائے گا۔ اور کامیابی کا جشن منایا جائے گا
    کہ مہنگائی کنٹرول ہو گئی۔ غریب عوام کے ساتھ بہت بڑا ہاتھ کیا گیا۔ کتیا چوروں کے ساتھ مل چکی ہے۔ مڈٹرم الیکشن کا فیصلہ اندریں خانہ ہوچکا ہے۔ کوشش یہی ہے کہ بیساکھیوں سے جان چھوٹ جائے اور ایک مضبوط حکومت دوبارہ بنائی جائے تاکہ اتحادیوں کی بلیک میلنگ سے نجات مل جائے۔ دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔ مگر یہ یاد رہے کہ عوام پر جو پچھلے اٹھارہ ماہ سے ظلم و ستم ڈھایا جا رہا ہے
    یہ کرب ان کے دل و دماغ بلکہ خون کا حصہ بن چکا ہے۔ جسے کسی بھی لالی پاپ سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت نے جو بربادی کرنی تھی کر چکی۔ اب عوامی ردعمل کا ٹائم ہے۔ اب عوامی سونامی تیار ہو چکا ہے
    عوام حکومتی نااہلی سے واقف ہو چکی ہے۔ تالیاں بجانے والے بھی نادم ہیں۔ اور تھپکی دینے والے بھی شرمندہ ہیں۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ غلط گھوڑے پر ہاتھ رکھ بیٹھے ہیں
    میدان خالی کرانے والے بھی تیار ہیں۔ اور گھوڑا بھی بھاگنے پہ راضی ہے عوام تو پیں نکال کر انتقام نہیں لیتی۔ جس طرح لاتی ہے اسی طرح بھگا دیتی ہے.
    @joinwsharif7

