Baaghi TV

Category: سیاست

  • جمہوری نظام ترقی کی ضمانت ہے تحریر:شمسہ بتول

    جمہوری نظام ترقی کی ضمانت ہے تحریر:شمسہ بتول


    جمہوریت عام طور پر قدیم یونانیوں سے وابستہ ہے۔ 18 صدی کے دانشوروں کے مطابق یونانیوں کو مغربی تہذیب کا بانی بھی سمجھا جاتا ہے۔ جمہوریت کا لفظ دو یونانی الفاظ ڈیموس جسکا مطلب لوگ اور کراتوس
    جسکا مطلب اصول کے ہیں کا مجموعہ ہے۔ پھر جیسے جیسے لوگوں میں شعور اور آگاہی پھیلتی گٸی ویسے ویسے جمہوریت کا نظام بھی دنیا میں پھیلتا گیا ۔ لفظ جمہوریت کی مختلف تعاریف بیان کی گٸی ہیں لیکن سادہ الفاظ میں جمہوریت کا مطلب ہے کہ عوام کی حکمرانی یعنی کے عوام اپنی مرضی سے آزادٸ راۓ کے ساتھ اپنے نماٸندے چن سکتی جو کہ عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آتے اور ریاست کا نظم و نسق چلاتے آسان لفظوں میں کہا جاۓ تو یہ کہ جمہوریت ایک سیاسی نظم و نسق کا نام ہے۔
    ” میریئم ویبسٹر “ نے جمہوریت کی تعریف کی ہے کہ "ایک ایسی حکومت جس میں اعلیٰ طاقت لوگوں کے سپرد ہوتی ہے اور وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر نمائندگی کے نظام کے ذریعے عام طور پر منعقد ہونے والے انتخابات میں شامل ہوتے ہیں۔” کیمبرج ڈکشنری“ کے مطابق ، جمہوریت "لوگوں کے درمیان آزادی اور مساوات پر یقین ہے یا اس عقیدے پر مبنی حکومت کا نظام ہے ، جس میں اقتدار یا تو منتخب نمائندوں کے پاس ہوتا ہے یا براہ راست عوام کے پاس۔
    خواندگی اور ناخواندگی یہ جمہوریت پر اثرات مرتب کرتی ہے۔
    کم ووٹر ٹرن آؤٹ ایک مسئلہ ہے جو ان ریاستوں میں زیادہ ہے جن میں شرح خواندگی کا تناسب کم ہے یا وہ معاشی اور معاشرتی لحاظ سے پسماندہ ہیں اور اس ناخواندگی اور لا شعوری کے جمہوریت پر نقصان دہ اثرات بھی ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Centre) کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ، اس دہائی میں او ای سی ڈی ممالک کے درمیان سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ کی شرح بیلجیم (87.2) ، سویڈن (82.6) اور ڈنمارک (80.8) میں ہے۔ اور یہ وہ ممالک ہیں جہاں شرح خواندگی 99 فیصد ہے۔ اس کے برعکس ، پاکستان میں حال ہی میں ووٹروں کی تعداد 58 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان میں شرح خواندگی بھی 60 فیصد سے کم ہے۔ شرح خواندگی اور ووٹر ٹرن آؤٹ کے درمیان براہ راست تعلق ہے اگر معاشرے میں ناخواندگی کی شرح زیادہ ہو تو ایک قابل قیادت کا انتخاب بہت حد تک ناممکن ہوتا ہے کیونکہ لوگ زات پات، رنگ و نسل اور برادری یا دیگر تعصبات کی بنیاد پر ووٹ دیتے انہیں یہ علم اور شعور ہی نہیں ہوتا کہ ان کا ووٹ ان کے اور اس قوم کے مستقبل کا زمہ دار ہے۔وہ ان تعصبات سے نکلنا ہی نہیں چاہتے انہیں اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ان کے ووٹ کی کیا اہمیت ہے۔
    اسی طرح شرح خواندگی کا قیادت کے معیار کے ساتھ براہ راست تعلق ہے سیاسی رہنما کچھ نہیں بلکہ ہماری طرح ہی اس معاشرے کے ارکان ہیں جو تمام اچھی اور بری خصوصیات رکھتے ہیں۔ ہمیں معاشرے کے افراد میں شعور اور آگاہی پیدا کرنا ہو گی تعصبات اور غلامی کی زنجیروں کو توڑنا ہو گا اور ہر فرق اور تعصب سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا تبھی ایک صحیح اور قابل قیادت کا انتخاب ممکن ہو گا۔ سمجھداری ، ذہانت ، وژن ، دور اندیشی ، وسیع النظری ، پختگی یہ خصلتیں صرف ایک تعلیم یافتہ اور اچھی طرح سے تیار معاشرے میں تیار ہوتی ہیں ترقی یافتہ اور پسماندہ ممالک کی پارلیمانوں کے ارکان کے درمیان موازنہ واضح طور پر اسی حقیقت کو ظاہر کرے گا۔ جہاں ترقی یافتہ ممالک کے اراکین پارلیمنٹ نہ صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں بلکہ کچھ خاص تعلیمی شعبوں میں بھی ترقی یافتہ ہوتے
    ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں میٹرک پاس بھی جعلی ڈگری لےکر اسمبلیوں میں بیٹھے ہوتے اور انہیں وہاں تک پہنچانے میں کہیں نہ کہیں ہماری ووٹ سے خیانت بھی ہوتی اور کچھ لوگ تو اثرو رسوخ کا استعمال کر کے یا ووٹ خرید لیتے یا چوری کر لیتے تو پھر اس معاشرے میں جمہوریت کیسے پروان چڑھے گی
    ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ووٹ ایک امانت ہے ہمارے ہاں لا شعوری کا یہ عالم ہے کہ ہم سیاستدانوں کو خدا سمجھ لیتے کہ بس یہ ہمارے علاقے کا ہے یا یہ ہماری زات کا ہےیا یہ اتنا بڑا جاگیر دار ہے یا فلاح وزیر کا یا فلاں چوہدری کا بیٹا ہے تو اسی لیے اسے ہی ووٹ دینا ہے یہ امانت میں خیانت کے زمرے میں آتا ہے ۔ اور چند پیسوں کی خاطر ووٹ بیچ دینا تو پھر اس معاشرے میں جمہوری نظام کیسے قاٸم ہو گا۔ وہاں پر تو پھر کرپشن اور لاقانونیت ہی قاٸم ہو گی تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کی بجاۓ مزید پسماندگی کی طرف جاۓ گا۔ اور الیکشن کے دنوں میں نام نہاد عوام کے نماٸندے اپنے گارڈز کے ساتھ کھلے عام فاٸر کر ووٹ کاسٹ کرنے والوں کو ہراساں کرتے کتنے ہی لوگ گولیوں کی نظر ہو جاتے کیا یہ جمہوریت ہے نہیں یہ غنڈہ گردی ہے آمریت ہے لاقانونیت ہے ۔ ہمیں اس ملک و ملت کی فلاح و بہبود کے لیے حقیقی معنوں میں جمہوری نظام تشکیل دینا ہو گا ووٹ کا درست استعمال کرنا ہو گا اور اس کے لیے لوگوں میں شعور اجاگر کرنا ہو گا خواندگی کی شرح کو کم سے کم کرنا ہو گا تا کہ معاشرے ہر فرد اس قابل ہو سکے کہ وہ اس قوم کے
    مستقبل کے لیے ایک درست قیادت کا انتخاب کرسکے۔

    ‎@b786_s

  • ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 04)  تحریر:محمداحمد

    ملک میں اصل گڑبڑ کہاں ہے؟ جیسی عوام ویسے حکمران (قسط ۔ 04) تحریر:محمداحمد

    جیسا کہ پچھلی 3 تحریروں میں بتایا کہ کس طرح معاشرے میں لوگ اپنا ضمیر بیچ رہے ہیں اپنے بچوں کو حرام کھلاتے شرم محسوس بھی نہیں کرتے اور دن رات ملاوٹ کرنا ، رشوت کا لین دین کرکے خفیہ طریقے سے پیسے کما رہے ہیں کیونکہ جو ملاوٹ کرکے پیسہ کمایا جاتا ہے وہ حلال نہیں کہلاتا اس لئے آج چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے ،آٹے میں ریتی ، چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ اور پھلوں میں میٹھے انجیکشن کیوں لگاۓ جاتے ہیں جو کہ درج ذیل ہے

