Baaghi TV

Category: سیاست

  • عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عوامی مسائل پر مسلسل خاموشی کیوں،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز کی سیاست ایک عجیب دائرے میں قید دکھائی دیتی ہے۔ ایسا دائرہ جو گھومتا ضرور ہے مگر آگے نہیں بڑھتا۔ حکمران آتے جاتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، پارٹیوں کے جھنڈے رنگ بدلتے ہیں مگر عوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ ایک عام شہری کا سوال بڑا سادہ ہے جب جمہوریت ہے تو پھر جمہور کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟ اصل بات یہ ہے کہ وطن عزیز میں جمہوریت کا ڈھانچہ تو موجود ہے مگر اس کی روح کمزور پڑ گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کے حالات جدید جمہوری تقاضوں کے بجائے شخصیتوں کے گرد گھومتے ہیں۔ منشور کمزور، پالیسی بعید اور تنظیم غیر فعال۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت بنتی ہے تو اس کی ترجیحات وہی رہتی ہیں جو کل تھیں، چہرے بدلتے ہیں مگر طرز حکومت وہی رہتا ہے۔ اس کے ساتھ بیوروکریسی کا پرانا نو آبادیاتی ڈھانچہ عوامی خدمت کی جگہ اختیار اور فائل ورک کو ترجیح دیتا ہے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے نظام عوام کے راستے میں کھڑا نظر آتا ہے۔ انصاف کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں طاقتور بچ نکلتے ہیں کمزور چکر لگاتے لگاتے تھک جاتے ہیں۔ بنیادی مسلہ یہ بھی ہے کہ وطن عزیز کی معاشی پالیسی اشرفیہ کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ٹیکس ہو، سبسڈی ہو، کاروباری ماحول ہو یا زمین کا نظام قوانین کمزور طبقات کے لیے سخت اور طاقتور کے لیے نرم ہیں۔ جب عوام کی جیب پر مسلسل بوجھ پڑتا ہے تو جمہوریت ان کے لیے صرف ایک لفظ بن کر رہ جاتی ہے۔ حقیقت نہیں پاکستان کا تعلیمی نظام بھی سیاسی شعور پیدا کرنے میں ناکام رہا عوام کو نہ حقوق کا علم ہے نہ حکمرانوں سے تقاضے کا سلیقہ۔ سیاست مفادات اور بیانیوں کے جنگ بن کر رہ گئی ہے اور میڈیا نے اس جنگ میں تیزی ہی پیدا کی ہے۔ اصل مسائل پانی، صحت، تعلیم، روزگار، انصاف، ٹی وی اسکرین کی زینت کب بنتے ہیں؟ بہت کم۔ آخر میں سوال وہی کھڑا ہے کہ اگر جمہوریت ہے تو پھر عوامی مسائل پر یہ مسلسل خاموشی کیوں؟ جواب تلخ ضرور ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ وطن عزیز میں ابھی تک جمہور نہیں بلکہ طاقتور سیاسی جماعتوں کی حکمرانی ہے۔ جسے ظاہر ہوتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں سیاسی جماعتوں میں چند کردار ہیں۔ جب تک انصاف اور معیشت کمزور طبقات کے لیے بے معنی رہتی ہے، جمہوریت بھی کمزور رہے گی اور عوام کے مسائل بھی۔ پاکستان کے مسائل اس لیے بھی برقرار ہیں کہ یہاں نظریں ہمیشہ تخت پر رہتی ہیں، نظام پر نہیں۔ دن بدلتے ہیں حکمران بدلتے ہیں مگر عوام کے لیے صرف وعدے بدلتے ہیں۔

  • لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کے روز ایک متنازع بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگرچہ آج سندھ بھارت کا حصہ نہیں ہے، مگر یہ خطہ تہذیبی اور ثقافتی طور پر بھارت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور ’’ایک دن دوبارہ بھارت میں واپس آ سکتا ہے‘‘۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد صوبہ سندھ 1947 کی تقسیم کے وقت پاکستان کا حصہ بنا، جس کے بعد بڑی تعداد میں سندھی ہندو بھارت ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق سندھ کا خطہ جغرافیائی طور پر گجرات اور راجستھان کے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی طور پر بھی بھارت سے وابستہ ہے۔ راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں سابق بھارتی نائب وزیرِاعظم ایل کے ایڈوانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نسل کے سندھی ہندو آج تک سندھ کی علیحدگی کو دل سے قبول نہیں کر سکے، کیونکہ اُن کے نزدیک دریائے سندھ اُن کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ اس بیان نے بھارت کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    یہ دعویٰ بظاہر ایک جذباتی نعرہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ پاکستان کا ایک مضبوط اور ناقابلِ تقسیم صوبہ ہے، جس کی سیاست، معیشت اور شناخت بھارت کے کسی بھی خواب کو رد کرتی ہے۔ بھارت کے لیے اصل خطرہ سندھ یا مغربی سرحد نہیں بلکہ مشرقی محاذ ہے، جہاں تزویراتی تبدیلیاں تیزی سے بھارت کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے انتہائی شمال مغرب میں، بھارت کی سرحد سے صرف 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لالمونیرہٹ کا پرانا ہوائی اڈہ اس وقت جنوبی ایشیا کی سب سے خطرناک تزویراتی تبدیلی کا مرکز بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے وقت برطانوی رائل ایئر فورس کا یہ اڈّہ برسوں سے ویران پڑا تھا، مگر 2025 میں اس کی بحالی اور توسیع نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے جو براہِ راست بھارت کے Siliguri Corridor یعنی Chicken Neck کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہی 22 کلومیٹر چوڑا تنگ کوریڈور ہے جو بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں (آسام، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورا اور میگھالیہ) کو باقی ہندوستان سے ملاتا ہے۔ اگر یہ کوریڈور کاٹا گیا تو شمال مشرق حقیقتاً الگ تھلگ ہو جائے گا۔

    مارچ 2025 میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے لالمونیرہٹ کو مکمل فوجی ایئربیس میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2025 میں آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے خود سائٹ کا دورہ کیا اور توسیعی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نومبر 2025 تک یہاں جدید ایئر ڈیفنس ریڈار، ہینگرز اور رن وے کی توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ محض بنگلہ دیش ایئر فورس کی جدیدبنانے کا حصہ نہیں ہے بلکہ چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر بھارت کو مشرقی سمت سے گھیرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا اہم جز بھی دکھائی دیتا ہے۔ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد صرف دس ماہ کے اندر بنگلہ دیش کی خارجہ و دفاعی پالیسی نے 180 ڈگری کا مکمل رخ بدل لیا۔ جہاں ایک طرف محمد یونس کی عبوری حکومت نے بیجنگ کے ساتھ 2.1 بلین ڈالر کے نئے معاہدے کیے، وہاں دوسری طرف پاکستان سے دفاعی تعلقات بحال ہوئے جو 1971 کے بعد پہلی بار اس سطح پر پہنچے ہیں۔