  • مریم نواز کے بیٹے کی شادی :تحریر ۔فرزانہ شریف

    مریم نواز کے بیٹے کی شادی :تحریر ۔فرزانہ شریف

    مریم ‏نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی لندن میں سب سے مہنگے ہوٹل میں دھوم دھام سے ہورہی ہے عوام کے خون پسینے کی کمائی کے لوٹے ہوئے پیسوں سے ۔جنید صفدر اور نواز شریف نے جو پگڑیاں لگائی ہوئی ہیں شادی کے موقع پر وہ مودی کی طرف سے چند سال پہلےکا ملا ہوا گفٹ ہے۔خود غرضی کی انتہا کہ جس عوام کو جلسوں میں بلا کرخوار کرتے تھے ایک پلیٹ بریانی پر ان کو اپنی خوشی میں شامل کرنا بھی یہ کرپٹ سیاستدان اپنی توہین سمجھتے ہیں اور
    بات کرتے ہیں” ووٹ کو عزت دو ” کاش پٹواریوں کو اتنی سمجھ آجائے انھیں یہ کرپٹ سیاستدان ایک ٹشو پیپر کی طرح استمعال کرتے ہیں ان کے دکھ دکھ مسئلے مسائل سے انھیں کوئی غرض نہیں آپ مریں جئیں آپ کے پیسوں سے یہ کرپٹ سیاستدان باہر کے ممالک میں عیش کی ذندگی جی رہے ہوتے ہیں ۔۔!!اور آپ ایک ایک چیز کو ترس ترس کر ذندگی گزار رہے ہوتے ہیں ۔۔
    جب کروناوائرس پاکستان میں شدید زوروں پر تھا تومریم نواز نے اپنے خاص "مشیروں” کی مدد سے کوئی شہر ایسا نہیں چھوڑا جس میں جلسے نہ کیے ہوں اور نتیجآ پاکستان میں کروناوائرس سے جو تباہی ہوئی اگر خان صاحب بروقت حکمت عملی استمعال نہ کرتے تو پورا ملک اس وبا کی لپیٹ میں آجانا تھا اور ملک لوٹ کر نواز زرداریوں نے پہلے ہی ملک کا دیوالیہ نکالا ہوا تھا نہ ہسپتالوں میں یورپ جیسی سہولتیں نہ جدید مشینری کیسے اس صورتحال سے نبردآزما ہوتا پاکستان ۔۔میاں صاحب تو اپنے پورے خاندان اور اپنے حواریوں کےساتھ باہر بھاگ گے تھےملک سے لوٹے ہوئے مال و دولت سمیت تو ان کی طرف سے چاہے پورا پاکستان خدانخواستہ ختم ہوجاتا ان کا کیا نقصان تھا ۔۔نقصان غریب عوام کا تھا کہ کرونا کی شدید لہر کی صورت میں پھر سے کاروبار بند ہوجاتے غریب دہاڑی دار مزدور بھوکا مرجاتا ۔خان صاحب پورا ملک مجبورآ بند کردیتے لاک ڈاون کی صورت میں ۔اور جن کو شدید گرمی میں جلسوں میں نعرے لگوانے کے لیے مریم نواز کے لوگ گاڑیوں میں بھر بھر کر جلسوں میں لاتے تھے ایک ڈبہ بریانی ۔اور چند روپے کا لالچ دے کر ۔۔تو وہ سب سے ذیادہ متاثر ہوتے کیونکہ یہ مجبور طبقہ ہوتا ہے دو وقت روٹی سے بھی مجبور ان کا سیاست اور سیاتدانوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا حالات کے پیسے ہوئے ان مجبور لوگوں سے بڑے لوگ بہت فائدے اٹھاتے ہیں۔۔۔!! تو بات کررہی تھی جلسوں سے کروناوائرس پھیلنے کی تو الحمدللہ ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا کہ شکر ہے پھر کشمیر الیکشن ہوگے اور خان صاحب نے بھاری اکثریت سے الیکشن جیت لیا اور یوں اس ڈرامے کا” ڈراپ سین "ہوگیا اور مریم نواز کچھ مہنوں کےلیے کومے میں چلی گی ہیں تو عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔۔اب محرم میں مریم نواز نے اپنے بیٹے کی شادی کرکے عوام کو ایک اور پیغام دیا ہے کہ ان کو اللہ کی ناراضگی کی بھی پرواہ نہیں رہی دولت کی پٹی نے ان کی آنکھیں چندیا دی ہیں ۔۔محرم میں تو اونچی آواز سے قہقہ لگانا بھی ہم مسلمان گناہ سمجھتے ہیں اور کہاں عوام کی لوٹی دولت سے لندن میں اربوں پاونڈز لگا کربینڈ باجوں سے شادی رچائی جارہی ہے وہ بھی محرم میں اور پاکستان میں اس لیے نہیں کی پتہ تھا لوگوں نے شادی کا سارا مزہ کرکرا کردینا ہے ایسا حال کرنا ہے ۔۔کہتے ہیں دنیا مکافات عمل ہے اور یہ بات سچ ہوتی تب دیکھی "جب بیٹا لندن شادی کروا رہا ہے اور اس کی اماں جان وڈیو کال میں شادی میں شرکت کررہی ہیں صرف عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے لیکن اب عوام اتنی بھی بےعقل نہیں جو ان کی مکاریاں سمجھ نہ سکیں ان کی سیاست کا اینڈ ہوچکا ہے بس دوسال اور ۔۔۔2023میں عوام ان کو بری طرح ریجیکٹ کردے گی اور پاکستان کی سیاست سے چلتا کرے گی کشمیر الیکشن تو ٹریلر تھا ۔۔!!
    پاکستان کے اچھے دن شروع ہوچکے ہیں ملک ترقی کی راہ پر چل پڑا ہے وزیراعظم پاکستان عمران خان دن رات ملک کے لیے کام کررہے ہیں سب سے بڑی بات ان تین سالوں میں ملک میں منی لانڈرنگ نہیں ہوئی ماضی میں جس نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی تھیں۔کروناوائرس نے پورے یورپ کا سانس بند کیا ہوا تھا ملکوں کی اکانومی شدید متاثر ہورہی تھی تو ایسے وقت میں بھی پاکستان کے زرمبادلہ میں بے پناہ اضافہ ہورہا تھا ہر ترقی یافتہ ملک پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی لے رہا ہے ۔پاکستان میں اتنے سالوں سے بند پڑی صنعتیں پھر سے کام کرنا شروع ہوگی ہیں اب وہ وقت دور نہیں جب ملک ترقی یافتہ ممالک کی دوڑ میں شامل ہوجائے گا اور خان صاحب کا خواب اللہ سچ ثابت کردے گا کہ لوگ باہر کے ممالک سے نوکری کرنے آیا کریں گے گرین پاسپورٹ کو عزت ملے گی لوگ فخر محسوس کریں گے اپنے گرین پاسپورٹ پر۔