    چاۓ کی پتی میں چنے کے چھلکے:
    مارکیٹ میں دستیاب 300 روپے کلو چنے خرید کر اس کا چھلکا الگ کر لیتے ہیں بعد میں اس چھلکے کو پیس کر اس کو رنگ کرکے چاۓ کی پتی کے اندر مکس کرکے وزن بڑھا کر بیچتے ہیں خالص چاۓ کی پتی میں کبھی بھی کرکراپن موجود نہیں جبکہ ملاوٹ والی چاۓ میں آپ کو کر کراپن ضرور ملے گا اس لیے مارکیٹس میں مختلف برانڈ کی پتیاں دستیاب ہیں

    آٹے میں ریتی کی ملاوٹ:
    آٹے میں ریتی کا استعمال وزن بڑھانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے غریب کیلئے خالص آٹا لینا محال ہے دن بدن ملاوٹ عروج پر ہوتی جارہی ہے اور لوگوں کو طرح طرح کے برانڈ بنا کے آٹے کو مختلف طریقوں سے بیچا جا رہا ہے جس طرح آٹے کے دام آسمان کو چھو رہے ہیں غریب کے لیے دو وقت کی روٹی کھانا مشکل در مشکل ہوتا جا رہا ہے گندم میں لوگ ریت مکس کرتے پکڑے گے ہیں پھر کہتے ہیں حکمران خراب ہیں حکمران اس لئے خراب ہیں کیونکہ یہاں کے تاجر جو خراب ہیں
    جیسی عوام ویسے حکمران

    چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسہ:
    چنے کے آٹے میں لکڑی کا بھوسے کی ملاوٹ زیادہ اس لئے ہوتی ہے کیونکہ اس کو پیس کر جب باریک کر لیا جاتا ہے تو اس کی رنگت سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ خالص کون سا ہے یا ملاوٹ والا کون سا ہے ذائقہ سے ہی پہچانا جا سکتا ہے کہ یہ چنے کا آٹا ہے یا لکڑی کا بھوسہ
    اخلاقی طور پر دیوالیہ قوم سے کچھ بعید نہیں جو رمضان کے مبارک دنوں میں بھی اپنی سمت کا تعین درست نہیں کرتی بلکہ ملاوٹ اور دھوکہ دہی عروج پہ چلی جاتی ہے تمام باتیں کتنی حیران کن ہے ایک پل کے لئے ہم یہ نہیں سوچتے کہ ہم کتنے نیک ہیں

    پھلوں میں میٹھے انجیکشن:
    پھلوں میں میٹھے انجیکشن کا دھندہ اپنی جگہ 12 ماہ عروج پر ہوتا ہے بے موسم فروٹس بڑی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں پھلوں کو انجیکشن لگا کر وقت سے پہلے مارکیٹ میں دستیاب کیا جاتا ہے اس سے بہت سے نقصانات ہو رہے ہیں ۔ سب سے بڑا نقصان لوگوں میں صحت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی زیادتی بہت زیادہ ہو جاتی ہے یہ بیماریاں اب عام ہو گئ ہیں یہ بیماریاں زیادہ کیلوریز لینے کی وجہ سے جنم لے رہی ہیں جس سے صحت متاثر ہو رہی ہے ہمیشہ صحت زیادہ چینی اور کیلوریز لینے سے خراب ہوتی ہے اس لئے بے موسمی فروٹس کا استعمال کم کرنا چاہیے کوشش کریں خالص فروٹس کا استعمال کریں خالص فروٹس دیہاتی علاقہ جات میں زیادہ مقدار میں میسر ہوتے ہیں اس کے برعکس ملاوٹ کا دھندہ ہر جگہ بہت عام ہے

    اسی طرح اگلی قسط جلد شئیر کیا جاۓ گا کہ کس طرح سبزیوں پر رنگ ، پیٹرول میں گندا تیل ، بچوں کی چیزوں میں زہر آلود مٹیریل ، گوشت کو پانی کے انجیکشن لگا کر وزن زیادہ کرنا شامل ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہو سکتا بہت سی قومیں تباہ ہوگئیں جو دھوکا بازی، فراڈ اور ملاوٹ کیا کرتی تھیں ہمارے ضمیر مر چکے ہیں اس لئے ہمیں اپنے اعمال اپنے کردار کو دیکھنا چاہیے کہ ہم ہی ملک میں اصل گڑ بڑ کرنے والے ہیں حکمرانوں کو ہم برا بھلا کہتے نہیں تھکتے لیکن اپنے گریبان میں جھانک کر بھی نہیں دیکھتے ۔ جیسی عوام ویسے حکمران

    @JingoAlpha

  • یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    یوٹرن، استعفے اور ملکی مفاد تحریر:سحر عارف

    جیسے ماں باپ اپنی اولاد کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے کچھ تلخ فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے اور سوچتے کہ ان کے عزیزو اقارب کو ان کا کیا گیا فیصلہ پسند آئے یا نا آئے۔ بس وہ کر گزرتے ہیں جو اپنی اولاد کے لیے بہتر سمجھتے ہیں۔ ٹھیک اسی طرح ملک کا جو سربراہ ہوتا ہے اس کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی سربراہی میں ملک کی ساکھ کو بہتر اور مستحکم بنانے کے لیے اچھے سے اچھے اقدامات کرے۔

    چاہے پھر ملکی مفاد کے لیے اسے کوئی کڑوا فیصلہ ہی کیوں نا کرنا پڑے۔ ہم نے پیچھلے گزرے تین سالوں میں ملکی مفاد کے حق میں ایسے فیصلے ہوتے دیکھیں ہیں جس کی مثال گزرے کئ سالوں اور سابقہ حکمرانوں کے ادوار میں نہیں ملتی۔

    جی ہاں بائیس سالوں کی جدوجہد کے بعد آخرکار جب عمران خان پاکستان کے وزیراعظم بنے تو سب سے پہلے انھوں نے قوم کو اپنے منشور کے حوالے سے آگاہ کیا۔ انھیں یہ بات باخوبی باور کروائی کہ میری ذات اس عہدے کو سنبھالنے کے بعد اب جو بھی فیصلے کرے گی وہ ملکی مفاد کے لیے ہونگے۔ میرے لیے سب سے پہلے پاکستان کے مفاد ہونگے انھیں حاصل کرنے کے لیے اگر مجھے میرے کسی اپنے کے خلاف بھی جانا پڑا تو جاؤں گا۔

    پھر بےشک ہمیں یہ بھی دیکھنے کو ملا کے عمران خان نے اقتدار سنمبھالنے کے بعد اپنے کئی فیصلوں میں یوٹرن لیا اور اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی تنقید کا بھی نشانہ بنے۔ جن کا یہ کہنا تھا کہ عمران خان ملک کیا سنبھالے گا جب اپنے ہی کئے گئے فیصلوں پر بار بار یوٹرن لے لیتا ہے۔

    پر میرا یہ ماننا ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلط فیصلہ ہو جائے تو اس پر یوٹرن لے لینا زیادہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ اپنے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے وہ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھے اور یقین جانیں ہمارے نڈر اور بہادر وزیراعظم عمران خان کی سوچ اس سے بھی کہیں آگے کی ہے۔ جو ہر وقت اپنے ملک اور عوام کے مفاد کے لیے سرتوڑ محنت کرتے ہیں۔ اس بات کا باخوبی اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ انھیں تین سالوں میں یعنی عمران خان کی حکومت میں کئی وزراء سے استعفے بھی لیے گئے اور انھیں ان کے عہدوں سے دستبردار کر دیا گیا۔