    نومبر 2025 میں بنگلہ دیش آرمی کا وفد راولپنڈی پہنچا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلی Army-to-Army Staff Talks منعقد ہوئیں۔ اسی مہینے Dubai Air Show میں پاکستان نے ایک "دوست ملک” کے ساتھ JF-17 تھنڈر بلاک 3 کے 16 سے 24 طیاروں کی فروخت کا ایم او یو کیا، جس کے بارے میں معتبر ذرائع کی تصدیق ہے کہ خریدار بنگلہ دیش ہی ہے۔ یہ طیارے AESA ریڈار اور PL-15 لانگ رینج میزائلوں سے لیس ہوں گے اور بنگلہ دیش کے پائلٹس تربیت کے لیے پاکستان آئیں گے۔ یہ 1971 کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ بنگلہ دیشی فوجی اہلکار پاکستانی سرزمین پر تربیت حاصل کریں گے۔

    چین اس پورے کھیل کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ وہ بنگلہ دیش کو پہلے ہی 72 فیصد دفاعی ساز و سامان فراہم کرتا ہے۔ لالمونیرہٹ کی بحالی میں چینی کمپنی Power China کی 1 بلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری شامل ہے۔ بیجنگ کی حکمت عملی واضح ہے کہ خلیج بنگال سے لے کر ہمالیہ تک ایک مسلسل دباؤ کی فضاء قائم کرنا تاکہ بھارت کو تین محاذوں پر بیک وقت الجھایا جائے ، مغرب میں پاکستان، شمال میں چین اور مشرق میں بنگلہ دیش۔ Siliguri Corridor کی کمزوری کوئی نئی بات نہیں ہےمگر اب پہلی بار اسے تینوں سمتوں سے بیک وقت خطرہ لاحق ہوا ہے۔ لالمونیرہٹ سے Chicken Neck کا فاصلہ فضائی راستے سے چند منٹوں کا ہے۔ اگر کبھی کشیدگی بڑھی تو یہ ایئربیس بھارت کے شمال مشرق پر براہِ راست حملوں، نگرانی یا لاجسٹک سپورٹ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ بھارت نے جواب میں سلی گوری اور آس پاس کے علاقوں میں اضافی فوج، رافیل طیاروں کی تعیناتی اور نئی سڑکوں و ریل لائنوں کی تعمیر تیز کر دی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ 22 کلومیٹر چوڑے اس کوریڈور کو مکمل طور پر محفوظ بنانا نہایت مشکل ہے۔

    شمال مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ منی پور میں جاری نسلی تنازع، ناگالینڈ اور آسام میں زیر زمین گروہوں کی سرگرمیاں اور معاشی پسماندگی نے ایک ایسی فضا پیدا کر رکھی ہے جہاں بیرونی قوتیں آسانی سے مداخلت کر سکتی ہیں۔ اگر Chicken Neck پر دباؤ بڑھا اور سپلائی لائن متاثر ہوئی تو ان ریاستوں میں بے چینی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ براہ راست علیحدگی شاید ممکن نہ ہو، مگر ایک طویل الگ تھلگ حالت اندرونی استحکام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ صورتحال تیزی سے ایک نئے تین ملکی (چین،پاکستان اور بنگلہ دیش)اسٹریٹجک اتحاد کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ لالمونیرہٹ کا پرانا رن وے آج محض کنکریٹ اور اسٹیل کا ڈھانچہ نہیں رہا بلکہ آنے والے برسوں کی جنوبی ایشیائی سیاست کا نیا رخ متعین کر رہا ہے۔ Chicken Neck اب محض نقشے پر ایک تنگ کویڈور نہیں رہا بلکہ بھارت کی سات مشرقی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ کن امتحان بن چکا ہے۔

    یہی وہ پس منظر ہے جس میں راجناتھ سنگھ کا سندھ کے بارے میں بیان سامنے آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کی بے چینی اور گیدڑ بھبکیاں سندھ کے بارے میں نہیں بلکہ مشرقی محاذ پر بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں ہیں۔ جب لالمونیرہٹ ایئربیس تیزی سے ایک فعال فوجی مرکز بن رہا ہے، جب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون نئی سطح پر پہنچ رہا ہے اور جب JF-17 تھنڈر بلاک 3 کی ڈیل بھارت کے مشرقی دروازے پر ایک نئی حقیقت رقم کر رہی ہے، تو ایسے میں سندھ کے بارے میں بیانات محض عوام کو بہلانے اور اصل خطرات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ راجناتھ سنگھ کی بے چینی اور ان کی گیدڑ بھبکیاں دراصل اسی حقیقت کا اعتراف ہیں کہ بھارت کے لیے اصل امتحان سندھ نہیں بلکہ اس کا مشرقی محاذ ہے، جہاں چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ حکمت عملی نے اس کے لیے ایک ایسا جال بچھا دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔لہٰذا راجناتھ کے بیانات کو اگر کسی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ دراصل اسی خوف اور بے چینی کا اظہار ہیں جو لالمونیرہٹ ایئربیس، پاک-بنگلہ دفاعی تعاون اور JF-17 ڈیل نے نئی دہلی کے ایوانِ اقتدار میں پیدا کر رکھی ہے۔

  • پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز ،تجزیہ:شہزاد قریشی

    گزشتہ کچھ عرصے سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام غیر معمولی طور پر موضوع گفتگو بنا ہوا ہے۔ امریکہ ہو یا یورپی یونین دونوں خطوں کی پالیسی ساز ادارے اور ذرائع ابلاغ پاکستان سے متعلق مختلف حوالوں سے دلچسپی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ تذکرہ محض اتفاق نہیں بلکہ متعدد عوامل کا نتیجہ ہے جنہوں نے پاکستان کو خطے کی اہم ریاست کے طور پر دوبارہ ابھارا ہے۔ عالمی طاقتوں کی توجہ بنیادی طور پر جنوبی ایشیا کی بدلتی صورتحال ہے۔ چین اور بھارت کے درمیان مسابقت اور افغانستان کی غیر یقینی پر مرکوز رہی ہے۔ اس تناظر میں پاکستان وہ واحد ملک ہے جس کے کردار کو نظر انداز کرنا آج کسی بھی بڑی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں بھی حالیہ برسوں میں نسبتا فعال نظر آئی ہیں۔ اقوام متحدہ اور مختلف یورپی فورمز پر کشمیر، اسلام فوبیا، فلسطین اور موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم موضوعات پر پاکستان نے جس انداز میں اپنا موقف پیش کیا اسے مختلف سطحوں پر پذیرائی بھی ملی۔ یورپ اور امریکہ میں پاکستانی کمیونٹی کا کردار بھی قابل ذکر ہے بیرون ملک کامیاب پاکستانی نہ صرف اپنے ملک کی نرم تصویر پیش کر رہے ہیں بلکہ کئی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں جو پاکستان کے مثبت تاثر کا ذریعہ بنتا ہے۔ تاہم عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت کا سب سے نمایاں پہلو سیکیورٹی اور دفاع کے شعبے سے جڑا ہوا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف طویل اور مشکل جنگ خطے کے حالات اور افغانستان کے تناظر میں پاکستان کے کردار کو عالمی طاقتیں خصوصی اہمیت دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل کے بیانات، پالیسی، نقطہ نظر اور بیرونی دورے عالمی توجہ کا مرکز رہتے ہیں۔ دفاعی تعاون، انٹیلیجنس روابط اور خطے میں توازن رکھنے کے اقدامات وہ عوامل ہیں جنہیں عالمی سطح پر نہایت سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔ پاک افغان سرحدی صورتحال، بھارت کے ساتھ کشیدگی، چین کے ساتھ اسٹریجک شراکت داری اور نیوکلیئر سکیورٹی جیسے معاملات میں پاکستان کا کردار بنیادی نوعیت رکھتا ہے۔