    موضوع "

  • عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ (  حصہ چہارم  ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    عمران خان کرکٹ کے میدان سے وزیراعظم کی کرسی تک کا سفر۔ ( حصہ چہارم ) تحریر: چوہدری عطا محمد

    پاکستان تحریک انصاف نے2013میں بننے والی ن لیگ کی حکومت کے اگلے سال ہی الیکشن میں دھاندلی اور پاکستان تحریک انصاف کے منشور کے مطابق سیاستدانوں کے احتساب کے لئے ایک احتاجاجی تحریک کا آغاز کر دیا

    2014 میں عمران خان نے اپنی اس احتجاجی تحریک کا دائرہ وسیع کر دیا اور دارالحکومت تک لانگ مارچ لے گئے اور 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف طویل ترین دھرنا دیا۔
    انہوں نے اس دھاندلی کے لیے ن لیگ کی حکومت کو اس کا زمہ دار ٹھہرایا احتجاجی تحریک میں چار چاند اس وقت لگ گے جب عمران خان نے علامہ طاہرالقادری سے سے ہاتھ ملا لیے جو کہ ماڈل ٹاؤن سانحے کے متاثرین کو انصاف دلوانے کے لیے احتجاج کر رہے تھے۔
    اور پھر دونوں رہنماؤں نے مل کر لانگ مارچ کا آغاز کر دیا
    مسلم لیگ ن کے بھرپور ہتھکنڈوں جیسا کہہ گوجرانوالہ میں عمران خان کے قافلہ پر پتھراؤ اور گولیوں کے باوجود یہ دونوں رہنما اپنے اپنے قافلہ کو لانگ مارچ کی صورت میں بزریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد لانے میں کامیاب ہوگے
    اس میں ان کو عوام کی طرف سے بھر پور حمایت حاصل تھی دارلحکومت اسلام آباد پہنچ کر تاریخ کا ایک لمبا ترین 126دن کا دھرنا دے دیا اور اس میں حکومت کو بہت مشکل ٹائم دیا اس دھرنا میں جو مطالبات تھے وہ نواز شریف کا استعفی اور چار حلقوں کے الیکشن کھولنے اور ماڈل ٹاؤن کے زمہ داروں کو کٹہرے میں لانا تھا
    دھرنے میں جہاں بہت سی مشکلات آئی الزامات لگے جاوید ہاشمی نے پارٹی چھوڑ دی اور اسٹیبلشمنٹ پر الزامات لگاۓ اور دھرنا کا زمہ دار ان کو ٹھہرایا لیکن عمران خان نے ہمت نہیں ہاری اور ڈٹے رہے
    اسی دوران انہوں نے ایک صحافی خاتون ریحام خان سے شادی بھی کر لی
    شادی بنی گالہ میں سادی سی تقریب کی شکل میں منعقد ہوئی اس شادی کو عوام نے شروع میں بہت سراہا
    دھرنا اس وقت ختم کرنا پڑا جب آرمی پبلک سکول پشاور میں دہشتگردوں نے ایک بڑا حملہ کر دیا جس میں 135افراد شہید ہوۓ جن میں زیادہ تعداد سکول کے معصوم بچوں کی تھی
    دھرنا میں پاکستان تحریک انصاف کی مقبولیت عروج پر جانے کم بعد جب کم ہونے لگی تو اسی اثناء میں تب ہی اپریل 2016 میں پاناما پیپرز اسکینڈل سامنے آیا۔ عمران خان، جنہوں نے لیکس کو "خدائی تحفہ کا بھیجا گیا” قرار دیا تھا، نے وزیرِ اعظم نواز شریف پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ وہ اپنی دولت کا حساب دیں۔
    احتساب کے اسی طرح زور دینے کے دوران کچھ مہینوں میں حکومت اور اپوزیشن کا شریف خاندان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی شرائطِ تحقیقات پر ڈیڈلاک برقرار رہا۔اور ریفرینس کی ٹرمز نہ تہہ ہوسکی