    جس کی وجہ ہی یہ تھی کہ ان وزراء نے اپنے عہدوں کا صحیح حق ادا نہیں کیا۔ بےشک ان میں سے وہ وزراء بھی شامل تھے جو بہت حد تک عمران خان کو عزیز تھے پر خان صاحب نے اپنے تعلقات سے ہٹ کر ملکی مفاد میں فیصلے کیے۔ اب سابقہ وزیر خزانہ اسد عمر کی ہی مثال لے لیں جنہوں نے خان صاحب اور اپنی پارٹی کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ پر جب ان سے بھی ان کی وزارت نا سنمبھالی گئی اور خان کو محسوس ہوا کہ ملک میں مہنگائی پر قابو نہیں پایا جارہا اور ملکی خزانے کو بھی کوئی خاصا فائدہ نہیں پہنچ رہا تو انہوں نے اسد عمر سے بھی استعفیٰ طلب کرلیا۔

    کیونکہ وجہ صرف ملکی مفاد تھی اور اس کے متعلق عمران کا جو فرض تھا انہوں نے وہ ادا کیا۔ عمران خان نے اپنے ہر عمل سے یہ بات ثابت کی ہے کہ جو وعدے انہوں نے اپنی قوم سے کیے تھے وہ وعدے وہ بھولے نہیں ہیں۔ اسی طرح موجودہ حکومت سے قبل ہم نے سابقہ حکمرانوں میں کبھی کسی کو ملکی مفاد کے حوالے سے ایسے اقدامات کرتے نہیں دیکھا تھا۔ کبھی کسی سابقہ وزیراعظم نے اپنے کسی چہیتے وزیر سے اس کی ناقص کارکردگی پر استعفے کا مطالبہ نہیں کیا تھا کیونکہ ان کا اصل مقصد ملک کو لوٹنا تھا ملکی مفاد کے لیے کام کرنا نہیں۔

    @SeharSulehri

  • امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا الزام پاکستان پر کیوں لگا رہا ہے   تحریر:

    امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا الزام پاکستان پر کیوں لگا رہا ہے تحریر:

    کچھ دن پہلے امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان نے کہا ’’کہ افغانستان افغانیوں کا ملک ہے اور اس کا دفاع کرنا افغانیوں کی ذمہ داری ہے‘‘۔ آخر کار بیس کے بعد امریکہ کو خیال آیا کہ افغانستان کو ڈیفینڈ کرنا افغان حکومت اورافغان عوام کی ذمہ داری ہے اور دوسری بات جو کہ بالکل گھٹیا تھی وہ یہ ’’کہ پاک افغان سرحد پر ایسے ٹھکانے اور پناہ گاہیں ہیں جہاں سے افغانستان کا امن خراب ہو رہا ہے اور پاکستان کو اس کا خیال رکھنا چاہیے اور اسے کنٹرول کرنا چاہیے‘‘۔ یہ بات بہت مضحکہ خیز اور بے معنی ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب یورپی یونین کے اعلیٰ ترین عہدیدار نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے ’’کہ اندازے کے مطابق طالبان نے افغانستان میں 65 فیصد علاقے پر قبضہ کر لیا ہے‘‘  اور اب تک طالبان بارہ صوبے لے چکے ہیں اور بہت جلد ہی انیس صوبوں پر قابض ہو جائیں گے۔ اب سے تقریبا تین ماہ پہلے سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) نے امریکی اخبارات کو ایک خبر لیک کی تھی ’’کہ امریکی افواج کے انخلا کے بعد زیادہ سے زیادہ چھ ماہ تک کابل کھڑا رہ سکتا ہے‘‘۔ ان تمام صورتحال میں امریکی وزیر دفاع کا تبصرہ انتہائی بے معنی اور مضحکہ خیز ہے۔
     آج کل طالبان نے ایک عجیب حکمت عملی اختیار کی ہے وہ چار یا پانچ جنگجوؤں ذریعے ایک شہر یا قصبے یا دارالحکومت کو پیغام بھیجتے ہیں اور وہاں کے لوگوں اور لیڈرشپ کو مطلع کر دیتے ہیں کہ ہم یہاں پہ آ چکے ہیں ، آپ ہماری پناہ میں آجائے اور ہتھیار ڈال دیں۔ اور یہ فارمولا کافی حد تک کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔ اور اگر انہوں نے ابھی تک بڑے شہروں یا بڑے صوبوں پر قبضہ نہیں کیا ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں ، کہ زیادہ خون نہ بہایا جائے اور سرحدوں کو پہلے کنٹرول کیا جائے اور اب تک ایران ، وسطی ایشیائی ممالک اور پاکستان کے ساتھ منسلک سرحدیں ، اس کے روٹس ، اور اس کی شاہراہیں طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

    اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر *’’ سینکشن پاکستان ‘‘* کے نام سے ایک کمپین چلائی جا رہی ہے۔ اس کمپین کا آغاز 30 جون کو کیا گیا تھا۔ ایک پاکستانی سوشل میڈیا تجزیہ کار ، عمر،  جو "ویو لائٹکس” کے نام سے ایک ویب سائٹ چلاتا ہے ، نے اس کمپین کا مکمل تجزیہ کیا ہے کہ یہ مہم کیسے شروع کی گئی اور کیسے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے آگے بڑھایا گیا۔ اس کمپین میں 9 اگست تک تقریبا دو لاکھ ٹویٹس اور ریٹویٹس کیے گئے تھے ، جن میں سے بیشتر جعلی اکاؤنٹس تھے ، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اس پوری کپمین کا تعلق افغان حکومت اور ہمارے پڑوسی ملک بھارت سے ہے۔ اس کمپین کے ذریعے ایک پورا ماحول بنایا جا رہا ہے اور پاکستان کو افغانستان میں نیٹو اور امریکہ کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں اس کمپین کو کاونٹر کرنا اور دلائل کا سہارہ لے کر بھرپور جواب دینا چائیے۔

    *اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ڈرامہ اچانک کیوں رچایا جا رہا ہے؟* اس کا ایک پس منظر یہ ہے کہ نیٹو ممالک کے آپس میں ڈیبیٹس ہوئی ہیں ، کہ بیس سال پہلے ہم امریکہ کے ساتھ افغانستان گئے اور وہاں سے طالبان کی حکومت کو ہٹا دیا۔ اب بیس سال بعد امریکہ نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کر کے افغانستان کو دوبارہ طالبان کے حوالے کر دیا ہے اور یہ نہ صرف امریکہ کی بلکہ نیٹو ممالک اور ان کی افواج کی بھی ناکامی ہے۔ اور اب ان کی قیادت سمجھتی ہے کہ یہ نیٹو کی بطور اتحاد بڑی ناکامی ہے۔  جس سے یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ نیٹو کی فعالیت اور افادیت کیا رہ جاتی تھی۔ اور اب سب ایک دوسرے پر ملبہ پھینک رہے ہیں۔ اور یہاں تک کہ ڈیلی میل کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے برطانوی وزیر دفاع نے امریکہ پر الزام عائد کیا ’’کہ امریکہ کا فیصلہ بالکل غلط ہے اور امریکہ کو ایسی واپسی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے نیٹو کے باقی ممالک کو ہمارے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ کرنے کی پوری کوشش کی کہ برٹش افغانستان میں بیٹھنے کے لیے تیار ہے لیکن نیٹو کے دیگر ممالک میں سے کوئی بھی اس کے لیے تیار نہیں ہے‘‘۔ لیکن حقیقت کچھ مختلف ہے کیونکہ برطانوی معیشت کے حالات بالکل ایسے نہیں ہیں کہ امریکہ کے بغیر برٹش افغانستان میں بیٹھ کر وہاں ذمہ داری لے سکیں۔ اس انٹرویو میں برطانیہ کے سیکریٹری دفاع نے یہ بھی کہا ’’کہ ہمارے وسائل اس وقت اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن ہم دس یا پندرہ سال بعد واپس آ سکتے ہیں۔ اگر یہاں حالات خراب ہوئے تو ہم ایک بار پھر افغانستان کا دفاع کریں گے‘‘۔ لیکن اگر برطانیہ کی اپنی سیاسی صورت حال پر غور کیا جائے، تو یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد ، برطانیہ کے اندر انگش ، سکاٹش ، شمالی آئرلینڈ اور ویلز کے درمیان برطانوی معیشت ، سیاسی مسائل ، انگریزی قانون اور برطانوی آئین پر تنازعہ پیدا ہوا ہے جس سے برٹش کے اپنے وجود کو کافی خطرہ ہے۔