    عالمی برادری یہ جانتی ہے کہ خطے کے سلامتی کا کوئی بھی خاکہ پاکستان کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ تمام عوامل یہ واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کا عالمی تذکرہ کسی ایک شعبے، ادارے یا شخصیت کا مرہون منت نہیں بلکہ ایک بڑے مجموعی کردار کا نتیجہ ہے۔ سفارتی سرگرمیاں، علاقائی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز اور عسکری قیادت سب نے مل کر پاکستان کو ایک مرتبہ پھر عالمی گفتگو کا مرکز بنا دیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بڑھتی بین الاقوامی دلچسپی کو دانشمندی کے ساتھ پاکستان کے مفاد میں استعمال کیا جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو ملک کو پائیدار استحکام اور مضبوط سفارتی مقام دے سکیں۔

  • پاکستانی صحافت  میں جرات اور شناخت ، تحریر:محمد ندیم بھٹی

    پاکستانی صحافت میں جرات اور شناخت ، تحریر:محمد ندیم بھٹی

    پاکستانی میڈیا کے سفر پر نظر ڈالیں تو یہ صرف چینلز کے اضافے اور اسکرینوں کی چمک دمک تک محدود نہیں بلکہ یہ ارتقائی عمل کئی نظریاتی لڑائیوں، ریاستی و سیاسی دباؤ، معاشی چیلنجز اور پیشہ ورانہ اصولوں کی بقا کی جدوجہد سے عبارت ھے۔ ایسے ماحول میں وہ صحافی اور اینکر زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں جو محض ٹی وی کی روایتی سرگرمی تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے کردار، طرزِ فکر، تحقیق، سوال کی نوعیت اور عوامی اثر کے اعتبار سے ایک الگ شناخت قائم کریں۔ مبشر لقمان کا نام اسی زمرے میں آتا ھے جہاں شخصیت نسبتاً متنازع سہی مگر پیشہ ورانہ اثر انگیزی اپنی جگہ واضح، معروضی اور ناقابل انکار دکھائی دیتی ھے۔ اسی تناظر میں انہیں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جانا ایک علامتی اور معنوی فیصلہ ھے جس کے اثرات صرف شخصی اعتراف تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ میڈیا کے اندر جرأت انگیزی کی اقدار کے لیے ایک ریفرنس پوائنٹ کے طور پر بھی تسلیم کیے جائیں گے۔

    پاکستان میں صحافتی پیشہ ہمیشہ طاقت، دباؤ، وقعت، سازش، اور انسدادِ آزادی کے باہمی تصادم کا مرکز رہا ھے۔ یہاں وہ صحافی زیادہ کامیاب سمجھے جاتے ہیں جو گفت و شنید میں مہارت، حکمت عملی، نرم لفاظی اور ادارہ جاتی مفادات کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں، مگر کچھ صحافی اس روایتی لائن سے ہٹ کر سخت سوالات اور ہدفی تحقیق کے ذریعے خود کو اسٹیٹس کے مقابل رکھتے ہیں۔ مبشر لقمان اسی اسلوب کے نمائندہ صحافی ہیں جنہوں نے میڈیا کی پوزیشننگ کی بجائے اپنی شناخت کو ترجیح دی۔ یہ طرز عمل ان کے لیے پیشہ ورانہ سطح پر ریپیوٹ، اثر اور شناخت کا سبب بنا مگر ساتھ ہی تنقید، تنازع اور مزاحمت کا محرک بھی رہا۔ یہی وہ تقابلی تناظر ہے جو انہیں دیگر روایتی اینکرز سے ممتاز کرتا ہے۔

    پاکستان میں انویسٹی گیٹو صحافت کی حیثیت بیشتر اوقات سیاسی نتیجہ خیزی کے بغیر صرف تفریحی جھٹکے کی صورت میں سامنے آتی ھے، مگر مبشر لقمان نے اپنی نشریاتی حکمت عملی میں تحقیق، نکات کی تسلسل، فیکٹ بیس رپورٹنگ اور اسٹیٹ پرفارمنس کے سوالات کو مرکزی حیثیت دی۔ ان کا مقصد صرف خبریں پہنچانا نہیں بلکہ سوال کے نتائج کو اداروں، پالیسی سازوں اور طاقت کے مراکز پر اثر انداز کرنا تھا۔ یہی نقطہ انہیں قابلِ اعتراض بھی بناتا ھے اور قابلِ توجہ بھی۔

    یہ بھی قابل ذکر ھے کہ انہوں نے ڈیجیٹل جرنلزم کی پاکستان میں اہمیت کو کافی پہلے پہچان لیا تھا۔ جب زیادہ تر صحافی ٹیلی ویژن کی ریٹنگ کو اپنی واحد ترجیح سمجھ رھے تھے، مبشر لقمان نے ناظرین کو حقیقت پسندانہ مواد کی فراہمی کا آغاز کیا۔ اس عمل نے انہیں محض ایک ٹی وی اینکر سے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی انفلوئنسر میں تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی مستقبل کے میڈیا میں ترقی کا وہ رخ دکھاتی ھے جہاں کنٹرولڈ ایڈیٹوریل بورڈ کی بجائے پبلک ڈائریکٹ رسپانس میڈیا فیصلہ کن مقام رکھتا ھے۔

    صحافی کی زندگی صرف سچ بولنے یا حقیقت دکھانے سے پیچیدہ نہیں بنتی بلکہ اصل پیچیدگی اس بات میں ھے کہ سچائی کے نشر کیے جانے کے بعد اس کے اثرات کیسے مرتب ہوتے ہیں۔ مبشر لقمان نے جہاں سوالات اٹھائے وہاں انہیں اس بات کا علم تھا کہ نتائج صرف عوامی بحث پر نہیں رکیں گے بلکہ طاقت کے مراکز تک بھی جائیں گے۔ یہی پیشہ ورانہ حاضر دماغی انہیں نظریاتی صحافت کے خانے میں بھی اہم بناتی ھے۔
    میرے مطابق ان کا انداز زیادہ صریح، تلخ اور براہ راست ھے جس کی وجہ سے بعض اوقات تاثر حقیقت پر غالب محسوس ہوتا ھے، مگر اصل بحث یہ ھے کہ سوال کس بنیاد اور شواہد پر رکھا گیا ھے۔ بین الاقوامی سطح پر ٹرائل اینڈ انویسٹی گیٹو جرنلزم کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ھے۔ پاکستان میں میڈیا ریٹنگ سسٹم آج بھی زیادہ تر ہائی ڈرامہ مواد کو ترجیح دیتا ھے جبکہ مبشر لقمان کا پاور پالیٹکس انکویری ماڈل الگ نوعیت رکھتا ھے۔