    جون 2016 میں پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی قیادت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان میں نواز شریف کے خلاف مبینہ طور پر اثاثے چھپانے کی بناء پر نااہلی کی درخواست دائر کر دی۔ یہ نواز شریف کے اختتام کا آغاز تھا۔اور کپتان عمران خان کے عروج کا وقت پھر سے شروع ہونے لگا۔ جاری ہے

    اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

    تحریر چوہدری عطا محمد

    @ChAttaMuhNatt

  • عثمان بزدار حکومت اور پنجاب حصہ اول۔ تحریر : راجہ حشام صادق

    اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صوبہ پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے کوئی صحیح قیادت اور کوئی معاشی منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے صوبہ برسوں سے معاشی بدحالی کا شکار رہا ۔ 2018 میں باشعور عوام نے تبدیلی کو ووٹ دیا اور تحریک انصاف کی حکومت معرض وجود میں آئی۔

    تحریک انصاف کے سربراہ اور موجودہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کے اس سب سے بڑے صوبے کی قیادت ایک پس ماندہ اور محروم علاقے سے تعلق رکھنے والے کم گو لیکن اپنے کام کو فرض سمجھ کر کرنے والے شخص عثمان بزدار کے حوالے کر دی۔ جی ہاں وہی عثمان بزدار جن پر ہر طرف سے تنقید کے نشتر چلائے گئے لیکن ان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے انہوں نے بڑی محنت اور لگن سے صوبہ پنجاب کی تقدیر بدلنے کے لیے دن رات ایک کر دئیے۔

    صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کی قیادت میں ترقی کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے اور حقیقی معنوں میں وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان کے نئے پاکستان بنانے کی بنیاد صوبہ پنجاب بن رہا ہے۔

    آئیے صوبہ پنجاب کی معاشی حالت درست کرنے اور عوام کو بہتر روزگار کی فراہمی کے لیے کئے گئے عثمان بزدار حکومت کے چند اہم اقدامات پر نظر ڈالتے ہیں۔موجودہ حکومت سے قبل پنجاب میں کوئی جامع صنعتی پالیسی نہیں تھی۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے پنجاب میں سب سے پہلے ایک جامع صنعتی پالیسی لانے کے اقدامات کئے اور پنجاب کو پہلی صنعتی پالیسی دی۔ اس صنعتی پالیسی کے تحت پنجاب میں معاشی ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوچکا ہے۔
     
    روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے انڈسٹریز لگانے پر نظر ڈالیں تو عثمان بزدار حکومت اس وقت تک 8 نئے سپیشل اکنامک زونز بنا چکی ہے جبکہ 4 پرانے انڈسٹریل اسٹیٹس کو اپ گریڈ کر کے ان کو انڈسٹریل زونز کے سٹیٹس بھی دیا جاچکا ہے۔
    پنجاب کے شہر فیصل آباد میں قائم کیا جانے والا علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی 3217ایکڑ پر قائم کیا گیا ہے جس سے براہ راست 4لاکھ افراد کو روزگار ملے گا۔ جبکہ مجموعی طور پر 10لاکھ افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔

    پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں موٹروے کے نزدیک 1536 ایکڑ رقبے پر مشتمل پاکستان کے پہلے سمارٹ اکنامک زون قائداعظم بزنس پارک کے منصوبے کا بھی آغاز ہو چکا ہے۔ اس پروجیکٹ پر تیزی سے کام جاری ہے۔ اس پراجیکٹ سے روزگار کے اڑھائی لاکھ مواقع پیدا ہونگے۔

     عثمان بزدار حکومت نے صوبے کی مختلف شہروں میں جیسے بھلوال، رحیم یار خان اور وھاڑی کی انڈسٹریل اسٹیٹس کو سپیشل اکنامک زون کا درجہ دیا ہے۔ جس سے باالترتیب 6000،5500اور 4000روزگار کے مواقع پیدا ہونگے اور سرمایہ کاروں کی سہولت کیلئے قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ لاہور اور فیڈمک میں ون ونڈو سروس سنٹر بھی قائم کر دیئے گئے ہیں۔

    قارئین عثمان بزدار حکومت کے کچھ اور کاموں کا تذکرہ کل کریں گے ان شاء اللہ۔ اللہ تعالٰی آپ سب کا حامی ناصر ہو۔

    تحریر : راجہ حشام صادق

    @No1Hasham

  • سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    سیاست اور مارکیٹنگ تحریر: عدیل آصف

    ضروریات کی تخلیق کرنا، لوگوں کی ضروریات کی نشاندھی کرنا یا کسی بھی چیز کو لوگوں کی ضرورت بنا دینا مارکیٹنگ کہلاتا ہے۔

    دورے جدید میں انسان نے بہت ترقی کی مختلف پروڈکٹ بنائیں، ان پروڈکٹ کو لوگوں میں متعارف کرنے کے لیے مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا اور اس طرح وہ پروڈکٹ آج آپ کے گھروں میں موجود ہیں یا ان پروڈکٹ کا آپ کی زندگیوں سے گہرا تعلق ہے، چاہے آپ ان پروڈکٹ کو خرید پائن یا خریدنے کی خواہش کریں۔

    مارکیٹنگ کا علم رکھنے کے دعوےدار اتھیکل مارکیٹنگ پر یقین رکھنے کا درس دیتے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مارکیٹنگ میں ایتھکس یا ایتھیکل مارکیٹنگ بھی کسی چیز کا نام ہے؟

    یقینا نہیں, مارکیٹنگ اور ایتھیکس دو الگ الگ چیزوں کے نام ہیں، ماہرین نے مارکیٹنگ کا استعمال کرتے ہوئے اپنے پروڈکٹ کو کنزیومر کے دماغ میں ایسے پوزیشن کیا کہ وہ انہیں اپنے فائدے میں اور اپنے اسٹیٹس کو بڑھانے کے لیے استعمال کرنے لگے۔ اسی طرح کوئی بھی برینڈ یہ نہیں چاہتا کہ اس کی پروڈکٹ اس کے مدمقابل سے کم بکے، اس لیے وہ ہر راستہ اپناتا ہے جس سے وہ اپنے مدمقابل پروڈکٹس کو ڈیمج کرسکے تاکہ لوگ اس کے مدمقابل کو چھوڑ کر اس کے برینڈ کو اپنا سکیں، یہ سب وہ غیر اخلاقی مارکیٹنگ سے ہی حاصل کرسکتا ہے، تو کیا اب ہم غیر اخلاقی طریقہ کار پر مارکیٹ ہوئی پراڈکٹ کے اوپر بھی اعتبار کرنا شروع کر دیں؟

    ففتھ جنریشن وار فیئر کے دوران سیاست میں لوگوں کو مارکیٹ کرنا شروع کیا گیا، جیسے کہ ڈونلڈ ٹرمپ، مودی، عمران خان, وغیرہ وغیرہ۔