    اگر ایک طرف یہ رونا پھیٹنا ہے ہے تو دوسری طرف چین اور روس خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ اس لیے مغرب میں پچھتاوے کا ایک احساس ہے اور اس احساس ندامت میں مغرب کو قربانی کا ایک بکرا چاہیے ، اس لیے وہ پاکستان کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں کہ پاکستان کی وجہ سے ہم افغانستان میں ناکام ہوگئے۔ بیس سال تک دنیا کا سب سے بڑا فوجی اتحاد افغانستان میں بیٹھا رہا اور کوئی حل تلاش کرنے میں ناکام رہا۔ اس تمام صورتحال کے باوجود صدر بائیڈن اس بات پر قائم ہیں کہ 31 اگست تک تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا جائے گا۔ امریکہ نے کچھ فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ لیکن سوچنے کے بات کہ حملے کیسے کی گئیں؟ بحرحال یہ ایک کاسمٹک نیچر کے حملے ہیں اور اگر بیس برس میں اس قسم کی بمباری سے اور اس قسم کی حکمت عملی سے بہت فرق نہیں پڑا تو اب کونسا فرق پڑ جانا ہے۔ *یہ حقیقت ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں کوئی میدان نہیں ہارا لیکن 20 سالہ جنگ ہار گئی۔* اس کی وجہ کیا ہے؟  
     
    دوسری طرف طالبان کے پاس امریکی اور نیٹو افواج کی بھاری مشینری کو چیلنج کرنے کے لیے طاقتور فوج اور بھاری فوجی مشینری نہیں تھی۔ مختصر یہ کہ طالبان کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ وہ مستقل مزاج تھے اور انہوں نے کسی بھی صورت میں ہتھیارنہیں ڈالنا تھا اور امریکی غلامی اور امریکہ کے لائے ہوئے نظام کو قبول نہیں کرنا تھا۔ دوسری طرف اپنی کامیابی کے لیے امریکہ کو ایک سیاسی نظام قائم کرنا تھا جس میں طالبان کو جگہ دی جا سکے۔ اور اس نظام کو لانے کے لیے امریکہ کے پاس 2002 کے بعد درجنوں مواقع تھے جب امریکہ نے طالبان کو شکست دے کر افغانستان پر قبضہ کر لیا ، لیکن امریکہ نے ان مواقع سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ پاکستانی حکومت ، اسٹیبلشمنٹ اور دفتر خارجہ نے بارہا امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے کہا کہ آپ طالبان کے ساتھ مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں تا کہ افغانستان میں ایک مستحکم حکومت بن سکے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے *’’کہ وزیراعظم عمران خان نے ستمبر 2020 میں واشنگٹن پوسٹ میں ایک مضمون لکھا تھا جس میں عمران خان نے لکھا تھا کہ افغانستان میں استحکام حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن امریکہ کو جلد بازی میں انخلا نہیں کرنا چاہیے‘‘۔*
     
    لیکن امریکہ کی شاید ایک مختلف حکمت عملی تھی تاکہ وہاں کوئی مستحکم حکومت قائم نہ ہو سکے اور وہ چاہتے تھے کہ افغانستان میں امن خراب ہو تاکہ وہ اسے ہمیشہ اپنے کنٹرول میں رکھ سکیں۔ حقیقت میں امریکہ نے افغانستان میں سیاسی حل تلاش کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی اور اس کے برعکس پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ طالبان کے ساتھ ہمارے مذاکرات کروائیں۔ اور وہ مذاکرات دوحہ میں کئی مہینوں تک جاری رہی اور اس کے نتیجے میں امریکہ نے اشرف غنی حکومت اور طالبان کے درمیان معاہدہ کرنے کے بجائے دو الگ الگ معاہدے کیے ، ایک طالبان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بارے میں اور دوسرا اشرف غنی کے ساتھ اس کی حمایت جاری رکھنے کے لیے۔
     
    اس کے علاوہ ایک بڑا *سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ امریکہ افغانستان میں کیوں تھا؟* ظاہر ہے کہ امریکہ کا عوامی بیانیہ یہ رہا ہے کہ ہم یہاں نیشن بلڈنگ کے لیے آئے ہیں اور یہاں سے ہم پر حملہ کیا گیا تھا۔ لہذا ہمیں اسے نیوٹرلائز کرنا ہے تاکہ یہاں سے امریکہ پر مزید دہشت گردانہ حملے نہ ہو۔ ماہرین کے مطابق امریکہ کے اندر فیصلہ سازی کے کئی مراکز ہیں جن میں پینٹاگون ، وائٹ ہاؤس ، این ایس اے ، اسٹیٹ ڈیمپارٹمنٹ اور سی آئی اے شامل ہیں۔ بہرحال سی آئی اے اور پینٹاگون افغانستان میں رہنا چاہتے تھے اورپوری خطے کو یہاں کنٹرول کرنا چاہتے تھے تاکہ چین کی وسطی ایشیا اور روس تک ممکنہ اقتصادی اور اسٹریٹجک توسیع کو روکا جاسکے ، اور پاکستان اور ایران پر بھی نظر رکھی جائے۔ لیکن اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی اس پر واضح رائے تھی کہ ہمیں افغانستان سے نکل جانا چاہیے۔ اب یہاں بیٹھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اربوں ڈالر ضائع ہو رہے ہیں اور اس مسئلے کا کوئی حل نہیں ہے۔ جو سابق امریکی صدرٹرمپ نے بھی قبول کیا تھا اور بعد میں صدر بائیڈن نے بھی اینڈورس کیا۔
     
    اس ساری صورتحال میں پاکستان کے لیے بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آرہا۔ دوسری طرف طالبان امریکہ ، پاکستان ، چین ، روس اور دیگر پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور طالبان نے یہ بھی باور کروایا ہے کہ پاکستان بشمول تمام ہمسائیہ ممالک کے لیے ہمارے طرف کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ ایسے میں طالبان کمانڈر نے حال ہی میں 15 منٹ کا ایک آڈیو ریکارڈ جاری کیا ہے۔ جس میں طالبان جنگجوؤں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری املاک اور سرکاری دفاتر کو نقصان نہ پہنچائیں اور ایسی شکایات عوام کی طرف سے نہیں آجانا چاہئیے۔ اور معلومات سے یہ بھی  پتہ چلتا ہے کہ افغانستان سے آنے والے سوشل میڈیا پر وائرل تشدد کی زیادہ تر ویڈیوز ، خبریں اور افواہیں جعلی یا پرانی ہیں۔
     
    طالبان اب بھی امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ امریکہ کے خصوصی نمائندہ زلمے خلیل زاد ایک وفد کے ساتھ قطر پہنچے ہیں جہاں وہ طالبان سے ملاقات کررہے ہیں اور وہ طالبان پر ایک بار پھر زور دے رہے ہیں کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ سیاسی سیٹلمینٹ کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ وہ طالبان کو سیاسی حل کے لیے مجبور کرے۔ اس صورتحال میں بھارت طالبان کے ساتھ تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے بھرپور کوشش بھی کی لیکن ابھی تک کوئی بامعنی مذاکرات نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ بھارت دونوں طرف سے کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک طرف وہ طالبان سے بات چیت کرنا چاہتا ہے ، تو دوسری طرف وہ کابل حکومت کو مدد کی یقین دہانی کروا رہا ہے۔

    Written by: Zubair Hussain 
    PhD scholar, School of Medicine,
    Seoul National University 
    South Korea 
    Email: 2021-25986@snu.ac.kr
    Twitter: @zamushwani