    صحافت کی عالمی تاریخ میں ایسے کردار کم نہیں جنہوں نے سوال کی حرارت کو پیشہ ورانہ معیار بنایا۔ امریکی صحافی باب ووڈورڈ اور کارل برنسٹین نے واٹر گیٹ اسکینڈل کے ذریعے انویسٹی گیٹو جرنلزم کو نئی پہچان دی اور وسطِ مشرق کے طاقت اور انسانی حقوق کے تضادات پر سوال اٹھائے، جبکہ جولیان اسانج اور ایڈورڈ سنوڈن نے ملٹی نیشنل سسٹمز میں چھپے ڈیٹا اور انٹیلی جنس پالیسیوں کو منظر عام پر لایا۔ ڈیوڈ فراسٹ نے نکسن انٹرویوز کے ذریعے مکالمے کو احتساب کا فن ثابت کیا۔ یہ تمام مثالیں یہ بتاتی ہیں کہ انویسٹی گیٹو صحافت کسی ایک ملک کی روایت نہیں بلکہ عالمی فکری مہم کا حصہ ھے۔ اسی تناظر میں مبشر لقمان کی صحافت کا اسلوب مقامی میڈیا کے روایتی انداز سے کچھ مختلف دکھائی دیتا ھے، جہاں سوال کی جسارت اور جواب کی سماجی قیمت ایک ہی سطح پر رکھی گئی ھے۔

    جب پاکستانی میڈیا کا مرکز محض ٹی وی ریٹنگ سسٹم تک محدود تھا، تب مبشر لقمان نے ڈیجیٹل میڈیا کو مستقبل کا فیصلہ کن میدان سمجھا۔ ان کا ایک ڈیجیٹل پبلک ڈائریکٹ میڈیا ماڈل ھے جو عالمی پلیٹ فارمز جیسے VICE، AJ+, BBC Trending، Vox سے ہم آہنگ نظر آتا ھے۔ اس ماڈل میں صحافی کا واسطہ ریٹنگ ڈیسک سے نہیں بلکہ براہ راست عوامی ردِ عمل سے ھوتا ھے، جو عالمی سطح پر ریسپانس جرنلزم کہلاتا ہے۔ اس طرح کا ماڈل صحافی کو محض خبریں پہنچانے والا نہیں بلکہ میڈیا آرکیٹیکٹ بناتا ھے، اور یہی تبدیلی مبشر لقمان کی ٹائم لائن میں واضح ھے۔

    تاریخ بتاتی ھے کہ طاقت کو سوال کبھی پسند نہیں آتا، چاہے دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو۔ امریکی صحافیوں کو پینٹاگون لیکس پر عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا، برطانوی رپورٹرز کو رازداری قوانین نے ٹکرایا، عرب صحافیوں کو انسانی حقوق کے لیے اپنی جان کی قیمت چکانی پڑی، یورپی رپورٹرز کو کارپوریٹ لابیز کا سامنا کرنا پڑا، اور پاکستانی صحافیوں کو پالیسی، دباؤ اور پراکسی بیانیے کے ساتھ ہموار ھونا پڑا۔ یہ وہ عالمی حقیقت ہے جو مبشر لقمان کے پیشہ ورانہ سفر کے تناظر میں بھی نظر آتی ھے، جہاں سوال کا وزن جواب کی قیمت سے زیادہ بھاری رہتا ھے۔

    پاکستانی میڈیا کا مستقبل کیمرہ کی بے ساختگی یا الفاظ کی چمک میں نہیں بلکہ تحقیق کی تہ داری، سوال کے منطقی زاویے، فیکٹ بیسڈ رپورٹنگ اور ڈیجیٹل انٹرایکٹیو جرنلزم میں ھے۔ جو صحافی مواد کو مشاہداتی سچائی کے ساتھ جوڑیں گے وہ آنے والے عالمی میڈیا ماڈلز میں جگہ بنائیں گے۔مبشر لقمان کی نامزدگی پر رائے مختلف ہو سکتی ھے مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے پاکستانی صحافت میں سوال کی قیمت، ڈیجیٹل ڈائریکشن اور انویسٹی گیٹو ڈائنامکس کو ایک تاریخی کیس اسٹڈی کی صورت دے دی ھے۔ اعتراف ہمیشہ تالیاں نہیں بلکہ وقت اور اثرات دیتے ہیں، اور یہی اصل Lifetime Achievement ھے۔

  • پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران،تجزیہ:شہزاد قریشی

    وطن عزیز میں ایک بار پھر سیاسی شور، جلسوں اور ممکنہ نئی تحریک کی باز گشت گونج رہی ہے۔ مگر اس شور میں ایک عجیب سی خاموشی بھی سنائی دیتی ہے ایک ایسی خاموشی جو سیاسی کمزوری، قیادت کے بحران اور عوامی بے اعتمادی کی کہانی سناتی ہے۔ سوال یہ ہے آج کی تحریکیں ماند کیوں پڑ گئی ہیں؟ اور وہ کون سی کڑیاں ٹوٹ چکی ہیں جن سے کبھی سیاسی تحریکیں طاقت حاصل کرتی تھیں؟ سچ یہی ہے کہ پاکستان کا اصل مسئلہ قیادت کا بحران ہے وہ عظیم، قدآور، نظریاتی رہنما اب ناپید ہیں جن کی زبان میں اثر تھا، جن کے قدموں میں عوام کی طاقت تھی اور جن کے فیصلے ذاتی نہیں بلکہ قومی مفاد کی علامت ہوتے تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم ایک مقصد پر اگھٹی ہوئی اس کی قیادت کسی نہ کسی مضبوط شخصیت کے ہاتھ میں تھی۔ ایوب کے خلاف تحریک بھٹو کا عوامی ابھار ہو، ایم آر ڈی کی جدوجہد ہو یا 2007 کی وکلاء تحریک ہر دور میں ایسی شخصیات موجود تھیں جن کا قد، ویژن اور اثر موجودہ سیاست میں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ نوابزادہ نصراللہ مرحوم، خان ولی خان مرحوم، قاضی حسین احمد مرحوم، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل، مفتی محمود اور دوسرے کئی سیاستدان یہ سب وہ نام تھے جن کے ہوتے سیاسی تحریکیں صرف شور نہیں ہوتیں ایک سمت رکھتی تھیں۔ ایک حدف ہوتا تھا، سب سے بڑھ کر ایک قیادت ہوتی تھی، آج کا منظر نامہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ تحریکیں موجود ہیں، نعروں کی گونج ہے، پریس کانفرنسیں ہیں، سوشل میڈیا کا شور ہے، مگر قائد نہیں۔ ماضی کے رہنما نظریات رکھتے تھے آج کی سیاست شخصیات اور ٹرینڈز پر کھڑی ہے اِدھر ایک بیان، اُدھر ایک بیان، اِدھر ایک کلپ، بس یہی سیاست رہ گئی ہے۔

    سیاسی جماعتوں میں اندرونی انتخابات کا نہ ہونا، خاندانوں اور محدود حلقوں کا قبضہ، رہنما سازی کے عمل کو بالکل مفلوج کر چکا ہے۔ دوسری جانب جب جمہوری سلسلہ بار بار ٹوٹے تو سیاسی قیادت درخت کی طرح جڑیں کبھی مضبوط نہیں بنا سکتی۔ جب سیاست اصول سے ہٹ کر مفاد، لوٹے بازی اور وزارتوں کے گرد گھومنے لگے تو عوامی لیڈر کم اور سیاسی دکاندار زیادہ پیدا ہوتے ہیں۔ قیادت وہ ہوتی ہے جو گلی، محلوں، یونین کونسلوں اور عوامی جدوجہد سے ابھرے، نہ کہ جھوٹے فالورز سے۔ آج کی سیاسی تحریکیں شور تو بہت کرتی ہیں مگر روح سے خالی ہیں، وجہ ایک ہی ہے قیادت کا بحران۔ وطن عزیز اس وقت ایک ابھرتے ہوئے سیاسی خلاء کے بیچ کھڑا ہے ایسا خلاء جسے پر کرنے کے لیے نئے قدرآور رہنماؤں، نئی سیاسی سوچ اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہے۔ جب تک ایسی قیادت سامنے نہیں آتی وطن عزیز میں کوئی نئی تحریک کامیاب ہوتی نظر نہیں آتی صرف آوازیں رہیں گی اثر نہیں ہوگا۔ قوموں کی تقدیر یاد رکھیے جلوسوں سے نہیں بدلتی، نظریاتی قیادت اور مضبوط سیاسی روایت سے بدلتی ہے، وطن عزیز اسی قیادت کا منتظر ہے۔