    ایک ایسا مارکیٹنگ پلان جس میں ہزاروں لوگوں کے سوشل میڈیا سیل بنائے گئے ٹی وی شوز کے پرائم ٹائم پر عمران خان کو بٹھایا گیا وہ سوالات پوچھے گئے جو پرائم منسٹر شپ کے کینڈیڈیٹ سے پوچھے جاتے ہیں، پاکستان کے بڑے میڈیا چینلز کے اینکرز،انفلوئنسرز کو انگیج کیا گیا۔ پاکستان کے بڑے ٹی وی چینلز کا میڈیا ٹائم خریدا گیا، مشہور گلوکاروں سے گانے بنوائے گئےاور اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی مدد لی گئی اور عوام میں ایک ایسا امیج بلڈ کیا جس سے انہیں لگا کہ یہی وہ آخری مسیحا اور سٹیٹس مین ہے جو کہ پاکستان کے تمام مسائل کا حل ہے۔

    اس مارکیٹنگ پلان کی سب سے اہم حکمت عملی عمران خان کو نواز شریف کے مخالف اسٹیبلش کرنا تھا، جس میں پاکستان کے بہترین دماغوں نے بیٹھ کر نواز شریف کے خلاف کمپین تیار کی اور نواز شریف کو چور اور کرپٹ اسٹیبلش کر دیا۔
    عوام سے مارکیٹنگ سٹریٹجی کے طور پر اوور کمینٹس کی گئیں، جیسے کہ پچاس لاکھ گھر، ایک کروڑ نوکریاں، پاکستان کے قرضے اتارنا، آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ مت پھیلانا، بیرون ملک سے لوگ پاکستان نوکریاں لینے آئیں گے۔

    ناممکن چیزوں کو بغیر ایگزیکیوشن پلان کے ممکن کرنا مارکیٹنگ کا ہی تو ایک کمال ہے، جس کو ایتھیکل(اخلاقی) مارکیٹنگ کہاجا رہا ہے۔

    مارکیٹنگ کی ایک قسم جس کو برینڈ پوزیشنگ کہتے ہیں، جس کی مدد سے خاص ماہرین نے عمران خان کو پاکستان کی تقدیر بدلنے والے مسیحا کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا۔ "آپ کی شلوار گیلی ہو جائیں گی” جیسے غیر اخلاقی الفاظ بھی عمران خان کے سپورٹرز کو اچھے لگنے لگے۔

    اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مارکیٹنگ کی مدد سے عمران خان کا ایسا امیج عوام کے دماغ میں پوزیشن کیا گیا، جس سے ان کی غیر اخلاقی باتیں بھی عوام کو اخلاقی لگنے لگی۔

    کچھ لوگ عمران خان کو پہلے سے ہی بنا ہوا بہت بڑا اسٹیبلش برینڈ کہتے تھے، مگر سیاسی مثبت امیج بنانے کے لیے، غیر اخلاقی مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑا، (مارکیٹنگ کو مارکیٹ کرنے کے لئے مارکیٹنگ کی ہی ضرورت پڑی)۔

    مارکیٹنگ ایک ایسا فن ہے جو غیر اہم کو اہم بنا دیتا ہے۔
    اس لئے مارکیٹنگ کو اپنی زندگی کا اہم ستون بنائیں اور اس دنیا میں عجوبے پیدا کریں۔

  • جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت، سیاست، اور اِدارے ،تحریر: امان الرحمٰن