  • آل انڈیا مسلم لیگ، اصل مسلم لیگ . تحریر : عظمیٰ صابر

    آل انڈیا مسلم لیگ، اصل مسلم لیگ . تحریر : عظمیٰ صابر

    𝐇𝐀𝐏𝐏𝐘 𝐈𝐍𝐃𝐄𝐏𝐄𝐍𝐃𝐄𝐍𝐂𝐄 𝐃𝐀𝐘 Flag of Pakistan

    یہی ھے دل، یہی دُنیا و دین ! زندہ باد
    مرا گھروندا، مری سرزمین ! زندہ باد

    جمالِ سبز ! ترے حاسدین پر لعنت
    ھلالِ نُور ! ترے عاشقین، زندہ باد
    رحمان فارس

    پاکستان مسلمانان برصغیر کی لازوال قربانیوں کا ثمر ہے جب مسلمان ایک قوم بن کر ابھرے۔جان ,مال ,گھر بار ہر طرح کی قربانی دی اور اپنے مقصدکو پالیا یہ وطن دین اسلام اور اس کی اساس "کلمہ طیبہ ” سے والہانہ عقیدت کا انعام ہے جسے اللہ رب العزت نے 14 اگست 1947 کو ہمارے دامن میں ڈالا

    ہمارا پاکستان ,ہماری نسلوں کا پاکستان ہمارے دلوں کی دھڑکن اس دنیا میں ہماری جائے اماں

    برصغیر میں ہندوئوں کی نمائندہ جماعت "انڈین نیشنل کانگریس 1885 میں قائم ہوئ بیشتر مسلمان بھی اس جماعت سے وابستہ ہوگئے لیکن وقت نے اور ہندو لیڈروں کے متعصبانہ رویے نے ثابت کیا کہ کانگریس محض ہندوئوں کی نمائندہ جماعت ہے مسلمان ان کے رویے سے کافی دلبرداشتہ ہوئے مسلمان رہنمائوں نے ڈھاکہ میں 1906 میں ” آل انڈیا مسلم لیگ "کی بنیاد رکھی تاکہ برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے انکی بہتر طور پر نمائندگی کی جاسکے.

    "پاکستان ”
    جسکی تخلیق کا سہرا عام مسلمانوں اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سر ہے ۔وہ مسلم لیگ جسکے رہنمائوں نے قائد کی سربراہی میں مسلمانوں میں الگ وطن کے حصول کے لئے امنگ پیدا کی ۔اندھیرے میں روشنی کی کرن دکھائ ۔انکی بےلوث رہنمائ کی ۔وہ عظیم لوگ جن کے کردار سے صداقت کی مہک آتی تھی انکی رہنمائ میں پاکستان ہماری منزل بنا ہندوستان میں مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت کا نام "مسلم لیگ ” جس نے نامساعد حالات میں برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کی سیاسی جنگ لڑی ۔قائداعظم جو وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے انہوں نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے مقدمے کی پیروی اس خوبی سے کی کہ دنیا کا دوسرانظریاتی ملک جسکی اساس کلمہ ہے ہمارا وطن ٹھہرا وہ وطن جو ہماری دھڑکنوں میں بستا ہے وہ وطن جسکی ازاد فضائوں میں ہم سکون سے سانس لیتے ہیں بالاخوف زندگی جیتے ہیں میرے جذبات کی تفسیر ہے پاکیزہ زمین میرے ایمان کی تکمیل ہے یہ حبِ وطن ملک عزیز میں قومی پرچم
    "پارٹی پرچم "نہیں بن سکتا

    لیکن ……
    پاکستان کی خالق سیاسی پارٹی
    "مسلم لیگ ” کا نام استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے؟
    پاکستان کی خالق جماعت کانام بھی قومی پرچم کی طرح معزز اور محترم کیوں نہیں؟
    اس نام پر درجن بھر بچہ پارٹیاں جن کی ناتو عوام میں جڑیں ہیں اور ناہی پذیرائی۔ جن کے لیڈروں کا کردرا اس نام سے میل ہی نہیں کھاتا جو کسی بھی طرح اس قابل نہیں کہ مسلم لیگ کی حقیقی لیڈر شپ کے وارث کہلاسکیں وہ کیسے اس نام کو استعمال کرتے ہیں؟
    وہ کیسے معصوم عوام کی مسلم لیگ سے محبت کو کیش کرتے ہیں کیسے انکی کم علمی کا فائدہ اٹھاتے ہیں؟
    اگر مسلم لیگ کے نام پر بنی تمام پارٹیاں اور انکی لیڈر شپ اتنی ہی قابل ہے تو اپنے زور بازو پر عوامی مقبولیت کا مظاہرہ کریں الیکشن میں حصہ لیں اور اکثریت حاصل کرکے اپنی قابلیت کالوہا منوائیں.

    لیکن …………..
    حقیقت تو یہ ہے کہ یہ تمام سیاسی پارٹیاں جو مسلم لیگ کے نام سے عوام کے سامنے اتی ہیں ان سے اگر مسلم لیگ کے نام کا اسمان چھین لیا جائے تو انکے پائوں تلے زمین بھی باقی نا رہے وہ بچہ جس کی تعلیم محض واجبی یا پرائمری تک ہے ۔اسے صرف اتنا پتہ ہے کہ "مسلم لیگ "پاکستان کی خالق جماعت ہے اور وہ تمام عمر لفظ "مسلم لیگ "کا احسان مند رہے اور حقیقی مسلم لیگ کی کارکردگی پر دو نمبر مسلم لیگ کو ووٹ دیتارہے تو قصوروار کون ہے ؟
    وہ کم علم رکھنے والا فرد توبلکل بھی نہیں کیونکہ وہ تو یہ شعورہی نہیں رکھتا اسکی حب الوطنی کسی شک سے مبراہے وہ یہ شعور نہیں رکھتا ہمارے ملک میں خواندگی کا تناسب بہت کم ہے بلکہ بہت سے پڑھے لکھے افراد بھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ موجودہ مسلم لیگ کا قیام پاکستان سے کوئ تعلق نہیں۔
    "مسلم لیگ "پاکستان کاقابل فخر اور خالق برانڈ "ہے جسکا ٹیگ استعمال کرنے کی اجازت ہر کسی کو نہیں دی جاسکتی
    کجا یہ کہ اسکے نام پر بےتحاشہ سیاسی پارٹیاں سیاست کرنے کی کوشش کریں اورعوام کی معصومیت کافائدہ اٹھائیں ۔کیونکہ :

    "دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا ”

    اب مسلم لیگ کے نام پر جاری اس کھیل کو بند ہوجانا چاہیے.

    @Nucleus_Pak

  • میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں – محمد نعیم شہزاد

    میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں – محمد نعیم شہزاد

    میاواکی جنگل ، ماحولیاتی اور عوامی مسائل، ترجیحات کیا ہیں
    محمد نعیم شہزاد

    ماحولیات پر انسانی عوامل کے اثرات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی سے ترقی کرتی دنیا فطرت سے بہت دور ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں تباہ کن ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں اور ہمارے لیے مشکلات کھڑی کر دیتی ہیں۔ انھیں مشکلات میں سے ایک سموگ بھی ہے ۔ گزشتہ کچھ برسوں سے پاکستان کے بڑے شہر لاہور میں صورتحال دگرگوں رہی اور شہری سموگ کی وجہ سے پریشان رہے۔ ان حالات کو قابو کرنے کے لیے حکومت نے شجر کاری اور جنگلات لگانے کی مہم کا آغاز کیا جو بہت خوش آئند اقدام ہے۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب دس ارب درخت لگانے کا خواب رکھتے ہیں اس کی تکمیل کے لیے انھوں نے لاہور میں میاواکی جنگلاتی منصوبے کا افتتاح بھی کر دیا ہے۔

    مرحوم جاپانی نباتاتی ماہر اکیرا میاواکی کی طرف سے شروع کی گئی ایک تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ، جنگل 12.5 ایکڑ پر محیط ہے اور اس میں 165،000 سے زیادہ پودے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متوقع طور پر درختوں کے عام رفتار کی نسبت 10 گنا تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے ۔ 10 ملین آبادی کا یہ بڑا شہر حالیہ برسوں میں سموگ کی لپیٹ میں آیا ہے جس نے سکولوں کو بند کرنے پر مجبور کیا ہے اور اسے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ایک بنا دیا ہے۔