  • عکسِ بےنظیر، آصفہ بھٹو،وقار، مسکراہٹ اور خدمت کا سفر.تحریر:راجہ سفیر

    عکسِ بےنظیر، آصفہ بھٹو،وقار، مسکراہٹ اور خدمت کا سفر.تحریر:راجہ سفیر

    سیاسی تاریخ میں بعض چہرے ایسے ہوتے ہیں جو محض افراد نہیں رہتے، بلکہ ایک علامت بن جاتے ہیں،روشنی، جدوجہد اور تسلسل کی علامت۔ پاکستان کی سابق وزیرِ اعظم محترمہ بینظیر بھٹو شہید بھی ایسی ہی شخصیت تھیں جن کے وقار، اندازِ گفتگو، مسکراہٹ اور عوامی محبت نے نسلوں کو متاثر کیا۔آج جب آصفہ بھٹو کو دیکھا جاتا ہے تو اُن میں اپنی والدہ کی جھلک دکھائی دیتی ہےوہی ٹھہراؤ، وہی نرمی، اور وہی عوام سے قریبی تعلق کا احساس،بینظیر بھٹو کی وراثت صرف سیاسی نہیں تھی؛ وہ امید، جدوجہد اور ایک بہتر پاکستان کے خواب کی وراثت تھی۔ آصفہ بھٹو ان ہی خوابوں کے تسلسل کو اپنے انداز میں آگے بڑھاتی نظر آتی ہیں۔

    سیاسی میدان میں اُن کی موجودگی نسبتاً نئی سہی، مگر سماجی سطح پر وہ عرصہ دراز سے سرگرم ہیں،بالخصوص صحت، انسانی حقوق اور فلاحی کاموں میں اُن کی دلچسپی نمایاں رہی ہے۔ پولیو کے خاتمے کی مہم میں ان کی سرگرم شمولیت انہیں نئی نسل میں ایک ایسی آواز بنا دیتی ہے جو خدمت اور ذمہ داری کو سیاست سے پہلے رکھتی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر محترمہ بینظیر بھٹو تک، عوامی رابطہ اس خاندان کی شناخت رہا ہے۔آصفہ بھٹو کی عوامی تقریبات، دورے اور سوشل پالیسی سے جڑے موضوعات پر توجہ بھی اسی روایت کا تسلسل محسوس ہوتی ہے۔ اُن کے انداز میں ایک سادگی اور باوقار سنجیدگی ہے جسے دیکھ کر لوگ اکثر کہتے ہیں کہ “یہ بینظیر کی مسکراہٹ ہے”۔

    آصفہ بھٹو نہ صرف ایک سیاسی خانوادے کی نمائندہ ہیں بلکہ نئی نسل کے احساسات اور طرزِ فکر کی بھی عکاس ہیں۔ وہ جدید سیاسی بیانیے، سوشل میڈیا سے عوامی رابطے، خواتین کے حقوق اور نوجوانوں کے کردار جیسے موضوعات پر کھل کر بات کرتی ہیں۔یہی وہ پہلو ہے جو انہیں پاکستان کی بدلتی ہوئی سیاست میں ایک ابھرتی ہوئی سماجی آواز بناتا ہے۔بینظیر بھٹو نے ہمیشہ کہا کہ وہ پاکستان کی بیٹی ہیں۔آصفہ بھٹو کے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ وہ اپنی ماں کے نامکمل خوابوں کو اپنے طریقے سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں،چاہے وہ تعلیم کا فروغ ہو، صحت کے مسائل ہوں، یا کمزور طبقات کی آواز بننے کا معاملہ،ان کے لہجے میں وہی نرمی ہے، اور اُن کی گفتگو میں وہی احترام جو بینظیر کی شخصیت کا حصہ تھا۔

    آصفہ بھٹو کا سفر ابھی طویل ہے، مگر اُن کی شخصیت میں موجود وہ وقار، مسکراہٹ اور عوام سے محبت انہیں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہے۔وہ نہ کسی کا نعم البدل ہیں، نہ کسی کے سائے میں چھپی ہوئی شخصیت،بلکہ ایک خود مختار، اعتماد سے بھرپور اور انسان دوست آواز جو اپنے انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔وہ واقعی عکسِ بےنظیر کی طرح محسوس ہوتی ہیں،مگر اپنی شناخت کے ساتھ، اپنی روشنی کے ساتھ، اور اپنے عزم کے ساتھ۔

  • بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    بے حسی کا زمانہ اور گم ہوتی ذمہ داری،تحریر:شاہد یوسف

    کبھی ایک وقت تھا جب قومی اخبارات میں کسی مسئلے کی نشاندہی کی جاتی تو پورے محکمے میں ہلچل مچ جاتی تھی افسران حرکت میں آتے تحقیقات شروع ہوتیں اور عوام کو یقین ہوتا کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے مگر آج منظرنامہ یکسر بدل چکا ہے میڈیا شور مچاتا رہتا ہے رپورٹس شائع ہوتی ہیں لیکن کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی عوامی مسائل اب سرکاری فائلوں میں دب کر رہ گئے ہیں اور جنہیں ان کے حل کا ذمہ دار بنایا گیا تھا وہی اب اس بے حسی کا حصہ بن چکے ہیں کرپشن اقربا پروری اور اختیارات کا غلط استعمال اب معاشرتی معمول بن گیا ہے وہ ادارے جو عوام کی خدمت کے لیے بنائے گئے تھے وہی عوامی مشکلات کی جڑ بن چکے ہیں اے سی سے لے کر چیف سیکرٹری تک اور ایس ایچ او سے لے کر آئی جی تک سب کسی بڑے واقعے کے منتظر رہتے ہیں تاکہ بعد میں رسمی کارروائی کی جا سکے چھوٹے مسائل پر بروقت توجہ نہ دینے کے باعث وہی مسئلے وقت کے ساتھ سنگین بحران میں بدل جاتے ہیں اگر ذرا قریب سے دیکھا جائے تو سب سے زیادہ بدعنوانی اے سی اور ڈپٹی کمشنر کے دفاتر کے زیرِ انتظام چلنے والے شعبہ پٹوار میں نظر آتی ہے زمینوں کے انتقال حدبندی اور فرد کے اجراء سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے کاغذ تک سب کچھ چائے پانی کے بغیر ممکن نہیں عام شہری برسوں فائلوں کے پیچھے دوڑتا ہے مگر انصاف اور قانون صرف ان کے لیے دستیاب ہوتا ہے جن کے پاس تعلق یا سفارش ہو۔