    جمہوریت کے متعلق بات کرنے سے پہلے جمہوریت کے علمبردار چند ممالک کا مختصر احوال دیکھتے ہیں، اور ساتھ پاکستان کا موازنہ کرتے ہیں۔
    امریکہ۔ جمہوریت کا چمپٸین امریکہ دنیا کا مقروض ترین ملک ہے۔ ریپ اور سٹریٹ کراٸمز کے علاوہ منشیات کے استعمال میں بھی پہلے نمبر پر ہے۔ امریکہ دنیا میں سب سے زیادہ دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے۔ دنیا بھر میں امریکن فوجی اڈے موجود ہیں پچاس سال ویتنام کے ساتھ جنگ۔ عراق کویت جنگ کے علاوہ عراق شام اور افغانستان جیسے ممالک میں بلاجواز حملہ آور ہونا اور طویل عرصے تک رہ کر اربوں ڈالرز ضاٸع کرنا اور حاصل صرف شکست اور ذلت۔ جبکہ لاس ویگاس، میکسیکو سٹی، الاسکا سمیت کٸ امریکن سٹیٹس ڈرگ اور منشیات مافیاز کے مکمل کنٹرول میں ہیں۔ تاہم امریکن کانگریس اور صدر بھی پینٹا گون سے فوجی مہمات کے نتاٸج نہیں پوچھ سکتے ناں قرض کے باوجود بجٹ کم کرسکتے ہیں۔ ناں امریکن میڈیا سی اٸ اے اور پینٹاگون سے کوٸی سوال کرسکتا ہے۔ جبکہ حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جاری تقریر اسٹیبلشمنٹ نے دوران انتخابات رکوائی حالانکہ وہ عملاً تب امریکی صدر تھے۔

    بھارت دنیا میں سب سے بڑی سیکولر جمہوریت کا دعویدار ملک بھارت ہے، بھارت عالمی سطح پر خواتينٕ کے لیے غیر محفوظ ترین ملک ہے۔ دنیا میں اٹھارویں نمبر پر سب سے زیادہ قرض لینے والا ملک ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جھونپڑ پٹی ممبی بھارت میں۔ اِس کے علاوہ کم سن بچیوں کو فروخت کرنے میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ دفاعی اخراجات کے حوالے سے دنیا میں تیسرے نمبر پر بھارت ہے۔ جبکہ صرف دہلی میں ساڑھے تین لاکھ لوگ فیملی سمیت سڑکوں پر رہاٸش پذیر ہیں۔ بھارت اسلحہ خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ تاہم عوام کی زبوں حالی اور بھاری قرضوں کے باوجود بھارتی حکومت ناں فوج کی تعداد کم کرسکتی ہے ناں دفاعی اخراجات گزشتہ دنوں جب کرونا لاک ڈاٶن کےباعث بھارتی عوام اوآرہ کتوں کا گوشت کھانے پر مجبور تھی بھارتی حکومت رافیل خرید رہی تھی آرمی چیف کے مطالبے پر۔ تاہم بھارتی میڈیا را یا بھارتی آرمی کے اخراجات پر انگلی نہیں اُٹھا سکتا۔

    چین (چاٸنہ) مقروض ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔ دفاعی بجٹ کے لحاظ سے دنیا میں دوسرے نمبر پر۔ چین میں سوشلزم ہے مطلب میڈیا ہو یا عام آدمی کوٸی کسی پالیسی پر گُفتگو نہیں کرسکتا۔

    اسراٸیل آبادی۔ 87 لاکھ رقبہ باٸیس ہزار مربع کلومیٹر۔ اہم صنعتیں میڈیسنز ویکسینز اور اسلحہ بنانا۔ قرض لینے والے ممالک میں پچاسویں نمبر پر۔ دفاعی اخراجات پاکستان سے پانچ گُنا زاٸد ۔ روز قیام سے فلسطین شام لبنان اور اُردن پر آۓ روز بمباری کرنے کے باوجود اسراٸیلی میڈیا اپنی فوج کی اِس قتل عام میں حوصلہ افزاٸی کرتا ہے۔ اسراٸیلی صدر کے لیے جنگی تربیت لازم ہے۔