    جب سے 2018 میں درخت لگانے کی مہم شروع ہوئی ہے ، ملک میں 1 ارب مزید درخت لگائے گئے ہیں اور مون سون کے موسم میں مزید 500 ملین پودے لگائے جا رہے ہیں۔

    یقیناً یہ ایک مثبت اصلاحی اقدام ہے اور عوام نے اس کا بھرپور استقبال بھی کیا ہے اور اس سال یوم آزادی پر ہر گھر کی طرف سے ایک درخت اگانے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے۔ اور عوامی طور پر شعور بیدار کیا جا رہا ہے کہ یوم آزادی پر ہر سال لوگ جھنڈے، بیجز، جھنڈیاں اور دیگر اشیاء پر ہزاروں روپے خرچ کر دیتے ہیں جن سے سوائے خوش طبعی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا مگر ایک درخت اگانے سے ہمارے ماحول میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ فضائی آلودگی کم ہوگی اور سموگ جیسی مصیبت سے بھی جان چھوٹے گی۔

    شجر کاری اور جنگلات کا پھیلاؤ یقیناً حکومت کا احسن اقدام ہیں مگر ماحولیاتی مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ حکومت کو عوامی مسائل پر بھی توجہ دینی چاہیے ورنہ یہ مسائل حکومت کی مقبولیت کو بری طرح گرا دیں گے اوردوسری سیاسی جماعتیں مہنگائی جیسے ناسور کا فائدہ اٹھا کر حکومت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکیں گے۔ موجودہ وقت کا سب سے بڑا عوامی مسئلہ حد سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ پھل، سبزی، گراسری، پیٹرولیم مصنوعات کسی بھی چیز کی قیمتیں کنٹرول میں نہیں ہیں ۔ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کو ایسی پالیسیاں اپنانی چاہئیں جو عوام دوست ہوں اور عوام کو ریلیف بھی دیں ۔ یہ عوام ہی ہیں جو کسی بھی جمہوری حکومت کی طاقت بنتے ہیں۔ ڈلیور کیے بغیر محض گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام لا کر عوام کو خوش نہ کیا جا سکے گا۔ عوام حقیقی اور معنوی تبدیلی چاہتے ہیں۔ نا انصافی اور ظلم کے نظام کی تبدیلی، وی آئی پی کلچر کی تبدیلی، اختیارات کے ناجائز تصرف رکھنے اور بوسیدہ بیوروکریسی کے نظام میں تبدیلی۔

    تبدیلی کا نعرہ لگانا اور اس نعرے سے عوام کو مائل کرنا بہت اچھا تجربہ رہا مگر عوام کو اس سے مایوس کر دینا ایک ایسا تلخ تجربہ ہو گا جس کا تصور بھی ناممکن ہے۔ وزیراعظم صاحب کو فی الفور عوامی ریلیف کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہو گی اور اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے ان پر عمل درآمد بھی شروع کر دینی چاہیے۔

    محمد نعیم شہزاد

  • صدارتی نظام آ رہا ہے . تحریر : نعمان سرور

    صدارتی نظام آ رہا ہے . تحریر : نعمان سرور

    پاکستان کو آزاد ہوئے 73 سال ہو گئے ہیں، پاکستان برطانوی تسلط سے آزاد ہوا تو دیگر ریاستوں کی طرح ہم نے بھی برطانیہ کا جمہوری نظام ملک میں لاگو کر دیا گیا۔
    پاکستان میں عملی طور پر صدارتی نظام ایوب خان کے دور میں سن 1958 میں آیا پھر اس کے بعد 1977 میں جنرل ضیا کے دور اور 1999 کے مشرف دور کو بھی صدارتی نظام کہہ سکتے ہیں یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کے اگر ملک پاکستان کی ترقی دیکھیں اور ملک کی خوشحالی کے منصوبے دیکھیں تو وہ ادوار آپ کو سب سے آگے نظر آتے ہیں جن میں صدارتی نظام حکومت تھا اگر قانونی طور پر نہیں بھی تھا تو عملی طور پر تو تھا ہی۔

    کیا وجہ ہے کے صدارتی نظام حکومت اتنا کامیاب ہے ؟ کیا وجہ ہے کے دنیا کے وہ ممالک جو ترقی کر رہے ہیں ان میں صدارتی نظام حکومت رائج ہے مثال چین کی لیں یا روس کی یا پھر امریکہ،ترکی وغیرہ کی ان سب ممالک میں صدارتی نظام حکومت ہے، لیکن ہمارے ملک میں جمہوریت کا چورن بیچا جاتا یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کے ملک کی عوام کا فائدہ کس نظام میں جمہوریت کے نام پر ہر کوئی اپنا الو سیدھا کرتا ہے اور یہ الو سیدھا کرنے میں ہمارے ٹی وی چینل سیاستدانوں کا ساتھ دیتے ہیں۔
    پاکستان میں اسوقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جسے اپنے پاؤں جمانے میں ڈیڑھ سال سے زیادہ کا عرصہ لگا گیا اس کی وجہ کیا تھی ؟

    یہ سمجھنا بہت آسان ہے کے اس نظام میں جب بھی کوئی حکومت آتی ہے تو وہ اپنے لوگ ملک کے ہر ادارے میں بیٹھا دیتے ہیں چاہے وہ عدلیہ ہو بیوروکریسی ہو یا دیگر ادارے پھر بوقت ضرورت ان لوگوں سے کام لیتے ہیں اور یہی کچھ عمران خان حکومت کے خلاف کیا گیا۔
    جمہوری نظام میں وزیراعظم کے پاس سب اختیارات ہوتے ہیں وہ پارلیمنٹ سے ایم این ایز کے ووٹ لے کر آتا ہے جن ایم این ایز کو عوام منتخب کرتی ہے۔

    وزیراعظم بننے کے لئے اگر اپنی جماعت کی اکثریت نہ ہو تو منتخب ہونے کے لئے دوسری جماعتوں کی شرائط ماننا پڑتی ہیں جیسے عمران خان کو بھی ماننا پڑی۔
    جبکہ صدارتی نظام میں صدر کا انتخاب پورے ملک کی عوام کرتی ہے۔ اصل میں جمہوری نظام یہی ہے، اس میں صدر کے پاس اختیارات بہت زیادہ ہوتے ہیں، صدر اپنی مرضی کی ٹیم لے کر آ سکتا ہے وہ کسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہوتا وہ ملک بھر سے قابل لوگ لا کر انہیں اپنی ٹیم میں شامل کر سکتا ہے جب کے جمہوری پارلیمانی نظام میں اسے ہر طرح کی مفاہمت کرنی پڑتی ہے۔
    صدارتی نظام میں سربراہ مملکت کو اس بات کی آذادی ہوتی ہے کے وہ پورے ملک سے قابل لوگ اپنی کابینہ کا حصہ بنا سکتا ہے اور صحیح جگہ پر صحیح بندے کو زمہ داری دے سکتا ہے۔

    صدارتی نظام حکومت میں کام جلدی ہو پاتے ہیں کیونکہ اس میں رکاوٹیں ڈالنے والے عناصر ختم ہو جاتے ہیں اس لئی یہ نظام ڈلیور کر پاتا ہے اور حکمران جو عوام سے وعدے کر کے آتا ہے اسے عملی شکل دے پاتا ہے، جبکہ پارلیمانی نظام میں کسی بھی ترقیاتی منصوبے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے کئی ادارے بیٹھے ہوتے اور فائل کو قانونی طور پر کئی کئی ماہ روک کر رکھتے ہیں۔
    صدارتی نظام میں قانون ساز اسمبلی اور صدر کے اپنے اپنے اختیارات ہیں اور دونوں ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے ہیں۔
    جمہوری نظام میں چونکہ سارے کاموں کا دارومدار پارلیمنٹ اور ان کے ممبران پر ہوتا ہے اس لئے اگر وہاں کوئی ایسی حکومت آ جائے جس کی دو تہائی اکثریت نہ ہو تو اس حکومت کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اس طرح عوام کی فلاح کی پرجیکٹس بس فائلوں تک رہ جاتے ہیں حکومت ایک بعد دوسری آ جاتی ہے لیکن پراجیکٹ مکمل نہیں ہوتا۔