    سوال یہ ہے کہ جو افسر اپنے دفتر میں بیٹھے پٹواریوں کو ایمانداری سے کام نہیں کرواتا وہ اپنی تحصیل یا ضلع میں کس تبدیلی کا خواب دیکھ سکتا ہے دوسری طرف محکمہ پولیس کی مثال لیجیے اربوں روپے کی مراعات جدید سہولیات اور وسائل کے باوجود کیا کوئی دعویٰ کر سکتا ہے کہ تھانوں میں کرپشن کم ہوئی ہے ایک عام شہری آج بھی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے سفارش ڈھونڈتا ہے اور اکثر اوقات بغیر کچھ دئیے انصاف کا دروازہ بند رہتا ہے ظلم یہ ہے کہ عوام کے محافظ خود شکایت کا مرکز بن چکے ہیں افسران بالا جب کبھی فیلڈ میں جا کر کارروائی کرتے ہیں تو میڈیا کے کیمرے ان کے ساتھ ہوتے ہیں چند تصاویر اور بیانات کے بعد عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اصلاح شروع ہو گئی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انہی افسران کے اپنے دفاتر میں کرپشن اور نااہلی کا راج ہے جب اپنے دفتر میں ایمانداری قائم نہیں کی جا سکتی تو فیلڈ میں قانون کی عملداری کیسے ممکن ہے ریاست صرف قانون بنانے سے نہیں چلتی بلکہ قانون پر عمل درآمد سے مضبوط ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں قانون کمزور اور طاقتور مضبوط ہوتا جا رہا ہے عوام کا اعتماد اداروں سے ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ انصاف اب فائلوں فون کالز اور سفارشوں کے گرد گھومتا ہے اگر واقعی تبدیلی مقصود ہے تو اس کا آغاز نیچے سے ہونا چاہیے دفاتر کے اندر سے احتساب دیانت اور شفافیت صرف نعرے نہیں بلکہ نظام کی بنیاد بننے چاہیے جب تک افسران اپنے ماتحت عملے کو قانون کے تابع نہیں کریں گے جب تک پولیس اپنے دروازے عام آدمی کے لیے نہیں کھولے گی اور جب تک کرپشن کو معمول سمجھنے کا رویہ ختم نہیں ہوگا تب تک کوئی اصلاح ممکن نہیں ورنہ وہ وقت دور نہیں جب عوام کا یقین مکمل طور پر ختم ہو جائے گا میڈیا شور مچاتا رہے گا رپورٹس بنتی رہیں گی مگر سننے والا کوئی نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داری دفاتر کے دروازوں پر چھوڑ دی ہے۔

    شاہد یوسف نارنگ منڈی

  • جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    جماعت اسلامی کا اجتماع عام۔۔۔۔۔ بدل دو نظام ،تحریر:محمد یوسف انور

    عظیم الشان اجتماع عام جماعت اسلامی پاکستان جواکیس،بائیس،تئیس نومبر2025 ء کو مینارِپاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے جا رہا ہے یقیناً اپنے معنوی اور نظریاتی پس منظر کے اعتبار سے ایک سنگِ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ ”بدل دو نظام“ کے جرات افروز سلوگن کے زیرِ سایہ یہ اجتماع ایک نئے عزم، نئی توانائی اور ایک اُٹھتے ہوئے شعور کی علامت بنتا دکھائی دیتا ہے۔ گٹھا ٹوپ اندھیروں میں روشنی کا مینار بن جانے کا تصور صرف ایک استعاراتی پکار نہیں بلکہ ایک اجتماعی اُمید، ایک اجتماعی جدوجہد اور ایک اجتماعی بیداری کی علامت ہے جو قوم کے دلوں میں نئی زندگی پھونکنے کے لیے بے قرار ہے۔یہ اجتماع صرف سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل، نظریاتی استقامت اور تحریکی سفر کا وہ قدم ہے جو کم و بیش ایک صدی کے فاصلوں پر محیط جدوجہد کے ساتھ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی ولولہ انگیز، فکر انگیز اور غیر متزلزل قیادت نے جس قافلے کو روانہ کیا تھا، وہ قافلہ آج بھی اُسی جذبے، اُسی حرارت اور اُسی اخلاص کے ساتھ رواں دواں ہے۔ سیدمودودیؒ کا فکر، اُن کی تعلیمات اور اُن کا تصورِ انقلاب آج بھی اِس سفر کی بنیاد، سمت اور رُوح ہے۔اِسی فکری مشعل کو لے کر میاں طفیل محمدؒ نے جس سوزِ دروں، انکساری اور عزمِ راسخ کے ساتھ قافلے کی رہنمائی کی، وہ تاریخِ پاکستان کے تحریکی اور سیاسی سفر میں ایک روشن باب بن چکی ہے۔ پھر قاضی حسین احمدؒ کی جرات مندانہ قیادت نے جماعت اسلامی کے سفر میں نئی تیزی، نیا ولولہ، نئی توانائی اور نئی وسعتیں پیدا کیں۔ اِن کی خطابت، اِن کا عوامی رشتہ اور اِن کی فکری پختگی نے جماعت کو ایک نئی شناخت عطا کی۔ اِن کے بعد سید منور حسنؒ نے ایک مدبرانہ، متین اور عمیق بصیرت پر مبنی قیادت کا سلسلہ آگے بڑھایا جس نے جماعت اسلامی کے نظریاتی تشخص کو مزید استحکام بخشا۔ سراج الحق کی درویشانہ صفات اور نرم خو مگر پُرعزم قیادت نے جماعت کے حسنِ کردار اور خدمتِ خلق کے پہلو کو اور زیادہ نمایاں کیا۔آج اِس تسلسل کے بعد محترم حافظ نعیم الرحمن امیر جماعت اسلامی پاکستان کی صورت میں جماعت کے سامنے ایسی قیادت موجود ہے جس میں جرات بھی ہے وژن بھی ہے حکمت بھی ہے اور عمل کی برق رفتاری بھی۔ اِن کی شاہین صفت پرواز جماعت کے کارکنان اور عام لوگوں میں نئی اُمید پیدا کرنے کا ذریعہ بن رہی ہے۔ کراچی کی سیاست سے لے کر قومی سطح کے مسائل تک اِن کی جدوجہد نے اِنہیں ملک کے نوجوانوں، متوسط طبقے اور شہری مسائل کے حل کے لیے جدوجہد کرنے والے طبقات کے دلوں میں مقبول کر دیا ہے۔ اِن کی قیادت میں ”بدل دو نظام“ کا نعرہ محض ایک سیاسی جذباتیت نہیں بلکہ تبدیلی کے ایک منظم، باوقار، سنجیدہ اور بامقصد راستے کی طرف دعوت ہے۔اِس عظیم اجتماع کے ناظم کہنہ مشق اور منجھے ہوئے سیاست دان لیاقت بلوچ ہیں جن کی سیاسی بصیرت، تنظیمی مہارت اور مزاج کی پختگی اِس اجتماع کو ایک نئی سمت، نئی توانائی اور متاثرکن نظم دے رہی ہے۔ اِن کی موجودگی اِس اجتماع کی وقعت اور اہمیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔یہ اجتماع نہ صرف پاکستان کے اندر مایوسی کے اندھیروں کو چاک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے بلکہ یہ انقلابِ اسلامی کی نوید، ایک نئی صبح کے آغاز اور قوم کے لیے اُمید کی کرن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی، معاشی، سماجی اور تہذیبی صورتحال میں جب ہر سمت اضطراب، بے یقینی اور بے سمتی کے بادل چھائے ہوئے ہیں ایسے میں یہ اجتماع ایک اجتماعی شعور کی بیداری، اتحادِ امت کی مضبوطی اور پاکستان کے مستقبل کے لیے ایک نئی راہ کا تعین کر سکتا ہے۔اِس اجتماع میں نہ صرف ملک بھر سے لاکھوں افراد شرکت کریں گے بلکہ دنیا بھر کے اسلامی ممالک کے قائدین بھی اِس میں شریک ہوں گے جو نہ صرف باہمی رشتوں کو مضبوط کرنے کا سبب بنے گا بلکہ امتِ مسلمہ کے اندر وحدت، ہم آہنگی اور باہمی تعاون کا ایک نیا دور شروع کرنے کا پیش خیمہ بھی ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر اُمت مسلمہ کو درپیش چیلنجز، بحران اور اختلافات ایسے مواقع کا تقاضا کرتے ہیں جہاں ایک سنجیدہ، بامقصد اور نظریاتی بنیادوں پر قائم تحریک سب کو ایک ساتھ بٹھا کر مشترکہ لائحہ عمل سوچنے کا ماحول فراہم کرے۔یہ اجتماع پاکستان کے عوام میں بھی ایک ولولہ تازہ پیدا کرے گا۔ عام آدمی جو مہنگائی، معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، ظلم، ناانصافی اور کرپٹ نظام سے تنگ آ چکا ہے اِسے ایک منظم، باکردار، اُصولی اور متبادل قیادت کا تصور فراہم کیا جائے گا۔ یہ احساس کہ قوم تنہا نہیں، یہ وطن محض مایوسی کی داستان نہیں بلکہ یہاں بھی ایک ایسا کردار موجود ہے جو اُمید دلانے، راستہ دکھانے اور عملی جدوجہد کے ذریعے ایک روشن مستقبل کی طرف لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔مینارِ پاکستان کا تاریخی مقام اِس اجتماع کی معنویت کو مزید گہرا کرتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے ایک تاریخی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک وطن کا تصور پیش کیا تھا۔ آج وہی مقام ایک نئی قرارداد، ایک نئے عزم، ایک نئے سفر اور ایک نئی تبدیلی کی طرف خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ یہ اجتماع اِس بات کا اعلان ہے کہ قوم ایک بار پھر اپنی توانائی، اپنی وحدت، اپنے شعور اور اپنی دینی و قومی ذمہ داری کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگر یہ اجتماع اپنے مقاصد، اپنی روح اور اپنے سلوگن کے مطابق کامیاب ہوتا ہے تو یقیناً یہ پاکستان کے لیے وہ موڑ ثابت ہو سکتا ہے جس کے بعد قوم اپنی راہیں خود متعین کرے، اپنی منزلیں خود چنے اور اپنے مستقبل کو نئی روشنیوں سے ہمکنارکر دے۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد،اِس کی قیادت کی مسلسل قربانیاں اور اِس کا نظریاتی استحکام پاکستان کے لیے ایک نعمت بن سکتا ہے بشرطیکہ قوم اِس بیداری کے لمحے کو پہچانے اور اِسے مضبوطی کے ساتھ تھام لے۔یہ اجتماع نہ صرف جماعت اسلامی کے لیے بلکہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ اُمید کی نوید بھی ہے جدوجہد کی علامت بھی اور تبدیلی کا اعلان بھی۔ اگر قوم نے اِس پکار کا مثبت جواب دیا تو یہ اجتماع واقعی اندھیروں میں روشنی کا مینار ثابت ہو سکتا ہے۔وہ روشنی جو آنے والی نسلوں کے لیے تابناک مستقبل کی خبر بھی دے اور راستہ بھی دکھائے

  • پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستانی سیاست میں فکری زوال،تجزیہ:شہزاد قریشی

    پاکستان میں سابق وزیراعظم کی بیگم کو لے کر اکانومسٹ میں جادو ٹونے کی جو کہانی شائع ہوئی ہے یہ کوئی نئی بات نہیں اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم کی بیگم کے بارے میں جادو ٹونے کی کہانیاں میڈیا پر آتی رہیں۔ لیکن موجودہ سٹوری کا الزام ایک ایسی شخصیت پر لگایا جا رہا ہے جو اس طرح کی چیزوں کو پسند ہی نہیں کرتے۔ پرویز رشید کو میں سالوں سے جانتا ہوں پرویز رشید آج بھی پاکستان کے ان چند سیاست دانوں میں شامل ہوتے ہیں جو دلیل، گفتگو، اصول اور برداشت کے قائل ہیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ آزمائشیں دیکھیں، جیل کی صحبتیں برداشت کیں مگر راستہ وہی رکھا جو آئین، جمہوریت اور شہری آزادیوں سے جڑا ہوا تھا۔ پرویز رشید کی سیاست اس بات کی علامت ہے کہ طاقت کے بغیر بھی باوقار سیاست کی جا سکتی ہے۔ وہ سیاست کو صرف کھیل نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری بھی سمجھتے ہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ پی ٹی آئی اور کچھ صحافی اس شخص پر الزام لگا کر اپنی ذہنی پستی کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔ اگر پاکستان میں سیاست کے معیار کو بلند کرنا ہے تو پرویز رشید جیسے رہنماؤں کی طرز فکر کو سمجھنا اور اپنانا ضروری ہے۔ سیاسی زندگی میں اختلافات اور تنازعات ناگزیر ہوتے ہیں مگر ان کا طریقہ سیاست ہمیشہ غیر جارحانہ، شائستہ اور مدلل رہا۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو کبھی ذاتی حملوں کا نشانہ نہیں بنایا ان کی گفتگو ہمیشہ سیاسی، فکری اور مذہبی رہی۔ پاکستان جیسے معاشرے میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرنا آسان نہیں مگر پرویز رشید نے ہمیشہ کھل کر اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کیا ان کا بیانیہ ہمیشہ یہ رہا کہ ریاست کی ذمہ داری شہریوں کا مذہبی درجہ طے کرنا نہیں بلکہ ان کے حقوق کی حفاظت کرنا ہے۔ یہی سوچ انہیں ایک روشن خیال، متعدل مزاج اور آئینی سیاست کے رہنما کے طور پر ممتاز کرتی ہے۔

    پرویز رشید کو مسلم لیگ ن کے اندر ایک باوقار ساتھی کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ وہ نواز شریف کے قریب ترین رفقاء میں شمار ہوتے ہیں لیکن ان کی قربت محض سیاسی نہیں بلکہ فکری ہم آہنگی کی بنیاد پر مضبوط ہے۔ وہ ایک فکری سیاستدان ہیں کتاب اور دلیل کو سیاست کی طاقت پر فوقیت دیتے ہیں۔ ان کی شخصیت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان پر کسی بھی مالی بدعنوانی یا کرپشن کا کبھی کوئی الزام نہ لگا نہ ثابت ہوا۔ وہ صاف ستھری سیاست کے نمائندہ رہنماؤں میں شامل ہوتے ہیں۔ ملکی سیاست میں فکری بلوغت، جمہوری مزاحمت اور شائستگی کے نمائندہ چہرے سمجھے جاتے ہیں پرویز رشید نہ جادو ٹونے کی اس بےہودہ رسموں کو تسلیم کرتے ہیں۔