    پاکستان جسے ڈیپ سٹیٹ کا طعنہ دیا جاتا۔ موسٹ کرپٹ پالیٹیشنز رکھنے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ قرض کے حوالے سے 54 نمبر پر دفاعی اخراجات کے حوالے سے اٹھارویں نمبر پر۔ پاکستانی فوج 56 ممالک میں UNO کے امدادی مشنز میں مدد فراہم کرنے اور بہترین کارکردگی کی وجہ سے گزشتہ کٸ سال سے پہلے نمبر پر۔ اسلامی ممالک میں دفاعی بجٹ کے لحاظ سے پانچویں اور اہلیت کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے، جبکہ عدالتی نظام 120 ویں درجے تک گِرا ہوا ہے۔ پاکستان دنیا میں خیرات دینے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔ ملکی اخراجات سے قطع نظر عام عوام کا معیار ذندگی ہمسایہ ممالک سے کہیں بہتر ہے۔ میڈیا کے علاوہ ہر خاص و عام کو دفاعی اِداروں اور دفاعی پالیسی پر تنقید کرنے کی کُھلی اجازت ہے۔ جمہوریت کا مطلب ہر ملک میں ایک ہے مگر معیار الگ جن ممالک کی افواج دیگر ممالک میں قتل عام کرتی ہے وہاں کا میڈیا فوج کے ساتھ ہے مگر جس ملک کی فوج 56ممالک میں عوام کی مدد کرتی ہے وہاں صرف اِس وجہ سے تنقید کہ بولنے والوں کے لیے سخت قوانین نہیں جیسے سعودیہ، کوریا، چین، اور دیگر ممالک میں ہیں دفاعی پالیسیز ہمیشہ اِنٹیلی جنس رپورٹس کی بُنیاد پر بنتی ہیں لہٰذا دفاعی ادارے ہر ملک میں اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہوتے ہیں اور سیاست پر اثرانداز بھی۔ بس کہیں اِس پر بولنےکی کُھلی چھٹی ہے اور کہیں سخت سزا۔۔۔ اور پاکستان میں۔۔؟
    @A2Khizar

  • استعفے اور ملکی مفاد حصہ اول تحریر : راجہ حشام صادق

    لازوال محبتوں بھرا رشتہ ماں باپ جو اپنے بچے کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ماں باپ یہ نہیں دیکھتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نہیں ۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے فیصلے کرے۔

    کسی بھی ملک کا سربراہ باپ کی حیثیت رکھتا ہے اور ایک باپ کے فیصلے اپنے گھر اپنی دھرتی ماں کے لیے ہی ہونے چائیں۔بھلے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے گزشتہ تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں۔
    جس کی مثال گزشتہ حکومتوں کے دور میں نہیں ملتی۔

    کپتان بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد جب اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی بتائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    ان تین سالوں میں ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے کپتان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا۔یا یہ کہ لیں کہ اپنا فیصلہ تبدیل کیا کیونکہ وہ ملکی مفاد میں نہیں تھا۔اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے رہے اپوزیشن کا کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    قارئین میرا تو ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے بہادر اور نڈر وزیراعظم عمران خان نیازی کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کپتان نے تین سالوں میں حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    مسلم لیگ ن کے دورے حکومت میں ہم نے تو یہ بھی دیکھا کہ اپوزیشن استعفے کا کہتی تو ن لیگ والے مذاق اڑاتے تھے کہ لو گے استعفے وہ طلال چھودی اور باقی سارے اور یہی کیوں خود نواز شریف کو جب تک عدالت نے گھر نہیں پھیجا اس نے استعفہ نہیں دیا تھا۔
    پھر گلی گلی کہتا رہا مجھے کیوں نکالا۔

    کپتان نے جو استعفے مانگے اس کی وجہ ہی یہ تھی کہ وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا تھا۔ ان میں وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک کپتان کو عزیز تھے پر کپتان نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے لیے۔آپ سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے کپتان اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور کپتان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا تھا۔

    وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق کپتان کا جو فرض تھا وہ ادا کیا۔ کپتان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے ہیں وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔

    جمہوری حکمرانوں میں اسی طرح ہم نے اس سے قبل نہیں دیکھا۔اور نہ ہی سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے دیکھا۔کوئی بتائے ہمارے سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ کیا ہو؟ وجہ ان کا اصل مقصد وطن عزیز کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں تھا۔

    اللہ پاک کپتان کو سلامت رکھیں اور وہ اس ملک کے لیے مزید اچھے اچھے فیصلے کریں۔آمین

    @No1Hasham