    اس کے علاوہ صدارتی نظام حکومت ایک مضبوط نظام حکومت ہے جبکہ پارلیمانی نظام میں اگر آپ کے ساتھ اتحادی جماعتیں کسی بھی وجہ سے کسی اختلاف کی وجہ سے اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں تو ووٹ آف نو کانفیڈنس سے آپ کی حکومت چند گھنٹوں میں ختم ہوسکتی ہے، اوریہ تلوار ہر وقت آپ کے سر پر لٹکتی رہتی ہے۔
    دنیا بہت آگے بڑھ گئی ہے اگر دنیا کی رفتار سے ترقی کرنی ہے یا ان کا مقابلہ کرنا ہے تو روایتی طریقوں سے یہ نہیں ہوگا
    ضرورت اس بات کی ہے سول سوسائٹی،نوجوان نسل اور ہمارے آنے والے مستقبل طلبا میں اس بات پر ہم آہنگی پیدا کی جائے کے پاکستان کی بہتری کے لئے صدارتی نظام کے حق میں ایک منظم مہم شروع کی جائے اور اسے ایک تحریک بنایا جائے تاکہ آنے والے سالوں میں ہم یہ نظام حکومت تبدیل کر سکیں یہ مطالبہ جب عوام کا مطالبہ بنے گا تو کوئی بھی سیاسی جماعت اس کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتی، لیکن اس کے لئے ہماری نوجوان نسل کو مستقل مزاجی سے کام کرنا ہوگا۔
    اللہ تعالی ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
    پاکستان زندہ باد

    @nomysahir

  • دلیر  اور ایماندار۔ لیڈر  تحریر چوہدری عطا محمد

    دلیر اور ایماندار۔ لیڈر تحریر چوہدری عطا محمد

    انسان کے کسی کے بھی دباؤ میں آنے کی دو ہی بنیادی وجوہات ہوسکتی ہیں یا تو وہ شخص بزدل ہو اور زہنی طور پر ہارا ہوا کمزور ہو یا اس نے اپنی زندگی میں کوئی ایسے ناجائز کام کیے ہو ں جس پر اسے آرام سے بلیک میل کیا جاسکتا ہو۔
    اس سے اپنی جائز ناجائز بات منوائی جا سکتی ہو لیکن اس کے برعکس جس انسان میں یہ خامیاں موجود نا ہوں وہ بہادر بھی ہو حق اور سچ کے راستے پر چلنے سے کبھی گبھراتا نہ ہو تو ایسے شخص کو ہرانا مشکل نہیں پھر ناممکن ہو جاتا ہے
    اگر ہم بات کریں ارض پاک یعنی اسلامی جہموریہ پاکستان کے موجودہ وزیر اعظم جناب عمران احمد خان نیازی کی تو وہ ان دونوں برائیوں سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر محاذ پر اپنے ملک و قوم کے مفاد کے لیے بھرپور محنت کے ساتھ ہر برائی سے لڑ نے اور ڈٹ جانے کی جرات رکھتے ہیں
    اگر حالیہ دنوں کی ہی بات کو لے لیں تو وزیر اعظم عمران احمد خان نیازی نے تقریباً چھ سات بہت بڑے بڑے میڈیا چینلز کے انتہائی سنئیر لوگوں کو انٹرویو دئیے اور الحمد للّٰہ اللہ کے فضل کرم سے سپر پاور امریکہ سے لے کر ہمارے بزدل ہمساۓ انڈیا یا پھر افغنستان کی نام نہاد غنی حکومت سب کے بارے میں ایک واضح اور مضبوط موقف دیا جسے نہ صرف پاکستان کے اندر وزیر اعظم عمران خان کے چائینے والوں نے بہت پسند کیا بلکہ پوری دنیا نے پاکستان کی پالیسی کو سمجھ لیا

    ہماری ایک خو قسمتی یہ بھی ہے کہہ ہمارے وزیر اعظم کی بات کو دنیا خصوصا مغرب کے لوگ بہت اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں ابر بات کریں افغنستان کے معمالہ کی جہاں بھارت اور غنی حکومت پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں وہی پوری دنیا کے کچھ سمجھدار تجزیہ نگار اس بات کو بخوبی جانتے ہیں کہہ عمران کا موقف بلکل واضح ہے وہ جب سے امریکہ نے افغنستان پر جنگ مسلط کی ہے عمران خان کا آج سے بیس سال پہلے جو موقف تھا آج بھی وہی ہے

    عمران خان نے بیس سال پہلے ہی کہا تھا کہہ اس جنگ کا کچھ حاصل نہیں افغنستان میں واحد حل مزاکرات ہیں جس پر عمران خان کو طالبان خان ہونے کے طعنے دئیے گے لیکن الحمدللّٰہ کپتان کی بات پتھر پر لکیر ثابت ہوئی اور آج امریکہ انہیں طالبان سے مزاکرات کر کے جا رہا ہے

    وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے لئے ابھی ملک کے اندر بہت سے چیلنج ہیں جن میں خاص کر سب سے بڑا چیلنج ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا ہے لیکن ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں اللہ پاک وزیر اعظم پاکستان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ان کو اپنے خواب کے مطابق ارض پاک کو ریاست مدینہ کی طرز پر چلنے والی ریاست بنانے کی توفیق عطا فرماۓ آمین

    @ChAttaMuhNatt

  • اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    اداروں کی تباہی کے اسباب تحریر : انجنئیر مدثر حسین

    پاکستان اللہ کی عطا کی ہوئی نعمت ہے۔ جہاں پاکستان کو معدنیات سے خود کفیل کیا گیا وہاں قدرتی حسن نے پاکستان کی زمین کو چار چاند لگا رکھے ہیں۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات جہاں پہاڑوں اور چٹیل چٹانوں میں سبزہ تو کبھی برف سے لدے دکھائی دیتے ہیں وہیں میدانی اور شہری علاقوں کی رونقیں اس کو ہر طرح کے ماحول سے آراستہ کررہی ہیں۔
    کہیں صحراوں کی بیابانی ہے تو کہیں دریاؤں کی سرسراہٹ۔ الغرض پاکستان اپنے حسن کے لحاظ سے خود کفیل ملک ہے۔ پاکستان دفاع کے لحاظ سے بھی بھی صف اول کی قوموں میں شمار ہوتا ہے خواہ وہ ماضی کے ایم ایم عالم ہوں یا حالیہ 27 فروری کے شیر جوان یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ لیکن بد قسمتی سے پاکستان کرپشن میں بھی خود کفیل ہے۔ جس نے اس کے ہر سول ادارے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ماضی کے اوراق دیکھیں تو پتا چلتا یے کہ کہیں سفارشوں اور رشوت کے انبار لگے نوکریاں بیچی گئیں۔ تو کہیں اپنے زاتی کاروبار کو سامنے رکھتے ہوے اداروں کو نقصان پہنچایا گیا۔ پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل مل آج بھی اس ظلم کی دل خراش داستان ہے۔
    ماضی کی بادشاہت نے قوم کو غلامی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ آج پاکستان بیرونی طور پر مقروض ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے سول اداروں کی وجہ سے اپاہج بھی ہے۔ میرٹ اور ٹیلنٹ کے قتل عام کے بعد جو قوم اداروں میں بٹھائی گئی اس کے نتائج وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عیاں ہو رہے ہیں۔
    ایک بات تو صاف ہے جو لوگ ایمانداری سے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ان کی مثال لاجواب ہےلیکن یہاں بات ان کی ہو رہی جنہوں نے رشوت اور اقربا پروری کا بازار گرم کر رکھا ہے.

    جس کے پاس نوکری نہیں وہ نسل در نسل میرٹ کے قتل کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں کی رسم مہربانی پر لگے ہوئے ہیں. لیکن جن کے پاس نوکریاں ہیں ان کی نسل در نسل چلتی آ رہی ہے.