    اسلام نے جادو ٹونہ، فال گیری، نجومیوں سے پیشگوئیاں کروانے اور ماوراتی غیر شرعی طریقوں پر بھروسہ کرنے سے سختی سے منع کیا ہے۔ قران مجید میں جادو کو گمراہ کن عمل قرار دیا گیا ہے۔ لہذا اگر کوئی شخص واقعی ایسی چیزوں پر یقین رکھتا ہے یا ان کا سہارا لیتا ہے یہ نہ صرف دین سے متصادم ہے بلکہ توحید کے عقیدے کے خلاف بھی سمجھا جاتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ امریکہ نے ترقی سائنس، تحقیق، تعلیم اور نظم و ضبط سے کی۔ یورپ نے ترقی صنعتی انقلاب، سیاست کے استحکام، اداروں کی مضبوطی اور معاشی نظم پر کی۔ چین، جاپان، کوریا، سنگاپور جیسے ممالک نے ٹیکنالوجی اور محنت کے ذریعے مقام پایا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک چاہے وہ سپرپاور ہو یا ترقی پذیر جادو ٹونے کے سہارے نہیں چلا قومیں صرف علم، محنت، قانون، انصاف اور مضبوط اداروں سے بنتی ہیں۔ ملکی سیاسی اور سماجی گفتگو کو اس سطح پر لایا جا رہا ہے کہ ملک کی قیادت کو جادو ٹونے کے زاویے سے دیکھا جائے یہ ایک غیر سنجیدہ اور غیر دانشدانہ انداز ہے۔ یہ قوم کی فکری سوچ کو نقصان پہنچاتی ہے ترقی کے مسائل، معیشت تعلیم، قانون، گورننس پیچھے رہ جاتے ہیں اور موضوع بحث جادو ٹونہ رہ جاتا ہے۔ حقیقی مسائل سے توجہ ہٹتی ہے لوگ دلیل کو چھوڑ کر افواہوں پر یقین کرنے لگتے ہیں۔ وطن عزیز کی اصل ضرورت مضبوط اداروں، سائنسی سوچ، تعلیم کی بہتری، انصاف کے نظام، سیاسی بلوغت، میڈیا میں ذمہ دارانہ گفتگو نہ کہ ایسی بحثوں کی جو قوم کی فکری پستی کو ظاہر کریں۔ اسلامی معاشرہ ہو یا جدید ریاست جادو ٹونہ کی بحثیں نہ دینی طور پر فائدہ مند ہیں نہ قومی سطح پر۔ بہتر یہی ہے کہ ہم ان دعوؤں کو ہوش سے دیکھیں بلا تحقیق الزامات کو زبان نہ دیں اور بحث کو ایسے موضوعات کی طرف لے جائیں جو قوم کی ترقی کا سبب ہوں۔

  • عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی   اصل  مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف ہے،تجزیہ:شہزاد قریشی

    ہنگامہ ہے کیوں برپا۔ آئین اور آئینی عدالت کو لے کر ایک ہنگامہ بنا ہے۔اگردیکھا جائے تو آئین دو اور دو جمع چار کی طرح آسان سوال ہے جبکہ آئین میں سب کچھ درج ہے آئینی حدیں موجود ہیں۔ دنیا میں آئینی عدالتوں کا کوئی ایک عالمی نظام، سسٹم یا مشترکہ ڈھانچہ موجود نہیں دنیا کے ہر ملک نے اپنی ضروریات ، سیاسی تاریخ اور آئینی ڈھانچے کے مطابق الگ الگ ماڈل اختیار کیا ہوا ہے ۔ دنیا میں دوبڑے ماڈل رائج ہیں جن کے مطابق آئینی عدالتی نظام چلتے ہیں ۔ خصوصی عدالتوں کا ماڈل اس ماڈل میں ایک الگ آئینی عدالت ہوتی ہے جو صرف آئین کی تشریح ،آئینی تنازعات اور قوانین کی آئینی حیثیت کاجائزہ لیتی ہے ۔ آئینی عدالت سپریم کورٹ سے علیحدہ ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کا بنیادی طور پر آئینی جائزہ لیتی ہے ،آئینی شکایات کو سنتی ہے ۔ حکومتی اداروں کے باہمی تنازعات کا فیصلہ کرتی ہے۔

    دنیا کے مختلف ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں ۔ جرمنی، اٹلی، اسپین ، آسٹریا ، ترکیہ ، جنوبی افریقہ ، مصر، کئی یورپی ممالک اور لاطینی امریکی ممالک میں یہ ماڈل موجود ہیں۔ا مریکن سپریم کورٹ ماڈل اس نظام میں آئینی معاملات کی نگرانی ، سپریم کورٹ ہی کرتی ہے کوئی الگ آئینی عدالت نہیں ،امریکن سپریم کورٹ ماڈل بھارت ، کینیڈا ، آسٹریلیا اور پاکستان میں موجود تھا۔

    پاکستان نے بھی آئینی تنازعات کے حل کے لئے آئینی عدالت بناد دی۔ ہر ملک کے آئینی مسائل اور عدالتی ڈھانچے مختلف ہوتے ہیں نہ کوئی عالمی کنٹرولنگ باڈی ہے ۔ نہ کوئی بین الاقوامی آئینی کورٹ ۔ نہ ہی کوئی مشترکہ قوانین۔ دنیا کے کئی ممالک میں سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ ہی آئینی معاملات کو دیکھتی ہے جبکہ یورپی ممالک کے کئی ممالک میں الگ آئینی عدالتیں موجود ہیں۔ رہا سوال عدالتوں کا ، عدالتیں آئینی ہوں یا عمومی اصل مسئلہ انصاف کا ہے ۔ دنیا کے بنائے ہوئے عدالتی نظام اپنی جگہ ا ہم ہیں مگر سب سے بڑی حقیقت یہ ہے انسان نے ایک دن اللہ کی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ وہاں نہ سفارش نہ جھوٹ، نہ دنیاوی طاقت ۔ وہاں صرف سچ اور عدل قبول ہو گا۔ وہ لوگ جو انصاف تقسیم کرنے کی ذمہ داری رکھتے ہیں اپنے حلف اور اپنے ضمیر کی پاسداری کریں۔ عدالت کا منصب کوئی دنیاوی اعزاز نہیں بلکہ ایک امانت ہے اور امانت میں خیانت سب سے بڑا ظلم ہے۔ اگر کوئی جج ، ا فسر، یا اختیار رکھنے والا شخص اپنے فیصلوں سے سچائی سے ہٹ جائے وہ انسانوں کے حقوق کو پامال کرتا ہے بلکہ خود اپنے انجام کو بھی خطرے میں ڈالتا ہے ۔ دنیا کی عدالتیں وقتی ہیں ان کے فیصلے محدود ہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی عدالت ابدی ہے وہاں پورا حساب لیا جائے گا۔انصاف صرف کتابوں کا لفظ نہیں یہ دلوں کی گہرائی میںاُتر کر انسانیت کو روشنی دیتا ہے اور وہ معاشرہ ہی ترقی پا سکتا ہے جہاں انصاف زندہ ہو اور ہر شخص اپنے اختیار کو ذمہ داری سمجھ کر استعمال کرے۔ اللہ تعالی کا حکم ہے کہ جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ یاد رکھیے و لوگ زمینی عدالتوں میں انصاف سے روگردانی کرتے ہیں وہ سمجھ لیں کہ وہ انسانوں کے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حق کو مجروح کرتے ہیں۔