    رہی سہی کسر رشوت کے انصاف اور اقربا پروری کی نوکریوں نے نکال رکھی ہے. جس کا آخر کار نقصان ادارے کو ہی ہوتا ہے. نا میرٹ پر بھرت ہوتی ہے نا کام کرنے والے اہل لوگ منتخب ہو پاتے ہیں نا ادارہ ترقی کرتا ہے. آج اگر سٹیل مل جیسے ادارے خسارے میں ہیں تو ان کی بڑی وجہ یہ بھی ہے. مزید یہ کہ سرکاری اداروں میں بیٹھ کر اپنا کاروبار چمکانا اور اپنے کمپنی کو کاروبار دینا معمول بن چکا ہے.
    پی آئی اے اور ریلویز کی ماضی کی تباہی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے. آج بھی یہ ادارے اہنی زندگی کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں.
    موجودہ حکومت اپنے تئیں ان اداروں کے خسارے کو کم کرنے کی تگو دو میں مصروف ہے کیونکہ جب ادارہ خسارے کا شکار ہوتا ہے تو اس کا سارا بوجھ قومی بجٹ پر پڑتا ہے جس سے عوام کا پیسہ انہیں خساروں کو پورا کرنے میں لگ جاتا ہے اور سارے باقی ترقیاتی اور فلاح و بہبود کے منصوبے تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں.
    اس روش کو ختم کرنا وقت کی اولین ترجیح ہے تاکہ قومی خزانے کو درست سمت دی جا سکے اور عوام کی فلاح و بہبود کو ملحوظ خاطر رکھا جا سکے.
    پاکستان کی قیادت کو ان مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے. جس سے میرٹ کا قتل نہ ہو. ادارے کا نقصان نہ ہو اور رشوت کی روش کو ختم کیا جاے تاکہ عام عوام کو ان اداروں سے اچھی سروس اور سہولیات مل سکیں اور مستقبل ادارے اپنی ترقی کی جانب ہی گامزن رہیں. جہاں میرٹ کا قتل نا ہوتا ہو رشوت کا بازار گرم نا ہو اور اقربا پروری فروغ نا پاتی ہو اس ادارے کی ترقی کو کوئی روک نہیں سکتا. ہمیں بھی بطور انسان اپنے ادارے سے مخلص رہنا چاہیئے کیونکہ ادارے کی بقا ہی ہماری بقا ہے اور ادارے کی تباہی ہماری تباہی ہے.

    @EngrMuddsairH

  • جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔  تحریر: احمد علی عباسی

    جب بھارتی پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر دور مسلم کش فسادیوں نے رپورٹر کو زبردستی اپنا ساتھ دینے پر مجبور کیا ۔ تحریر: احمد علی عباسی

    ایک زمانہ تھا جب چن چن کر مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچانا ہندتوا کے غنڈوں کا معمول بن چکا تھا مگر پھر زمانہ بدلا تو انہی غنڈوں نے جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی تشدد کا راستہ اختیار کرلیا،مسلمانوں کے خلاف نت نئے نعرے تشکیل دیے گئے اور معاشی طور پر غیر مستحکم بنانے کے منصوبے بھی تیار کیے جانے لگے ۔ انہی نعروں میں سے ایک انتہائی خطرناک نعرہ آر ایس ایس نے ہی تشکیل دیا جس کو گلی گلی پھیلایا جانے لگا اور وہ نعرہ یہ تھا”جب ملے (مسلمان) کا ٹے جائیں گے ۔ ۔ ۔ تو رام رام چلائیں گے” ۔ پہلے پہل تو یہ نعرہ بھارت کے کوچوں اور بازاروں میں استعمال کیا جاتا رہا مگر اتوار کے روز تو یہ اور اس جیسے کئی اور نفرت انگیز نعرے بھارت کے دارلحکومت دہلی میں موجود پارلیمنٹ سے محض دو کلومیٹر کی مسافت پر بلند کیے گئے ۔ اس مارچ کا اہتمام ویسے تو بی جے پی دہلی کی جانب سے انگریز دور کے فرسودہ قوانین کے خاتمے کے لیے تھا مگر نجانے کیوں اس میں بھی نشانہ مسلمانوں کو ہی بنایا گیا ۔ نیشنل دستک نامی چینل کے رپورٹر "انمول پریتم” جب جنتر منتر نامی مقام پر ہونے والے اس احتجاج کی کوریج کرنے کے لیے پہنچے تو انتہا پسندوں نے ان کا بھی گھیراو کرلیا اور ان کو "جے شری رام”کے نعرے لگانے پر مجبور کرنے لگے ۔ انمول نے بی جے پی کے غنڈوں میں گھرِ جانے کے باوجود نعرہ لگانے سے صاف انکار کردیا ، جس پر مشتعل ہجوم نے ان کوزردوکوب کرنا شروع کردیا ۔ پریتم کا کہنا تھا کہ بھاری تعداد میں پولیس کی موجودگی کے باوجود ملک کے دارلحکومت میں مسلمانوں کے خلاف نعرے لگنا انتہائی فکر انگیز بات ہے، ملک میں پچھلے کئی سال سے ایک ہندو اکثریت والی جماعت کی حکومت ہے اس کے باوجود ہندووں کے اس احتجاج پر میرے کئی سوالات ہیں ۔ پریتم نے پھر کچھ مظاہرین سے ہندوستان میں غربت کے خاتمے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں کے بارے میں پوچھا ۔ پریتم نے مزید بتایا کہ، جب انہوں نے ہجوم سے پوچھا کے وزیر اعظم نے خود غریبوں کو کھانا کب دینا ہے؟ تو ہجوم مشتعل ہو گیا اور لوگ اس پر چیخنے لگے اور پوچھنے لگے کہ کیا وہ "جہادی چینل” سے ہے ۔ اس دوران گروپ کا ایک آدمی آیا اور مظاہرین سے کہا کہ وہ ہمارے ساتھ بات نہ کریں کیونکہ ہم اپنے چینل پر ان کی بات نہیں دکھائیں گے ۔ پورے گروپ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ہم ایک "جہادی چینل” ہیں ۔
    پریتم نے کہا کہ اس نے اعتراض کیا ، میں نے کہا کہ میں آپ کی بات ٹیلی ویژن پر دکھاوں گا، براہ کرم ہم سے بات کریں ۔ اس کے بعد گروپ نے مجھے گھیر لیا اور مجھ سے "جئے شری رام”اور "وندے ماترم”کے نعرے لگانے کو کہا ۔

    انہوں نے کہا کہ انہوں نے ’’وندے ماترم‘‘ اور ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کا نعرہ لگایا لیکن ’’جے شری رام‘‘ کہنے سے انکار کر دیا کیونکہ، ان کی ذاتی رائے میں یہ ایک سیاسی نعرہ ہے ۔ یہاں پر ایک بات قابل ِ زکر ہے کہ اس احتجاج میں ابھی پڑھے لکھے لوگ شامل تھے جو بھارت کے دارلحکومت میں رہتے ہیں ، انہوں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف اس قدر نفرت کا اظہار کیا ہے تو اتر پردیش یا بھارت کے کسی اور دور دراز کے علاقے میں مسلمانوں کا کیا حال ہوتا ہوگا،جہاں نا ہی تو میڈیا کوریج دیتا ہے اور نا ہی لوگ ذیادہ پڑھے لکھے ہیں ۔ یہ بات صاف ظاہر ہوگئی کے اگر بھارت کے ہندووں نے اس جنونی جماعت کو نا روکا تو جو سلسلہ مسلمانوں کے استحصال سے شروع ہوا تھا وہ ہندووں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا ۔ اب کوئی یہ سمجھتا ہے کہ و ہ مسلمان نا ہونے کی وجہ سے ان دہشتگردوں سے خود کو بچا پائے گا تو یہ اس کی بھول ہے کیونکہ ظلم کا ساتھ دینے والے یا خاموش رہنے والے کی سزا شاید ظالم کے ہاتھوں ہی لکھی ہوتی ہے ۔